Amarbail By Umerah Ahmed Readelle50103 Episode 39
Rate this Novel
Episode 39
امربیل از عمیرہاحمد
۔۔۔۔
قسط نمبر 39
۔۔۔۔۔
باب 41
علیزہ کچھ دیر بستر میں لیٹی رہی۔ دروازے کے باہر اب بالکل بھی آواز نہیں تھی’ پھر اسے دور ایک گاڑی کے اسٹارٹ ہونے کی آواز آئی۔ وہ جھٹکے سے اٹھ کر بیٹھ گئی۔
”کیا عمر واقعی جوڈتھ کو لے کر جا رہا ہے؟” وہ ششدر تھی۔
تیزی سے اٹھ کر اس نے دروازہ کھولااور لاؤنج میں آئی۔ وہاں نانو کے علاوہ اب واقعی کوئی نہیں تھا۔
”نانو! عمر کہاں گیا؟” اس نے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے پوچھا۔
”وہ جوڈتھ کے ساتھ چلا گیا۔” نانو نے اخبار کا صفحہ پلٹتے ہوئے کہا۔
”کیوں…؟” وہ تقریباً چلائی’ نانو نے حیرانی سے اسے دیکھا۔ ”تم خود ہی تو یہ چاہتی تھی۔”
”میں کب یہ چاہتی تھی؟” وہ مایوسی سے ان کے پاس صوفہ پر بیٹھ گئی۔
”تم نے عمر سے یہ نہیں کہا کہ تمہیں جوڈتھ کا آنا برا لگا ہے؟”
”نہیں میں نے ایسا تو کچھ بھی نہیں کہا۔”
”عمر نے خو دمجھ سے یہی کہا تھا کہ تمہیں جوڈتھ کا آنا اچھا نہیں لگا۔”
علیزہ کی شرمندگی میں اضافہ ہوا۔ ”نہیں ایسی کوئی بات نہیں تھی۔”
”اگر ایسی بات نہیں تھی تو پھر یہاں بیٹھنا چاہئے تھا۔ جوڈتھ اور عمر کو کمپنی دینی چاہئے تھی۔”
”نانو! مجھے نیند آرہی تھی بس’ میں اس لئے… مگر آپ نے عمر کو روکا کیوں نہیں… آپ کو روکنا چاہئے تھا۔” وہ اب روہانسی ہو رہی تھی۔
”میں نے روکا تھا مگر جب اس نے تمہاری ناپسندیدگی کا بتایا تو پھر میں کچھ نہیں کہہ سکی۔”
علیزہ کچھ بھی کہے بغیر صوفے پر لیٹ گئی اوراس نے نانو کی گود میں چہرہ چھپا لیا۔ اس کی اداسی اور شرمندگی یک دم بہت بڑھ گئی تھی نانو نے اخبار رکھ دیا۔
”وہ شام کو دوبارہ آئے گا۔ تم اس سے ایکسیکیوز کر لینا۔ اتنا پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔” نانو نے اس کا سر تھپکتے ہوئے کہا۔
علیزہ نے بے اختیار سر اٹھا کر انہیں دیکھا۔ ”وہ واپس اسپین نہیں گیا؟”
”نہیں بھئی’ اسپین کیسے جا سکتا ہے، وہ تو دوبارہ فلائٹ وغیرہ دیکھ کر سیٹ بک کروائے گا۔ تب ہی جا سکے گا۔ ابھی تو ڈرائیور اسے اور جوڈتھ کو کسی ہوٹل چھوڑنے گیا ہے۔”
علیزہ نے اطمینان کا سانس لیا۔ ”وہ آئے گا تو میں اس سے ایکسکیوز کر لوں گی۔ اور پھر اس سے کہوں گی کہ وہ جوڈتھ کو یہاں لے آئے۔ ٹھیک ہے نانو؟” علیزہ نے نانو سے اپنی بات پر رائے لی۔
”ہاں ٹھیک ہے تمہارے بار ے میں بہت فکر مند ہو رہا تھا، کہہ رہا تھا کہ تم بہت کمزور ہو گئی ہو۔ میں تمہیں کسی اچھے ڈاکٹر کو دکھاؤں… میں نے اس سے کہا ایساآپریشن کی وجہ سے ہے۔ پھر یہ جو تمہیں بخار ہو جاتا ہے۔ تمہیں اپنا خیال رکھنا چاہئے۔” نانو اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے کہہ رہی تھیں۔ مگر علیزہ کا دھیان کہیں اور اٹکا ہوا تھا۔
”نانو! آپ کو جوڈتھ کیسی لگی ہے؟” اس نے کچھ دیر سوچتے رہنے کے بعد نانو سے پوچھا۔
”جوڈتھ؟ بہت اچھی ہے وہ … تم کیوں پوچھ رہی ہو؟”
”بس ایسے ہی۔ وہ کہہ رہی تھی کہ وہ پچھلے دس سال سے عمر کی فرینڈ ہے مگر عمر نے پہلے کبھی اس کا ذکر ہی نہیں کیا۔”
نانو نے لاپروائی سے کندھے اچکا دیئے۔ ”ہاں اس نے پہلے کبھی ذکر نہیں کیا مگر اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ہر بات تو وہ نہیں بتا سکتا، ویسے بھی وہ کس کس کے بارے میں بتائے۔ اس کے دوست بہت زیادہ ہیں۔”
”مگر اس کو جوڈتھ کے بارے میں بتانا چاہئے تھا، باقی فرینڈز کا بھی تو نام لیتا رہتا ہے۔” علیزہ نے اصرار کیا۔
”وہ آئے گا تو اس سے پوچھ لینا کہ اس نے جوڈتھ کا ذکر کیوں نہیں کیا۔” نانو نے بات کا موضوع بدلنے کی کوشش کی مگر وہ کامیاب نہیں ہوئیں۔
”آپ کو پتا ہے وہ جوڈتھ کو ساتھ لے کر اسپین گیا ہوا تھا؟”
”ہاں۔۔۔” نانو نے ایک لفظی جواب دیا۔ علیزہ خاموشی سے ان کا چہرہ دیکھتی رہی۔
”اس نے فون پر یہ بھی نہیں بتایا۔ بس یہی کہا کہ وہ کچھ فرینڈز کے ساتھ اسپین میں ہے۔ اس کو بتانا چاہئے تھا نا؟” علیزہ نے ایک بار پھر ان کی حمایت چاہی۔ ” میں کہہ رہی ہوں ناکہ وہ آئے گا تو تم اس سے یہ سب کچھ پوچھ لینا۔ تم مجھے یہ بتاؤ کہ چکن کارن سوپ بنواؤں تمہارے لئے۔” نانو نے ایک بار پھر بات کا موضوع بدل دیا۔
”پتا نہیں… جو مرضی کریں۔” علیزہ نے ان کی بات میں دلچسپی نہیں لی۔
”ٹھیک ہے۔ بنوا لیتی ہوں مگر تم پی ضرور لینا۔ یہ نہ ہو کہ پرسوں کی طرح پھر رکھ چھوڑو۔”
علیزہ نے کچھ نہیں کہا وہ ایک بار پھر کسی سوچ میں مصروف تھی۔
”نانو! جوڈتھ عمر کی بیسٹ فرینڈ ہے۔ ہے نا…؟” نانو نے ایک گہرا سانس لیا۔
”تم کیوں اتنا پریشان ہو رہی ہو، دونوں کے بارے میں۔ فرض کرو اگر وہ اس کی بیسٹ فرینڈ ہے تو بھی کیا فرق پڑتا ہے۔” نانو نے اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے نرم آواز میں اس سے کہا۔
”مجھے لگتا ہے ، وہ مجھ سے زیادہ اس کی دوست ہے۔” اس کی بہت ہلکی آواز میں کہا گیا جملہ ان تک پہنچ گیا۔
”وہ دس سال سے اس کے ساتھ ہے… دونوں اسکول میں اکٹھے رہے بعد میں ایک ہی یونیورسٹی میں گئے۔ پھر ہم عمر بھی ہیں۔ ظاہر ہے عمر کی اس کے ساتھ زیادہ اچھی اور بہتر انڈر اسٹینڈنگ ہے۔
”ان کی وضاحت علیزہ کو بری لگی۔”میرے ساتھ اس کی Affiliationیا انڈر اسٹینڈنگ نہیں ہے؟”
”تمہارے ساتھ اس کا تعلق اور طرح کا ہے۔ تم اس کی کزن ہو۔ ظاہر ہے تمہیں وہ اس طرح سے ٹریٹ کرتا ہے۔”
”مگر وہ مجھے بھی اپنا دوست کہتا ہے۔ اس نے کہا تھا میں اس کی بیسٹ فرینڈ ہوں۔” علیزہ نے بے تابی سے کہا۔
”تمہاری اور اس کی دوستی کو ابھی بہت تھوڑا وقت ہوا ہے۔”
”اس کا مطلب ہے کہ وہ میری پروا نہیں کرتا؟” اس نے برق رفتاری سے نتیجہ اخذکیا۔
”میں نے یہ کب کہا؟ پروا کرتا ہے تو تمہارے لئے اسپین سے واپس آگیا ہے۔ مگر جوڈتھ کے ساتھ اس کی دوستی زیادہ گہری ہے، اور شاید دوستی نہیں ہے۔”
”دوستی نہیں ہے۔ تو پھر کیا ہے؟” علیزہ نے کچھ الجھتے ہوئے پوچھا۔
”میرا خیال ہے وہ ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں اور ہو سکتا ہے بہت جلد شادی کر لیں۔” نانو نے جیسے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔
علیزہ کچھ اور کہہ نہیں سکی۔
٭٭٭
عمر شام کو وہاں آیا تھ امگر اس بار وہ اکیلا تھا جوڈتھ اس کے ساتھ نہیں تھی۔ علیزہ پہلے ہی لاؤنج میں بیٹھی اس کی منتظر تھی۔ اس نے علیزہ کو دیکھتے ہی بڑی شگفتگی سے ہاتھ اٹھاتے ہوئے کہا۔
”دیکھ لو علیزہ ! اب میں بالکل اکیلا ہوں۔ میرے ساتھ کوئی نہیں ہے۔” علیزہ خاموش رہی۔
وہ علیزہ کے پاس صوفہ پر آکر بیٹھ گیا اور اس نے ہاتھ میں پکڑا ہوا ایک بیگ اس کے سامنے ٹیبل پر رکھتے ہوئے کہا۔
”میں تمہارے لئے کچھ چیزیں لایا ہوں، دیکھ لو۔”
وہ اب کرسٹی کو اس کی گود سے لے رہا تھا، علیزہ نے بیگ کی طرف ہاتھ نہیں بڑھایا۔
”میں نے آپ سے یہ تو نہیں کہا تھا کہ آپ چلے جائیں۔” اس کی بات کے جواب میں اس نے سنجیدگی سے کہا۔ عمر نے کرسٹی کو اپنی گود میں بٹھاتے ہوئے اسے دیکھا اور اطمینان سے کہا۔
”ہاں کہا تو نہیں تھا مگر تمہیں جوڈتھ کا آنا اچھا نہیں لگا تھا” وہ اب کرسٹی کے سر پر ہاتھ پھیر رہا تھا۔
”نہیں ایسا نہیں تھا۔” علیزہ نے جھوٹ بولا۔
عمر اسے دیکھ کر مسکرایا اور ایک بار پھر کرسٹی کے سر پر ہاتھ پھیرنے لگا۔ وہ اس کے جواب کا انتظار کر تی رہی لیکن جب اس نے کچھ نہیں کہا تو علیزہ نے ایک بار پھر اسے متوجہ کیا۔
”میں نے آپ سے کچھ کہا ہے؟”
“Aleeza! your face has a tell-tale quality.” (علیزہ تمہارا چہرہ سب کہانی کہہ دیتا ہے) وہ اس کا چہرہ دیکھتے ہوئے کہہ رہا تھا۔
”یہ سب کچھ بتا دیتا ہے، تمہاری پسندیدگی ناپسندیدگی، تم کچھ بھی چھپا نہیں سکتیں۔ تمہاری رائے تمہارے احساسات، سب کچھ تمہارے چہرے پر آجاتے ہیں۔ میں کیا کوئی بھی تمہارا چہرہ پڑھ سکتا ہے، جیسے اس وقت تمہارا چہرہ کہہ رہا ہے کہ تم جھوٹ بول رہی ہو۔ جہاں تک میری صبح کی ریڈنگ کی بات ہے تو وہ بھی غلط نہیں تھی۔ صرف میں نے ہی نہیں جوڈتھ نے بھی یہی محسوس کیا تھا، کہ تم اس کے آنے پر خوش نہیں ہو۔ اس لئے پھر ہم نے یہی طے کیا کہ ہوٹل چلے جائیں۔”
کرسٹی اب عمر کی شرٹ کے ساتھ اپنا سر رگڑ رہی تھی۔ علیزہ یک دم ناراض ہو گئی۔
”جوڈتھ نے آپ سے میرے بارے میں کوئی غلط بات کہی ہو گی۔ وہ جان بوجھ کر چاہتی ہے کہ آپ میرے بارے میں برا سوچیں۔”
”اس نے مجھ سے تمہارے بارے میں کوئی بری بات نہیں کی اور نہ ہی وہ یہ چاہتی ہے کہ میں تمہارے بارے میں برا سوچوں۔ اس نے تمہارے بارے میں مجھ سے کہا تھا۔”
“Aleeza is a pretty girl, I liked her.”
علیزہ چند لمحوں تک کچھ بھی نہیں کہہ پائی۔ ”لیکن انہوں نے آپ سے یہ کیوں کہا کہ مجھے ان کا آنا اچھا نہیں لگا۔ وہ آپ تو یہ کہتی ہیں کہ وہ مجھے پسند کرتی ہیں، مگر میرے بارے میں کہتی ہیں کہ میں انہیں پسند نہیں کرتی۔”
”She is very crafty” (وہ بہت چالاک ہے)
عمر نے اسے دیکھا، اس بار واضح طور پر اس کے چہرے پر ناپسندیدگی تھی۔
”جوڈی میری دوست ہے اور میں یہ کبھی پسند نہیں کروں گا کہ کوئی میرے دوستوں کے بارے میں فضول تبصرہ کرے۔”
علیزہ نے بے یقینی سے اسے دیکھا پھر وہ روہانسی ہو گئی، اس نے ایک جھٹکے سے کرسٹی کو عمر کی گود سے کھینچ لیا۔ عمر نے چند لمحوں کے اندر اس کی آنکھوں کو موٹے موٹے آنسوؤں سے بھرتے دیکھا
اور پھر وہ پاؤں پٹختے ہوئے کچھ کہے بغیر لاؤنج سے چلی گئی۔ عمر اس کے پیچھے نہیں آیا۔ وہ خاموشی سے لاؤنج کی کھڑکیوں سے اسے لان میں جاتا دیکھتا رہا۔
وہ آدھا گھنٹہ لان میں بیٹھ کر روتی رہی پھر ملازم اسے چائے کے لئے بلانے آیا۔
”مجھے نہیں پینی۔۔۔” اس نے صاف انکار کر دیا۔
وہ جانتی تھی ملازم اندر جا کر اس کا جواب ایسے ہی پہنچا دے گا اور اسے توقع تھی کہ عمر یا نانومیں سے کوئی خود اسے لینے آئے گا یا پھر ملازم کو دوبارہ بھیجا جائے گا۔ ایسا نہیں ہوا، ملازم دوبارہ آیا نہ ہی عمر یا نانو میں سے کوئی اسے بلانے آیا وہ اور دل گرفتہ ہوئی۔ اس کے آنسو آہستہ آہستہ خود ہی تھم گئے۔
شام کچھ اور ڈھلی اور لان میں تاریکی اترنے لگی، مگر وہ وہیں بیٹھی رہی۔ بالآخر اس نے عمر کو پورٹیکو میں نکلتے دیکھا وہ بے اختیار خوش ہوئی اس کا خیال تھا کہ وہ اسے منانے کے لئے آیا تھا۔ مگر ایسا نہیں تھا عمر لان کی طرف دیکھے بغیر پورٹیکو میں کھڑی گاڑی کی طرف بڑھ گیا۔ علیزہ کو جیسے کرنٹ لگا۔
”کیا وہ واپس جا رہا ہے، مگر اس نے تو رات کا کھانا بھی نہیں کھایا۔”
وہ بے چین ہو گئی…اسے توقع تھی کہ وہ رات کے کھانے تک رکے گا مگر… کرسٹی لان میں پھر رہی تھی، عمر کو لاؤنج سے باہر نکلتے دیکھ کر وہ بھاگتی ہوئی اس کی طرف گئی۔ عمر نے گاڑی کے دروازے کے ہینڈل پر ہاتھ رکھا ہی تھا جب وہ اس کے قریب پہنچ گئی اور اس کی ٹانگوں سے اپنا جسم رگڑنے لگی۔ علیزہ نے عمر کو رکتے دیکھا اس نے جھک کر کرسٹی کو گود میں اٹھا لیا پھر علیزہ نے اسے پلٹتے دیکھا۔ وہ اب لان کی طرف دیکھ رہا تھا۔ پھر علیزہ نے اسے اپنی جانب آتے دیکھا۔ اس کے قریب آنے پر علیزہ نے اپنی ناراضی کو بالائے طاق رکھتے ہوئے پوچھا۔
”آپ جا رہے ہیں؟”
”ہاں۔۔۔” عمر نے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا۔ کرسٹی کو اس نے دوسرے بازو میں پکڑا ہوا تھا۔
”’کھانے کے لئے نہیں رکیں گے؟” علیزہ نے اس کے ہاتھ کو نظر انداز کرتے ہوئے مایوسی سے کہا۔ ”نہیں۔۔۔”
علیزہ نے اس کے بڑھے ہوئے ہاتھ کو دیکھا اور پھر اپنا ہاتھ بڑھا دیا۔
اس کا خیال تھا وہ اس سے ہاتھ ملانا چاہتا تھا مگر ایسا نہیں تھا۔ عمر نے اس کا ہاتھ پکڑ کر کھینچا۔
”اٹھ جاؤ علیزہ۔۔۔” وہ نرم آواز میں کہہ رہا تھا۔ علیزہ اس کے ہاتھ کو پکڑ کر کھڑی ہو گئی۔
”ناراضی ختم ہو گئی تمہاری؟” وہ اب اس سے پوچھ رہا تھا۔
”میں ناراض نہیں ہوں، آپ ناراض ہیں۔”
”واک آؤٹ تو تم نے کیا تھا۔”
”آپ بھی تو کر رہے ہیں۔” وہ اس بار اس کی بات پر مسکرایا۔
”ہاں میں بھی کر رہا ہوں مگر یہ احتجاجاً نہیں ہے اور جہاں تک تم سے خفگی کا تعلق ہے تو میں تم سے کبھی بھی ناراض نہیں ہو سکتا۔”
”پھر آپ کھانا کھائے بغیر کیوں جا رہے ہیں؟” علیزہ نے فوراً کہا۔
”کیونکہ مجھے جوڈی کے ساتھ کھانا کھانا ہے۔”
وہ اس کا چہرہ دیکھ کر رہ گئی۔ وہ اب کرسٹی کو اس کی طرف بڑھا رہا تھا۔ علیزہ نے بے دلی کے عالم میں کرسٹی کو پکڑ لیا۔
”آپ کے لئے جوڈتھ بہت اہم ہے۔”
”میرے لئے تم بھی بہت اہم ہو۔” عمر نے اس کی بات کے جواب میں بلا تامل کہا۔
”مگر جوڈتھ جتنی نہیں۔” اس کی آواز میں مایوسی تھی۔
”اگر تم میرے لئے کم اہم ہوتیں تو میں تمہارے کہنے پر یوں فوراً نہ آجاتا…اپنا موازنہ کسی دوسرے سے مت کرو… میرے لئے جو تم ہو، وہ تم ہو۔”
وہ خوش نہیں ہوئی۔ ”اور جو جوڈتھ ہے، وہ جوڈتھ ہے۔”
”ہاں۔” عمر نے ایک بار پھر بلا تامل کہا۔
ایک دوسرے کے ساتھ چلتے ہوئے وہ لان سے باہر آنے لگے۔
”آپ اور وہ دونوں یہاں آجائیں… ہوٹل میں نہ رہیں۔” علیزہ نے اس سے کہا۔
”نہیں… اب نہیں۔۔۔” عمر نے قطعی لہجے میں کہا۔
”کیوں…؟”
”جو لوگ مجھ سے وابستہ ہوں، میں ان کی بے عزتی برداشت نہیں کر سکتا۔ اگر کسی کو مجھے عزت دینی ہے مجھ سے پہلے ان لوگوں کو دینی ہو گی جو مجھ سے منسلک ہیں۔ مجھے جوڈتھ کے ساتھ تمہارا رویہ اچھا نہیں لگا اور ایک بار واپس لے جانے کے بعد میں اسے دوبارہ رہنے کے لئے تو یہاں نہیں لاؤں گا۔ اگر میں ایسا کرتا ہوں تو یہ جوڈتھ کی انسلٹ ہو گی، اور میں ایسا کبھی نہیں کروں گا۔”
”میں نے ان کی انسلٹ نہیں کی۔” اس نے کمزور لہجے میں کہا۔
”ہاں مگر تم نے یہ ضرور ظاہر کیا ہے کہ تم اسے ناپسند کرتی ہو۔”
”میں ان سے ایکسیکیوز کر لوں گی۔” علیزہ چلتے چلتے رک گئی۔
”اور میں یہ بھی کبھی نہیں چاہوں گا، میں تم کو ڈی گریڈ کبھی نہیں کر سکتا۔ مجھے اس میں بھی اپنی بے عزتی محسوس ہو گی۔”
اس کے لہجے میں صاف گوئی تھی، وہ کچھ دیر اسے دیکھتی رہی پھر اس نے کہا۔”آپ جوڈتھ سے محبت کرتے ہیں؟”
وہ خاموشی سے اسے دیکھتا رہا۔
”اس لئے اسے ناپسند کر رہی ہو تم؟ ” اس کے بات کے جواب میں اس نے بڑے پر سکون لہجے میں کہا۔
علیزہ نے کرسٹی کو زمین پر اتار دیا۔ وہ جانتی تھی عمر کو اس کے جواب کی ضرورت نہیں۔ اس کا ہر جواب بقول عمر اس کے چہرے پر تحریر ہوتا تھا اور عمر کو یقیناً وہ جواب مل گیا تھا۔
”وہ آپ کو بہت اچھی لگتی ہے؟” اس نے اکھڑے ہوئے لہجے میں پوچھا۔
”ہاں۔۔۔” عمر نے بلاتامل کہا۔
”پھر آپ اس سے شادی کرلیں۔”
”مجھے تو سڑک پر چلنی والی ہر خوبصورت لڑکی اچھی لگتی ہے۔ کیا سب سے شادی کر لوں؟”
”میں جوڈتھ کی بات کر رہی ہوں۔”
عمر نے ایک گہرا سانس لیا۔ ”تم کو اور جوڈی کو کچھ دیر اکھٹے بیٹھنا چاہئے، اس کے ساتھ وقت گزارو گی تواتنا ناپسند نہیں کرو گی اسے اور اگر صرف اس لئے اسے ناپسند کررہی ہو کہ میں اسے پسند کرتا ہوں تو پھر تم کو یہ جان لینا چاہئے کہ میں ہمیشہ اسے پسند کرتا رہوں گا۔ میں اپنے دوست اور دشمن کبھی نہیں بدلتا، وہ میری دوست تھی، دوست ہے، اور ہمیشہ دوست ہی رہے گی۔”
عمر نے کسی لگی لپٹی کے بغیر کہا۔ علیزہ نے پہلی دفعہ اس کو اس موڈ میں دیکھاتھا، پچھلے کئی ماہ سے وہ مسلسل اس کے ناز اٹھاتا رہا تھا۔ آج پہلی دفعہ وہ علیزہ کی ناپسندیدگی کی پروا کئے بغیر ایک دوسری ”ترجیح” کے بارے میں بات کر رہا تھا۔ اس سے پہلے یہی ہوتا تھا کہ عمر ہر چیز میں اس کی پسندناپسند کو مدنظر رکھتا تھا۔ وہ کھانے کی کوئی ڈش ہو یا پھر خریدی جانے والی کوئی چیز… کوئی پکنک پوائنٹ ہو یا پھر کسی چیز کے بارے میں رائے۔
عمر بڑی آسانی سے اس کی بات مان لیا کرتا تھا۔ شاید لاشعوری طور پر علیزہ نے سوچا تھا کہ وہ جوڈتھ کے لئے ناپسندیدگی کا اظہار کرے گی تو عمر بھی ایسا ہی کرے گا مگر پہلی بار یہ نہیں ہوا تھا۔
”ہم لوگ کل دو چار جگہوں پر جا رہے ہیں تم چلو گی۔” وہ اس سے کہہ رہا تھا یقیناً وہ جوڈتھ کوشہر کی سیر کروانا چاہتا تھا۔
”نہیں۔۔۔”
عمر نے ایک گہرا سانس لے کر اسے دیکھا وہ بہت رنجیدہ نظر آرہی تھی۔
”مجھے دیر ہو گئی ہے۔” اس نے قدم آگے بڑھاتے ہوئے کہا۔
”آپ کل آئیں گے؟” علیزہ اس کے پیچھے آئی۔
وہ ٹھٹک گیا۔ ”تم چاہتی ہو میں آؤں؟”
”ہاں۔۔۔”
”ٹھیک ہے میں آجاؤں گا۔”
”مگر آپ تو جوڈتھ کے ساتھ سیر کے لئے جا رہے ہیں۔” علیزہ نے اسے یاد دلایا۔
”اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔… تم یہ بتاؤ میں کب آؤں؟”
”کل رات ڈنر پر۔۔۔”
”ٹھیک ہے۔” وہ فوراً مان گیا۔ ”بس یا کچھ اور…؟”
”نہیں بس۔۔۔” عمر کو یک دم کچھ یاد آگیا، اپنی جینز کی پاکٹ میں ہاتھ ڈالتے ہوئے اس نے علیزہ سے کہا۔ ”ذرا اپنا ہاتھ بڑھاؤ۔”
علیزہ نے کچھ متجسس ہو کر ہاتھ آگے کر دیا، عمر نے اس کی کلائی میں کوئی چیز پہنائی۔ علیزہ نے دیکھا وہ ایک خوبصورت فرینڈ شپ بینڈ تھا۔
”بارسلونا میں ایک سوینئر شاپ سے لیا تھا۔۔۔” عمر نے بتایا۔ بینڈ کے ساتھ لٹکنے والی چین کے ساتھ ایک ملوربل فائٹر ، کی تھی۔ ”Amigo” علیزہ نے بینڈ پر کندہ لفظ پڑھا۔ اس نے سر اٹھا کر عمر کو دیکھا وہ مسکرا رہا تھا۔
”تھینک یو۔۔۔”وہ واقعی مسرور تھی۔ وہ ایک بار پھر گاڑی کی طرف جانے لگا، جہاں ڈرائیور اس کا منتظر تھا۔ علیزہ اس بار خاصی خوشی کے عالم میں اسے گاڑی تک چھوڑنے آئی
”اگلی صبح وہ جب بیدار ہو کر ناشتہ کے لئے لاؤنج میں آئی تو اس نے نانو اور نانا کو خاصی پریشانی کے عالم میں لاؤنج میں بیٹھے دیکھا۔ نانا فون پر کسی سے بات کر رہے تھے مگر ان کے چہرے کے تاثرات… نانو اسے دیکھ کر علیزہ کے پاس آگئیں جو ابھی کھڑی تھی۔
”کیا ہوا نانو؟ نانا پریشان ہیں، کیا بات کر رہے ہیں؟” علیزہ نے پوچھا۔
”جہانگیر کی بڑی بیٹی کی ڈیتھ ہو گئی ہے امریکہ میں… رات دو بجے اس کا فون آیاتھا۔” علیزہ نے بے اختیار سانس روکا۔ ”نمرہ کی؟؟”
”ہاں۔” نانو نے سر ہلایا۔
”کیسے…؟ اس کو کیا ہوا؟”
”نیند میں اپنے اپارٹمنٹ کی کھڑکیوں سے نیچے گر گئی۔” نانو کی آنکھوں میں آنسو آنے لگے۔
”مائی گاڈ… آپ نے مجھے رات کو کیوں نہیں بتایا”
”تم سو رہی تھیں… فائدہ کیا تھا، میں اور تمہارے نانا تو ساری رات نہیں سو پائے۔”
”عمر کو پتا ہے؟” علیزہ کے ذہن میں پہلا خیال عمر ہی کا آیا۔
”ہاں اس کو بھی جہانگیر نے فون کر دیا تھا۔”
”مگر نانو ثمرین آنٹی تو اسلام آباد نہیں آگئی تھیں؟” علیزہ کو یاد آیا۔
”ثمرین اسلام آباد میں ہی ہے۔ مگر ولید اور نمرہ وہیں تھے۔”
”اب کیا ہوگا…؟ آپ امریکہ جائیں گی؟”
”نہیں، جہانگیر ڈیڈ باڈی پاکستان لا رہا ہے۔ ابھی کچھ انتظامات ہیں جو وہ کرنے میں مصروف ہے، مگر وہ کہہ رہا تھا کل یا پرسوں تک وہ اسے یہاں لے آئے گا۔”نانو نے آنسو پونچھتے ہوئے کہا۔
”یہاں ہمارے گھر لے کر آئیں گے؟”
”ہاں… تمہارے نانا سب رشتہ داروں کو فون کر رہے ہیں اسی سلسلے میں… جہانگیر کو ابھی کچھ گھنٹوں کے بعد دوبارہ فون کریں گے۔ اس سے فلائٹ کے بارے میں کنفرم کرنا ہے، تاکہ نیوز پیپرز میں ایڈ دیا جا سکے۔”
”آپ نے ثمرین آنٹی سے بات کی ؟”
”وہ امریکہ چلی گئی ہیں، ابھی تو پہنچی بھی نہیں ہوں گی، وہاں پہنچ جائے پھر اس سے بات کروں گی”
”اور عمر… وہ واپس جا رہا ہے؟”
”نہیں ، جہانگیر نے اسے یہیں ٹھہرنے کے لئے کہا ہے۔ میں نے انیکسی کھلوائی ہے۔ ملازموں سے کہا ہے کہ وہ وہاں کی صفائی کریں، اوپر والے پورشن کو بھی صاف کرنا ہے۔ تم انیکسی کو دیکھ لینا۔ کافی لوگ آئیں گے۔ تمہارے سارے انکلز اپنی فیمیلیز کے ساتھ آرہے ہیں۔ ہو سکتا ہے انہیں ٹھہرنا بھی پڑے کیونکہ فلائٹ کا کوئی پتا نہیں ، تم ناشتہ کرلو۔”
نانو کو ہدایت دیتے ہوئے اچانک خیال آیا۔ علیزہ کی بھوک ختم ہو چکی تھی۔
”میں کر لوں گی۔” اس نے نانو کو ٹالا، وہ واپس نانا کے پاس چلی گئی۔
جاری ہے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
