Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 50

امربیل از عمیرہاحمد
۔۔۔۔
قسط نمبر 50
۔۔۔۔۔
جنید نے ہمیشہ کی طرح رات کو اسے فون نہیں کیا۔ اپنے کمرے میں آنے کے بعد وہ بیڈ پر لیٹی کافی دیر تک لاشعوری طور پر اس کے فون کا انتظار کرتی رہی۔
اگلے دن صبح اس کا موڈ بہت خراب تھا۔ آفس جانے کو بھی جی نہیں چاہ رہا تھا مگر اس دن اسے آفس میں کچھ ضروری کام نپٹانے تھے۔
”جنید کو فون کیا تھا رات کو میں نے۔”
ناشتے کی میز پر نانو نے اسے بتایا۔ ایک لمحہ کے لیے ناشتہ کرتے ہوئے اس کے ہاتھ رکے پھر وہ دوبارہ ناشتہ کرنے میں مصروف ہو گئی۔
”وہ تو کہہ رہا تھا کہ تم دونوں کے درمیان کوئی جھگڑا نہیں ہوا۔” نانو چائے کپ میں ڈالتے ہوئے کہہ رہی تھیں ” وہ کہہ رہا تھا کہ صرف تمہارا موڈ خراب تھا۔ شاید آفس کی کسی مصروفیت کی وجہ سے۔”
”میں نے آپ کو پہلے ہی کہا تھا کہ اس کے ساتھ میرا کوئی جھگڑا نہیں ہوا۔” علیزہ نے سر جھٹکتے ہوئے کہا ”آپ خواہ مخواہ پریشان ہو رہی ہیں۔ آپ کو اسے فون ہی نہیں کرنا چاہیے تھا۔”
”تمہارا موڈ کس وجہ سے خراب ہے؟” نانو نے اس کی بات پر توجہ دیئے بغیر اس سے پوچھا۔
”کوئی موڈ خراب نہیں ہے میرا۔۔۔” وہ اپنی پلیٹ پر جھکتے ہوئے بڑبڑائی۔
”تو پھر جنید ایسا کیوں کہہ رہا تھا؟”
”اب یہ آپ جنید سے ہی پوچھ لیتیں تو بہتر تھا۔ میں کیا بتا سکتی ہوں۔”
اس کے لہجے میں نہ چاہتے ہوئے بھی کچھ ناراضی جھلک آئی۔
”وہ آفس کے مسئلے کا ذکر کر رہا تھا۔ کیا تم واقعی آفس کے کسی مسئلے کی وجہ سے پریشان ہو؟”
”کوئی مسئلہ نہیں ہے آفس میں…بس کام کا لوڈ زیادہ ہے آج کل…اسی وجہ سے میں کچھ اپ سیٹ ہوں۔” اس نے نانو کو مطمئن کرنے کی کوشش کی۔
”میں تم سے پہلے بھی کہتی آرہی ہوں، تم جاب چھوڑ دو۔ یہ تمہارے بس کی بات نہیں ہے۔ فل ٹائم جاب تمہارے لیے ہے ہی نہیں۔ خود کو بھی تھکاتی ہو، دوسروں کو بھی پریشان کرتی ہو، بہتر ہے تم اپنے پرابلمز میں سے جاب کا پرابلم نکال دو۔”
نانو نے ہمیشہ کی طرح اسے لیکچر دینا شروع کر دیا ”میں نے تو رات جنید سے بھی کہا کہ اس کو تمہیں روکنا چاہیے تھا اس جاب سے۔ میری تو تمہیں پرواہ نہیں ہے، شاید اس کی بات مان لو۔”
وہ ان کی بات کا جواب دینے کے بجائے ٹیبل سے اٹھ گئی۔
”اب تم پھر آفس جا رہی ہو۔ اگر زیادہ کام کی وجہ سے پریشان ہو تو کیا یہ بہتر نہیں ہے کہ ایک دو دن کی چھٹی لے کر آرام کرو تاکہ تم کچھ ریلیکس تو ہو سکو۔” نانو نے اسے اٹھتے دیکھ کر ٹوکا۔
”میں دو دن کے لیے گھر پر رہوں گی۔ آفس میں کام اور زیادہ ہو جائے گا، بہتر ہے میں آفس جا کر سارا کام نمٹا لوں، اس سے زیادہ اچھا طریقہ کوئی نہیں ہے خود کو ریلیکس کرنے کا۔”
وہ کہتی ہوئی لاؤنج سے باہر نکل گئی، نانو نے ایک گہری سانس لے کر اسے جاتے ہوئے دیکھا اور پھر کچھ ناراضی کے عالم میں بڑبڑانے لگیں۔
٭٭٭
اس کی پریشانی اگر نانو سے چھپی نہیں رہی تھی تو آفس میں بھی وہ دوسروں سے اپنی ذہنی اور دلی کیفیات نہیں چھپا سکی تھی۔ سب سے پہلے صالحہ نے اس سے اس کا حال احوال پوچھا تھا۔
”تمہیں کوئی پرابلم تو نہیں ہے؟” اس نے سلام دعا کرنے کے بعد پہلا سوال یہی کیا۔
”نہیں کوئی پرابلم نہیں ہے۔” علیزہ نے اپنی میز پر پڑے آرٹیکلز پر اپنی نظریں جماتے ہوئے کہا۔
”پھر اتنی سنجیدہ کیوں نظر آرہی ہو؟” صالحہ کو اس کی بات پر یقین نہیں آیا۔
”کام کرنے کے دوران میں ہمیشہ سنجیدہ ہی نظر آتی ہوں۔” علیزہ نے اسی طرح آرٹیکلز پر نظر دوڑاتے ہوئے کہا۔
”میں اس بات پر یقین نہیں کر سکتی۔ صبح تمہیں آفس میں داخل ہوتے دیکھ کر ہی مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ تمہارا موڈ خراب ہے مگر تم کہہ رہی ہو کہ سب کچھ ٹھیک ہے۔”
”میری طبیعت کچھ خراب ہے، باقی تو سب کچھ واقعی ہی ٹھیک ہے۔” علیزہ نے اس بار سر اٹھا کر مسکرانے کی کوشش کی۔
”مجھے اب بھی یقین نہیں آیا۔” صالحہ نے اس کے چہرے کو دیکھتے ہوئے بے یقینی سے کہا۔ وہ ایک ٹھنڈا سانس لے کر ایک بار پھر ان آرٹیکلز پر جھک گئی۔
”میں مدد کر سکتی ہوں کچھ؟” صالحہ نے کچھ دیر کے بعد کہا۔
”نہیں۔۔۔” علیزہ صفحات الٹتے ہوئے بولی۔
”پھر صالحہ کو اسی طرح دیکھ کر نرم آواز میں بولی۔
”کیا تم تھوڑی دیر کے لیے مجھے اکیلا چھوڑ سکتی ہو؟”
”ہاں کیوں نہیں۔۔۔” صالحہ قدرے حیرانی سے اسے دیکھتے ہوئے اٹھ گئی۔
”Hope you won’t mind” علیزہ نے کہا۔
”It’s alright”صالحہ ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کمرے سے نکل گئی۔
علیزہ نے اس کے باہر جاتے ہی اپنے سامنے پڑے ہوئے آرٹیکلز ایک طرف رکھ دیئے۔ ان آرٹیکلز کو پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔ وہ اس وقت ان کا سر پیر سمجھنے سے قاصر تھی۔ جنید اس وقت اسے آفس میں فون کیا کرتا تھا۔ آج اس نے فون نہیں کیا تھا۔ وہ کوشش کے باوجود اس کو اپنے ذہن سے جھٹک نہیں پا رہی تھی۔ پچھلی رات اس کے ساتھ ہونے والی گفتگو ایک بار پھر اسے یاد آرہی تھی اور وہ ایک بار پھر خفگی کی ایک لہر سی اپنے اندر اٹھتی محسوس کر رہی تھی۔ ” آخر اسے عمر کی خاطر مجھ سے لڑنے کی کیا ضرورت تھی۔ ایک ایسے شخص کی حمایت کرنے کی جسے وہ براہ راست جانتا تک نہیں۔۔۔”اسے جھنجھلاہٹ ہو رہی تھی۔
”کیا اسے مجھ سے زیادہ میری فیملی کی فکر ہو سکتی ہے؟” اس نے ہاتھ میں پکڑا ہوا پین ٹیبل پر رکھ دیا۔” اور آخر اسے مجھ سے یہ سب باتیں کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی۔” وہ جھنجھلا رہی تھی۔
”پھر اتنی چھوٹی سی بات پر وہ اس طرح ناراض ہو گیا ہے اور اس کا دعویٰ ہے، وہ مجھ سے محبت کرتا ہے۔” وہ بہت مضطرب تھی۔
”کیا یہ بہتر نہیں ہے کہ میں اسے فون کر لوں؟” اسے یکدم ایک خیال آیا۔
”مگر میں اسے فون کیوں کروں…ناراض وہ مجھ سے ہے، میں تو نہیں۔”
”غلط بات اس نے کی تھی میں نے تو نہیں۔۔۔” اس نے ایک بار پھر آرٹیکلز کو اپنے سامنے کھینچ لیا۔
”مگر اس سے بات کرکے میں کم از کم اس ٹینشن سے تو نکل سکتی ہوں۔” اسے ایک بار پھر خیال آیا۔
”لیکن اگر فون کرنے پر اس نے ایک بار پھر مجھ سے وہی مطالبہ کیا تو…؟” اس کے دل میں خدشہ پیدا ہوا۔
”اسے خود مجھے فون کرنا چاہیے، میں اسے فون کیوں کروں…اسے احساس ہونا چاہیے اپنی غلطی کا۔۔۔” علیزہ نے ایک بار پھر اپنا ارادہ بدل دیا۔
صالحہ اس دن بہت خوش تھی۔ اس کے آرٹیکل پر ملنے والا رسپانس بہت اچھا تھا، شاید وہ علیزہ سے اس رسپانس کو ہی ڈسکس کرنا چاہتی تھی مگر علیزہ کے خراب موڈ نے اسے قدرے حیران کر دیا تھا۔ ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا تھا کہ علیزہ کا موڈ اس طرح خراب ہو ۔ وہ عام طور پر خوشگوار موڈ میں رہا کرتی تھی۔
تین چار بجے کے قریب صالحہ ایک بار پھر علیزہ کے کمرے میں آگئی۔
”تمہارا موڈ کچھ ٹھیک ہوا؟” اس نے اندر داخل ہوتے ہی کہا۔
علیزہ اس بار اسے دیکھ کر مسکرائی ”ہاں ٹھیک ہو گیا۔”
”خدا کا شکر ہے ورنہ میں سوچ رہی تھی کہ شاید تم آج سارا دن ہی اسی طرح منہ لٹکائے پھرو گی۔” صالحہ نے ایک گہری سانس لے کر کرسی کھینچ لی۔
”تمہارا کام ختم ہو گیا ہے؟”
”تقریباً ختم ہو گیا ہے۔” علیزہ نے اس کی بات کا جواب دیا۔
”چلو اچھا ہے، کچھ دیر گپ شپ تو کر سکتی ہوں تمہارے ساتھ۔” صالحہ اطمینان سے بولی۔
”مجھے لگتا ہے، آج تمہارے پاس کرنے کے لیے اور کچھ بھی نہیں ہے؟” علیزہ مسکرائی۔
”ہاں واقعی آج میرے پاس کرنے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ ایک فنکشن کی کوریج کرنی تھی۔ وہ میں کر آئی ہوں۔ چند چھوٹے موٹے دوسرے کام تھے۔ وہ بھی کر چکی ہوں۔ اس لیے آج میری کوئی اور مصروفیت نہیں ہے۔”
”یعنی راوی چین ہی چین لکھتا ہے تمہارے لیے۔” علیزہ نے تبصرہ کیا۔
”کہہ سکتی ہو، کم از کم آج تو راوی چین ہی چین لکھ رہا ہے۔ دو دن سے تو ویسے بھی میں تعریفی کالز اور کلمات کا ڈھیر اکٹھا کرتی پھر رہی ہوں۔” صالحہ نے فخریہ انداز میں کہا۔
علیزہ نے سر اٹھائے بغیر صرف نظر اٹھا کر اسے دیکھا۔ وہ بولتی جا رہی تھی۔
”حالانکہ مجھے شرمندگی بھی ہو رہی ہے کہ اس آرٹیکل میں میرا کوئی کنٹری بیوشن نہیں ہے۔ سارا کام تو زین العابدین کا ہے۔ میں نے تو صرف ایک دو گھنٹے بیٹھ کر اس کی دی گئی معلومات پر وہ آرٹیکل لکھ دیا۔”
علیزہ نے ایک گہری سانس لے کر اپنے سامنے پڑی فائل بند کرکے ایک طرف سرکا دی۔ صالحہ اب بھی بول رہی تھی۔
”اگر اصل کریڈٹ کسی کو جاتا ہے تو وہ زین العابدین کو جاتا ہے مگر تم زین العابدین کو دیکھو۔ اس نے خود بھی فون کر کے مجھے اتنا اچھا آرٹیکل لکھنے پر سراہا ہے۔” صالحہ نے زین العابدین کی تعریف کی۔
”ویسے مجھے کبھی کبھی لگتا ہے کہ اس آدمی کے پاس الٰہ دین کا چراغ ہے ورنہ جس طرح کی معلومات اس کے پاس اس آسانی سے پہنچ جاتی ہیں، وہ کبھی کسی دوسرے کے پاس نہیں پہنچ سکتیں۔” وہ اپنی کرسی کو جھلاتے ہوئے تحسین آمیز انداز میں بولی۔
”تمہیں پتا ہے علیزہ! عمر جہانگیر اور رضی محمود کے خلاف انکوائری شروع ہونے والی ہے۔” بات کرتے کرتے اچانک صالحہ کو جیسے کچھ یاد آیا۔
”مجھے کیسے پتا ہو سکتا ہے؟” علیزہ نے مدھم آواز میں کہا۔
”ہاں واقعی تمہیں کیسے پتا ہو سکتا ہے۔ بہرحال مجھے یہ خبر بھی زین العابدین نے دی ہے۔ تم خود سوچو۔ کتنا زبردست امپیکٹ پڑے گا اس آرٹیکل کا اور میرا کہ ایک آرٹیکل کی وجہ سے مجبور ہو کر کسی بیورو کریٹ کے خلا ف کارروائی شروع کر دی جائے۔” صالحہ کے لہجے میں جوش تھا ”اور وہ بھی عمر جہانگیر اور رضی محمود جیسے بیورو کریٹس کے خلاف…پاکستان کے سب سے طاقتور ترین خاندانوں میں سے دو کے خلاف، تصور کرو۔”
علیزہ خاموشی سے اس کا چہرہ دیکھتی رہی، صالحہ کو ابھی اس نیوز پیپر کو جوائن کیے دو تین ماہ ہی ہوئے تھے۔ اس سے پہلے وہ فری لانس جرنلسٹ کے طور پر کام کر رہی تھی مگر اب اس نے علیزہ کے اخبار کو جوائن کر لیا تھا اور پہلے دن سے ہی علیزہ کے ساتھ اس کی بہت اچھی دوستی ہو گئی تھی مگر دونوں ایک دوسرے کی فیملی کے بارے میں زیادہ نہیں جانتی تھیں نہ علیزہ نے کبھی اپنے انکلز اور کزنز کے بارے میں وہاں کسی کو بتایا تھا نہ ہی صالحہ نے اپنے قریبی رشتہ داروں کے علاوہ کسی کے بارے میں بات کی تھی اور اب وہ علیزہ کو عمر جہانگیر اور اس کے خاندان کے بارے میں معلومات فراہم کر رہی تھی۔
”عمر جہانگیر کے خاندان کو بدمعاشوں کا ٹولہ کہا جا سکتا ہے۔” علیزہ کا چہرہ صالحہ کے تبصرے پر سرخ ہو گیا۔ صالحہ ہمیشہ بے لاگ قسم کے تبصرے کیا کرتی تھی۔ اس سے پہلے اس کے ایسے کسی تبصرے نے علیزہ کو کبھی پریشان نہیں کیا کیونکہ ایسے تبصرے کا تعلق اس سے نہیں تھا مگر اب وہ براہ راست اس کے خاندان کی بات کر رہی تھی اور علیزہ سننے پر مجبور تھی۔
”میں تو حیران ہو گئی، زین العابدین سے اس کے خاندان کے بارے میں سن کر۔ کسی دوسرے ملک میں یہ لوگ ہوتے تو ڈیڑھ سو سال کی قید کاٹ رہے ہوتے۔ بیوی بچوں سمیت…مگر ان کی خوش قسمتی ہے کہ یہ پاکستان میں ہیں اور اس Land of the pure میں گُل چھرے اڑا رہے ہیں۔” صالحہ نے طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔
”اور ان کے اثر و رسوخ کا یہ عالم ہے کہ آج کہیں اس فیملی کے حوالے سے تعارف کروایا جائے تو ریڈ کارپٹڈ استقبال ہوگا، سمجھ نہیں آتا ایسے سسٹم پر ہنسا جائے یا رویا جائے۔”
علیزہ چپ چاپ اس کا چہرہ دیکھتی رہی۔
”تمہیں پتا ہے، پچھلے سال ان لوگوں نے میرے انکل اور ان کے خاندان کے ساتھ کیا کیا؟” صالحہ نے دوسرا قصہ شروع کیا۔
”میرے انکل کے بیٹے کو ایک جھوٹے پولیس مقابلے میں مار دیا گیا۔”
علیزہ کا سانس یکدم رک گیا۔
”میرے انکل کے بیٹے اور اس کے تین دوستوں کو۔”
علیزہ کو لگا اس کی خاموشی اب کبھی ختم نہیں ہو سکے گی۔
”ایک یہ عمر جہانگیر تھا، ایک اس کا کزن تھا عباس حیدر۔ ابھی ایک سال کے بعد باہر سے آیا ہے، لاہور میں پوسٹنگ ملی ہے۔ ان دونوں نے میرے کزن کو اس کے گھر سے اٹھوا کر قتل کر دیا۔ تم نے پڑھی ہو گی یہ خبر۔ جسٹس نیاز کا نام بھی سنا ہو گا؟”
وہ اب علیزہ سے پوچھ رہی تھی۔ علیزہ سر نہیں ہلا سکی۔
”اور اس پر اور اس کے دوستوں پر الزام یہ لگایا تھا کہ ان چاروں نے کسی گھر پر ڈاکہ ڈالا تھا اور وہاں سے فرار ہوتے ہوئے پولیس کے ساتھ مقابلے میں مار دیئے گئے۔” صالحہ اب غصے کے عالم میں بول رہی تھی۔
”مگر یہ سب جھوٹ تھا، ان میں سے کوئی بھی اپنے گھر سے باہر نہیں تھا اس رات۔ پولیس چوروں کی طرح رات کو انہیں ان کے گھر سے اٹھا کر لے گئی اور قتل کر دیا۔”
علیزہ نے ٹیبل پر ہاتھ رکھ کر اپنے ہاتھوں کی لرزش کو چھپایا۔
”میرا کزن ایک آؤٹ سٹینڈنگ سٹوڈنٹ تھا اور ان لوگوں نے اس طرح اسے مار دیا۔ بعد میں میرے انکل نے تو بہت ہنگامہ کیا۔ عباس حیدر کے باپ کو اسلام آباد سے آنا پڑا، معافیاں مانگتا رہا کہ ایسا غلطی سے ہو گیا مگر بعد میں یکدم گرگٹ کی طرح رنگ بدل کر کہنے لگا کہ میرے کزن اور اس کے دوستوں نے اس کی کسی بھانجی کو ریپ کیا اور اس کے گھر پر فائرنگ کی۔ میرے انکل تو ہکا بکا ہو گئے اس الزام پر۔ ان کے تو وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ یہ لوگ خود کو بچانے کے لیے ان پر اس طرح کا الزام لگائیں گے۔ چیف منسٹر تک ان لوگوں کی حمایت کر رہا تھا۔”
صالحہ سرخ چہرے کے ساتھ بولتی جا رہی تھی اور علیزہ کا دماغ ماؤف ہو رہا تھا۔
”زبردستی مجبور کر دیا میرے انکل کو سیٹلمنٹ کرنے پر۔ تم اندازہ کر سکتی ہو، یہ لوگ خود کو بچانے کے لیے کس طرح کے اوچھے ہتھکنڈوں کا استعمال کر سکتے ہیں۔” صالحہ کی آواز میں نفرت تھی۔
”تمہیں یہ سب کچھ کس نے بتایا؟” علیزہ نے اپنے حواس بحال کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔
”کس نے بتانا تھا ظاہر ہے انکل نے بتایا…ہم نے تو مجبور کیا تھا انہیں کہ یہ سب کچھ پریس تک لے جائیں کورٹ میں کیس کریں مگر وہ تیار نہیں ہوئے۔ تم اندازہ کر سکتی ہو کہ ہائی کورٹ کا ایک جج پولیس اور ان لوگوں سے خوفزدہ تھا کہ وہ لوگ اسے اور اس کے خاندان کو مزید تنگ کریں گے۔ وہ جج کسی دوسرے شخص کو کیا انصاف دے گا جو اپنے لیے انصاف نہ مانگ سکتا ہو۔” وہ کہتی گئی۔
”ان لوگوں نے خود یہ کہا تھا کہ ان کی بھانجی۔۔۔” علیزہ کو تو جیسے اب بھی یقین نہیں ا رہا تھا۔
”ہاں خود کہا تھا، پنجاب کی پوری بیورو کریسی کو اس معاملے کا پتا ہے۔” صالحہ نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا۔
”مجھے یقین نہیں آ رہا۔” علیزہ بڑبڑائی۔
”مجھے بھی یقین نہیں آیا تھا مگر پھر یقین کرنا پڑا۔”
صالحہ نے اس کی بڑبڑاہٹ کے جواب میں کہا، علیزہ کا سر چکرا رہا تھا۔
”تمہارے انکل نے ان لوگوں کے گھر پر حملہ نہیں کروایا تھا؟” وہ زرد چہرے کے ساتھ صالحہ سے پوچھ رہی تھی۔
”میرے انکل کیسے حملہ کروا سکتے تھے جب انہیں یہ پتا ہی نہیں تھا کہ اس سارے معاملے میں وہ کسی لڑکی کو انوالو کررہے ہیں۔ وہ تو خود حیران ہو گئے تھے ان کا یہ الزام سن کر …اور پھر یہ بھی کہ وہ لڑکی اسلام آباد کے ذہنی مریضوں کے کسی کلینک میں زیر علاج تھی اس واقعہ کے بعد۔” صالحہ نے کہا۔
”اسلام آباد… ذہنی مریضوں کا کلینک؟” وہ ایک بار پھر خالی الذہنی کے عالم میں بڑبڑائی۔
”ہاں، وہ لوگ کہہ رہے تھے کہ اس حادثے کے بعد اس لڑکی کی ذہنی حالت خراب ہو گئی تھی اور انہوں نے اسے اسلام آباد کے کسی کلینک میں ایڈمٹ کروا دیا تھا۔ جھوٹ سب جھوٹ۔۔۔”صالحہ نے ہاتھ کو جھٹکتے ہوئے کہا۔ پھر اچانک اس کی نظر علیزہ کے چہرے پر پڑی اور وہ ٹھٹھک گئی۔
”تمہیں کیا ہوا؟” اس نے علیزہ سے پوچھا۔
”مجھے…مجھے کچھ بھی نہیں۔۔۔” علیزہ نے مسکرانے کی کوشش کی لیکن وہ جانتی تھی، وہ اس کوشش میں ناکام رہی ہو گی۔
”میں بس گھر جانے کا سوچ رہی ہوں۔” اس نے ماؤف ہوتے ہوئے ذہن کے ساتھ ٹیبل پر پڑی ہوئی چیزوں کو اکٹھا کرنے کی کوشش کی، وہ اب صالحہ سے نظریں چرا رہی تھی۔
صالحہ نے اس کی بات پر وال کلاک پر نظر دوڑائی اور پھر کچھ حیرانی سے اسے دیکھا۔
”ابھی تو آفس آورز ختم نہیں ہوئے تم آج جلدی جا رہی ہو؟”
”ہاں…میں نے ایڈیٹر کو بتا دیا ہے۔ میں آج جلدی گھر جانا چاہتی ہوں۔”
وہ اب اپنی کرسی سے اٹھ کر کھڑی ہو گئی اور اپنی دراز کھول کر باقی ماندہ چیزیں اس میں رکھنے لگی۔ صالحہ بھی اٹھ کر کھڑی ہو گئی۔
”چلو ٹھیک ہے پھر تم سے کل ملاقات ہو گی۔ آرہی ہو نا کل؟” اس نے کمرے سے نکلتے نکلتے علیزہ سے پوچھا۔”ہاں …شاید پتا نہیں…ہو سکتا ہے نہ ہی آؤں، یا پھر لیٹ آؤں گی۔” علیزہ الجھے ہوئے انداز میں اپنی میز کی دراز لاک کرنے لگی۔
”فون کر دینا۔ مجھے کل آرٹس کونسل جانا ہے، تمہیں یاد ہے۔ اگر تم نہیں آئیں تو پھر میں ثمین کے ساتھ چلی جاؤں گی۔” صالحہ نے اسے یاد دہانی کروائی۔

”تم ثمین کے ساتھ چلی جانا۔ میں اگر آ بھی گئی تو تمہارے ساتھ نہیں جا پاؤں گی۔” علیزہ نے پیشگی معذرت کرتے ہوئے کہا۔
”ٹھیک ہے پھر میں آج ہی ثمین کو انفارم کر دیتی ہوں۔ یہ نہ ہو کل وہ بھی نہ آئے۔” صالحہ نے آفس سے نکلتے ہوئے کہا۔
علیزہ اپنا بیگ اٹھا کر صالحہ کے پیچھے پیچھے ہی باہر نکل آئی۔ باہر پارکنگ تک آتے ہوئے وہ مکمل طور پر ذہنی طور پر ماؤف تھی۔ صالحہ کے منہ سے نکلے ہوئے جملے اس کے ذہن میں گونج رہے تھے اور اسے ان پر یقین نہیں آرہا تھا۔ اسے یاد نہیں اس نے گاڑی کس طرح پارکنگ سے نکالی تھی۔ سگنل پر گاڑی روکے وہ اس وقت ہوش میں آئی، جب کسی نے اس کی کھڑکی کے شیشے پر بڑے زور سے ہاتھ مارا، وہ یکدم چونک کر جیسے اپنے اردگرد کے ماحول میں واپس آگئی۔ وہ ایک آدمی تھا جو اب خشمگیں نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا اور اس کے پیچھے بری طرح بجنے والے ہارن کا شور تھا۔ اس نے گڑبڑا کر گاڑی آگے بڑھا دی۔ سٹیرنگ بار بار اس کے ہاتھ سے نکل رہا تھا۔ اسے یکدم خوف محسوس ہوا کہ گاڑی کہیں نہ کہیں ٹکرا جائے گی۔ سپیڈ ہلکی کرتے ہوئے اس نے مین روڈ سے ایک ذیلی سڑک پر گاڑی موڑ دی اور پھر اسے سڑک کے کنارے روک دیا۔
”کیا یہ لوگ میرے بارے میں اتنی بڑی بات کہہ سکتے ہیں؟” اس نے جیسے اپنے آپ سے پوچھا ”کیا یہ لوگ مجھے اس طرح سیکنڈ لائز کر سکتے ہیں؟” وہ اب بھی جیسے بے یقینی کا شکار تھی۔ ”کیا خود کو بچانے کے لیے یہ اس طرح میری قربانی دے سکتے ہیں۔”
”کیا مجھے اس طرح۔۔۔” اس نے اپنے اردگرد بے تحاشا گھٹن محسوس کی۔
”کیا عمر بھی اس طرح کر سکتا ہے؟” اسے اپنا سوال ایک مذاق لگا ”میں نے کس کو سب کچھ بتایا۔ جسٹس نیاز کو؟”
سارے پردے یکدم اٹھنے لگے تھے..
”یا پھر میں تو ان سے بات بھی نہیں کر سکی ہوں گی۔ کیا اسی لیے وہ میرے منہ سے پورا واقعہ سن کر بھی اسی طرح پرسکون تھے۔ مجھے اس وقت یہ ردعمل مصنوعی کیوں نہیں لگا۔” وہ اب اس واقعے اور اس کے بعد جسٹس نیاز کے ساتھ ہونے والی اپنی پوری گفتگو کو یاد کرنے کی کوشش کرتی رہی۔ ”یہ لوگ پہلے ہی پورا انتظام کر چکے تھے کہ میرا رابطہ جسٹس نیاز سے نہ ہو اسی لیے عمر نے اتنی بے خوفی سے مجھے جسٹس نیاز سے بات کرنے کے لیے کہہ دیا کیونکہ وہ۔۔۔” علیزہ نے ہونٹ بھینچ لیے۔
”اور گھر پر وہ حملہ …میرے خدا…وہ بھی جعلی تھا…صرف مجھے خوفزدہ کرنے کے لیے…مجھے دھوکہ دینے کے لیے اسی لیے وہ لوگ اندر نہیں آئے۔ اسی لیے یہ دونوں وہاں پہنچ گئے تھے اور کس کس کو پتا تھا یہ سب کچھ…کیا نانو کو بھی؟”
غم و غصے سے اس کی حالت بری ہو رہی تھی۔
”اور میں …میں عمر کو کیا سمجھ رہی تھی۔ اپنا نجات دہندہ…اور وہ حقیقت کیا تھی…بلکہ یہ سب ہی کیا تھا؟” وہ ونڈ سکرین سے نظر آنے والی سڑک کو گھو ر رہی تھی۔
”اور مجھے…مجھے کبھی ان پر شک تک نہیں ہوا کہ یہ میرے ساتھ کوئی گیم کررہے ہیں۔ اس قدر اندھا اعتماد۔۔۔”اس کی آنکھوں میں اب نمی اترنے لگی۔
”واقعی…واقعی دنیا میں کوئی مجھ جتنا احمق نہیں ہو سکتا۔ بلکہ میرے علاوہ دنیا میں کوئی احمق ہے ہی نہیں۔” اس نے بڑبڑاتے ہوئے اپنی آنکھیں صاف کیں اور گاڑی کو سٹارٹ کرنے لگی ”اور اب یہ ایک بار پھر جنید کے ذریعے مجھے استعمال کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اب نہیں…اور نہیں…تم بھاڑ میں جاؤ عمر…! میں واقعی چاہتی ہوں کہ تمہیں پھانسی کے پھندے پر لٹکا دیا جائے اور صرف تمہیں نہیں باری باری سب کو۔۔۔”
گاڑی ڈرائیو کرتے ہوئے اس کی آنکھیں ایک بار پھر دھندلا رہی تھیں۔
٭٭٭
شام کو چھ بجے وہ اپنے گھر میں داخل ہوئی اور اندر داخل ہوتے ہی اس نے پورچ میں جنید کی گاڑی دیکھ لی۔ بے اختیار اس کا دل چاہا وہ وہیں سے واپس پلٹ جائے، اس وقت اس موڈ کے ساتھ وہ اس کا سامنا نہیں کرنا چاہتی تھی۔
وہ لاؤنج میں نانو کے ساتھ موجود تھا اور چائے پینے میں مصروف تھا، جب وہ لاؤنج میں داخل ہوئی ۔ رسمی سی علیک سلیک کرنے کے بعد وہ جنید کی مصالحانہ مسکراہٹ کو مکمل طور پر نظر انداز کرتے ہوئے اپنے کمرے میں چلی گئی۔
”مجھے لگتا ہے…اس کا موڈ ابھی بھی آف ہے۔” جنید نے اسے لاؤنج سے نکلتے دیکھ کر کہا۔
”موڈ تو اس کا صبح سے ہی ایسا ہے ٹھہرو میں اسے بلا کر لاتی ہوں۔” نانو نے چائے کا کپ رکھتے ہوئے کہا۔
”آپ بیٹھیں۔ میں خود دیکھ لیتا ہوں۔۔۔” جنید اپنی جگہ سے اٹھ گیا۔
وہ جس وقت دروازے پر دستک دے کر اندر آیا، وہ اپنے گھٹنوں کے گرد بازو لپیٹے بیڈ پر بیٹھی ہوئی تھی۔ اسے جنید کے اس طرح اپنے پیچھے آ جانے کی توقع نہیں تھی مگر جب اس نے اسے اندر آتے دیکھا تو صرف سر جھٹک کر رہ گئی۔
”میں بیٹھ جاؤں؟” جنید نے اندر آتے ہی اس کے چہرے کو غور سے دیکھتے ہوئے کہا۔
”ضرور۔۔۔”
جنید کرسی کھینچ کر بیڈ سے کچھ فاصلے پر بیٹھ گیا۔ کچھ دیر کمرہ میں خاموشی رہی، شاید وہ بات شروع کرنے کے لیے کچھ لفظ ڈھونڈنے کی کوشش کر رہا تھا، پھر جیسے وہ اس میں ناکام ہو گیا۔ ایک گہری سانس لیتے ہوئے اس نے کہا۔
”اب یہ تو تمہیں پتا چل ہی گیا ہوگا کہ میں یہاں کیوں آیا ہوں۔” علیزہ نے سر اٹھا کر اسے دیکھا ، جنید نے اس کی سوالیہ نظروں کو دیکھتے ہوئے کہا ”میں معذرت کرنے آیا تھا۔”
”کس لیے؟”
”کل کچھ اچھا نہیں کیا میں نے…عام طور پر ایسا کرتا تو نہیں مگر۔۔۔” وہ سوچ سوچ کر بولتے ہوئے جیسے افسوس کا اظہار کر رہا تھا۔
”اس کی ضرورت نہیں ہے۔” علیزہ نے کہا۔
”اچھا۔۔۔” جنید نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا۔ ”میرا خیال تھا، اس کی ضرورت ہو گی۔ آفٹر آل۔ تم مجھ سے ناراض تھیں۔”
”میں ناراض تھی…؟میرا خیال ہے آپ ناراض تھے۔” علیزہ نے اس کی بات کے جواب میں کہا۔
”میں ناراض تھا؟ سچ بتاؤں۔۔۔” وہ بات کرتے کرتے رکا ”میں واقعی کچھ ناراض تھا مگر وہ عارضی طور پر۔ میں نے بعد میں گھر جا کر سوچا، تب مجھے اپنی غلطی کا احساس ہوا اور اب میں یہاں ہوں۔” اس کا چہرہ دیکھتے ہوئے چند لمحوں کے لیے علیزہ کی کچھ سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ کیا کہہ رہا تھا۔ ایک بار پھر اس کے ذہن میں کچھ دیر پہلے صالحہ کے ساتھ ہونے والی گفتگو گونجنے لگی تھی۔
جنید نے اپنی بات کے ختم ہونے پر بھی اسے اپنی طرف خاموشی سے دیکھتے پایا۔
”تم کچھ کہو گی نہیں؟” اس نے علیزہ سے کہا وہ پھر بھی اسے اسی طرح دیکھتی رہی اور تب ہی جنید کو احساس ہوا کہ وہ اس وقت غائب دماغ تھی اور شاید اسے دیکھتے ہوئے بھی کہیں اور تھی۔
”علیزہ…!” اس نے بلند آواز میں اسے پکارا وہ یکدم ہڑبڑا کر چونکی۔

”کیا…؟”
”تم میری بات سن رہی ہو؟”
”میں…ہاں…میں نے آپ سے کہا ہے کہ معذرت کی ضرورت نہیں۔”
”نہیں۔ تم مجھے یہ بتا رہی تھیں کہ تم نہیں میں تم سے ناراض تھا۔” جنید نے اسے یاد دلایا۔ علیزہ نے آنکھیں بند کر لیں۔
”تمہاری طبیعت ٹھیک ہے؟”
”بالکل ٹھیک ہے…آپ چائے پئیں گے؟” وہ یکدم بیڈ سے اترنے لگی۔
جنید نے نرمی سے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔
”میں چائے پی چکا ہوں۔ جس وقت تم آئیں، میں چائے ہی پی رہا تھا۔ تم پریشان ہو؟” اس نے نرمی سے پوچھا۔
علیزہ نے سر نہیں اٹھایا، وہ اس کے ہاتھ میں موجود اپنے ہاتھ کو دیکھتی رہی۔
”علیزہ!” جنید نے ایک بار پھر اسے مخاطب کیا۔
”آپ کو کبھی زندگی بری لگی ہے؟” اس نے یکدم سر اٹھا کر جنید سے پوچھا، وہ حیران ہو کر اس کا منہ دیکھنے لگا۔
”میں کیا جواب دوں تمہاری اس بات کا؟” وہ نہ سمجھنے والے انداز میں بے چارگی سے ہنسا۔
”کبھی زندگی بری نہیں لگی؟” علیزہ نے ایک بار پھر اسی لہجے میں پوچھا۔
”تمہیں لگی ہے؟” جنید نے اس کے سوال کا جواب دینے کے بجائے اس سے پوچھا۔
”مجھے تو ہر وقت لگتی ہے اور آج تو بہت ہی بری لگ رہی ہے۔” وہ بڑبڑائی۔
”میری وجہ سے؟” جنید یکدم سنجیدہ ہو گیا۔
”نہیں، آپ کی وجہ سے نہیں، اپنی وجہ سے۔ دوسروں کی وجہ سے تو۔۔۔” اس نے اپنی بات ادھوری چھوڑ دی۔
”تم…تمہیں کوئی بات پریشان کر رہی ہے؟” جنید نے اسے دوبارہ پوچھا۔
”آپ نے مجھے فون نہیں کیا؟” علیزہ نے یکدم موضوع بدل دیا۔ جنید نے ایک گہرا سانس لیا۔
”تمہیں یہ بات پریشان کر رہی تھی…اس وجہ سے اتنی ڈسٹرب ہو؟” جنید نے قدرے حیران ہو کر کہا۔
”ہاں میں انتظار کرتی رہی تھی آپ کی فون کال کا۔۔۔”
”اتنی سی بات کو اتنا سیریس لے رہی تھیں تم…میں تو پریشان ہو گیا تھا۔” جنید نے جیسے سکون کا سانس لیا ”بلکہ میں تو تمہارا چہرہ دیکھ کر ڈر گیا تھا۔ مجھے نہیں پتا تھا کہ فون نہ کرنے پر تم…میں نے تو اس لیے فون نہیں کیا تھا کہ تمہارا موڈ آف تھا، کچھ میں بھی ناراض تھا۔ میں نے سوچا۔ آخر کیا بات کروں گا میں فون پر، آج صبح بھی میرا موڈ ایسا ہی تھا۔” وہ اب وضاحتیں دے رہا تھا ”میں نے دو تین بار چاہا کہ تمہیں کال کر لوں مگر بس پھر…تم نے بھی تو مجھے کال نہیں کیا بلکہ میرا خیال ہے کہ اگر میں یہاں نہ آتا تو تم خود تو کبھی مجھے کال نہ کرتیں۔” وہ اب شکایت کر رہا تھا۔
”آپ یہ کیسے کہہ سکتے ہیں؟”
”ایسے ہی میرا خیال ہے؟”
”آپ کا خیال غلط ہے، اگر آپ مجھے کال نہیں کرتے تو میں خود آپ کو کال کر لیتی… میں Egoist (اناپرست) نہیں ہوں اور میں رائی کا پہاڑ نہیں بناتی۔”
”مگر کل تو بڑے دھڑلے سے تم نے کہا تھا کہ میں چاہوں تو تمہاری فیملی سے رشتہ ختم کر لوں۔” جنید نے مسکراتے ہوئے اسے جتایا۔
”آپ کو اس بات پر غصہ آیا تھا؟”
”یہ غصہ دلانے والی بات تھی۔” جنید نے اپنے لفظوں پر زور دیتے ہوئے کہا۔
”آپ نے بھی ایک غصہ دلانے والی بات کی تھی۔” علیزہ نے اسے یاد دلایا۔
”وہ صالحہ والی بات…فار گیٹ اباؤٹ اٹ…میں نے کل تم سے جھگڑے کے بعد یہ طے کیا تھا کہ آئندہ کم از کم میں تمہارے ایسے کسی کام میں دخل اندازی نہیں کروں گا۔” جنید نے اس کا ہاتھ چھوڑتے ہوئے کہا۔ ”وہ واقعی احمقانہ بات تھی۔ مجھے بعد میں احساس ہوا کہ میرا واقعی اس معاملے کے ساتھ کوئی تعلق نہیں بنتا۔ نہ میرا نہ تمہارا…یہ صالحہ کا مسئلہ ہے۔ بہتر ہے وہ خود ہی اسے نپٹائے۔”
جنید لاپروائی سے کہتا گیا۔ علیزہ نے غیر محسوس طور پر اپنے کندھوں سے جیسے کوئی بوجھ ہٹتا محسوس کیا۔
”بہرحال ایسی چھوٹی چھوٹی باتوں کو تم اپنے اعصاب پر سوار مت کیا کرو۔ ویسے بھی ابھی تو ہم دونوں کے درمیان خاصے جھگڑے باقی ہیں۔” وہ خوشگوار لہجے میں مسکراتے ہوئے کہہ رہا تھا۔
”حالانکہ تم سے جھگڑنا کوئی زیادہ مناسب بات نہیں ہے اور نہ ہی کوئی بہت خوشگوار قسم کا تجربہ ثابت ہوا ہے میرے لیے۔ میں خود بھی کل را ت اور آج سارا دن خاصا ڈسٹرب رہا ہوں لیکن کبھی کبھی روٹین سے ہٹ کر بھی کوئی کام کرنا چاہیے…کرنا چاہیے نا…؟” وہ اب بڑی سنجیدگی سے اس کی رائے مانگ رہا تھا۔
علیزہ کو کوئی جواب نہیں سوجھا۔ اس نے کندھے اچکا دیئے۔
”باہر چلتے ہیں کھانا کھاتے ہیں، کسی مارکیٹ میں پھرتے ہیں۔ کچھ ونڈو شاپنگ کرتے ہیں۔ اچھا پروگرام ہے؟” وہ کرسی سے کھڑا ہوتے ہوئے بولا۔
وہ چند منٹوں میں اسے اس کے ڈپریشن سے باہر لے آیا تھا۔ وہ کوشش کے باوجود کچھ دیر پہلے کی کیفیات کو محسوس نہیں کر پا رہی تھی۔
”میں کپڑے چینج کر لوں؟” وہ بھی بیڈ سے اٹھ گئی۔
”چھوڑیے جناب ! تکلف نہ کریں…آپ اس طرح زیادہ اچھی لگ رہی ہیں۔” جنید نے اسے روک دیا۔
”اچھا بال بنا لوں۔” اسے تامل ہوا۔
”ضرورت نہیں، بال ٹھیک ہیں۔”
”مجھے منہ تو دھو لینے دیں۔”
”ہاں یہ آپ ضرور کر سکتی ہیں لیکن ساٹھ سیکنڈ سے زیادہ کا وقت نہیں لگنا چاہیے اس میں۔” وہ اپنی گھڑی دیکھتے ہوئے بولا۔
علیزہ کو چہرہ دھوتے واقعتا صرف ایک منٹ لگا۔ برق رفتاری سے چہرے پر پانی کے چھپاکے مارتی، وہ ایک منٹ میں واش روم سے باہر تھی۔
جنید نے اسے باہر آتے دیکھ کر اس کا بیگ اٹھا لیا۔ ”بس اب آپ آ جائیں۔ خاصا انتظار کیا میں نے آپ کا!”
علیزہ نے حیرانی سے اس کا چہرہ دیکھا۔” خاصا انتظار؟” وہ بے اختیار مسکرایا۔
رات دس بجے تک وہ دونوں باہر رہے پھر وہ اسے گھر چھوڑنے آیا۔ پورچ میں گاڑی روک کر اس کے اترنے سے پہلے جنید نے کہا۔ ”تم جانتی ہو کسی بھی تعلق کو کیا چیز مضبوط بناتی ہے؟” وہ اس کے سوال پر اس کا منہ دیکھنے لگی، وہ اب بے حد سنجیدہ نظر آرہا تھا۔ کچھ دیر پہلے کے جنید سے بالکل برعکس۔
Sharing” کہ جو چیز پریشان کن بن جائے اسے اس شخص کے ساتھ شیئر کر لیا جائے جس سے آپ کو تھوڑی بہت محبت ہو یا تھوڑا بہت انس ہو یا جو تھوڑا بہت اچھا لگتا ہو۔” وہ مدھم مگر مستحکم آواز میں کہہ رہا تھا۔
”میں تمہیں مجبور نہیں کر سکتا کہ تم ہر بات مجھ سے شیئر کرو۔ شاید کوئی بھی ہر بات دوسرے سے شیئر نہیں کرتا مگر جو بات تم مجھ سے یا کسی دوسرے سے شیئر نہیں کر سکتیں، اسے اپنے ذہن سے نکال دو۔ تمہیں اگر کسی چیز سے تکلیف ہو گی تو مجھے بھی ہو گی۔ اس لیے کسی بھی چیز کو اپنے لیے رستا ہوا ناسور مت بناؤ ، تمہاری زندگی بے کار ہے نہ تمہارے پاس اتنا فالتو وقت ہے کہ تم اسے رونے دھونے میں ضائع کر سکو۔”
وہ دم بخود اسے دیکھتی رہی۔
”مجھے…میرے گھر کو…میری فیملی کو علیزہ سکندر کی بہت ضرورت ہے۔ تم ہمارا حصہ ہو اور تم کو یہ بات ہر وقت یاد ہونی چاہیے۔” وہ بالکل ساکت تھی۔
”تو جو چیز بھی تمہیں آج پریشان کر رہی ہے، اسے اپنے ذہن سے نکال دو۔ کھانا تم کھا چکی ہو۔ اپنے بیڈ روم میں جاؤ۔ صبح کے لیے کپڑے نکال لو، ٹی وی دیکھ لو کچھ دیر یا پھر کوئی کتاب پڑھو۔ آفس کا کوئی کام ہو تو وہ کرو اور اس کے بعد اطمینان سے سو جاؤ۔ بغیر روئے دھوئے ۔ خدا حافظ۔”
وہ اپنی بات کے اختتام پر مسکرایا، وہ مسکرا نہیں سکی۔ گاڑی کا دروازہ کھول کر وہ نیچے اتر آئی۔ لاؤنج کا دروازہ کھولتے ہوئے اس نے پلٹ کر اسے دیکھا، وہ اس کی طرف متوجہ نہیں تھا بلکہ گاڑی ریورس کر رہا تھا۔ اسے جنید کی ذہانت میں کبھی بھی کوئی شبہ نہیں رہا تھا لیکن آج…
”تو وہ جانتا تھا کہ اس سے ہونے والا جھگڑا نہیں کوئی اور بات مجھے پریشان کر رہی تھی اور ۔۔۔” اس نے اندر جاتے ہوئے سوچا۔ کسی معمول کی طرح وہ اپنے کمرے میں گئی اور لاشعوری طور پر جنید کی ہدایات پر عمل کرتی چلی گئی۔ ایک گھنٹہ کے بعد غنودگی کے عالم میں اس نے سوچا۔۔۔”اور میرا خیال تھا میں آج رات سو نہیں پاؤں گی۔”
٭٭٭
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔