Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 55

امربیل از عمیرہاحمد
۔۔۔۔
قسط نمبر 55
۔۔۔۔۔
باب 49

”آرمی مانیٹرنگ کمیٹی… اب یہ کیا بکواس ہے؟” عمر جہانگیر نے ہاتھ میں پکڑی ہوئی فائل کو میز پر تقریباً پٹختے ہوئے کہا۔
فوجی حکومت کو اقتدار سنبھالے چند ہفتے ہو گئے تھے اور آرمی مانیٹرنگ کمیٹیوں کا شوروغوغا ہر جگہ سنائی دے رہا تھا پولیس کے اعلیٰ حکام کے اندر ان مجوزہ کمیٹیز کے خلاف بہت زیادہ غصہ اور احتجاج پایا جاتا تھا مگر کھلے عام اس پر کوئی بھی تنقید کرنے سے خوفزدہ تھا۔ ہر ایک جانتا تھا ایسی کسی تجویز کی مخالفت کم سے کم ٹرانسفر اور زیادہ سے زیادہ معطلی کی موجب بن جائے گی اس لیے ہر ایک آرمی مانیٹرنگ کمیٹیز کو ناپسند کرنے کے باوجود ان کے خلاف کوئی احتجاج نہیں کر رہا تھا۔
فوجی حکومت کا خیال تھا کہ آرمی کو براہ راست سویلین معاملات میں ملوث کرنے سے وہ اس کرپشن پر قابو پا لے گی جو پورے نظام کی جڑیں کھوکھلی کر رہی تھی اور ایک بار اس نظام کی خرابی رک جاتی تو شاید لوگوں کا اعتماد بھی بحال ہو جاتا مگر دوسرے بہت سے محکموں کی طرح پولیس کو بھی ان کمیٹیز کے قیام پر اعتراض تھا۔ اگرچہ وہ ان کمیٹیز کے خلاف بات کرتے ہوئے اپنے اختیارات میں کمی اور اپنے معاملات میں مداخلت کا حوالہ دے رہے تھے مگر جو حقیقی خدشات ان کے ذہنوں میں تھے وہ کرپشن کی ان لمبی کڑیوں والی زنجیر کو بچانا تھا جس کے منظر عام پر آنے سے بہت سے نامی گرامی لوگوں کے لیے بھی اپنی عزت بچا لینا بہت مشکل ہو جاتا جو آفیسرز ہاتھ کی صفائی دکھانے میں ماہر تھے انہیں یہ خوف تھا کہ ان کا پچھلا کرپشن کا کوئی معاملہ پکڑا نہ بھی گیا تب بھی آئندہ کے لیے کرپشن کے دروازے بند ہو جائیں گے اور یہ ان کے اور ان کے خاندانوں کے لیے 440 وولٹ کے شاک کی طرح تھا۔
دوسری طرف آرمی مانیٹرنگ کمیٹیز کے ذریعے پہلی بار فوج کو انتظامیہ کے ان اختیارات اور معاملات میں دخل اندازی کا موقع مل رہا تھا۔ جہاں وہ پہلے خاصی بے بس رہی تھی۔ فصل کاٹنے اور بدلے چکانے کا موسم آ چکا تھا، وہ انتظامیہ جو پہلے فوج کو گھاس نہیں ڈالتی تھی، اب ان کی زیر نگرانی کام کرنے پر مجبور تھی اور ان کی چپقلش شروع ہو چکی تھی۔
عمر جہانگیر بھی پولیس سروس کے دوسرے تمام آفیسر کی طرح ان کمیٹیز کو ناپسند کرنے اور ان پر تنقید کرنے والوں میں پیش پیش تھا۔
اس دن بھی صوبائی دارالحکومت میں پولیس آفیسرز کا ایک اجلاس ہو رہا تھا جس میں آرمی اور حکومت کے لتے لیے جا رہے تھے۔ ایک دن پہلے صوبائی گورنر ان ہی پولیس آفیسرز سے اپنے خطاب کے دوران پولیس کی ناقص کارکردگی اور کرپشن پر انہیں کھری کھری سنا چکے تھے۔ انہوں نے اپنی پینتالیس منٹ کی فی البدیہی تقریر میں ایک بار بھی پولیس کو کسی کام کے لیے نہیں سراہا تھا اور اس چیز نے ان آفیسرز کے غصے کو کچھ اور ہوا دی تھی۔
”گورنر چوبیس گھنٹے لاء اینڈ آرڈر کی بات کرتے رہتے ہیں۔ انہیں پتا ہے لاء اینڈ آرڈر ہوتا کیا ہے؟”
اس روز آفیسرز میں سے ایک نے گورنر کی تقریر پر بات کرتے ہوئے کہا۔
”ان کا تعلق آرمی سے ہے، رات کو سوئے صبح انہیں پتا چلا کہ وہ گورنر بن گئے ہیں اور پھر انہیں اچانک یاد آگیا کہ صوبہ میں ایک پولیس فورس بھی ہے جسے برا بھلا کہیں گے تو اگلے دن اخبار کے پہلے صفحے پر ہیڈ لائن بن جائے گی۔ لوگوں میں گورنر کی نیک نامی بڑھے گی۔ اپنے نمبر بنانے کے علاوہ اور کر کیا رہے ہیں وہ۔” ایک اور پولیس آفیسر نے تبصرہ کیا۔
” ان کا کام صرف ایک ہے باری باری اخبار نویسوں اور کالم نویسوں کو اپنے ساتھ مختلف علاقوں کے ذاتی دوروں پر لے جانا اور پھر واپسی پر ان کالم نویسوں کے تعریفوں سے بھرپور کالم پڑھنا۔ لوگ سمجھتے ہوں گے کیا گورنر پایا ہے، خلفاء راشدین کا زمانہ لوٹ آیا ہے کہ گورنر ہر وقت گشت پر رہنے لگا ہے۔ انہیں یہ پتا نہیں ہے کہ گورنر بھی ایک سیاست دان کی طرح کنویسنگ کر رہا ہے، اپنے لیے نہیں اپنے اوپر کے باسز کے لیے۔”
ایک فہمائشی قہقہہ لگایا گیا شاید عمر وہاں واحد تھا جو سنجیدہ رہا تھا۔
”ان کا خیال ہے اس طرح چوبیس گھنٹے ہمارے سر پر سوار رہ کر وہ ہمیں نکیل ڈال دیں گے۔ ہمیں اپنے اشاروں پر چلا لیں گے۔” ایک اور تند مزاج آفیسر نے کہا۔ ”اور یہ جو نوٹیفکیشن جاری ہوا ہے کہ ان کمیٹیز کے ساتھ مکمل تعاون کیا جائے۔ آخر کیوں مکمل تعاون کیا جائے۔ سول سروس میں ہم اس لیے آئے تھے کہ ہم بالآخر ان کیپٹن اور میجر کے رینک کے آفیسرز کو اپنے تعاون کی یقین دہانیاں کرواتے پھریں۔” عمر ایک بار پھر بولا۔
”پہلے ہی فیلڈ میں ان سروس آرمی آفیسر کو ڈیپوٹیشن پر بھجوا رہے ہیں، جو پہلے ریٹائر ہو چکے ہیں۔ انہیں دھڑا دھڑ کانٹریکٹس کے ذریعے ہر جگہ لا بٹھایا ہے۔ آرمی والوں کو سول سروس میں لیا جا رہا ہے۔ پھر بھی کبھی انہیں چین نہیں ہے۔ وہ چاہتے ہیں جو تھوڑی بہت پاورز دوسرے محکموں کے لوگوں کے پاس رہ گئی ہیں، انہیں بھی چھین لیا جائے۔
ایک اور آفیسر نے کہا۔
”نہیں یہ کام وہ نہیں کریں گے ۔ براہ راست ہماری سیٹوں پر آکر نہیں بیٹھیں گے۔ یہ تو گالیاں کھانے والی جگہ ہے یہاں آکر وہ عوام سے گالیاں کیوں کھائیں، وہ بس ہمیں اپنی مٹھی میں رکھنا چاہتے ہیں، عوام بھی خوش کہ بھئی بڑی محنت کر رہی ہے آرمی، پولیس کی کارکردگی بہتر کرنے کے لیے۔” اس بار عمر نے کہا ”اور اوپر سے ہمارا محکمہ منہ اٹھائے سوچے سمجھے بغیر دھڑا دھڑ نوٹیفکیشنز اور سرکلرز جاری کر رہا ہے۔ فرمانبرداری اور تابعداری کے لیے سبق پڑھا رہا ہے ہمیں۔” عمر کو اپنے محکمے کے افسران بالا پر اعتراض ہوا۔
”ان کی مجبوری ہے وہ کیا کریں، اگر یہ نہ کریں تو…کون حکومت سے مخاصمت مول لینا چاہے گا اور وہ بھی اپنی جاب اور اپنے کیریئر کو داؤ پر لگا کر، سب سے بہتر طریقہ اپنی جان بچانے کا یہی ہے کہ سر جھکاؤ اوپر والوں کی ہاں میں ہاں ملاؤ اور اپنی جان بچاؤ مائٹ ازرائٹ اور اس وقت یہ مائٹ کس کے پاس ہے سب ہی جانتے ہیں۔”
ایک قدرے جونیئر افسر نے کہا۔
”اور یہ مقابلہ کرتے ہیں ہمارے ساتھ اور نصیحتوں کے ٹوکرے لے کر آ جاتے ہیں۔ جتنا کام پولیس کا ایک سپاہی کرتا ہے اتنا فوج کے ایک جوان کو کرنا پڑے تو انہیں پتا چلے بارہ، بارہ گھنٹے کی ڈیوٹی دینے کے بعد بھی انہیں ملتا کیا ہے نہ بیوی بچوں کو کوئی سہولتیں ہوتی ہیں نہ خود اسے اور جو عام لوگوں کی بے عزتی برداشت کرنی پڑتی ہے وہ الگ اور یہ جنہیں بچوں کی تعلیم سے لے کر ان کے علاج تک کی سہولتیں دستیاب ہوتی ہیں اور گھر کے راشن تک پر رعایت ملتی ہے ، یہ ہر قدم پر اپنا اور ان کا مقابلہ کرنے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ یہ بھی ذرا اسی چار پانچ ہزار میں ان تمام سہولتوں کے بغیر دھکے کھاتے ہوئے عوام کی خدمت کریں تو پھر میں مانوں کہ ہاں بھئی بڑا جذبہ اور ڈسپلن ہے ان میں…واقعی حب الوطنی پائی جاتی ہے۔”
ایک اور آفیسر نے تنفر بھرے انداز میں کہا۔
”بہرحال یہ بات طے ہے کہ کم از کم میں اپنے کاموں میں انہیں مداخلت کے لیے کھلی چھٹی نہیں دو ں گا مجھے انہیں سر پر نہیں چڑھانا۔” عمر نے جیسے حتمی انداز میں کہا۔
”اب اس کی وجہ سے سروس ریکارڈ خراب ہوتا ہے تو ہو جائے۔ گلے میں رسی باندھ کر کم از کم میں کسی کے سامنے میں میں میں نہیں کر سکتا۔ اگر یہی کام کرنا ہوتا تو پھر اس سروس میں آنے کے بجائے کہیں اور بیٹھا ہوتا۔”
عمر نے جیسے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا۔ وہاں بیٹھے ہوئے دوسرے کسی آفیسر نے اس کی بات کے جواب میں کچھ نہیں کہا تھا مگر ان کے چہروں کے تاثرات واضح طور پر یہ بتا رہے تھے کہ وہ سب ہی آئندہ آنے والے دنوں میں تقریباً اسی قسم کی حکمت عملی اپنانے والے تھے جو عمر نے اپنانے کا اعلان کیا تھا۔
٭٭٭
”میرا نام میجر لطیف ہے میرے اور میری ٹیم کے بارے میں آپ کے پاس نوٹیفکیشن اور تفصیلات تو پہلے ہی پہنچ گئی ہوں گی۔”
عمر جہانگیر خاموشی سے بے تاثر چہرے کے ساتھ میز کے دوسری طرف بیٹھے ہوئے خاکی یونیفارم میں ملبوس اپنی ہی عمر کے اس میجر پر نظریں جمائے بیٹھا رہا جو بڑے میکانکی انداز میں چند فائلز سامنے ٹیبل پر رکھے پچھلے پانچ منٹ سے مسلسل بول رہا تھا وہ کچھ دیر پہلے دو دوسرے فوجیوں کے ساتھ اس کے آفس پہنچا تھا اور خاکی یونیفارم میں ملبوس ان تین افراد کے وہاں پہنچنے پر اس کے عملے میں جو ہڑبونگ مچی تھی اس نے عمر جہانگیر کی ناگواری میں اضافہ کر دیا تھا۔
وہ تینوں آج پہلی بار وہاں آئے تھے اور اگرچہ وہاں آنے سے پہلے عمر جہانگیر کو ان کے بارے میں مطلع کیا گیا تھا اور اس نے اپنے ماتحت عملے کو بھی آرمی مانیٹرنگ ٹیم کی آمد کے بارے میں بتا دیا تھا اور یقیناً اس کا عملہ بہت محتاط ہو گیا تھا۔ انہوں نے اپنا ریکارڈ وغیرہ بھی درست کرنے کی کوشش کی تھی مگر اس کے باوجود ان تینوں کے وہاں آنے پر عمر جہانگیر نے ان کی حواس باختگی دیکھ لی تھی۔ وہ لاشعوری طور پر خوفزدہ تھے۔
اب وہ میجر اس کے آفس میں اس کے سامنے بیٹھا اسے آئندہ آنے والے دنوں میں اپنے لائحہ عمل کے بارے میں مطلع کر رہا تھا، وہ یقیناً خاصا ہوم ورک کرکے آیا تھا اور عمر کے لیے یہ کوئی نئی یا انوکھی بات نہیں تھی۔ ان لوگوں کا انٹیلی جنس کا نظام اتنا فعال اور موثر تھا کہ چند گھنٹوں کے اندر وہ اپنی مطلوبہ معلومات حاصل کر سکتے تھے اسی لیے وہ تقریباً اس کے زیر اہتمام آنے والے ہر پولیس سٹیشن کے بارے میں بنیادی معلومات رکھنے کے علاوہ ان کی کارکردگی کے بارے میں بھی خاصا علم رکھتا تھا۔
اپنے لب و لہجے سے وہ کوئی بہت زیادہ دوستانہ مزاج کا حامل نہیں لگتا تھا اور یہ شاید آرمی میں ہونے کی وجہ سے تھا یا پھر اس ذمہ داری کی وجہ سے جو اسے سونپی گئی تھی وہ کسی لگی لپٹی کے بغیر بات کر رہا تھا اور عمر جہانگیر کے چہرے پر وقتاً فوقتاً اس کے تبصروں پر ابھرنے والے ناگواری کے تاثرات کو مکمل طور پر نظر انداز کیے ہوئے تھا۔
خاصے لوازمات کے ساتھ سرو کی جانے والی اس چائے نے بھی اس کے اس انداز میں کوئی خاص تبدیلی نہیں کی جو عمر جہانگیر کے ماتحت عملے نے خاصی عاجزی اور مستعدی کے ساتھ انہیں سروکی تھی۔ اپنے سامنے پڑی فائلز کو باری باری کھولے وہ تنبیہی انداز میں عمر جہانگیر کو اپنے اختیارات اور ذمہ داریوں کے ساتھ ان چیزوں سے آگاہ کرتا گیا جو اسے آئندہ آنے والے دنوں میں انجام دینی تھیں۔ عمر جہانگیر چائے پیتے ہوئے کسی قسم کے تبصرے کے بغیر بڑی خاموشی سے اس کی گفتگو سنتا گیا۔ جب اس لمبی چوڑی گفتگو کا اختتام ہوا تو عمر جہانگیر نے بڑے دوستانہ انداز میں اپنی بات کا آغاز کیا(وہ پہلی ہی ملاقات میں اختلافات کا آغاز نہیں کرنا چاہتا تھا)
”آپ لوگوں کو میری طرف سے پورا تعاون حاصل رہے گا نہ صرف میری طرف سے بلکہ میرے عملے کی طرف سے بھی اور آپ کے اس نگرانی کے کام سے مجھے خاصی مدد ملے گی بلکہ خاصی آسانی ہو جائے گی کہ مجھے اپنے عملے کی کارکردگی کا پتا چلتا رہے گا اور میں ان کی خامیوں سے آگاہ ہوتا رہوں گا۔”
عمر نے بڑے اطمینان سے کہتے ہوئے سامنے بیٹھے میجر کے چہرے پر نظر دوڑائی جو اس کے آخری چند جملوں پر اپنی کرسی پر پہلو بدل کر رہ گیا تھا۔
”اور۔۔۔” اس سے پہلے کہ عمر اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کچھ اور کہتا، اس میجر نے اس کی بات کاٹ دی۔
”کچھ تھوڑی سی غلط فہمی ہے جو ہونی تو نہیں چاہیے تھی کیونکہ میں نے آپ کو خاصی لمبی بریفنگ دی ہے مگر پھر بھی آپ کو ہو گئی ہے۔ ہم آپ سمیت آپ کے عملے کو مانیٹر کرنے آئے ہیں، آپ کو assist (معاونت) کرنے نہیں۔”
کھردرے لہجے میں کہے گئے اس جملے نے چند لمحوں کے لیے عمر کو خاموش کر دیا، وہ جانتا تھا اس وقت اس کے چہرے پر کئی رنگ آ کر گزرے ہوں گے۔
”اس لیے یہ غلط فہمی دور ہو جانی چاہیے کہ میری ٹیم یہاں آپ کی مدد کے لیے بھیجی گئی ہے آپ کی مدد کے لیے آپ کا اپنا عملہ کافی ہے آپ ان ہی پر اس معاملے میں انحصار کریں تو بہتر ہے۔”
اس میجر کے ترکش میں ابھی خاصے تیر باقی تھے۔
”ہم لوگ صرف یہ چاہتے ہیں کہ آپ لوگوں کی ورکنگ فیئر اور بہتر ہو اور یہ اس شہر کے پولیس کے سربراہ کے طور پر آپ کی ذمہ داری ہے۔ ہم صرف یہ دیکھیں گے کہ آپ اور آپ کا عملہ اس ذمہ داری کو کس طریقے سے پورا کر رہا ہے۔”
وہ میجر شاید محمود و ایاز کو ایک ہی صف میں کھڑا کر دینے کے مقولے پر عمل کرنے میں یقین رکھتا تھا یا پھر گربہ کشتن روز اول پر عمل پیرا تھا۔ کمرے میں موجود اپنے ماتحت پولیس آفیسرز کے سامنے عمر جہانگیر نے اپنی ہتک محسوس کی کچھ دیر پہلے کا دوستانہ رویہ اختیار کرنے کا فیصلہ اس نے چند سیکنڈز میں بدل دیا تھا۔
میں جس طرح کام کر رہا ہوں اسی طرح کرتا رہوں گا،
آرمی مانیٹرنگ ٹیم کی مانیٹرنگ سے اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی کیونکہ میں بہت اچھے طریقے سے کام کر رہا ہوں اتنے ہی اچھے طریقے سے جتنے اچھے طریقے سے ممکن ہے کیونکہ میں اپنا کام سیکھ کر یہاں آیا ہوں اور اس سارے نظام کو آپ سے بہتر جانتا ہوں اور جہاں تک عملے کی کارکردگی کا تعلق ہے تو وہ بھی بہتر ہے مگر اس سے زیادہ بہتری بھی ہو سکتی ہے کیونکہ بہتری کی گنجائش تو ہر جگہ ہوتی ہے بالکل اسی طرح جس طرح آرمی میں۔”
اس میجر کے چہرے پر ایک رنگ آ کر گزر گیا۔
”اور اس بہتری کے لیے میں خاصی کوشش کر رہا ہوں کیونکہ ہم لوگوں کو سرو کرنے کے لیے اس شعبے میں آئے ہیں بلکہ اسی طرح جس طرح آپ لوگ سرو کررہے ہیں۔”
اس بار اس میجر نے اپنی کرسی پر ایک بار پھر پہلو بدلا۔
”اب دیکھتے ہیں اس معاملے میں ہم اور آپ ”مل” کر کیا کر سکتے ہیں۔”
عمر نے ”مل” پر زور دیتے ہوئے کہا۔ سامنے بیٹھے ہوئے میجر نے ایک بار پھر پہلو بدلا، یقیناً اس نے عمر کے بارے میں اپنی رائے بدلنی شروع کردی تھی۔
”آپ سے اب آئندہ ملاقات تو رہا ہی کرے گی تو تفصیل سے باقی معاملات پر گفتگو ہو گی۔ آج کے لیے تو میرا خیال ہے اتنا ہی کافی ہے، آپ میرے پولیس سٹیشن کا راؤنڈ لینا چاہیں تو میں اے ایس پی او کو ہدایات دے دیتا ہوں وہ آپ کو ریکارڈ سمیت باقی چیزوں سے آگاہ کر دے گا اور آپ گھوم پھر کر بھی دیکھ سکتے ہیں۔ پھر اس کے بعد اگلی ملاقات میں تفصیل سے بات کریں گے۔”
عمر جہانگیر نے اپنے انداز سے انہیں یہ جتا دیا تھا کہ اب انہیں وہاں سے چلے جانا چاہیے کیونکہ میٹنگ بہت لمبی ہو گئی تھی جملے کو یہیں ختم کرنے پر اس نے اکتفا نہیں کیا بلکہ انٹر کام کا ریسیور اٹھا کر پولیس سٹیشن کے وزٹ کے بارے میں ہدایات بھی دینے لگا۔
میجر لطیف اپنی جگہ سے کھڑا ہو گیا اسے کھڑا ہوتے دیکھ کر اس کے ساتھ موجود دوسرے فوجی بھی کھڑے ہو گئے عمر نے انٹرکام کا ریسیور رکھ دیا اور خود بھی کھڑا ہو گیا۔ اس نے ایک مصنوعی مسکراہٹ کے ساتھ اپنی جگہ پر کھڑے کھڑے ٹیبل کے دوسری طرف موجود میجر کی طرف ہاتھ بڑھا دیا۔ میجر لطیف نے تکلفاً یا شاید رسماً اس کے بڑھے ہوئے ہاتھ کو تھامتے ہوئے مصافحہ کیا۔ ”آپ سے آئندہ آنے والے دنوں میں خاصی ملاقاتیں ہوتی رہیں گی۔”
عمر جہانگیر نے اس کے لہجے سے اندازہ لگا لیا تھا کہ یہ صرف رسمی جملہ نہیں تھا، وہ یقیناً اسے وارننگ دے رہا تھا۔
”ضرور کیوں نہیں اگر ان ملاقاتوں سے اس سسٹم میں کوئی بہتری ہو سکتی ہے تو ہم ضرور ملا کریں گے۔”
عمر نے اسی مصنوعی مسکراہٹ کو کچھ مزید گہرا کرتے ہوئے کہا۔ میجر لطیف نے اس کی بات کے جواب میں کچھ نہیں کہا اس نے صرف میز پر پڑی ہوئی فائلز اٹھائیں اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ آفس سے نکل گیا۔
عمر نے کمرے میں موجود ڈی ایس پی بدر جاوید کو اس کے نکلتے ہی درشتی سے کہا۔
”مجھے اس میجر اور اس کمیٹی کے تمام لوگوں کے بارے میں مکمل انفارمیشن چاہیے۔ ہر قسم کی انفارمیشن ، فیملی بیک گراؤنڈ سے لے کر ہر پوسٹنگ تک مکمل تفصیلات کے ساتھ۔”
بدر جاوید نے اس کی بات پر سر ہلاتے ہوئے کہا۔
”او کے سر…!”
”سارے پولیس سٹیشنز سے کہو اپنا ریکارڈ اپ ڈیٹ کریں۔ کسی قسم کی کوئی کوتاہی نہیں ہونی چاہیے نہ ہی میں برداشت کروں گا۔”
”This man is going to give us a very tough time”
اس نے میجر لطیف کے بارے میں تبصرہ کیا۔
”یہ گڑے مردے اکھاڑنے اور بال کی کھال اتارنے والا آدمی ہے اور خاصا بغض پالنے والی ٹائپ میں سے ہے۔ میں نہیں چاہتا کہ تم لوگوں کی وجہ سے میں اس کے سامنے شرمندگی کا شکار ہوں۔”
عمر جہانگیر نے اسے تنبیہ کرتے ہوئے کہا۔
”کوئی کوتاہی نہیں ہو گی سر۔” بدر جاوید نے ایک بار پھر یقین دلایا۔
”ٹھیک ہے تم جاؤ۔” اس نے انٹرکام اٹھاتے ہوئے ہاتھ کے اشارے سے اسے جانے کا اشارہ کیا۔
”ظفر تم اندر آؤ۔”
اس نے اپنے پی اے کو انٹرکام پر اندر آنے کی ہدایت دی اور پھر انٹرکام کا ریسیور رکھ کر اس رپورٹ کے بارے میں سوچنے لگا جو میجر لطیف سے ہونے والی اس پہلی ملاقات کے بارے میں تیار کروانے والا تھا، وہ جانتا تھا اپنے آفس میں پہنچ کر میجر لطیف بھی اسی جوش و خروش سے اس میٹنگ کے بارے میں رپورٹ تیار کرنے کا سوچ رہا ہوگا۔
٭٭٭

”جنید کے گھر والے کل کھانے پر آرہے ہیں۔ ” شام کی چائے پر نانو نے علیزہ کو بتایا۔
علیزہ نے معمول کے انداز میں انہیں دیکھا، جنید کے گھر والوں کا ان کے یہاں کھانے پر آنا کوئی نئی بات نہیں تھی۔ نانو اکثر انہیں اپنے یہاں مدعو کرتی رہتی تھیں اور خود جنید کی امی بھی ان دونوں کو اپنے یہاں کھانے پر بلاتی رہتی تھیں اس لیے علیزہ نے کسی خاص ردعمل کا اظہار کیے بغیر چائے پیتے ہوئے سر ہلا دیا۔
”شادی کی تاریخ طے کرنا چاہ رہی ہیں وہ…اسی سلسلے میں آرہے ہیں۔” نانو نے اپنی بات مکمل کی۔
وہ چائے پیتے پیتے رک گئی۔ ”شادی کی تاریخ؟” اس نے تعجب سے کہا۔
نانو کو اس کی حیرت پر حیرت ہوئی۔ ”ایک سال گزر چکا ہے علیزہ! وہ لوگ منگنی کے ایک سال بعد ہی شادی کرنا چاہتے تھے۔”
نانو نے جیسے اسے کچھ یاد دلایا۔ علیزہ نے ہاتھ میں پکڑا ہوا کپ میز پر رکھ دیا۔
”مگر جنید نے تو مجھ سے اس سلسلے میں کوئی بات نہیں کی۔”
”اس نے ضروری نہیں سمجھا ہوگا یہ کوئی غیر معمولی بات تو نہیں ہے۔” نانو نے قدرے بے نیازی سے چائے کا ایک کپ بناتے ہوئے کہا۔
”پھر بھی اسے مجھ سے بات تو کرنا چاہیے تھی یا پھر فری ہی کچھ بتا دیتی۔ میں پچھلے ہفتے ہی تو ان کے گھر پر تھی اور پھر ابھی پرسوں میری اس سے بات ہوئی ہے۔” علیزہ نے جیسے خود کلامی کی۔
”اب کل کھانے پر آرہے ہیں تو تم خود ہی اس سے پوچھ لینا کہ کیوں اس نے تمہیں نہیں بتایا لیکن مارچ میں وہ شادی کرنا چاہ رہے ہیں، اس کے بارے میں تو میں نے تمہیں چند ماہ پہلے بتایا تھا۔” نانو کو اچانک یاد آیا۔
علیزہ نے کچھ کہے بغیر چائے کا کپ اٹھا لیا۔ ”اچھا ہی ہے، جتنی جلدی میں اس ذمہ داری سے بھی فارغ ہو جاؤں اتنا ہی اچھا ہے۔” نانو نے بڑبڑاتے ہوئے کہا۔
”کیا شادی چند ماہ آگے نہیں ہو سکتی؟” علیزہ نے اچانک کہا۔
”چند ماہ آگے مگر کیوں؟” نانو نے کچھ چونک کر پوچھا۔ وہ کچھ جواب نہیں دے سکی۔
”چند ماہ آگے کس لیے؟” نانو نے ایک بار پھر اپنی بات دہرائی۔
”بس ایسے ہی۔۔۔”اس سے کوئی جواب نہیں بن پایا۔
”کوئی مناسب بات تو نہیں ہو گی یہ۔ وہ لوگ شادی آگے کرنے کی وجہ جاننا چاہیں گے۔”
”آپ کہہ دیں کہ ابھی ہم تیاری کر رہے ہیں۔” علیزہ کی بات پر نانو مسکرائیں۔
”جنید کی امی جانتی ہیں کہ ہماری تیاری مکمل ہو چکی ہے۔”
”وہ کیسے جانتی ہیں؟”
”مجھ سے ہر دوسرے تیسرے دن رابطہ ہوتا رہتا ہے ان کا، میں خود انہیں بتاتی رہتی ہوں۔” نانو نے کہا۔
”آپ بھی نانو…بس۔۔۔” علیزہ سے کوئی جواب نہیں بن پڑا۔
”کوئی دوسرا بہانا بھی تو کر سکتی ہیں۔” علیزہ نے چند لمحوں کی خاموشی کے بعد کہا۔
”ابھی مجھے ثمینہ اور سکندر سے بات کرنی ہے۔ دیکھنا ہے کہ ثمینہ کب باہر سے آ سکتی ہے پھر سکندر کی مصروفیات کا دیکھنا ہے۔ ڈیٹ تو اس کے بعد ہی طے کی جائے گی، نانو نے کہا۔
”اور اگر ممی نہیں آ سکیں یا انہوں نے ڈیٹ آگے کرنے کو کہا تو…؟” علیزہ کو اچانک خیال آیا۔
”نہیں ثمینہ ایسا کچھ نہیں کہے گی۔ میں اس سے پوچھ کر ہی اس کی سہولت کے مطابق تاریخ طے کروں گی اور اس کے نہ آنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ کیا وہ اپنی بیٹی کی شادی پر نہیں آئے گی۔” نانو نے اس کے قیاس کو مکمل طور پر رد کرتے ہوئے کہا۔
”پھر بھی نانو…بہتر ہوتا اگر آپ چند ماہ اور انتظار کر لیتیں۔”
”آخر کس لیے؟”
”بس ویسے ہی، جنید کو تھوڑا اور جان لیتی میں۔ ” اس نے چائے کا سپ لیتے ہوئے کہا۔
”میں تو سمجھتی ہوں کہ تم جنید کو اچھی طرح جان چکی ہو۔ ایک سال کافی ہوتا ہے کسی کو جاننے اور پرکھنے کے لیے اور جنید اس طرح کا لڑکا تو نہیں کہ اس کے بارے میں اتنا زیادہ محتاط ہونا پڑے۔” نانو نے قدرے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔
”میرا خیال تھا تمہاری اس کے ساتھ خاصی اچھی انڈر سٹینڈنگ ہو چکی ہے۔”
”ہاں وہ اچھا ہے مگر انڈر سٹینڈنگ۔۔۔” وہ بات کرتے کرتے رک گئی۔
”انڈر سٹینڈنگ کیا؟’ ‘ نانو نے کچھ نہ سمجھنے والے انداز میں کہا۔
”بعض دفعہ مجھے لگتا ہے اس کے ساتھ میری کوئی انڈر سٹینڈنگ نہیں ہے۔” علیزہ نے قدرے الجھے ہوئے انداز میں چائے کا کپ رکھتے ہوئے کہا۔
”یہ کیا بات ہوئی؟” نانو بھی الجھ گئیں۔
”تم نے پہلے کبھی جنید کے بارے میں اس طرح کی بات نہیں کی۔ تم تو ہمیشہ اس کی تعریف ہی کرتی رہی ہو۔”

”ہاں میں نے آپ سے کبھی اس کے بارے میں اس طرح کی بات نہیں کی اور میں اس کی تعریف ہی کرتی رہی ہوں۔” اس نے ان ہی کے انداز میں کہا۔
”اور تمہیں اس کی فیملی بھی بہت پسند ہے۔”
”ہاں مجھے اس کی فیملی بھی پسند ہے۔”
”بلکہ میرا تو خیال تھا کہ تم مینٹلی پہلے ہی ان کے ہاں ایڈجسٹ کر چکی ہو۔”
”ہاں میں مینٹلی پہلے ہی ان کے ہاں ایڈجسٹ کر چکی ہوں۔” اس نے کسی روبوٹ کی طرح میکانکی انداز میں یکے بعد دیگرے ان کے تمام جملے ان کے پیچھے دہراتے ہوئے کہا۔
”تو پھر آخر پرابلم کیا ہے؟” نانو نے قدرے اکتائے ہوئے انداز میں کہا۔
”پتا نہیں پرابلم کیا ہے مگر میں بعض دفعہ جنید کو سمجھ نہیں پاتی۔” اس نے کچھ بے بسی سے کہا۔
”مثلاً کیا سمجھ نہیں پاتیں تم اس کے بارے میں؟” نانو نے سنجیدگی سے اس کا چہرہ دیکھتے ہوئے کہا۔
”میں نہیں جانتی کہ اپنی فیلنگز کا اظہار کیسے کروں۔ مجھے یہ بتانا مشکل لگ رہا ہے کہ اس کے رویے کی کیا بات میری سمجھ میں نہیں آتی۔ بس بعض دفعہ اس کا پوائنٹ آف ویو میرے پوائنٹ آف ویو سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔” نانو نے ایک گہرا سانس لیا۔
”یہ اتنی اہم بات تو نہیں ہے نقطہ نظر میں فرق ہونا، تمہارے نانا اور مجھ میں بھی تقریباً ہر بات پر اختلاف رائے موجود تھا مگر اس کے برعکس ہم نے پچاس سال کا عرصہ اکٹھا گزارا اور خاصی ہنسی خوشی گزارا۔” انہوں نے بڑے ہلکے پھلکے انداز میں کہا۔
”آپ دونوں کی شادی کسی کورٹ شپ کے بغیر ہوئی تھی۔ ایک سیدھی سادی ارینج میرج…ورنہ شاید ایک دوسرے کی نیچر کو اتنا مختلف دیکھ کر آپ دونوں بھی شادی نہ کرتے مگر میرا مسئلہ یہ ہے کہ میں پہلے ہی اس کے بارے میں جان چکی ہوں جب کہ آپ دونوں کو بعد میں ایک دوسرے کے بارے میں پتا چلا۔” علیزہ نے قدرے سنجیدگی سے کہا۔
”ہاں بعد میں یہ سب پتا چلا مگر پہلے بھی پتا چلتا تو بھی کچھ زیادہ فرق نہ پڑتا۔ میں اور وہ پھر بھی ایک دوسرے کے ساتھ ہی شادی کرنا پسند کرتے۔” نانو نے خاصی قطعیت سے کہا۔
”He was a nice man to live with”
علیزہ نے ایک گہرا سانس لیا۔
”اور جنید کے بارے میں بھی میری رائے اتنی ہی اچھی ہے جتنی تمہارے نانا کے بارے میں بلکہ کئی اعتبار سے وہ تمہارے نانا سے بہتر ہے۔” نانو نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا۔
”مثلاً؟”
”مثلاً… غصے کے معاملے میں…وہ Short tempered(غصیل) نہیں ہے۔”
”ہاں…Short temperedنہیں ہے مگر غصہ بہرحال اسے آتا ہے۔” علیزہ نے انہیں بتایا۔
”نارمل بات ہے، کسے نہیں آتا، مسئلہ صرف تب ہوتا ہے جب بات بے بات آتا ہو۔” نانو نے لاپروائی سے اس کی بات کے جواب میں کہا۔
”بہت خیال رکھنے والا آدمی ہے۔”
علیزہ خاموش رہی۔
”خوش مزاج ہے…فضول بحث نہیں کرتا اور چھوٹے موٹے اختلافات کو نظر انداز کر دیتا ہے۔تمہارے نانا میں یہ چاروں خصوصیات نہیں تھیں۔”
نانو نے یکدم مسکراتے ہوئے کہا۔
”وہ Short tempered تھے اور مجھے اس کا اندازہ بہت شروع میں ہی ہو گیا تھا۔ خوش مزاجی بھی ان کے مزاج کا حصہ نہیں تھی۔ وہ خاصے کم گو تھے۔ صرف ضرورت کے وقت ہی بولنا پسند کرتے تھے اور اگر ان کے مزاج میں کچھ شگفتگی آئی تھی تو جاب سے ریٹائر ہونے کے بعد…اپنے بڑھاپے میں۔
اور چھوٹی موٹی باتوں کو نظر اندازا نہوں نے کبھی کیا ہی نہیں۔ بہت محتاط رہنا پڑتا تھا ان سے بات کرتے ہوئے ورنہ وہ چھوٹی سی بات پر بھڑک اٹھتے تھے اور پھر خاصے عرصے تک وہ چھوٹی سی بات ان کے ذہن میں اٹکی رہتی تھی اور بحث کے وہ کس حد تک شوقین تھے یہ تو تم بھی اچھی طرح جانتی ہو۔” نانو نے اپنا کپ میز پر رکھتے ہوئے کہا۔
”نہ صرف بحث کرنے کے شوقین تھے بلکہ معمولی باتوں پر بحث کرنے کے شوقین تھے اور اپنی بات پر اڑ جانے والوں میں سے تھے۔ دوسرا چاہے انسائیکلوپیڈیا سامنے رکھ کر بات کرتا۔ وہ میں نہ مانوں کے مصداق ہی چلتے۔ مجال ہے کہ کسی دوسرے کی بات کو کوئی اہمیت دے دیتے اور اس کے باوجود میں نے ان کے ساتھ بڑی اچھی زندگی گزاری ہے۔ انہیں یا مجھے دونوں کو کبھی کوئی پچھتاوا نہیں ہوا کہ ہم دونوں کی شادی کیوں ہو گئی یا…ہم نے کبھی یہ بھی نہیں سوچا کہ ہماری کہیں اور شادی ہوئی ہوتی تو بہتر ہوتا۔ پھر تمہیں اتنے خدشات کیوں ہیں جنید کے بارے میں۔” نانو اچانک سنجیدہ ہو گئیں۔

”آپ جنید کو اتنا زیادہ کیسے جاننے لگی ہیں؟” علیزہ نے اچانک ان سے پوچھا۔
”شروع سے ہی جانتی ہوں۔” نانو نے بے ساختہ کہا۔
”شروع سے ہی جانتی ہیں؟” علیزہ نے کچھ چونک کر انہیں دیکھا مگر آپ کی بات چیت تو جنید اور اس کے خاندان سے اس پر پوزل کے آنے کے بعد ہوئی ہے۔”
”ہاں میرا مطلب ہے کہ ایک سال سے جب سے وہ یہاں آنے لگا ہے۔ شروع سے ہی وہ بڑی سلجھی ہوئی عادتوں کا مالک ہے۔” نانو نے جلدی سے تصحیح کی۔
”ایک سال میں اس نے یہاں چند گھنٹوں سے زیادہ وقت نہیں گزارا اور چند گھنٹے کیا کسی آدمی کے بارے میں حتمی رائے قائم کرنے کے لیے کافی ہوتے ہیں؟” اس نے سنجیدگی سے نانو سے پوچھا۔
”ہر آدمی کے بارے میں نہیں مگر کچھ لوگوں کے بارے میں حتمی رائے قائم کرنے کے لیے تو چند منٹ بھی کافی ہوتے ہیں۔” نانو نے اسی کے انداز میں کہا۔
”میں نے یہ نہیں کہا کہ جنید برا ہے۔ میں صرف یہ کہہ رہی ہوں میں اسے سمجھ نہیں پاتی۔” علیزہ نے مدافعانہ انداز میں کہا۔
”بعض دفعہ تو مجھے تمہیں سمجھنے میں بھی دشواری ہوتی ہے اور بعض دفعہ تم بھی مجھے سمجھ نہیں پاتی ہو گی۔” نانو نے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔ ”اس کے باوجود ہم دونوں کی آپس میں خاصی انڈر سٹینڈنگ ہے یا پھر تم یہ سمجھتی ہو کہ تمہاری میرے ساتھ بھی انڈر سٹینڈنگ نہیں ہے۔”
علیزہ ان کی بات پر صرف مسکرائی۔ اس نے کچھ کہا نہیں ورنہ وہ کہنا چاہتی تھی کہ ہاں وہ ان کے ساتھ بھی بات کرتے ہوئے اکثر انہیں اپنی بات اپنا نقطہ نظر سمجھانے میں ناکام رہتی ہے۔
”چند ماہ اس کے ساتھ اور گزارنے کے بعد اگر تمہیں یہ احساس ہونا شروع ہو گیا کہ وہ تمہارے لیے موزوں نہیں ہے تو پھر کیا کرو گی؟” نانو نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا۔
”خاص طور پر اس صورت میں جب تم اس کے لیے اپنے دل میں ایک نرم گوشتہ بھی پیدا کر چکی ہو۔ کیا منگنی توڑ دو گی اور کیا یہ فیصلہ اس وقت زیادہ مشکل نہیں ہوگا؟”
نانو نے جیسے ایک آپشن اس کے سامنے حل کرنے کے لیے رکھتے ہوئے کہا۔
”لمبی کورٹ شپ میں ایسے مسائل تو ہوتے ہی ہیں۔ جنید مجھے بتا رہا تھا پچھلے چند ماہ میں تم دونوں کے درمیان کچھ اختلافات ہوتے آرہے ہیں۔”
علیزہ نے چونک کر انہیں دیکھا۔ اسے توقع نہیں تھی کہ جنید اس طرح کی بات نانو سے کر سکتا تھا۔
”اس نے کیا بتایا ہے آپ کو؟”
”کچھ زیادہ نہیں، بس وہ یہ کہہ رہا تھا کہ تم اس سے قدرے ناراض رہنے لگی ہو۔”
”اس نے آپ کو یہ نہیں بتایا کہ میں ناراض کیوں رہنے لگی ہوں؟” علیزہ نے کچھ ناگواری سے پوچھا۔
”ہاں وہ کہہ رہا تھا کہ تم کو اس نے عمر کے حوالے سے خبریں شائع کرنے سے منع کیا تھا اس پر تم۔۔۔” علیزہ نے ان کی بات کاٹ دی۔
”حالانکہ عمر کے خلاف کوئی بھی خبر میں نے شائع نہیں کی تھی۔”
”تمہاری دوست صالحہ نے شائع کی تھی۔ تم نے اس کو منع بھی تو نہیں کیا۔” نانو نے کچھ شاکی نظروں سے اسے دیکھا۔
”میں اسے منع کیوں کرتی۔ آپ اس بارے میں میرے پوائنٹ آف ویو کو اچھی طرح جانتی ہیں۔” علیزہ نے کہا۔
”جو بھی تھا مگر مجھے جنید کی بات بالکل بھی Unreasonable (نامعقول) نہیں لگی۔ اس کی جگہ کوئی اور بھی ہوتا تو تمہیں اسی طرح سمجھاتا، سڑکوں پر پوسٹر اور بینر لے کر کھڑے ہونے کے لیے اور بہت سے لوگ ہوتے ہیں ہماری فیملیز کی عورتوں کو ایسے کاموں میں شریک نہیں ہونا چاہیے اور پھر اپنے ہی خاندان کے ایک فرد کے خلاف…پھر اگر اس پر اس نے کسی ردعمل کا اظہار کیا تو وہ یہ کرنے میں بالکل Justified(حق بجانب) تھا۔ کم از کم یہ ایسی بات نہیں تھی جس پر تم ناراض ہوتی پھرتیں۔” نانو نے دوٹوک انداز میں کہا۔
”اس کی آکورڈ پوزیشن کا اندازہ کرنا چاہیے تھا تمہیں، اس کی فیملی کیا سوچتی تمہارے بارے میں اور صرف کلوز فیملی ممبرز ہی نہیں دوست احباب کو بھی خاصی وضاحتیں دینی پڑی ہوں گی اسے لوگوں کے سامنے اور اس پر تمہاری ناراضی۔” نانو نے اسے بولنے کا موقع دیئے بغیر کہا۔ ”پھر اگر ان باتوں پر کوئی اختلاف رائے ہوتا ہے تو ٹھیک ہی ہوتا ہے۔ اگر یہ وہ بات ہے جس پر تم اس کے رویے کو سمجھ نہیں سکتیں تو بہتر ہے تم خود اپنے رویے پر ایک بار نظر ثانی کرو۔ ہو سکتا ہے تم اس کے اس رویے کو سمجھ سکو۔
تمہیں اگر یہ لگتا ہے کہ اسے تم سے زیادہ تمہاری فیملی ممبرز کی پروا ہے اور ان کی عزت کی فکر رہتی ہے تو تمہیں تو خوش ہونا چاہیے۔ کم از کم اس معاملے میں اس کا رویہ نامناسب نہیں ہے۔” نانو نے بڑی صاف گوئی سے کہا۔
”اور آپ یہ کہہ رہی ہیں کہ اس نے آپ کو زیادہ باتیں نہیں بتائیں۔ مگر میرا خیال ہے کہ وہ آپ کو سب کچھ خاصی تفصیل سے بتاتا رہا ہے۔” علیزہ نے ان کی بات کے جواب میں کہا۔
”تمہیں یہ بات بھی بری لگی ہے؟” نانو نے اسے غور سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔
”کیا نہیں لگنی چاہیے؟” اس نے جواباً سوال کیا۔
”نہیں لگنی چاہیے کیونکہ اس نے سب کچھ میرے استفسار پر بتایا تھا۔ میں جاننا چاہ رہی تھی کہ آخر تم اس سے اکھڑی اکھڑی کیوں رہنے لگی ہو۔”
نانو نے اس کی بات کے جواب میں جیسے کچھ وضاحت کرتے ہوئے کہا۔
”اور پھر یقیناً آپ نے اس ساری صورت حال کا حل شادی کی صورت میں نکالا ہوگا۔”
”نہیں یہ حل میں نے پیش نہیں کیا۔ میں نے صرف تجویز دی تھی اسے کہ بہتر ہے تم دونوں اب شادی کر لو۔ اس نے اپنے گھر والوں سے بات کی…ان کی بھی یہی خواہش تھی اس لیے۔”
علیزہ نے ان کی بات کاٹ دی۔ ”آپ بھی نانو بعض دفعہ حد کر دیتی ہیں۔” اس کے لہجے میں خفگی تھی۔
”تو کیا مجھے یہ انتظار کرنا چاہیے کہ کب تم لوگوں کے اختلافات اور بڑھیں اور تلخیوں اور کشیدگی کے بعد رشتہ ختم ہونے کی نوبت آن پہنچے۔”
”ایسا کبھی نہیں ہونا تھا۔”
”کیوں تم یہ کس طرح کہہ سکتی ہو؟”
”بس کہہ سکتی ہوں۔” اس نے ٹیبل پر پڑا ہوا اپنا موبائل اٹھاتے ہوئے کہا۔
”پھر وہ لوگ کل آرہے ہیں تو میں انہیں تاریخ دے دوں گی۔” نانو نے جیسے اسے خبردار کرتے ہوئے کہا۔
”دے دیں۔ آپ کی اتنی لمبی چوڑی پلاننگ اور سکیمنگ کو میں برباد نہیں کروں گی۔” علیزہ نے کچھ ہلکے پھلکے انداز میں کہا۔
نانو اس کی بات پر مسکرا دیں۔
”تم شہلا کو بھی کل بلوا لینا۔”
”بلوا لوں گی، وہ ویسے بھی یہاں کا چکر لگانے کا سوچ رہی ہے۔” اس نے لاؤنج سے نکلنے سے پہلے کہا۔
”بہتر ہے کہ کل تم آفس نہ جاؤ۔ گھر پر ہی رہو۔’ ‘ نانو نے اسے کہا۔
”نہیں کل آفس تو مجھے جانا ہے مگر میں وہاں سے جلدی آ جاؤں گی۔”
”جلدی…کس وقت…؟”
”دوپہر کو لنچ کے بعد آ جاؤں گی بلکہ شاید لنچ آور کے دوران ہی۔” اس نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔
”ہاں ٹھیک ہے۔ یہ بہتر رہے گا۔” نانو نے کچھ مطمئن ہوتے ہوئے کہا۔
٭٭٭
اگلے روز شام کو جنید کے گھر والے ان کے ہاں آئے تھے۔ نانو، ثمینہ اور سکندر سے پہلے ہی فون پر بات کر چکی تھیں دونوں نے انہیں اگلے ماہ کی کوئی بھی تاریخ طے کر دینے کا کہا تھا۔ دونوں فیملیز نے کھانے کے بعد باہمی مشورے سے تاریخ طے کر لی۔
جنید اپنے گھر والوں کے ساتھ نہیں آیا تھا۔ رات بارہ بجے کے بعد جب اس کے گھر والے واپس گئے تو اس کے کچھ دیر بعد اس نے علیزہ کو فون کیا۔ اسی وقت سونے کے لیے اپنے کمرے میں گئی تھی۔
”میں صرف مبارکباد دینے کے لیے کال کر رہا ہوں۔” رسمی سلام و دعا کے بعد اس نے علیزہ سے کہا۔ اس کا لہجہ خاصا خوشگوار تھا۔
”تھینکس مگر تین دن پہلے جب ہم لوگ ملے تھے تو آپ کو مجھے بتانا چاہیے تھا۔” علیزہ نے کہا۔
”کس چیز کے بارے میں؟” جنید نے قدرے بے نیازی سے کہا۔
”یہی کہ آپ کے گھر والے تاریخ طے کرنے کے لیے ہمارے گھر آنے والے ہیں۔”
”میں نے سوچا تمہیں سرپرائز دوں۔”
”میں سوچ رہی تھی آپ کہیں گے کہ آپ کو اس کے بارے میں کچھ خبر ہی نہیں تھی۔”
وہ دوسری طرف ہنسنے لگا ”نہیں…میں کوئی لڑکی نہیں ہوں کہ اسے آخری لمحوں تک کچھ پتا ہی نہ ہو اور نہ ہی یہ کوئی فلم ہے۔ ظاہر ہے میری شادی کی تاریخ مجھ سے پوچھے بغیر کیسے طے کی جا سکتی ہے۔”
”ہاں آپ سے پوچھے بغیر کیسے طے کی جا سکتی ہے۔ وہ تو صرف مجھ سے پوچھے بغیر طے کی جا سکتی ہے۔” علیزہ نے شکوہ کیا۔
”یار! بتا تو رہا ہوں ، تمہارے لیے سرپرائز تھا۔ اچھا سرپرائز نہیں تھا کیا؟” وہ اسی طرح شگفتگی سے بولتا رہا۔
”بہار کے موسم میں شاید میں واحد آدمی ہوں گا جو اتنی خوشی خوشی اپنی رضامندی کے ساتھ آزادی کے بجائے غلامی قبول کروں گا۔ تمہیں تو میرے اس جذبے کو سراہنا چاہیے۔” اس بار اس کے لہجے میں مصنوعی سنجیدگی تھی۔ How very magnanimous(کتنا باحوصلہ ہوں) غلامی قبول کروں گا۔”
”کیسی غلامی؟”
”نہیں شاید قید کہتے ہیں اسے…ہے نا؟” جنید نے فوراً اپنے جملے میں تصحیح کرتے ہوئے کہا۔
”جی نہیں قید بھی نہیں کہتے۔”
”اچھا تو پھر کیا کہتے ہیں؟”
”میرا خیال ہے اسے بس شادی ہی کہتے ہیں۔”
”واقعی؟” اس بار دوسری طرف سے کچھ مزید حیرانی کا اظہار کیا گیا۔
”جی واقعی۔۔۔” وہ اس کے انداز پر مسکرائی۔
”اس میں قید یا غلامی والی کوئی بات نہیں ہوتی؟” سنجیدگی سے تصدیق کی گئی۔
”نہیں کم از کم مردوں کے لیے ایسی کوئی بات نہیں ہوتی۔ اگر ایسا کچھ ہو بھی تو خواتین کے لیے ہوتا ہے۔” علیزہ نے جتانے والے انداز میں کہا۔
”اچھا…! مگر میرے دوستوں کا تجربہ تو اس کے برعکس ہے۔” وہ ابھی بھی اسی موڈ میں بظاہر بڑی سنجیدگی کے ساتھ گفتگو کر رہا تھا۔
”معجزات بھی ہوتے ہیں مگر زیادہ تر نہیں، آپ کے دوستوں کے ساتھ کوئی معجزہ ہوا ہوگا۔” علیزہ اس کی گفتگو سے محظوظ ہو رہی تھی۔
”ہو سکتا ہے میرے معاملے میں بھی ایسا کوئی معجزہ ہو جائے؟” دوسری طرف سے اپنے خدشے کا اظہار کیا گیا۔
”ایسے معجزوں کے لیے خواتین میں کچھ کشف اور کرامات کا ہونا ضرور ہے اور میں آپ کو یقین دلاتی ہوں کہ میں ان دونوں چیزوں سے عاری ہوں۔”
”آپ سے یہ جان کر خاصی ہمت بندھی ہے میری، خاصا حوصلہ ہوا ہے مجھے یعنی میری آزادی پر کوئی حرف نہیں آئے گا۔”

”نہیں آپ تسلی رکھیں، آپ کی آزادی پر کوئی حرف نہیں آئے گا۔ آپ ایسے حضرت ہیں بھی نہیں جو اپنی آزادی پر کوئی حرف برداشت کر لیں۔”
علیزہ نے اسے تسلی دی دوسری طرف سے وہ بے اختیار ہنسا۔
”I am very timid. ” (میں تو بہت بزدل لوگوں میں سے ہوں)
”اگر آپ ”اپنے” لیے timid (بزدل ) استعمال کررہے ہیں تو یقیناً ڈکشنری میں Timid کا مطلب بدل چکا ہوگا۔” وہ اس کی بات پر ایک بار پھر ہنسا۔
”میرے بارے میں تم کچھ ضرورت سے زیادہ نہیں جان گئیں؟”
”نہیں ضرورت کے مطابق ہی جانا ہے آپ کو۔”
”تھوڑی سی رومانٹک گفتگو اب لازم نہیں ہو گئی ہم پر؟ ” وہ اس کے جواب سے محظوظ ہوتے ہوئے بولا۔
”میرا خیال ہے ابھی تک ساری گفتگو رومانٹک ہی ہوئی ہے۔”
”نہیں…نہیں…میں کچھ اظہار محبت اور وعدوں وغیرہ کی بات کر رہا ہوں…چاند تارے توڑنے ٹائپ والی باتیں۔”
علیزہ ہنس پڑی ”نہیں اس کی ضرورت نہیں ہے۔ ان چیزوں کو توڑنے کے بغیر بھی آپ کے بارے میں میری رائے خاصی اچھی ہے۔”
”یہ سن کر خاصی خوشی ہوئی ہے مجھے ورنہ میرا خیال تھا کہ پچھلے چند ماہ میں ہونے والے واقعات کے بعد میرے بارے میں تمہاری رائے کا گراف خاصا نیچے چلا گیا ہوگا۔” وہ اب اسے چھیڑ رہا تھا۔
”ہونا تو چاہیے تھا مگر بہرحال ہوا نہیں۔”
”تب مجھے خود کو خوش نصیب سمجھنا چاہیے۔”
”یہ آپ پر منحصر ہے۔” اس نے کہا وہ اب اپنی سینڈل کے اسٹیرپس کھولتے ہوئے اپنے بیڈ پر بیٹھ رہی تھی۔
”یار! تمہیں بھی تو خوش قسمت سمجھنا چاہیے مجھے۔”
”اچھا ٹھیک ہے، آپ بڑے خوش قسمت ہیں۔ اب آپ یقیناً یہ کہیں گے کہ میں بھی خود کو خوش قسمت سمجھوں۔”
جنید نے بے اختیار قہقہہ لگایا۔
”آج تمہاری ہر Sense (حس) بڑی شارپ ہے۔ میرے کہے بغیر ہی اگلا جملہ بوجھ رہی ہو، کمال کی انڈر سٹینڈنگ ہے ہماری۔”
وہ اس کے آخری جملے پر مسکرائی، جنید واقعی آج بڑے موڈ میں تھا۔
”اگر آپ کے ساتھ رہنا ہے تو senses کو شارپ کرنا ہی پڑے گا۔ ورنہ خاصی مشکل ہو جائے گی۔”
”کس کو…؟ مجھے یا تمہیں؟”
”مجھے…آپ کو تو خاصی آسانی ہو جائے گی۔” علیزہ نے تکیہ کو گود میں لیتے ہوئے کہا۔
) You are pretty intelligent تم بہت ذہین ہو)
جنید نے مسکراتے ہوئے اس کی بات کے جواب میں کہا۔
”آپ Pretty کے بعد کوما لگا کر یہ بات کہہ رہے ہیں؟” جنید اس کی بات پر بے اختیار محظوظ ہوا۔
”نہیں فل سٹاپ لگا کر کہہ رہا ہوں You are pretty ”اس بار علیزہ اس کی بات پر ہنسی۔
”اور Intelligent؟” اس نے ہنسی روکتے ہوئے پوچھا۔
”فی الحال اس کو delete کر دیتے ہیں۔ بات Pretty تک ہی رکھتے ہیں اس سے ماحول خاصا خوشگوار ہو گیا ہے۔” جنید کا اشارہ اس کی ہنسی کی طرف تھا۔
”تعریف کے لیے شکریہ ادا تو نہ کروں نا؟”
”بالکل نہیں آپ کی تعریف کرکے میں اپنا فرض ادا کر رہا ہوں۔ فرض کی ادائیگی پر کیسا شکریہ ” جنید اب اسے تنگ کر رہا تھا۔
”اچھا تو صرف فرض کی ادائیگی کے لیے تعریف کررہے ہیں دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر نہیں کر رہے۔” علیزہ مصنوعی سنجیدگی سے بولی۔

”دل تو already (پہلے ہی) آپ کے پاس ہے۔ میں تو اس وقت دماغ کو استعمال کرتے ہوئے تعریف کر رہا ہوں۔
sane, sensible thing (دانا اور سمجھ دار)
علیزہ نے بے اختیار ایک گہرا سانس لیا۔
اس کی برجستگی آج واقعی لاجواب کر دینے والی تھی۔
It means that I am going to marry a heartless person ( اس کا مطلب ہے کہ ایسے شخص سے شادی کر رہی ہوں جس کا دل ہی نہیں ہے)
On the contrary I’m going to marry a girl with two hearts (اس کے بر عکس میں جس لڑکی سے شادی کر رہا ہوں اس کے دو دل ہیں)
جنید نے اتنی ہی بے ساختگی سے کہا۔
”میڈیکل سائنس میں دو دلوں والے انسان کو کیا کہا جاتا ہے۔” علیزہ نے بڑے سنجیدہ لہجے میں کہا۔
”میڈیکل سائنس کا تو مجھے پتا نہیں مگر غالب اسے ”محبوب” کہتے ہیں۔”
علیزہ بے اختیار کھکھلائی، جنید کے منہ سے غالب کا حوالہ اسے بے حد دلچسپ لگا تھا۔
”میں کبھی سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ آپ بھی زندگی میں کبھی غالب کی بات کریں گے۔ اقبال کا ذکر کب فرمائیں گے؟”
”اقبال کا ذکر مشکل ہی ہے، وہ خودی کی بات کرتے ہیں اور محبت ہو جانے کے بعد خودی کہاں باقی رہتی ہے۔اس لئے اقبال کا ذکر اب باقی ساری زندگی مشکل ہی ہے۔ بس غالب ہی ٹھیک ہیں۔”
”وہی غالب جو کہتے ہیں کہ عشق نے نکما کر دیا؟”
”غالب تو یہ بھی فرماتے ہیں”
بلائے جان ہے غالب اس کی ہر بات
عبارت کیا، اشارت کیا، ادا کیا
”میرے سر کے اوپر سے گزر گیا ہے آپ کا یہ شعر۔” علیزہ نے جیسے ہتھیار ڈالتے ہوئے کہا۔
”یہ میرا نہیں غالب کا شعر ہے اس لئے اگر آپ کے سر کے اوپر سے گزر گیا تو کوئی بات نہیں، میں اعتراض تب کرتا اگر میرا شعر آپ کے سر کے اوپر سے گزر جاتا۔”
”آپ کا اپنا شعر ہوتا تو وہ بھی میرے سر کے اوپر سے ہی گزرتا۔ لٹریچر اور خاص طور پر شعر و شاعری کے معاملے میں کچھ زیادہ اچھا ذوق نہیں رکھتی۔”
”آپ فکر نہ کریں جناب، میرے ساتھ رہیں گی تو ٹھیک ہو جائیں گی۔”
”ٹھیک ہو جاؤں گی یا آپ ٹھیک کر دیں گے؟”
”دونوں میں کوئی فرق ہے؟”
”بہت ۔۔۔”
”میں ٹھیک نہیں کروں گا آپ خود ہی ٹھیک ہو جائیں گی۔”
”ابھی ٹھیک نہیں ہوں؟”
”نہیں ٹھیک ہیں مگر بعد میں کچھ زیادہ ٹھیک ہو جائیں گی یا پھر میں ٹھیک ہو جاؤں گا۔” اس نے ایک گہری سانس لیتے ہوئے کہا۔
”صرف ٹھیک؟ زیادہ ٹھیک نہیں ہوں گے آپ؟”
اس بار وہ اس کی بات پر بے اختیار ہنسا۔ ”چلیں …زیادہ ٹھیک ہو جاؤں گا۔ آپ کی طرح غالب کے شعر میرے بھی سر کے اوپر سے گزرنے لگیں گے۔”
”آپ بڑے عجیب آدمی ہیں جنید!”
”یہ تعریف ہے یا تنقید؟” اس نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔
”دونوں ہی نہیں ہیں، بس تبصرہ ہے۔” علیزہ نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔
”پھر ٹھیک ہے۔ مگر آپ جب میرے گھر آ کر میرے ساتھ رہیں گی تو آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ آپ کی یہ رائے بہت غلط اور بے موقع تھی۔ میں بڑا سیدھا سادھا آدمی ہوں۔” اس بار وہ بھی سنجیدہ ہو گیا۔
”آپ سے ایک بات پوچھنا چاہ رہی تھی میں؟”
”جی فرمائیں؟”
”کیا نیوز پیپر سے ریزائن کر دوں میں؟”
”اس کا فیصلہ تم خود کر سکتی ہو مجھ سے پوچھنے کی ضرورت نہیں ہے۔” جنید نے بڑی سہولت سے کہا۔
”مگر میری سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا۔”
”یہ اتنا مشکل فیصلہ تو نہیں ہے۔”
”میرے لئے ہے۔”
”تم جو چاہتی ہو وہ کرو۔”
”مجھے یہ بھی نہیں پتا کہ میں کیا چاہتی ہوں، میں ڈبل مائنڈڈ ہو رہی ہوں اس لئے آپ سے پوچھ رہی ہوں کیا یہ ضروری ہے کہ میں ریزائن کر دوں؟”
”نہیں ضروری نہیں ہے۔”
”آپ کے گھر والوں کو اس پر کوئی اعتراض ہو گا؟”
”نہیں گھر والوں کو تو نہیں ہو گا مگر مجھے ہو سکتا ہے۔”
”آپ کو کیوں ہو گا؟”

”کیا تمہیں یقین ہے کہ تم گھر اور آفس کو اکٹھا Manage کر سکتی ہو؟” اس بار جنید واقعی سنجیدہ تھا۔
”پتا نہیں اسی لئے تو میں کنفیوز ہو رہی ہوں۔”
”تم کو اندازہ تو ہو گا؟”
”کوئی اندازہ نہیں ہے، پہلے مجھ پر گھر کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے، صرف جاب ہی ہے۔”
”میرے گھر آ کر بھی تو تمہیں کوئی کام تو نہیں کرنا پڑے گا مگر پھر بھی بہت سی دوسری چیزیں ہوتی ہیں۔” جنید بات کرتے کرتے رکا۔
”تم جاب نہیں چھوڑنا چاہتیں؟”
”جاب …؟ میں چھوڑنا چاہتی ہوں مگر ابھی نہیں۔”
”علیزہ! میں کوئی کنزرویٹو آدمی نہیں ہوں اگر تم میں کوئی ٹیلنٹ ہے تو میں اسے ضائع کرنا نہیں چاہوں گا …مگر جس فیلڈ میں تم ہو یہ قدرے عجیب ہے تم اکثر فنکشنز کور کرنے جاتی ہو۔ فنکشنز کہاں ہوں، کب ہوں، تم گھر کب پہنچو …یہ سب کچھ خاصا complicated ہوتا ہے۔”
”ہاں میں جانتی ہوں اور اسی لئے ڈبل مائنڈڈ ہوں، مگر صرف میں صرف کھانے پینے، شاپنگ کرنے اور سونے والی زندگی گزارنا نہیں چاہتی۔ سوسائٹی میں کچھ تو کنٹری بیوشن ہونا چاہئے میرا۔”
”تم فری لانسنگ کر سکتی ہو۔” جنید نے تجویز پیش کی۔
”فری لانسنگ؟” وہ سوچ میں پڑ گئی۔
”تمہارے لئے یہ خاصا آسان رہے گا۔” جنید نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا۔
”میں نے اس کے بارے میں سوچا نہیں۔”
”تو سوچ لو …بلکہ تم ایسا کرو …ریزائن کرنے کے بجائے چھٹی لے لو کچھ عرصہ کے بعد تم اپنی روٹین اور زندگی کو دیکھ لینا اور پھر فیصلہ کرنا زیادہ آسان ہو جائے گا تمہارے لئے۔ بعد میں ہم دونوں زیادہ بہتر طریقے سے اس کے بارے میں کچھ طے کر لیں گے، یہ بھی دیکھ لیں گے کہ تمہارے لئے اور alternatives کیا ہیں۔ بلکہ تم دیکھنا کہ امی تھوڑا بہت سوشل ورک کر رہی ہیں اس میں تم کس طرح مدد کر سکتی ہو۔ تمہارا تو سبجیکٹ بھی سوشیالوجی ہی رہا ہے۔ ضروری تو نہیں ہے کہ صرف جرنلزم کے ذریعے ہی سوسائٹی میں کوئی کنٹری بیوشن کی جائے۔”
وہ اس کی بات غور سے سنتی رہی۔
”ہاں یہ ضروری نہیں ہے۔”
”پھر اور بہت سارے کام ہیں جو تم کر سکتی ہو مگر یہ ضروری نہیں کہ نائن ٹو فائیو والا کام کیا جائے اور پھر روز ہی کیا جائے، پھر ر?