Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 27

امربیل از عمیرہاحمد
۔۔۔۔
قسط نمبر 27
۔۔۔۔۔
باب 28
۔۔۔۔
”تو علیزہ بی بی واپس آچکی ہیں۔” عمر نے رات کے کھانے کیلئے ڈائننگ روم میں آتے ہی علیزہ کو دیکھ کر خوشگوار انداز میں کہا تھا۔
علیزہ سہ پہر کو واپس پہنچ گئی تھی اور اس وقت گھر میں عمر نہیں تھا۔ وہ رات کو ہی واپس آیا تھا اور واپس آنے کے بعد ان دونوں کی ملاقات ڈائننگ روم میں ہی ہوئی تھی۔
”تو کیا کچھ سیکھا اور دیکھا آپ نے؟” وہ اب کرسی کھینچتے ہوئے بیٹھ رہا تھا۔
”بہت کچھ۔” علیزہ نے مسکرا کر کہا۔
”اس بہت کچھ کے بارے میں ہمیں بتانا پسند کریں گی؟”
”اس وقت سے یہ میرے کان کھا رہی ہے، اب تمہارے کھائے گی۔” نانو نے مسکراتے ہوئے عمر کو جیسے خبردار کیا تھا۔
”تو اب کیا خیال ہے این جی اوز کے بارے میں؟” عمر نے گلاس میں پانی ڈالتے ہوئے پوچھا۔
”آپ نے این جی اوز کے بارے میں جو کچھ کہا تھا۔ میں اس سے اتفاق نہیں کرتی۔” عمر نے پانی کا گھونٹ لیتے ہوئے گہری نظروں سے اسے دیکھا۔ اس کے ہونٹوں پر ایک مسکراہٹ دوڑ گئی۔
”ویری گڈ… اس کا مطلب ہے آپ نے واقعی اپنی sense of judgement (جانچنے کی صلاحیت)کو استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔ ویسے کس بات سے ایگری نہیں کرتیں تم؟” اس نے پوچھا۔
”آپ کی سب باتوں سے۔” اس نے اپنی پلیٹ میں چاول نکالتے ہوئے کہا۔
”سب باتوں سے؟” ”تمہارا مطلب ہے میں نے تم سے جھوٹ بولا ہے؟”
علیزہ یک دم گڑبڑا گئی ”نہیں… میں نے یہ تو نہیں کہا۔”
”تو پھر آپ کیا فرما رہی ہیں؟”
علیزہ کچھ دیر خاموشی سے جیسے اپنے لفظوں کو ترتیب دیتی رہی پھر اس نے کہا ”آپ نے این جی اوز کے بارے میں مجھے انفارمیشن دی تھی وہ ٹھیک نہیں تھی۔ این جی اوز نے اس علاقے میں بہت کام کیا ہے۔”
”تم نے ان کے اسکول وغیرہ دیکھے ہوں گے اس لیے۔۔۔”
علیزہ نے عمر کی بات کاٹ دی۔” نہیں بات صرف اسکولز نہیں ہے، میں نے صرف اسکولز ہی نہیں دیکھے وہاں اور بھی کچھ دیکھا ہے میں نے لوگوں سے بات چیت کی ہے۔ ایک شخص جھوٹ بول سکتا ہے دو بول سکتے ہیں، مگر ہر شخص تو نہیں وہاں ہر شخص یہی کہہ رہا ہے کہ ان این جی اوز کی وجہ سے اس علاقے میں بہت ترقی ہوئی ہے۔”
”اس چیز پر بھی پورا یقین نہیں کرنا چاہیے جو آنکھوں دیکھا ہو نہ کانوں سنا ہو۔”
عمر نے اطمینان سے اس کی بات رد کی۔
”اور ان کے بارے میں کیا کہتے ہیں جو آنکھوں دیکھا اور کانوں سنا ہو۔”
علیزہ نے کچھ اکھڑے لہجے میں کہا۔
”پھر اس پر غور کرنا چاہیے کہ جو کچھ سنائی اور دکھائی دے رہا ہے، کیا وہ واقعی ٹھیک ہے۔” عمر سنجیدہ ہوگیا تھا۔
”میں نے یہی کیا ہے۔”
عمر نے سر اٹھا کر اسے دیکھا چند لمحے اسے دیکھنے کے بعد وہ بڑے عجیب سے انداز میں مسکرایا ”اور تمہارے اس غور و خوض نے تمہیں یہ بتایا ہے کہ این جی اوز وہ آسمانی معجزہ ہیں جو اس ملک میں بہت پہلے ہوجانا چاہیے تھا۔”
علیزہ کو اس کے لہجے میں چھپا تمسخر برا لگا تھا۔”میں نے یہ نہیں کہا کہ این جی اوز کوئی آسمانی معجزہ ہیں۔ میں صرف یہ کہہ رہی ہوں کہ اس علاقے کے لوگ ان این جی اوز پر اعتبارکرتے ہیں کیونکہ وہ محسوس کرتے ہیں کہ یہ لوگ ان کے علاقے میں تبدیلیاں لا رہے ہیں۔ اور ان کے کام کر رہے ہیں۔”
”کن لوگوں کی بات کر رہی ہو تم؟” اس کا لہجہ یک دم سرد ہوگیا تھا۔ ” ان لوگوں کی جن کے پاس تعلیم اور شعور نام کی کوئی چیز نہیں ہے، سہولیات اور ذہنیت کے اعتبار سے اس ملک کی سب سے پسماندہ کلاس جو دیہات میں بستی ہے جس کی سوچ غلامانہ تھی، ہے اور رہے گی۔ جن پر پہلے نواب اور مہاراجہ حکومت کرتے تھے پھر جاگیردار اور رئیس اور اب این جی اوز… اور تمہارا خیال ہے کہ سب کچھ بدل گیا ہے۔ کل تک گالیاں اور دھکوں کو مہربانی سمجھ کر مسکرانے والے لوگ اتنے باشعور ہوگئے کہ ان میں اچھے اور برے کی پہچان آگئی ہے؟”
۔۔۔
”ان لوگوں میں شعور آرہا ہے۔ وہاں تعلیم کا ریشو بھی زیادہ ہو رہا ہے۔” علیزہ نے دھیمے لہجے میں کہا۔
”تعلیم اور شعور کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ہوتا علیزہ بی بی… اگر ایسا ہوتا تو آج تک کسی تعلیم یافتہ شخص نے کوئی جرم نہ کیا ہوتا۔” اس کا لہجہ اب بھی کھردرا تھا۔
”مگر وہاں کے لوگ واقعی بدل رہے ہیں اگر این جی اوز یہ دعویٰ کرتی ہیں کہ انہوں نے وہاں اصلاحات کی ہیں تو وہ غلط نہیں کہتیں وہاں لوگ واقعی ایک بدلے ہوئے ماحول میں زندگی گزار رہے ہیں اور وہاں کے لوگ این جی اوز کے بارے میں بہت اچھی رائے رکھتے ہیں۔” علیزہ نے اپنی بات پر زور دیتے ہوئے کہا۔
عمر استہزائیہ انداز میں ہنسا ”وہاں کے لوگ تو غیرت کے نام پر ہونے والے قتل کے بارے میں بھی بہت اچھی رائے رکھتے ہیں پھر کیا تم یہ سوچنا شروع کردو گی کہ یہ بھی ٹھیک ہوتا ہے؟”
علیزہ کچھ دیر بات نہیں کرسکی۔
”بہتر ہوتا تم این جی اوز سے کہہ کر وہاں کے تھانوں کا ریکارڈ بھی چیک کرلیتیں، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، ڈسکہ اور اردگرد کا علاقہ خاندانی دشمنیوں کیلئے بھی خاصا مشہور ہے اور یہ نسل درنسل چلی آتی ہیں، تب تک جب تک مخالف کا پورا خاندان نہ ختم ہوجائے اور یہ لوگ ایک دو قتل نہیں کرتے، یہ چھ چھ، سات سات لوگوں کو اکٹھا مروا دیتے ہیں اور کوئی مہینہ ایسا نہیں ہوتا جب اس علاقے میں ایسا کوئی واقعہ نہ ہو۔ اب بقول آپ کے اگر این جی اوز نے واقعی ان لوگوں کی سوچ میں تبدیلی کردی ہے تو سب سے پہلے تو ان لوگوں کے رویوں میں تبدیلی ہونی چاہیے۔”
وہ اب سلاد کھا رہا تھا۔ علیزہ اس کی باتوں پر خفت محسوس کر رہی تھی۔
”جو لوگ ایک گائے بھینس چرائے جانے پر مخالف کے گھر کی عورت اٹھالیتے ہیں۔ رات کو کھیتوں کی رکھوالی کرنے والے کتے کے مارے جانے پر مخالف کی تیار فصلوں کو آگ لگا دیتے ہیں، کھیت کا پانی روکے جانے پر کسی کو بھی قتل کرنا جائز سمجھتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی این جی اوز کے بارے میں اچھی رائے کس حد تک قابل اعتبار ہوسکتی ہے یا اسے کتنی اہمیت دینی چاہیے یہ کافی قابل غور ہے۔”
”ہر تبدیلی لانے میں وقت لگتا ہے، این جی اوز کو بھی وقت لگے گا مگر یہ سب چیزیں ختم ہوجائیں گی۔” علیزہ کی رائے ابھی بھی تبدیل نہیں ہوئی تھی۔
اور ایسا کبھی نہیں ہوگا۔ کم از کم این جی اوز یہ کام نہیں کرپائیں گی کیونکہ وہ یہ کام کرنے نہیں آئی ہیں۔” عمر کا لہجہ بہت مستحکم تھا۔
”ہوسکتا ہے این جی اوز میں کچھ لوگ خراب ہوں یا کہہ لیں کہ چند این جی اوز خراب ہوں مگر سب این جی اوز تو اس طرح کی نہیں ہیں۔ کوئی بھی پرفیکٹ نہیں ہوتا این جی اوز بھی نہیں ہوسکتیں۔ مجھے حیرت ہوتی ہے کہ ہم انہیں پرفیکٹ دیکھنا کیوں چاہتے ہیں؟” وہ اس بار کچھ زچ ہو کر بولی۔
”اس لیے کہ وہ تبدیلی لانے کے دعوے کر رہی ہیں۔” عمر کا اطمینان برقرار تھا۔
”آپ این جی اوز کے اتنے خلاف کیوں ہیں؟” اس بار علیزہ نے کچھ ناراضی سے اس سے پوچھا۔
”تم سے کس نے کہا کہ میں این جی اوز کے خلاف ہوں؟” عمر نے اتنی ہی بے ساختگی اور سکون سے کہا۔ علیزہ حیران ہوئی۔
”کیا مطلب…؟ یہ سب کچھ جو آپ کہہ رہے ہیں، یہ کیا ہے؟”
”حقائق۔” وہ اب بھی اسی طرح مسکرا رہا تھا۔
”اچھا فرض کریں اگر یہی حقائق ہیں تو یہ سب کچھ جاننے کے بعد آپ این جی اوز کے خلاف نہیں ہیں؟”
”نہیں بالکل نہیں۔” علیزہ منہ کھولے بے یقینی سے اسے دیکھتی رہی، میز کے دوسری طرف بیٹھے ہوئے شخص کو سمجھنا اس وقت دنیا کا سب سے مشکل کام لگ رہا تھا۔
”یہ کیا بات ہوئی؟ اس کا مطلب ہے آپ این جی اوز کو پسند کرتے ہیں؟” وہ الجھ گئی تھی۔
”میں نے یہ بھی نہیں کہا۔”
”نہ آپ این جی اوز کو پسند کرتے ہیں نہ آپ انہیں ناپسند کرتے ہیں، مگر آپ ان کے بارے میں اچھی رائے بھی نہیں رکھتے۔یہ کیا تضاد ہے۔”
عمر نے اس کے لہجے میں جھلکنے والی خفگی کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنی پلیٹ میں ایک کباب نکال لیا۔ ”ہے تو؟” اس نے کمال بے نیازی سے کباب کھاتے ہوئے کہا۔
علیزہ ایک بار پھر اسے دیکھنے لگی۔ ”آپ پولیس سروس جوائن کر رہے ہیں، فرض کریں آپ کے علاقے میں کوئی این جی او کام کر رہی ہوگی، تو آپ کیا کریں گے؟”
”کچھ بھی نہیں۔”
”اور اگر اس این جی او نے اس علاقے میں پولیس کی طرف سے ہونے والی زیادتیوں کے خلاف کام کرنا شروع کردیا تو پھر آپ کیا کریں گے؟”
”میں اس علاقے سے اسے اٹھا کر باہر پھینک دوں گا۔”
اس نے بے تاثر چہرے اور آواز کے ساتھ کہا، اور پانی کا گلاس اٹھالیا۔ علیزہ بے یقینی سے اس کا چہرہ دیکھتی رہی۔
”اس کے باوجود کہ وہ ایک صحیح کام کر رہے ہوں گے؟”
”علیزہ! اس کیکٹس کو دیکھو۔” عمر نے پانی کا گلاس رکھتے ہی ڈائننگ ٹیبل سے کچھ فاصلے پر ایک کونے میں پڑے ہوئے کیکٹس کی طرف اشارہ کیا ”فرض کرو میں بازار میں ایک پودا خریدنے جاتا ہوں اور وہاں صرف یہی ایک پودا ہے اور کوئی پودا نہیں ہے۔ میں نہ اس کے نام کو جانتا ہوں نہ مجھے یہ پتا ہے کہ یہ پھول دار ہے یا نہیں یا کتنا عرصہ چل سکتا ہے مگر مجھے ایک پودے کی ضرورت ہے تو میں اسے خرید لاؤں گا۔ پھر اسے یہاں ڈائننگ روم میں رکھ دوں گا یہ جاننے کے باوجود کہ اس پر کانٹے ہیں یہ یہاں پر اس وقت تک پڑا رہے گا جب تک اس کے کانٹے میرے لیے کسی تکلیف کا باعث نہیں بنتے جس دن اس کے کانٹوں سے کسی کو زخم لگایا کسی کے کپڑے پھٹے اس دن اس کیکٹس کو یہاں سے ہٹا دیا جائے گا میں ہوں یا تم ہر ایک یہی کرے گا۔ کوئی بھی دوبارہ زخم لگنے یا کپڑے پھٹنے کا انتظار نہیں کرے گا۔”
وہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کہہ رہا تھا۔
۔۔۔۔
”مگر میں کبھی کیکٹس نہیں ہٹاؤں گی، میں اس کے کانٹے ختم کردوں گی۔”
وہ بے اختیار اس کی بات پر مسکرایا but i always play safe. میں کانٹوں کے دوبارہ اگنے کا رسک نہیں لے سکتا۔”
”صرف اس لیے کہ آپ کے اپنے ہاتھ زخمی ہوں گے کپڑے پھٹیں گے، ہے نا؟ آپ جو این جی اوز کے بارے میں اس طرح کی باتیں کر رہے ہیں وہ صرف اسی لیے ہیں کیونکہ شاید اس کلاس کو ان این جی اوز سے خطرہ ہے جس سے آپ تعلق رکھتے ہیں۔”
عمر اس کی بات پر چونکا ”تمہار اشارہ کس کلاس کی طرف ہے، بیورو کریسی کی طرف یا ایلیٹ کلاس کی طرف؟”
”دونوں کی طرف۔” اس کی آواز مدھم تھی عمر مسکرایا۔
”تم بھی اس کلاس کا حصہ ہو، بیورو کریٹ نہ سہی ایلیٹ تو ہو۔”
”ہاں حصہ ہوں مگر اچھی چیز کو اچھا کہوں گی۔ برا نہیں کہوں گی۔ چاہے وہ میرے لیے نقصان دہ ہی کیوں نہ ہو۔”
”تمہارا خیال ہے کہ این جی اوز بیورو کریسی یا ایلیٹ کلاس کو کوئی نقصان پہنچا رہی ہیں یا آئندہ کبھی پہنچا سکتی ہیں؟”
”ہاں ایسا ہی ہے یہ اس طبقے کے مفادات کیلئے کام کر رہی ہیں جنہیں ہماری وجہ سے بہت پرابلمز کا سامنا ہے۔”
”آپ اگر ایسا سوچ رہی ہیں تو ایک بار پھر غلط سوچ رہی ہیں۔ کوئی این جی او بیورو کریسی کو نقصان پہنچا سکی ہے نہ ایلیٹ کلاس کو… کیونکہ ہر این جی او ایلیٹ کلاس ہی بناتی ہے۔ بڑے بڑے بیورو کریٹس کی بیگمات… سیاستدانوں کی بیویاں، صنعت کاروں کی بیویاں کیا تم نے کبھی کوئی ایسی این جی او دیکھی ہے جسے لوئر مڈل کا کوئی مرد یا عورت چلا رہا ہو، یا کسی اسکول کا ٹیچر کسی کسان کی بیوی کوئی مزدور اس کی بیوی… نہیں تم ایسا کبھی نہیں دیکھو گی اور تمہارا خیال ہے کہ بیورو کریٹس کی بیویاں بیورو کریسی کے خلاف کام کریں گی۔ صنعت کاروں کی بیویاں انڈسٹریلسٹ کلاس کے مفادات کے خلاف کام کریں گی اور سیاستدانوں کی بیویاں اپنے شوہروں کی دھاندلیوں کے خلاف لوئر مڈل کلاس کو اکسا کر انقلاب لے آئیں گی۔ بہت بچگانہ سوچ ہے تمہاری تمہیں بہت کچھ سیکھنا ہے ابھی۔” وہ جیسے اپنی باتوں سے خود ہی محظوظ ہو رہا تھا۔
”میں تو بالکل خوفزدہ نہیں ہوں کسی این جی او سے بلکہ اگر کبھی میں نے شادی کی… تو میں بھی اپنی بیوی سے کہوں گا کہ وہ ایک این جی او بنائے ہم بھی کچھ گرانٹس وغیرہ لے کر کہیں پلازے وغیرہ بنائیں گے۔ فری میں باہر سیمینار میں جاکر پیپرز پڑھے جائیں گے شہرت ملے گی دولت ہوگی اثر و رسوخ بڑھے گا۔ سیرو تفریح کے مواقع ملتے رہیں گے پھر کل کو بچوں کی بیرون ملک تعلیم کا کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔ وہ بھی عیش کریں گے۔”
عمر کی سنجیدگی یک دم ختم ہوگئی تھی اب وہ جیسے علیزہ کو چڑا رہا تھا۔
”اور تم… علیزہ تم بھی ٹھیک ہوجاؤ گی۔ اگر تمہاری شادی بھی کسی بیورو کریٹ سے ہوئی، پھر تم بھی ایسی ہی کسی فراڈ این جی او کی روح رواں ہوگی۔ ہر تیسرے دن پریس کانفرنس کر رہی ہوگی۔ سڑک پر جاکر جلوس بھی نکالا کرو گی۔ مختلف کاز کیلئے واکس ارینج کروایا کرو گی بیرون ملک کے چکر پر چکر لگیں گے اور پھر اگر کہیں دس سال بعد یہیں اسی ٹیبل پر میری تم سے اور تمہارے شوہر سے ملاقات ہوگی تو تم اسٹائلش سی ساڑھی پہنے… ڈائمنڈز سے لدی ہوئی میری طرح مینرل واٹر کی بوتل سے پانی پیتے ہوئے مجھے بتا رہی ہوں گی کہ تمہاری این جی او صاف پانی کی سپلائی کیلئے کس قدر محنت کر رہی ہے اور تمہارا شوہر تمہاری باتوں پر مسکرا مسکرا کر مجھے بتا رہا ہوگا کہ اسے تم جیسی ٹیلنٹڈ بیوی ملی ہے۔ کیوں گرینی؟”
نانو عمر کی بات پر مسکرائی تھیں، علیزہ کا چہرہ یکدم سرخ ہوا پھر اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے… وہ یکدم اپنی کرسی سے کھڑی ہوگئی۔
”ایسا کبھی نہیں ہوگا۔۔۔” اس نے بلند آواز میں کہا۔
اور پھر ایک چھپاکے کے ساتھ ڈائننگ روم سے نکل گئی، عمر اور نانو کے چہرے کی مسکراہٹ یک دم غائب ہوگئی۔
”علیزہ ناراض ہوگئی ہے، میں دیکھتا ہوں۔” عمر نے کچھ معذرت خواہانہ انداز میں نانو سے کہا اور ڈائننگ ٹیبل سے اٹھ گیا۔
اس کے کمرے کے دروازے پر دستک دیتے ہوئے وہ کچھ شرمندگی محسوس کر رہا تھا۔ اسے اندازہ نہیں تھا کہ وہ اتنی چھوٹی سی بات پر اس طرح رونا شروع کردے گی۔
دروازے پر ایک بار دستک دینے کے بعد وہ دروازہ کھول کر اندر داخل ہوگیا۔ وہ دونوں ہاتھوں سے چہرہ چھپائے صوفہ پر بیٹھی ہوئی تھی۔ دروازہ کھلنے پر اس نے ہاتھ ہٹا کر دیکھا تھا اور عمر کو دیکھتے ہی وہ آگ بگولہ ہوگئی۔
”اب آپ یہاں کیوں آئے ہیں؟” گالوں پر بہتے آنسوؤں اور سرخ چہرے کے ساتھ اس نے عمر سے پوچھا۔
”کم آن علیزہ! میں مذاق کر رہا تھا۔” عمر نے دروازہ بند کرتے ہوئے جیسے اسے بہلاتے ہوئے کہا۔
”آپ کیلئے ہر چیز مذاق کیوں ہے؟” عمر نے اسے پہلی بار اس موڈ میں دیکھا تھا۔ ”اور میری ہر بات ہی مذاق کیوں ہے… آپ مجھے کیا سمجھتے ہیں؟”
”یار! اتنا غصہ۔۔۔” عمر نے مسکراتے ہوئے اسے ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی۔
۔۔۔۔
”آپ کو میرا مذاق اڑانے کا کیا حق پہنچتاہے؟” وہ اس کی کوشش سے متاثر نہیں ہوئی۔ ”آپ کو اپنے علاوہ دوسروں کی ہر بات مذاق لگتی ہے۔ کیا آپ یہ پسند کریں گے کہ میں بھی مذاق میں آپ کے بارے میں ایسی باتیں کروں جیسی آپ کرتے ہیں۔” وہ تیز آواز میں روتے ہوئے کہہ رہی تھی۔
”میں ایکسکیوز کرتا ہوں۔ میں نے جو بھی کہا غلط کہا۔ میں ایکسکیوز کرنے ہی یہاں آیاہوں۔” عمر نے ایک دم دونوں ہاتھ اٹھا کر اس سے کہا۔
وہ اب بھی بولتی رہی ”آپ مجھ سے کہتے ہیں کہ میں اپنی sense of judgement استعمال کر کے اپنی رائے بناؤں اور جب میں ایسا کرتی ہوں تو آپ مجھ پر ہنستے ہیں۔ میرا مذاق اڑاتے ہیں۔ آپ کے نزدیک دنیا میں آپ کے علاوہ کوئی دوسرا صحیح رائے رکھنے کے قابل ہی نہیں ہے۔”
”علیزہ! میں نے ایسا نہیں کہا۔ میں تمہیں ہرٹ کرنا نہیں چاہتا تھا۔ میں نے بغیر سوچے سمجھے ہی ایک بات کہی۔” عمر بالکل مدافعانہ رویہ اختیار کیے ہوئے تھا مگر علیزہ اس کی بات سنے بغیر بول رہی تھی۔
”میں نے این جی اوز کے بارے میں جو کچھ کہا ٹھیک کہا۔ میں نے جو دیکھا، جو محسوس کیا وہی بتایا۔ میں نے آپ کی رائے کا مذاق نہیں اڑایا۔ میں نے آپ کی ہر بات سنی مگر آپ… آپ میری باتوں کا مذاق اڑا رہے ہیں۔
آپ مجھے کیا سمجھتے ہیں… ایڈیٹ؟”
عمر کے چہرے سے اب مسکراہٹ بالکل غائب ہوچکی تھی۔
”آپ کو لگتا ہے، دنیا میں آپ کے علاوہ اور کوئی جینئس نہیں ہے۔”
”میں نے ایسا نہیں کہا۔”
”آپ کو لگتا ہے کہ آپ کے علاوہ کسی کے پاس sense of judgement (پرکھنے کی صلاحیت) ہی نہیں ہے۔”
”تم اس وقت غصے میں ہو، تمہیں پتا نہیں، تم کیا کہہ رہی ہو۔ میں تم سے بعد میں بات کروں گا۔”
عمر یکدم پلٹ گیا مگر علیزہ بجلی کی رفتار سے اس کے راستے میں آگئی۔
”نہیں! آپ میری بات سنیں، اس کے بعد جائیں۔”
”میری ایک چھوٹی سی بات پر اتنا مشتعل ہونے کی ضرورت نہیں تھی۔” عمر نے سنجیدگی سے کہا۔
”مجھے آپ کی کسی بات پر مشتعل نہیں ہونا چاہیے۔ کیونکہ آپ کو ہر بات کہنے کا حق ہے لیکن مجھے کچھ بھی کہنے کا حق نہیں ہے۔”
”تم بہت کچھ کہہ رہی ہو علیزہ! اور میں سن بھی رہا ہوں۔ اس کے باوجود کہ تمہارا رویہ بہت انسلٹنگ ہے۔”
”میں نے آپ سے کیا کہا ہے؟ میں نے تو کچھ بھی نہیں کہا۔ جو کچھ آپ مجھ سے کہہ چکے ہیں، اس کے سامنے تو یہ کچھ بھی نہیں ہے۔” وہ اب بھی اسی طرح برہم تھی۔
”میں اپنی بات کیلئے ایکسکیوز کر چکا ہوں۔”
”آپ ہمیشہ یہی کرتے ہیں۔ انسلٹ کرتے ہیں۔ پھر انسلٹ کرتے ہیں اور ایسا بار بار کرتے رہتے ہیں۔”
علیزہ! تم غلط کہہ رہی ہو۔” عمر حتی الامکان اپنے لہجے کو نارمل رکھ رہا تھا۔
”میں غلط نہیں کہہ رہی ہوں۔ آپ نے اس دن بھی میری انسلٹ کی تھی جب انکل جہانگیر کے ساتھ آپ کا جھگڑا ہوا۔”
عمر کے چہرے کے تاثرات یکدم تبدیل ہوگئے۔ ”وہ تمہاری غلطی تھی، تم میرے کمرے میں اس طرح کیوں آئی تھی۔” اس نے سرد آواز میں علیزہ سے کہا۔
”نہیں آپ کو اس بات پر غصہ نہیں آیا کہ میں آپ کے کمرے میں اس طرح کیوں آئی تھی۔ آپ کو غصہ اس بات پر آیا تھا کہ میں یہ بات جان گئی ہوں کہ آپ ڈرنک کرتے ہیں۔”
”تمہیں پتہ چل گیا تو کیا فرق پڑتا ہے اور تم ہو کون جس کو یہ پتا چلنے سے مجھے کوئی فکر ہوگی۔” اس کی آواز میں اب تلخی تھی۔
”میں نے نانو کو نہیں بتایا کہ آپ ڈرنک کرتے ہیں۔ اگر میں نانو کو بتا دیتی تو۔۔۔”
عمر اس کی بات پر یکدم بھڑک اٹھا۔ ” تو پھر… پھر کیا ہوتا؟ وہ مجھے شوٹ کردیتیں یا اس گھر سے نکال دیتیں۔ تم جس کو چاہو بتاؤ مجھے کوئی پروا نہیں، اس گھر کا کون سا مرد شراب نہیں پیتا۔ وہ خود گرینڈ پا کو ڈرنک کرتے دیکھتی رہی ہیں۔ وہ کس منہ سے مجھ سے اس بارے میں بات کرسکتی ہیں۔”
علیزہ جیسے رونا بھول گئی۔ ”آپ کو شرم آنی چاہیے۔ اس طرح کی بات کرتے ہوئے۔”
”مائینڈ یور لینگویج علیزہ ! تم کافی بکواس کرچکی ہو اور میں سن چکا ہوں۔ اب اپنا منہ بند کرلو تو بہتر ہے۔”
‘مجھے آپ سے نفرت ہے۔ آپ دنیا کے سب سے گندے اور بدتمیز آدمی ہیں۔”
وہ بلند آواز میں چلائی۔ جواباً عمر نے اس کے چہرے پر زناٹے دار تھپڑ مارا تھا۔ علیزہ گال پر ہاتھ رکھے بالکل ساکت رہ گئی تھی۔ دنیا میں آخری چیز جو وہ کسی سے توقع کرسکتی تھی، وہ عمر کا خود پر ہاتھ اٹھانا تھا۔ وہ پلکیں جھپکے بغیر بے یقینی کے عالم میں اس کا چہرہ دیکھتی رہی۔
”مجھے اپنے بارے میں کسی شخص کے تبصرے کی ضرورت نہیں ہے۔” اس نے انگلی اٹھا کر کہا اور پھر وہ تیزقدموں کے ساتھ رکے بغیر کمرے سے نکل گیا۔


جاری ہے۔۔۔