Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 35

امربیل از عمیرہاحمد
۔۔۔۔
قسط نمبر 35
۔۔۔۔۔
باب 36

نانو کی بات کا جواب دینے کی بجائے عمر نے اپنے سامنے سینٹر ٹیبل پر پڑا ہوا موبائل اٹھا لیا… وہ اب کوئی نمبر ملا رہا تھا۔
علیزہ نے نانو کو دیکھا، وہ کچھ نہ سمجھنے والے انداز میں عمر کو دیکھ رہی تھیں۔ اس خبر پر عمر کا ردعمل ان کے لئے غیر معمولی اور حیران کن تھا۔ وہ بار بار موبائل پر کچھ نمبر ڈائل کر رہا تھا۔ مگر شاید رابطہ قائم نہیں ہو پا رہا تھا۔ اب اس کے چہرے پر جھنجھلاہٹ نظر آنے لگی۔ موبائل بند کرکے اس نے تقریباً اسے سینٹر ٹیبل پر پھینک دیا۔ جو وہاں سے پھسلتا ہوا نیچے کارپٹ پر گر پڑا اب وہ لاؤنج میں موجود ٹیلی فون کی طرف بڑھ گیا۔ علیزہ اور نانو خاموشی سے اس کی سرگرمیاں دیکھتی رہیں۔
”انکل ایاز سے بات کرواؤ۔” وہ اب فون پر بڑی درشتی کے ساتھ کسی سے کہہ رہا تھا۔
”آپ کون ہیں؟” دوسری طرف سے اس سے یقیناً یہی پوچھا گیا تھا جس کے جواب میں اس نے کہا۔
”میں عمرجہانگیر ہوں۔ ان کا بھتیجا۔”
علیزہ نے یک دم اس کے چہرے کو سرخ ہوتے دیکھا۔
”بات نہیں کرنا چاہتے وہ مجھ سے؟… فون دو تم انہیں۔” وہ اب بلند آواز سے کسی سے کہہ رہا تھا۔
”میں انہیں فون نہیں دے سکتا۔ وہ آپ سے بات کرنا نہیں چاہتے۔ البتہ آپ کے لئے ان کا ایک پیغام ہے۔”
دوسری طرف سے اسے اطلاع دی گئی۔
”کیا پیغام ہے؟” اس کے ماتھے پر بل آگئے۔
”وہ کل لاہور آرہے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ آپ کل لاہور میں ہی رہیں۔ واپس نہ جائیں۔ وہ آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔”
”لیکن میں ان سے ابھی اور اسی وقت بات کرنا چاہتا ہوں۔” عمر نے پیغام سننے کے بعد کہا۔
”یہ ممکن نہیں ہے۔”
”کیوں ممکن نہیں ہے؟”
”وہ اس وقت مصروف ہیں۔”
”میں تھوڑی دیر بعد کال کر لوں گا۔”
”وہ تب بھی مصروف ہوں گے۔”
”کیا وہ ساری رات ہی مصروف رہیں گے؟” عمر کا غصہ بڑھتا جا رہا تھا۔
”ہو سکتا ہے۔” عمر نے فون پٹخ دیا۔
اس کے فون رکھتے ہی نانو نے اسے مخاطلب کیا۔
”کیا پریشانی ہے عمر تمہیں؟”
”کوئی پریشانی نہیں ہے۔” اس نے اسی طرح جھنجھلائے ہوئے انداز میں کہا۔
”ایاز کو کیوں بار بار فون کر رہے ہوں؟”
عمر نے ان کے سوال کے جواب میں کچھ نہیں کہا۔ علیزہ نے عمر کے چہرے پر پہلی بار تھکن دیکھی۔
”انکل ایاز نے شہباز کا قتل کروایا ہے۔” علیزہ نے کچھ دیر بعد اسے کہتے سنا۔
”کیا کہہ رہے ہو تم؟ کون شہباز؟” نانو کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔
”آپ نے ابھی ٹی وی پر جس جرنلسٹ کے قتل کی خبر سنی ہے میں اسی کی بات کر رہا ہوں۔”
”مگر… مگر ایاز کیوں کسی کو قتل کروائے گا؟”
”شہباز دوست تھا میرا…میں نے پاپا کے خلاف سارے ڈاکومنٹس اس کو آج ہی فیکس کئے تھے۔ مجھے اندازہ نہیں تھا۔ انکل ایاز اتنی آسانی سے اور اتنی جلدی اس تک پہنچ جائیں گے۔”
”نہیں ایاز اتنی سی بات پر کسی کو قتل نہیں کروا سکتا۔ وہ تو قتل کروا ہی نہیں سکتا۔”
نانو کو عمر کی بات پر یقین نہیں آیا۔
”آپ کے بیٹے بیورو کریسی میں ایسے گینگ لیڈر ہیں جو خود کو بچانے کے لئے کچھ بھی کر سکتے ہیں۔” عمر کے لہجے میں تلخی تھی۔
”کراچی کے حالات ویسے ہی خراب ہیں، وہاں اخبارات کے دفاتر پر حملے روز کا معمول ہیں۔ یہ بھی ایسا ہی کوئی حملہ ہو گا۔” نانو نے عمر کی بدگمانی دور کرنے کی کوشش کی۔
”اخبارات کے دفاتر لاہورمیں بھی ہوں اور وہ سچ چھاپنے کی کوشش کریں گے تو ان پر اسی طرح حملے ہوں گے۔ ان کے ایڈیٹرز کو اسی طرح قتل کیا جاتا رہے گا۔ یہاں بات کراچی اور لاہور کی نہیں ہے صرف اپنے چہرے پر چڑھے ہوئے ماسک کو اترنے سے بچانے کی ہے۔”
”پھر بھی ایاز ایسا نہیں کر سکتا۔ اسے کیا ضرورت ہے خوامخواہ کسی کو قتل کروانے کی۔ سارا جھگڑا تو تمہارا اور جہانگیر کا ہے، وہ خود کو تم دونوں کے جھگڑے میں کیوں انوالو کرتا۔”
”یہ کام کسی ایجنسی کے آدمیوں کا ہے اتنی دیدہ دلیری سے صرف وہی شہباز کے دفتر کو آگ لگا سکتے ہیں اور انکل ایاز اس وقت انٹیرئر منسٹری میں ہیں۔ ایسی غنڈہ گردی وہی کروا سکتے ہیں۔ ہو سکتا ہے انہوں نے پاپا کے کہنے پر ہی شہباز کو قتل کروایا ہو مگر شہباز کو ٹریس آؤٹ صرف انکل ایاز ہی کروا سکتے ہیں اور شاید وہ اس وقت یہ کام کروا چکے تھے جب انہوں نے فون پر مجھ سے بات کی تھی۔ پاپا کو اندازہ ہو گا کہ اخبار میں میرے بارے میں یہ سب کچھ آنے پر میرا فوری ردعمل کیا ہوگا… اس لئے وہ پہلے ہی شہباز منیر کو ٹریس آؤٹ کئے بیٹھے تھے، جب انہیں یقین ہو گیا کہ میں ان کے سمجھانے پر باز نہیں آؤں گا اور جب وہ یہ بھی جان گئے کہ ڈاکو منٹس شہباز تک پہنچ چکے ہیں تو انہوں نے وقت ضائع کئے بغیر اسے مار دیا… مجھے اگر انکل سے بات کرتے ہوئے ذرہ برابر بھی شک ہو جاتا کہ وہ شہباز کے بارے میں جانتے ہیں تو میں کبھی شہباز کو وہ ڈاکو منٹس نہ دیتا یا کچھ دن انتظار کر لیتا ۔ ” اس کی آواز میں پچھتاوا تھا۔

”تم وقت سے پہلے نتائج اخذ کر لیتے ہو۔ اتنی بدگمانی ٹھیک نہیں ہوتی اور وہ بھی اپنے باپ اور انکل کے بارے میں ۔”
نانو کو اس کی بات پر اب بھی یقین نہیں تھا۔ ان کا خیال تھا، عمر جذباتی ہو کر سوچ رہا ہے، اس لئے اس طرح کی باتیں کر رہا ہے۔
”گرینی ! میں اپنے خاندان کو آپ سے بہتر جانتا ہوں۔ آپ صرف ماں بن کر سوچتی ہیں، آپ کو پاپا اور انکل ایاز یا کسی بھی دوسرے انکل کی کوئی خامی نظر نہیں آسکتی۔ نہ آج… نہ ہی آئندہ کبھی۔”
”مگر عمر۔۔۔” نانو نے کچھ کہنے کی کوشش کی مگر عمر نے ان کی بات کاٹ دی۔
”انکل کل لاہور آرہے ہیں… یہیں آپ کے سامنے میری ان کے ساتھ ملاقات ہو گی۔ آپ دیکھ لیجئے گا… آپ کا بیٹا کتنا معصوم ہے۔” عمر نے جیسے بات ختم کر دی۔
لاؤنج میں اب مکمل خاموشی تھی۔ وہاں بیٹھے ہوئے تینوں کردار جیسے اپنی اپنی سوچ میں گم تھے۔
”تم آج رات یہیں رکو گے؟” نانو نے ایک لمبے وقفے کے بعد اس خاموشی کو توڑا۔
”ہاں !” عمر نے مختصر جواب دیا۔
”علیزہ! عمر کا کمرہ کھلوا دو۔۔۔” ایک بار خود بھی دیکھ لو، کسی چیز کی ضرورت نہ ہو۔ ” نانو نے اس بارعلیزہ کو مخاطب کیا۔ وہ کچھ کہے بغیر کافی کے مگ سمیت وہاں سے اٹھ گئی۔
عمر کا کمرہ کھلواتے اور بیڈ شیٹ چینج کرواتے ہوئے وہ خود بھی بری طرح الجھی ہوئی تھی۔ اس کا ذہن یہ سمجھنے سے قاصر تھا کہ انکل ایاز اس طرح کسی کا قتل کیسے کروا سکتے ہیں، اور وہ بھی اتنی معمولی سی بات پر… کیا چند خبروں کو شائع ہونے سے روکنا ان کے لئے اتنا اہم ہو گیا تھا کہ انہوں نے ایک انسانی زندگی کو ختم کرنا ضروری سمجھا۔ یا پھر یہ سب عمر کی بدگمانی اور غلط فہمی ہے…
”ہو سکتا ہے یہ سب واقعی کسی غلط فہمی کا نتیجہ ہو۔”
اس نے جیسے سوچتے سوچتے خود کو تسلی دینے کی کوشش کی۔
”ہو سکتا ہے نانو ٹھیک ہی کہہ رہی ہوں کہ عمر وقت سے پہلے نتائج اخذ کرنے کی کوشش کرتا ہے… اس کے تو ہر ایک کے ساتھ اختلاف ہوتے رہتے ہیں۔ کسی بارے میں بھی اس کی رائے ٹھیک نہیں ہے… جو شخص ہر ایک کے بارے میں خراب رائے رکھتا ہو اس کی رائے کو آخر کتنی اہمیت دی جا سکتی ہے… اور دینی بھی نہیں چاہئے۔”
وہ اس کے کمرے سے نکلنے والی تھی جب عمر وہاں آگیا۔
”کیا ریفریجریٹر میں پانی کی بوتل ہے؟”اس نے اندر آتے ہی پوچھا۔
”نہیں، میں لا دیتی ہوں۔” وہ کمرے سے نکل گئی۔
کچن میں موجود فریج سے پانی کی بوتل نکال کر وہ جب واپس کمرے میں آئی تو وہ بیڈ پر بیٹھا ایک سگریٹ سلگا رہا تھا۔ اس نے پہلی بار عمر کو سگریٹ نوشی کرتے دیکھا تھا۔ مگر اسے حیرانی نہیں ہوئی۔ جو ڈرنک کر سکتا ہے وہ اسموکننگ تو یقیناً کرتا ہوگا۔ اس پر ایک سرسری نظر ڈالتے ہوئے اس نے سوچا اور روم ریفریجریٹر کی طرف بڑھ گئی۔ ریفریجریٹر کو آن کرنے کے بعد اس نے پانی کی بوتل اندر رکھی اور کچھ کہے بغیر دروازے کی طرف بڑ گئی۔
”علیزہ!” عمر نے اس کو آواز دی تھی۔ اس نے پلٹ کر اسے دیکھا۔ ”کچھ دیر میرے پاس بیٹھ سکتی ہو۔” اسے تھپڑ مارے جانے والے واقعہ کے بعدآج پہلی بار وہ اسے مخاطب کر رہا تھا۔
”علیزہ کا دل چاہا وہ کہے ۔ ”نہیں” مگر وہ کچھ بھی کہے بغیر اس کی طرف آگئی۔ اس سے کچھ فاصلے پر وہ بیٹھ گئی۔
”میں تم سے کچھ کہنا چاہتا تھا۔” عمر نے بلا توقف کہا۔ وہ اس کا چہرہ دیکھتی رہی۔ عمر اب جیسے کچھ لفظ تلاش کر رہا تھا۔
”میں تم سے معذرت کرنا چاہتا تھا۔” اس نے کہا۔ علیزہ کو اس جملے کی توقع نہیں تھی۔ اس نے عمر کے چہرے سے نظریں ہٹا لیں۔
”مجھے ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا۔” وہ اس وقت سے یہ سب کہہ رہا تھا جب وہ اس معذرت کی توقع کرنا بھی چھوڑ چکی تھی۔
”کیا نہیں کرنا چاہئے تھا؟” مدھم آواز میں کہتے ہوئے اس نے عمر کے چہرے کو ایک بار پھر دیکھنے کی کوشش کی۔
”تم پر ہاتھ نہیں اٹھانا چاہئے تھا۔”
”آپ کو ہاتھ اٹھانے پر افسوس ہے؟”
”نہیں… صرف ”تم” پر ہاتھ اٹھانے پر افسوس ہے۔”
وہ جان نہیں پائی، اس کی آنکھوں میں آنسو کیوں آئے تھے۔ کیا اسے خوشی ہوئی تھی کہ وہ اس سے معذرت کر رہاتھا یا پھر اسے یہ ملال ہوا تھا کہ وہ اتنے لمبے عرصے کے بعد اس سے معذرت کر رہا تھا۔ اس نے عمر کے چہرے سے نظریں ہٹا لیں کم از کم وہ اب اس کے سامنے بچوں کی طرح رونا نہیں چاہتی تھی۔
”میں تم سے بہت پہلے معذرت کرنا چاہتا تھا مگر مجھے تم سے اتنی شرمندگی محسوس ہو رہی تھی کہ… وہ کہتے کہتے رک گیا۔
”شرمندگی؟” علیزہ نے سوچا۔
”کم از کم تم وہ واحد ہستی ہو جسے میں کبھی کوئی تکلیف نہیں پہنچا سکتا۔”
علیزہ نے یاد کرنے کی کوشش کی کہ عمرنے یہ جملہ اس سے کتنی بار کہا تھا۔ ”واحد ہستی؟” وہ اس بار کسی الیوژن کا شکار نہیں ہوئی۔ وہ اب خاموش تھا شایداس سے کچھ سننا چاہتا تھا۔
”مجھے تھپڑ مارنا پسند کرو گی؟” علیزہ نے بے اختیار اسے دیکھا، اس کے چہرے پر سنجیدگی کے علاوہ کچھ بھی نہیں تھا۔
”اس کا دل چاہا وہ عمر سے کہے۔ ”تم بھی وہ واحد شخص ہو جسے میں کوئی تکلیف نہیں پہنچا سکتی۔”
”نہیں۔” اس نے بس اتنا کہا۔
”کیا میں یہ سمجھوں کہ تم نے مجھے معاف کر دیا ہے؟” اس نے پوچھا۔ وہ دھویں کے مرغولوں میں اس کا چہرہ دیکھتی رہی۔
”عمر! آپ سول سروس چھوڑ دیں۔” اس نے اس کے سوال کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا۔

عمر کے چہرے پر اسے حیرانی نظر آئی۔ شاید وہ اس سے اس مشورے کی توقع نہیں کر رہا تھا۔
”آپ کے پاس بزنس ایڈمنسٹریشن کی ڈگری ہے آپ واپس امریکہ چلے جائیں یا پھر انگلینڈ جہاں آپ پہلے کام کر رہے تھے۔”
”تم ایسا کیوں کہہ رہی ہو؟”
”کیونکہ مجھے آپ کی پروا ہے، آپ خود کو ضائع کر رہے ہیں… سول سروس آپ کو آپ کی ساری خوبیوں سے محروم کر دے گی۔ ” اس نے عمر کے چہرے پر مسکراہٹ دیکھی۔
”کیا عمر جہانگیر میں کوئی خوبی ہے؟”
”پانچ سال پہلے آپ ایسے نہیں تھے مگر اب… آپ… میں نہیں جانتی۔ آپ کو خود اندازہ ہے یا نہیں مگر آپ بدلتے جا رہے ہیں۔”
”میں جانتا ہوں لیکن میں کچھ نہیں کر سکتا۔”
”آپ واپس چلے جائیں۔” اس نے اصرار کیا۔
”میں نہیں جا سکتا۔” اس نے نرم آواز میں کہا۔
”کیوں؟” عمر نے ایک اور سگریٹ سلگا لیا۔
”چند ہزار روپے کی یہ جاب آپ کے لئے اتنی بڑی Temptationکیوں بن گئی ہے؟”
”بات اس جاب کی نہیں ہے۔ بات اس پاور کی ہے، اس اتھارٹی کی ہے جو یہ جاب مجھے دے رہی ہے۔”
”آپ کو کیا ضرورت ہے اس اتھارٹی کی؟”
”ضرورت ہے، کم از کم اپنے باپ کے سامنے کھڑا ہونے کے لئے مجھے اس اتھارٹی کی ضرورت ہے۔ میرے ہاتھ میں طاقت ہو گی تو میں وہ سب کچھ کر سکتا ہوں جو میں ابھی تک نہیں کر پایا۔”
”کچھ سالوں کے بعد انکل جہانگیر ریٹائرڈ ہو جائیں گے۔ تب آپ کا اور ان کا مقابلہ ویسے ہی ختم ہو جائے گا۔ کیا بہتر نہیں ہے کہ آپ اس بے معنی مقابلے میں خود کو ضائع نہ کریں… پہلے ہی یہ سب کچھ چھوڑ دیں۔” وہ بڑے خلوص سے اسے سمجھانے کی کوشش کر رہی تھی۔
”تم ابھی بھی میچور نہیں ہو علیزہ۔”
”ہو سکتا ہے، آپ ٹھیک کہہ رہے ہوں مگر اس میچورٹی کا کیا فائدہ ہے جو انسان کو ایک پر سکون زندگی گزارنے نہیں دے رہی۔”
عمر نے سر اٹھا کر سنجیدگی سے اسے دیکھا۔
”تمہارا خیال ہے میں پر سکون نہیں ہوں۔”
”ہاں آپ پر سکون نہیں ہیں، جو پر سکون زندگی گزار رہا ہو، وہ ڈرنک نہیں کرتا۔ اسے اسموکنگ… یہ دونوں عادتیں آپ نے اب اختیار کی ہیں۔”
وہ اسے قائل کرنا چاہ رہی تھی۔
”تم غلط سمجھ رہی ہو علیزہ! سول سروس میں آنے سے پہلے بھی میں اسموکنگ اور ڈرنک کرتا تھا۔” اس نے انکشاف کیا۔ ” میں چودہ سال کی عمر سے ڈرنک اور اسموکنگ کر رہا ہوں۔” وہ کچھ بول نہیں پائی۔ وہ اب ہاتھ میں پکڑے سگریٹ کو دیکھ رہا تھا۔
”یونیورسٹی میں پڑھنے کے دوران کو کین بھی لیتا رہا اس لئے ان چیزوں کا سول سروس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔”
”مگر پانچ سال پہلے جب آپ یہاں آئے تھے تب تو آپ ان دونوں چیزوں کو استعمال نہیں کرتے تھے۔” علیزہ نے ہکلاتے ہوئے کہا۔
”کرتا تھا… عادتاً نہیں شوقیہ… مگر جب تک یہاں رہا، Avoidکرتا رہا۔”
علیزہ کو سمجھ میں نہیں آیا وہ اب کیا کہے۔ ”مگر تم ٹھیک کہتی ہو میں پر سکون زندگی نہیں گزار رہا۔ ” وہ اب تیسرا سگریٹ سلگاتے ہوئے اعتراف کر رہا تھا۔ ”مگر کیا کیا جا سکتا ہے؟”
”صرف اتھارٹی کے لئے آپ اپنی زندگی برباد کر دیں گے؟”
”میرے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔”
”کیوں نہیں ہے، آپ واپس چلے جائیں… کم از کم یہ ساری ٹینشن تو ختم ہو جائے گی؟”
”کیا ملے گا واپس جا کر؟ کیا ہے باہر؟ تنہائی، مادہ پرستی ” وہ عمر کی بات پر حیران ہوئی۔ بتیس سال کی عمر میں کیا عمر اب بھی تنہائی سے خوفزدہ ہے؟ مادہ پرستی سے ڈرتا ہے… کیا عمر؟”
”ایک جاب مل جائے گی… دو کمروں کا ایک کابک جتنا اپارٹمنٹ… صبح سے رات تک ڈالرزاور پاؤنڈز کمانے کے لئے مشینی زندگی… کیونکہ ایک لائف اسٹائل Maintainکرنا ہے… کیونکہ زندگی کی وہ آسائشات چاہئیں جن کے ساتھ میں بڑا ہوا ہوں… پینی اور سینٹ جمع کرکے بنایا ہوا بینک بیلنس… نوکروں سے محروم ایک ایسی زندگی جہاں پر اپنے جوتے پالش کرنے سے کھانا پکانے تک ہر کام مجھے خود کرنا پڑے گا۔ جہاں پر گھر میں کچھ مہمان آجانے پر میری سمجھ میں یہ نہیں آئے گا کہ انہیں کہاں بٹھاؤں اور کہاں سلاؤں… تم تو اپنی ممی کے پاس جاتی رہتی ہو، اندازہ کر سکتی ہو، وہ کیسی زندگی گزار رہی ہیں۔”
”مگر سب کچھ ہمیشہ ایسا تو نہیں رہے گا، کچھ وقت گزرنے کے بعد آپ وہاں سیٹل ہو جائیں گے۔” علیزہ نے کمزور آواز میں کہا۔
”ہاں، ساری جوانی روپے کے پیچھے بھاگنے کے بعد بڑھاپے میں میرے پاس اتنا روپیہ ضرور جمع ہو جائے گا، کہ میں کچھ نہ کرنے کے باوجود بھی عیش کر سکتا ہوں… عیش؟” وہ عجیب سے انداز میں ہنسنا۔
”مگر یہ سب کچھ تو نہیں ہو گا… یہ الزامات… وہ سب کچھ جو آپ کو مجبوراً کرنا پڑتا ہے وہ تو نہیں کرنا پڑے گا۔”
”مگر وہاں میرے پاس وہ آسائشیں نہیں ہوں گی جو یہاں ہیں اور یہ سب کچھ میری زندگی کا حصہ بن چکا ہے جیسے مچھلی پانی کے بغیر نہیں رہ سکتی، ویسے ہی میں ان سب سہولتوں کے بغیر نہیں رہ سکتا۔”
وہ اس کا چہرہ دیکھ کر رہ گئی۔

”ان پانچ سالوں میں اتنا کچھ بنا لیا ہے میں نے… پاکستان سے جا کر اگلے دس سالوں میں بھی نہیں بنا سکتا۔”
”مگر ضمیر پر بوجھ لے کر زندہ رہنا آسان ہے؟”
”ضمیر؟” وہ ہنسا ”اس نام کی کوئی چیز دنیا میں نہیں ہوتی۔”
وہ اندازہ نہیں کر سکتی وہ کس پر ہنس رہا تھا۔
”اس صدی میں ضمیر کو لے کر کون پھرے گا اپنے ساتھ… کم از کم میرے جیسا شخص نہیں جس کی پرورش حرام پر ہوئی ہے، جس کے خون میں حرام کی اتنی آمیزش ہو چکی ہو کہ وہ نہ حلال کھا سکے نہ کما سکے۔ ضمیر کا کوئی بوجھ نہیں ہے علیزہ میرے کندھوں پر۔” وہ اسے پہلی بار بے بس نظر آرہا تھا۔
”ضمیر اگر اس صدی میں بھی کچھ لوگوں کے پاس ہوتا ہے تو اس کا وہ حال ہوتا ہے جو شہباز منیر کا ہوا۔” علیزہ کو اس کے چہرے پر کچھ سائے لہراتے نظر آئے۔ وہ اب ایک اور سگریٹ سلگا رہا تھا۔ ”ایک ہفتہ پہلے بیٹا پیدا ہوا اس کے ہاں، ابھی اس نے نام نہیں رکھا تھا اس کا۔” وہ اب جیسے اعتراف کر رہا تھا۔ ”پچھلے دس سال سے میری دوستی تھی اس کے ساتھ… کیلی فورنیا یونیورسٹی میں میرے ساتھ پڑھتا رہا… ڈگری لینے کے بعد اگلے دن منہ اٹھا کر پاکستان آگیا۔ اسکالر شپ مل رہا تھا مزید تعلیم کے لئے… نہیں لیا۔” وہ اٹھ کر کھڑکی کے پاس جاکر کھڑا ہو گیا۔
”یونیورسٹی سے جاب کی آفر ہوئی… یہاں نہیں کرنی۔”
اسے اندازہ تھا، وہ کھڑکی کے پاس کیوں چلا گیا تھا اس کی آواز اب بھرانے لگی تھی۔ وہ اب رک کر کر بات کر رہا تھا۔
”جس سے محبت کی اس سے شادی بھی نہیں کی… اس کے ساتھ کیلی فورنیا میں پڑھتی تھی وہ لڑکی… اس کے ساتھ پاکستان آنے کو بھی تیار تھی۔ میں نے اس سے کہا ”پاکستانی لڑکی ہے تمہارے ساتھ پاکستان جا کر ایڈجسٹ ہو جائے گی پھر کیا مسئلہ ہے۔ وہ کہنے لگا ایڈجسٹ نہیں ہو گی۔ دو ماہ رہے گی… چار ماہ رہے گی۔ چھ ماہ بعد شور کرے گی واپس جاناہے… پھر یہ بتانا شروع کر دے گی کہ میں امریکہ میں کتنا کما سکتا ہوں اور پاکستان میں کتنا کما رہا ہوں۔ پھر روئے گی اور کہے گی میں اسے تکلیف دے رہا ہوں اور میں اس سے اتنی محبت کرتا ہوں کہ یہ وہاں جا کر روئے گی تو میں برداشت نہیں کر سکوں گا پھر شاید اس کے لئے سب کچھ چھوڑ کر واپس آجاؤں… اور یہ سب میں نہیں چاہتا، بہتر ہے کل رونے کی بجائے یہ آج رولے… گالیاں دے لے مجھے، پھرآرام سے اپنی زندگی شروع کر لے گی… میں بھی پاکستان جا کر کچھ عرصہ کے بعد وہاں کی کسی لڑکی سے شادی کر لوں گا اور کچھ بھی ہو کم از کم وہ پاکستان چھوڑنے کے بارے میں نہیں کہے گی۔”
وہ خاموش ہو گیا۔ علیزہ اس کی پشت کو دیکھتی رہی۔
”ایک ہی جملہ ہوتا تھا اس کی زبان پر… پاکستان جانا ہے… ضرورت ہے میرے ملک کو میری… اس کے فادر بھی جرنلسٹ ہیں اور اس کی اس برین واشنگ کے ذمہ دار بھی… میں نے تین نیوز پیپرز کے ایڈیٹرز سے کانٹیکٹ کیا۔ پاپا کے بارے میں وہ سارے ثبوت شائع کروانے کے لئے ، تین بڑے نیوز پیپرز جن کا دعویٰ ہے کہ وہ سچ کے علاوہ کچھ شائع نہیں کرتے۔ تینوں کے ایڈیٹرز نے معذرت کر لی۔۔۔” وہ بات کرتے کرتے رک گیا۔
”جہانگیر معاذ کے بارے میں خبر شائع کرنے کے لئے جس حوصلے اور جرأت کی ضرورت تھی وہ ان میں نہیں تھی… سچ کے نام نہاد علمبرداروں کے پاس … پھر مجھے شہباز منیر یاد آیا، اور اب مجھے پچھتاوا ہے کہ کاش میں اسے وہ سب کچھ نہ بھجواتا یا پھر وہ بھی دوسروں کی طرح انکار کر دیا تو شاید آج زندہ ہوتا… خبروں کا کیا ہے صرف خبریں لگنے سے کسی ملک کی تقدیر نہیں بدلا کرتی… مگر وہ ایسا نہیں سوچتاتھا… ضمیرتھا نا اس کے پاس اس لئے… اور اس ضمیر نے اسے موت دے دی۔” وہ یک دم خاموش ہو گیا۔
علیزہ کی سمجھ میں نہیں آیا وہ اس سے کیا کہے۔ کیا اسے یہ بتا دے کہ نانو کی طرح اسے بھی اس بات پر یقین نہیں تھا کہ ایاز انکل نے اتنی معمولی بات پر اتنا بڑا قدم اٹھایا ہو گا… مگر عمر کے لہجے کا اعتماد اور یقین ہمیشہ کی طرح اس کی رائے کو متزلزل کر رہا تھا۔
”عمر! کیا آپ کو یقین ہے کہ انکل ایاز۔۔۔” علیزہ نے اپنا جملہ ادھورا چھوڑ دیا۔ عمر ایک گہری سانس لے کر پلٹا۔ کچھ کہے بغیر وہ ایک بار پھر بیڈ پر آکر بیٹھ گیا۔ علیزہ نے اپنا سوال نہیں دہرایا۔
”اب آپ کیا کریں گے؟” وہ اب بھی خاموش تھا۔ علیزہ کو یک دم یوں لگا جیسے وہ ذہنی طور پر کہیں اور پہنچا ہواہے… وہ پریشان تھا… وہ الجھا ہوا تھا… یا پھر وہ اپنے لئے آگے کی حکمت عملی طے کر رہا تھا۔ علیزہ اندازہ نہیں لگا سکی۔
اگلی صبح ہمیشہ کی طرح تھی۔ عمر دیر سے اٹھا تھا۔ ناشتے کی میز پر تینوں نے بڑی خاموشی کے ساتھ ناشتہ کیا۔
بارہ بجے کے قریب علیزہ نے پورچ میں کسی گاڑی کے رکنے کی آواز سنی۔ عمر لاؤنج میں نیوز پیپرز دیکھ رہا تھا وہ اٹھ کر باہر نکل گیا۔ نانو بھی اس کے پیچھے نکل گئیں۔ کچھ دیر کے بعد اس نے انکل ایاز اور جہانگیر انکل کے ساتھ نانو اور عمر کو دوبارہ لاؤنج میں آتے دیکھا۔ عمرکے چہرے پر تناؤ کی
کیفیت تھی جب انکل ایاز اور انکل جہانگیر بہت پر سکون نظر آرہے تھے۔
رسمی علیک سلیک کے بعد وہ لاؤنج سے اٹھ کر کچن میں آگئی۔ نانو نے اسے دوپہر کا کھانا اپنی نگرانی میں تیار کروانے کا کہا تھا۔ عمر اور نانو لاؤنج میں ہی تھے۔
کچن میں ان سب کے درمیان ہونے والی گفتگو بآسانی سنی جا سکتی تھی اور وہ چاہتے ہوئے بھی لاؤنج سے آنے والی آوازوں کو نظر انداز نہیں کر سکی۔
جہانگیر انکل کے برعکس انکل ایاز کا بات کرنے کا ایک مخصوص انداز تھا۔ وہ بہت نرمی سے بات کرتے تھے اور ان کے چہرے پر ہمیشہ ایک مسکراہٹ موجود رہتی تھی اور یہ مسکراہٹ کئی بار سامنے بیٹھے ہوئے شخص کے لئے خاصی صبر آزما ثابت ہوتی تھی۔ وہ بہت لائٹ موڈ میں بات کیا کرتے تھے اور اکثر بے معنی اور بے مقصد باتوں سے گفتگو کا آغاز کرتے تھے۔
اس وقت بھی اندر یہی ہو رہا تھا۔ ”بلیو کلر بہت سوٹ کرتا ہے تمہیں۔۔۔” وہ عمر سے کہہ رہے تھے۔ ”کیوں جہانگیر…! یہ عمر کچھ زیادہ ہینڈ سم نہیں ہو گیا… یا پھر اس کا ٹیسٹ بہت اچھا ہو گیا ہے۔ میں نے کچھ شرٹس منگوائی ہیں چند دنوں پہلے… ابھی واپس اسلام آباد جاتے ہی تمہیں بھجواؤں گا۔”
وہ انتہائی خوشگوار انداز میں کہہ رہے تھے۔
”اسلام آباد سے یہی بتانے آپ یہاں آئے ہیں؟” عمر نے کسی تمہیدی گفتگو کے بغیر کہا۔
”ارے نہیں یار! تمہارے لئے آئے ہیں۔ بچوں والی حرکتیں شروع کر دی ہیں تم نے۔ میں جہانگیر کو خاص طور پر ساتھ لے کر آیا ہوں کہ بھئی طے کرو اپنے پرابلمز… کیوں ساری فیملی کو مصیبت میں ڈال رہے ہو… اب یہ تمہارے سامنے بیٹھا ہے… جو کچھ کہنا ہے کہو… مگر بات ختم کرو۔ ممی لنچ میں کیا بنوا رہی ہیں؟”
ایاز حیدر نے کمال مہارت کے ساتھ ایک موضوع سے دوسرے اور دوسرے سے تیسرے پر آتے ہوئے کہا۔ وہ یوں ظاہر کر رہے تھے جیسے اس جھگڑے کی سرے سے کوئی اہمیت ہی نہیں تھی اور وہ درحقیقت کسی فیملی گیٹ ٹوگیدر میں شرکت کے لئے آئے تھے۔
”آپ کو پتا ہے۔ آپ نے کیا کیا ہے؟”
”میں نے؟” انکل ایاز نے کچھ چونکنے کی اداکاری کرتے ہوئے کہا۔
”شہباز کو قتل کروایا ہے آپ نے۔”
”یہ تم کیسے کہہ سکتے ہو؟”
”کیونکہ میں آپ کو اچھی طرح جانتا ہوں۔”
”اگر ایسا ہوا ہے تو یہ تمہاری ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے ہوا ہے۔” انکل جہانگیر نے گفتگو میں مداخلت کرتے ہوئے کہا۔
”میں آپ سے بات نہیں کر رہا ہوں۔” عمر نے درشتی سے انہیں ٹوک دیا۔
نانو کو انکل جہانگیر کے اس اعتراف سے جیسے کوئی شاک لگا تھا اور کچھ یہی حال کچن میں موجود علیزہ کا تھا۔ عمر کے قیاس صرف قیاس نہیں تھے۔
”تم کتے کی وہ دم ہو جو ہمیشہ ٹیڑھی رہتی ہے… یہاں تمہارے پاس میں کوئی منت سماجت کرنے نہیں آیا… تمہارے جیسے معمولی جونیئر افسر کی اوقات کیا ہے میرے سامنے… تمہارا دل چاہے تو کسی دوسرے شہباز منیر کی خدمات حاصل کر لینا اور نتیجہ دیکھ لینا۔”
اس کی بات کے جواب میں جہانگیر معاذ نے بے حد سرد اور تلخ لہجے میں اس سے کہا۔ اس سے پہلے کہ عمر کچھ کہتا۔ انکل ایاز نے بروقت مداخلت کی۔
”کیا فضول باتیں شروع کر دیں ہیں تم نے…جہانگیر! میں تمہیں یہاں عمر سے لڑنے کے لئے نہیں لایا ہوں۔ عمر تمہارے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا جائے گا۔”
عمرنے ان کی بات کے جواب میں کہا۔
”آپ نے شہباز کو قتل کیوں کروایا؟”
”تم بہت اچھی طرح جانتے ہو۔”
”آپ کتنے لوگوں کو قتل کروائیں گے؟” ڈاکو منٹس تو اب بھی میرے پاس ہیں۔ میں کل کسی اور نیوز پیپر کو دے دوں گا… آپ مجھ پر کتنی نگرانی کروا سکتے ہیں؟”
”کیا ڈاکومنٹس ہیں تمہارے پاس؟ جہانگیر کے کچھ فارن اکاؤنٹس کی تفصیلات… کچھ اور ڈیلز کی تفصیلات… بس؟” ایاز حیدر کا لہجہ یک دم بدل گیا۔
”میرے پاس تمہارے سارے اکاؤنٹس کی تفصیلات ہیں۔ ان کو کیسے جسٹی فائی کرو گے… جب اپنا حصہ لے چکے ہو تو اتنا شور کرنے کی کیا ضرورت ہے… تمہیں یقین تو دلا رہے ہیں کہ انکوائری بھی شروع نہیں ہونے دیں گے۔”
”آپ یہاں مجھے دھمکانے آئے ہیں؟” اس بار عمر نے بلند آواز میں کہا اور علیزہ نے انکل ایاز کو جواباً اس سے بھی بلند آواز میں بولتے سنا۔
”میرے سامنے گلا پھاڑنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ میں جہانگیر نہیں ہوں کہ تمہاری بکواس اور بدتمیزی برداشت کر لوں گا۔ آواز کو آہستہ رکھ کر بات کرو… پچاس سال سے میرے خاندان نے جو عزت بنائی ہے اسے تم جیسے بیوقوف شخص کے ہاتھوں تبا ہ ہونے تو میں نہیں دوں گا۔ کل بھی تمہیں خاصا سمجھانے کی کوشش کی میں نے… آج بھی صرف تمہارے لئے جہانگیر کو یہاں لے کر آیا ہوں مگر اس سے زیادہ کچھ نہیں کروں گا… بڑے خاندان اپنا نام اور وقار برقرار رکھنے کے لئے بڑی قربانیاں مانگتے ہیں اور خاندان کا نام بچانے کے لئے شہباز منیر کی جگہ عمر جہانگیر بھی ہو سکتا ہے۔ اس خاندان کو عمر جہانگیر کے ہونے یا نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ یہ بات تم اچھی طرح یاد رکھو۔”
علیزہ نے ایاز انکل کو بلند آواز میں اس طرح بات کرتے پہلی بار سنا تھا۔ بلند آواز اس کے لئے اتنی حیران کن نہیں تھی جتنا ان کا غصہ تھا۔
اس کا خیال تھا، عمر جواباً زیادہ تلخ اور بلند آواز میں بات کرے گا… شایدوہ چاہتی بھی یہی تھی… مگر اس کی توقع کے برعکس لاؤنج میں اب بالکل خاموشی تھی۔
اسے حیرت ہوئی۔ ”عمر چپ کیوں ہو گیا ہے؟” اس نے سوچا۔ عمر اگلے کئی منٹ خاموش رہا۔
”میرے خاندان کا نام میرے لئے کسی فخر کا باعث نہیں ہے۔”
”تمہارے لئے اس نام کی کوئی اہمیت ہو یا نہ ہو… لیکن بیورو کریسی میں اس خاندان کانام ہی تمہیں بچائے ہوئے ہے۔ ورنہ تمہارے جیسے سینکڑوں افسر یہاں رُلتے پھرتے ہیں کیونکہ ان کے پیچھے خاندان ہوتا ہے نہ ہی دولت… صرف محنت ہوتی ہے یا پھر قابلیت اور یہ دونوں وہ پر ہیں جو بیورو کریسی کے آسمان پر پرواز کرنا نہیں سکھاتے۔”
علیزہ نے اس بار انکل ایاز کو قدرے ہلکے لہجے میں بات کرتے سنا۔
”جن عہدوں پر تم رہ چکے ہو… وہاں کام کرنے کے لئے لوگ عمریں گزار دیتے ہیں۔ باقی باتوں کو تو چھوڑو… یہ جو فارن سروس سے چھلانگ لگا کرتم فوراً پولیس سروس میں آگئے ہوں۔ اس میں کتنے رولز اور ریگولیشنز حائل ہوتے ہیں۔ اس کے بارے میں تو تم اچھی طرح جانتے ہو گے۔” عمران کی بات کے جواب میں ایک بار پھر خاموش رہا۔ علیزہ کو مایوسی ہوئی۔
رات کو جس طرح وہ شہباز کے بارے میں جذباتی ہو رہا تھا۔ اب اس کے لہجے میں اس افسردگی یا جذباتیت کا نام و نشان بھی نہیں تھا۔
لاؤنج میں ایک بار پھر خاموشی چھا گئی۔ پھر اس نے اندر کچھ سرگوشیاں سنیں… اب مدہم آواز میں انکل ایاز اور عمر کے درمیان کچھ بات ہو رہی تھی۔ آواز اتنی مدہم تھی کہ وہ بات سن سکتی تھی نہ سمجھ سکتی تھی۔ اسے تجسس ہو رہا تھا۔ آخر انکل ایاز اب عمر سے کیا کہہ رہے تھے جو وہ اتنی خاموشی سے سن رہا تھا؟
٭٭٭
”میں وہ میگزین جوائن کرنا چاہتی ہوں جس کے بارے میں تم اس دن بتا رہی تھیں۔ ” اس دن شام کو وہ شہلا سے فون پر بات کر رہی تھی۔
”یہ یک دم تمہیں میگزین کیسے یاد آگیا؟” شہلا نے کچھ حیران ہو کر دوسری طرف سے پوچھا۔
”بس ویسے ہی میں گھر بیٹھے بیٹھے بور ہونے لگی ہوں، اس لئے سوچا کہ کچھ کیا جائے۔” اس نے کہا۔
”مگر یار! میں تو کوئی این جی او جوائن کرنے کا سوچ رہی تھی۔ آخر ہمارے سبجیکٹ کا تعلق تو ایسے ہی کاموں سے بنتا ہے۔ یہ جرنلزم بیچ میں کہاں سے آگئی؟” شہلا نے اپنا پروگرام بتایا۔
”تو ٹھیک ہے، تم این جی او جوائن کر لو مگر میں تو یہ میگزین ہی جوائن کرنا چاہتی ہوں۔”
”لیکن پہلے تو تمہارا ارادہ بھی این جی او کے لئے کام کرنے کا ہی تھا۔”
”ہاں پہلے تھا لیکن اب نہیں۔”
”کیوں اب کیا ہو گیا ہے؟”
”کچھ نہیں ، بس ویسے ہی۔”
”کہیں تمہارے کزن نے پھر تمہیں کوئی لیکچر تو نہیں دیا؟” شہلا فوراً مشکوک ہوئی۔
”نہیں عمر نے تو ایسا کچھ نہیں کہا۔”
”پھر؟”
”بس میں نے خود ہی اپنا ارادہ بدل دیا۔ این جی او کے لئے بھی کام کرنا چاہتی ہوں لیکن ابھی نہیں رزلٹ آنے کے بعد۔”
”یار تم نے تو میرا پروگرام بھی ڈانواں ڈول کر دیا ہے۔”
”کیوں تمہارا پروگرام کیوں ڈانواں ڈول ہوا ہے؟”
”تم جانتی ہو، مجھے ہر کام تمہارے ساتھ کرنے کی عادت ہے۔ اب یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ تم میگزین جوائن کر لو اور میں این جی او کے ساتھ دھکے کھاتی پھروں۔”
”تو پھر تم بھی میگزین جوائن کرلو… انجوائے کرو گی۔ ویسے بھی فیشن میگزین ہے، کام دلچسپ ہے۔”
”اچھا ٹھیک ہے۔ میں کچھ سوچتی ہوں۔” شہلا نے ہامی بھری۔
”سوچو مت بس کل چلتے ہیں وہاں۔” علیزہ نے کہا۔
”اتنی جلدی۔”
”ہاں اس سے پہلے کہ وہ جابز کسی اور کو مل جائیں۔ ہمیں وہاں بات کر لینی چاہئے۔”
”اتنا پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے، وہاں جاب نہ بھی ملی تو کہیں نہ کہیں ضرور مل جائے گی۔ پاپا کے اتنے تعلقات ضرور ہیں۔” شہلا نے اسے تسلی دی۔
”جو جاب تعلقات استعمال کرکے ملے ، وہ بھی کوئی جاب ہے… مزہ تو تب ہے کہ ہم اپنی صلاحیتیں استعمال کرکے یہ جاب حاصل کریں۔” علیزہ نے فوراً کہا۔
”ٹھیک ہے یار! چلو اپنی صلاحیتیں استعمال کر لیتے ہیں۔ پھر کل کتنے بجے آؤں؟” شہلا فوراً مان گئی۔
”نو بجے میری طرف آجاؤ، یہاں سے اکٹھے چلیں گے۔ ” علیزہ نے پروگرام سیٹ کرنے کے بعد فون بند کر دیا۔
پیپرز سے فارغ ہونے کے بعد آج کل وہ گھر پر ہی تھی اور کچھ دن پہلے شہلا نے اسے ایک فیشن میگزین سے نکلنے والی کچھ جابز کے بارے میں بتایا تھا۔
علیزہ نے فوری طور پر اس میں کوئی دلچسپی نہیں لی۔ اسے جرنلزم کا شعبہ کبھی بھی اتنا پسند نہیں آیا تھا۔ کہ وہ اسے اپنانے کا سوچتی۔ اس کا خیال تھا کہ وہ رزلٹ آنے کے بعد کسی اچھی این جی او کے ساتھ منسلک ہو کر کام کرے گی۔
مگر شہباز منیر والے واقعہ کے بعد یک دم ہی اسے جرنلزم میں دلچسپی پیدا ہو گئی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ آج اس نے شہلا کو فون کرکے اس جاب کے بارے میں اپنی دلچسپی کا اظہار کیا تھا۔
وہ نہیں جانتی تھی کہ نانو کا اس قدم کے بارے میں کیا ردعمل ہو گا۔ مگر پچھلے بہت سے سالوں سے وہ آہستہ آہستہ اپنے بہت سے فیصلے خود کرنے لگی تھی۔ خاص طور پر نانا کی ڈیتھ کے بعد نانو نے اس کی زندگی میں پہلے کی طرح مداخلت کرنا چھوڑ دی تھی۔ اسے نانو کی طرف سے کسی مخالفت کی توقع نہیں تھی اور اگر نانو مخالفت کرتیں تو بھی انہیں قائل کرنے کے لئے ذہنی طور پر تیار تھی۔


جاری ہے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔امربیل از عمیرہاحمد
۔۔۔۔
قسط نمبر 34
۔۔۔۔۔
باب 35

عمر اس کا چہرہ دیکھنے لگا۔
”آپ کریں گے مجھ سے شادی؟”علیزہ کا انداز اس بار پہلے سے بھی زیادہ اکھڑ تھا۔
عمر یک دم ہنس پڑا۔ ”مذاق کر رہی ہو؟”
”نہیں۔ میں مذاق نہیں کر رہی۔ میں بالکل سنجیدہ ہوں اور آپ نے ایسا سوچا بھی کیوں کہ میں آپ سے اس بارے میں مذاق کروں گی۔”
عمر کی مسکراہٹ غائب ہو گئی۔
”بتائیں۔ آپ کریں گے مجھ سے شادی؟” وہ اسی سنجیدگی کے ساتھ پوچھ رہی تھی۔ ”آپ خاموش کیوں ہیں؟”
”ہر سوال کا جواب ضروری ہوتا ہے کیا؟”
”ہاں ضروری ہوتا ہے، کم از کم اس سوال کا جو میں آپ سے پوچھ رہی ہوں۔”
عمر اس کا چہرہ دیکھتا رہا پھر اس نے مستحکم انداز میں کہا۔”نہیں۔”
علیزہ کی رنگت متغیر ہوئی پھر اس کے چہرے پر ایک مسکراہٹ ابھری۔ ”میں جانتی تھی، آپ کا جواب یہ ہی ہو گا۔ میں اتنے ہفتوں سے یہی جاننے کی کوشش کر رہی ہوں کہ ذوالقرنین نے آخر مجھ سے شادی سے انکار کیوں کیا۔ کوئی تو ایسی خامی ہو گی۔مجھ میں کہ اس نے مجھے صرف ٹائم پاس سمجھا۔ مجھ سے مستقل تعلق نہیں جوڑا اور میں نے خودکشی سوچے سمجھے بغیر نہیں کرنا چاہی۔ میں نے سب کچھ سوچ کر وہ پلز لی تھیں۔ آپ جب سے یہاں آئے ہیں۔ مجھے یہی بتاتے رہتے تھے کہ میں بالکل نارمل ہوں، مجھ میں کوئی کمی نہیں ہے۔ مجھ میں بہت ساری کوالٹیز ہیں۔ آپ کو پتا ہے آپ میں ذوالقرنین میں زیادہ فرق نہیں ہے، وہ بھی مجھ سے یہی سب کہتا رہتا تھا۔ بس آپ نے اس کی طرح مجھ سے اظہار محبت نہیں کیا۔” اس نے کہا۔
”علیزہ !”عمر نے کچھ کہنے کی کوشش کی۔
”آپ مجھے بات کرنے دیں، روکیں نہیں۔ مجھ میں کوئی ایسی خامی تو ہو گی جس کو کور کرنے کے لئے آپ اور ذوالقرنین میری آنکھوں پر سب اچھا ہے کی پٹی باندھتے رہے۔”
”ایسا نہیں ہے۔” عمر نے مدھم آواز میں کہا۔
”ایسا ہے۔ مجھ میں کچھ تو ابنارمل ہے… کوئی کمی تو ہے۔”
”تم میں ٹین ایج Impulsivenessکے علاوہ اور کوئی خامی نہیں ہے۔” عمر نے جیسے اسے یقین دلانا چاہا۔
”لوگوں کو میرے بارے میں بات کرنے کا بہت شوق ہے۔” وہ عمر کی بات سنے بغیر بولتی گئی۔ ”چاہے وہ آپ ہوں یا پھر نانو، نانا… ہر ایک نے زندگی کا مقصد علیزہ پر تبصرہ کرنا بنا لیا ہے۔”
عمر کچھ کہتے کہتے رک گیا۔” میں تنگ آگئی ہوں اس سب سے… ہر چیز کی ایک حد ہوتی ہے۔”
”تمہیں ہم لوگوں سے شکایتیں ہیں؟” عمر نے اسے غور سے دیکھتے ہوئے کہا۔
”پتہ نہیں۔۔۔” وہ حد درجہ بیزار نظر آئی۔
”تم کچھ عرصہ کے لئے اپنے پیرنٹس میں سے کسی کے پاس چلی جاؤ۔”
”کیوں جاؤں؟” وہ یک دم ہتھے سے اکھڑ گئی۔
”تمہارا ڈپریشن دور ہو جائے گا… خود کو بہتر محسوس کروں گی تم۔”
”پیرنٹس کے پاس جا کر خود کو بہتر محسوس کروں گی، میں؟… مجھے ان کی ضرورت نہیں ہے… وہ اگر مجھے اپنی زندگی سے نکال چکے ہیں تو میں نے بھی انہیں اپنی زندگی سے نکال دیا ہے… میں دوبارہ کبھی ان دونوں سے ملنا نہیں چاہتی۔”
”ٹھیک ہے ان کے پاس مت جاؤ… کہیں اور چلی جاؤ گرینی کے ساتھ۔”
”مجھے نانو کے ساتھ بھی کہیں نہیں جانا۔””گرینڈ پا کے ساتھ چلی جاؤ۔”
”ان کے ساتھ بھی نہیں جانا۔”” اکیلے جانا چاہتی ہو؟”
”مجھے نہیں پتا…بار بار ایسے نہ کہیں۔” وہ اب اس سے الجھ رہی تھی۔
”کیا پرابلم ہے علیزہ؟ کیوں اس طرح کر رہی ہو؟”
”آپ میں سے کوئی بھی میرے پرابلمز کا اندازہ نہیں کر سکتا کیونکہ آپ میں سے کوئی علیزہ سکندر نہیں ہے۔”
”ٹھیک ہے ہم میں سے کوئی بھی تمہارے پرابلمز کو نہیں سمجھ سکتا کیونکہ ہم علیزہ سکندر نہیں ہیں مگر تم خود اپنے ساتھ کیا کر رہی ہو؟ تم نے یہ سوچا ہے؟”
”میں جو بھی کر رہی ہوں ٹھیک کر رہی ہوں۔”
”تم ٹھیک نہیں کر رہیں… تم اپنی زندگی اور خود کو ضائع کر رہی ہو۔”
”اگر میں ایسا کر رہی ہوں تو مجھے کرنے دیں۔”
”چار پانچ سال بعد تم کہاں کھڑی ہو گی۔کیا تم نے کبھی یہ سوچا ہے؟” عمر کا لہجہ یک دم نرم ہو گیا۔
۔۔۔
”کیا ضروری ہے کہ میں چار پانچ سال کے بعد بھی زندہ ہوں۔ اتنی زیادہ زندگی مجھے کیا کرنی ہے؟” عمر چند لمحے کچھ بول نہیں سکا۔
”یہ زیادہ زندگی ہے؟”
”زیادہ؟… بہت زیادہ… پچھلے اٹھارہ سال سے میں بالکل اکیلی ہوں کیا میری کسی کو ضرورت ہے… میرے پیرنٹس کو، نہیں۔ وہ اپنی زندگی جی رہے ہیں۔… نانو اور نانا کو، نہیں ان کے لئے اور بہت سے لوگ ہیں… شہلا کے پاس بھی اور بہت سے فرینڈز ہیں… ہر شخص کے پاس میرا نعم البدل ہے… پھر میری کیا ضرورت ہے۔” وہ پھر اسی ذہنی انتشار کا شکار نظر آئی۔
”تمہاری زندگی میں یہ Meaninglessnessاس لئے ہے کیونکہ تم اپنی زندگی کو سوچے سمجھے بغیر گزارنے کی کوشش کر رہی ہو… زندگی کو پازیٹو طریقے سے دیکھو گی تو دنیا کے اسٹیج پر تمہیں اپنی جگہ نظر آجائے گی۔ مگر نیگیٹو طریقے سے دیکھو گی تو تم خود کو کہیں بھی دیکھ نہیں سکو گی۔” عمر نے اسے سمجھانے کی کوشش کی۔
علیزہ پلکیں جھپکے بغیر بے تاثر چہرے کے ساتھ اسے دیکھتی رہی۔
”تمہیں ایک بہت لمبی اور اچھی زندگی گزارنی ہے… پر سکون اور با مقصد زندگی۔” عمر بولتا رہا۔ ”کس کس کے لئے روتی رہو گی… اور کب تک… پھر ایک دن تو تمہیں چپ ہونا ہی ہے… مگر تب تم اتنا وقت ضائع کر چکی ہو گی کہ تم کہیں بھی کھڑی نہیں ہو پاؤ گی۔ ذہنی طور پر تم ایک اندھی گلی کے آخری سرے پر ہو گی۔ تب واپسی کا راستہ تم بھول چکی ہو گی، اور تمہارے آگے کوئی رستہ نہیں ہو گا۔ پھر تم کیا کرو گی…؟”
علیزہ اب بھی بے تاثر چہرے کے ساتھ اسے دیکھ رہی تھی۔ عمر اس کے جواب کا انتظار کر رہا تھا۔
”آپ ایک انتہائی عجیب انسان ہیں۔” وہ علیزہ سے اس جواب کی توقع نہیں کر رہا تھا۔ ” آپ مجھے وہ چیزیں سکھانا چاہتے ہیں جو خود آپ کو نہیں آتیں۔” عمر ساکت رہا۔ ”زندگی کے اسٹیج پر آپ کی جگہ کہاں ہے؟ کیا آپ خود یہ جانتے ہیں؟” عمر کچھ بول نہیں سکا۔
”علیزہ اب جیسے اسے کھوجنے کی کوشش کر رہی تھی۔” آپ کو پتا ہے بعض دفعہ مجھے آپ پر کتنا ترس آتا ہے؟”
عمر کا چہرہ سرخ ہوا۔” کتنی ہمدری محسوس ہوتی ہے آپ کے لئے۔” وہ انتہائی بے رحمی سے اس کی شخصیت کی پرتیں اتار رہی تھی۔ ”آپ اور میں دونوں زندگی میں ایک ہی جگہ کھڑے ہیں۔ بس فرق یہ ہے کہ آپ کو خود کو چھپانا آتا ہے… مجھے نہیں آتا۔” عمر کو وہ یک دم بہت میچیور لگی۔ وہ اس کی بات میں مداخلت کئے بغیر اسے دیکھتا رہا۔
”کیا آپ نے خود ہر چیز کے ساتھ کمپرومائز کر لیا ہے؟” وہ اب اس سے پوچھ رہی تھی۔
”کس چیز کے ساتھ؟”
”اپنے پیرنٹس کی علیحدگی کے ساتھ؟” وہ کچھ نہیں بولا۔ علیزہ کے ہونٹوں پر ایک فاتحانہ مسکراہٹ ابھری۔
”اور آپ چاہتے ہیں میں یہ بھول جاؤں کہ میرے پیرنٹس اپنی الگ دنیا بسا چکے ہیں۔” وہ اب اسے تکلیف پہنچانا چاہتی تھی۔ ”آپ دس سال کے تھے جب آپ کے پیرنٹس میں طلاق ہوئی۔ کیا آپ نے کچھ بھی محسوس نہیں کیا؟ کیا آپ کو کوئی ڈپریشن نہیں ہوا۔” وہ اب اس کو چیلنج کر رہی تھی۔ ”پھر جہانگیر انکل کو ناپسند کیوں کرتے ہیں آپ؟… اپنی ممی کی شکل دیکھنے پر تیار کیوں نہیں؟… اپنے سوتیلے بہن بھائیوں کا کبھی نام تک نہیں لیاآپ نے۔۔۔”
”تم مجھ سے کیا جاننا چاہتی ہوں علیزہ؟” عمر کا لہجہ پر سکون تھا۔ علیزہ چڑ گئی۔
”سچ… صرف سچ… وہ سچ جو آج تک آپ نے مجھے نہیں بتایا۔”
”سچ یہ ہے کہ مجھے اپنے ماں باپ سے نفرت ہے۔ … سچ یہ ہے کہ میں آج تک ان دونوں کو معاف نہیں کر سکا۔ سچ یہ ہے کہ میں ان دونوں میں سے کسی کی بھی عزت نہیں کرتا… سچ یہ ہے کہ میرے سوتیلے بہن بھائی میرے لئے کوئی اہمیت نہیں رکھتے… سچ یہ ہے کہ مجھے ان لوگوں کے ہونے یا نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا… سچ یہ ہے کہ سولہ سال پہلے ان دونوں کے درمیان ہونے والی علیحدگی کی یاد ابھی بھی ایک گرم سلاخ کی طرح میرے وجود میں اتر جاتی ہے۔” وہ اب بولتا جا رہا تھا۔
”سچ یہ ہے کہ تمہاری طرح مجھے بھی دنیا میں اپنے ماں باپ سے زیادہ خودغرض کوئی نہیں لگتا۔ سچ یہ ہے کہ تمہاری طرح میں بھی بہت عرصہ یہ سب کچھ بھلانے کے لئے ایک سائیکالوجسٹ کے زیر علاج رہا… سچ یہ ہے کہ تمہاری طرح میں نے ایک بار سلیپنگ پلز کھا کر خودکشی کی کوشش کی۔ سچ یہ ہے کہ اب بھی تمہاری طرح مجھے بھی اپنی زندگی کا کوئی مقصد نظر نہیں آتا… اور سچ یہ بھی ہے کہ اس سب کے باوجود اب میں زندہ رہنا چاہتا ہوں… کیا اتنا سچ کافی ہے یا تم کچھ اور سچ بھی سننا چاہتی ہو؟” اس کا چہرہ یہ سب بتاتے ہوئے اتنا بے تاثر اور لہجہ اتنا مطمئن تھا کہ علیزہ کو یوں لگا جیسے وہ اپنے بارے میں بات کرنے کے بجائے کسی دوسرے کی بات کر رہا ہو… یا پھر کسی ایکٹ کے ڈائیلاگ اسکرپٹ…… دیکھ کر پڑھنے کی کوشش کر رہا ہو۔
”میں تمہیں صرف تکلیف سے بچانا چاہتا ہوں۔” عمر نے سنجیدگی سے کہا۔ ”میں اس رستے سے پہلے گزر چکا ہوں، جانتا ہوں کہاں گڑھا ہے۔ کہاں پتھر… کہاں پیر زخمی ہوسکتے ہیں ۔ کہاں گھٹنوں کے بل گرنے کا خدشہ ہے اور میں چاہتا ہوں تم اس رستہ سے گزرتے ہوئے وہاں ٹھوکر نہ کھاؤ… جہاں میں کھا چکا ہوں۔” وہ چپ چاپ اسے دیکھتی رہی۔
”ہم Lost generationہیں علیزہ… ہمارے پیچھے کیا تھا ہم بھلانا چاہتے ہیں ہمارے آگے کیا ہے ہمارے لئے ڈھونڈنا مشکل ہے۔ مگر کہیں نہ کہیں کچھ نہ کچھ تو ہمارے لئے ہے۔”
اسے عمر کی آواز میں افسردگی محسوس ہوئی۔
۔۔۔
”ہم بڑے گھروں میں رہتے ہیں۔ زندگی میں ان آسائشات سے محظوظ ہوتے ہیں جو اس ملک کی ٩٨ فیصد آبادی کے پاس نہیں ہے… شاندار لباس سے لے کر بہترین اداروں میں ملنے والی تعلیم تک… کوئی بھی چیز ہماری رسائی سے باہر نہیں ہوئی، لیکن جب سوال رشتوں کا آتا ہے تو ہمارے چاروں طرف ایسی تاریکی چھا جاتی ہے جس میں کچھ بھی ڈھونڈنا مشکل ہوتا ہے… لیکن ہمارے لئے اس زندگی سے باہر بھی کچھ نہیں ہے۔ ہمارا مقدر یہی ہے کہ ہم ان ہی رشتوں کے ساتھ رہیں۔ جو ہمیں مصنوعی لگتے ہیں۔” وہ بول رہا تھا۔
”دنیا کا کوئی دروازہ نہیں ہوتا جسے کھول کر ہم اس سے باہر نکل جائیں۔” اس نے علیزہ کا جملہ دہرایا علیزہ نے سر جھکا لیا۔ ”دنیا کی صرف کھڑکیاں ہوتی ہیں جن سے ہم باہر جھانک سکتے ہیں۔ بعض دفعہ یہ کھڑکیاں دنیا سے باہر کے منظر دکھاتی ہیں۔ بعض دفعہ یہ اپنے اندر کے منظر دکھانے لگتی ہیں۔ مگر رہائی اور فرار میں کبھی مدد نہیں دیتیں۔”
وہ جیسے فلسفہ بول رہا تھا۔ علیزہ کو حیرت ہوئی اس نے عمر کو اس طرح کی باتیں پہلے کبھی کرتے نہیں سنا تھا۔
”زندگی ذوالقرنین سے شروع ہوتی ہے نہ اس پر ختم ہوتی ہے… ذوالقرنین تمہارے لئے وہ تجربہ ہے جس پر کبھی تم بہت ہنسو گی… یہ سوچ کر کہ کیا تم اس شخص کے لئے خودکشی کر رہی تھیں۔”
”زندگی میں انسان کو ایک عادت ضرور سیکھ لینی چاہئے جو چیز ہاتھ سے نکل جائے اسے بھول جانے کی عادت۔ یہ عادت بہت سی تکلیفوں سے بچا دیتی ہے۔” وہ اب لا پروائی سے کہہ رہا تھا۔
”انسان چیزیں نہیں ہوتے آپ نے کسی سے محبت کی ہے یا نہیں… لیکن میں یہ ضرور جانتی ہوں کہ آپ کو کسی نے میری طرح ریجیکٹ نہیں کیا ہو گا… اس طرح کسی نے آپ کے احساسات کا مذاق نہیں اڑایا ہو گا۔ جیسا ذوالقرنین نے میرے ساتھ کیا۔”
عمر اس کی بات پر بے اختیار ہنسا۔ ”یہ غلط فہمی دور کر لو علیزہ… مجھے کس کس طرح اور کتنی دفعہ ریجیکٹ کیا گیا ہے۔ اس کا اندازہ تم نہیں لگا سکتی کیونکہ اس کا اندازہ خود مجھے بھی نہیں ہے۔ ریجیکشن انسان کی زندگی کا ایک اہم حصہ ہوتا ہے۔ کبھی ہم کسی کو ریجیکٹ کرتے ہیں پھر کوئی ہمیں ریجیکیٹ کر دیتا ہے۔ اس چیز کے بارے میں اتنا پریشان ہونے کی کیا ضرورت ہے اسے تو بہت نارمل لینا چاہئے۔ تمہیں کسی دن بتاؤں گا کہ مجھے کتنی دفعہ ریجیکٹ کیا گیا۔” وہ اب بالکل نان سیریس نظر آرہا تھا۔ یوں لگ رہا تھا جیسے اب وہ علیزہ کے ساتھ ہونے والی گفتگو سے محظوظ ہو رہا ہو۔
”تم اتنی خوبصورت ہو کہ آج سے پانچ سال بعد ذوالقرنین اور میرے جیسے بہت سے تمہارے لئے لائن میں لگے ہوں گے، اور تب تم کہو گی، نہیں اس قسم کے لوگ نہیں چاہئیں مجھے۔ ان سے بہتر چیز ہونی چاہئے۔ جیسے دکان پر جوتا پسند کرتے ہیں نابالکل ویسے۔” وہ کس کا مذاق اڑا رہا تھا،علیزہ اندازہ نہیں کر سکی۔
”اور علیزہ سکندر کا شوہر ایک بڑا خوش قسمت شخص ہو گا۔”
اس نے بچوں کی طرح سر اٹھا کر دیکھا۔ عمر کے چہرے پر عجیب سی مسکراہٹ تھی۔
”عمر جہانگیرکی بیوی بھی ایک بہت خوش قسمت لڑکی ہو گی۔” اس نے کچھ جھجکتے ہوئے کہا۔
”نہیں عمر جہانگیر کی کوئی بیوی کبھی بھی نہیں ہوگی کیونکہ مجھے شادی میں سرے سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔” عمر نے لاپروائی سے کہا۔
”کیوں؟”
”بس ویسے ہی… مجھے یہ آزادی اچھی لگتی ہے۔ بیوی سے خاصے مسائل پیدا ہو جاتے ہیں اور میرے پاس مسائل کی پہلے بھی کمی نہیں ہے۔”
”یہ تو بڑی فضول بات ہے۔” علیزہ کو اس کی رائے پر اعتراض ہوا۔
”نہیں فضول بات نہیں ہے، حقیقت ہے… میں کسی کی بھی ذمہ داری اپنے سر نہیں لے سکتا اور بیوی ایک بڑی ذمہ داری ہے… بہرحال اس موضوع پر دوبارہ کبھی بات کریں گے… فی الحال تو میں
تمہیں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ میں واپس امریکہ جا رہا ہوں۔”
اس نے بات کا موضوع بدل دیا۔ علیزہ کو ایک دھچکا لگا۔
”کیوں؟”
”انٹرویو دے چکا ہوں میں اب رزلٹ کا انتظار کرنے کے علاوہ کوئی اور کام نہیں ہے مجھے، اور رزلٹ میں چند ماہ لگ جائیں گے۔ پھر ٹریننگ شروع ہوتے ہوتے سات آٹھ ماہ تو لگ ہی جائیں گے اور اتنا لمبا عرصہ میں یہاں تو نہیں رہ سکتا۔ واپس جا کر سکون سے کچھ وقت گزاروں گا۔ وہاں میرے فرینڈز ہیں۔ ہو سکتا ہے چند ماہ کے لئے اسپین چلا جاؤں یا پھر انگلینڈ لیکن کچھ چینج چاہتا ہوں۔ پاکستان میں اتنے ماہ ایک ہی طرح کی روٹین سے تنگ آگیا ہوں۔” اس نے تفصیل سے اپنا پروگرام بتاتے ہوئے کہا۔
”آپ مت جائیں۔”
”کیوں بھئی، کیوں نہ جاؤں۔ تمہیں یاد ہے جب میں یہاں آتا تھا، تو شروع میں تم مجھے رکھنا نہیں چاہتی تھیں۔”
عمر نے اسے یاد دلایا۔ وہ کچھ خجل سی ہو گئی۔
”تب اور بات تھی۔”
”اب کیا ہے۔”
”اب مجھے آپ کے یہاں رہنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے، بلکہ مجھے اچھا لگے گا آپ کا یہاں رہنا۔”
”مجھے واپس آنا ہی ہے بس کچھ ماہ کی بات ہے پھر یہیں لاہور میں ٹریننگ ہو گی اور میں لاہور میں ہی ہوں گا۔” عمر نے اسے تسلی دی۔
”میں آپ کو بہت مس کروں گی۔”
”میرے لئے بڑے اعزاز کی بات ہے یہ کہ علیزہ سکندر مجھے مس کرے گی۔”
”میں سیریس ہوں۔”
”اگر تم سائیکالوجسٹ سے دوبارہ اپنا علاج شروع کرواؤ تو میں وعدہ کرتا ہوں کہ میں جلدی واپس آجاؤں گا۔”
”میں علاج کرواؤں گی۔”علیزہ نے بلا توقف کہا۔
”ٹھیک ہے پھر میں وعدہ کرتا ہوں کہ میں بہت جلد یہاں واپس آجاؤں گا۔” عمر نے اپنا ہاتھ اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔ علیزہ نے کچھ بے جان انداز میں اس سے ہاتھ ملا یا۔
”تو کل ہم دوبارہ پہلے والی علیزہ سے ملیں گے۔ ٹھیک ہے نا؟” عمر نے اٹھتے ہوئے کہا۔ وہ مسکرا دی۔ ”کرسٹی کو تمہارے کمرے میں چھوڑ دوں؟” عمر نے جاتے جاتے پوچھا۔
”نہیں، میں خود اسے لے آتی ہوں۔” علیزہ اپنی کرسی سے اٹھ کھڑی ہوئی۔

جاری ہے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔