Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 60

امربیل از عمیرہاحمد
۔۔۔۔
قسط نمبر 60 (2nd last)
۔۔۔۔۔
باب نمبر 54
Ten
9:10am
عمر نے ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑے ہو کر بالوں میں برش کیا اس نے کل رات کو بال کٹوائے تھے۔ پولس فورس میں آنے سے پہلے تک وہ سال میں کئی بار ہیر سٹائل تبدیل کرنے کا شوقین تھا۔ دس سال پہلے سول سروس جوائن کرنے کے بعد اگرچہ یہ شوق کچھ کم ہو گیا مگر ختم نہیں ہوا۔ سول سروس میں وہ جس حد تک ہیر کٹ کے بارے میں آزاد روی کا مظاہرہ کر سکتا تھا اس نے کیا مگر پولیس سروس میں آکر یہ شوق یکدم ختم ہو گیا۔ وہ پچھلے کئی سالوں سے معمولی سی تبدیلیوں کے ساتھ کریوکٹ کو ہی اپنائے ہوئے تھا۔
کل رات بھی اس نے بالوں کو اسی انداز میں ترشوایا تھا، دو چار بار بالوں میں برش کرنے کے بعد اس نے برش ڈریسنگ ٹیبل پر رکھ دیا اور پرفیوم اٹھا کر اپنے اوپرسپرے کرنے لگا۔ سپرے کرتے ہوئے اپنی گردن پر نظر آنے والے چند سرخ نشانات نے اس کی توجہ اپنی طرف مبذول کرلی۔
پرفیوم ڈریسنگ ٹیبل پر رکھتے ہوئے اس نے گردن اوپر کرکے اپنے کالر کو کچھ کھولتے ہوئے ان نشانات کو دیکھا۔ کل شام کو گالف کھیلتے ہوئے اسے اس جگہ پر اچانک جلن اور خارش ہوئی تھی یقیناً کسی کیڑے نے اسے کاٹا تھا رات کی نسبت وہ اب کچھ معدوم ہونے لگے تھے۔ اس نے کچھ مطمئن ہوتے ہوئے اپنے کالر کو ایک بار پھر درست کیا پھر پلٹ کر اپنے بیڈ کی طرف گیا اور بیڈ سائیڈ ٹیبل پر پڑی ہوئی رسٹ واچ اٹھا کر اپنی کلائی پر باندھنے لگا۔ رسٹ واچ باندھنے کے بعد اس نے بیڈ سائیڈ ٹیبل پر پڑا ہوا اپنا موبائل سگریٹ کیس اور لائٹر اٹھایا۔
ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے آکر اس نے ان چیزوں کو ٹیبل پر رکھا اور سٹینڈ پر لٹکی کیپ اتار کر پہننے لگا۔ کیپ پہن کر اس نے ایک آخری نظر آئینے میں اپنے اوپر ڈالی پھر مطمئن ہوتے ہوئے اس نے ایک بار پھر موبائل، سگریٹ کیس اور لائٹر کو اٹھا لیا پھر جیسے اسے کچھ یاد آیا وہ واپس سائیڈ ٹیبل کی طرف گیا۔ اس بار اس نے دراز کھول کر اس کے اندر موجود والٹ نکالا اور اسے اپنی جیب میں ڈال لیا۔ اس کے بعد اس کی نظر اس کتاب پر پڑی جسے وہ رات کو سونے سے پہلے پڑھ رہا تھا۔ کتاب کو اس نے اوندھا کرکے کھلی حالت میں بیڈ سائیڈ ٹیبل پر رکھا ہوا تھا۔
اسے حیرت ہوئی، وہ عام طور پر کتابیں کبھی بھی اس طرح نہیں رکھتا تھا۔ پھر اسے یاد آیا رات کو وہ یہ کتاب پڑھ رہا تھا جب جوڈتھ کی کال آئی تھی۔ اس نے فون پر اس سے بات کرتے کرتے کچھ بے دھیانی کے عالم میں کتاب کو بک مارک رکھ کر بند کرنے کے بجائے اسی طرح سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیا۔ وہ جوڈتھ سے بات ختم کرنے کے بعد دوبارہ اس کتاب کو پڑھنا چاہ رہا تھا مگر جوڈتھ سے اس کی بات بہت لمبی ہو گئی اور اس نے جس وقت فون بند کیا۔ اس وقت عمر کو نیند آنے لگی تھی۔ وہ کتاب کی طرف متوجہ ہوئے بغیر ہی سو گیا تھا۔
اس نے کتاب اٹھائی اور سائیڈ ٹیبل پر رکھا ہوا بک مارک اٹھا کر اس کے اندر رکھا پھر اسے بند کر دیا۔ کتاب کو واپس سائیڈ ٹیبل پر رکھنے کے بجائے وہ کتابوں کے اس شیلف کی طرف بڑھ گیا اس نے کتاب کو اس شیلف میں رکھ دیا۔ اگلے کچھ دن اسے اتنے کام کرنے تھے کہ اسے توقع نہیں تھی کہ وہ اس کتاب کو پڑھنے کے لیے اب وقت نکال سکے گا۔ کچھ دنوں تک اپنے کام نمٹانے کے بعد اسے اپنا سامان پیک کروانا تھا اور پھر اسے لاہور بھجوا دینا تھا اور اس کے بعد اسے لاہور سے امریکہ جانے کی تیاریوں میں مصروف ہو جانا تھا۔
اس کتاب کو وہ اب شاید امریکہ جا کر ہی پڑھنے کی فرصت نکال پاتا۔ وہ بھی اس صورت میں اگر وہ اس کے ذہن میں رہتی اور وہ اسے امریکہ ساتھ لے جاتا ورنہ اگلے کچھ سالوں تک وہ کتابیں گرینی کی انیکس میں ہی پڑی رہنی تھیں۔ وہ امریکہ جانے سے پہلے اپنے سامان کو ایک بار پھر وہیں رکھوانا چاہتا تھا۔ وہ سوچ رہا تھا اس نے جوڈتھ کو رات کو اپنی امریکہ واپسی کے بارے میں بتا دیا تھا۔ وہ بے اختیار چلائی تھی۔
”تو بالآخر تم واپس آرہے ہو؟”
”ہاں بالآخر۔” عمر اس کے جوش و خروش پر مسکرایا۔
”کب تک رہو گے یہاں؟”
”اس مہینے کے آخر تک۔” کمرے کے دروازے کی طرف بڑھتے ہوئے اسے رات کو جوڈتھ ہونے والی اپنی گفتگو یاد آنے لگی۔
٭٭٭
Nine
9:20am
اسے اپنے کمرے سے نمودار ہوتے دیکھ کر ملازم تیزی سے اس کے کمرے کی طرف چلا آیا۔ عمر کے پاس آکر اس نے مؤدب انداز میں اسے سلام کیا عمر نے گردن کو ہلکا سا خم دیتے ہوئے اس کے سلام کا جواب دیا اور پھر سیدھا ڈائننگ ٹیبل کی طرف بڑھ گیا جبکہ ملازم میکانکی انداز میں اس کے بیڈ روم کی طرف چلا گیا۔
یہ روزانہ کا معمول تھا عمر کو اپنے کمرے سے باہر آتا دیکھتے ہی ملاز م اس کے بیڈ روم میں چلا جاتا اور پھر وہاں پڑا ہوا عمر کا بریف کیس اور اسٹک اٹھا کر اس کی گاڑی میں جا کر رکھ آتا۔
عمر عام طور پر نو بجے تک گھر سے نکل جاتا تھا مگر آج وہ قدرے لیٹ تھا۔ ڈائننگ ٹیبل کے پاس کھڑے دوسرے ملازم نے بھی اسے دیکھ کر سلام کیا اور پھر اس کے لیے کرسی کھینچنے لگا۔ ناشتہ پہلے ہی ڈائننگ ٹیبل پر موجود تھا۔ عمر نے اپنے ہاتھ میں پکڑی چیزیں ٹیبل پر رکھیں اور پھر کرسی پر بیٹھنے کے بعد اپنی کیپ بھی اتار کر ٹیبل پر رکھ دی۔
ملازم جان چکا تھا، وہ آج ناشتہ کرنے میں کچھ وقت لگائے گا۔ عام طور پر وہ جب بھی کیپ نہیں اتارتا تھا وہ زیادہ سے زیادہ ایک سلائس چائے کے ایک کپ کے ساتھ کھاتا اور پانچ منٹ کے اندر ناشتہ کی ٹیبل سے اٹھ جاتا اور جب وہ اپنی کیپ اتار دیتا، اس دن وہ ناشتے میں کسی نہ کسی چیز کی فرمائش ضرور کرتا اور اکثر پندرہ بیس منٹ لگا دیتا۔
”سر! آفس سے فون آیا ہے۔” ملازم نے اس کے لیے چائے انڈیلتے ہوئے اسے اطلاع دینا ضروری سمجھا۔
”کس لیے؟” عمر نے بھنویں اچکاتے ہوئے پوچھا۔
”آپ کے بارے میں پوچھ رہے تھے، میں نے انہیں بتا دیا کہ آپ آج کچھ دیر سے آئیں گے۔” ملازم نے کہا۔
”کوئی ایمرجنسی تو نہیں تھی؟”
”نہیں سر! وہ ایسے ہی روٹین میں اپ کے بارے میں پوچھ رہے تھے۔” عمر نے چائے کا کپ اٹھاتے ہوئے سر ہلایا۔
”آج آملیٹ بنواؤ، فرائیڈ ایگ نہیں لوں گا۔” عمر نے ٹیبل پر ایک نظر ڈالتے ہوئے کہا۔
”جی سر۔” ملازم مستعدی سے ڈائننگ روم سے نکل گیا۔
عمر اس وقت چائے کا دوسرا کپ پی رہا تھا جب ملازم آملیٹ کی پلیٹ لیے ڈائننگ روم میں داخل ہوا۔
”شکل تو خاصی اچھی لگ رہی ہے غفور!” عمر نے پلیٹ میں موجود مشروم والے آملیٹ پر ایک نظر ڈالتے ہوئے مسکرا کر کہا۔
”انشاء اللہ تعالیٰ آپ کو ذائقہ بھی اچھا لگے گا سر۔” ملازم نے اس کے تبصرے کے جواب میں کہا اور سلائس والی پلیٹ اس کی طرف بڑھائی۔
”نہیں سلائس نہیں لوں گا۔ صرف آملیٹ ہی کھاؤں گا۔”
عمر نے اسے روک دیا۔ وہ اب چھری کانٹے کی مدد سے آملیٹ کے ٹکڑے کرنے میں مصروف تھا۔
”رات کو کیک کسٹرڈ اچھا بنا تھا۔ اگر ہے تو لے آؤ۔” اس نے مزید ہدایت دی۔
”جی سر۔” ملازم ایک بار پھر وہاں سے چلا گیا۔
جب وہ پیالہ لے کر وہاں آیا تو عمر آملیٹ کھانے میں مصروف تھا۔
”یہ واقعی ذائقے میں بھی اچھا ہے غفور! تمہارے کھانے دن بہ دن اچھے ہوتے جارہے ہیں۔”
عمر نے اسے دیکھ کر کچھ بے تکلفی سے کہا۔ غفور کا چہرہ اپنی تعریف پر چمکنے لگا تھا۔ عمر تعریف میں کبھی کنجوسی نہیں کرتا تھا۔ اس نے اب تک جتنے آفیسرز کے لیے کام کیا تھا اس میں اسے سب سے زیادہ عمر جہانگیر ہی پسند آیا تھا۔ وہ اگرچہ دوسرے آفیسر کی طرح ہی ریزرو رہتا تھا مگر وہ تعریف کرتے ہوئے ، کوئی تکلف نہیں برتتا تھا۔ وہ ویسے بھی خاصے کھلے دل اور جیب کا مالک تھا۔ اکثر اوقات اسے اور دوسرے ملازمین کو کچھ نہ کچھ دیتا رہتا تھا، ملازمین کی چھوٹی موٹی سفارشیں بھی مان لیتا تھا، یہ سب چیزیں بہت سے دوسرے آفیسرز میں بھی تھیں مگر غفور کو وہ اس لیے پسند تھا کیونکہ وہ غصے میں بھی ان کی تذلیل کرنے کا عادی نہیں تھا۔ وہ غلطی کرنے پر جھڑکنے میں تامل نہیں کرتا تھا مگر یہ ڈانٹ ڈپٹ ایسی نہیں ہوتی تھی کہ ان لوگوں کو تذلیل کا احساس ہوتا۔
”سر! رات کے لیے کیا بناؤں؟” غفور نے اس سے پوچھا۔
”جو چاہے بنا لو ، اب تو چند دن مہمان ہیں تمہارے تم جو چاہو کھلاؤ مگر رات کو تو شاید میں کھانے پر نہ آ سکوں۔ بہت دیر سے آؤں گا اور کھانا کھا…مگر عین ممکن ہے کہ آ ہی نہ سکوں مجھے کہیں ادھر ادھر جانا پڑے۔” عمر نے واش بیسن کی طرف جاتے ہوئے کہا۔
”کوئی بات نہیں سر…میں پھر بھی کھانا بنا لوں گا۔ ہو سکتا ہے آپ آ ہی جائیں۔”
غور نے اس کے پیچھے لپکتے ہوئے کہا۔ وہ اب واش بیسن میں کلی کر رہا تھا۔ غفور کی بات کے جواب میں کچھ بھی کہنے کے بجائے وہ خاموش رہا،غفور اب ٹاول سٹینڈ سے ٹاول اتار کر اسے دے رہا تھا۔ عمر ہاتھ خشک کرنے کے بعد دوبارہ ٹیبل کی طرف چلا گیا اور کیپ اٹھا کر پہننے لگا۔ غفور نے مستعدی سے موبائل ، سگریٹ کیس اور لائٹر ٹیبل سے اٹھا کر عمر کی طرف بڑھا دیا۔ عمران چیزوں کو ہاتھ میں لیتے ہوئے بیرونی دروازے کی طرف بڑھ گیا۔ غفور اس سے پہلے دروازے پر پہنچ چکا تھا۔ دروازے کے پاس موجود قد آدم آئینے کے پاس پہنچ کر عمر ایک بار رکا اور اس نے اپنی کیپ پر نظر ڈالی پھر مطمئن ہو کر اس نے دروازے سے باہر قدم رکھ دیا جسے غفور اب کھول چکا تھا۔
”خدا حافظ سر۔” عمر نے اپنی پشت پرروز کی طرح غفور کی آواز سنی۔
٭٭٭
Eight
9:30am
گاڑی کے پاس کھڑے گارڈز نے عمر کو دیکھ کر سیلوٹ کیا، ڈرائیور اب تک فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھول چکا تھا۔ عمر نے اپنے ہاتھ میں پکڑی چیزیں ڈیش بورڈ پر رکھیں اور خود اندر بیٹھ گیا۔ ڈرائیور نے اس کے اندر بیٹھنے کے بعد دروازہ بند کر دیا۔ دونوں گارڈز بھی جیپ کی پچھلی نشست پر بیٹھ گئے۔ دور گیٹ پر موجود گارڈ اب گیٹ کھول رہا تھا۔ وہ عمر کو باہر نکلتے اور گاڑی میں بیٹھتے دیکھ چکا تھا۔ ڈرائیور اب اپنی سیٹ پر بیٹھ کر گاڑی سٹارٹ کرنے لگا۔
گیٹ پر موجود گارڈز بہت مستعدی کے عالم میں کھڑے تھے۔ عمر کی گاڑی پاس سے گزرنے پر انہوں نے عمر کو سیلوٹ کیا عمر نے گلوز کمپارٹمنٹ کھول کر اندر موجود اپنے سن گلاسز نکالے اور انہیں آنکھوں پر چڑھا لیا۔ گیٹ کے باہر موجود پولیس کی ایک اور موبائل نے عمر کی گاڑی کے باہر آنے کے بعد اس کے پیچھے بھاگنا شروع کر دیا۔ وہ عمر کی گاڑی کو escort (حفاظت ) کر رہی تھی۔
سڑک پر اس وقت خاصی ٹریفک تھی۔ عمر نے اپنی گھڑی پر ایک نظر ڈالی، وہ جانتا تھا دس منٹ کے اندر وہ اپنے آفس میں ہوگا۔ اس کے گھر سے اس کے آفس کا فاصلہ صرف دس منٹ کا تھا۔
وہ تنقیدی نظروں سے سڑک پر چلنے والی ٹریفک کو دیکھتا رہا۔ اکثر گاڑیوں کے ڈرائیور اس کے لیے راستے چھوڑ رہے تھے۔ اسے سڑک پر بجتے ہوئے ہارن کی آواز سے بے حد کوفت ہوتی تھی اور اس وقت سڑک پر بے تحاشا ہارن بج رہے تھے، اس کی اپنی گاڑی کا ڈرائیور چاہتے ہوئے بھی ہارن نہیں بجا رہا تھا۔ عمر جہانگیر کی موجودگی میں کم از کم وہ یہ جرأت نہیں کر سکتا تھا۔ اسے آج بھی اچھی طرح یاد تھا جب تقریباً دو سال پہلے عمر نے وہاں جوائننگ لی تھی۔ اس کے ساتھ پہلے ہی سفر میں اس نے حسب عادت سڑک پر آتے ہی ہارن دیا تھا۔ عمر نے اسے گھور کر دیکھا تھا۔
”دوبارہ ہارن مت دینا۔ کم از کم جب تک میری گاڑی ڈرائیو کر رہے ہو، یہ بھول جانا کہ گاڑی میں ہارن نام کی کوئی چیز ہے یا تو گاڑی اتنی تیز اور اچھی چلاؤ کہ ہر طرح کی ٹریفک سے نکل جاؤ یا پھر انتظار کرو پولیس کی گاڑی دیکھ کر لوگ خود ہی کچھ دیر میں راستہ صاف کر دیں گے اور اگر یہ دونوں چیزیں نہیں ہوتیں تو انتظار کرو کبھی نہ کبھی تو راستہ ملے گا مگر یہ ہارن دوبارہ استعمال نہیں ہونا چاہیے، ورنہ میں تمہیں اور ہارن دونوں کو گاڑی سے نکال کر پھینک دوں گا۔”
ڈرائیور نے اس کے بعد واقعی کبھی ہارن کا استعمال نہیں کیا تھا۔ پتہ نہیں کیوں اسے یہ یقین تھا کہ عمر واقعی ایسا ہی کرے گا، وہ دوسری بار اسے وارننگ نہیں دے گا۔
اپنے آفس کے راستے میں آنے والے واحد چوک پر کھڑے ٹریفک کانسٹیبل نے عمر کی گاڑی پاس سے گزرنے پر اسے سیلوٹ کیا۔
”جبار! آج میری کار کو سروس کے لیے جانا۔”
عمر نے اچانک ڈرائیور کو مخاطب کیا۔ وہ اپنی ذاتی گاڑی کی بات کر رہا تھا۔
”ٹھیک ہے سر کس وقت؟” ڈرائیور نے مستعدی سے کہا۔
”میں کچہری میں جب ایک دو گھنٹوں کے لیے جاؤں گا، اس وقت تم گاڑی لے جانا مگر زیادہ سے زیادہ دو گھنٹوں میں تمہیں واپس ہونا چاہیے۔ اگر گاڑی کا کوئی لمبا چوڑا کام نکل آیا تو پھر تم اسے وہیں چھوڑ دینا اور خود آ جانا کیونکہ آج مجھے خاصی جگہوں پر جانا ہے۔” عمر نے اسے مزید ہدایات دیں۔
”ٹھیک ہے سر میں دو گھنٹوں سے پہلے ہی واپس آجاؤں گا۔”
”درزی سے میرے کپڑے لے آئے؟” عمر کو اچانک یاد آیا۔ اس نے چند دن پہلے دو شلوار قمیص سلوانے کے لیے بھجوائے تھے۔
”یس سر وہ تو میں کل شام کو لے آیا تھا۔ ابھی گاڑی میں ہی پیچھے پڑے ہیں۔ مجھے یاد نہیں رہا گھر میں دینا میں کچھ ایمرجنسی میں کل شام کو جلدی چلا گیا تھا۔” ڈرائیور نے قدرے معذرت خواہانہ انداز میں کہا۔
”ہاں کیسی ہے تمہاری بیوی اب؟” عمر کو اس کی ایمرجنسی کی بات سن کر یاد آیا۔
”اب تو بہتر ہے سر ہڈی تو بچ گئی مگر چوٹ خاصی آئی ہے۔ مجھے تو کل بڑی بھاگ دوڑ کرنی پڑی اس کے لیے۔”
”ہاسپٹل میں ہے؟”
”نہیں سر! گھر لے آیا تھا میں رات کو…ہاسپٹل میں رکھنے کی ضرورت نہیں تھی۔”
”یہ کون سی بیوی ہے پہلی یا دوسری؟” عمر جانتا تھا جبار کی دو بیویاں تھیں، دوسری شادی اس نے چھ ماہ پہلے ہی کی تھی۔
”سر! دوسری والی۔ ” جبار نے جواب دیا۔
”ہاں مجھے پہلے ہی اندازہ تھا۔ یہ دوسری بیوی ہی ہو سکتی تھی جس کے لیے تم اس طرح بھاگے بھاگے جا سکتے تھے۔”
عمر نے تبصرہ کیا۔ بیک ویومرر میں اس نے پیچھے بیٹھے ہوئے گارڈز کو آپس میں معنی خیز مسکراہٹوں کا تبادلہ کرتے دیکھا۔ جبار عمر کی بات پر کچھ جھینپ گیا۔
”نہیں ایسی بات نہیں ہے سر جی…میں تو پہلی کا بھی بہت خیال رکھتا ہوں۔” جبار نے عمر کے تبصرے کے جواب میں کہا۔
”یہ قابل یقین بات تو نہیں ہے مگر چلو یقین کر لیتا ہوں۔” عمر نے قدرے شگفتگی سے کہا۔
وہ اب ایک بار پھر سڑک پر نظر آنے والی ٹریفک کی طرف متوجہ ہو چکا تھا۔ گاڑی اب اس کے آفس کے قریب ہو گئی تھی۔ چند منٹوں کے بعد گاڑی اس کے دفتر کے کمپاؤنڈ میں داخل ہو رہی تھی۔ آفس کے اندر اور باہر اس کے عملے میں روٹین کی ہلچل نظر آنے لگی۔
٭٭٭
Seven
9:40am
عمر آفس میں پہنچ کر معمول کے کاموں میں مصروف ہو گیا۔ اس کا پی اے اس کے سامنے ٹیبل کے دوسرے طرف کھڑا تھا۔
” سر ڈی سی صاحب کی کال آئی تھی ، آپ کے آنے سے چند منٹ پہلے، انہوں نے کہا ہے کہ آپ آفس آئیں تو ان سے بات کروا دوں۔”
”کوئی ایمرجنسی ہے؟”
”نہیں سر! میرا خیال ہے۔ کوئی ایمرجنسی نہیں ہے۔ وہ شاید کسی معاملے میں آپ سے بات کرنا چاہتے ہوں گے۔ میں نے ان کے پی اے سے اس بارے میں پوچھا تھا مگر خود اسے بھی کوئی اندازہ نہیں تھا مگر اس نے یہ ضرور بتایا کہ کوئی ایمرجنسی نہیں ہے۔” پی اے نے اپنی رائے ظاہر کی۔
”کوئی اور کال آئی؟”
”نو سر…بس ان ہی کی کال تھی۔”
”میں ان سے کچھ دیر بعد بات کروں گا۔ تم فی الحال ڈکٹیشن کے لیے بیٹھ جاؤ۔” عمر نے اس سے کہا۔
”یس سر۔” پی اے مستعدی سے بیٹھ گیا۔ وہ اس فائل کو دیکھتے ہوئے اسے ڈکٹیشن دینے لگا۔ یکے بعد دیگرے اس نے ٹیبل پر پڑی ہوئی دو تین اور فائلز کو بھی دیکھا اور ان کے بارے میں بھی اسے ڈکٹیشن دی۔ وہ ساتھ ساتھ کچھ اور فائلز پر نوٹ لکھنے میں بھی مصروف تھا۔
تقریباً ایک گھنٹہ کے بعد وہ آخری ڈکٹیشن دے کر ایک گہری سانس لیتا ہوا خاموش ہو گیا۔
”یہ بس اب میری آخری ڈکٹیشن ہے۔ کل میں شاید آفس نہ آؤں اور اگر آیا بھی تو زیادہ دیر کے لیے نہیں آؤں گا۔” عمر نے اس سے کہا۔
”میرا خیال ہے دو تین دن تک سعود ہمدانی یہاں پہنچ ہی جائیں گے، ابھی اپنے کچھ کام نپٹا رہے ہیں ورنہ شاید اب تک پہنچ ہی گئے ہوتے۔” اس نے آنے والے ایس پی کا نام لیا۔
”اب میں مزید کوئی فائلز نہیں دیکھوں گا۔ سعود ہمدانی ہی آکر دیکھیں گے۔ خاص طور پر ان کیسز کی فائلز…انہیں اچھی طرح سٹڈی کی ضرورت ہے اس لیے میں انہیں چھوڑ رہا ہوں اب ان دو تین دنوں میں میرے کچھ وزٹس ارینج کر دو۔”
عمر نے کچھ جگہوں کے نام لیتے ہوئے کہا۔ پی اے اپنی نوٹ بک میں نوٹس لیتے ہوئے ”یس سر” کی تکرار کرتا گیا۔
٭٭٭
Six
10:50am
میز پر پڑا فون اچانک بجنے لگا۔ عمر نے گفتگو کا سلسلہ منقطع کرتے ہوئے ریسیور اٹھا لیا۔
”سر! ڈی سی صاحب کی کال ہے۔” آپریٹر نے اسے بتایا۔
”بات کرواؤ۔” عمر نے سامنے وال کلاک پر نظر ڈالتے ہوئے کہا۔
”ٹھیک ہے، اب تم جاؤ۔” اس نے ریسیور کان سے لگائے ہوئے پی اے سے کہا۔ وہ کمرے سے نکل گیا۔ چند لمحوں کے بعد عمر کو ریسیور میں سید سلطان شاہ کی آواز سنائی دی۔
”میں ابھی کچھ دیر پہلے ہی آفس آیا ہوں۔ آپ کو کال کرنے ہی والا تھا۔” عمر نے رسمی سلام دعا کے بعد قدرے معذرت خواہانہ انداز میں کہا۔
”کوئی بات نہیں اب تو میں نے کر ہی لی ہے۔” سید سلطان نے دوستانہ انداز میں کہا۔
”آج رات کو کیا کررہے ہو؟”
”رات کو…کچھ خاص نہیں شاید پھر آفس میں ہی ہوں گا…یا پھر کہیں پٹرولنگ پر۔”
”تو بس ٹھیک ہے پھر تم رات کا کھانا ہمارے ساتھ کھاؤ۔” سید سلطان نے طے کیا۔
”تمہاری آنٹی مجھے پہلے ہی کئی دن سے کہہ رہی ہیں کہ تمہیں کھانے پر انوائیٹ کروں۔ آج تم پھر ہماری طرف آ جاؤ۔ جانے سے پہلے ہمارے ساتھ ڈنر کر لو۔” سید سلطان نے بے تکلفی سے کہا۔
”I’m honoured آپ حکم کریں میں حاضر ہو جاؤں گا۔” عمر نے مسکراتے ہوئے کہا۔ سید سلطان جہانگیر معاذ کے دوستوں میں سے تھے اور چند ماہ پہلے ہی عمر کے شہر میں ان کی پوسٹنگ ہوئی تھی۔
”خیر حکم والی تو کوئی بات نہیں ہے۔ حکم تمہارے باپ کو دیتا ہوں۔ تم باپ کی طرح ڈھیٹ نہیں ہو، میں جانتا ہوں ویسے ہی آجاؤ گے۔”
سید سلطان نے برجستگی سے کہا، عمران کے جملے پر ہنسا۔
”میں آپ کے انویٹیشن کا پہلے ہی انتظار کر رہا تھا۔ چاہتا تھا کہ جانے سے پہلے آنٹی کے ہاتھ کا کھانا ایک بار کھا لوں۔” سید سلطان نے اس کی بات کاٹی۔
”یہ تمہارے اپنے کرتوت ہیں جن کی وجہ سے تم ایک دو بار سے زیادہ ہماری طرف نہیں آئے۔ اب تم کس قدر فارمل ہو کر اپنی حسرتوں کا اظہار کررہے ہو۔جانے سے پہلے آنٹی کے ہاتھ کا کھانا ایک بار کھا لوں۔ ایک بار کیوں دس بار کھاؤ۔ ”وہ اب اسے اپنے مشہور زمانہ انداز میں جھڑک رہے تھے۔
”جی…جی مجھے پتہ ہے۔ میری اپنی کوتاہی ہے۔” عمر نے فوراً کہا۔
”کوئی خاص ڈش بنوانی ہو تو بتا دو…میں تمہاری آنٹی سے کہہ دوں گا۔” سید سلطان نے آفر کی۔
”آنٹی کی ہر ڈش خاص ہوتی ہے۔ میں سب کچھ خوشی سے کھاؤں گا۔”
”ٹھیک ہے، پھر آٹھ بجے ہونا چاہیے تمہیں ہماری طرف۔” سید سلطان نے اسے ہدایت دیتے ہوئے فون بند کر دیا۔
٭٭٭
Five
11:00am
عمر نے سگریٹ کیس سے ایک سگریٹ نکال کر سلگایا۔ وہ اس وقت اپنے آفس میں بالکل اکیلا تھا۔ سگریٹ کے کش لگاتے ہوئے وہ ان مقامی اخبارات پر ایک نظر ڈالنے لگا جو اس کی میز پر پڑے تھے۔ اس کے عملے نے اہم یا پولیس سے متعلقہ خبروں کو ہائی لائٹ کیا ہوا تھا۔ اس وجہ سے اسے تمام اخبارات کا تفصیلی مطالعہ کرنا نہیں پڑتا تھا۔ وہ بڑے قومی اخبارات کامطالعہ آفس میں صبح آتے ہی کیا کرتا تھا جبکہ لوکل اخبارات کی باری دوپہر کے قریب آتی تھی۔
اس وقت بھی ان اخبارات کو دیکھتے ہوئے اسے اپنے بارے میں چند سرخیاں نظر آئیں اس کے پوسٹ آؤٹ ہونے کے حوالے سے چند خبریں لگائی گئی تھیں اور پھر ایک مقامی کالم نویس نے اس کی پوسٹنگ کے دوران اس کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے اس کی شان میں زمین و آسمان کے قلابے بھی ملائے تھے۔ وہ مسکراتے ہوئے کالم کو پڑھتا رہا۔ وہ کالم نویس ہر جانے والے افسر کی تعریف میں اس وقت تک زمین آسمان ایک کیے رکھتا تھا جب تک کہ نیا افسر نہ پہنچ جاتا اور نئے افسر کی آمد کے ساتھ ہی وہ کالم نویس پچھلے افسر کی برائیوں کی تفصیلات اور آنے والے کے قصیدے اکٹھے ہی پڑھنا شروع کر دیتا۔
اس وقت بھی اس کالم کو پڑھتے ہوئے اسے اس شخص کے جھوٹ اور چاپلوسی کی انتہا پر حیرانی ہو رہی تھی۔ اس نے وہ کام بھی اس کے کھاتے ہی ڈالنے کی کوشش کی تھی، جو اس نے وہاں اس شہر میں تو کیا کسی دوسرے شہر کی پوسٹنگ میں بھی کبھی نہیں کیے تھے۔ وہ کالم نویس قصیدہ خوانی میں کمال مہارت رکھتا تھا یا پھر وہ کالم بھی اس کے عملے میں سے کسی کی کاوش تھی۔ صاحب کو جاتے جاتے خوش کرنے کی ایک کوشش۔
وہ کچھ محظوظ ہو کر سگریٹ کے کش لگاتے ہوئے وہ کالم پڑھتا رہا۔
کالم پڑھنے کے بعد اس نے دوسری خبروں پر نظریں دوڑانا شروع کر دیں۔ ایک خبر بار کی طرف سے اس کے اعزاز میں الوداعی دعوت کی تھی۔ ایک اور دعوت چیمبر آف کامرس کی طرف سے دی جا رہی تھی۔ اسے وکیلوں اور کاروباری افراد سے جتنی چڑ تھی کسی اور سے نہیں تھی مگر پولیس سروس میں اسے سب سے زیادہ سابقہ ان ہی دو طبقات سے پڑتا تھا۔
دس منٹ میں ان اخبارات کا جائزہ لینے کے بعد اس نے انہیں واپس ٹیبل پر رکھ دیا۔ اپنے چپڑاسی کو بلوا کر اس نے گاڑی تیارکروانے کے لیے کہا۔ اسے اب کچہری جانا تھا۔
اپنے آفس سے نکل کر وہ باہر جانے کے بجائے پولیس سٹیشن کا راؤنڈ لینے لگا۔ ہمیشہ کی طرح اسے اس دن بھی بہت سی چیزوں کی طرف اپنے عملے کی توجہ مبذول کروانی پڑی کچھ کے یونیفارم کی حالت اتنی ہی خستہ تھی جتنی ہمیشہ ہوتی تھی۔
دس منٹ میں اس نے اپنا راؤنڈ مکمل کیا اور باہر کمپاؤنڈ میں نکل آیا۔ اس کے گاڑی میں سوار ہونے کے بعد ایک بار پھر گارڈز اور ڈرائیور نے اپنی نشست سنبھال لی تھی اس کے آفس سے کچہری تک کا فاصلہ پندرہ منٹ میں طے ہوتا تھا۔
٭٭٭
Four
11:35am
کچہری میں موجود اپنے آفس میں پہنچ کر اس نے وہاں موجود کاموں کو نپٹانا شروع کر دیا۔ ملاقاتیوں کی ایک لمبی لائن تھی جسے وہاں بھگتانا تھا اور ہر ایک کا مسئلہ ایک سے بڑھ کر ایک تھا۔ پولیس سروس میں آکر اس کی پنجابی میں جتنی روانی آئی تھی، وہ پہلے کبھی نہیں آ سکتی تھی۔ فارن سروس کا جہاں اور جہاں تھا، پولیس سروس کی دنیا اور دنیا تھی۔ مقامی زبان سے ناواقفیت بڑے سے بڑے افسر کو بھی بعض دفعہ بری طرح ڈبویا کرتی تھی۔ عمر نے پولیس سروس میں آنے کے بعد بہت جلدی اس زبان کا اس طرح کا استعمال سیکھ لیا تھا جس طرح کے استعمال کی ضرورت تھی باقی کی فصاحت و بلاغت اس کے ماتحت عملے نے اسے سکھا دی تھی۔
وہاں اس سے ملنے والوں میں زیادہ تعداد دیہاتیوں یا عام شہریوں کی تھی۔ وہ وہاں بیٹھنے کے اوقات میں ہمیشہ بڑی تیزی اور مستعدی سے ملاقاتیوں کو بھگتایا کرتا تھا۔ اس کے باوجود وہ جب وہاں سے اٹھتا۔ آفس کے باہر کوریڈور میں موجود ملاقاتیوں کی تعداداتنی ہی ہوتی۔
آج بھی وہ اسی پھرتی اور مستعدی سے درخواستوں پر احکامات جاری کر رہا تھا۔
٭٭٭
Three
12:40pm
اس کے موبائل کی بیپ بج رہی تھی سامنے بیٹھے ہوئے ملاقاتی سے بات کرتے کرتے اس نے میز پر پڑا ہوا موبائل ہاتھ میں لے کر کالر کا نمبر دیکھا۔ وہ جنید تھا۔ اس نے کال ریسیو کی۔
”ہیلو جنید کیسے ہو؟” اس نے جنید کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔
”فائن۔” دوسری طرف سے جنید نے مختصر جواب دیا۔ عمر کو حیرت ہو رہی تھی۔ جنید عام طور پر دن کے اوقات میں اسے آفس میں فون نہیں کرتا تھا اور وہ بھی کام کے دوران ۔ وہ رات کو اسے فون کیا کرتا تھا یا پھر شام کو۔
”اس وقت کیسے کال کر لیا تم نے؟” عمر پوچھے بغیر نہیں رہ سکا۔
”تم لاہور کب آرہے ہو؟” جنید نے اس کے سوال کا جواب دیئے بغیر کہا۔
”بس دو تین دن میں ، کیوں کوئی پرابلم تو نہیں ہے؟” عمر کو اچانک تشویش ہوئی۔
”نہیں کوئی پرابلم نہیں ہے، میں تم سے کچھ بات کرنا چاہتا ہوں۔” دوسری طرف سے اس نے کہا۔
”پھر تم رات کو مجھے کال کر لو یا پھر میں تمہیں کال کر لیتا ہوں۔”
”نہیں میں فون پر بات نہیں کرنا چاہتا۔” اس بار جنید کے انداز نے اسے کچھ چونکایا۔
”پھر؟”
”آمنے سامنے بات کرنا چاہتا ہوں۔”
”خیر تو ہے۔”
”ہاں خیر ہی ہے۔”
”کس چیز کے بارے میں بات کرنا چاہتے ہو؟”
”بہت ساری چیزیں…یہ جب تم لاہور پہنچو گے تب ہی بتاؤں گا۔”
”اتنا پراسرار بننے کی کیا ضرورت ہے۔ صاف صاف بات کرو یار۔”
”تم لاہور پہنچ جاؤ پھر کافی صاف صاف باتیں ہوں گی۔” عمر ایک لحظہ کے لیے خاموش رہا۔
”علیزہ ٹھیک ہے؟” اس نے پتہ نہیں کیا جاننے کی کوشش کی۔
”ہاں بالکل ٹھیک ہے۔”
”شادی کی تیاریاں کیسی چل رہی ہیں؟”
”وہ بھی ٹھیک چل رہی ہیں۔”
عمر کو کچھ اطمینان ہوا۔ کم از کم اس بار علیزہ اور اس کے درمیان کوئی گڑبڑ نہیں تھی، ہو سکتا تھا کوئی اور معاملہ ہو۔
”میں دو تین دن تک فارغ ہو کر لاہور آجاؤں گا۔ پھر اطمینان سے تم سے بات چیت ہو گی۔” عمر نے اس سے کہا۔
”میں صرف تمہاری واپسی کے بارے میں ہی جاننا چاہتا تھا۔”
”اچھا پھر میں کروں گا تمہیں رات کو کال۔ کچھ گپ شپ رہے گی ابھی آفس میں ہوں۔” عمر نے خدا حافظ کہتے ہوئے فون بند کر دیا۔
٭٭٭
Two
1:20pm
”میں چائے پینے آیا ہوں آپ کے ساتھ۔” سامنے کرسی پر بیٹھے ہوئے سیشن جج رضوان قریشی نے عمر سے کہا۔ وہ ابھی کچھ دیر پہلے ہی اس کے کمرے میں آیا تھا۔ اس کا آفس عمر کے آفس سے کچھ فاصلے پر تھا اور وہ وقتاً فوقتاً عمر کے دفتر میں آتا جاتا رہتا۔ دونوں چائے اکثر ساتھ ہی پیتے۔
عمر نے اس کی بات کے جواب میں کچھ کہنے کے بجائے گھنٹی بجا کر اردلی کو بلوایا اور چائے لانے کے لیے کہا۔
”چلیں آج آخری بار آپ کو چائے پلوا دیتے ہیں۔ اس کے بعد تو پھر موقع نہیں آئے گا۔” عمر نے اردلی کے جانے کے بعد رضوان قریشی سے کہا۔
”کیوں ابھی تو آپ چند دن اور ہیں یہاں۔”
”ہاں مگر یہاں کچہری میں آج میرا آخری دن ہے۔ پرسوں سعود ہمدانی چارج لے رہے ہیں۔ کل میں یہاں نہیں آؤں گا۔ کچھ courtsey calls میں مصروف رہوں گا۔” عمر نے تفصیل بتائی۔
”بہت اچھا وقت گزرا عمر جہانگیر صاحب آپ کے ساتھ…اچھی گپ شپ ہو جاتی تھی۔”
”ہاں مگر دس پندرہ منٹ کی۔۔۔” عمر نے مسکرا کر کہا۔
”چلیں دس پندرہ منٹ ہی سہی مگر اچھا ٹائم گزرتا تھا۔” رضوان قریشی بھی مسکرایا۔
”اس میں کوئی شک نہیں۔” عمر نے سر ہلاتے ہوئے ٹیبل پر پڑی ہوئی چیزوں کو سمیٹنا شروع کر دیا۔
”لاہور جانے سے پہلے میری طرف ایک چکر لگائیں ، کھانا کھاتے ہیں اکٹھے۔” رضوان قریشی نے آفر کی۔
”ضرور کیوں نہیں مگر کھانا کھانا ذرا مشکل ہے، ان دو تین دن کے لئے خاصی کمٹمنٹس ہو چکی ہیں میری مگر جو کچھ آفیشل فیرویل اور ڈنرز ہو رہے ہیں، اس میں تو آپ بھی انوائیٹڈ ہوں گے، اکٹھا کھانے کا موقع تو وہاں بھی مل جائے گا۔” عمر جہانگیر نے کہا۔
”آفیشل ڈنر میں اور گھر پر ہونے والی دعوت میں بڑا فرق ہوتا ہے۔”
”پھر کبھی سہی رضوان صاحب! بعد میں ملاقات تو رہے گی آپ سے۔” عمر نے کہا۔
”کہاں میل ملاقات رہے گی…آپ تو فوری چھٹی پر بیرون ملک جا رہے ہیں۔” رضوان قریشی نے یاد دہانی کروائی۔
”ہاں مگر پاکستا ن آتا جاتا رہوں گا اور پھر دوبارہ جوائن تو کرنا ہی ہے۔”
”تب کیا پتہ ہم کہاں ہوں…آپ کہاں ہوں۔”
”جہاں بھی ہوں گا میں آپ سے رابطہ رکھوں گا۔” عمر نے کہا۔
اگلے پندرہ منٹ اس نے رضوان قریشی کے ساتھ چائے اور سگریٹ پیتے ہوئے گزارے۔ پھر رضوان قریشی بڑی گرم جوشی کے ساتھ اس سے مل کر آفس سے نکل گیا۔
اس کے جانے کے بعد عمر نے اگلے پندرہ منٹ وہاں موجود عملے کے ساتھ الوداعی بات چیت کی۔ اپنے آفس میں موجود اپنی چیزوں کو وہ پہلے ہی اپنی گاڑی میں بھجوا چکا تھا۔
٭٭٭
One
1:50pm
کچہری میں موجود اپنے آفس سے نکل کر وہ دوبارہ اپنی گاڑی میں آ بیٹھا۔ جبار گاڑی چلاتے ہوئے دوبارہ اسے مین روڈ پر لے آیا۔ عمر نے ایک بار پھر سن گلاسز لگا لیے تھے۔
”کار سروس کروا لی ہے میری؟” عمر نے جبار سے پوچھا۔
”جی سر…میں کروا کر گھر چھوڑ کر آیا ہوں۔”
”کسی خرابی وغیرہ کے بارے میں کہا تو نہیں مکینک نے؟”
”نہیں سر…گاڑی بالکل ٹھیک ہے، اس نے چیک کی تھی اچھی طرح۔”
عمر سر ہلاتے ہوئے باہر دیکھنے لگا پھر اچانک ایک خیال آنے پر اس نے کہا۔
”راستے میں سے سگریٹ کا پیکٹ لینا ہے۔”
”جی سر۔” ڈرائیور نے کہا۔ چند منٹوں کے بعد اس نے راستے میں نظر آنے والی ایک مارکیٹ کے سامنے پارکنگ میں گاڑی روک دی اور کچھ کہے بغیر گاڑی سے اتر گیا۔ وہ عمر کے لیے اکثر اسی مارکیٹ کی ایک شاپ سے سگریٹ خریدا کرتا تھا۔
وہ تین منٹ میں سگریٹ خرید کر واپس آگیا۔ عمر نے سگریٹ کا پیکٹ اس سے لیتے ہوئے سگریٹ کو کیس میں رکھنے کے بجائے پیکٹ میں سے ایک سگریٹ نکالا اور پیکٹ کو ڈیش بورڈ پر رکھ دیا۔ ڈرائیور تب تک گاڑی سٹارٹ کرکے اسے ریورس کرتے ہوئے پارکنگ سے نکال رہا تھا۔ پولیس موبائل باہر سڑک پر ہی کھڑی تھی۔ ڈرائیور گاڑی ایک بار پھر مین روڈ پر لے آیا۔
عمر نے لائٹر سے ایک ہاتھ میں اوٹ بناتے ہوئے ہونٹوں میں دبا ہوا سگریٹ سلگایا اور پھر لائٹر کو دوبارہ ڈیش بورڈ پر رکھ دیا۔ کھڑکی کے شیشے کو اس نے کچھ اور نیچے کر دیا تاکہ دھواں آسانی سے باہر جاتا رہے، وہ اب اپنے باقی دن کی مصروفیات کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ گاڑی تیزی سے سڑک پر رواں دواں تھی۔ دائیں طرف سے ایک موٹر سائیکل نے عمر کی گاڑی کو اوورٹیک کیا۔ موٹرسائیکل پر موجود دو آدمیوں میں سے پیچھے بیٹھے ہوئے شخص نے اپنے جسم کے گرد چادر لپیٹی ہوئی تھی۔ عمر کی گاڑی میں موجود گارڈز ہاتھ میں پکڑے ہتھیار لے کر یکدم چوکنا ہوتے ہوئے اوورٹیک کرتے ہوئے اس موٹرسائیکل کو دیکھنے لگے۔
سگریٹ پیتے ہوئے عمر نے بھی ونڈ سکرین سے آگے نکلتی ہوئی اس موٹرسائیکل کو اچٹتی نظروں سے دیکھا۔ موٹرسائیکل پر بیٹھے داڑھی والے نوجوان لڑکوں میں سے کسی نے عمر کی گاڑی کی طرف نہیں دیکھا تیزی سے موٹرسائیکل چلاتے ہوئے وہ دونوں آپس میں باتوں میں مصروف تھے اور اسی تیز رفتاری کے ساتھ موٹرسائیکل چلاتے ہوئے وہ عمر کی گاڑی سے بہت آگے نکلتے ہوئے آنے والی ایک دوسری سڑک پر مڑ گئے۔
پیچھے بیٹھے ہوئے گارڈز یکدم مطمئن ہو گئے۔ عمر نے سگریٹ کی راکھ کو جھٹکا اور سگریٹ کا ایک اور کش لگایا گاڑی کی سپیڈ اب آہستہ ہو رہی تھی۔ انہیں بھی اسی سڑک پر مڑنا تھا جس سڑک پر وہ موٹرسائیکل گئی تھی۔
اس سڑک پر مڑتے ہی وہ موٹرسائیکل رک گئی۔ پیچھے بیٹھے ہوئے لڑکے نے بڑی پھرتی کے ساتھ اپنی چادر کے اندر سے ایک اسٹین گن نکالی اور اس کے ٹریگر پر ہاتھ رکھتے ہوئے وہ بالکل خاموشی سے موٹرسائیکل پر یوں بیٹھ گیا جیسے اسے کسی کا انتظار ہو۔ اس سڑک پر ٹریفک نہ ہونے کے برابر تھی۔ چند راہگیروں اور اکا دکا موٹرسائیکل اور گاڑی والوں نے انہیں دیکھا مگر صرف تجسس بھری نظروں سے دیکھ کر گزر گئے۔
اسٹین گن پکڑے ہوئے لڑکے کے ہاتھ میں بندھی ہوئی گھڑی نے اچانک سگنل دینا شروع کر دیا۔
”آگیا۔” اس کے منہ سے نکلا، کسی نے یقیناً موڑ پر پہنچنے والی عمر کی گاڑی کے بارے میں انہیں اطلاع دی تھی۔ موٹرسائیکل چلانے والا موٹرسائیکل کے ہینڈلز پر ہاتھ رکھے ہوئے مستعد ہو گیا۔ اسٹین گن اوپر ہو گئی۔ عمر کی گاڑی کا بونٹ نظر آیا۔ گاڑی مڑ رہی تھی۔ اس نوجوان نے ہونٹ بھنیچتے ہوئے ٹریگر دبا دیا۔ پہلا برسٹ ٹائرز پر پڑا تھا۔ گاڑی کو یکدم بریک لگے اور اس سے پہلے کہ گاڑی کا ڈرائیور یا گارڈز صورت حال کو سمجھ کر کچھ کر سکتے دوسرے برسٹ نے ونڈ سکرین کو چھلنی کر دیا۔ پولیس کی پیچھے آنے والی موبائل نے اچانک سائرن بجانا شروع کر دیا۔ موٹرسائیکل ایک فراٹے کے ساتھ اس سڑک پر بھاگنے لگی۔ وہ نوجوان اسٹین گن اپنی چادر کے اندر کر چکا تھا۔ جب تک موبائل موڑ مڑ کر عمر کی گاڑی کراس کرتے ہوئے آگے آئی اس سڑک پر سے موٹرسائیکل غائب ہو چکی تھی۔
٭٭٭
Zero
2:00pm
فضا میں تڑتڑاہٹ کی آواز کے ساتھ ہی جبار چلایا۔
”حملہ سر۔” اس کا پاؤں بریک پر تھا۔ وہ آگے کچھ نہیں کہہ سکا۔ وہ دو طرف سے گولیوں کی زد میں آیا تھا۔ ڈرائیور سیٹ کی کھڑکی اور ونڈ سکرین سے…اچانک لگنے والے بریک کے جھٹکے سے عمر یکدم جھک گیا۔ اس کا سر ڈیش بورڈ کے پاس تھا۔ جب اس نے جبار کی چیخیں سنیں اور ونڈ سکرین کی کرچیوں کو اڑتے دیکھا۔ ایک سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں اس نے پہلے اپنے کندھے اور پھر اپنی گردن میں لوہے کی گرم سلاخیں سی گھستی محسوس کیں۔ وہ بے اختیار چلایا تھا پھر یکے بعد دیگرے اس نے کچھ اور سلاخوں کو اپنی گردن ، کندھے اور کندھے کی پشت میں دھنستے محسوس کیا۔ کتنی؟ وہ نہیں بتا سکتا تھا۔ پھر فضا میں یکدم خاموشی چھا گئی۔ اس کا سر ڈیش بورڈ پر ٹکا ہوا تھا۔ گاڑی کی پچھلی سیٹ پر بھی کوئی کراہ رہا تھا۔ درد کی شدت…چند سیکنڈز کے لیے کھلی نظروں سے اس نے ڈیش بورڈ سے سر ٹکائے ٹکائے اپنی آنکھوں میں اترتی دھند کو جھٹکنے کی کوشش کرتے ہوئے نیچے دیکھا۔ اس کے گھٹنے کے قریب خاکی ٹراؤزز خون سے بھیگ رہی تھی اس کی گردن کے اطراف اور عقب سے نکلنے والا خون ایک دھار کی صورت میں اس کی گردن کے نیچے والے حصے سے بہہ رہا تھا۔ اس نے سائرن کی آواز سنی۔ اس نے سانس لینے کی کوشش کی وہ جانتا تھا۔ پولیس موبائل ابھی اس کے پاس ہو گی وہ جانتا تھا وہ اگلے چند منٹوں میں ہاسپٹل لے جایا جائے گا، اس کے ذہن میں بہت سارے خیالات گڈمڈ ہو رہے تھے۔ چہرے آوازیں…ماضی…حال…چیزیں…لوگ…وہ سانس لینے میں کامیاب نہیں ہو پا رہا تھا۔ وہ چیخ یا کراہ بھی نہیں سکتا تھا۔ اس کے احساسات مکمل طور پر مفلوج نہیں ہوئے تھے اس نے دیکھا اس کے ہاتھ میں دبا سگریٹ خون کے اس تالاب میں گرا ہوا تھا جو اس کے پیروں کے پاس پائیدان میں جمع ہو گیا تھا مگر وہ ابھی سلگ رہا تھا ۔ اس میں سے اٹھتا ہوا دھواں عجیب سے انداز میں اوپر اٹھ رہا تھا۔ چند سیکنڈ میں اس نے سگریٹ کے شعلے کو مکمل طور پر بجھتے دیکھا پھر دھواں بند ہو گیا۔
اس کی آنکھوں سے پانی نکل رہا تھا اور اس کی ناک سے خون وہ اپنے سر کو سیدھا کرنا چاہتا تھا کوئی اس کا دروازہ کھول رہا تھا کوئی اس کے قریب بلند آواز میں بول رہا تھا۔
اس نے علیزہ کے چہرے کو اپنے ذہن کی سکرین پر ابھرتے دیکھا۔ بے اختیار اس نے سانس لینے کی کوشش کی پھر اس نے اس کے ساتھ جنید کو دیکھا وہ سانس نہیں لے سکا۔ اسے اپنا دایاں بازو کسی کے دونوں ہاتھوں کی گرفت میں محسوس ہوا۔ کوئی اس کے دائیں کندھے پر ماتھا ٹکائے رو رہا تھا۔ وہ ان آنکھوں سے بہنے والے آنسوؤں کی نمی کو شرٹ کے اندر اپنے بازو پر محسوس کر رہا تھا۔
”مجھ سے یہ مت کہو کہ تم مجھ سے محبت نہیں کرتے، تمہیں پتہ ہے اس سے کتنی تکلیف ہوتی ہے مجھے۔”
اس نے اپنے بائیں کندھے پر کسی کے ہاتھ کی گرفت محسوس کی، کوئی اسے سیدھا کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اس نے اپنے دائیں کندھے کو کسی کی گرفت سے آزاد ہوتے پایا۔ ایک گہری تاریکی نے اس کو اپنے حصار میں لے لیا۔
ڈوبتے ہوئے ذہن کے ساتھ جو آخری احساس تھا، وہ کسی کے اسے گاڑی سے نکالنے کی کوشش کا تھا۔ اس کے ذہن میں ابھرنے والا آخری خیال اس کی ممی کا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
(جاری ہے)