Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 21

امربیل از عمیرہاحمد
۔۔۔۔
قسط نمبر 21
۔۔۔۔۔
باب 23

”مجھے زارا مسعود کہتے ہیں۔” ان کے تعارف کے بعد اس نے اپنا تعارف کروایا تھا۔ جہانگیر معاذ نے اسے خاصی گہری نظروں سے دیکھا۔
”یہ جان کر خاصا افسوس ہوا، میرا خیال تھا آپ کو کچھ اور کہتے ہوں گے۔” زارا نے دلچسپی سے انہیں دیکھا۔
مثلاً کیا کہتے ہوں گے؟”
”کس زبان میں؟ اردو میں یا انگلش میں؟” جہانگیر نے اس کی مسکراہٹ کے جواب میں اتنی ہی خوبصورت مسکراہٹ پاس کی تھی۔
”دونوں میں۔”
”اردو میں دلربا، دلنشیں، دلکش، ماہ وش۔”
”اور انگلش میں؟” اس کی مسکراہٹ اور گہری ہوگئی۔
”ہیلن آف ٹرائے، قلوپطرہ princess, cynthia, moon goddes nymph جہانگیر کی فہرست اور لمبی ہوجاتی اگر زارا کے حلق سے بے اختیار ایک قہقہہ نہ نکلتا۔
”very flattering” اس نے ہنستے ہوئے جہانگیر سے کہا۔ یک دم ہی جہانگیر میں اس کی دلچسپی بڑھ گئی تھی۔
”خوبصورت عورت کی تعریف نہ کرنا ظلم ہے اور میں بہرحال ظالم نہیں ہوں۔”
شراب کا گلاس دوسرے ہاتھ میں منتقل کرتے ہوئے اس نے زارا کی بات کا جواب دیا۔
”ایک دن میں کتنی عورتوں کو اس ظلم سے بچاتے ہیں؟” جہانگیر اس کی بات پر بے اختیار مسکرایا۔
”دن میں نہیں صرف رات کو… دن میں، میں آفس ہوتا ہوں۔ البتہ رات کو پارٹیز میں یہی کام کرتا ہوں۔”
جہانگیر معاذ اس رات پہلی بار زارا سے کراچی کے ایک ہوٹل میں ملا تھا۔ وہ وہاں ایک فیشن شو اٹینڈ کرنے آیا تھا اور زارا ماڈلز میں سے ایک تھی۔ شو کے بعد ڈنر کے دوران ایک دوست نے ان دونوں کو ایک دوسرے سے متعارف کروایا۔ زارا کو پہلی ہی نظر میں وہ اچھا لگا تھا اور اس کے ساتھ ہونے والی گفتگو کے آغاز نے اس کی دلچسپی کو کچھ اور بڑھا دیا، جہاں تک جہانگیر کا تعلق تھا تو اسے ہر خوبصورت عورت میں دلچسپی پیدا ہوجاتی تھی اور زارا کیلئے بھی اس نے ایسی ہی دلچسپی محسوس کی تھی۔
”پارٹیز میں اس کے علاوہ اور کیا کر تے ہیں؟” زارا نے اس کے ساتھ گفتگو کا سلسلہ بڑھاتے ہوئے کہا۔
”یہی کرتا ہوں جو اس وقت کر رہا ہوں۔”
”اور اس وقت آپ کیا کر رہے ہیں؟”
”آپ کا کیا خیال ہے اس وقت ہم کیا کر رہے ہیں؟” جواب دینے کے بجائے اس نے زارا سے سوال کیا۔
”ہم باتیں کر رہے ہیں۔”
”آپ باتیں کر رہی ہوں گی۔ میں باتیں نہیں کررہا۔”
”تو آپ کیا کر رہے ہیں؟”
”میں رومانس کر رہا ہوں۔” اس نے کمال اعتماد سے کہا۔ چند لمحوں کیلئے زارا اس کا چہرہ دیکھ کر رہ گئی پھر بے ساختہ ہنسی۔
”تو آپ رومانس کر رہے ہیں؟”
”بالکل۔”
”ہر خوبصورت عورت سے رومانس کرتے ہیں؟” اس بار زارا نے بڑے انداز سے کہا۔
”نہیں… جن سے نہیں ملتا، ان سے نہیں کرتا۔”
وہ اس کی بات پر ایک بار پھر ہنسی۔
”آپ خاصی دلچسپ باتیں کرتے ہیں… فارن سروس والوں کا sense of humour (حس مزاح) خاصا اچھا ہوگیا ہے۔”
”فارن سروس والوں کی اور بھی senses (حسیات) خاصی اچھی ہوگئی ہیں۔ صرف موقع ملنے کی بات ہے۔ اچھی ماڈلنگ کرتی ہیں آپ۔” اس بار اس نے گفتگو کا موضوع بدل دیا۔
”تھینک یو آپ اکثر فیشن شوز میں آتے ہیں؟”
”اکثر تو نہیں مگر آتا جاتا رہتا ہوں۔”
”اس کا مطلب ہے آپ سے دوبارہ کبھی ملاقات بھی ہوسکتی ہے؟”
”دوبارہ ملاقات کیلئے کسی فیشن شو میں آنا ضروری نہیں ہے۔ آپ جب چاہیں مجھ سے مل سکتی ہیں… یہ میرا کارڈ ہے۔”
زارا نے اس کا کارڈ پکڑ لیا۔
”آپ تو خاصے مصروف رہتے ہوں گے پھر کسی سے ملنا خاصا مشکل ہوتا ہوگا۔” زارا نے کارڈ کا جائزہ لیتے ہوئے کہا۔
”خوبصورت عورتوں کیلئے ہر مصروفیت ختم کی جاسکتی ہے اور آپ خوبصورت ہیں۔”
اسے کمپلیمنٹ سمجھوں؟”
”نہیں tribute (خراج) ۔”وہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بڑی بے خوفی سے اسے دیکھتی رہی۔
”مجھے لگتا ہے، آپ سے میری بہت اچھی دوستی ہوسکتی ہے۔” وہ جیسے کسی نتیجہ پر پہنچی تھی۔
”میں بھی یہی سوچ رہا تھا کہ اس کے بعد آپ سے یہ کہوں کہ مجھے آپ کا کانٹیکٹ نمبر چاہیے۔”
چند لمحوں کے تامل کے بعد زارا نے اپنا پرس کھول کر اپنا فون نمبر اور ایڈریس اسے تھما دیا۔
۔۔۔۔۔

ان کے درمیان ہونے والی یہ پہلی ملاقات آخری ثابت نہیں ہوئی۔ جہانگیر نے دوسرے دن ہی اسے فون کیا تھا اور پھر یہ سلسلہ آگے بڑھتا گیا۔ زارا ستر کی دہائی کی ایک خاصی مشہور ماڈل تھی۔ اس نے اپنا کیریئر ساٹھ کی دہائی کے آخری چند سالوں میں شروع کیا اور اپنے بے باک انداز کی وجہ سے بہت جلد ہی وہ بہت مقبولیت اختیار کرگئی۔ مگر اس کی طرح ماڈلنگ میں بہت سے نئے چہرے آہستہ آہستہ آنے شروع ہوگئے اور مقبولیت کی جس سیڑھی پر وہ ساٹھ کی دہائی کے آخری سالوں میں جاکھڑی ہوئی تھی۔ چند سالوں میں آہستہ آہستہ وہ وہاں سے نیچے آنے لگی۔ بنیادی طور پر اس کا تعلق ایک ایرانی فیملی سے تھا وہ بہت عرصے پہلے پاکستان آکر سیٹل ہوگئی تھی وہ تین بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹی تھی اور ماڈلنگ کا آغاز اس نے صرف شوقیہ طور پر کیا۔ پھر آہستہ آہستہ اس شعبے میں اس کی دلچسپی بڑھتی گئی۔ اس کے والدین نے اس شعبہ میں آنے پر کوئی اعتراض نہیں کیا تھا کیونکہ اس کی ماں خود بھی کسی زمانے میں ایک مشہور سنگررہ چکی تھی۔ جبکہ اس کا باپ بھی بہت عرصہ اسٹیج کے ساتھ منسلک رہا تھا۔
ماڈلنگ کے شعبے میں آنے کے کچھ عرصہ کے بعد اس کے والدین کا انتقال ہو گیا۔ اس سے بڑے دونوں بہن بھائی کی شادی ہو چکی تھی اور وہ دونوں ہی انگلینڈ میں تھے۔ مالی طور پر اسے اس شعبہ سے منسلک ہونے کی کوئی ضرورت نہیں تھی کیونکہ اس کے والدین اس کیلئے وراثت میں اچھا خاصا ترکہ چھوڑ گئے تھے اس کے زیادہ رشتہ دار امریکہ اور یورپ میں سیٹلڈ تھے۔ پاکستان میں صرف چند ایک ہی تھے جنہیں وہ اپنا رشتہ دار کہہ سکتی تھی مگر وہ بھی بہت قریبی نہیں تھے۔ خود وہ اس حد تک اس ماحول میں رچ بس چکی تھی کہ اس کیلئے پاکستان چھوڑ کر جانا آسان نہیں رہا تھا کیونکہ یہاں وہ اپنی ایک شناخت بنا چکی تھی اور مقبولیت یا شہرت کا مزہ چکھنے کے بعد مکمل طور پر اس سے قطع تعلق کرنا خاصا دشوار کام تھا۔ اس لیے زارا نہ صرف ایران یا اپنے بہن بھائی کے پاس نہیں گئی بلکہ وہ ماڈلنگ کے شعبہ کے ساتھ منسلک رہی۔
ابتدائی طوفانی قسم کی شہرت کے بعد آہستہ آہستہ اس کا جادو اس وقت ختم ہونے لگا جب بہت سی دوسری لڑکیاں بھی اس شعبہ میں آنے لگیں اور ان کم عمر لڑکیوں نے نہ صرف اس کی مارکیٹ ویلیو کو اچھا خاصا متاثر کیا بلکہ اس کی مقبولیت میں بھی کافی کمی ہوگئی۔ کسی دوسری ماڈل کی طرح ڈپریشن یافر سٹریشن کا شکار ہونے کے بجائے زارا نے حقیقت پسندی سے حقائق کو تسلیم کیا وہ جان گئی تھی کہ اب وہ زیادہ دیر کیمرے کے سامنے نہیں رہ سکتی۔ وہ اپنی پروفیشنل اور گلیمرس لائف کے اختتام پر کھڑی تھی اور اب اسے کیا کرنا تھا۔ شادی کر کے اس فیلڈ سے الگ ہوجانا تھا اور جن دنوں جہانگیر معاذ سے اس کی ملاقات ہوئی۔ ان دنوں وہ شادی کے بارے میں نہ صرف فیصلہ کرچکی تھی بلکہ شناسا مردوں کو اس سلسلے میں جانچ اور پرکھ بھی رہی تھی۔
جہانگیر معاذ کو بھی اس نے ان ہی نظروں سے دیکھا تھا جبکہ خود جہانگیر معاذ کے نزدیک اس رات اس سے ہونے والی ملاقات بہت زیادہ اہمیت نہیں رکھتی تھی۔ اس نے زارا مسعود کو بھی ان بہت سی دوسری عورتوں کی طرح ہی لیا تھا جن سے اس کی دوستی تھی اور جنہیں وہ وقت گزاری کیلئے استعمال کیا کرتا تھا۔ فارن سروس میں آنے کے بعد ابھی وہ فارن آفس میں کام کر رہا تھا اور اپنی پہلی باقاعدہ پوسٹنگ کا منتظر تھا۔ ستائیس سال کا نوجوان، ہینڈ سم اور ایک بہت اونچے خاندان سے تعلق رکھنے والا یہ آفیسر اپنی ساری خوبیوں اور خامیوں سے نہ صرف واقف تھا بلکہ اپنے ہتھیاروں کو بروقت اور پوری مہارت سے استعمال کرنے میں بھی ماہر تھا۔ اپنے لمبے اور شاندار کیریئر کے آغاز پر ہی وہ ایسی سرگرمیوں میں انوالو ہونا شروع ہوگیا تھا جن میں انوالو ہونے کیلئے خاصے دل گردے کی ضرورت ہوتی ہے۔ بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے کے دوران اقدار کا جو نیا سیٹ اپ اس نے اپنے لیے منتخب کیا تھا۔ فارن سروس میں آنے کے بعد اس نے ان پر باقاعدہ طور پر عملدرآمد شروع کردیا تھا۔ اس کے نزدیک کوئی بھی چیز اس کے کیریئر سے بڑھ کر نہیں تھی نہ کوئی خونی رشتہ اسے جذباتی کرتا تھا اور نہ ہی دنیا میں کوئی دوسری ایسی چیز تھی جس کے بغیر وہ رہ نہ سکتا ہو… سوائے روپے کے۔
جہانگیر معاذ کے نزدیک زندگی ایک بہت ہی Rational اور منطقی چیز تھی اور اس میں کامیاب ہونے کی خواہش رکھنے والوں کیلئے بھی دو خصوصیات کا اپنے اندر رکھنا ضروری تھا اس کے نزدیک اخلاقیات کی وہی اقدار تھیں جو اس نے اپنی زندگی کیلئے منتخب کرلی تھیں۔ وہ کسی بھی کام کو اس کے اچھے یا برے ہونے کی بنیاد پر نہیں کرتا تھا۔ وہ ہر کام کو کرتے ہوئے دیکھتا تھا کہ وہ کام اس کیلئے کتنا فائدہ مند یا نقصان دہ ہے اور وہ ان اقدار کو اپنانے والا واحد شخص نہیں تھا۔ جس سوشل سرکل میں وہ موو کرتا تھا وہ اسی جیسے لوگوں پر مشتمل تھا جہاں وہ کام کرتا تھا۔ وہاں کے لوگوں کا code of ethics (اصول اخلاقیات) بھی اس سے ملتا جلتا تھا اور اس کے اپنے خاندان میں اس کے بڑے بھائی ان ہی اصولوں اور نظریات پر عمل پیرا تھے جنہیں اب وہ اپنانے کی کوشش کر رہا تھا۔
اس کے باپ معاذ حیدر کی فلاسفی کہیں بہت پیچھے رہ گئی تھی۔ اپنے بھائیوں کی طرح وہ بھی یہی محسوس کرتا تھا کہ اس کے باپ کی فلاسفی بہت آؤٹ ڈیٹڈ شے ہے جس کو اپنانے والا شخص اس دنیا میں نہیں چل سکتا جس میں جہانگیر معاذ اور اس کے بھائی رہتے تھے۔
وہ ڈرنک کرتا تھا۔ اس کی بہت سی گرل فرینڈزتھیں۔ اپنی جاب سے روپیہ بنانے کا کوئی موقع وہ ہاتھ سے نہیں چھوڑتا تھا اور وہ بہت زیادہ ambitious تھا۔ وہ اپنی زندگی میں اپنے بھائیوں سے زیادہ کامیابیاں حاصل کرنا چاہتا تھا۔
زارا مسعود کے ساتھ ہونے والی پہلی ملاقات کے بعد اس نے ہمیشہ کی طرح زارا سے میل جول بڑھانا شروع کردیا تھا۔ فارن سروس کے ساتھ منسلک اکثر لوگوں کی طرح اسے بھی میڈیا سے متعلقہ لڑکیاں خاصی اٹریکٹ کرتی تھیں چاہے وہ ایکٹرسز ہوں یا پھر ماڈلز۔ ذاتی طور پر بھی وہ ایسی عورتوں کو بہت پسند کرتا تھا جو بہت آزاد خیال، بے خوف اور بے باک ہوں اور زارا بھی ایسی ہی ایک عورت تھی۔ مگر زارا کے ساتھ دوستی ہونے کے بعد اسے احساس ہونا شروع ہوا تھا کہ اس میں ان چیزوں کے علاوہ کوئی خاص کشش بھی ہے جومردوں کو خاص طور پر فوراً اپنی طرف متوجہ کرلیتی ہے اس نے پارٹیز میں بہت بڑے لوگوں کو اس کے سامنے بچھتے دیکھا تھا اس کے ساتھ پارٹیز میں شرکت کرتے وقت وہ بڑی خاموشی سے سب کچھ دیکھتا جاتا تھا اور یہ سب کچھ ایک لمبے عرصہ تک چلتا رہا۔
یہاں تک کہ اس کی پوسٹنگ ہوگئی لیکن باہر جانے سے پہلے اس نے زارا کو پرپوز کردیاتھا۔ زارا نے کسی ہچکچاہٹ کے بغیر یہ پرپوزل قبول کرلیا، وہ جہانگیر کی طرف اسی مقصد کیلئے بڑھی تھی مگر اسے حیرت ہوئی تھی وہ اس بات سے بھی واقف تھی۔ وہ انتہائی ضدی ہے یہ بات بھی اس کی نظروں سے چھپی نہیں رہی تھی مگر وہ یہ بات نہیں جان سکی تھی کہ اس کے نزدیک رشتے کوئی اہمیت نہیں رکھتے۔
جہانگیر نے اپنے گھر والوں کو جب اپنی پسند سے آگاہ کیا تو گھر میں ویسا ہی ہنگامہ اٹھا تھا جیسا اس کے بڑے بھائیوں کی اپنی پسند سے کی جانے والی شادیوں پر اٹھا تھا۔
”تم نے اپنے بھائیوں کی زندگی سے واقعی کوئی سبق حاصل نہیں کیا ورنہ تم کبھی اس طرح ایک ماڈل کو بیوی بنانے کی خواہش نہ کرتے۔” معاذ حیدر نے اس سے کہا تھا۔
۔۔۔

”زارا اچھی لڑکی ہے اور وہ ایسے بھی شادی کے بعد ماڈلنگ چھوڑ رہی ہے۔”
”تم کو ایک بہت اچھی بیوی کی ضرورت ہے اور زارا ویسی بیوی ثابت نہیں ہوسکتی۔ تم اتنی بولڈ لڑکی کے ساتھ زندگی نہیں گزار سکتے۔ کبھی بھی تم دونوں کے درمیان اختلافات ہوئے تو وہ تمہیں بڑی بے خوفی کے ساتھ چھوڑ کر چلی جائے گی جبکہ تمہیں ایسی لڑکی کی ضرورت ہے جو ہر حال میں تمہارے ساتھ رہ سکے۔ تمہارے ساتھ نباہ کرنا کسی بھی عورت کیلئے بہت مشکل ہوگا مگر زارا جیسی لڑکیاں تمہارے جیسے مردوں کے ساتھ نباہ نہیں کرسکتیں۔ تمہیں ایک خاندانی لڑکی کی ضرورت ہے۔”
”نہیں میں کسی خاندانی لڑکی کے ساتھ گزار نہیں کر سکتا مجھے زارا جیسی ایک لڑکی کی ضرورت ہے جو میرے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چل سکے۔ آپ اس شادی کی اجازت دیں گے تب بھی اور نہیں دیں گے تب بھی، مجھے شادی زارا سے ہی کرنی ہے۔”
باپ کے لمبے لیکچر کے بعد اس نے بڑے سکون سے کہا اور اٹھ کر چلا گیا۔
معاذ حیدر نے اس کے بعد اس پر دباؤ ڈالنے کی کوشش نہیں کی۔ انہوں نے اسے شادی کی اجازت دے دی۔ باہر جانے سے پہلے بہت دھوم دھام سے اس نے زارا کے ساتھ شادی کرلی۔
زارا نے شو بزنس چھوڑ دیا تھا۔ وہ عمر میں جہانگیر سے دو سال بڑی تھی مگر جہانگیر کے قدو قامت کی وجہ سے یہ فرق کبھی نمایاں نہیں ہوا۔ جہانگیر سے شادی پر وہ بے حد خوش تھی۔ شادی کی تقریبات میں جہانگیر کے والدین کی ناپسندیدگی بھی اس سے چھپی نہیں رہی تھی مگر اسے اس بات پر اعتراض نہیں ہوا۔ وہ جانتی تھی کہ جہانگیر کے بجائے کوئی دوسری فیملی بھی اپنے بیٹے کی ایک ماڈل گرل سے شادی کرنے پر اسی طرح اعتراض کرتی مگر وہ مطمئن تھی کہ شوبز کو چھوڑنے کے بعد آہستہ آہستہ جہانگیر کی فیملی اسے قبول کرے گی۔
شادی کے بعد وہ جہانگیر کے ساتھ انگلینڈ چلی آئی تھی جہانگیر یہاں آنے کے بعد اپنی جاب میں مصروف ہوگیا تھا۔ لندن میں جہانگیر کی مصروفیات بہت زیادہ تھیں مگر اس کے باوجود تفریح کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا تھا۔ وہ زارا کے ساتھ ان تقریبات میں جاتا رہتا جس میں اسے مدعو کیا جاتا زارا کو کراچی اور یہاں کی زندگی میں زیادہ فرق محسوس نہیں ہوا تھا۔ وہاں بھی اسی طرح ہر رات کسی نہ کسی تقریب میں شرکت کرتی رہتی اور یہاں بھی وہ کوئی شام بے کار نہیں گزارتی تھی بس فرق یہ تھا کہ وہاں وہ اپنے حوالے سے جانی جاتی تھی اور یہاں وہ جہانگیر کے حوالے سے اور اسے جہانگیر کے حوالے سے جانے جانا زیادہ اچھا لگتا تھا۔
اس شام بھی وہ جہانگیر کے ساتھ پاکستانیوں کی طرف سے آرگنائز کی جانے والی تقریب میں شریک ہونے کیلئے تیار ہو رہی تھی جب جہانگیر نے اس سے کہا۔
”آج اس پارٹی میں میں تمہیں ایک آدمی سے ملواؤں گا… سعید سبحانی… ہوٹل انڈسٹری میں بہت بڑا نام ہے نہ صرف پاکستان میں بلکہ امریکہ میں بھی بہت سی اسٹیٹس میں ہوٹل چلا رہا ہے۔ بیوی امریکن ہے اس وجہ سے یہاں کی نیشنلٹی بھی ہے اس کے پاس۔”
زارا نے کسی دلچسپی کے بغیر اس شخص کا تعارف سنا تھا وہ اس وقت مسکارا لگانے میں مصروف تھی۔
”میں اس آدمی کا ایک ہوٹل خریدنا چاہتا ہوں جو یہ کچھ عرصہ تک بیچنے والا ہے۔”
زارا کا ہاتھ رک گیا۔ ”جہانگیر! تم ہوٹل خریدنا چاہتے ہو؟”
”تم جاب چھوڑ رہے ہو؟”
”نہیں۔”
تو پھر ہوٹل؟”
”سائیڈ بزنس کے طور پر۔”
”مگر تمہیں تو جاب کے علاوہ کچھ اور کرنے کی اجازت نہیں ہے۔” وہ کچھ الجھی۔
”ہاں، صرف مجھے ہی نہیں کسی کو بھی جاب کے علاوہ کچھ اور کرنے کی اجازت نہیں ہوتی مگر سب کرتے ہیں۔ کیا تم یہ جانتی ہو کہ ہمارے سفیر وال اسٹریٹ میں شیئرز کی خرید و فروخت میں ملوث ہیں بلکہ صرف موجودہ سفیر ہی نہیں ہر آنے والا یہاں آکر یہی کرتا ہے اور موجودہ سفیر تو ایمبیسی کے فنڈز کو بھی ناجائز طور پر اسی کام کیلئے استعمال کرتے ہیں۔” وہ بڑے مزے سے ٹائی کی ناٹ لگاتے ہوئے بتا رہا تھا۔
”مگر یہ تو بہت بڑا جرم ہے۔ یہاں ایمبیسی میں جو ایجنسیز کے آدمی ہوتے ہیں۔ وہ گورنمنٹ کو ایسی چیزوں کے بارے میں انفارم نہیں کرتے۔”
”کرتے ہوں گے مگر گورنمنٹ کے اپنے بہت سے لوگ بھی سفیر صاحب کے ذریعے سے اپنے بہت سے کام کرواتے رہتے ہیں، اسی لیے ایسی ساری انفارمیشن دبا دی جاتی ہے ویسے بھی سفیر کے بھائی کیبنٹ سیکرٹری ہیں۔ ان کے سسر میجر جنرل ہیں۔ ایک سالا صدر کا پروٹوکول آفیسرہے دوسرا انٹریئر منسٹری میں ہے باقی رشتہ داروں کو گنوانا شروع کردوں گا تو ہم فنکشن میں نہیں جاپائیں گے۔ اس لیے انہیں کوئی بھی کچھ نہیں کہہ سکتا وہ جو چاہتے ہیں آزادانہ طریقے سے کر رہے ہیں اور باقی سب بھی یہی کچھ کر رہے ہیں۔”
زارا کی دلچسپی ختم ہوگئی تھی۔
۔۔۔

اسے ایک بار پھر اپنے مسکارے کی فکر ہونے لگی تھی۔ ”ٹھیک ہے تم خرید لو ہوٹل۔” اس نے جیسے جہانگیر کو گرین سگنل دیا۔
”میں اسی لیے تمہیں اس شخص سے ملوانا چاہتا ہوں۔ یہ شخص خاصا رومینٹک ہے۔ میں چاہتا ہوں تم اس سے تعلقات بڑھاؤ اور پھر اس سے کہو کہ یہ ہوٹل مجھے فروخت کرے اور نسبتاً کم قیمت پر۔”
زارا نے بے یقینی سے مڑ کر جہانگیر کو دیکھا تھا۔
”میں سمجھی نہیں، تم کیا کہہ رہے ہو؟”
”اتنی مشکل بات نہیں ہے۔ تم اتنی خوبصورت ہو۔ تمہیں مردوں کو چارم کرنا آتا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ تم اس آدمی پر بھی اپنے ہتھیاروں کا استعمال کرو، مجھے یقین ہے کہ تمہارے سامنے یہ مزاحمت نہیں کرسکے گا۔ پھر وہ ہوٹل مجھے مل جائے گا۔”
اس بار اس نے پہلے سے بھی صاف اور واضح لفظوں میں اپنی بات دہرا دی۔ زارا کیلئے مردوں کو رجھانا اور لبھانا نئی بات نہیں تھی وہ ایک ایسے ہی پروفیشن سے منسلک رہی تھی جس میں بہت سی ایڈورٹائزنگ ایجنسیز اپنے کلائنٹس سے خاص طور پر اسے ملواتی رہی تھیں تاکہ وہ ان ایجنسیز کیلئے بزنس حاصل کرسکے اور بدلے میں وہ ایجنسیز اپنے اشتہارات میں صرف اسے ہی لیتیں۔ اسے کبھی یہ سب برا بھی نہیں لگا کیونکہ وہ جانتی تھی یہ اس پروفیشن کی ضرورت تھی اور ماڈلنگ کے شعبے سے منسلک ہر لڑکی یہی کرتی تھی اگر وہ یہ نہ کرتی تو شہرت اور مقبولیت کی اس سیڑھی پر بھی نہ پہنچتی جہاں وہ پہنچ گئی تھی۔ مگر یہ سب اس کے پروفیشن کا حصہ تھا اور وہ اس پروفیشن کو چھوڑ چکی تھی۔ اب ذاتی زندگی میں وہی سب کچھ کرنا اور پھر شوہر کے کہنے پر کرنا…؟
”تمہیں پتا ہے’ تم کیا کہہ رہے ہو جہانگیر؟” اس نے اپنے لفظوں پر زور دیتے ہوئے کہا۔
”اچھی طرح۔ مگر ہم لوگ جس سوسائٹی میں ہیں وہاں آگے بڑھنے کیلئے یہ سب کچھ کرنا ہی پڑتا ہے اور میرا خیال ہے۔ اس میں کوئی بری بات نہیں۔ ہر چیز کی ایک قیمت ہوتی ہے۔ ترقی کی بھی ایک قیمت ہوتی ہے۔” وہ مطمئن تھا۔
”مگر یہ مناسب نہیں ہے۔”
”کم آن زارا! کم از کم تم تو یہ بات نہ کرو۔ یہ سب کچھ تمہارے لیے تو نیا نہیں ہے۔”
”تم جس پروفیشن سے منسلک رہی ہو، کیا تم یہ سب کچھ نہیں کرتی رہیں۔”زارا کا چہرہ سرخ ہوگیا۔
”میں وہ پروفیشن چھوڑ چکی ہوں۔”
”لیکن میں چاہتا ہوں کہ اب تم میرے لیے وہی کرو جو تم پہلے اپنے لیے کرتی تھیں۔ اگر تمہاری وجہ سے مجھے کچھ فائدہ پہنچ جائے تو اس میں برا کیا ہے۔”
وہ اس کا چہرہ دیکھ کر رہ گئی۔
”پھر تم یہ سب کرنے والی اکیلی نہیں ہو، تم سفیر کی بیوی کو دیکھو، مجھے رشک آتا ہے اس بندے کی قسمت پر۔ وہ الو صرف بیوی کی وجہ سے اتنے بڑے ہاتھ مار رہا ہے اور وہ بھی کامیابی کے ساتھ بیورو کریسی میں کامیابی کا آدھا انحصار بیوی پر ہوتا ہے جس کی بیوی جتنی زیادہ خوبصورت اور سوشل ہوگی، وہ اتنی ہی جلدی کامیابی کی سیڑھیاں چڑھتا جائے گا۔”
وہ ناپسندیدگی سے اس کی فلاسفی سن رہی تھی۔
”تم سے شادی کی بنیادی وجہ یہی تھی کہ تم میں ایک غیر معمولی چارم تھا۔ میں تو خیر ہر عورت کو دیکھ کر اس پر فدا ہو جاتا ہوں مگر تمہارے سامنے میں نے ایسے مردوں کو بھی بچھتے ہوئے دیکھا جو عورتوں سے خاصا بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔”
”تو یہ محبت نہیں تھی؟” زارا کو پتا نہیں کیوں اس کی بات سے تکلیف پہنچی۔
”تم اور میں جس عمر میں ہیں، اس میں ٹین ایجرز والی احمقانہ قسم کی محبتیں تو نہیں ہوسکتیں۔ اس عمر میں بندہ بہت سوچ سمجھ کر محبت کرتا ہے وہ دیکھتا ہے کہ محبت کے بدلے میں اسے کیا مل سکتا ہے اور پھر ہی کوئی فیصلہ کرتا ہے۔” وہ اب اسے لیکچر دے رہا تھا۔
”اب دیکھو نا۔ تم نے بھی تو مجھ سے محبت کرتے ہوئے بہت کچھ دیکھا ہوگا۔” وہ اب اسے آئینہ دکھا رہا تھا۔ ”یہ دیکھا ہوگا کہ میرا کیریئر کیا ہے۔ میں کس فیملی سے تعلق رکھتا ہوں۔ دیکھنے میں کیسا ہوں۔ میرا اسٹیٹس کیا ہے۔ میرے ساتھ تمہاری زندگی کیسی گزرے گی۔ میں تمہیں کتنی سکیورٹی دے سکتا ہوں۔ کیسا مستقبل دے سکتا ہوں۔”
زارا کا چہرہ زرد ہوگیا۔
”اسی طرح میں نے بھی کچھ چیزیں دیکھی تھیں۔ تم خوبصورت تھیں مشہور تھیں۔ تمہیں مردوں کو ہینڈل کرنا آتا تھا اور مجھے ایسی ہی بیوی چاہیے تھی کیونکہ جس پروفیشن سے میں تعلق رکھتا ہوں وہاں ایسی ہی بیوی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اب محبت کا جہاں تک تعلق ہے تو ظاہر ہے محبت بھی ہے۔ آخر میں نے شادی کی ہے تم سے ویسے بھی میں جو کچھ حاصل کرنا چاہ رہا ہوں۔ یہ ہم دونوں کیلئے ہی ہے، کیا تم نہیں چاہتیں کہ ہمارے پاس اس جاب سے حاصل ہونے والی مراعات کے علاوہ بھی کچھ ہو۔ آخر اس جاب کے بل بوتے پر تو ہم زندگی کو انجوائے نہیں کرسکتے۔ میرا اور تمہارا جو لائف اسٹائل ہے وہ اس تنخواہ میں تو maintain نہیں کیا جاسکتا۔ تنخواہ تو دو دن میں ختم ہوجائے گی پھر مہینے کے اٹھائیس دن تم اور میں کیا کریں گے۔”
وہ اب اسے حقائق بتارہا تھا۔
۔۔۔۔

”زندگی میں بہت کچھ حاصل کرنا چاہتا ہوں اور یقیناً تم بھی بہت کچھ حاصل کرنا چاہتی ہوگی۔”
وہ اس سے کہہ نہیں سکی کہ وہ ایک گھر، شوہر اور بچوں کے علاوہ اور کچھ نہیں چاہتی۔ کم از کم زندگی کے اس حصے میں۔ وہ بولتا جارہا تھا۔
”ان سب چیزوں کو حاصل کرنے کیلئے دولت ضروری ہے۔ اب دولت کیسے حاصل کی جاسکتی ہے یہ ہمیں پلان کرنا ہے۔ انسان کے ہاتھ میں پاور ہو تو پھر دولت کا حصول مشکل نہیں ہوتا اور میں بھی اپنی اسی پاور کو استعمال کرنا چاہتا ہوں۔”
وہ مایوس ہو رہی تھی۔
جہانگیر معاذ کی شخصیت کا ایک اور پہلو اس کے سامنے آرہا تھا۔
”سعید سبحانی سے ملنے والا وہ ہوٹل آئندہ چند سالوں میں کتنی مالیت کا ہوجائے گا اس کا شاید تم اندازہ بھی نہ کرسکو وہ شخص اس ہوٹل کو ایک دوسری جگہ کرنے والی انویسٹمنٹ کی وجہ سے بیچنے پر مجبور ہے اور میں چاہتا ہوں اس شخص کی کمزوری کا فائدہ اٹھاؤں اور تم یہ کام بخوبی کرسکتی ہو۔” وہ اب مسکراتے ہوئے زارا کو دیکھ رہا تھا۔ وہ مسکرا نہیں سکی۔
مگر اس نے وہی کیا تھا جو جہانگیر چاہتا تھا جہانگیر نے سعید سبحانی سے اس کی ملاقات کروا دی تھی اور زارا نے اپنی خوبصورتی کا بھرپور استعمال کیا تھا۔ اگلے کئی ماہ سعید سبحانی کے ساتھ اس کی ملاقاتیں جاری رہیں۔ ملاقاتیں کس کس حد کو پار کرتی رہیں۔ جہانگیر اس سے بے خبر نہیں تھا مگر زارا کو اس اطمینان پر حیرت ہوئی، وہ صرف اس بات پر خوش تھا کہ سعید سبحانی بالآخر یہ ہوٹل جہانگیر کو بیچنے پر تیار ہوگیا بلکہ مارکیٹ پرائس سے کم پرائس پر جہانگیر کے پاس اس ہوٹل کو خریدنے کیلئے روپیہ کہاں سے آیا تھا وہ یہ بھی نہیں جانتی تھی مگر وہ یہ ضرور جانتی تھی کہ یہ روپیہ وہ اپنی تنخواہ میں سے بچا سکتا تھا نہ ہی اس نے کسی سے قرض لیا تھا۔
سعید سبحانی کے ساتھ جس دن اس نے اس ہوٹل کا سودا کیا تھا اور امریکہ میں رہائش پذیر اپنے ایک دوست کے نام پر وہ جائیداد خریدی تھی۔ اس دن اس نے زارا کو ہیروں کا ایک قیمتی ہار تحفہ کے طور پر دیا تھا۔ زارا کو پہلی بار اس کا کوئی تحفہ لے کر خوشی نہیں ہوئی۔ وہ جانتی تھی یہ تحفہ نہیں قیمت ہے اس کام کی جو اس نے جہانگیر کیلئے کیا تھا اور جو اب اسے بار بار کرنا پڑے گا۔
اس کا اندازہ ٹھیک تھا۔ وہ ہوٹل صرف پہلا قدم تھا اور پہلا قدم اٹھانے کے بعد جہانگیر معاذ کو روکنا بہت مشکل تھا زارا لندن کی تقریبات کا ایک بہت مقبول نام بن گئی تھی ایسا نام جس کے بارے میں صرف اچھی باتیں ہی نہیں اور بھی بہت کچھ کہا جاتا تھا۔
جہانگیر کا اس کے بارے میں اندازہ بالکل ٹھیک تھا، وہ واقعی غیرمعمولی کشش رکھتی تھی اور بہت جلد اس نے سفارت خانے کے تمام آفیسرز کی بیویوں کو بہت پیچھے چھوڑ دیا تھا مگر وہ اس سب سے بہت خوش نہیں تھی جہانگیر سے شادی کرتے وقت اس نے ایسی زندگی گزارنے کا خواب نہیں دیکھا تھا۔ وہ اسٹیٹس بھی برقرار رکھنا چاہتی تھی۔ اسے جہانگیر سے دلچسپی بھی اس کے کیریئر اور فیملی کی وجہ سے ہوئی تھی مگر اس کے باوجود ان کی چیزوں کی جو قیمت اسے ادا کرنی پڑ رہی تھی وہ بہت زیادہ تھی۔
وہ بنیادی طور پر اس چمک دمک سے بیزار ہوچکی تھی اور عمر کی پیدائش ان چیزوں سے نجات کی ایک کوشش تھی، اس کا خیال تھا کہ بچے کی پیدائش جہانگیر کو بدل دے گی، جہانگیر کی پیسے کیلئے ہوس میں کمی آجائے گی یا کم از کم وہ پیسے کے حصول کیلئے اسے استعمال کرنا چھوڑ دے گا۔
۔
مگر اس کا اندازہ غلط تھا۔ جہانگیر یہ جاننے پر کہ وہ امید سے ہے۔ بہت مشتعل ہوگیا تھا۔ اس کا خیال تھا کہ وہ اپنے کیریئر کی اس اسٹیج پر بچے جیسی کوئی مصیبت پالنا نہیں چاہتا مگر زارا کم از کم اس معاملے پر اس کے دباؤ میں نہیں آئی تھی۔ جہانگیر کی دھمکیوں کے باوجود اس نے ابارشن نہیں کروایا تھا اور بالآخر جہانگیر اس کی اس ضدکے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوگیا تھا۔
عمر کی پیدائش پر زارا بے حد خوش تھی کیونکہ اس کا خیال تھا کہ اب جہانگیر اسے پہلے کی طرح استعمال نہیں کرے گا اور وہ مطمئن ہو کر اس طرح اپنے بچے کی پرورش کرسکے گی جیسا وہ چاہتی تھی۔ عمر کی پیدائش کے کچھ عرصہ بعد تک وہ واقعی بہت اطمینان اور سکون کے ساتھ تقریبات میں شرکت کیے بغیر زندگی گزارتی رہی مگر جہانگیر آہستہ آہستہ ایک بار پھر اسے وہیں لے آیا تھا اور پہلی بار زارا کو اندازہ ہوا کہ عمر جہانگیر کے پیروں کی زنجیر نہیں بنا خود اس کے پیروں کی زنجیر بن گیا تھا۔
فطری طور پر وہ عمر کے بہت قریب تھی اور جہانگیر کے ساتھ تقریبات میں جاتے ہوئے وہ سارا وقت اس کے بارے میں فکر مند رہتی۔ جہانگیر نے اس کی پیدائش کے فوراً بعد ہی عمر کو گورنس کے سپرد کردیا تھا اور زارا کے لاکھ احتجاج کے باوجود بھی وہ اسے ہٹانے پر تیار نہیں ہوا۔
اگلے کچھ سال زارا نے شدید ڈپریشن میں گزارے تھے۔ وہ مکمل طور پر اس زندگی سے تنگ آچکی تھی جو وہ جہانگیر کے ساتھ گزار رہی تھی۔لاکھ کوشش کے باوجود بھی وہ عمر کے ساتھ وقت گزارنے میں ناکام رہتی تھی اور یہ بات اس کے ڈپریشن میں اور اضافہ کرتی تھی۔
۔۔۔۔
شاید وہ اس سب کے ساتھ کسی نہ کسی طرح سمجھوتا کرتے ہوئے زندگی گزارتی رہتی مگر جس چیز نے اسے مشتعل کردیا تھا وہ جہانگیر کی ایک دوسری عورت میں لی جانے والی دلچسپی تھی۔ زارا کچھ عرصہ تک یہ سب نظر انداز کرتی رہی کہ ساتھ گزارے جانے والے دس سالوں میں اس نے جہانگیر کی زندگی میں بہت سی عورتیں آتی اور جاتی دیکھی تھیں اور وہ ان کے بارے میں فکر مند نہیں ہوتی تھی مگر ثمرین نام کی وہ لڑکی جہانگیر کی زندگی میں کس حد تک شامل ہوچکی تھی، اس کا اندازہ اسے کبھی نہیں ہوا۔ جہانگیر نے اسے مکمل طور پر ثمرین سے بے خبر رکھا تھا۔ وہ ایک ریٹائرڈ بیورو کریٹ کی بیٹی تھی۔ جہانگیر کے ساتھ اس کی ملاقات کب اور کہاں ہوئی۔ زارا نہیں جانتی تھی مگر جب اسے ثمرین کے وجود کا پتا چلا تھا تو زندگی میں پہلی بار وہ اپنی شادی کے اس فیصلے کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنے پر مجبور ہوگئی تھی۔
اس کے پاس اب ایک دوسرا راستہ تھا۔ جہانگیر کے ساتھ لڑنے جھگڑنے کے بجائے اس نے اپنے بھائی کے پاس جانے کے بعد جہانگیر سے طلاق کیلئے مقدمہ کردیا تھا۔ جہانگیر کیلئے یہ ایک بہت بڑا جھٹکا تھا اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ زارا کبھی اس سے طلاق مانگ سکتی ہے وہ خود بھی ثمرین کی محبت میں گرفتار ہونے کے باوجود زارا کو طلاق نہیں دینا چاہتا تھا۔زارا دس سالوں میں صحیح معنوں میں سونے کی چڑیا ثابت ہوئی تھی اور شاید اگلے کئی سال وہ اس کیلئے اتنی ہی فائدہ مند ہوتی جبکہ ثمرین خوبصورت ہونے کے ساتھ ساتھ کم عمر تھی اور جہانگیر جانتا تھا کہ وہ زارا کی طرح مردوں کو لبھا نہیں سکتی۔
اس نے زارا سے رابطہ کیا تھا مگر وہ کسی بھی صورت واپس آنے پر تیار نہیں تھی۔ ”میں دوسری شادی کرنا چاہتی ہوں۔ تم بھی دوسری شادی کرلو ہم دونوں خوش رہیں گے۔”
وہ اس کے الفاظ پر دنگ رہ گیا تھا۔ اس کے بعد جتنی دفعہ بھی اس نے زاراسے رابطہ کیا تھا اس کی زبان پر یہی سب کچھ تھا۔ وہ عمر کو اپنی کسٹڈی میں لینا چاہتی تھی مگر جہانگیر کے ساتھ کسی سمجھوتے پر تیار نہیں تھی۔ جہانگیر کو اس کی ضد نے مشتعل کردیا تھا۔
”ٹھیک ہے، تم طلاق لے لو مگر عمر کو میں کسی بھی صورت تمہیں نہیں دوں گا۔” اس نے زارا سے کہا تھا۔
طلاق کے بعد زارا نے اپنے بھائی کے ایک بڑی عمر کے ایرانی دوست کے ساتھ شادی کرلی تھی اور یہ شادی بے حد کامیاب رہی تھی۔ اس کے دوسرے شوہر کی پہلی بیوی کا انتقال ہوچکا تھا اور اس کی بیٹی کی شادی ہوچکی تھی۔ زارا سے شادی کے بعد ان کے ہاں دو بیٹے ہوئے۔ وہ اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ لندن میں سیٹلڈ تھی اور بہت پرسکون زندگی گزار رہی تھی مگر اس کے باوجود اس نے کبھی بھی عمر کو فراموش نہیں کیا۔ جہانگیر نے عمر کو ایک بورڈنگ میں داخل کروا دیا اور زارا کوشش کے باوجود عمر سے ملنے یا اسے دیکھنے میں ناکام رہی مگر اس سب کے باوجود وقتاً فوقتاً اسے کچھ نہ کچھ بھجواتی رہتی جو زیادہ تر جہانگیر کے ہاتھ لگتا اور وہ اسے ضائع کردیتا۔
جہانگیر نے اسے طلاق دینے کے کچھ عرصہ بعد ہی ثمرین سے شادی کرلی تھی اور ثمرین کو کوشش کے باوجود وہ زارا کی طرح استعمال نہیں کرسکا وہ صرف ایک اچھی بیوی اور ماں ہی بن سکتی تھی۔ عمر کے ساتھ اس کے تعلقات سرد رہے نہ بہت خوشگوار اس کی وجہ یہ تھی کہ عمر ہمیشہ بورڈنگ میں رہا۔
اپنی تعلیم مکمل کرنے کے دوران اور بعد میں انگلینڈ میں جاب کے دوران بہت دفعہ زارا نے عمر سے رابطہ کرنے کی کوشش کی مگر عمر نے کبھی بھی اس سے جوابی رابطہ نہیں کیا وہ ماں سے محبت کرنے کے باوجود بچپن سے باپ کے دباؤ پر ماں سے ملنے سے انکار کرتا رہا حتیٰ کہ کورٹ میں کسٹڈی کیس کے دوران بھی اس نے ماں سے ملنے سے انکار کردیا۔ بچپن میں چند بار ماں کی طرف سے ملنے والے کچھ تحائف اور کارڈ وصول کرنے کے بعد جہانگیر کی طرف سے اٹھایا جانے والا ہنگامہ اسے ہمیشہ یاد رہا تھا اور غیر محسوس طریقے سے وہ اس ہنگامہ سے بچنے کی کوشش کرتا رہا۔


جاری ہے۔