Amarbail By Umerah Ahmed Readelle50103 Episode 40
Rate this Novel
Episode 40
امربیل از عمیرہاحمد
۔۔۔۔
قسط نمبر 40
۔۔۔۔۔
باب 42 ، 43
وہ جس وقت عمر کے ساتھ گھر پہنچی آدھی رات گزر چکی تھی۔ نانو گیٹ کے چکر لگاتے ہوئے اس کا انتظار کر رہی تھیں گاڑی کے پورچ میں رکتے ہی وہ برق رفتاری سے علیزہ کے پاس آگئیں۔ علیزہ بمشکل اپنی آنکھیں کھول پا رہی تھی، سکون آور انجکشن اب مکمل طور پر اثر کر رہا تھا۔
گاڑی سے پاؤں باہر رکھتے ہوئے وہ لڑکھڑائی تو نانو نے اسے پکڑ لیا۔ اس کے سوجے ہوئے نیلے گال کو دیکھ کر ان کی آنکھیں ڈبڈبا گئیں۔
”تم ٹھیک ہو؟” انہوں نے علیزہ سے پوچھا۔
”ہاں نانو! میں ٹھیک ہوں۔” وہ بات کرتے ہوئے دقت محسوس کر رہی تھی۔
”اس کو کیا ہو رہا ہے؟”
نانو کچھ گھبرا گئیں۔ عمر تب تک ڈرائیونگ سیٹ چھوڑ کر پیچھے آچکا تھا۔
”کچھ نہیں گرینی… انجکشن دیا ہے، اس لئے نیند آرہی ہے اسے۔” علیزہ نے اسے کہتے سنا اور پھر شاید اس نے نانو کو ہاتھ ہٹا کر خود اس کا بازو پکڑا تھا۔
علیزہ بمشکل قدم اٹھا پا رہی تھی۔
”تم تو کہہ رہے تھے کہ اسے کچھ نہیں ہوا مگر اس کو تو چوٹیں لگی ہیں۔ ” نانو نے اس کے چہرے اور ہاتھ پر بندھی ہوئی بینڈیج کو دیکھتے ہوئے گلو گیر آواز میں کہا۔
”یہ معمولی چوٹیں ہیں، یہ بالکل ٹھیک ہے۔” وہ اب لاؤنج میں داخل ہو گئے۔
”علیزہ ! کون تھے وہ لڑکے… کیوں تم دونوں کے پیچھے پڑ گئے تھے؟” نانو اب ایک بار پھر اس کی طرف متوجہ ہوئیں۔
”گرینی! ابھی اس سے کچھ نہ پوچھیں… ابھی اسے سونے دیں۔”
علیزہ کے کچھ کہنے سے پہلے ہی عمر نے نانو سے کہا۔
وہ لاؤنج میں رکا نہیں اس لئے وہ اور نانو سیدھا اس کے کمرے میں چلے گئے، علیزہ نے بیڈ پر لیٹتے ہی آنکھیں بند کر لیں۔ اس کے جسم کو عجیب سا سکون ملا تھا۔ کسی نے اسے ایک چادر اوڑھائی تھی۔ عمر شاید نانو سے کچھ کہہ رہا تھا، علیزہ اب اس کے الفاظ کو سمجھ نہیں پا رہی تھی۔ چند لمحوں بعد اس نے اپنے اردگرد مکمل خاموشی پائی، آخری احساس کمرے میں ہونے والی تاریکی کا تھا۔ پھر کسی نے دروازہ بند کر دیا۔
اگلے دن وہ جس وقت اٹھی اس وقت دو بج رہے تھے کچھ دیر تو اسے یقین ہی نہیں آیا کہ وہ اتنی دیر تک سوئی رہی ہے۔ پھر اسے پچھلی رات کے تمام واقعات یاد آنے لگے۔ اس نے انہیں ذہن سے جھٹکنے کی کوشش کی۔ اس کا جسم اورذہن اس وقت بالکل ہلکے پھلکے تھے، اور وہ ایک بار پھر ٹینس ہونا نہیں چاہتی تھی۔
وارڈ روب سے کپڑے نکال کر اس نے شاور لیا اور پھر اپنے کمرے سے نکل آئی۔ لاؤنج میں آتے ہی اس نے عمر اور نانو کو وہاں بیٹھے دیکھا۔ عمر اسے دیکھ کر مسکرایا۔ وہ بھی جواباً مسکرائی، نانو اس کے پاس آکر اس کا چہرہ دیکھنے لگیں۔
”ابھی بھی سوجن ختم نہیں ہوئی۔” انہوں نے تشویش سے کہا۔
”نہیں پہلے سے کم ہے مگر درد کچھ زیادہ ہو رہا ہے۔ رات کو تو چوٹ کا اتنا پتہ نہیں چلا۔” علیزہ نے صوفے پر بیٹھتے ہوئے کہا۔
”ایک دو دن میں درد ختم ہو جائے گا، البتہ نشان کافی دنوں تک رہے گا۔” عمر نے اس سے کہا۔
”گرینی کھانا لگوا دیں اس کے لئے۔”
”آپ لوگ کھانا کھائیں گے؟”
”نہیں، ہم لوگ کھانا کھا چکے ہیں۔ میں تو صرف تمہارا انتظار کر رہا تھا مجھے واپس جانا ہے۔ میں بس ایک بار تمہیں دیکھنا چاہ رہا تھا۔” عمر نے کہا۔ نانو کچن میں جا چکی تھیں۔
”کیسا محسوس کر رہی ہو تم؟”
”میں ٹھیک ہوں۔” اس نے مسکراتے ہوئے کہا۔ ”جو بھی کچھ ہوا وہ بہت خوفناک تھا مگر میں… ٹھیک ہوں۔”
وہ اسے دیکھتا رہا ”تم پہلے سے کافی بدل گئی ہو۔” کچھ دیر بعد اس نے کہا علیزہ نے چونک کر اسے دیکھا وہ مسکرا رہا تھا۔ ”Much more mature and composed” (زیادہ میچور اور سلجھی ہوئی) اچھی بات ہے۔”
”پتا نہیں … شاید۔۔۔”
”ابھی چند ہفتے تم گھر پر ہی رہنا، اور آئندہ اگر رات کو باہر جاؤ تو ہمیشہ اپنے پاس کوئی ریوالور رکھو۔”
“میں دوبارہ کبھی رات کو باہر ہی نہیں جاؤں گی۔”
”کیوں بھئی… کیوں نہیں ، جاؤ گی تم باہر… کسی حادثے کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ گھر میں خود کو بند کر لیا جائے۔ جو ہوا گزر گیا۔ عباس نے دو تین بار فون کیا ہے تم سو رہی تھیں۔ اس لئے میں نے بات نہیں کروائی۔ اس سے بات کر لینا ایک بار ، اور ایاز انکل نے بھی فون کیا ہے۔ ان کو بھی کال کر لینا۔”
”ایاز انکل کو… کیوں…؟ کیا ان کو سب کچھ پتا چل گیا ہے؟” وہ کچھ متفکر ہوئی۔
”ہاں ان سے میری رات کو بات ہوئی تھی ، عباس نے ان کو فون کیا تھا وہ بس تمہاری خیریت دریافت کرنا چاہتے ہیں۔” عمر نے کہا۔
”آپ کل یہاں کیسے…؟” عمر نے اس کی بات کاٹی۔
”میں اتفاقاً آیا تھا، عباس کے پاس تھا جب گرینی نے اس کو فون کیا۔ پھر میں رات یہیں رک گیا۔ بس ابھی نکل جاؤں گا۔” عمر نے تفصیل سے بتایا۔
”ان لڑکوں کا کیا ہوا؟ کیس فائل ہو گیا؟” علیزہ کو وہ چاروں یاد آئے۔
”ہاں، میں چلتا ہوں، دیر ہو رہی ہے۔ شام ہو جائے گی مجھے واپس پہنچتے پہنچتے۔” عمر نے اپنی رسٹ واچ دیکھتے ہوئے کہا اور کھڑا ہو گیا۔
”میں واپس جا کر ایک بار پھر تمہیں فون کروں گا۔ اور علیزہ! “Just forget about every thing.”(سب کچھ بھلا دو۔) کچھ بھی نہیں ہوا… سب کچھ ٹھیک ہے۔ ” علیزہ نے ایک گہرا سانس لے کر سر ہلا دیا۔ وہ اسے خدا حافظ کہہ کر باہر نکل گیا۔
علیزہ فون کا ریسیور اٹھا کر عباس کو کال ملانے لگی۔
”ہاں علیزہ! کیسی ہو تم؟” عباس نے رابطہ ہوتے ہی کہا۔
”میں ؟ٹھیک ہوں۔”
”میں کتنی بار کال کر چکا ہوں، تم سو رہی تھی۔ ابھی دوبارہ کال کرنے ہی والا تھا میں۔ ” عباس نے کہا۔ ”پاپا سے بات ہوئی ہے تمہاری؟”
”انکل ایاز سے… نہیں ابھی میں ان کو کال کروں گی، عمر نے بتایا تھا کہ انہوں نے صبح کال کی تھی۔” علیزہ نے کہا۔ ”تمہاری گاڑی ورکشاپ میں ہے، ایک دو دن تک میں بھجوا دوں گا۔ شام کو میں آؤں گا گرینی کی طرف۔ عمر ابھی وہیں ہے یا چلا گیا؟”
”وہ ابھی ابھی گئے ہیں۔ عباس بھائی ایف آئی آر میں میرا نام بھی آئے گا؟” علیزہ کو کچھ دیر پہلے خیال آیا۔
”نہیں تمہارا نام کیوں آئے گا؟”
”نہیں تو کیس کیسے فائل ہو گا؟
”تم اس کو چھوڑ دو، یہ بتاؤ چہرے پر لگی ہوئی چوٹ ٹھیک ہو ئی ہے کچھ؟ ” عباس نے بات کا موضوع بدل دیا۔
”ہاں۔۔۔”
”گڈ… شام کو میں تمہیں ایک بار پھر ڈاکٹر کے پاس لے جاؤں گا۔ وہ تمہارے ہاتھ کی بینڈیج چینج کر دے گا۔ گرینی کو کہو کہ اچھا سا کھانا تمہیں کھلائیں۔ اس کے بعد تم آرام سے کوئی اچھی سی فلم دیکھو یا پھر کسی دوست کو بلوا لو۔ گپ شپ لگاؤ اینڈ جسٹ انجوائے یور سیلف اور ہاں، ایک بہت ضروری بات … ابھی کچھ ہفتے گھر سے نہیں نکلنا۔ گھر پر میں نے گارڈ لگوا دی ہے۔ ابھی کچھ ہفتے اگر کہیں جانا بھی ہے تو پہلے مجھ کو انفارم کر نا ہے اس کے بعد۔۔۔”
وہ پزل ہو گئی۔ ”کیوں…؟”
”بس ویسے ہی… احتیاط اچھی چیز ہے۔ اچھا پھر شام کو آتا ہوں میں خدا حافظ”
فون بند ہو گیا ، وہ الجھی ہوئی ریسیور ہاتھ میں لئے اسے دیکھتی رہی ۔
نانو کھانا لگوا چکی تھیں۔ علیزہ نے کھانا کھایا نانو نے اس سے رات کے واقعات کے بار ے میں کچھ بھی نہیں پوچھا۔ شاید عمر انہیں منع کر چکا تھا۔ وہ صرف اسے اکیلے واپس آنے پر ڈانٹتی رہیں۔ علیزہ خاموشی سے ان کی ڈانٹ سنتی رہی۔ وہ ابھی کھانا کھا رہی تھی، جب ایاز انکل کا فون آیا تھا۔ وہ کچھ نروس ہو گئی جب نانو نے فون پر بات کرنے کے بعد اسے بلوایا۔
”ہیلو علیزہ بیٹا! ہاؤ آر یو…؟” ایاز حیدر نے اس کی آواز سنتے ہی کہا۔
”فائن…!”
”میری عباس سے بات ہوئی تھی رات کو… ڈونٹ وری… سب کچھ ٹھیک ہو گیا ہے، اور تمہاری چوٹیں کیسی ہیں؟”
”بہت معمولی چوٹیں ہیں۔ میں بالکل ٹھیک ہوں۔” علیزہ نے کہا۔
وہ کچھ دیر اسی طرح اس سے ادھر ادھر کی باتیں کرتے رہے۔
”اچھا بیٹا! میں آج رات یا کل لاہور آؤں گا، باقی باتیں پھر ہوں گی، اور ابھی کچھ ہفتے باہر نہیں جانا گھر پر رہنا اور کوئی فون کال خود ریسیو نہیں کرنی ، ممی کو کرنے دو۔ اس کے بعد تم ریسیو کرنا اور اپنے میگزین فون کرکے ریزائن کردو۔”
وہ حیرانی سے ان کی ہدایات سنتی رہی، ریسیور رکھنے کے بعد اس نے کچھ الجھی ہوئی نظروں سے نانو کو دیکھا۔
”شہلا کچھ دیر تک آئے گی وہ بھی صبح سے فون کر رہی ہے میں نے اس سے کہا تھا کہ وہ سہ پہر کو آجائے۔ ” نانو نے اس کے چہرے کے تاثرات کو نظر انداز کرتے ہوئے اسے بتایا۔
”اچھا۔۔۔” وہ صوفے پر بیٹھ کر ان تینوں کی ہدایات کے بارے میں سوچتی رہی۔
وہ ابھی لاؤنج میں ہی تھی جب آدھ گھنٹہ کے بعد انٹر کام کی بیل سنائی دی۔ خانساماں نے انٹر کام پر بات کی اور پھر باہر نکل گیا کچھ دیر بعد شہلا اندر داخل ہوئی اس نے بڑی گرم جوشی کے ساتھ علیزہ کو گلے لگایا۔ پھر وہ اس کے ساتھ بیڈ روم میں آگئی۔ رات کے واقعات کے بارے میں وہ دونوں دوبارہ باتیں کرتی رہیں۔
”تمہارے گھر کے باہر اب پولیس کب تک رہے گی؟” شہلا نے اچانک اس سے پوچھا۔
”گھر کے باہر…؟گیٹ پر ایک دو لوگ ہوں گے، مگر کیا گھر کے باہر بھی پولیس ہے۔”
”ہاں پولیس کی ایک گاڑی کھڑی ہے۔ میری گاڑی انہوں نے اندر آنے نہیں دی۔ خانساماں سے تصدیق کروانے کے بعد مجھے اندر آنے دیا۔”
”پتا نہیں کیا پرابلم ہے، مجھ سے بھی سب کہہ رہے ہیں کہ میں چند ہفتے تک باہر نہ جاؤں۔ فون بھی ریسیو نہ کروں اور ایاز انکل نے کہا ہے کہ میں میگزین کی جاب سے ریزائن کردوں۔”
شہلا نے کندھے اچکائے۔” شاید احتیاط کے طور پر یہ سب کر رہے ہوں گے۔ خیر میں کل پھر آؤں گی ، ممی بھی آنا چاہ رہی تھیں مگر میں نے آج انہیں روک دیا۔ کل انہیں لاؤں گی۔” شہلا نے اٹھتے ہوئے کہا۔
”وہ تو اتنی خوفزدہ ہیں کہ آج انہوں نے مجھے ڈرائیور کے ساتھ بھجوایا ہے۔” شہلا اسے بتاتی رہی۔
علیزہ دروازے تک اسے چھوڑنے آئی۔
شام ہو چکی تھی اور اب اسے عباس کا انتظار تھا، لیکن وہ نہیں آیا اس نے فون پر اپنے نہ آنے کی اطلاع دیتے ہوئے کہا۔
”علیزہ مجھے کچھ ضروری کام ہے، اس لئے ابھی نہیں آسکوں گا۔”
”کوئی بات نہیں، میری بینڈیج ابھی بالکل ٹھیک ہے۔”
علیزہ نے کہا اس سے پہلے کہ وہ اس سے کچھ اور کہتی اس نے ریسیور میں دور سے عمر کی آواز سنی۔
”تم میرے ساتھ چلو گے یا میں خود چلا جاؤں؟”
وہ چونک گئی۔
”اچھا علیزہ ! مجھے کچھ کام ہے، خدا حافظ۔”
عباس نے خاصی عجلت میں فون بند کر دیا۔
”عمر وہاں کیسے ہے، وہ تو واپس اپنے شہر چلا گیا تھا۔” وہ کچھ اور الجھ گئی۔
رات کے کھانے کے بعد وہ اپنے کمرے میں چلی آئی، کافی دیر تک اسے نیند نہیں آئی۔ وہ ایک کتاب پڑھتی رہی مگر اس کا ذہن بری طرح الجھا ہوا تھا۔ جب بہت دیر تک وہ سو نہیں پائی تو اس نے نیند کی ایک گولی لے لی۔
٭٭٭
اگلی صبح وہ نو بجے کے قریب بیدار ہوئی۔ ناشتہ کی میز پر نانو نے اس کا استقبال کیا، علیزہ کو خلاف معمول میز پر کوئی بھی نیو ز پیپرز نظر نہیں آیا۔
”نانو! نیوز پیپر کہاں ہیں؟” علیزہ نے اپنے لئے چائے کا کپ تیار کرتے ہوئے پوچھا۔
”یہیں تھے۔” نانو نے کہا۔ ”تم ناشتہ کرو، بعد میں دیکھ لینا۔”
اسی وقت فون کی گھنٹی بجی، نانو اٹھ کر فون کی طرف بڑھ گئیں۔ دوسری طرف شہلا تھی۔ نانو نے علیزہ کو بلایا۔
”تم نے آج کے اخبار دیکھے ہیں؟” شہلا نے اس کے لائن پر آتے ہی کہا۔
”نہیں۔ کیوں؟”
”تم فوراً دیکھو… فرنٹ پیج۔” علیزہ نے ریسیور رکھ دیا۔
”نانو! نیوز پیپر دکھائیں مجھے… کہاں ہیں؟” وہ نانو کے پاس آگئی۔
”تم ناشتہ۔۔۔” علیزہ نے ان کی بات کاٹ دی۔
”پلیز دکھائیں… آپ چھپا کیوں رہی ہیں؟”
”میرے بیڈ روم میں ہیں۔” نانو نے مدھم آواز میں کہا۔
وہ ان کا چہرہ دیکھتی ہوئی ان کے بیڈ روم میں چلی گئی۔
اس نے ایک اردو اخبار اٹھایا اور اس کا فرنٹ پیج کھول کر اس پر نظر دوڑانے لگی۔ شہلا اسے کیا بتانا چاہتی تھی۔ اسے دیر نہیں لگی۔ فرنٹ پیچ کے بائیں کونے میں ایک چار کالمی باکس کے اوپر چار تصویروں کے نیچے ایک پولیس مقابلے کی ہیڈ لائن لگی ہوئی تھی اور اس کے نیچے اس پولیس مقابلے کے بارے میں کچھ مزید خبریں تھیں۔ علیزہ کے ہاتھ کانپنے لگے، بلیک اینڈ وائٹ خون میں لت پت چار چہروں کی وہ تصویریں شاید وہ اس خبر کے بغیر کبھی نہ پہچان پاتی۔
“ماڈل ٹاؤن میں ڈکیتی کے بعد فرار ہونے والے چاروں ڈاکو پولیس مقابلے میں ہلاک۔”
وہ نانو کے بیڈ پر بیٹھ گئی۔ اس کے پیر بے جان ہو رہے تھے۔
”لاہور (نامہ نگار، پی پی آئی) اتوار کی رات ماڈل ٹاؤن ڈی بلاک میں ڈکیتی کی ایک ناکام واردات کے بعد فرار کی کوشش کرنے والے چاروں ڈاکوؤں کو پولیس نے تعاقب کے بعد ایک سخت مقابلے کے بعد ہلاک کر دیا۔ ملزمان کی فائرنگ سے دو پولیس کانسٹیبل بھی زخمی ہوئے۔ پولیس کی جوابی فائرنگ سے چاروں ملزمان ہلاک ہو گئے۔ تفصیلات کے مطابق اتوار کی رات کو رانا مظفر علی خان کے گھر چار ڈاکوؤں نے ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کی۔ چوکیدار کو رسیوں سے باندھنے کے بعد ان ڈاکوؤں نے نچلی منزل میں موجود گھر کے تمام افراد کو گن پوائنٹ پر ایک کمرے میں بند کر دیا مگر اسی دوران صا حب خانہ کے ایک بیٹے نے جو دوسری منزل پر تھا موبائل پر پولیس کو اطلاع دے دی۔ جس پر ایس پی عباس حیدر کی فوری ہدایات پر انسپکٹر اختر کی قیادت میں ایک پولیس پارٹی نے موقع واردات پر پہنچنے کی کوشش کی پولیس کی گاڑیوں کے سائرن کی آواز سننے پر ملزمان نے پولیس کی گاڑی پر سیون ایم ایم کے ذریعے زبردست فائرنگ کی جس کے نتیجہ میں دو پولیس کانسٹیبل بری طرح زخمی ہوگئے، جن کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔ پولیس پارٹی کی طرف سے دفاع میں فائرنگ کرنے کی کوشش میں چاروں ملزمان شدید زخمی ہو گئے۔ جن میں سے دو موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔ جب کہ دو ہاسپٹل لے جاتے ہوئے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جان بحق ہوئے۔
چاروں ملزمان تعلیم یافتہ اور با اثر خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ جن میں سے ایک ہائی کورٹ کے ایک جج کا بیٹا بتایا جاتا ہے۔ جب کہ ایک اور ملزم لاہور چیمبر آف کامرس کے ایک اہم عہدے دار کا بیٹا تھا۔ ایس پی عباس حیدر نے پولیس آپریشن میں شامل تمام پولیس والوں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے انہیں نقد انعامات اور محکمانہ ترقی دینے کا اعلان کیا ہے، ملزمان کی کار سے بھاری تعداد میں خود کار اسلحہ برآمد کیا گیا ہے۔ گاڑی کی نمبر پلیٹ بھی نقلی تھی۔ پولیس کے ذرائع کے مطابق ملزمان پہلے بھی اس علاقے میں ہونے والی کئی ڈکیتیوں میں ملوث رہے ہیں۔ مگر ہر بار فرار ہونے میں کامیاب ہو جاتے۔ اس علاقے میں ہونے والی کئی ڈکیتیوں میں واردات پر پائے جانے والے فنگر پرنٹس ملزمان کے فنگر پرنٹس سے مل گئے ہیں۔ پولیس نے گاڑی سے برآمد ہونے والا تمام مسروقہ مال اپنی تحویل میں لے لیا ہے جسے ضروری کارروائی کے بعد اصل مالکان کے حوالے کر دیا جائے گا۔”
اس ہیڈ لائن کے نیچے اس خبر کی تفصیلات کے بعد ایک اور دو کالمی ہیڈ لائن تھی۔ ”پولیس نے میرے بے گناہ بیٹے کو گھر سے اٹھا کر مار ڈالا۔” جسٹس نیاز نے پولیس مقابلے میں اپنے بیٹے کے مارے جانے پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اپنے ایک بیان میں ایس پی عباس حیدر کو اپنے معصوم بیٹے اور اس کے دوستوں کا قاتل قرار دیتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس پولیس مقابلہ کی انکوائری کروائیں۔ اور ایس پی عباس حیدر کو معطل کیا جائے۔ جسٹس نیاز کے بیان کے مطابق اتوار کو ان کا بیٹا گھر پر اپنے بیڈ روم میں سو رہا تھا۔ جب سادہ کپڑوں میں ملبوس کچھ پولیس والے ان کے گھر میں گھس آئے۔ انہوں نے انہیں ایک کمرے میں بند کر دیا اور ان کے بیٹے کو گن پوائنٹ پر باہر لے گئے۔ اہل خانہ کے شور مچانے پر کالونی کے چند دوسرے چوکیدار ان کے گھر آئے اور انہوں نے ان کے گھر پر موجود دونوں گارڈز کو رسیوں سے آزاد کیا اور پھر اہل خانہ کو بھی دروازہ کھول کر آزادی دلوائی۔ جسٹس نیاز کے مطابق انہوں نے اسی وقت لاہور کے ایس ایس پی امتنان صدیقی کو فون کے ذریعے اپنے بیٹے کے اغوا کی اطلاع دی، جس پر انہوں نے انہیں یقین دلایا کہ اسے بہت جلد برآمد کر لیا جائے گا۔ مگر چند گھنٹوں کے بعد انہیں ایک پولیس مقابلے میں ان کے بیٹے کی موت کی اطلاع دی گئی۔ جب ایس ایس پی امتنان صدیقی سے اس بار ے میں معلومات حاصل کرنے کے لئے رابطہ قائم کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ جسٹس نیاز کے فون کرنے سے پہلے ہی ان کا بیٹا ایک پولیس مقابلے میں مارا جا چکا تھا۔ مگر ابھی اس کی شناخت ہونا باقی تھی اس لئے انہوں نے جسٹس نیاز کو اطلاع نہیں دی۔ انہوں نے اخباری نمائندوں کو یہ بھی بتایا کہ جسٹس نیاز کے گھر پر تعینات گارڈز کے بیانات کے مطابق مقتول جلال اس وقت تک ابھی گھر پر نہیں آیا تھا اور نہ ہی انہوں نے ان لوگوں کو جلال کو لے جاتے دیکھا۔ جسٹس نیاز کے گھر پہنچنے والے گارڈز کا بیان تھا کہ اگرچہ جسٹس نیاز کے گھر کا بیرونی دروازہ کھلا ہوا تھا لیکن جس کمرے میں وہ سب تھے اس کمرے کا دروازہ لاکڈ نہیں تھا اور نہ ہی گھر میں کسی کوزبردستی لے جانے کے آثار نظر آرہے تھے۔ تاہم ایس ایس پی نے یقین دلایا کہ وہ جسٹس نیاز کی شکایت پر مکمل تحقیقات کروائیں گے۔
جسٹس نیاز کے علاوہ تینوں ملزمان کے لواحقین نے پولیس پر یہی الزام لگایا ہے کہ ان کے بیٹوں کو زبردستی گھر سے اٹھا کر جعلی پولیس مقابلہ میں مار دیا گیا، لیکن جس علاقے میں ڈکیتی کی کوشش کی گئی تھی، اس علاقے کے لوگوں اور گھر کے افراد نے پولیس کے بیانات کی تصدیق کرتے ہوئے پولیس کی بروقت کارروائی کو سراہا ہے۔ گھر کے مالک اور دوسرے افراد خانہ نے ان چاروں ملزمان کو شناخت کر لیا ہے۔
ایک اور یک کالمی خبر چاروں ملزمان کے پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بارے میں تھی، جس میں ڈاکٹرز جو موت کا وقت بتایا تھا، وہ اس وقت سے پہلے تھا، جب جسٹس نیاز نے ایس ایس پی امتنان صدیقی کو فون کیا تھا۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق ملزمان کے جسم پر تشدد کے کوئی نشانات نہیں تھے اور ان کی موت بہت دور سے چلائی جانے والی رائفلز کی گولیوں سے ہوئی تھی۔ اخبار کی رپورٹ کے مطابق پنجاب کے چیف منسٹر نے جسٹس نیاز کی شکایت پر اس واقعہ کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔
وہ اخبار ہاتھ میں لئے بہت دیر تک بے حس و حرکت وہیں بیٹھی رہی۔
”ابھی ان چاروں کا کیا کریں گے؟” اسے اس رات عمر سے پوچھا جانے والا اپنا سوال یاد آیا۔
”کچھ نہیں…پولیس اسٹیشن لے جائے گا۔ ایف آئی آر کاٹے گا اور پھر بند کر دے گا۔”
”اس کے بعد کورٹ میں کیس چلے گا۔ سزا وغیرہ ہو جائے گی۔”
وہ بے یقینی سے اس رات ان دونوں کی گفتگو کے بارے میں سوچتی رہی۔
”تم علیزہ کو گھر لے جاؤ، علیزہ ! تم گھر جا کر آرام سے سو جاؤ۔ گھبرانے کی کوئی بات نہیں ہے۔” اسے عباس کی باتیں یاد آئیں۔ میں نے کیوں یہ نہیں جانا کہ وہ دونوں نہیں، وہ دونوں نہیں صرف عباس… ان چاروں کو اس وقت مارنے کے لئے اکٹھا کر رہا تھا ورنہ وہ مجھے فوری شناخت کے لئے ساتھ لئے لئے نہ پھرتا، اگلے دن کا انتظار کرتا پولیس مقابلہ… پولیس مقابلہ۔۔۔”
اس کا چہرہ پسینے میں بھیگنے لگا۔ وہ ان چاروں کے خون میں لتھڑے ہوئے چہروں پر دوبارہ نظر ڈالنے کی جرات نہیں کر سکی۔ غم و غصے اور بے یقینی کا ایک آتش فشاں جیسے اس کے اندر ابل پڑا تھا۔
”اتنی بے رحمی سے کوئی کسی کو کیسے مار سکتا ہے۔ اور اس طرح… اس طرح… عباس کو کوئی خوف نہیں آیا اس نے مجھے اور عمر دونوں کو اندھیرے میں رکھا۔” اس کا دماغ جیسے پھٹنے لگا تھا۔اخبار لئے وہ غصے کے عالم میں باہر لاؤنج میں آئی، اس نے شہلا سے بات کرنے کی بجائے لائن ڈس کنیکٹ کردی اور عباس کا نمبر ملانے لگی۔
”صاحب میٹنگ میں گئے ہوئے ہیں۔” دوسری طرف سے اسے اطلاع دی گئی۔ اس نے فون پٹخ دیا۔
نانو نے اس کے ہاتھ میں پکڑے ہوئے اخبار اور اس کے چہرے کے تاثرات سے اندازہ لگا لیا تھا کہ وہ عباس سے بات کیوں کرنا چاہتی تھی، لیکن اس کے باوجود انہوں نے علیزہ کو مخاطب کیا۔
”کیا ہوا علیزہ…؟ عباس سے کیا بات کرنی ہے؟”
علیزہ نے وہ اخبار ٹیبل پر پٹخ دیا۔ He is a murderer” آپ دیکھیں نانو! اس نے کس طرح ان چاروں کو قتل کروایا ہے۔ چار لوگوں کو… میرے خدا …میرے سامنے اس نے ان میں سے دو کو ان کے گھروں سے اٹھوایا تھا… اور وہ چاروں پولیس کسٹڈی میں زندہ تھے اور وہ کہتا ہے پولیس مقابلے میں مر گئے۔” ا س کا چہرہ غصے سے سرخ ہو رہا تھا۔
نانو اس کی بات کے جواب میں کچھ کہنے کے بجائے صرف خاموشی سے اسے دیکھتی رہیں۔ وہ اب دونوں ہاتھوں سے اپنا سر پکڑے صوفہ پر بیٹھی ہوئی تھی۔ اس کے چہرے پر غصہ اور بے بسی نمایاں تھی۔
”مرید بابا! پانی لے کر آئیں۔” نانو نے بلند آواز میں خانساماں کو پکارا۔
”مجھے پانی کی ضرورت نہیں ہے نانو۔” علیزہ نے یک دم سر اٹھا کر انہیں دیکھا ، اس کا چہرہ اب بھی سرخ تھا۔ وہ اٹھ کر کھڑی ہو گئی تھی۔
”نہ انکل ایاز کے نزدیک انسانی زندگی کی کوئی اہمیت تھی نہ ان کے بیٹے کے نزدیک۔” وہ بے چینی سے لاؤنج میں ٹہل رہی تھی۔
”آپ کو شہباز منیر یاد ہے نا… انکل ایاز نے اسے بھی اسی طرح ختم کروا دیا تھا، عمر ٹھیک کہتا تھا وہ بالکل ٹھیک کہتا تھا۔” اس کا اشتعال اب بڑھتا جا رہا تھا، مجھے… مجھے سمجھ لینا چاہئے تھا کہ وہ … آپ نے کیوں عباس کو مدد کے لئے بلوایا؟” وہ یک دم چلائی۔
”تو اور کس کو بلاتی؟ فوری طور پر اور کون آسکتا تھا؟” نانو نے کچھ روکھے انداز میں کہا۔
”یہ سب میری وجہ سے ہوا ہے… سب میری وجہ سے۔” وہ ایک بار پھر کمرے کے چکر کاٹنے لگی۔
”اس طرح کمرے میں پھرنے سے کیا ہو گا؟” نانو نے اسے ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی۔ ”تم آرام سے بیٹھ جاؤ۔”
”نانو! میں… میں آرام سے کیسے بیٹھ جاؤں؟… چار انسانوں کا خون اپنے سر لے کر میں آرام سے بیٹھ جاؤں… آپ کیسی باتیں کرتی ہیں؟”
”تم نے ان چار انسانوں کو قتل نہیں کیا، اس لئے تمہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔”
”ہاں، میں نے قتل نہیں کیا، مگر وہ میری وجہ سے قتل ہوئے ہیں۔”
”وہ تمہاری وجہ سے قتل نہیں ہوئے۔ اپنی حرکتوں کی وجہ سے ہوئے ہیں۔ نہ وہ اس طرح کی حرکت کرتے نہ یوں مارے جاتے۔” نانو نے سنجیدگی سے کہا۔
وہ چلتے چلتے رک گئی۔ ”نانو ! یہ آپ کہہ رہی ہیں؟”
”ہاں، میں کہہ رہی ہوں۔ عباس نے جو کیا ٹھیک کیا۔”
وہ بے یقینی سے ان کا چہرہ دیکھتی رہ گئی۔
”مجھے یقین نہیں آرہا نانو! کہ میں یہ سب کچھ آپ کے منہ سے سن رہی ہوں۔”
”تمہیں اس بارے میں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے، یہ گھر کے مردوں کے ہینڈل کرنے کے معاملات ہوتے ہیں اور انہوں نے جس طرح بہتر سمجھا اس معاملے کو ہینڈل کیا۔” نانو نے سپاٹ لہجے میں کہا۔
”اور مردوں کی اس ہینڈلنگ نے چار انسانوں کو زندگی سے محروم کر دیا۔ آپ تو بہت سوشل ورک کرتی رہی ہیں نانو! کیا آپ یہ چھوٹی سی بات نہیں سمجھ سکتیں کہ۔۔۔”
نانو نے اس بار کچھ غصے کے عالم میں اس کی بات کاٹ دی۔
”تم جو چاہے کہو۔ مجھے مرنے والوں سے کوئی ہمدردی نہیں ہے وہ چند گھنٹے جو میں نے پرسوں رات تمہارے انتظار میں گزارے تھے۔ ان کی تکلیف بھی کسی قتل سے کم نہیں تھی… یہ چاروں بے گناہ تو نہیں مارے گئے۔”
”مگر ان کے جرم کی سزا کم از کم میرے نزدیک موت نہیں تھی… اور پھر اس طرح کی مو ت کہ چار انسانوں کو کسی ٹرائل کے بغیر اٹھا کر مار دیا جائے۔” وہ نانو کی جذباتیت سے متاثر ہوئے بغیر بولی۔ ”یہ پولیس اسٹیٹ تو نہیں ہے جہاں کسی کو بھی پکڑ کر اس کے جرم کی سنگینی اور نوعیت کا اندازہ کئے بغیر شوٹ کر دیا جائے۔”
”تمہیں ان چاروں سے اتنی ہمدردی جتانے کی ضرورت نہیں ہے۔”
”کیوں نہیں ہے… جب میں یہ جانتی ہوں کہ ان چاروں کو پولیس نے واقعی قتل کیا ہے۔ وہ کسی پولیس مقابلے میں انوالوڈ نہیں تھے تو پھر میں ان سے ہمدردی کیوں نہ جتاؤں… جب میں یہ بھی جانتی ہوں کہ وہ صرف میری وجہ سے اس طرح مارے گئے ہیں۔”
نانو یک دم اٹھ کر کھڑی ہو گئیں ” میں تم سے پہلے بھی کہہ چکی ہوں۔ وہ تمہاری وجہ سے نہیں اپنی حرکتوں کی وجہ سے مارے گئے ہیں، ایسے لوگوں کے ساتھ یہی ہوتا ہے… آج نہیں تو کل… تمہاری وجہ سے نہیں تو کسی اور کی وجہ سے مارے جاتے… مگر مارے ضرور جاتے۔”
وہ کہہ کر لاؤنج سے نکل گئیں، واضح طور پر وہ علیزہ کے ساتھ کسی مزید بحث سے بچنا چاہتی تھیں۔ وہ پلکیں جھپکائے بغیر انہیں کمرے سے نکلتے دیکھتی رہی۔
وہ نانو کے جانے کے بعدوہ بے بسی سے صوفہ پر بیٹھ گئی۔ اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا۔ وہ کیا کرے۔ اس کے کانوں میں بار بار اس رات عباس کی گفتگو گونجتی رہی اور یاد آنے والا ہر جملہ اس کے غم و غصہ میں اضافہ کرتا رہا۔
شہلا نے کچھ دیر بعد ایک بار پھر فون کیا تھا اور علیزہ نے دوسری طرف سے شہلا کی آواز سنتے ہی کہا۔
”شہلا! میں ابھی تم سے بات نہیں کر سکتی… تم تھوڑی دیر کے بعد مجھے رنگ کرنا۔”
شہلا کچھ حیران ہوئی ”تم ٹھیک تو ہو؟”
”نہیں۔ میں ٹھیک نہیں ہوں… میں بالکل بھی ٹھیک نہیں ہوں۔ اسی لئے تو تم سے بات نہیں کر سکتی۔” اس نے فون کا ریسیور پٹخ دیا۔ وہ خود نہیں سمجھ سکی تھی کہ اسے شہلا پر اتنا غصہ کیوں آیا تھا۔
وہ کچھ دیر اسی طرح اپنے اگلے اقدام کے بارے میں سوچتی رہی پھر اس نے ایک بار پھر عباس کو فون کیا۔ آپریٹر نے پہلے والا جواب دوبارہ دہرایا۔
”وہ میٹنگ میں ہیں۔”
”کب فارغ ہوں گے؟”
”اس کے بارے میں پتا نہیں ، آپ میسج چھوڑ دیں۔”
علیزہ نے کوئی پیغام چھوڑنے کے بجائے فون بند کر دیا اور عباس کے موبائل پر کال کرنے لگی۔ موبائل آف تھا۔ اس نے عمر کے موبائل پر نمبرملایا، عمر کا موبائل بھی آف تھا۔ اس کی بے چینی بڑھنے لگی۔ عمر آخر اس وقت کہاں تھا؟ وہ جاننا چاہتی تھی، پچھلی دوپہر عباس کے ساتھ تھا۔ یہ وہ جانتی تھی اورکیوں تھا؟ اب وہ اندازہ کر سکتی تھی۔
”وہ یقیناً عباس کے ساتھ اس سارے معاملے کے بارے میں بات کر رہا ہو گا، میری طرح اسے بھی شاک لگا ہو گا اور وہ شاید کل ہی یہ سب کچھ جان گیا تھا۔ اسی لئے وہ واپس جانے کے بجائے لاہور میں ٹھہر گیا تھا۔ اس نے یقیناً عباس سے اپنی ناراضی کا اظہار کیا ہو گا۔ اسے بتایا ہو گا کہ اس نے کتنا غلط کام کیا ہے۔ وہ ضرور اس سارے معاملے کے بارے میں کوئی نہ کوئی قدم ضرور اٹھائے گا۔ کم ازکم اس بار وہ عباس کو بچنے نہیں دے گا… اس طرح جس طرح انکل ایاز شہباز کو قتل کروانے کے بعد بچ گئے۔ اس بار تو عمر کے پاس ہر ثبوت موجود ہے۔ میں گواہی دوں گی۔ پھر یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ انکل ایاز کے بیٹے کو سزا نہ ملے۔” وہ لاؤنج میں بیٹھی سوچ رہی تھی۔
”مگر عمر… عمر کہاں ہے؟… اسے موبائل تو آف نہیں کرنا چاہئے تھا… مجھے فون کرنا چاہئے تھا اسے… مجھ سے بات کرنی چاہئے۔ یہ تو وہ جان ہی گیا ہو گا کہ نیوز پیپرز کے ذریعے ہر چیز مجھے پتا چل گئی ہے… اسے احساس ہونا چاہئے تھا کہ میں اسے کال کر سکتی ہوں۔”
وہ بری طرح جھنجھلا رہی تھی، جب فون کی گھنٹی بجنے لگی۔ اس نے فون کا ریسیور اٹھالیا۔
٭٭٭
”جسٹس نیاز بہت غصے میں تھے اور ان کا غصہ بجا ہے۔” چیف جسٹس ثاقب شاہ اس وقت فون پر چیف منسٹر سے فون پر بات کر رہے تھے۔
”اگر کسی کے بیٹے کو گھر سے اس طرح اٹھا کر مار دیا جائے گا اور وہ بھی ہائی کورٹ کے ایک جج کے بیٹے کو… تو پھر ایک عام شہری کے ساتھ آپ کی یہ پولیس کیا کرتی ہو گی؟” چیف منسٹر نے ان کے لہجے کی تلخی محسوس کی۔
”شاہ صاحب! میں اس واقعے پر کس قدر شرمندہ ہوں۔ میں بتا نہیں سکتا۔ ” ثاقب شاہ نے ان کی بات کاٹ دی۔
”خالی شرمندگی سے تو کچھ نہیں ہو گا۔”
”میں نے انکوائری شروع کروا دی ہے۔ جیسے ہی۔۔۔” ثاقب شاہ نے ایک بار پھر ان کی بات کاٹی۔
”کیسی انکوائری؟… پولیس نے اس کو مارا ہے اور آپ پولیس کے ہاتھوں ہی انکوائری کروا رہے ہیں۔ آپ کا خیال ہے کہ پولیس سچ سامنے لے آئے گی؟”
”ٹھیک ہے پولیس کے بجائے کسی جج سے کروا لیتے ہیں ؟ آپ نام تجویز کر دیں۔میں آرڈر ایشو کر دیتا ہوں۔” چیف منسٹر نے فوراً تجویز پیش کرتے ہوئے کہا۔
”آپ کمیشن پہ کمیشن بٹھائے جائیں، مگر عملی طور پر کچھ نہیں کریں گے۔”اس بار ثاقب شاہ کی آواز پہلے سے زیادہ بلند تھی۔
”شاہ صاحب! آپ غصہ نہ کریں… آپ بتائیں کہ میں کیا کروں… کس طرح مدد کر سکتا ہوں؟” چیف منسٹر نے اپنی آواز قدرے مدہم کرتے ہوئے کہا۔
”جسٹس نیا زکا مطالبہ کیوں نہیں مانتے آپ؟”
”کون سا مطالبہ؟”
”عباس حیدر کی معطلی کا۔”
”انہوں نے مجھ سے تو ایسی کوئی بات نہیں کی، بلکہ میرا تو وہ فون اٹینڈ کر رہے ہیں نہ ہی مجھے اپنے گھر آنے کی اجازت دے رہے ہیں، میرا پی۔اے دو گھنٹے لگا تار ان کی منت سماجت کرتا رہا ہے کہ وہ میرا فون اٹینڈ کر لیں یا پھر مجھے اپنی خدمت میں حاضر ہونے کا موقع دیں۔ مجھے بھی افسوس ہے ان کے بچے کی موت کا… اور میں چاہتا تھا کہ خود ان کی فیملی سے ملاقات کروں… ان کے گھر جاؤں… مگر انہوں نے صاف صاف کہہ دیا کہ چیف منسٹر کو میرے گھر آنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر وہ آئے گا تو گیٹ کے باہر کھڑا رہے گا ۔ میں اس کی شکل تک نہیں دیکھوں گا۔ آپ خود سوچیں کہ یہ کوئی طریقہ ہے ایک صوبے کے چیف منسٹر کے بارے میں بات کرنے کا۔” چیف منسٹر نے پہلی بار قدرے بلند آواز میں جسٹس نیاز کے رویے کی شکایت کی۔
”غصے میں انسان بہت کچھ کہہ جاتا ہے… آپ یہ بھی تو دیکھیں کہ ان کا جوان بیٹا مار دیا ہے آپ کی پولیس نے۔” ثاقب شاہ نے فوراً جسٹس نیاز کی طرف داری کرتے ہوئے کہا۔
”ٹھیک ہے… مانتا ہوں… وہ غصہ میں ہیں، مگر یہ سب کچھ انہیں پریس کے سامنے تو نہیں کہنا چاہئے تھا۔ چار اخباروں نے آج اسی خبر کو انہی کے الفاظ کے ساتھ فرنٹ پیج پر ہیڈ لائن بنا دیا ہے۔ جسٹس نیاز کا چیف منسٹر سے ملنے سے انکار… آپ خود سوچیں انتظامیہ پر کیا اثر ہو گا اس ہیڈ لائن کا۔۔۔”
ثاقب شاہ نے اس کی بات ایک بار پھر کاٹ دی۔
”جسٹس نیاز نے آپ سے ملنے سے تب انکار کیا تھا۔ جب آئی جی نے عباس حیدر کو معطل کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ نہ صرف اس سے انکار کیا بلکہ اسے بے گناہ بھی قرار دیا۔ میرے کہنے پر بھی آئی جی اپنی بات پر اڑا رہا… اس نے کہا کہ امتنان صدیقی نے اسے جو رپورٹ دی ہے ، اس کے مطابق تو عباس حیدر نے ایک کارنامہ کیا ہے… بروقت کارروائی سے اس نے ایک پورے خاندان کی جان بچائی ہے۔ جب میں نے کارروائی پر اصرار کیا۔ تو آئی جی نے کہا کہ چیف سیکریٹری سے بات کرلیں یا چیف منسٹر سے اگر اوپر سے آرڈرز آجائیں تو میں عباس کو معطل کر دوں گا۔” ثاقب شاہ اب غصے میں بول رہے تھے۔
”اور چیف سیکریٹری دو گھنٹے پہلے سروسز ہاسپٹل کے کارڈیک یونٹ میں داخل ہو گیا ہے۔ اس کے پی اے کے مطابق اسے دل کی تکلیف شروع ہو گئی ہے اور اس نے دو ہفتے کی میڈیکل لیو مانگ لی ہے۔ ڈاکٹرز کی ہدایات کے مطابق… دو ہفتے کے بعد جب سارا معاملہ ختم ہو جائے گا تو وہ فوراً صحت یاب ہو کر سروسز سے باہر آجائے گا اور آپ سے بات کر رہا ہوں تو آپ کہہ رہے ہیں کہ جسٹس نیاز نے ایسا کوئی مطالبہ کیا ہی نہیں۔”
”شاہ صاحب… جسٹس نیاز صاحب کا مطالبہ مجھ تک پہنچا تھا۔ آئی جی نے بتایا تھا مجھے… لیکن تحقیق کے بغیر میں ایک سینئر پولیس آفیسر کو کیسے معطل کر سکتا ہوں؟ آئی جی نے تو مجھ پر اپنی ناراضی ظاہر کی تھی جس طرح آپ نے اورجسٹس نیازنے ان سے بات کی… انہوں نے کہا تھا کہ آپ پولیس کے کام میں دخل اندازی کر رہے ہیں، شکایت کی جاتی ہے کہ لااینڈ آرڈر ٹھیک کیا جائے جب ٹھیک کرنے کی کوشش کی جائے تو پھر اوپر سے اس طرح کا پریشر پڑنا شروع ہو جاتا ہے۔ ” ثاقب شاہ کو ان کی بات پر اور غصہ آیا۔
”آئی جی کے بیان کی آپ کے نزدیک ہائی کورٹ کے جج اور چیف جسٹس سے زیادہ اہمیت ہے؟”
”ایسی بات نہیں۔۔۔” ثاقب شاہ نے ان کی بات نہیں سنی۔
”جسٹس نیاز کے معصوم بیٹے کو اس کے گھر سے اٹھا کر قتل کرنے کے بعد آپ کی پولیس کہتی ہے کہ وہ لا اینڈ آرڈر ٹھیک کر رہی ہے… ہائی کورٹ کے جج کے بیٹے کو مارنے سے لا اینڈ آرڈر ٹھیک ہو جائے گا؟” چیف منسٹر مشکل میں پھنس گئے۔
”آپ میری بات نہیں سمجھے شاہ صاحب! میں تو آئی جی کا بیان دہرا رہا تھا آپ کے سامنے، میں نے تو نہیں کہا کہ ان ہی کا بیان ٹھیک ہے، ہو سکتا ہے ان کے پاس بھی صحیح معلومات نہ ہوں۔”
”آئی جی کے پاس صحیح معلومات نہ پہنچیں… یہ ممکن نہیں ہے تو وہ کیسے ایک صوبہ سنبھالے گا… پھر تو اس کو بھی اتارنا چاہئے۔ اس سے بہتر شخص لے کر آئیں اس پوسٹ پر۔”
”میں آپ کے غصے کو سمجھ سکتا ہوں۔”
”نہیں، آپ میرے غصے کو سمجھ ہی نہیں سکتے۔ آپ اپنی انتظامیہ کو سپورٹ کر رہے ہیں۔ میرا غصہ کسی فرد کا غصہ نہیں ہے۔ سارے ججز ناراض ہیں… آج جسٹس کے بیٹے کو مارا ہے۔ کل میرے بیٹے کو اٹھا کرلے جائیں گے آپ لوگ۔”
”ابھی تو چوبیس گھنٹے ہی گزرے ہیں اس واقعہ کو… اتنی جلدی نتائج اخذ مت کریں۔” چیف منسٹر نے انہیں ٹوکا۔
”آپ عباس کو معطل کر دیں۔ میں کوئی نتیجہ اخذ نہیں کرتا۔”
”میں اسے معطل نہیں کر سکتا۔” چیف منسٹر نے اپنی بے بسی کا پہلی بار اظہار کیا۔
”کیوں ؟….اس لئے کہ وہ ہوم سیکرٹری کا بیٹا ہے؟”
”بات صرف ایک ہوم سیکریٹری کی نہیں ہے۔ وفاقی اور صوبائی سطح پر بیورو کریسی کا ایک پورا حصہ ہے اس کے ساتھ۔ عباس کی بہن کور کمانڈر کے بیٹے کے ساتھ بیاہی ہوئی ہے… عباس کی بیوی کا چچا وفاقی حکومت میں وزیر ہے… وہ کوئی عام سول سرونٹ تو ہے نہیں جسے میں اٹھا کر باہر پھینک دوں۔ آپ میری پوزیشن سمجھنے کی کوشش کریں۔”
”آپ بھی میری پوزیشن سمجھنے کی کوشش کریں۔ چیف جسٹس کے طور پر اپنے ماتحت کام کرنے والے ججز کے ساتھ ہونے والی کسی زیادتی پر ایکشن لینا میرا فرض بنتا ہے۔ ” ثاقب شاہ کی آواز کچھ دھیمی پڑ گئی۔
”جسٹس نیاز نے باقاعدہ مجھ سے شکایت کی ہے… بلکہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے بھی خود فون کرکے مجھ سے اسی سلسلے میں بات کی ہے۔”
”میں سمجھتا ہوں سب کچھ… شاہ صاحب آپ جسٹس نیاز کو تھوڑا سمجھائیں، عباس کے خلاف انکوائری کروا دیتے ہیں مگر معطل کرنا ممکن نہیں ہے۔ اس کے باپ نے بات کی ہے مجھ سے… کل وہ لاہور آرہا ہے تو اس سے آمنے سامنے بات ہو گی… میں ان کانسٹیبلز اور انسپکٹرز کو معطل کر دیتا ہوں جنہوں نے اس آپریشن میں حصہ لیا تھا… پھر اگر انکوائری میں عباس کے خلاف کوئی ثبوت مل گئے تو ایکشن لینے کا کوئی جواز تو ہو گا پاس… ابھی اگر اس کو معطل کر بھی دیتے ہیں… اور بعد میں وہ بے گناہ ثابت ہوا تو میری وزارت اعلیٰ چلی جائے گی۔ اس لئے میں اتنا بڑا رسک نہیں لے سکتا۔ آپ جسٹس نیاز کو سمجھائیں، ان سے بات کریں… بلکہ وہ کل میرے گھر آجائیں، ان سے وہاں ایاز حیدر اور عباس کی بھی ملاقات کروا دوں گا… آمنے سامنے بات ہو تو زیادہ بہتر ہے۔”
ثاقب شاہ خاموشی سے ان کی بات سنتے رہے۔
”میں جسٹس نیاز تک آپ کا پیغام پہنچا دوں گا… جہاں تک سمجھانے کا تعلق ہے تو یہ کام میں نہیں کر سکتا۔ آپ اس سلسلے میں خود ان سے بات کریں۔”
”آپ نے انکوائری کے لئے کسی کا نام تجویز نہیں کیا؟” چیف منسٹر نے انہیں یاد دلایا۔
”میں پہلے جسٹس نیاز سے بات کرلوں، اس کے بعد ہی اس سلسلے میں آپ کو کوئی نام دے سکوں گا… اگر انہوں نے آپ کی پیش کش مان لی تو ٹھیک ہے ورنہ پھر میں کسی کا نام تجویز نہیں کروں گا۔”
چیف جسٹس نے صاف لفظوں میں کہا اور پھر اختتامی کلمات کہتے ہوئے فون بند کر دیا۔
باب 43
اگلے دو دن گھر میں کالز اور ملنے کے لئے آنے والوں کا تانتا باندھا رہا ۔ علیزہ شادیوں کے علاوہ پہلی بار اپنے تقریباً تمام جاننے والوں اور رشتہ داروں کو دیکھ رہی تھی۔ زیادہ تر لوگ بار بار فون کرکے نمرہ کی آخری رسومات کے بارے میں حتمی معلومات لے رہے تھے۔ گھر میں اس کے تمام انکلز اپنی فیملیز کے ساتھ آچکے تھے۔
علیزہ نے لوگوں کے اسی آنے جانے کے دوران عمر کو بھی دو تین بار گھر آتے جاتے دیکھا۔ اس کے ساتھ جوڈتھ نہیں تھی اور وہ اکیلا ہی تھا۔ وہ اس سے تعزیت کرنا چاہتی تھی مگر عمر کے رویے نے اسے اس قدر حیران کیا کہ وہ اس سے بات کرنے کی ہمت ہی نہیں کر سکی۔
وہ جانتی تھی کہ نمرہ اس کی سگی بہن نہیں ہے پھر بھی عمر جس قدر جذباتی اور نرم دل شخص تھا۔ اس کا خیال تھا کہ وہ اپنی بہن کی موت پر خاصا افسردہ ہو گا۔ مگر عمر کے تاثرات اس کی سمجھ سے بالاتر تھے۔ وہ بالکل پر سکون تھا۔ لوگوں کے تعزیتی کلمات وصول کرتے ہوئے بھی اس کے چہرے پر کسی غم یا افسردگی کا شائبہ تک نہیں تھا۔ یوں لگ رہا تھا جیسے اسے نمرہ کی موت پرکوئی شاک لگا تھا نہ ہی دکھ ہوا تھا… یا پھر شاید اسے نمرہ کی مو ت یا زندگی سے کوئی دلچسپی ہی نہیں تھی۔
علیزہ کے لئے اس کے تاثرات بہت شاکنگ تھے۔ جو شخص ایک کزن اور ایک گرل فرینڈ کے لئے آؤٹ آف دا وے جا کر سب کچھ کرنے پر تیار ہو۔ جو اپنے ایک انڈور پلانٹ کی کاٹی جانے والی شاخ کو دوبارہ گملے میں تب تک لگائے رکھتا ہے جب تک وہ سوکھ نہ جائے اور سوکھنے کے بعد بھی جو اسے ہٹانے پر تیار نہ ہو… وہ ایک سوتیلے سہی مگر خونی رشتہ کی اس طرح کی موت پر کسی ردعمل کا اظہار نہیں کر رہا تھا… کیا عمر کا واقعی اپنی فیملی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں تھا؟ … کیا وہ واقعی ان کے بارے میں کسی قسم کے کوئی احساسات نہیں رکھتا؟ کیا وہ اپنی فیملی کو اس حد تک ناپسند کر سکتا ہے کہ…؟ یا پھر وہ ہمیشہ کی طرح بہت کچھ چھپانے کی کوشش کر رہا ہے؟
علیزہ اپنے ذہن میں ابھرنے والے ان تمام سوالوں سے الجھ رہی تھی، وہ بہت اچھی چہرہ شناس نہیں تھی مگر اسے پھر بھی یہ یقین تھا کہ اس نے عمر کا چہرہ پڑھنے میں کوئی غلطی نہیں کی۔ اس کے چہرے پر بے حسی اور لا تعلقی کے علاوہ ایک تیسرا تاثر بھی تھا اور یہ تیسرا تاثر علیزہ کو زیادہ خوفزدہ کر رہا تھا… عمر کے چہرے پر اطمینان تھا۔
تیسرے دن جہانگیر نمرہ کی ڈیڈ باڈی لے کر پاکستان آگئے۔ ان کے ساتھ ثمرین اور باقی دونوں بچے بھی تھے۔ علیزہ کو جہانگیر معاذ کے چہرے پر بھی کسی رنج یا افسردگی کے تاثرات نظر نہیں آئے۔ ان کے چہرے پر سنجیدگی تھی… وہی سنجیدگی جو وہ پہلے بھی کئی بار تب ان کے چہرے پر دیکھ چکی تھی، جب وہ شدید غصے میں ہوتے تھے۔
جہانگیر کے برعکس ثمرین خاصی نڈھال نظر آرہی تھیں۔ ان کے باقی دونوں بچوں کے چہروں پر بھی ایسے ہی تاثرات تھے۔
بیرون ملک سے اکٹھے آنے کے باوجود تمام لوگوں کی طرح علیزہ نے بھی محسوس کیا ثمرین ، ان کے بچوں اور جہانگیر کے درمیان ایک عجیب سی کشیدگی اور سرد مہری تھی۔ علیزہ کا خیال تھا کہ انکل جہانگیر کی کچھ عرصہ پہلے ہونے والی تیسری شادی اس کی وجہ ہو سکتی تھی، مگر اس کے علاوہ اور وجہ بھی ہو سکتی تھی یہ اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔
نمرہ کی تدفین کے بعد آہستہ آہستہ تمام لوگ واپس جانا شروع ہو گئے، مگر جہانگیر معاذ اور اس کے دو بڑے بھائی اپنی فیملیز کے ساتھ ابھی وہیں تھے، جب ایک رات علیزہ نے لاؤنج میں سب کے سامنے ان کے اور ثمرین کے درمیان شدید جھگڑا دیکھا۔
وہ دونوں سب کے سامنے ایک دوسرے پر الزامات لگا رہے تھے اور چلا رہے تھے۔ علیزہ کے لئے ایسا جھگڑا کوئی نئی چیز نہیں تھی۔ نانو کے ہاں وہ اپنے انکلز اور ان کی بیویوں کے درمیان پچھلے کئی سالوں سے ایسے بہت سے جھگڑے ہوتے دیکھتی ہوئی آئی تھی۔
مگر اس بار جس انکشاف نے اسے ہولایا تھا، وہ نمرہ کی موت کی وجہ تھا۔ وہ نیند میں اپارٹمنٹ کی کھڑکی سے نہیں گری تھی۔ اس نے خودکشی کی تھی اور اپارٹمنٹ کی کھڑکی سے چھلانگ لگانے سے پہلے اس نے ایک خط میں تفصیلی طور پر اپنی موت کا ذمہ دار جہانگیر معاذ کو ٹھہرایاتھا۔
پولیس کو وہ خط مل گیا تھا۔ مگر چونکہ جہانگیر سفارت خانہ سے منسلک تھے اس لئے ہر چیز بڑی مہارت سے کو ر اپ کر لی گئی تھی۔ ایک سینئر ڈپلومیٹ کے حوالے سے اس طرح کا کوئی اسکینڈل پاکستانی حکومت کے لئے خاصی ندامت اور شرمندگی کا باعث بنتا۔
چند گھنٹوں کے اندر اندر حکومت پاکستان کی درخواست پر پولیس نے اس خودکشی کو اتفاقی موت قرار دے کر فائل بند کر دی۔
نمرہ پاکستان ایمبیسی کے ملٹری اتاشی کے ساتھ انوالو تھی۔ وہ جہانگیر معاذ سے بھی عمر میں بڑے اس شخص کے ساتھ شادی پر بضد تھی اور جہانگیر اس کے اس مطالبے کو کسی طور ماننے پر تیار نہیں تھے۔ ایمبیسی میں ان کی بیٹی اور اتاشی کے درمیان چلنے والے اس افیئر کے بارے میں ایمبیسی میں کام کرنے والا ہر شخص جانتا تھا اور یہ معاملہ جہانگیر کے لئے خاصی خفت کا باعث بن رہا تھا۔
اگر نمرہ ایمبیسی کے کسی چھوٹے موٹے اہلکار کے ساتھ انوالو ہوتی تو جہانگیر بہت پہلے اس شخص کا پتہ صاف کر چکے ہوتے۔ یا پھر چار دن کے اندر اس شخص کو ایمبیسی سے نکال دیتے۔ مگر یہاں وہ بری طرح پھنس گئے تھے۔
انہوں نے نمرہ کو زبردستی پاکستان بھجوانے کی کوشش کی، مگر وہ اس پر تیار نہیں ہوئی، اس نے واپس پاکستان بھجوائے جانے پر مجبور کرنے پر جہانگیر کو گھر سے چلے جانے اور شادی کر لینے کی دھمکی دی۔ مگر جہانگیر جانتے تھے کہ یہ صرف دھمکی ہی تھی۔ وہ قانونی اعتبار سے ابھی بالغ نہیں ہوئی تھی، اور وہ ملٹری اتاشی اتنا احمق نہیں تھا کہ وہ ایک نابالغ لڑکی سے شادی کرکے اپنا کیرئیر خطرے میں ڈالتا۔ دوسری طرف جہانگیر اس بات سے بھی واقف تھے کہ کچھ عرصے کے بعد جب وہ قانونی اعتبار سے بالغ ہو جائے گی تو اس وقت ان کے لئے نمرہ کو روکنا مشکل ہو جائے گا اس لئے وہ بہت مایوس ہو کر اسے پریشرائز کر رہے تھے اور جب انہیں یقین ہو گیا کہ وہ ان کے کسی دباؤ میں نہیں آئے گی تب انہوں نے نمرہ کو دھمکی دی کہ وہ اگر واپس پاکستان نہیں گئی تو وہ نہ صرف ثمرین کو طلاق دے دیں گے، بلکہ نمرہ سمیت باقی دونوں بچوں کو بھی اپنی جائیداد سے عاق کر دیں گے_
نمرہ ان کی دھمکی پر پہلی بار دباؤ میں آئی اور اس حربے کو کامیاب ہوتے دیکھ کر جہانگیر اس پر اپنا دباؤ بڑھاتے گئے۔ دوسری طرف وہ ملٹری اتاشی نمرہ کو مجبور کر رہا تھا کہ وہ واپس نہ جائے، شاید اسے بھی یہ اندازہ ہو گیا تھا کہ ایک بار وہ واپس پاکستان چلی گئی تو پھر اس کا واپس اس کے ہاتھ آنا مشکل تھا۔ نتیجہ وہی ہوا تھا جو ہو سکتا تھا۔ نمرہ ذہنی طور پر اتنی فرسٹرٹیڈ ہو گئی کہ اس نے خودکشی کر لی۔
اور اب جہانگیر اورثمرین ایک دوسر ے پر تابڑ توڑ الزامات لگانے میں مصروف تھے۔
”یہ سب کچھ تمہاری وجہ سے ہوا ہے ۔ تم نے اپنی بیٹی کو میرے خلاف ہتھیار بنا کر استعمال کرنے کی کوشش کی، تم ایسا نہ کرتیں تو وہ کبھی خودکشی نہ کرتی۔” جہانگیر ثمرین پر دھاڑ رہے تھے۔
”میں نے اسے ہتھیار نہیں بنایا… میں تمہارے جیسے تھرڈ کلاس حربے استعمال نہیں کرتی، اس نے صرف تمہاری وجہ سے خودکشی کی ہے۔ تم اس طرح پریشرائز نہ کرتے تو وہ کبھی یہ قدم نہ اٹھاتی۔”
”میں اسے پریشرائز نہ کرتا اور اس پچپن سالہ شخص کو اپنا داماد بنا کر لوگوں کو خود پر ہنسنے کا موقع دیتا۔”
”اگر تم دوسروں کی اٹھارہ، بیس سالہ بیٹیوں کے ساتھ شادی کر سکتے ہو اور افیئر چلا سکتے ہو تو دوسرے بھی کر سکتے ہیں، پھر تم کو اعتراض کس چیز پر ہے۔” ثمرین اب بلند آواز میں چلا رہی تھیں۔
”اپنا منہ بند رکھو گھٹیا عورت۔”
”کیوں منہ بند رکھوں، پتا چلنا چاہئے تمہارے خاندان کو تم کیا گل کھلاتے پھر رہے ہو۔”
ثمرین بالکل خوفزدہ نہیں تھیں۔
”تم نے جان بوجھ کر اس کو اس طرح ٹریپ کیا۔ صرف اس لئے تاکہ مجھ کو بلیک میل کر سکو۔” جہانگیر ایک بار پھر بولنے لگے۔
”ہاں، سب کچھ میں نے ہی کیا تھا۔ مگر تمہارے لئے تو سب کچھ بہت اچھا ثابت ہوا ہے۔ جان چھوٹ گئی ہے تمہاری اپنی اولاد سے آزاد ہو گئے ہو تم… اب مزید عیش کر سکو گے۔” ثمرین کا لہجہ زہریلا تھا۔
”عیش تو میں کر سکوں گا یا نہیں، مگر ایک چیز تو طے ہے کہ تم اور میں اب اکٹھے نہیں چل سکتے۔”
”تمہارے ساتھ اکٹھے چلنا کون چاہتا ہے۔ کم از کم اب میں تو تمہاری بیوی بن کر نہیں رہ سکتی۔ میں کورٹ میں ڈائی وورس کے لئے کیس فائل کر رہی ہوں، اور میں تمام اثاثوں کی برابر تقسیم کا دعویٰ بھی کروں گی،’ ثمرین شاید اس بار بہت سے فیصلے پہلے ہی کر چکی تھیں۔
”اثاثے ؟ کون سے اثاثے؟ کون سے اثاثوں کی برابر تقسیم چاہتی ہو تم؟” جہانگیر کے اشتعال میں یک دم اضافہ ہو گیا۔
”تم بہت اچھی طرح جانتے ہو، میں کن اثاثوں کی بات کر رہی ہوں۔ تمہاری لوٹ مار کی کمائی کی بات کر رہی ہوں میں۔”
”میں تم کو ایک پائی بھی نہیں دوں گا۔”
”مجھے پائی چاہ
