Amarbail By Umerah Ahmed Readelle50103 Episode 23
Rate this Novel
Episode 23
امربیل از عمیرہاحمد
۔۔۔۔
قسط نمبر 23
۔۔۔۔۔
باب 25
”میں نے سوچا شاید تم زارا سے ملتے ہوگے۔”
علیزہ اگلی شام اپنے کمرے سے نکل کر لاؤنج کی طرف آرہی تھی، جب اس نے لاؤنج میں نانو کو عمر سے کہتے سنا تھا۔ وہ ٹھٹھک گئی۔
رات کو عمر کے کمرے میں جانے کے بعد وہ بھی کھانا کھا کر اپنے کمرے میں آگئی تھی… بہت دیر تک وہ عمر کے بارے میں سوچتی رہی پھر آہستہ آہستہ نیند نے اسے اپنی گرفت میں لے لیا۔
آج صبح عمر ناشتے کی میز پر نہیں تھا۔ کالج سے واپس آنے پر اس نے لنچ پر بھی موجود نہیں پایا۔ ”سر میں کچھ درد ہے اس کے… آرام کر رہا ہے۔” اس کے پوچھنے پر نانو نے کہا تھا۔
علیزہ کچھ بے چین ہوگئی۔ ”کیا زیادہ درد ہے؟”
”پتا نہیں… کچھ بتایا نہیں کہہ رہا تھا کہ سوؤں گا تو ٹھیک ہو جاؤں گا۔” نانو نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔
”آپ کو پوچھنا چاہیے تھا!” اس نے بے ساختہ کہا۔ ”موسم تبدیل ہو رہا ہے اسی کی وجہ سے اس کی طبیعت خراب ہوگئی ہوگی۔” نانو نے اس کی بات پر زیادہ دھیان نہیں دیا تھا۔
وہ کچھ دیر تک انہیں دیکھتے رہنے کے بعد اٹھ کر اپنے کمرے میں آگئی۔
عمرکے لئے اس کے دل میں موجود ہمدردی میں یک دم اضافہ ہوا تھا۔ پڑھائی کے دوران بھی وہ بدستور عمر کے بارے میں سوچتی رہی۔
اور اب جب وہ تین گھنٹے بعد شام کی چائے کیلئے نکلی تھی تو وہ لاؤنج میں موجود تھا۔
”نہیں، آپ نے غلط سوچا۔ میں ممی سے نہیں ملتا ہوں۔”
وہ کافی کا مگ ہاتھ میں لیے مدھم آواز میں نانو سے کہہ رہا تھا۔
”کیوں؟” نانو کے سوال پر عمر نے چند لمحے خاموشی سے ان کے چہرے کو دیکھا تھا۔
”کبھی طلب محسوس نہیں ہوئی۔” اس کا لہجہ بہت عجیب تھا۔
”والدین اور اولاد ایک دوسرے کیلئے طلب نہیں ضرورت ہوتے ہیں۔” نانو نے اسے جھڑکتے ہوئے کہا تھا۔
”ہماری کلاس میں پیرنٹس اور اولاد ایک دوسرے کیلئے طلب ہوتے ہیں نہ ہی ضرورت ،بلکہ چیزوں کی طرح ہوتے ہیں… جب اولاد کو ضرورت پڑے تو وہ ماں باپ کو استعمال کرلے اور جب ماں باپ کو ضرورت پڑے تو وہ اولاد کو استعمال کرلیں۔” علیزہ نے اس کی مذاق اڑاتی ہوئی ہنسی سنی تھی۔ وہ کوریڈور میں جہاں کھڑی تھی، وہاں سے اس کی پشت نظر آرہی تھی۔ وہ اس کا چہرہ نہیں دیکھ سکتی تھی مگر اس کی آواز سے وہ اندازہ کرسکتی تھی کہ وہ طنز کر رہا تھا۔
”اس طرح مت کہو۔” نانو نے اسے جیسے روکنے کی کوشش کی تھی۔
”سچ کہہ رہا ہوں گرینی! جیسے میں یہ مگ استعمال کر رہا ہوں نا میرے اور اس مگ کے درمیان اتنا ہی گہرا رشتہ ہے جتنا میرا اپنے ماں باپ کے ساتھ اور میرے ماں باپ کے نزدیک بھی میری اہمیت کافی کے اس گرم مگ جتنی ہی ہوگی جو ضرورت کے وقت ان کے کام آجائے۔” اس کا لہجہ پہلے سے زیادہ تلخ تھا۔
علیزہ کوشش کے باوجود اندر داخل نہیں ہوسکی۔
”پتا نہیں، میرا اندر جانا ٹھیک ہے یا نہیں؟” وہ وہیں کھڑی سوچنے لگی۔
”تم زارا سے مل لیا کرو۔” نانو کی آواز میں اس بار ہمدردی جھلکی تھی۔
”کیوں؟” عمر کا لہجہ بہت تیکھا تھا۔ ”ا ب ایسا کیا ہوگیا ہے کہ میں ان سے مل لیا کروں؟”
”وہ تمہاری ماں ہے۔”
”تو میں کیا کروں؟”
”تم بچپن میں بہت اٹیچ تھے اس کے ساتھ۔”
”ہوسکتا ہے۔”
”جھوٹ مت بولو عمر!”
”میں جھوٹ نہیں بول رہا ہوں۔ میں واقعی انہیں مس نہیں کرتا بلکہ میں کبھی بھی کسی کو بھی مس نہیں کرسکتا۔” اس کی آواز میں بے حد سنجیدگی تھی۔
”مگر زارا تم سے ملنا چاہتی ہے۔ بہت محبت کرتی ہے وہ تم سے بار بار تمہاری باتیں کر رہی تھی۔ مجھے بتا رہی تھی کہ تمہیں اس نے سوات میں دیکھا تھا۔ پھر تمہیں ٹریس آؤٹ کرنے کی کوشش کی مگر تم ہوٹل سے چیک آؤٹ کرگئے۔ پھر اس نے اندازہ لگایا کہ تم یہیں ہوگے میرے پاس اور وہ سیدھی تمہارے پیچھے لاہور آگئی۔” نانو اب تفصیل سے بتا رہی تھیں۔
”بڑا کارنامہ کیا مجھے ڈھونڈ کر۔” اس نے عمر کو بڑبڑاتے سنا تھا۔
”وہ اپنی فیملی کو وہیں سوات میں چھوڑ کر صرف تمہارے لیے یہاں آئی تھی۔” نانو نے جیسے اسے جتایا۔
”نہ آتیں… اپنی فیملی کے ساتھ ہی رہتیں… انجوائے کرتیں۔”
”وہ صرف تمہارے لیے یہاں آئی تھیں… مجھے بتا رہی تھی کہ تمہیں بہت مس کرتی ہے۔”
”مس کرتی ہیں تو یہ ان کی غلطی ہے نہ کیا کریں… بے اولاد تو نہیں ہیں۔ دوسرے بیٹے ہیں نا پاس… پھر میرے لیے یہ ڈرامہ کرنے کی کیا ضرورت ہے؟” اس کے لہجے میں بے زاری تھی۔
”کبھی کبھار زارا سے مل لینے میں توکوئی ہرج نہیں۔”
”ان سے ملوں تاکہ پاپا مجھے اپنی جائیداد سے عاق کردیں۔”
”جہانگیر ایسا نہیں کرے گا۔”
”آپ کو اپنے بیٹے کے بارے میں بہت سی خوش فہمیاں ہیں گرینی! انہیں دورکرلیں۔”
”مجھے کوئی خوش فہمی نہیں ہے مگر وہ اب ایسا نہیں کرسکتا… کیونکہ تم کوئی ننھے بچے ہو نہ اس پر انحصار کرتے ہو۔”
”آپ کو یہ بھی غلط فہمی ہے… میں آج بھی بڑی حد تک ان پر انحصارکرتا ہوں۔” اس نے ان کی بات کاٹ کر کہا تھا۔
نانو چند لمحے خاموشی سے اسے دیکھتی رہیں۔
۔۔۔۔
”کچھ عرصے کے بعد جب تمہیں جاب مل جائے گی تو تمہیں جہانگیر پر انحصار نہیں کرنا پڑے گا پھر تم۔۔۔”
عمر نے ایک بار پھر ان کی بات کاٹی ”کیا ہوجائے گا جاب سے… چند ہزار روپے پر مشتمل تنخواہ تو میری ضروریات پوری نہیں کرسکتی… مجھے کل بھی اپنے باپ کی دولت کی اتنی ہی ضرورت ہوگی جتنی آج ہے۔”
”صرف پیسے کیلئے تم زارا سے ملنا نہیں چاہ رہے؟”
”ہاں یہی بنیادی وجہ ہے، انہوں نے زندگی میں اپنے لیے اس چیز کا انتخاب کیا تھا جو ان کے اور ان کے مستقبل کیلئے فائدہ مند تھی… انہوں نے میرے لیے کوئی قربانی نہیں دی میں بھی یہی کروں گا۔۔۔”
”تم چاہو تو میں جہانگیر سے بات کرسکتی ہوں۔ ہوسکتا ہے وہ تمہیں اب زارا سے ملنے سے نہ روکے۔”
”آپ اپنے بیٹے کو مجھ سے زیادہ نہیں جان سکتیں۔”
”وہ ضدی ہے مگر انسان ہے اوروقت کے ساتھ انسان میں بہت سی تبدیلیاں آجاتی ہیں۔”
”مگر میں ممی سے ملنا نہیں چاہتا۔ اس لیے آپ پاپا سے کوئی بات نہ کریں، بلکہ ان سے ذکر تک نہ کریں کہ ممی یہاں آئی تھیں یا مجھے ملی تھیں۔” اس کا لہجہ بالکل حتمی تھا۔
علیزہ کچھ دیر تک کچھ اور سننے کی منتظر رہی، مگر لاؤنج میں خاموشی چھائی رہی۔ نانو نے اس کی بات کے جواب میں کچھ نہیں کہا تھا اور وہ خاموشی سے کافی پینے میں مصروف تھا۔
وہ دبے قدموں سے لاؤنج میں داخل ہوگئی۔
”علیزہ!آج میں نے چائے کے بجائے کافی بنوائی ہے عمر کہہ رہا تھا ،اگر تم چائے لینا چاہو تو میں خانساماں سے کہہ دوں۔” نانو نے اسے اندر آتے ہوئے دیکھ کر کہا تھا۔
”نہیں ٹھیک ہے میں بس کافی لے لوں گی۔” وہ بڑے محتاط سے انداز میں کہتے ہوئے نانو کے پاس صوفہ پر بیٹھ گئی۔ وہ اب عمر کے بالمقابل تھی مگر دانستہ طور پر اس پر نظر ڈالنے سے گریز کر رہی تھی۔
نانو نے کافی تیار کر کے کپ اس کے ہاتھ میں تھما دیا۔ پہلا سپ لیتے ہوئے اس نے بڑے محتاط انداز میں عمر کو دیکھنے کی کوشش کی۔ وہ اس کی طرف متوجہ تھا۔ علیزہ کو اپنی طرف دیکھتے پاکر وہ ہلکا سا مسکرایا۔ علیزہ کو حیرانی ہوئی۔”کیا وہ اب بھی مسکرا سکتا ہے؟” اس نے سوچا۔
”بارش شروع ہوگئی ہے۔” نانو نے کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے جیسے اطلاع دی تھی۔
علیزہ نے چونک کر کھڑکیوں کی طرف دیکھا۔ شام کے ملگجے اندھیرے میں لان میں یک دم پڑنے والی بارش کی تیز بوچھاڑ کھڑکیوں کے شیشوں کو گیلا کرنے لگی تھی۔
ایک نظر بارش کی بوندوں پر ڈال کر علیزہ ایک بار پھر عمر کی طرف متوجہ ہوگئی۔ وہ صوفے پر نیم دراز کافی پیتے ہوئے کھڑکیوں کے باہر برستی بارش کو دیکھ رہا تھا۔
اس کے چہرے پر نظریں جمائے وہ جیسے اندازہ لگانے کی کوشش کر رہی تھی کہ اس کی ذہنی کیفیت کیا ہوگی۔
”کیا عمر واقعی صرف پیسے کیلئے اپنی ممی سے ملنا نہیں چاہ رہا؟ کیا وہ اتنا materialistic (مادہ پرست) ہوسکتا ہے؟ کیا اسے اپنی ممی سے محبت نہیں ہے؟ کیا اسے اپنے پاپا سے محبت ہے؟ اور اگر اسے ان سے بھی محبت نہیں تو پھر آخر اسے کس سے محبت ہے؟” وہ اسے دیکھتے ہوئے جیسے الجھ رہی تھی۔
عمر کو یک دم جیسے اس کی نظروں کا احساس ہوا کچھ چونک کر کھڑکی سے باہر نظر آنے والے منظر سے نظریں ہٹا کر علیزہ کی متوجہ ہوا۔ علیزہ گڑبڑا گئی۔ شرمندگی کے عالم میں اس نے اپنی نظریں جھکا لی تھیں۔
”گرینی! مجھے کچھ اور کافی ڈال دیں۔” علیزہ کو مخاطب کرنے کے بجائے اس نے اپنا جہازی سائز کا مگ نانو کی طرف بڑھا دیا تھا۔ نانو اس کیلئے کافی بنانے لگیں۔
علیزہ ایک بار پھر اس کا چہرہ دیکھنے لگی۔ وہ نانو کو کافی بناتے ہوئے دیکھ رہا تھا اور اس وقت پہلی بار علیزہ کو احساس ہوا کہ اس کی آنکھیں سرخ بھی ہیں اور متورم بھی۔ وہ کافی پیتے پیتے جیسے ٹھٹھک گئی۔
”کیا عمر روتا رہا ہے؟” اس سوال نے اس کے وجود میں جیسے ایک کرنٹ دوڑا دیا تھا۔
”کیا عمر بھی رو سکتا ہے؟” وہ کافی پینا بھول گئی۔
عمر نے نانو سے کافی کا مگ تھاما صوفے پر سیدھا ہوتے ہوئے ایک بار پھر اس کی نظر علیزہ پر پڑی تھی۔ اس بار علیزہ نے اس پر سے نظریں ہٹانے کی کوشش نہیں کی۔ وہ اسے دیکھتی رہی اور عمر کو یک دم جیسے احساس ہوگیا کہ وہ اس کے چہرے پر کیا ڈھونڈ چکی ہے۔ علیزہ نے اس کے چہرے پر ایک رنگ آتا دیکھا تھا اور پھر وہ علیزہ سے نظریں چراگیا۔
”گرینی!ْ میں اپنے کمرے میں جارہا ہوں۔” اگلے لمحے وہ مگ ہاتھ میں لیے کھڑا تھا۔
اسے لاؤنج سے باہر جاتے ہوئے دیکھ کر وہ بے چین ہوگئی۔
”مجھے یہاں نہیں آنا چاہیے تھا… یا کم از کم اس طرح اسے گھورنا نہیں چاہیے تھا۔ کیا عمر کو میرا اس طرح دیکھنا برا لگا ہے ہوسکتا ہے وہ یہ سوچ رہا ہو کہ میں اسے اس صورت حال میں پاکر خوش ہو رہی ہوں۔” اس کا پچھتاوا بڑھتا جارہا تھا۔
٭٭٭
راکنگ چیئر پر جھولتے ہوئے وہ برستی بارش کو دیکھ رہا تھا۔ باہر لان میں اب لائٹس آن کردی گئی تھیں اور ہوا سے ہلتے بارش میں بھیگتے پودے اور بیلیں بہت عجیب لگ رہی تھیں۔
کمرے کے دروازے پر ہونے والی دستک نے اسے چونکا دیا۔
”بس کم ان۔” اس نے بلند آواز میں کہتے ہوئے راکنگ چیئر کو جھلانا بند کردیا۔ دروازہ آہستہ آہستہ کھلا تھا اور پھر عمر نے علیزہ کو کمرے کے اندر آتے دیکھا، وہ اپنے ہاتھوں میں کرسٹی کو اٹھائے ہوئی تھی۔
”اوہ علیزہ!” عمر کچھ حیران ہوا تھا۔
”میں نے آپ کو ڈسٹرب تو نہیں کیا؟” وہ کچھ نروس تھی۔
”ناٹ ایٹ آل میں فارغ بیٹھا ہوا تھا… تمہیں کوئی کام ہے؟” اس نے مسکراتے ہوئے خوش دلی سے کہا۔
”میں تھوڑی دیر کیلئے آپ کے پاس بیٹھ جاؤں؟”
”وائے ناٹ۔” عمر نے کچھ حیرانی آمیز مسکراہٹ سے کہا۔ وہ آہستہ آہستہ چلتی ہوئی بیڈ کی پائنتی کی طرف بیٹھ گئی۔ عمر اب راکنگ چیئر کو جھلانا بند کرچکا تھا۔
”آپ کو بارش بہت اچھی لگتی ہے؟” علیزہ نے کھڑکی کے پردے ہٹے ہوئے دیکھ کر پوچھا۔
”نہیں۔”
”کیوں؟”
”مجھے بارش سے خوف آتا ہے۔”
”بارش سے خوف؟… کیا مطلب؟” وہ حیران ہوئی۔
”چھوڑو یار… مذاق کر رہا ہوں۔ تمہیں اچھی لگتی ہے بارش؟”
”نہیں۔”
”کیوں؟”
”پتا نہیں بس مجھے بارش سے الجھن ہوتی ہے۔” عمر کچھ کہے بغیر اس کا چہرہ دیکھتا رہا۔
کمرے میں ایک بار پھر خاموشی چھاگئی۔ علیزہ کی سمجھ میں نہیں آیا۔ وہ اب کیا بات کرے۔ کچھ دیر وہ سوچتی رہی پھر اس نے ایک کاغذ عمر کی طرف بڑھا دیا۔
”یہ کیا ہے؟” عمر نے ہاتھ بڑھاتے ہوئے کہا۔
”آپ دیکھ لیں۔” عمر نے کچھ تجسس کے عالم میں کاغذ کھولا تھا۔ پھر اس کے چہرے پر ایک بے ساختہ مسکراہٹ نمودار ہوئی۔ علیزہ کی آنکھوں میں یک دم چمک لہرائی۔
”اٹس جسٹ ونڈر فل۔” عمر نے کاغذ پر بنے ہوئے اس اسکیچ کو دیکھتے ہوئے کہا تھا۔
”تھینک یو۔” علیزہ کا چہرہ کچھ سرخ ہوا۔
”مگر میں حیران ہوں کہ میرا چہرہ اس قابل کیسے ہوگیا کہ تم میری اسکیچنگ کرو۔”
”وہ… وہ تب آپ میرے دوست نہیں تھے اس لیے۔” اسے یاد آگیا تھا جب عمر نے ایک بار اس کی اسکیچ بک دیکھ کر اس کی تعریف کرنے کے بعد اسکیچ بنانے کی فرمائش کی تھی اور اس نے بڑی بے رخی سے اس کی یہ فرمائش رد کردی تھی۔
”اوہ… یعنی اب ہم دوست ہیں؟” عمر نے دلچسپی سے پوچھا۔ علیزہ نے مسکراتے ہوئے سر ہلایا۔
”So nice of you۔” وہ ایک بار پھر اسکیچ دیکھنے لگا۔
”کیا میں واقعی اتنا گڈلکنگ ہوں، جتنا اس اسکیچ میں لگ رہا ہوں یا پھر یہ صرف تمہارے ہاتھ کا کمال ہے؟”
وہ اس سے پوچھ رہا تھا۔ علیزہ کا چہرہ ایک بار پھر سرخ ہوگیا۔ اس کی سمجھ میں نہیں آیا وہ اس کے سوال کا کیا جواب دے۔
عمر نے علیزہ کو جھینپتے ہوئے دیکھ لیا تھا۔ ”تم اسکیچنگ کے بجائے پینٹنگز بنایا کرو، میں تمہاری ایگزیبیشن کرواؤں گا۔”
وہ اس کی بات پر حیران ہوئی۔ ”ایگزیبیشن کیلئے تو بہت ساری پینٹنگز چاہئیں۔ اس میں تو بہت وقت لگے گا۔”
”کتنا وقت لگے گا؟ ایک سال دو سال، دس سال میں کون سا مرنے والا ہوں یہیں ہوں۔ بس تم اب پیٹنگز بنایا کرو۔”
”لیکن میں ایگزیبیشن کروا کے کیا کروں گی… مجھے کوئی آرٹسٹ تو نہیں بننا۔” وہ ہچکچائی۔
”یہ کوئی لاجک نہیں ہے۔ بہت سے لوگ آرٹسٹ نہیں ہوتے مگر پینٹنگز بھی بناتے ہیں اور ایگزیبیشن بھی کرواتے ہیں۔ بس اسے پروفیشن نہیں بناتے۔ تم بھی یہی کرنا۔” وہ بڑی سنجیدگی سے کہہ رہا تھا۔
علیزہ مطمئن تھی۔ وہ اس کی توجہ ہٹانے میں کامیاب ہوگئی تھی۔
اب عمر یقیناًاپنی ممی کے بارے میں سوچ رہا ہوگا۔ میں اس سے باتیں کروں گی تو یہ آہستہ آہستہ ریلیکس ہو جائے گا۔ وہ سوچ رہی تھی۔
”نہیں… ہر بندہ آرٹسٹ نہیں ہوتا۔”
”آپ نے کبھی کوشش نہیں کی؟”
”جو چیز مجھے پسند نہیں، وہ میں کبھی کرنے کی کوشش نہیں کرتا۔” اس کا لہجہ دو ٹوک تھا۔
علیزہ یک دم ساکت ہوگئی۔ ”ابھی چند لمحے پہلے یہ مجھ سے کہہ رہا تھا کہ میں… اور اب کیا کہہ رہا ہے کہ اسے پینٹنگ پسند نہیں ہے۔” وہ الجھنے لگی۔
”پھر آپ مجھے پینٹنگز بنانے کیلئے کیوں کہہ رہے ہیں جبکہ آپ کو خود یہ کام پسند نہیں ہے؟” وہ برا مانتے ہوئے بولی۔
”میری پسند یا ناپسند کوئی اہمیت نہیں رکھتی ،میرے لیے تمہاری پسند یا نا پسند اہمیت رکھتی ہے۔” وہ اس کی بات سمجھ نہیں پائی صرف اس کا چہرہ دیکھ کر رہ گئی۔
مزید کچھ کہنے کے بجائے وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔ کرسٹی کو عمر کی طرف بڑھاتے ہوئے اس نے کہا۔
”آپ چاہیں تو اسے اپنے پاس رکھ سکتے ہیں… اس کے ساتھ کھیل سکتے ہیں۔”
عمر نے کچھ حیرانی سے اس کے ہاتھ سے کرسٹی کو لے لیا۔
”تم برا نہیں مانو گی؟”
”نہیں۔” وہ کچھ اور حیران ہوا۔
”آپ کو کسی چیز کی ضرورت تو نہیں؟” وہ جاتے جاتے مڑی۔
”نہیں۔” وہ کمرے سے نکل گئی۔
عمر اسے کمرے سے جاتے ہوئے دیکھتا رہا، علیزہ کا بدلا ہوا رویہ اس کیلئے حیرانی کا باعث تھا۔
”اتنی مہربانی کس لیے؟” وہ سوچنے لگا اور پھر اس کے ذہن میں جیسے جھماکا ہوا۔ وہ جان گیا تھا۔ وہ کیا کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ بہت دیر تک وہ کرسٹی کو ہاتھوں میں لیے بے حس و حرکت اپنی کرسی پر بیٹھا رہا۔
٭٭٭
”تم کچھ دنوں کیلئے اسلام آباد چلے جاؤ۔” تین چار دن کے بعد عمر کو جہانگیر نے کال کیا تھا حال احوال دریافت کرنے کے فوراً بعد انہوں نے اس سے کہا تھا۔
”کس لیے؟”
”لئیق علی کے پاس جانا ہے تمہیں۔” انہوں نے اپنے ایک کزن کا نام لیا۔
”لیکن کس لیے؟”
”ایک تو وہ تمہیں پبلک سروس کمیشن کے ان دونوں سائیکالوجسٹس سے ملوائیں گے، جو رزلٹ آنے پر تمہارا سائیکلوجیکل ٹیسٹ لیں گے۔ میں کوشش کر رہا ہوں کہ تمہاری گروپ ڈسکشن بھی وہی کنڈکٹ کروائیں۔”
”مگر پاپا! اتنی جلدی کیا ہے، ابھی توچند ہفتے ہوئے ہیں تحریری امتحان کو، پہلے رزلٹ تو آنے دیں۔ اس کے بعد۔”
جہانگیر نے اس کی بات کاٹ دی ”تمہارے پیپرز چیک ہوتے ہی رزلٹ مجھے پتا چل جائے گا اور اس میں صرف ایک ڈیڑھ ماہ اور لگے گا۔”
”نہیں پاپا! چار پانچ ماہ لگیں گے رزلٹ ڈکلیئر ہونے میں۔” اس نے تصحیح کی۔
”میں رزلٹ ڈکلیئر ہونے کی بات نہیں کر رہا ہوں۔ وہ جب چاہے ہوتا رہے… لیکن تمہارے پیپرز چیک ہوتے ہی مجھ تک تمہارا رزلٹ پہنچ جائے گا اور میں تمہیں انفارم کردوں گا۔”
وہ خاموشی سے فون پر ان کی بات سنتا رہا۔
”ان لوگوں سے مل کر میں کیا کروں گا؟”
”کیا مطلب ہے کیا کروں گا؟ وہ تمہیں گائیڈ کریں گے۔ سائیکلوجیکل ٹیسٹ کے بارے میں۔
”مگر پاپا کافی بے اصولی کی بات ہے یہ، وہی لوگ بعد میں ٹیسٹ کنڈکٹ کروائیں گے اور وہی لوگ پہلے ہی مجھے۔” اس نے کچھ کہنا چاہا تھا۔
”Everything is fair as long as it goes to you” اس لیے دوبارہ مجھ سے اصولی یا بے اصولی کی بات مت کرنا تم بیوروکریسی کو کوئی نیا ٹرینڈ دینے نہیں جارہے ہو۔” جہانگیر نے اس کی بات کاٹتے ہوئے بہت سرد آواز میں کہا۔
”میں نے یہ کب کہا پاپا کہ میں… میں تو بس چاہ رہا تھا کہ مجھے اپنی potential کا پتہ چلے۔”
”اپنی potential کا جائزہ تم بعد میں لیتے رہنا فی الحال لئیق علی کے پاس چلے جاؤ… میں نے اسے تمہاری آمد کے بارے میں انفارم کردیا ہے۔ پھر بھی جانے سے پہلے تم اسے کال کرلینا۔”
”ٹھیک ہے مگر مجھے کتنے دن وہاں رہنا ہے؟”
”یہ میں تمہیں بعد میں بتا دوں گا… کال کرتا رہوں گا وہاں بھی۔”
”پھر بھی پاپا! مجھے اندازہ تو ہونا چاہیے کہ مجھے وہاں کتنے دن رہنا ہے تاکہ میں اسی کے مطابق اپنا سامان پیک کروں۔”
”شاید ایک ماہ یا اس سے بھی زیادہ۔”
”واٹ؟ اتنا لمبا قیام کیوں؟” وہ حیران رہ گیا۔
”بس میں چاہتا ہوں کہ تمہاری اچھی طرح سے تیاری ہوجائے۔”
”نہیں تیاری کیلئے اتنے لمبے قیام کی ضرورت نہیں ہے۔ دو تین دن کافی ہیں۔”
”جب تک میں تمہیں وہاں سے واپس آنے کو نہ کہوں، وہاں سے واپس مت آنا۔” جہانگیر کی آواز ایک بار پھر خشک ہوگئی۔
”پاپا… میں کچھ دنوں کیلئے امریکہ آنا چاہتا ہوں۔” اس نے کچھ ہچکچاتے ہوئے کہا۔
”کس لیے؟” جہانگیر کی آواز پہلے کی طرح سرد تھی۔
وہ کچھ دیر خاموش رہا ”ویسے ہی۔”
”ویسے ہی سے کیا مطلب ہے تمہارا؟” جہانگیر کی آواز پہلے سے زیادہ تیکھی تھی۔
”میں کچھ ریلیکس کرنا چاہ رہا تھا۔”
”تم سوات گئے تو تھے۔ کیا وہاں ریلیکس نہیں کیا؟”
”پاپا! مجھے کچھ چیزوں کی ضرورت ہے۔”
”تم نام بتا دو، میں خرید کر بھجوا دیتا ہوں۔” عمر نے ان کے جواب پر ہونٹ بھینچ لیے۔
”مجھے اپنے کچھ پیپرز اور دوسری چیزیں چاہئیں جو میں خود ہی آکر لے سکتا ہوں۔”
”تمہارا سارا سامان یہیں گھر میں ہے تم پیپرز اور دوسری چیزوں کے بارے میں بتا دو میں آج ہی پیک کروا کر تمہیں بھجوا دیتا ہوں۔ دو تین دن تک تمہیں مل جائیں گی۔”
”آخر آپ مجھے امریکہ آنے کیوں نہیں دینا چاہتے۔” وہ بالآخر تلخ ہوگیا۔
”کیونکہ میں جانتا ہوں، تم امریکہ کس لیے آنا چاہتے ہو؟”
وہ چپ سا ہوگیا۔
”مجھے ایسے لوگوں سے نفرت ہے جو مجھ سے جھوٹ بولیں یا غلط بیانی کریں۔” اس نے اپنے باپ کو کہتے سنا۔ وہ ہونٹ کاٹنے لگا۔ اس کا دل چاہا، وہ ان سے کہے آپ کو ایسے لوگوں سے نہیں صرف مجھ سے نفرت ہے۔
”تمہارے ا کاؤنٹ میں، میں نے کچھ اور روپے ٹرانسفر کروائے ہیں۔ کسی چیز کی ضرورت ہو تو بتا دو۔” وہ کچھ دیر اس کے بولنے کے منتظر رہے۔
”نہیں، کچھ نہیں چاہیے۔” اس نے کچھ دیر بعد کہا۔
”ٹھیک ہے۔ دو دن کے بعد میں تمہیں دوبارہ فون کروں گا… تب تمہیں لئیق کے پاس ہونا چاہیے۔” فون بند کردیا گیا تھا۔
جاری ہے۔۔۔
