Amarbail By Umerah Ahmed Readelle50103 Episode 36
Rate this Novel
Episode 36
امربیل از عمیرہاحمد
۔۔۔۔
قسط نمبر 36
۔۔۔۔۔
باب 37
اس سے ہونے والی اس لمبی چوڑی گفتگو کے چوتھے دن عمر امریکہ چلا گیا۔ علیزہ نے اس بار پہلی دفعہ اس کے جانے کو سنجیدگی سے لیا تھا۔
وہ اس کی باتوں پر عمل کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ وہ اپنی زندگی کو نارمل کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ نانا اور نانو نے اس سے پچھلے کچھ ہفتوں میں ہونے والے واقعات کے بارے میں کوئی بات نہیں کی ان کے لئے شاید اتنا ہی کافی تھا کہ وہ دوبارہ کالج جانے لگی ہے، اس کی خود ساختہ قید تنہائی ختم ہوگئی تھی اور شہلا ایک بار پھر سے اس کی زندگی کا حصہ بن گئی تھی۔ اس کے ٹیسٹ پہلے کی طرح اچھے ہونے لگے تھے۔ مگر اس کی پہلی والی سنجیدگی اور کم گوئی ابھی بھی برقرار تھی۔
عمر نے واپس جانے کے ایک ہفتے بعد انہیں فون کیا تھا۔ نانو سے بات کرنے کے بعد اس نے علیزہ سے بھی بات کی۔ علیزہ کو وہ پہلے سے زیادہ پر جوش اور خوش لگا تھا۔
”یار! میں تمہیں بہت مس کر رہا ہوں۔” اس نے ہمیشہ والی بے تکلفی کے ساتھ علیزہ کی آواز سنتے ہی کہا۔
علیزہ اس کی بات پر بچوں کی طرح خوش ہوئی۔ ”میں بھی آپ کو بہت مس کر رہی ہوں۔” اس نے جواباً کہا۔
”یہ تو بڑی حیران کن بات ہے کہ علیزہ سکندر جیسی ہستی ہمیں مس کر رہی ہیں واپس آجاؤں؟” اس کی آواز میں شوخی تھی۔
”آجائیں۔” علیزہ اس کے انداز سے محظوظ ہوئی۔
”آجاؤں گا مگر ابھی نہیں۔ ابھی میں اسپین جا رہا ہوں۔”
”کیوں؟”
”بس ویسے ہی سیرو غیرہ کے لئے، کچھ دوستوں کے ساتھ جا رہا ہوں۔” اس نے اطلاع دی۔
”واپس کب آئیں گے؟”
”پاکستان یا امریکہ؟” عمر نے پوچھا۔
”پاکستان۔” ”چند ماہ تک۔”
”آپ نے کہا تھا۔ میں سیشنز کروانا شروع کردوں تو آپ جلدی آجائیں گے۔” علیزہ نے اسے یاد دلایا۔
”ہاں مجھے یاد ہے، تم باقاعدگی سے سیشنز کے لئے جا رہی ہو؟”
”ہاں پھر آپ کب آئیں گے؟” علیزہ نے ایک بار پھر بے تابی سے پوچھا۔
”پتا نہیں۔ دراصل مجھے کچھ کام بھی ہے لیکن پھر بھی میں وعدہ کرتا ہوں، جلدی آجاؤں گا۔” عمر نے اسے مطمئن کرنے کی کوشش کی۔ وہ مطمئن ہوئی یا نہیں مگر اس نے عمر سے مزید اصرار نہیں کیا۔ اسے یقین تھا وہ جلدی واپس آجائے گا۔
باب 38
اسے میگزین جوائن کئے تین ماہ ہو گئے تھے، اور یہ تین ماہ اس کے لئے بہت اچھے ثابت نہیں ہوئے تھے۔ وہ جرنلزم کے بارے میں جو خواب لے کر اس میگزین میں گئی تھی۔ وہ پہلے ہفتے ہی ختم ہو گئے جب اسے کچھ غیر ملکی میگزین یہ کہہ کر دیئے گئے کہ اسے ان میں سے شوبزنس کی خبریں منتخب کرنی ہیں۔ وہ کچھ ہکا بکا ہو کر سارا دن وہ میگزینز دیکھتی رہی۔ شہلا اس دن آفس نہیں آئی۔ علیزہ نے گھر واپس جاتے ہی اسے فون کیا۔
”کیا ہوا بھئی؟ اتنی پریشان کیوں لگ رہی ہو؟” شہلا نے اس کی آواز سے فوراً اندازہ لگایا کہ وہ کسی وجہ سے پریشان ہے۔ علیزہ نے اسے ساری تفصیل بتا دی۔
”تو پھر؟ ”شہلا نے اس کی ساری باتیں سننے کے بعد بڑے اطمینان سے پوچھا۔
”تو پھر کیا مطلب ہے تمہارا؟”
”میرا مطلب ہے کہ تم کیوں پریشان ہو اس سب سے؟”
”میں پریشان کیوں ہوں؟” میں اس لئے پریشان ہوں کیونکہ یہ وہ کام تو نہیں ہے جس کے لئے میں وہاں گئی ہوں۔” علیزہ اس کی بات پر حیران ہوتے ہوئے بولی۔
”آپ کس لئے گئی ہیں وہاں؟”
”کوئی تخلیقی اور چیلنجنگ کام کرنے، غیر ملکی میگزینز سے خبریں چننے نہیں گئی۔ ہم کیا کریں گے وہاں باہر کی خبریں غیر ملکی ماڈلز کے فیشن شوٹس کی کاپی کرتے ہیں بس فرق یہ ہوتا ہے کہ ماڈل اپنی ہوتی ہے اور فوٹو گرافر بھی۔ میک اپ اور ہیر اسٹائل تک ان ہی جیسا ہوتا ہے یہ کیا چیز ہے جو ہم اپنے لوگوں کو دے رہے ہیں، تفریح۔” وہ واقعی اکتائی ہوئی تھی۔
”ابھی تو جانا شروع کیا ہے وہاں۔ اتنی جلدی کوئی نتیجہ اخذ نہیں کرنا چاہئے۔ ابھی تو ہمیں جرنلزم کی الف ب کا بھی پتا نہیں ہے۔ تھوڑا عرصہ وہاں کام کریں گے تو کچھ پتا چلے گا۔ کچھ تجربہ ہو گا تو ہم لوگ ٹرینڈز بدل بھی سکتے ہیں۔” شہلا نے اسے مطمئن کرنے کی کوشش کی۔
”ہم ٹرینڈ بدل سکتے ہیں؟ کیا ٹرینڈ بدل سکتے ہیں؟ غیر ملکی میگزینز میں سے چوری کی جانے والی خبریں اور آرٹیکلز روک سکتے ہیں۔ یا اپنے فوٹو گرافر کو اوریجنل شوٹ کے لئے مجبورکر سکتے ہیں۔” وہ اب بھی اتنی ہی مایوس تھی۔
”تم جاب چھوڑنا چاہتی ہو؟” شہلا نے مزید کچھ کہے بغیر اس سے براہ راست پوچھا۔
”پتا نہیں میں کنفیوزڈ ہوں۔”
”کنفیوز کیوں ہو، اگر یہ سب تمہیں پسند نہیں ہے تو جاب چھوڑ دو کچھ اور کر لو۔” شہلا نے اسے کھٹ سے مشورہ دیا۔
”اور کیا کروں؟”
”تم این جی او جوائن کرنا چاہتی ہو، وہ جوائن کر و۔”
”نہیں۔ میں ابھی این جی او جوائن کرنا نہیں چاہتی میں کچھ عرصہ جرنلزم کے ساتھ ہی منسلک رہنا چاہتی ہوں۔” علیزہ نے فوراً انکار کیا۔
”تو پھر پرابلم کیا ہے کام کرتی رہو۔”
”مگر یہ وہ جرنلزم نہیں ہے جس کے ساتھ میں منسلک ہونا چاہتی ہوں نہ ہی یہ وہ کام ہے جو میں کرنا چاہتی ہوں۔”
”میں نے تم سے کہا ہے۔ کچھ وقت۔۔۔”
”اگر کچھ وقت کے بعد بھی سب کچھ ایسا ہی رہا تو پھر، پھر مجھے افسوس ہو گا کہ میں نے وقت ضائع کیا اور اتنے عرصہ میں یہ بات کرتے رہنے سے شاید میری ساری تخلیقی صلاحیت بھی ختم ہو جائے۔” علیزہ نے شہلا کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔
”تم یہ کام کرنا بھی چاہتی ہو اور اس سے خوش بھی نہیں ہو۔ ایسا کرتے ہیں۔ ایڈیٹر سے بات کرتے ہیں۔ انہیں کہتے ہیں، ہمیں شوبز نیوز کے بجائے کوئی دوسرا پیچ دے دیں۔” شہلا نے کچھ سوچنے کے بعد کہا۔
”میں میگزین کے بجائے کسی اخبار کے ساتھ کام کرنا چاہتی ہوں۔” علیزہ نے اس کی بات کے جواب میں کہا۔
”علیزہ ! تمہیں کوئی تجربہ نہیں ہے۔ تجربے کے بغیر کوئی اخبار بھی تمہیں جاب آفر نہیں کرے گا۔ ذرا حقیقت پسندی سے کام لو۔” شہلا نے کہا۔
”میں جانتی ہوں مگر یہ بند کمرے کی جرنلزم میں نہیں کر سکتی۔”
”کیا مطلب؟”
”آفس بیٹھے بٹھائے پورا میگزین تیار ہو جاتا ہے۔ کھانے کی تراکیب سے لے کر کپڑوں کے ڈیزائنز تک اور آرٹیکلز سے لے کر شوبز کی خبروں تک ہر چیز ادھر ادھر سے اٹھا لی جاتی ہے۔ حتیٰ کہ Celebrities کے انٹرویوز تک ادھر ادھر سے اکٹھے کئے جاتے ہیں۔ کیا یہ جرنلزم ہے؟”
”تم ضرورت سے زیادہ تنقید کر رہی ہو علیزہ۔”
”نہیں ۔ میں ضرورت سے زیادہ تنقید نہیں کر رہی، میں نے ایک ہفتے میں جو دیکھا ہے وہی بتا رہی ہوں اتنا جھوٹ چھاپا جا رہا ہے کہ مجھے حیرت ہوتی ہے جس مقامی آرٹسٹ کے انٹرویوز کرنے کی کوشش بھی کی جاتی ہے اس کے بارے میں اپنے پاس سے خبریں گھڑ کر لگا دی جاتی ہیں۔ وہ آرٹسٹ اچھا ہے جو انٹرویوز دینے پر فوراً تیار ہو جائے جو انکار کرے ، وہ برا ہے اس کا پورا ماضی حال اور مستقبل کھود کر رکھ دو۔ اس کی پرسنل لائف کی دھجیاں اڑا دو۔ اس کی دوسری، تیسری چوتھی شادی کی خبریں شائع کر دو۔ اس کے نام نہاد افیئرز کی تفصیلات چھاپنا شروع کر دو اور یہ سب تب تک کرتے رہوجب تک وہ مجبور ہو کر آپ سے رابطہ قائم نہ کر لے۔ کیا یہ جرنلزم ہے؟ ” وہ خاصی دل برداشتہ نظر آرہی تھی۔
”میں نے تم سے کہا ہے، تم جاب چھوڑ دو۔ فضول کی ٹینشن لینے کی کیا ضرورت ہے اگر تم کسی چیز سے مطمئن نہیں ہو تو وہ مت کرو۔” شہلا نے اپنا مشورہ دہرایا۔
”میں اتنی جلدی جاب چھوڑدوں گی۔ تو نانو کیا کہیں گی میں انہیں دکھانا چاہتی ہوں کہ میرے اندر مستقل مزاجی ہے۔ میں اتنی نازک نہیں ہوں کہ جاب کی ٹینشن سے گھبرا کربھاگ جاؤں۔ وہ پہلے ہی مجھے منع کر رہی تھیں کہ میرا جاب والا ٹمپرامنٹ نہیں ہے اس لئے میرے لئے یہی بہتر ہے کہ میں یہ کام نہ کروں۔”
”ٹھیک ہے تو پھر کچھ عرصہ تک مستقل مزاجی دکھاؤ کام کرو پھر چھوڑ دینا کوئی اخبار جوائن کر لینا۔” شہلا نے ایک بار پھر اس سے کہا۔
”ویسے بھی میں صبح آفس آؤں گی تو ایڈیٹر سے کہوں گی کہ ہمیں مختلف سوشل ایکٹیویٹیز کی رپورٹنگ کے لئے بھجوائیں یہ آفس والا کام نہ دیں۔” شہلا نے لاپروائی سے کہا۔
”وہ مان جائیں گی؟”
”کیوں نہیں مانیں گی۔ فیملی ٹرمز ہیں ان کے ساتھ، اتنا لحاظ تو ضرور کریں گی۔”
”ٹھیک ہے پھر تم صبح آفس آؤ وہیں تفصیل سے بات ہو گی اگر وہ ان ایونٹس کی کوریج کے لئے بھیجنے پر تیار نہ ہوئیں تو پھر میں جاب چھوڑ دوں گی اگرچہ نانو کے سامنے خاصی شرمندگی ہو گی مجھے مگر جو کام مجھے اچھا نہیں لگ رہا، وہ میں نہیں کروں گی۔” شہلا نے اسے تسلی دی علیزہ نے فون رکھ دیا۔
٭٭٭
شہباز منیر کے قتل کو اس نے بڑی دلچسپی کے ساتھ Follow کیا تھا اگرچہ اس دن عمر وہاں سے چلا گیا تھا مگر پھر بھی علیزہ کو امید تھی کہ وہ اس کے قتل کے بارے میں کچھ نہ کچھ ضرور کرے گا۔ خاص طور پر اس لئے کہ یہ قتل اس کی وجہ سے ہوا تھا اور وہ یہ بھی جانتا تھا کہ یہ قتل کس نے کروایا تھا۔
شاید اس لئے اسے امید تھی کہ اگر وہ براہ راست اس بارے میں کچھ نہ بھی کر سکا تو کسی نہ کسی طرح انکل ایاز کا نام ضرور میڈیا میں آجائے گا۔ یہی وجہ تھی کہ اگلے کئی ہفتے تک وہ تمام اخبارات کی ایک ایک خبر پڑھتی رہی۔ شہباز منیر کے قتل نے کچھ عرصہ تک صحافیوں میں ہلچل ضرور مچائی تھی۔ اس کے لئے چند جلوس بھی نکلے تھے اور اس کے اپنے اخبار نے چند روز ہڑتال بھی کی تھی، روز اس کے قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ بھی کسی نہ کسی اخبار میں پیش ہوتا رہا مگر پھر اس خبر پر گرد بیٹھنے لگی۔
وزارتِ اطلاعات کی طرف سے اس کی بیوہ کے لئے ایک چیک جاری کر دیا گیا جس کی تفصیل بھی اخبار میں آئی گورنمنٹ کی طرف سے اسے ایک پلاٹ بھی دے دیا گیا یہ قدرے حیران کن تھا خاص طور پر تب جب گورنمنٹ خود جانے والی تھی مگر علیزہ اندازہ کر سکتی تھی کہ اس چیک اور پلاٹ کے پیچھے کس کی مہربانی کار فرما تھی۔
ایک دو ماہ بعد یک دم گورنمنٹ تبدیل ہو گئی اور پولیٹیکل سیٹ اپ کے بدلتے ہی شہباز منیر کا قتل مکمل طور پر بیک گراؤنڈ میں چلا گیا۔ اخبارات کے صفحے اب سیاسی خبروں اور بیانات سے بھرے ہوئے تھے۔ اگلے انتخابات کے بارے میں قیاس آرائیاں جاری تھیں۔ اتنے دھوم دھڑکے میں کس کو یاد تھا کہ شہباز منیر نام کا ایک شخص تھا جس نے ایک دفعہ اپنے ماں باپ کی احمقانہ باتوں کی وجہ سے اپنے ملک کی طرف واپس ہجرت کی تھی۔ وہ اپنی مرضی سے بیسویں صدی سے واپس بارہویں صدی میں آگیا تھا۔ پھر اس نے اپنے ایک دوست کی احمقانہ باتوں میں آکر لوگوں تک سچ پہنچانے کی کوشش کی تھی۔ بارہویں صدی کے لوگوں کے سامنے بیسویں صدی کی جرأت دکھانے کی کوشش کی تھی کیا ہوا تھا؟ کچھ بھی نہیں۔ اس کے ساتھ وہی کیا گیا تھا جو کرنا چاہئے تھے۔ اس ملک کو کس نے کتنا خو ن دیا تھا یہ یاد رکھنے والی بات نہیں تھی۔ اس ملک میں کس نے کتنا خون لیا ہے۔ شاید یاد انہیں ہی رکھا جاتا ہے، شہباز منیر کو بھی بھلا دیا گیا تھا مگر علیزہ کو وہ یاد تھا اور ہر بار اس کا خیال آنے پر اسے عمر سے شکوہ ہونے لگتا اس نے اتنی آسانی سے سب کچھ کیسے بھلا دیا گیا تھا ۔کیا اسے یاد نہیں کہ شہباز منیر کی موت کی وجہ وہی تھا، وہ کم از کم ایک بار اس سے اس بارے میں بات ضرور کرنا چاہتی تھی۔
مگر عمر سے اگلے کچھ ماہ اس کی ملاقات نہیں ہوئی، انکل ایاز اور انکل جہانگیر کے ساتھ اس کی کیا سیٹلمنٹ ہوئی تھی وہ نہیں جانتی تھی مگر وہ اسی دن چلا گیا تھا اس کے بارے میں دوبارہ اخبار میں کوئی خبر نہیں آئی تھی اور نہ ہی وہ معطل ہوا تھا۔ اگلے چند ماہ کے دوران جو واحد خبر علیزہ تک پہنچی تھی، وہ اس کی ایک بہت اچھے شہر میں پوسٹنگ کی تھی اور پھر اس نے اپنا سامان انیکسی سے منگوا لیا تھا۔ وہ سامان لینے خود نہیں آیا تھا۔ اس نے نانو سے فون پر بات کرکے انہیں اپنا سامان منگوانے کے بارے میں بتا دیاتھا اور نانو نے اپنی نگرانی میں اس کے بھجوائے ہوئے ٹرک پر سامان لوڈ کروایا۔
علیزہ نے ایک دن نانو سے شہباز منیر کے قتل کے بار ے میں بات کرنے کی کوشش کی اور وہ اس وقت سن ہو گئی جب نانو نے بہت اطمینان سے کہا۔
”یہ مردوں کے معاملات ہیں، انہیں پتا ہے کس طرح لوگوں کو ڈیل کرنا ہے۔ غلطی عمر کی ہے اس نے کیوں شہباز منیر کو استعمال کرنے کی کوشش کی۔”
”مگر نانو ! کیا انکل ایاز کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ کسی کو قتل کر دیں۔”
”اس نے کون سا اپنے ہاتھ سے کسی کو قتل کیا ہے ۔ اپنے آدمیوں کو اس نے شہباز کو ڈرانے دھمکانے کے لئے کہا ہو گا۔ اب انہوں نے قتل کر دیا تو وہ کیا کر سکتا تھا۔” وہ ان کی منطق پر حیران رہ گئی۔
”اپنے ہاتھ سے قتل کرنے والا ہی قاتل نہیں ہوتا۔ قتل کروانے والا بھی مجرم ہوتا ہے۔” اسے نانو کی بات پر افسوس ہوا۔
”ہمیں اس بارے میں بحث کرنے کی یا پریشان ہونے کی کیا ضرورت ہے نہ ہمارا شہباز منیر سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی اس واقعہ کے بارے میں ہم سے پوچھ کر کچھ کیا گیا ہے۔ ایاز نے جیسے بہتر سمجھا، معاملے کو ڈیل کیا۔” نانو ابھی بھی مطمئن تھیں۔
”مگر نانو ! انکل ایاز نے ایک غلط کام کیا۔”
”جو کچھ شہباز کرنے جا رہا تھا۔ وہ بھی ٹھیک نہیں تھا۔ ہمارے خاندان کی بہت رسوائی ہوتی اگر وہ جہانگیر کے بارے میں وہ رپورٹس شائع کر دیتا، میرے سارے بیٹوں کا کیرئیر متاثر ہوتا۔ اب ظاہر ہے ایاز خاموش تو نہیں بیٹھ سکتا تھا۔”
”مگر شہباز جو کچھ شائع کرنے جا رہا تھا۔ وہ جھوٹ نہیں تھا۔ سچ تھا اگر خاندان کی عزت کی بات تھی تو انکل جہانگیر نے کیوں اس طرح کے کام کئے، وہ اس وقت یہ سب کچھ سوچتے جب وہ روپے کے لئے اپنے عہدے کا بری طرح استعمال کر رہے تھے۔”
”مگر شہباز منیر کو دوسروں کے ذاتی معاملات میں دخل دینے کی کیا ضرورت تھی؟”
”ذاتی معاملات ؟ نانو ! یہ انکل جہانگیر کے ذاتی معاملات نہیں تھے۔ وہ ان کے کسی اسکینڈل یا افیئر کے بارے میں خبر شائع نہیں کر رہا تھا وہ ان اہم فائلز کی بات کر رہا تھا، جنہیں بیچ کر انہوں نے کئی ملین ڈالرز بنائے ہیں۔”
”پھر بھی شہباز منیر کا اس سارے معاملے میں کیا تعلق تھا؟ اس نے کیوں۔۔۔”
علیزہ نے نانو کی بات کاٹ دی۔”نانو ! اس نے اپنا فرض پورا کرنے کی کوشش کی تھی۔ اس نے کوئی غلط کام نہیں کرنا چاہا۔ آپ کو یہ کچھ اس لئے برا نہیں لگ رہا کیونکہ آپ کے اپنے بیٹے ان سب چیزوں میں انوالو ہیں۔ آپ شہباز منیر کی ماں بن کر سوچیں تو آپ کو احساس ہو گا کہ اس کو ایک صحیح کام کی سزا دی گئی ہے۔ آج کوئی انکل ایاز کو اس طرح بے رحمی سے مار دے تو آپ کیا محسوس کریں گی؟”
”علیزہ! تم فضول بکواس مت کرو۔”
”یہ فضول بکواس نہیں ہے نانو! یہ سچ ہے جو چیز غلط ہے ، وہ غلط ہے۔ چاہے وہ میں کروں یا آپ، قتل وہ جرم ہے کہ اگر عام آدمی کرے گا تو قانون اسے پھانسی پر لٹکا دے گا مگر انکل ایاز جیسے لوگ کریں یا کروائیں تو اس کی Justificationکیسے دے سکتے ہیں۔ ہم یا آپ اور کچھ نہیں تو اتنا تو کر ہی سکتے ہیں کہ غلط چیز کو غلط کہیں اور غلط کام کرنے والے پر تنقید کریں۔ اس کے ہاتھ مضبوط کرنے کی کوشش تو نہ کریں۔”
”علیزہ! یہ سب تمہارے سوچنے اور کرنے کے کام نہیں ہیں۔ بہتر ہے ان معاملات کے بارے میں تم کوئی تبصرہ نہ کرو اگر ایاز کو پتا چل گیا تو وہ بہت ناراض ہو گا۔” نانو نے اسے جیسے دھمکانے کی کوشش کی۔
”وہ ناراض ہوتے ہیں تو ہو جائیں۔ میں ان سے خوفزدہ نہیں ہوں۔ آپ کی طرح ان کی ناراضگی کے خوف سے ان کی حمایت تو نہیں کر سکتی۔”
وہ ان کی باتوں پر بری طرح جھنجھلا رہی تھی۔
نانو اس کا چہرہ خاموشی سے دیکھتی رہیں۔ ”جب سے تم نے جاب شروع کی ہے، تم کچھ زیادہ بدتمیز نہیں ہو گئیں؟”
وہ بے اختیار ان کی بات پر ہنس پڑی۔ ”بدتمیز؟ آپ بھی کمال کرتی ہیں نانو بدتمیزی کو جاب سے منسلک کر رہی ہیں جاب کا اس سب سے کیا تعلق ہے میں جاب نہ بھی کرتی تب بھی اس واقعہ کے بارے میں میرا ردعمل یہی ہوتا خاص طور پر خود انکل ایاز کے منہ سے سننے کے بعد کہ انہوں نے شہباز کو قتل کروایا ہے۔”
”فرض کرو، میں بھی تمہاری طرح یہ سب کہنے لگوں تو بھی فائدہ کیا ہو گا۔ میرا کسی پر کوئی اختیار نہیں ہے کہ میں انہیں اب اس عمر میں اچھائی اور برائی کا فرق سمجھا سکوں۔ وہ اپنے بارے میں خود سوچ سکتے ہیں، خود فیصلے کر سکتے ہیں۔ میں ان سب چیزوں کے بارے میں کیا کر سکتی ہوں۔”
نانو نے پہلی بار دھیمی آواز میں اپنی بے بسی کا اظہار کیا۔
”نانو! کم از کم اتنا تو آپ کر ہی سکتی ہیں کہ آپ ان سب چیزوں کو غلط کہیں۔ انکل ایاز کے ساتھ بحث کریں۔ ان کی ہر بات پر سر نہ جھکا دیں۔”
نانو نے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔ وہ بہت بے چین نظر آرہی تھی۔ ”تم کرسکتی ہو یہ سب کچھ؟” بڑے پر سکون انداز میں انہوں نے علیزہ سے پوچھا۔
”میں؟”
”ہاں تم، تم بحث کر سکتی ہو ایاز سے یا اپنے کسی دوسرے انکل سے۔ ان سے یہ کہہ سکتی ہو کہ انہوں نے غلط کیا؟”
نانو نے جیسے اسے چیلنج کرتے ہوئے کہا۔
وہ ان کا چہرہ دیکھتی رہی۔ ”ہاں میں کر سکتی ہوں اگر ضرورت پڑی تو میں یہ سب ان سے بھی کہوں گی۔ میں آپ کی طرح ان کی ہاں میں ہاں نہیں ملاؤں گی، کم از کم آپ علیزہ سکندر سے اس بات کی توقع نہ کریں۔”
وہ یک دم اٹھ کر اندر چلی گئی۔ نانو حیرانی سے اس کو جاتے ہوئے دیکھتی رہیں۔ علیزہ کا یہ روپ پہلی دفعہ ان کے سامنے آیاتھا۔
٭٭٭
شہلا کے کہنے پر انہیں سوشل ایکٹیویٹیز کی کوریج کا کام سونپ دیا گیا تھا۔ یہ کام کسی حد تک دلچسپ تھا اور کچھ عرصے تک تو علیزہ کو واقعی اپنے کام میں لطف آنے لگا۔
شہر میں ہونے والی مختلف سماجی تقریبات کے دعوتی کارڈز ان کے آفس آتے رہتے۔ وہ ایک دن میں بعض دفعہ تین چار جگہوں پر بھی جاتیں۔ ادبی محفلیں، مختلف نمائشیں، میوزک کنسرٹس ، سوشل گیدرنگز بہت کم عرصے میں وہ ان جگہوں پر پہچانی جانے لگی مگر جہاں تک اطمینان کا تعلق تھا۔ وہ ابھی بھی اپنے کام سے مطمئن نہیں تھی۔
”یہ سب بے کار کام ہے جو کچھ تم اور میں کر رہے ہیں۔ اس سے لوگوں کی زندگیوں میں کوئی تبدیلی اور بہتری نہیں آسکتی۔” وہ اکثر شہلا سے کہتی۔
”تو تم کوئی انقلاب لانا چاہتی ہو؟” شہلا مذاق میں کہتی۔
”نہیں۔ میں کوئی انقلاب لانا نہیں چاہتی۔ میں صرف یہ چاہتی ہوں کہ جو کام میں کروں ۔ اس سے لوگوں کی زندگیوں میں کچھ بہتری تو آئے صرف ایک جاب کرنا تو کوئی بڑی بات نہیں میں چاہتی ہوں میرے کام سے دوسروں کو بھی فائدہ ہو۔”
”تم اچھی بھلی تھیں علیزہ! بس کچھ عرصے سے تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے خاص طور پر پچھلے دو سال میں۔” شہلا تبصرہ کرتی۔
”اس ملک میں اتنی غربت ہے شہلا! کہ یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ سڑکوں پر پھرتے ہوئے لوگوں کو دیکھ کر انسان کا دماغ خراب نہ ہو، سوشیالوجی پڑھنے کے بعد بھی اگر میں تمہاری طرح مطمئن بیٹھی یہ سوچتی رہوں کہ ایک دن کوئی مسیحا آئے گا، اور سب کچھ ٹھیک کر دے گا تو شاید اس سے بڑی حماقت اور کوئی نہیں ہو گی۔”
”یار ! میں کب منع کر رہی ہوں تمہیں ، رزلٹ آجائے کوئی این جی او جوائن کر لینا ، سوشل ورک کرنا چاہتی ہو کرنا پھر دیکھ لینا، کتنی بڑی تبدیلیاں لے کر آتی ہو۔”
”ایک شخص سب کچھ نہیں بدل سکتا۔ مگر جس حد تک تبدیلی لا سکتا ہے اس حد تک تبدیلی اور بہتری کے لئے کوشش تو کرنی چاہئے۔ ایک Passive observer بن کر تو زندگی نہیں گزارنی چاہئے۔”
شہلا اس کی باتوں سے قائل ہوتی یا نہ ہوتی مگر خاموش ضرور ہو جایا کرتی تھی اس کا خیال تھا یہ علیزہ کا وقتی جنون ہے جو کچھ عرصہ کے بعد خود ہی ختم ہو جائے گا۔
٭٭٭
اس شام بھی وہ ایک میوزک کنسرٹ کی کوریج کے لئے گئی ہوئی تھیں۔ کنسرٹ نو بجے کے قریب ختم ہو گیا۔ وہ کنسرٹ ختم ہونے سے کچھ پہلے ہی ہال سے نکل آئی تھیں کیونکہ وہ جانتی تھیں کہ کنسرٹ ختم ہونے کے بعد اتنا رش ہو جائے گا کہ ان کے لئے باہر نکلنا مشکل ہو جائے گا۔
وہ کنسرٹ کے بارے میں باتیں کرتے ہوئے پارکنگ کی طرف آرہی تھیں۔ جب انہوں نے اپنے پیچھے کچھ قہقہے سنے، ان دونوں نے مڑ کر دیکھا۔ وہ چار لڑکوں کا ایک گروپ تھا جو ان سے کچھ فاصلے پر تھا مگر ان لوگوں کی نظریں ان ہی پر جمی ہوئی تھیں۔ واضح طور پر وہ ان ہی کے بارے میں بات کر رہے تھے۔ وہ دونوں انہیں نظر انداز کرتے ہوئے پارکنگ کی طرف جانے لگیں۔
”یہ ہے ہماری نئی جنریشن جنہوں نے اکیسویں صدی میں اس ملک کو Lead کرنا ہے۔”
”Three cheers for them” شہلا نے چلتے ہوئے بلند آواز میں تلخی سے کہا۔ علیزہ نے کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
ان لڑکوں کی آوازیں اور قہقہے اب اور بلند ہو گئے تھے۔ وہ لوگ مسلسل ان کے پیچھے آرہے تھے۔
”کیا خیال ہے مڑ کر کچھ کہا جائے ان سے؟” شہلا نے سرگوشی میں علیزہ سے پوچھا۔
”نہیں۔ کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ابھی ہم لوگ گاڑی تک پہنچ جائیں گے پھر یہ خود ہی دفع ہو جائیں گے۔”
علیزہ نے بھی سرگوشی میں جواب دیتے ہوئے کہا۔
”مگر یہ لوگ بے ہودہ باتیں کر رہے ہیں۔” شہلا نے کچھ احتجاج کیا۔
”کرنے دو، ہمارے روکنے پر یہ باز تو نہیں آئیں گے۔ خوامخواہ بات بڑھ جائے گی اور یہ لوگ یہی چاہتے ہیں۔”
علیزہ نے اسے سمجھایا۔ شہلا مطمئن نہیں ہوئی لیکن خاموش ضرور ہو گئی۔
وہ دونوں اب گاڑی کے پاس پہنچ گئی تھیں جبکہ وہ چاروں لڑکے بھی پارکنگ میں داخل ہو گئے۔ علیزہ اور شہلا نے اپنی گاڑی کے اندر بیٹھ کر اطمینان کا سانس لیا۔
علیزہ گاڑی ڈرائیو کرتے ہوئے سڑک پر لے آئی۔ وہ دونوں بڑے مطمئن انداز میں باتیں کر رہی تھیں۔ جب علیزہ نے بیک ویو مرر سے ایک گاڑی کو بڑی تیزی سے اپنے پیچھے آتے دیکھا۔ گاڑی انہیں اوورٹیک کرنے کی بجائے ان کے پیچھے گاڑی کے ساتھ ساتھ دوڑنے لگی۔ گاڑی میں وہی چاروں لڑکے سوار تھے۔ علیزہ نے پہلی ہی نظر میں انہیں پہچان لیا۔
”یہ تو پیچھے آنے لگے ہیں ، اب کیا کریں؟” علیزہ نے کچھ پریشان ہو کر شہلا سے کہا۔
”تم کار کی اسپیڈ آہستہ کرو، ہو سکتا ہے۔ آگے نکل جائیں۔”
علیزہ نے شہلا کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے کار کی اسپیڈ آہستہ کر دی۔ ان لڑکوں نے بھی اپنی کار کی سپیڈ آہستہ کر دی۔ شہلا نے بے اختیار اپنے دانت پیسے۔
”یہ ذلیل پیچھا نہیں چھوڑیں گے۔ تم اسپیڈ بڑھا دو دیکھتے ہیں کیا ہو سکتا ہے۔”
علیزہ نے یک دم کار کی سپیڈ بڑھا دی۔ ان لڑکوں کی کار اب برابر چلنے کی بجائے ان کی کار کے پیچھے آرہی تھی۔ کچھ دیر تک وہ مختلف سڑکوں پر کار بھگاتی رہی مگر وہ گاڑی مسلسل ان کے پیچھے رہی۔ تم میرے گھر ہی چلو۔ ہو سکتا ہے، وہاں پیچھا چھوڑ دیںـ” شہلا نے اس سے کہا۔
”لیکن رستے میں اگر ان لوگوں نے گاڑی روک لی تو تمہارے گھر کے راستے پر اس وقت بالکل بھی ٹریفک نہیں ہوتی۔” علیزہ نے اپنے خدشے کا اظہار کیا۔
”تم اسپیڈ بہت تیز رکھو اور انہیں اوورٹیک نہ کرنے دینا ایک بار میرے گھر کے باہر گاڑی پہنچ گئی تو پھر کوئی پریشانی نہیں ہو گی۔ چوکیدار ایک منٹ میں گیٹ کھول دے گا۔ نہ بھی کھولا تو باہر تو آہی جائے گا پھر یہ لوگ وہاں نہیں رکیں گے۔”
”مگر مجھے تو ابھی اکیلے ہی گھر جانا ہے۔”
”تم گاڑی اندر لے آنا۔ کچھ دیر انتظار کرنے کے بعد چیک کر لیں گے کہ یہ لوگ باہر تو نہیں ہیں پھر تم چلی جانا ویسے یہ لوگ رکنے والے نہیں ہیں۔ ہمیں اندر جاتا دیکھ کر دفع ہو جائیں گے یہ بس خوفزدہ کر رہے ہیں ہمیں۔” شہلا نے کہا۔
علیزہ نے اس کی بات کے جواب میں کچھ کہنے کے بجائے گاڑی اس روڈ پر موڑ دی جہاں شہلا کی کالونی تھی۔ بہت تیز رفتاری سے گاڑی چلاتے ہوئے وہ شہلا کے گھر پہنچی تھی۔ ان لڑکوں کی گاڑی بھی اب پوری رفتار سے ان کے پیچھے تھی اور ان کی گاڑی کو ایک سنسان سڑک پر مڑتے دیکھ کر انہوں نے دو تین بار اوورٹیک کرنے کی کوشش کی مگر علیزہ ہر بار کار کی رفتار بڑھاتی رہی۔
شہلا کے گیٹ کے سامنے پہنچتے ہی اس نے ہارن پر ہاتھ رکھ دیا اور کار روک دی۔ وہ لڑکے تیزی سے ان کی گاڑی کے پاس سے گزرے اور پھر علیزہ نے ان کی کار کی رفتار کم ہوتے دیکھی۔ چوکیدار تب تک گیٹ کھول چکا تھا۔ علیزہ برق رفتاری سے کار اندر لے گئی۔ ان دونوں نے پیچھے مڑ کر چوکیدار کو گیٹ بند کرتے دیکھا اور ان کی جان میں جان آئی تھی۔
”ایک بات تو طے ہے، میں دوبارہ کبھی رات کو اکیلے کہیں نہیں جاؤں گی۔” علیزہ نے گہرے سانس لیتے ہوئے کار کی سیٹ کے ساتھ ٹیک لگالی۔
”پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ یہ لوگ دفع ہو گئے ہوں گے، سارا موڈ غارت کر دیا انہوں نے، میں چوکیدار سے کہتی ہوں۔ ذرا باہر جھانک کر دیکھے۔”
شہلا نے کار سے نکلتے ہوئے کہا۔ وہ اب گیٹ کی طرف جا رہی تھی۔
۔ علیزہ نے بیک ویو مرر سے اسے چوکیدار سے باتیں کرتے دیکھا۔
چوکیدار چند لمحوں کے بعد چھوٹا گیٹ کھول کر باہر نکل گیا۔ شہلا واپس علیزہ کے پاس آگئی۔
”اب یا تو تم آج رات یہیں رہ لو یا پھر چند گھنٹوں کے بعد چلی جانا۔ اتنی گھبراہٹ میں کار چلاؤ گی تو؟” اس نے بات ادھوری چھوڑ دی۔
”نہیں، میں یہاں نہیں رہ سکتی، نانو اکیلی ہیں اور چند گھنٹوں کے بعد کیا ہو گا۔ سڑکیں اور سنسان ہو جائیں گی۔ میں چلا لوں گی گاڑی۔ تم فکر مند مت ہو۔ کچھ دیر پہلے بھی تو چلائی ہے۔” علیزہ نے اسے تسلی دی۔
چوکیدار اب واپس اندر آگیا اور اس نے سڑک خالی ہونے کی اطلاع دی۔
”بس ٹھیک ہے، میں چلتی ہوں،۔” علیزہ نے کار سٹارٹ کر دی۔
”جاتے ہی مجھے فون کر دینا۔ میں انتظار کروں گی۔” شہلا نے کہا۔ علیزہ سر ہلاتے ہوئے گاڑی کو ریورس کرنے لگی۔
بیرونی سڑک واقعی خالی تھی۔ علیزہ کچھ اور مطمئن ہو گئی۔ تیز رفتاری سے اس نے ذیلی سڑک عبور کی اور پھر ایک ٹرن لیتے ہی اس کا سانس رک گیا۔ ان لڑکوں کی گاڑی اب وہاں کھڑی تھی اور وہ گاڑی سے باہر کھڑے تھے۔ علیزہ گاڑی واپس نہیں موڑ سکی اب اس کا وقت نہیں رہا تھا۔
جاری ہے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
