Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 14

امربیل از عمیرہاحمد
۔۔۔۔
قسط نمبر 14
۔۔۔۔۔
”ہر بار تم دونوں کے درمیان کسی نہ کسی بات پر کچھ نہ کچھ ضرور ہو جاتا ہے۔ اب کیا ہوا؟”
”وہ بالکل بدل گیا ہے شہلا! پہلے جیسا نہیں رہا۔”
اس نے دائیں ہاتھ کی پشت سے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا۔
”وقت ہر چیز کو بدل دیتا ہے ، کوئی بھی چیز ہو یا انسان وہ ایک جیسا نہیں رہ سکتا۔ اس لئے مجھے یہ سن کر حیرت نہیں ہوئی عمر بدل گیا ہے۔”
علیزہ بے بسی سے اپنا نچلا ہونٹ کاٹنے لگی تھی۔
”دو ، چار سال بعد تم اس سے ملو گی تو وہ اور زیادہ بدلا ہوا لگے گا۔It’s but natural۔”شہلا بے حد پر سکون تھی۔
”شہلا! وہ مجھے کبھی بھی اس طرح ٹریٹ نہیں کرتا تھا۔ جس طرح اب ان دو ، چار دنوں میں مجھے یوں لگاجیسے وہ مجھے اپنی کزن نہیں سمجھتا، اس کے لئے میں ویسے ہی ہوں جیسے ، مالی، ڈرائیور، خانساماں۔۔۔۔۔”
”پریکٹیکل بنو علیزہ ! دوسروں سے بہت زیادہ توقعات نہیں رکھنی چاہئیں؟”
شہلا نے بہت ہی گہری نظروں سے اسے دیکھا تھا۔

”شہلا وہ میرا دوست تھا کیا دوستوں سے بھی توقعات نہیں رکھنی چاہئیں۔”
”تم اسے صرف دوست نہیں سمجھتیں، صرف دوست سمجھتیں تو یہاں بیٹھ کر یہ سب کچھ نہ بتا رہی ہوتیں۔”
علیزہ نے سر جھکا لیاتھا۔
”بہر حال اب کیا ہوا ہے؟”
علیزہ نے کچھ ہچکچاتے ہوئے اسے سب کچھ بتا دیاتھا۔ شہلا بھی اتنی ہی شاکڈ ہوکر ساری بات سنتی رہی۔
”مجھے تو یقین نہیں آتا شہلا! عمر یہ سب کچھ کر سکتا ہے وہ کبھی بھی ایسا نہیں تھا، پھر اب کیوں؟ اب جب وہ سیٹل ہو چکا ہے، تو اتنے بڑے تغیرات کیوں؟”
”تم اس تغیر کی وجہ جاننے میں دلچسپی مت لو۔”
”کیوں؟”
”علیزہ ! تم اس کے لئے کچھ نہیں کر سکتیں وہ اب جس مدار میں داخل ہو چکا ہے، وہاں کوئی علیزہ نہیں ہے نہ ہی اسے ضرورت ہے۔”
”میں اس کی دوست ہوں۔”
”پتہ نہیں کہ اسے دوستوں کی ضرورت بھی ہے یا نہیں۔”
”دوستوں کی ضرورت ہمیشہ ہوتی ہے۔”
”لیکن ہر ایک کو نہیں۔ عمر کے ساتھ جو بھی ہو رہا ہے وہ عارضی ہے وہ اس فیز سے نکل آئے گا۔ وہ میچور ہے سمجھدار ہے، بہت جلدی اپنی پرابلمز کو حل کر لے گا۔ تمہارے کزن میں یہ ایک خاص خوبی ہے اور ایسے بندوں کو کسی علیزہ کی ضرورت نہیں ہوتی جو ان سے ہمدردی کرے یا ان پر ترس کھائے، اس لئے تم اس کے بارے میں پریشان ہونا چھوڑ دو۔” شہلا بہت نرمی سے اسے سمجھاتی رہی۔ وہ اسے کچھ کہنا چاہتی تھی مگر خاموش رہی۔ وہ شہلا کے ساتھ سب کچھ شیئر کرنا نہیں چاہتی تھی۔ بہت دیر تک وہاں بیٹھے رہنے کے بعد شہلا نے کہا تھا۔
”اب چلیں، بہت دیر ہو گئی ہے۔”
علیزہ کچھ کہے بغیر ہی اٹھ کھڑی ہو ئی تھی۔
………
اس دن گھر آنے پر نانو نے اسے بتایا تھا کہ عمر اسلام آباد چلا گیا ہے۔ اب وہ کچھ دن بعد آئے گا۔ علیزہ نے کسی بھی رد عمل کا اظہار نہیں کیاتھا۔ لنچ کرنے کے بعد وہ ڈائننگ ٹیبل سے اٹھ رہی تھی جب نانو نے اس سے کہاتھا۔
”عمر ہم دونوں کے لئے کچھ چیزیں لایا ہے ، وہ بیگ دے گیا ہے۔ میں نے ابھی کھولانہیں ، سوچ رہی تھی کہ تم یونیورسٹی سے آجاؤ تو کھولوں گی”
علیزہ خاموشی سے ان کا چہرہ دیکھتی رہی۔ اگر ایک دن پہلے گھر میں وہ سب کچھ نہ ہوا ہوتا تو شاید اس وقت وہ بڑی بے تابی سے نانوکی بات پر کچھ نہ کچھ کہتی مگر اب اسے کوئی بے تابی نہیں ہوئی تھی۔
”آپ خود بیگ کھول لیں گے۔ مجھے کچھ بھی نہیں چاہئے۔”
اس نے بے دلی سے کہاتھا۔
”علیزہ ! یہاں بیٹھو۔”
”نانو ! پلیز مجھے یونیورسٹی کا کچھ کام کرنا ہے۔”
”علیزہ ! بیٹھ جاؤ۔”
نانو نے اس بار کچھ ڈانٹتے ہوئے کہاتھا۔ وہ کچھ متامل سی کرسی کھینچ کر بیٹھ گئی۔
”تم عمر سے ناراض ہو؟”
انہوں نے بغیر کسی تمہید کے پوچھا۔
”نہیں!”
”تو پھر اس کی لائی ہوئی چیزیں کیوں نہیں لینا چاہتیں۔”
وہ خاموش رہی تھی۔
”میں کچھ پوچھ رہی ہوں؟”
”بس ویسے ہی!”
”بس ویسے ہی سے کیا مطلب ہے تمہارا؟”
”میرا دل نہیں چاہتا!”

”علیزہ ! میں نے تمہیں سمجھایا تھا کہ عمر آج کل پریشان ہے اس کی کسی بات پر خفا ہونا مناسب نہیں۔ وہ شاید خود بھی نہیں جانتا کہ وہ کیا کر رہا ہے، اور کیا کہہ رہا ہے۔ اگر سمجھنے کے قابل ہوتا تو فارن سروس میں اتنی اچھی پوسٹ چھوڑ کر یوں صرف باپ کی ضد میں پاکستا ن آجاتا۔”
”نانو میں اس کی کسی بھی بات پر ناراض نہیں ہوں۔”
”میں بے وقوف نہیں ہوں، تمہیں کل کی باتیں کیا بری نہیں لگیں؟”
” بری لگی ہوں تو میں کیا کروں۔میں یہاں سے جاتو نہیں سکتی۔”
اس نے سر جھکائے ہوئے افسردگی سے کہا تھا۔
”اس نے جو بھی کہا، اسے بھول جاؤ۔ غصہ میں انسان بہت سی باتیں کہہ دیتا ہے۔”
نانو اسے سمجھانے لگی تھیں۔
”اب دیکھو ،وہ صبح جاتے ہوئے مجھ سے خاص طور پر کہہ کر گیا ہے کہ تمہاری چیزیں تمہیں دے دوں۔”
علیزہ اس بار خاموش رہی تھی۔
نانو اسے لے کر اپنے کمرے میں آگئی تھیں۔انہوں نے عمر کا دیا ہوا بیگ کھولا، اور اس میں موجود چیزیں نکال کر بیڈ پر رکھنا شروع کر دیں۔ اسے پہلی بار عمر کی لائی ہوئی کوئی چیزیں دیکھ کر خوشی نہیں ہو رہی تھی۔ بلکہ اس کی رنجیدگی بڑھتی جارہی تھی۔

”اسے معلوم ہونا چاہئے، مجھے اس کی لائی ہوئی چیزوں کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔”
اس نے سوچاتھا۔ چیزوں کا ڈھیر اٹھانے کے بعد وہ کھڑی ہوئی تھی جب نانو نے اس سے کہا۔
”جب عمر واپس آئے تو تم ان چیزوں کے لئے اس کا شکریہ ادا کرنا۔”
وہ ان کی ہدایات سن کر خاموشی سے کمرے سے نکل آئی۔
اپنے کمرے میں آکر پہلی بار اس نے عمر کی دی ہوئی چیزوں کو بار بار دیکھنے کی بجائے ایک شاپر میں ڈال کر وارڈ روب کے ایک کو نے میں رکھ دیا تھا۔
سال میں دو ، تین بار جب اس کی ممی اور پاپا اس کے لئے چیزیں بھجوایا کرتے تھے تووہ انہیں بھی اسی طرح دیکھے بغیر وارڈروب میں رکھ دیا کرتی تھی، اور پھر انہیں صرف اسی وقت دیکھا کرتی تھی کہ جب اسے کسی کو کوئی گفٹ دینا ہوتا وہ انہیں چیزوں میں سے کچھ نہ کچھ نکال کر گفٹ کردیتی یا پھر خود اسے اپنے استعمال کے لئے کسی چیز کی ضرورت پڑتی تو وہ ان شاپرز کی طرف متوجہ ہو جاتی ۔
مگر عمر جب بھی اس کے لئے کچھ لاتا یا بھیجتا تھا تو وہ کبھی بھی ان چیزوں کو وارڈروب میں نہیں رکھتی تھی۔ وہ انہیں کمرے میں اپنے سامنے رکھتی تھی یا پھر فوری طور پر انہیں اپنے استعمال میں لے آتی تھی۔
٭٭٭
عمر چار دن کے بعد لوٹا تھا، اور ایک بار پھر اس کے چہرے پر وہی سکون اور اطمینا ن تھا جو انکل جہانگیر کے آنے سے پہلے اس کے چہرے پر تھا۔
رات کو کھانے پر وہ نانو کو ااسلام آباد میں اپنی مصروفیات کے بارے میں بتا رہاتھا۔
”چند ہفتوں تک ٹریننگ کے لئے سہالہ جانا پڑے گا۔ مجھے پھر پوسٹنگ ہو جائے گی۔” وہ نانو کو کہہ رہا تھا۔ ولید کے ڈیڈی سے میری بات ہوئی ہے وہ کہہ رہے تھے کہ اچھی پوسٹنگ دلوا دیں گے۔”
وہ اپنے ایک دوست کا نام لے رہا تھا۔
”تم خوش ہو نا؟”
نانو نے اس سے پوچھا۔
”خوشی ؟پتا نہیں…مگر ہاں مطمئن ہوں۔”
اس کے چہرے پر اب عجیب سی مسکراہٹ تھی۔
”اور وہ اس لئے کہ آپ کے بیٹے نے میری راہ میں کوئی رکاوٹ کھڑی کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔”
” اچھا ! تم یہ سوپ تو تھوڑا اور لو، یہ میں نے صرف تمہارے لئے ہی بنوایا ہے۔”
نانو نے کمال مہارت سے بات بدل دی۔
”میں پہلے ہی کافی لے چکا ہوں۔”
اس نے مسکرا تے ہوئے منع کیا ۔

علیزہ خاموشی سے کھانا کھاتے ہوئے ان دونوں کے درمیان ہونے والی گفتگو سنتی رہی۔نانو مسلسل اس کے ساتھ گفتگو میں مصروف رہی تھیں۔ علیزہ بہت جلد کھانے سے فارغ ہو گئی جب وہ ، ایکسکیوز می کہہ کر کھڑی ہوئی تو نانو پہلی بار متوجہ ہوئی تھیں۔
”تم نے کھانا کھا لیا؟”
”جی!”
جواب انتہائی مختصر تھا۔
”تو بیٹھو نا علیزہ ! کافی پیتے ہیں اکھٹے۔”
”نہیں نانو مجھے کچھ کام ہے۔” اس نے کہا تھا۔
“بھئی عمر ! علیزہ کو تمہارے گفٹ بہت پسند آئے۔ بہت تعریف کررہی تھی۔”
نانو اس بار عمر سے مخاطب تھیں۔ علیزہ نے عمر کو دیکھنے کی کوشش نہیں کی۔
”نانو ! پھر میں جاؤں؟”
اس سے پہلے کہ عمر جواباً کچھ کہتا علیزہ نے نانو سے کہاتھا ۔ نانو نے اسے کچھ خفگی سے دیکھا انہیں شاید علیزہ سے اس طرح کے رد عمل کی توقع نہیں تھی۔
”ٹھیک ہے جاؤ!”
”تھینک یو!”
وہ ڈائننگ روم سے باہر نکل آئی۔
٭٭٭
اگلے چند دن بھی اس کے اور عمر کے درمیان کوئی بھی بات نہیں ہوئی تھی ۔ وہ صبح جس وقت یونیورسٹی جاتی تھی اس وقت وہ سو رہا ہوتا اور جب وہ واپس آتی تو گھر میں موجود نہیں ہوتا تھا۔شام کو وہ گھر آیا کرتا تھا، اور اس وقت وہ اپنی پڑھائی میں مصروف ہوتی تھی۔ رات کے کھانے پر ان کا سامنا ہوتا تھا، اور اس کے بعد عمر واک پر نکل جایا کرتا تھا۔ اورعلیزہ ایک بار پھر اپنے کمرے میں آکر پڑھائی میں مصروف ہو جاتی تھی۔
اس نے اس واقعہ کے بعد کبھی بھی عمر کے کمرے میں جانے کی کوشش نہیں کی تھی۔ اب ملازم ہی اس کے کمرے کو صاف کیا کرتا تھا، اور وہی سارے پیغام لے کر اس کے کمرے میں جایا کرتا تھا۔ عمر سے گھر میں جب بھی اور جہاں بھی اس کا سامنا ہو تا وہ کترا کر گزر جاتی خود اس نے بھی بات کرنے کی کبھی کوشش نہیں کی تھی۔
اس دن سہ پہر کا وقت تھا۔ نانو کسی کام سے باہر گئی ہوئی تھیں۔ خانساماں بھی اپنے کوارٹرمیں تھا۔ وہ کافی بنانے کے لئے کچن میں آئی تھی جب اس نے لاؤنج میں فون کی گھنٹی سنی۔ وہ لاؤنج میں چلی آئی فون عمر کے کسی دوست کا تھا۔
”ہاں ! وہ گھر پر ہیں ، آپ ان کے موبائل پر کال کر لیں۔”
اس نے فون سننے پر کہا تھا۔

”میں نے موبائل پر کال کرنے کی کوشش کی ہے، لیکن موبائل آف ہے۔ آپ یا تو ان سے بات کروا دیں۔ یا پھر انہیں کہیں کہ موبائل آن کریں۔”
دوسری طرف سے کہا گیا تھا۔
”اچھا آپ ہولڈ کریں میں ان کو بلوا دیتی ہوں۔”
اس نے کچھ سوچنے کے بعد کہاتھا۔
ریسیور رکھنے کے بعد وہ سوچتی رہی کہ عمر تک پیغام کیسے پہنچائے۔ صرف پیغام اس تک پہنچانے کے لئے وہ کوارٹر سے ملازم کو بلواتی تو یہ بات نہ صرف ملازم کے لئے عجیب ہوتی بلکہ اس وقت تک بہت دیر ہو جاتی۔
چند لمحے سوچنے کے بعد اس نے خود ہی پیغام دینے کا سوچا۔ عمر کے بیڈ روم کے دروازے پر پہلی دستک دیتے ہی اندر سے آواز آئی تھی۔
”یس کم ان۔”
”آپ کی کال ہے۔”
اس نے بلند آواز میں کہا تھا۔
”علیزہ ! اندر آجاؤ۔”
اندر سے کہا گیا تھا۔
”آپ کے کسی دوست کا فون ہے۔”
اس نے اس کی بات کے جواب میں ایک بار پھر اپنا جملہ دہرایاتھا۔
”میں آرہا ہوں۔”
اس بار چند لمحوں کے وقفہ کے بعد اس نے کہا تھا۔

وہ واپس کچن میں آکر کافی میکر میں پانی ڈالنے لگی۔ چند لمحوں بعد اسے لاؤنج میں عمر کی آواز سنائی دی تھی۔ وہ فون پر باتیں کر رہا تھا۔ علیزہ اپنے کام میں مصروف رہی۔ وہ اس وقت فریج سے کریم نکال رہی تھی جب اس نے عمر کی آواز سنی تھی۔
”میں نے تم کو کمرے میں آنے سے منع نہیں کیا ۔”
اس نے مڑ کر دیکھا، وہ کچن کے دروازے میں کھڑا تھا۔
”آپ جب چاہیں میرے کمرے میں آسکتی ہیں۔”
وہ مڑکر دوبارہ کریم کا پیکٹ نکالنے لگی۔
”اس دن اعتراض مجھے صرف تمہارے آنے کے طریقے پر ہوا تھا۔ کیونکہ میرا خیال ہے کہ وہ زیادہ مناسب نہیں تھا۔”
وہ ایک بار پھر کہہ رہا تھا۔ علیزہ کریم کو پیالے میں نکالنے لگی۔ وہ خاموشی سے اسے دیکھتا رہا، وہ اس کے وہاں کھڑے ہونے سے الجھ گئی ۔
”میں اتنا برا بھی نہیں ہوں کہ آپ میری بات کا جواب دینا بھی پسند نہ کریں۔”
وہ کچھ کہے بغیر ہی کریم کو پھینٹنے لگی۔ عمر اسے کبھی بھی آپ کہہ کر مخاطب نہیں کرتا تھا۔ اسے حیرانی ہو رہی تھی اس وقت وہ اسے آپ کہہ کر کیوں مخاطب کر رہا ہے۔
”ٹھیک ہے جواب مت دیں کافی کا ایک مگ تو دے سکتی ہیں؟”
اس کی اگلی فرمائش نے علیزہ کو کچھ اور حیران کیا تھا۔
وہ اب آگے بڑھ کر کچن میں موجود ڈائننگ ٹیبل کی کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا۔ علیزہ کچھ دیر شش و پنج میں گرفتار رہی پھر اپنی سابقہ خاموشی کو برقرار رکھتے ہوئے اس نے ایک کی بجائے کافی کے دو مگ تیار کرنے شروع کر دیے۔

کافی تیار کرنے کے بعد اس نے دونوں مگ اٹھائے اور ایک مگ عمر کے سامنے میز پر رکھ دیا۔ دوسرا مگ لے کر وہ کچن کے دروازے کی طرف بڑھنے لگی تو اسے عمر کی آواز سنائی دی۔
”آپ کافی میرے ساتھ بیٹھ کر پئیں۔”
”مجھے کچھ کام کرنا ہے۔”
اس نے جواباً کہا تھا۔
”میں آپ کا زیادہ وقت نہیں لوں گا۔ کافی پینے میں زیادہ سے زیادہ پانچ منٹ لگیں گے۔”
اس نے ایک بار پھر کہا ۔
”نہیں۔ مجھے یونیورسٹی کابہت سا کام کرنا ہے۔”
اس نے سر جھکائے ہوئے ایک بار پھر انکار کر دیا۔ عمر اس بار پھر اصرار کرنے کے بجائے تیزی سے اٹھ کر کچن سے نکل گیا۔ علیزہ ہکا بکا اسے جاتا دیکھتی رہی۔ اسے عمر سے اس قسم کے رد عمل کی توقع نہیں تھی۔
کافی کا مگ اب بھی ویسے ہی میز پر پڑا ہوا تھا، اور اس میں سے نکلنے والا دھواں دیکھ کر علیزہ کو افسوس ہو رہا تھا۔ وہ اندازہ نہیں کر پارہی تھی کہ عمر ناراض ہو گیا ہے یا ویسے ہی اٹھ کر چلا گیا ہے۔
٭٭٭
دو دن کے بعد چھٹی کا دن تھا، اور علیزہ دس ، گیارہ بجے کے قریب لان میں اپنی ایک پینٹنگ مکمل کرنے میں مصروف تھی۔ آسمان بادلوں سے ڈھکا ہوا تھا، اور ٹھنڈی ہوا چلنے کی وجہ سے خاصی خنکی تھی۔ مگر وہ جان بوجھ کر لینڈ اسکیپ مکمل کرنے کے لئے باہر آگئی تھی۔
پیلٹ کو ہاتھ میں تھامے ہوئے وہ برش کے ساتھ کینوس پر اسٹروکس لگا تی رہی۔ سورج کی روشنی نہ ہونے کی وجہ سے اسے شیڈز دینے میں بہت غور و خوض کرنا پڑ رہا تھا۔ شاید وہ ابھی کچھ اور دیر اسی انہماک سے اپنے کام میں مصروف رہتی۔ مگر کینوس پر پڑنے والے بارش کے ایک قطرے نے اسے چونکا دیاتھا۔ اس نے بجلی کی سی تیزی سے کینوس کو ایزل سے اتار لیا۔ پیچھے مڑتے ہی اس کی نظر عمر پر پڑی تھی۔ وہ لان کے بالکل ہی سامنے شیڈ کے نیچے برآمدے کی سیڑھیوں پر اس جگہ بیٹھا ہوا تھا۔ جہاں اس نے اپنے برش اور پینٹ باکس رکھے ہوئے تھے۔ وہ ایک لمحہ کے لئے ٹھٹھکی پتا نہیں وہ کب سے وہاں بیٹھا ہوا تھا۔ علیزہ کو اس کی آمد کا پتا نہیں چلا تھا۔ پھر اس نے کینوس کواپنے کلرز کے پاس جاکر رکھ دیا۔ واپس لان میں آکر اس نے اپنا ایزل اٹھایا اور اسے بھی وہیں لے آئی۔ عمر اب اس کی پینٹنگ دونوں ہاتھوں میں تھامے دیکھ رہاتھا۔ علیزہ خاموشی سے اس کے قریب آکر اپنی چیزیں سمیٹنے لگی تھی۔
”علیزہ ! تمہیں اب مجھے معاف کر دینا چاہئے ۔”
وہ پینٹ باکس اور برش اٹھاکر کھڑی ہو رہی تھی۔ جب عمر نے نظریں اٹھا کر اس سے کہا۔ وہ اس کے اس جملے پر حیران رہ گئی تھی۔
”میں آپ سے ناراض نہیں ہوں تو پھر معافی کس بات کی؟”
عمر نے کچھ کہنے کے بجائے نرمی سے اس کا ہاتھ پکڑا اور اسے اپنے پاس بٹھا لیا۔
”میری بکواس پر غصہ کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔”
”آپ ناراض تھے مجھ سے ، میں تو ناراض نہیں تھی۔”
عمر کا رد عمل اس کے لئے بے حد حیران کن تھا۔ وہ یک دم کھلکھلا کرہنسنے لگا تھا۔ چند لمحے ہنسنے کے بعد اس نے کہا۔
”میں تم سے ناراض نہیں ہو سکتا علیزہ؟ تم سے؟”
”مگر آپ تھے!”
اس نے اپنے لفظوں پر زور دیتے ہوئے کہا۔
”نہیں، میں تم سے ناراض نہیں تھا۔ ناراض ہونے کے لئے شکایت کا ہونا ضروری ہوتا ہے اور مجھے تم سے کبھی کوئی شکایت نہیں ہو سکتی۔”
اس نے سر اٹھا کر بے یقینی سے عمر جہانگیر کو دیکھاتھا۔
”دنیا میں کوئی نہ کوئی ایسا ضرور ہوتا ہے جس کی کوئی بات آپ کو بری نہیں لگتی جس پر کبھی آپ کو غصہ نہیں آتا۔ جس سے کبھی آپ ناراض نہیں ہوتے۔ ناراض ہونا چاہیں تو بھی نہیں ہو سکتے۔ میرے لئے وہ کوئی نہ کوئی تم ہو۔”
”عمر کو کیا ہو گیا ہے؟”
علیزہ نے سوچاتھا۔
”یہ کیا کہہ رہا ہے؟”
اس کی بے یقینی میں کمی نہیں آئی تھی۔
”آفٹر آل آپ یہ تو ضرور چاہتے ہیں کہ آپ کے مرنے پر کوئی ایسا شخص آپ کے لئے روئے جسے آپ نے ساری زندگی رونے نہ دیا ہو۔”
”میں جانتا ہوں علیزہ ! میرے مرنے پرمیرے لئے رونے والی صرف تم ہو گی۔”
وہ ہونق بنی اس کا چہرہ دیکھتی رہی۔ وہ اب مسکرا رہا تھا۔
”آپ کیا کرنا چاہتے ہیں؟”
اس نے یکدم خوفزدہ ہو کر کہا عمر بے ساختہ قہقہہ مارکر ہنسا۔
”کچھ نہیں……میں کچھ بھی کرنا نہیں چاہتا۔”
”پھر آپ اس طرح کی باتیں کیوں کر رہے ہیں؟”
”کیسی باتیں؟”
”یہ جو کچھ آپ کہہ رہے ہیں!”
”میں کیا کہہ رہا ہوں!”
علیزہ کی سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ اسے کیا کہے وہ جانتے بوجھتے ہوئے۔۔۔۔!
……….
”موت اور زندگی کے علاوہ بھی تو بہت سی حقیقتیں ہیں ۔”
”مثلاً!”
”جیسے یہ کہ انسان کو اپنی زندگی اپنے ہی ہاتھوں ختم کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔”
اس نے کچھ ڈرتے ہوئے کہا۔
”اور؟”
”اور یہ کہ انسان کو ہر حال میں خوش رہنے کی کوشش کرنی چاہئے۔”
”اور!”
”اور یہ کہ زندگی میں آنے والے پرابلمز کا ثابت قدمی سے مقابلہ کرنا چاہئے۔”
”بس!”
علیزہ کچھ شرمندہ ہو گئی تھی۔ اس کا خیال تھا وہ اس کی بات کے جواب میں اپنے رویے کی وضاحت کرے گا۔ اپنے اس اقدام کو صحیح ثابت کرے گا مگر اس نے ایسا کچھ نہیں کیا تھا۔
”یہ پینٹنگ تم مجھے دے دو!”
اس کی ساری باتوں کے جواب میں اس نے دونوں ہاتھوں میں پینٹنگ اٹھا کر دیکھتے ہوئے کہا۔
”آپ اس کا کیا کریں گے؟”
علیزہ نے بات کا موضوع بدل جانے پرکچھ مایوسی سے کہا۔
”میں اسے اپنے بیڈ روم میں لگاؤں گایا پھر اپنے آفس میں!”
”یہ ابھی مکمل نہیں ہوئی ۔”
”مجھے تویہ مکمل لگ رہی ہے!”
”نہیں ،کچھ سٹروکس رہتے ہیں اور پانی کے اس قطرے کی وجہ سے یہاں کلر بھی خراب ہو گیا ہے۔ اسے بھی ٹھیک کرنا ہوگا۔”
علیزہ نے ہاتھ سے تصویر کی مختلف جگہوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
”نہیں مجھے یہ اسی طرح چاہئے۔ کسی مزید تبدیلی کے بغیر ۔”
”مگر بارش کے اس قطرے والی جگہ کو تو مجھے ٹھیک کرنا پڑے گا۔”
”تم بارش کے اس قطرے والی جگہ کو ٹھیک کرنے کے بجائے یہاں اپنا نام لکھ دو۔”
”مگر۔۔۔۔”
” اگر مگر کچھ نہیں بس تم برش لو اور یہاں اپنا نام لکھ دو۔”
علیزہ نے کچھ حیرا نی سے اسے دیکھا اور پھر برش نکال کر سفید کلر سے تصویر کے درمیان میں بارش کے اس قطرے کی وجہ سے پھیلے ہوئے رنگوں میں کچھ بے دلی سے اپنا نام لکھ دیا۔ وہ بڑی دلچسپی سے سارا عمل دیکھتا رہا اور جب اس نے اپنا نام لکھ دیا تو اس کے چہرے پر ایک بار پھر مسکراہٹ نمودار ہوئی تھی۔
”ہاں… ٹھیک ہے اب یہ مکمل ہو گئی ہے۔”
اس نے علیزہ کے ہاتھ سے پینٹنگ لیتے ہوئے ،مطمئن لہجہ میں کہا تھا۔
علیزہ کی مایوسی میں کچھ اور ہی اضافہ ہو گیا۔ عمر جہانگیر perfectionist(کاملیت پسند)تھا اور اب وہ ایک نامکمل تصویر کے درمیان موجود دھبے اور اس پر لکھے نام کو سراہ رہا تھا۔
”میرا کمرہ تمہیں بہت مس کرتا ہے۔”
اس نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔
”اسے ایک پری کی عادت ہو گئی ہے میرے جیسا جن اس کو پسند نہیں آرہا ہے۔”
وہ بڑی سنجیدگی سے علیزہ کو بتا رہا تھا۔ علیزہ کا چہرہ چند لمحوں کے لئے سرخ ہوا پھر وہ یک دم کھکھلا کر ہنس پڑی۔
………..
جاری ہے