Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 30

امربیل از عمیرہاحمد
۔۔۔۔
قسط نمبر 30
۔۔۔۔۔
باب 31

”لئیق انکل! میں آپ سے صرف ایک بات پوچھ رہا ہوں۔ کیا پاپا نے واقعی مجھے آپ کے پاس انٹرویو اور سائیکالوجیکل ٹیسٹ کیلئے بھیجا ہے۔”
اس رات وہ بڑی سنجیدگی کے ساتھ انکل کی اسٹڈی میں ان سے پوچھ رہا تھا۔
”تمہارا کیا خیال ہے؟” انہوں نے جواب دینے کے بجائے براہ راست اس سے سوال کیا۔
”آپ میرے خیال کو چھوڑیں کیونکہ میرا خیال جان کر آپ کو کچھ زیادہ خوشی نہیں ہوگی۔ آپ صرف میرے سوال کا جواب دیں۔۔۔” اس کے لہجے میں اضطراب تھا۔
”ہاں! ٹیسٹ کی تیاری کیلئے ہی بھیجا ہے۔” لئیق انکل دوبارہ اس فائل کو دیکھنے میں مصروف ہوگئے جو ان کے سامنے میز پر کھلی پڑی تھی۔
”یہ سفید جھوٹ ہے۔” اس نے بڑی بے خوفی سے تبصرہ کیا۔
لئیق انکل نے فائل بند کردی۔ ”مجھے سفید یا سیاہ کوئی بھی جھوٹ بولنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ میں تم سے خوف زدہ تو نہیں ہوں کہ تم سے جھوٹ بولوں گا۔” وہ عمر کو گھورنے لگے۔
”مجھ سے خوف زدہ نہیں ہیں مگر پاپا سے ہیں۔”
”تم آخر مجھ سے کیا اگلوانا چاہتے ہو؟” وہ یکدم جیسے تنگ آگئے۔
”صرف یہ کہ آپ مجھے یہاں رکھ کر پاپا کیلئے کون سی سروسز فراہم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔”
”میں کسی قسم کی کوئی سروس فراہم نہیں کر رہا۔”
”تو پھر کیا کر رہے ہیں؟”
”تمہیں جہانگیر نے یہاں صرف ٹیسٹ کی تیاری کیلئے بھجوایا ہے۔” انہوں نے بڑے مستحکم لہجے میں کہا۔
”پھر آپ مجھے اتنے فنکشنز میں کیوں لے جارہے ہیں؟” اس کا لہجہ چبھتا ہواتھا۔
لئیق انکل کچھ دیر خاموشی سے جواب دیئے بغیر اس کا چہرہ دیکھتے رہے۔
عمر نے بات جاری رکھی ”اور ان فنکشنز میں تین چار فیملیز سے بار بار کیوں ملوا رہے ہیں مجھے… میں اسے اتفاق تو نہیں سمجھ سکتا کیونکہ ان فیملیز کا رویہ۔۔۔”
لئیق انکل نے یکدم اس کی بات کاٹ دی ”تمہارا کیا خیال ہے، میں ایسا کس لیے کر رہا ہوں؟”
”کیا مجھے یہ بتانے کی ضرورت ہے؟” عمر نے سنجیدگی سے انہیں دیکھتے ہوئے کہا۔
”ہاں! بالکل ہے۔”
”وہ فیملیز مجھے جس طرح پرکھ رہی ہیں، اس سے تو صرف یہی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ مجھ سے شناسائی بڑھانا چاہتی ہیں۔ کچھ روابط… اور پھر شاید رشتے بھی۔” اس نے اپنے لفظوں پر زور دیتے ہوئے کہا۔
”اور تم کسی رشتے سے اتنے خوفزدہ کیوں ہو؟” اس بار لئیق انکل کے چہرے پر ایک مسکراہٹ تھی۔
”یعنی میرا اندازہ ٹھیک ہے۔” عمران کی مسکراہٹ سے متاثر نہیں ہوا۔
میں نے تم سے پوچھا ہے کہ تم کسی رشتے سے اتنے خوفزدہ کیوں ہو؟”
”میں خوفزدہ نہیں ہوں۔” اس بار وہ کچھ اکھڑ انداز میں بولا۔
”اگر خوفزدہ نہیں ہو تو پھر اتنی نارمل چیز پر اتنا اعتراض کیوں ہے تمہیں؟”
”کس نارمل چیز پر؟”
”شادی پر”۔
”میں اپنی شادی کے بارے میں کوئی بات نہیں کرنا چاہتا۔” عمر نے دوٹوک انداز میں کہا۔
”تم 26 سال کے ہو اب تمہاری شادی یا منگنی وغیرہ ہوجانی چاہیے۔”
”لئیق انکل! یہ آپ کا مسئلہ نہیں ہے، میرا ہے اور میرے مسئلے میں خود ہی ہینڈل کروں تو بہتر ہے۔” وہ اس بار خاصی بےرخی سے بولا۔
”زندگی میں چانسز سے فائدہ اٹھانا سیکھو۔ تم جانتے ہو آج کل کون کون سی فیملیز تم میں انٹرسٹڈ ہیں۔ جہانگیر معاذ کے بیٹے سے رشتہ کسی بھی فیملی کیلئے اعزاز کی بات ہے۔”
”مگر میں کسی آکشن کا حصہ بننا نہیں چاہتا… نہ ان فیملیز میں مجھے کوئی دلچسپی ہے… میری زندگی جس طرح گزر رہی ہے، میں اسے اسی طرح گزارنا چاہتا ہوں۔”
”ان فیملیز سے جڑنے والا ایک رشتہ تمہیں کہاں سے کہاں لے جاسکتا ہے۔ کبھی تم نے اس کے بارے میں سوچا ہے؟”
”آپ میرے سامنے پاپا کی فلاسفی پیش نہ کریں۔ میں ان کے طریقے سے زندگی گزارنے پر یقین نہیں رکھتا۔ وہ ایک کامیاب بیوروکریٹ ضرور ہوں گے مگر ایک برے بیٹے، برے بھائی، برے شوہر اور برے باپ بھی ہیں اور اب وہ یہ رول میرے سرتھوپ دینا چاہتے ہیں۔” اس نے خاصی صاف گوئی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا۔
”تم جہانگیر سے بہت زیادتی کرجاتے ہو۔”
”نہیں! پاپا سے کوئی برے سے برا سلوک بھی زیادتی نہیں کہلا سکتا۔ وہ اس سب کے مستحق ہیں۔” اس نے تندی سے کہا۔
”عمر! ہم جس سوسائٹی کا حصہ ہیں وہاں آگے بڑھنے کیلئے ایک ایک قدم بڑی احتیاط سے اٹھانا پڑتا ہے، سوچنا پڑتا ہے کہ ہمارا کیا جانے والا ہر فیصلہ ہمارے لیے کتنا فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے۔ تم جہانگیر سے ناراض ہوسکتے ہو مگر تم اس کے خلوص پر شبہ نہیں کرسکتے۔ وہ شخص واقعی چاہتا ہے کہ تم زندگی میں کامیابی کی سیڑھیاں بہت تیزی سے پھلانگو اور وہ کچھ بھی غلط نہیں کر رہا۔ یہاں سب یہی کرتے ہیں۔ میں نے بھی عرفان کی منگنی اسی طرح کی، ایک بڑی فیملی میں کی تھی۔ اب دیکھو عیش کر رہا ہے وہ سسرال والوں کی وجہ سے۔ جو پوسٹنگ اسے دوسرے سال مل گئی ہے، اس کو پانے کیلئے لوگ دس دس سال جھک مارتے رہتے ہیں۔” لئیق انکل نے اپنے سول سرونٹ بیٹے کا حوالہ دیا۔
”مگر میں شادی کرنا ہی نہیں چاہتا۔” وہ کچھ تنگ آگیا۔
”کیوں؟”
”بس میرا دل نہیں چاہتا۔”
”جہانگیر اور زارا کی ڈایؤورس کی وجہ سے؟”
”آپ جو چاہیں سمجھ لیں۔”
”ضروری تو نہیں ہے کہ اگر پیرنٹس کی شادی ناکام رہے تو بچوں کی بھی اتنی ہی ناکام رہے۔”
”مجھے پیرنٹس کی شادی کی ناکامی سے کوئی غرض نہیں ہے۔ میں بس اپنے کندھوں پر کوئی ذمہ داری لادنا نہیں چاہتا اور شادی جیسا احمقانہ کام کم از کم اس عمر میں، میں افورڈ نہیں کرسکتا بلکہ شاید کسی بھی عمر میں… اور ہاں! میں کل واپس جارہا ہوں۔” عمر نے بات کا موضوع بدلنے کی کوشش کی۔
لئیق انکل چونک گئے۔۔”کل؟… کیوں…؟ اتنی جلدی جانے کی کیا ضرورت ہے؟”
”اتنی جلدی تو نہیں جارہا ہوں، بہت دن ہوگئے ہیں۔ ویسے بھی اب یہاں میرا کوئی کام نہیں ہے۔”
”تم نے جہانگیر کو بتا دیا ہے۔”
”آپ ان کو بتا دیں میں بتانا نہیں چاہتا۔ میں دوبارہ ان سے کوئی جھگڑا نہیں کرنا چاہتا۔” اس نے بڑی لاپروائی سے کہا۔
”سائیکالوجسٹ سے ملوانا چاہتے تھے وہ مجھے… میں مل چکا ہوں… دوسرے ضروری کام بھی کرچکا ہوں… اب صرف فنکشنز اٹینڈ کرنے کیلئے تو یہاں نہیں رہ سکتا۔”
”چلو ٹھیک ہے۔ فنکشنز اٹینڈ مت کرو… ویسے ہی رہو، چند دن تک ثمرین بھابھی بھی اسلام آباد آرہی ہیں۔ ان کے آنے تک تو تمہیں یہاں رہنا چاہیے۔” لئیق انکل نے اسے اطلاع دی۔
”کیوں ان کے آنے تک میں کیوں یہاں رہوں۔ میرا ان سے ملنا ضروری نہیں ہے۔ جب میں ان کے ساتھ ان کے گھر پر رہا کرتا تھا یا ہاسٹل سے چھٹیاں گزارنے گھر آتا تھا تو انہوں نے کبھی گھر پر میرا انتظار نہیں کیا۔ پھر اب ان کے ساتھ ایسی کون سی ٹریجڈی ہوگئی ہے کہ میں ان کا انتظار کروں۔ وہ پاپا کی زندگی میں خود بھی دوسری بیوی بن کر آئی تھیں۔ پھر اب اگر کوئی تیسری بیوی آگئی ہے تو کون سی قیامت آگئی ہے… برداشت کریں… جیسے دوسرے بہت سے لوگوں نے انہیں برداشت کیا تھا۔ ویسے بھی وہ تو پاپا کو آئیڈیل مین کہا کرتی تھیں، پھر ان جیسا perfectionist اب انہیں اپنی زندگی کے جس حصے میں رکھنا چاہ رہا ہے وہ چپ کر کے رہیں۔ اتنا شور کرنے کی کیا ضرورت ہے۔’ ‘اس کے لہجے میں تلخی تھی۔
”عمر! تم اب جاؤ… مجھے ان فائلز کو دیکھنا ہے۔”
لئیق انکل نے اس کی بات کے جواب میں کچھ کہنے کے بجائے بڑی سردمہری سے سامنے پڑی فائل پر نظریں جمالیں۔
”ٹھیک ہے! میں جارہا ہوں۔ صبح کی فلائٹ سے میں لاہور چلا جاؤں گا۔ پاپا سے آپ کی بات ہو تو ان کو بتادیں۔”وہ کہتا ہوا کمرے سے نکل گیا۔
٭٭٭
علیزہ لاؤنج میں داخل ہوتے ہی ٹھٹھک گئی۔ عمر، نانو کے ساتھ صوفہ پر بیٹھا خوش گپیوں میں مصروف تھا۔ علیزہ کو دیکھ کر وہ مسکرایا۔
”ہیلو علیزہ! میں تمہارا ہی انتظار کر رہا تھا۔”
”آپ کب آئے؟” وہ کندھے سے اپنا بیگ اتارتے ہوئے کچھ آگے بڑھ آئی۔
”صبح آیا تھا۔ تم تب کالج جاچکی تھیں۔” عمر نے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔
”بالوں کا نیا اسٹائل۔” عمر نے ستائشی انداز میں اس کے کندھوں پر جھولتے بالوں کو دیکھتے ہوئے کہا۔ وہ یکدم کچھ گڑبڑا گئی۔
”یار! یہ ہیرکٹ بہت سوٹ کر رہا ہے تمہیں۔” وہ کچھ بول نہیں سکی۔
”کیوں گرینی؟” اب وہ نانو سے پوچھ رہا تھا۔ انہوں نے مسکرا کر سرہلایا۔
”میں کپڑے چینج کر کے آتی ہوں۔”
وہ یکدم بیگ پکڑ کر کھڑی ہوگئی۔ لاشعوری طور پر وہ نروس ہونے لگی تھی۔
عمر نے لاؤنج سے نکلتے ہوئے اسے غور سے دیکھا۔ پھر وہ نانو کے ساتھ دوبارہ باتوں میں مصروف ہوگیا۔
علیزہ کچھ پریشان ہو کر اپنے کمرے میں آئی تھی۔ عمر کے اسلام آباد جاتے ہوئے وہ جتنی اداس اور پریشان تھی اس کی واپسی نے بھی اسے اتنا ہی پریشان کر دیا تھا۔ اسے عمر کا یکدم واپس آجانا اچھا نہیں لگا۔ نانو اور نانا سے پچھلے چند ہفتوں سے جاری اپنی سرگرمیاں چھپانا آسان تھا مگر عمر سے… وہ کچھ دیر پریشانی کے عالم میں بیڈ پر بیٹھی رہی۔ پھر خاصی بے دلی کے عالم میں اس نے کپڑے تبدیل کیے۔ آج بھی اسے برٹش کونسل میں ذوالقرنین سے ملنا تھا اور اب عمر کو دیکھ کر اسے اپنا پروگرام غارت ہوتا نظر آرہا تھا کیونکہ عمر یقیناً اس کے ساتھ گفتگوکیلئے اسے گھر پر رہنے پر مجبور کرتا۔
دوپہر کا کھانا اس نے عمر اور نانو کے ساتھ کھایا تھا۔ عمر کھانے کی میز پر مسلسل چہک رہا تھا۔ علیزہ نے اسلام آباد جاتے ہوئے اس کے چہرے پر افسردگی اور تناؤ کی جو کیفیت دیکھی تھی وہ اب یکسر مفقود تھی۔ وہ نانو کو اسلام آباد میں لئیق انکل کے گھر والوں کے حالات و واقعات سنانے میں مصروف تھا اور علیزہ یہ سوچ رہی تھی کہ وہ نانو سے اس کے سامنے برٹش کونسل جانے کی اجازت کیسے لے۔
کھانا کھانے کے بعد یکدم عمر اٹھ کر چند لمحوں کیلئے اپنے کمرے میں گیا اور علیزہ نے موقع غنیمت جانتے ہوئے نانو سے برٹش کونسل جانے کی اجازت لے لی۔ نانو نے اسے جلد واپس آنے کی تاکید کی۔
”ڈونٹ وری نانو! میں جلدی آجاؤں گی۔” وہ بہت مسرور ہو کر اپنے کمرے میں چلی گئی۔
بیگ لے کر جب وہ واپس لاؤنج میں آئی تو اس نے عمر کو ایک بار پھر نانو کے پاس پایا۔ علیزہ اسے نظر انداز کرتے ہوئے بیرونی دروازے کی طرف بڑھی تھی کہ اس نے عمر کو کھڑے ہوتے اور نانو کو اپنا نام پکارتے دیکھا۔
”علیزہ! رکو۔ عمر بھی تمہارے ساتھ جارہا ہے۔”
وہ گڑبڑا گئی ”میرے ساتھ…؟”
”ہاں، تم برٹش کونسل جارہی ہو۔ میں نے سوچا، میں بھی ایک چکر وہاں کا لگا آؤں کافی عرصہ ہوگیا۔” اس بار عمر نے اس کے قریب آتے ہوئے کہا۔ وہ چند لمحوں کیلئے کچھ بھی سمجھ نہیں پائی کہ اسے کیا کہنا چاہیے۔
”مگر مجھے تو وہاں کافی دیر رہنا ہے۔” اس نے جیسے بہانا گھڑنے کی کوشش کی۔
”کوئی بات نہیں، جتنی دیر چاہو رہنا۔ میں اپنا کام کروں گا تم اپنا کام کرنا۔”
عمر نے دوستانہ انداز میں مسکراتے ہوئے کہا۔ علیزہ یکدم پریشان ہوگئی تھی۔ اسے توقع نہیں تھی کہ عمر اس طرح اس کے ساتھ برٹش کونسل جانے کیلئے تیار ہوجائے گا۔ وہاں ذوالقرنین اس کا انتظار کر رہا تھا اور عمر کے ساتھ جاکر وہ اس سے تو نہیں مل سکتی تھی اور اسے برٹش کونسل میں ذوالقرنین سے ملنے کے علاوہ اور کوئی کام نہیں تھا۔ وہ شش و پنج کے عالم میں عمر کا منہ دیکھ رہی تھی اور عمر شاید اس کے تاثرات پر حیران تھا۔
”کیوں علیزہ! تم میرے ساتھ جانا نہیں چاہتیں۔” عمر نے فوراً اندازہ لگالیا، علیزہ یک دم گڑبڑائی۔
”نہیں، ایسی تو کوئی بات نہیں ہے… میں تو۔۔۔” اس کی سمجھ میں نہیں آیا، وہ اپنے پس و پیش کو کیا نام دے۔
”تو پھر ٹھیک ہے، چلتے ہیں۔” عمر نے اس کی بات مکمل ہونے کا انتظار کیے بغیر باہر کا رخ کیا۔
علیزہ کچھ دیر خاموشی سے اس کی پشت کو گھورتی رہی، پھر بے دلی سے اس کے پیچھے باہر پورچ میں آگئی۔
وہ اب ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر اس کیلئے فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھول رہا تھا، علیزہ کو گھبراہٹ ہونے لگی۔ وہ اب برٹش کونسل کسی صورت نہیں جانا چاہتی تھی… وہاں ذوالقرنین اسے دیکھتے ہی اس کی طرف آجاتا اور وہ عمر کے سامنے اس سے ملنا نہیں چاہتی تھی۔
۔۔
الجھے ہوئے ذہن کے ساتھ وہ دروازہ بند کرتے ہوئے سیٹ پر بیٹھ گئی۔
”تم میری غیرموجودگی میں کچھ زیادہ خوبصورت نہیں ہوگئیں علیزہ؟”
عمر نے گیٹ سے گاڑی سڑک پر لاتے ہوئے مسکرا کر کہا۔ چند لمحوں کیلئے وہ سرخ ہوئی، کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے اس نے خود پر قابو پایا۔
”کیوں علیزہ؟” وہ جواب چاہ رہا تھا۔
”پتا نہیں۔” اس نے بادل نانخواستہ کہا۔
”نہیں یار! واقعی بہت خوبصورت ہوگئی ہو… ہیرکٹ چینج ہوگیا ہے، چہرے پر بھی خاصی رونق ہے، بات کیا ہے۔ علیزہ؟” وہ شاید اسے چھیڑ رہا تھا مگر علیزہ کے ماتھے پر پسینہ نمودار ہونے لگا۔
”کیا عمر کو کوئی شک ہوگیا ہے؟” اس نے گھبرا کر سوچا۔
”مگر یہ کیسے ہوسکتا ہے؟ اسے یہاں آئے چند گھنٹے ہی تو ہوئے ہیں اور ابھی تو میری اس سے باقاعدہ بات بھی نہیں ہوئی پھر اسے ذوالقرنین کے بارے میں کچھ پتا کیسے چل سکتا ہے؟” وہ بے چین ہونے لگی۔
”نہیں، ایسا کچھ نہیں ہے… میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔” وہ اس کے مسلسل سوالوں پر زچ ہوگئی۔
”کیوں طبیعت کو کیا ہوگیا ہے؟” وہ کچھ حیران ہوا۔
”ابھی تو تم بالکل ٹھیک تھیں۔”
”پلیز آپ کچھ دیر کیلئے خاموش ہوجائیں۔” وہ یکدم بلند آواز میں بولی۔
عمر نے حیرانی سے اسے دیکھا، وہ بہت ناراض نظر آرہی تھی۔ اس کے موڈ میں اچانک ہونے والی تبدیلی اس کیلئے حیران کن تھی، علیزہ سے مزید کوئی سوال پوچھے بغیر وہ خاموشی سے گاڑی ڈرائیو کرتا رہا۔
برٹش کونسل کے اندر عمر کے ساتھ داخل ہوتے ہوئے وہ بے تحاشا گھبرائی ہوئی تھی۔
”تمہیں کون سی بکس لینی ہیں؟” عمر نے اپنے والٹ میں سے کارڈ نکالتے ہوئے کہا۔
”مجھے کوئی بکس نہیں لینی… مجھے صرف بکس دیکھنی ہیں۔” اس نے نظریں ملائے بغیر کہا۔
”اچھا بہر حال… میں برٹش ہسٹری پر ایک دو کتابیں لینا چاہ رہا ہوں۔ اب تم چاہو تو میرے ساتھ رہو یا پھر آدھ گھنٹہ تک میں exit پر آجاؤں گا۔ تم بھی تب تک وہاں آجانا۔” عمر نے پروگرام سیٹ کرتے ہوئے کہا۔
علیزہ نے فوراً سرہلادیا۔ ”ٹھیک ہے میں تب تک آجاؤں گی۔” عمر اپنے مطلوبہ سیکشن کی طرف چلا گیا۔
وہ اسے تب تک دیکھتی رہی، جب تک وہ شیلوز کے پیچھے اوجھل نہیں ہوگیا۔ اس کی گھبراہٹ میں یکدم جیسے کمی آگئی تھی۔ اسے خوشی تھی کہ وہ ایک بار پھر ذوالقرنین سے مل سکتی ہے۔
جب اسے تسلی ہوگئی کہ عمر دوبارہ کسی کام کیلئے بھی واپس اس کی طرف نہیں آئے گا تو پھر وہ اس حصے کی طرف بڑھ آئی جہاں ذوالقرنین سے اس کی ملاقات ہوتی تھی۔ ہمیشہ کی طرح ذوالقرنین وہاں موجود تھا۔
”آج پہلی بار تم دیر سے آئی ہو۔” ذوالقرنین نے اسے دیکھتے ہی گھڑی پر نظر دوڑاتے ہوئے کہا۔
”تھوڑی پرابلم ہوگئی تھی، اس لیے دیر ہوگئی۔” وہ کرسی کھینچ کر اس کے قریب بیٹھ گئی۔
”کیا پرابلم ہوگئی؟” ذوالقرنین نے استفسار کیا۔
”نانو نے میرے کزن کو میرے ساتھ بھیج دیا ہے۔” اس نے ہلکی آواز میں کہا۔
”کیا۔۔۔” ذوالقرنین یکدم گھبرایا ”کزن کو بھیج دیا ہے؟ کہاں ہے وہ؟ تم اسے یہاں کیوں لائی ہو؟”
”میں خود نہیں لائی ہوں… نانو نے زبردستی بھجوایا ہے… دراصل اسے بھی برٹش کونسل میں کوئی کام تھا… تو نانو نے اسے میرے ساتھ ہی بھجوا دیا۔” وہ بتانے لگی۔
”اب وہ کہاں ہے؟”
”وہ اپنی بکس دیکھ رہا ہے۔”
”تم نے اسے میرے بارے میں تو کچھ نہیں بتایا۔” ذوالقرنین گھبرایا ہوا تھا۔
”نہیں۔۔۔”
”تم بالکل بے وقوف ہو علیزہ…! اگر کزن ساتھ آیا تھا تو تمہیں مجھ سے ملنے نہیں آنا چاہیے تھا۔”
”مگر کیوں؟ تم میرا انتظار کرتے رہتے۔ اور پھر عمر نے کہا ہے کہ وہ آدھ گھنٹہ کے بعد مجھے ملے گا۔”
”اور اگر وہ آدھ گھنٹے سے پہلے ہی یہاں آگیا اور اس نے مجھے تمہارے ساتھ دیکھ لیا تو…؟”
”اسے کیسے پتا چلے گا کہ میں یہاں ہوں میں نے اسے بتایا ہی نہیں کہ میں کس سیکشن میں جارہی ہوں۔”
”یہ لائبریری ہے… یہاں کسی کو ڈھونڈنا کوئی مشکل کام نہیں ہے اور ضروری نہیں کہ وہ تمہیں ڈھونڈنے کیلئے ہی اس طرف آئے وہ کسی بھی کام سے ادھر آسکتا ہے۔”
”مجھے اس کا خیال نہیں آیا۔” علیزہ کچھ پریشان ہوئی۔
۔۔

”بہر حال اب میں جارہا ہوں اور تم آئندہ محتاط رہنا۔ اگر ساتھ کزن یا کوئی بھی ہو تو پھر مجھ سے ملنے کی کوشش مت کیا کرو… میں نہ خود کسی پریشانی میں پڑنا چاہتا ہوں، نہ ہی تمہیں کسی پریشانی میں ڈالنا چاہتا ہوں۔” ذوالقرنین کھڑا ہوگیا۔
”مگر پھر تم انتظار کرتے رہو گے۔”
”نہیں میں انتظار نہیں کروں گا، جب بھی تم اس طرح لیٹ ہوجاؤ گی۔ میں سمجھ جاؤں گا کہ تمہارے ساتھ کوئی دوسرا ہے اور پھر میں تمہارا انتظار کرنے کے بجائے چلا جایا کروں گا۔”
وہ خدا حافظ کہتے ہوئے وہاں سے چلا گیا، علیزہ بے حد مایوس اور دل گرفتگی کے عالم میں اسے جاتا دیکھتی رہی اسے عمر پر بے تحاشا غصہ آیا تھا، صرف اس کی وجہ سے ذوالقرنین کو اس طرح وہاں سے جانا پڑا تھا۔
”کیا تھا، اگر وہ اس طرح میرے ساتھ آنے کی ضد نہ کرتا… کم از کم ذوالقرنین کو اس طرح پریشان ہو کر جانا تو نہ پڑتا۔”
وہ اس وقت عمر کی وجہ سے ذوالقرنین کو ہونے والی پریشانی کے علاوہ اور کچھ نہیں سوچ رہی تھی۔
”اب آگے کیا ہوگا؟ اگر عمر نے دوبارہ میرے ساتھ برٹش کونسل آنے کیلئے اصرار کیا تو؟ پھر میں کیا کروں گی؟ کیا مجھے ذوالقرنین کے ساتھ ملاقات کی جگہ بدل لینی چاہیے۔” وہ جیسے کسی فیصلہ پر پہنچنے کی کوشش کر رہی تھی۔
واپسی پر اس کا موڈ بہت زیادہ خراب تھا اور عمر نے اس کا سامنا ہوتے ہی اس بات کا اندازہ لگا لیا تھا۔
”چلو علیزہ! میں تمہیں کافی پلواتا ہوں۔” اس نے علیزہ کا بگڑا ہوا موڈ بحال کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔
”مجھے کافی نہیں پینی۔” اس نے اکھڑ انداز میں کہا۔
”پھر کیا کھانا ہے؟… یا کیا پینا…؟ تم خو د بتا دو۔” وہ اسے بچے کی طرح بہلاتے ہوئے پوچھ رہا تھا۔
”مجھے کچھ بھی کھانا پینا نہیں ہے۔ آپ بس گھر چلیں۔” اس نے بے رخی سے کہا۔
”مگر یار! میں تو کچھ کھانا پینا چاہ رہا ہوں، آخر اتنے ہفتے کے بعد لاہور آیا ہوں۔”
”مجھے گھر چھوڑ دیں اس کے بعد آپ جو چاہیں کریں۔” اس کا غصہ بڑھتا جا رہا تھا۔
”یہ تو میں جان چکا ہوں کہ تمہیں میرا ساتھ آنااچھا نہیں لگا، مگر میں صرف اس کی وجہ کے بارے میں سوچ رہا ہوں۔ کیا تم اس بارے میں میری مدد کر سکتی ہو؟” وہ یک دم سنجیدہ ہو گیا ۔ وہ جواب دینے کی بجائے خاموش رہی۔
”علیزہ! تم سے یہ کس نے کہہ دیا ہے کہ تم خاموشی میں بہت خوبصورت لگتی ہو؟” عمرنے اپنے لہجے کو ایک بار پھر شگفتہ کرنے کی کوشش کی۔
ایک لمحہ کے لئے اس کا چہرہ سرخ ہوا پھر وہ کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی۔
عمر کچھ دیر خاموشی سے اسے دیکھتے ہوئے جیسے کسی اندازے پر پہنچنے کی کوشش کرتا رہا۔ پھر اس نے اپنی توجہ ڈرائیونگ پر مرکوز کرلی۔
٭٭٭
”تمہارا دماغ تو ٹھیک ہے…؟ جانتے ہو کیا کہہ رہے ہو؟” نانو کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔
”بیگم صاحبہ! میں سچ کہہ رہا ہوں… علیزہ بی بی کو ڈھونڈنے میں ہی تو دیر ہوئی ہے۔” ڈرائیور نانو سے کہہ رہا تھا۔
عمر نے لاؤنج میں داخل ہوتے ہوئے ان دونوں کے درمیان ہونے والی گفتگو نہیں سنی۔ وہ نانو کے چہرے کے تاثرات دیکھ کر چونکا تھا، وہ اب بے تابی کے عالم میں صوفہ سے کھڑی ہو گئی تھیں۔
”کیا ہوا گر ینی؟ خیریت تو ہے؟” اس نے معاملے کی نوعیت سمجھنے کی کوشش کی۔
”علیزہ کالج میں نہیں ہے۔” انہوں نے فق چہرے کے ساتھ کہا۔
”کیا…؟” عمر بھی یک دم سنجیدہ ہو گیا۔
”علیزہ کالج میں نہیں ہے، ڈرائیور اس کا انتظار کرکے تھک کر آگیا ہے۔” نانو اب روہانسی ہونے لگی تھیں۔
”اس میں پریشان ہونے والی کیا بات ہے؟ وہ کسی دوست کی طرف چلی گئی ہو گی۔” عمر نے نانو کو تسلی دینے کی کوشش کی۔
”نہیں وہ کبھی کسی دوست کی طرف مجھے بتائے بغیر نہیں جاتی، خاص طور پر کالج سے، اور اس کی دوست ہے بھی کون… شہلا… ڈرائیور کہہ رہا ہے کہ چوکیدار نے اندر موجود لڑکیوں سے علیزہ کے بارے میں پوچھا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ آج کالج ہی نہیں آئی۔”
”کیا … کالج نہیں گئی؟” عمر ہکا بکا رہ گیا۔
”اگر وہ کالج نہیں گئی تو کہاں گئی ہے؟” نانو اب بڑبڑا رہی تھیں۔
”یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ علیزہ کالج نہ گئی ہو۔…وہ وہیں ہو گی ڈرائیور کو غلط فہمی ہو سکتی ہے، ہو سکتا ہے لڑکیوں نے کسی دوسری علیزہ کے بارے میں کہا ہو؟” عمر یک دم ڈرائیور کی طرف متوجہ ہو گیا۔
”نہیں جی مجھے کوئی غلط فہمی نہیں ہوئی، چوکیدار کو علیزہ بی بی کا پتہ ہے، پہلے بھی کئی بار میں اسی کے لئے ذریعے علیزہ بی بی کو بلواتا ہوں، پھر آج غلط فہمی کیسے ہو سکتی ہے؟
ویسے بھی کالج تو بالکل خالی ہو چکا تھا تو صرف چند لڑکیاں ہی رہ گئی تھیں اگر علیزہ بی بی وہاں ہوتیں تو اب تک گیٹ پر ہی موجود ہوتیں۔”
ڈرائیو نے کچھ گھبرائے ہوئے انداز میں وضاحت دینے کی کوشش کی۔
”گرینی! آپ ذرا شہلا کو فون کریں، ہو سکتا ہے وہ اس کے گھر ہو؟”
عمر نے نانو سے کہا، عمر اب کچھ پریشان نظر آنے لگا۔ نانو کچھ بوکھلائی ہوئی فون کے پاس گئیں اور انہوں نے ریسیور اٹھا کر کال ملانی شروع کر دی۔
”فون شہلا کی ممی نے اٹھایا، نانو نے ان کی آواز سنتے ہی ان سے شہلا کے بارے میں پوچھا۔
”شہلا کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی۔ اس لئے وہ آج کالج نہیں گئی… اس وقت بھی وہ اپنے کمرے میں سو رہی ہے۔”
شہلا کی ممی نے کہا اور نانو کی گھبراہٹ میں کچھ اور اضافہ ہو گیا۔ مزید کچھ کہے سنے بغیر انہوں نے فون رکھ دیا۔
”شہلا تو آج کالج گئی ہی نہیں۔” انہوں نے کانپتی آواز میں عمر سے کہا۔
”ہو سکتا ہے علیزہ کسی اور فرینڈ کے ساتھ چلی گئی ہو؟”
”نہیں اس کی اور کوئی ایسی دوست نہیں ہے جس کے ساتھ وہ اس طرح بغیر بتائے چلی جائے… وہ تو شہلا کے گھر بھی مجھے بتائے بغیر نہیں جاتی۔ صدیق! تم مجھے کالج لے کر چلو، میں خود وہاں دیکھتی ہوں آخر وہ جا کہاں سکتی ہے؟”
نانویک دم کھڑی ہو گئیں۔
”نہیں گرینی! آپ یہیں رہیں… میں جاتا ہوں؟” عمر نے ہاتھ کے اشارے سے انہیں روکا تھا۔
”نہیں مجھے بھی ساتھ جانا ہے۔”
”آپ کے ساتھ جانے سے کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ آپ گھر پر ہی رہیں… میں خود کالج جاتا ہوں، گھبرانے والی کوئی بات نہیں ہے۔ وہ وہیں ہو گی۔”
عمر بات کرتے کرتے نانو کا جواب سنے بغیر باہر نکل آیا۔
ڈرائیور صدیق بھی اس کے پیچھے آیا تھا پورچ میں آکر عمر نے گاڑی کی چابی اس سے لے لی۔
”مجھے اکیلے ہی جانا ہے، میں خود گاڑی ڈرائیو کر لوں گا۔” ا س نے ڈرائیور سے کہا اور پھر گاڑی لے کر باہر نکل آیا۔
۔۔
وہ جب سے اسلام آباد سے واپس آیا تھا علیزہ کا رویہ اسے الجھن میں ڈال رہا تھا وہ مسلسل اس کی زندگی میں شامل ہونے والی اس نئی ”سرگرمی” کے بارے میں اندازہ لگانے کی کوشش کر رہا تھا، جس نے علیزہ میں اتنی نمایاں تبدیلیاں کر دی تھیں اور یہ اندازہ وہ بہت پہلے لگا چکا تھا کہ علیزہ کی دوستی کسی لڑکے سے ہے۔ مگر وہ حیران تھا کہ نانو کو اس بات کا اندازہ کیوں نہیں ہوا جب کہ انہوں نے ہمیشہ علیزہ پر کڑی نظر رکھی تھی۔
خود عمر کے لئے کسی لڑکے سے دوستی نہ تو کوئی خلاف معمول بات تھی اور نہ ہی کوئی غیر معمولی چیز اور نہ ہی اسے اس بات پر کوئی اعتراض ہوا تھا۔ اس کا خیال تھا کہ علیزہ کو لوگوں سے رابطے اور تعلقات بڑھانے چاہئیں اس کی شخصیت میں موجود بہت سی خامیاں اسی طرح دور ہو سکتی تھیں مگر جس طرح علیزہ سب کچھ چھپانے کی کوشش کر رہی تھی اس سے عمر کو یہ بھی اندازہ ہو گیا تھا کہ علیزہ کا اس لڑکے سے تعلق صرف دوستی کی حد تک نہیں تھا، وہ اس میں دوسرے انداز میں دلچسپی لے رہی تھی۔ اسے اس چیز پر بھی اعتراض ہوا تھا نہ تجسس… کیونکہ وہ اسے بھی ایک بہت ہی نیچرل چیز سمجھ رہا تھا۔ مگر اب وہ جس صورت حال کا سامنا کر رہا تھا، اس نے اسے واقعی پریشان کر دیا تھا۔ علیزہ کا اس طرح کالج سے غائب ہونا… اسے توقع نہیں تھا کہ علیزہ اس طرح کی حرکت کر سکتی تھی۔
جس وقت نانو شہلا کے گھر فون کر رہی تھی، اس وقت وہ یہ اندازہ لگانے کی کوشش کر رہا تھا کہ وہ کہاں ہو سکتی تھی، ایک بات کا اسے یقین تھا کہ وہ اس طرح اچانک کسی کے ساتھ ہمیشہ کے لئے کہیں نہیں جا سکتی تھی۔ مگر پھر وہ کہاں گئی تھی۔ تب ہی اس کے ذہن میں بے اختیار ایک خیال آیا تھا۔
”ہو سکتا ہے وہ اس لڑکے کے ساتھ ہی کہیں گئی ہو، اور ابھی تک کالج نہ پہنچ پائی ہو… اور ہو سکتا ہے اس وقت وہ کالج پہنچ چکی ہو اور یقیناً وہ پوری طرح حواس باختہ ہو گی۔”
اس نے سوچا اور یہی وجہ تھی کہ نانو کے اصرار کے باوجود اس نے انہیں ساتھ نہیں لیا کالج واقعی خالی ہو چکا تھا چوکیدار نے اسے بھی وہی بتایا تھا جو وہ ڈرائیو کو بتا چکا تھا، چوکیدار سے گفتگو کرنے کے بعد واپس گاڑی میں آکر بیٹھ گیا، لیکن اس نے گاڑی اسٹارٹ نہیں کی، اسے گاڑی میں بیٹھے دس منٹ ہوئے تھے۔ جب اس نے کالج کے گیٹ سے کچھ فاصلے پر ایک گاڑی کو رکتے اور فرنٹ سیٹ سے علیزہ کو اترتے دیکھا۔ بے اختیار اس نے ایک پر سکون سانس لیا۔ گاڑی اسٹارٹ کرکے وہ علیزہ کی طرف لے آیا جو تیز قدموں سے کالج کے گیٹ کی طرف بڑھ رہی تھی۔
علیزہ نے گاڑی اور عمر دونوں کو دیکھ لیا تھا اور عمر دور سے بھی اس کے چہرے کی فق ہوتی ہوئی رنگت کو دیکھ سکتا تھا۔ وہ سڑک پر ہی رک گئی تھی۔ عمر نے اس کے قریب گاڑی کھڑی کی اور کچھ کہے بغیر فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھول دیا۔ علیزہ بھی اسی خاموشی کے ساتھ اندر بیٹھ گئی تھی۔
سڑک پر نظریں جمائے وہ ڈرائیونگ کر رہا تھا، علیزہ کو نہ دیکھنے کے باوجود وہ اس کی کیفیت سے واقف تھا اور اسے اس پر ترس بھی آیا تھا۔ وہ بہت بری طرح پکڑی گئی تھی اور اب وہ اس خوف سے دوچار تھی کہ عمر گھر جا کر نانو کو سب کچھ بتا دے گا… جب کہ عمر ایسا کچھ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا تھا۔
گاڑی سیدھی گھر لے جانے کی بجائے اس نے ایک مارکیٹ میں لے جاکر روک دی۔ علیزہ نے اسے گاڑی سے نکلتے دیکھا… اس کی گھبراہٹ میں کچھ اور اضافہ ہو گیا۔ وہ کچھ دیر بعد ہاتھ میں جوس کے دو پیک لیے واپس آتا دکھائی دیا۔ علیزہ اسے گاڑی کی طرف آتا دیکھتی رہی، بڑے اطمینان کے عالم میں وہ دروازہ کھول کر اندر بیٹھا اور اس نے جوس کا ایک پیک علیزہ کی طرف بڑھا دیا۔ وہ ہکا بکا اس کا چہرہ دیکھتی رہی۔
”تمہارے لئے لے کر آیا ہوں۔” اس نے عمر کی نرم آواز سنی تھی۔
”مجھے ضرورت نہیں ہے۔” علیزہ نے سر جھکا لیا۔
”کچھ دیر بعد ضرورت پڑے گی جب گرینی کے پاس جاؤ گی… بہتر ہے اسے پی لو اور اپنے نروز پر قابو رکھو، چہرے پر ان تاثرات کے ساتھ تم گرینی کے سامنے جھوٹ نہیں بول پاؤ گی… بولوگی بھی تو وہ یقین نہیں کریں گی۔”
علیزہ نے بے اختیار سر اٹھا کر اسے دیکھا، پھر مزید کچھ کہے بغیر اس نے عمر کے ہاتھ سے جوس کا پیک پکڑ لیا، عمر نے اس کے ہاتھ میں کپکپاہٹ دیکھی تھی۔ جوس پکڑاتے ہوئے اس نے ایک بار پھر علیزہ کے چہرے پر نظر دوڑائی، اور پر سکون انداز میں کہا۔
”اتنا خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں… تم کوئی قتل کرکے نہیں ائی ہو کہ تمہیں اس طرح لرزنا پڑے بندے میں اتنی ہمت ہونی چاہئے کہ ہر بڑا قدم اٹھانے کے بعد کانپنے کی بجائے صورت حال کا سامنا کرنے کے لئے تیار رہے۔ تم میں بھی یہ ہمت ہونی چاہئے۔ علیزہ!” وہ جوس پیتے ہوئے کہہ رہا تھا۔
علیزہ کے حلق میں جوس اٹکنے لگا۔

عمر اب موبائل نکال رہا تھا ” میں گرینی سے بات کرنے لگا ہوں، انہیں تمہارے بارے میں بتا رہا ہوں… تم تب تک یہ طے کر لو کہ تمہیں ان سے کیا کہنا ہے، مگر ان سے بات کرتے ہوئے اپنی آواز اور نروز پر قابو رکھنا۔ گھبرانا مت۔”
وہ اس کو اس طرح ہدایت دے رہا تھا، جیسے ذوالقرنین کی بجائے وہ خود اسے اپنے ساتھ لے کر گیا تھا… علیزہ کو یوں لگا جیسے وہ زمین میں دھنسنے لگی ہو۔
وہ جوس پیتے ہوئے موبائل پر گھر کا نمبر ڈائل کر رہا تھا۔ فون حسب توقع نانو نے ہی اٹھایا تھا شاید وہ تب سے فون کے پاس ہی بیٹھی تھی۔
”ہیلو گرینی…! میں عمر بول رہا ہوں۔”
”علیزہ کا کچھ پتا چلا؟” نانو نے اس کی آواز سنتے ہی پوچھا۔
”ہاں گرینی…! نہ صرف پتا چلا ہے بلکہ میرے ساتھ گاڑی میں بیٹھی ہے۔ ہم واپس گھر آرہے ہیں۔ میں نے آپ کو یہی بتانے کے لئے فون کیا ہے۔” عمر نے اپنے لہجے کو حتی الامکان پر سکون رکھتے ہوئے کہا۔
”اوہ خدایا… تیرا شکر ہے ، وہ کہاں تھی؟” نانو نے بے اختیار سکون کا سانس لیتے ہوئے اگلا سوال کیا۔
”وہ کالج میں ہی تھی۔” علیزہ عمر کا چہرہ دیکھ کر رہ گئی جو بڑی روانی سے جھوٹ بول رہا تھا۔ ”اندر ہی کچھ کلاس فیلوز کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی، اس کے کسی کلاس فیلو کی برتھ ڈے پارٹی تھی۔ اسے چھٹی کے وقت کا کچھ اندازہ ہی نہیں ہوا۔ جب وہ گیٹ پر آئی تب تک صدیق چوکیدار سے اس کے بارے میں پوچھ کر جا چکا تھا اب میں یہاں پہنچا ہوں تو وہ یہاں پریشان بیٹھی تھی۔ گھربھی اس نے دو تین بار فون کیا مگر فون انگیج مل رہا تھا میرا خیال ہے اس نے اسی وقت فون کیا ہو گا جب آپ شہلا کی ممی سے بات کر رہی تھیں۔”
”مگر چوکیدار تو کہہ رہا تھا کہ وہ صبح کالج آئی ہی نہیں۔” نانو کے لہجے میں اب تشویش کی بجائے غصہ تھا۔
”ہاں میں نے چوکیدار سے پوچھا تھا وہ شرمندہ ہو گیا۔ وہ کسی دوسری علیزہ کی بات کر رہا تھا اور اسے واقعی یہ پتا نہیں تھا کہ اندر لڑکیاں کسی پارٹی میں مصر وف ہیں۔” وہ جھوٹ پر جھوٹ بولنے میں مصروف تھا۔
”تم علیزہ سے میری بات کرواؤ۔” نانو نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔ عمر نے موبائل علیزہ کی طرف بڑھا دیا۔
”گرینی سے بات کرلو۔”
علیزہ نے کچھ نروس ہو کر موبائل ہاتھ میں لیا۔
”لاپروائی کی حد کر دی تم نے۔” موبائل پر ہیلو کہتے ہی اس نے دوسری طرف نانو کو کہتے سنا ”میں تصور بھی نہیں کر سکتی تھی کہ تم اتنی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کر سکتی ہو، تمہیں شرم آنی چاہئے۔ تمہاری وجہ سے کتنی پریشانی اٹھانی پڑی ہے مجھے۔”
نانو اس کی بات سنے بغیر مسلسل بول رہی تھیں اور اس وقت علیزہ کو اسی میں اپنی عافیت محسوس ہو رہی تھی کہ وہ چپ چاپ ان کی جھڑکیاں کھاتی رہے۔ وضاحتیں پیش کرنے سے اس وقت یہ کام بہرحال بہتر تھا وہ ڈوبتے ڈوبتے بچ گئی تھی۔ نانو کچھ دیر اسی کام میں مصروف رہیں، پھر انہوں نے جلدی گھر آنے کا کہہ کر فون بند کر دیا۔
عمر تب تک گاڑی کو دوبارہ سڑک پر لا چکا تھا، علیزہ نے موبائل بند کرنے کے بعد اس کی طرف بڑھا دیا۔ گاڑی میں ایک بار پھر خاموشی چھا گئی۔
کچھ دیر پہلے اگر وہ خوفزدہ تھی تو اس وقت وہ بے حد شرمندہ تھی۔ عمر نے اگرچہ اسے نانو کے سامنے کسی جواب دہی سے بچا لیا تھا، مگر خود اس کی خاموشی اسے چبھ رہی تھی۔
کیا یہ مجھ سے واقعی کچھ بھی پوچھنا نہیں چاہتا؟
کیا یہ مجھ سے ناراض ہے؟ یہ میرے بارے میں کیا سوچ رہا ہے؟
یہ اب مجھے اچھی لڑکی تو نہیں سمجھ رہا ہو گا۔
بہت سے سوال اسے یکے بعد دیگرے بے چین کر رہے تھے۔
دوسری طرف عمر اسی لاپروائی اور بے نیازی سے گاڑی چلانے میں مصروف تھا۔
وہ اب یہ سوچنے میں مصروف تھی کیا اسے خودعمر کو مخاطب کر لینا چاہئے، اور یہ ایسا کام تھا جو وہ خود کرنے کی ہمت نہیں پا رہی تھی۔ اسے حیرت ہو رہی تھی کہ کیا عمر واقعی اس سے کچھ پوچھنا نہیں چاہتا تھا کیا اسے کوئی تجسس نہیں ہے، کہ میں کہاں گئی تھی اور کسی کے ساتھ گئی تھی، اور اس نے نانو سے میرے بارے میں جھوٹ کیوں بولا ہے، کیا یہ واقعی میری اتنی پروا کرتا ہے کہ مجھے ہر نقصان سے بچانا چاہتا ہے۔ یا پھر یہ مجھ پر احسان کرکے…
وہ اب اس کی خاموشی سے الجھنے لگی۔
کیا یہ وہ واقعی نانو نانا سے یہ بات چھپائے رکھے گا کہ میں کسی لڑکے کے ساتھ گئی تھی یا پھر یہ میرے سامنے ایک ڈرامہ کر رہا ہے۔
وہ سوچ رہی تھی اور اس کے پچھتاوے میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔
مجھے ذوالقرنین کے ساتھ نہیں جانا چاہئے تھا اگر میں اس کے ساتھ نہ جاتی تو آج کم از کم میں اس طرح عمر سے نظریں نہ چرا رہی ہوتی۔ وہ سوچ رہی تھی۔
آج پہلی بار ذوالقرنین کے اصرار پر اس کے ساتھ گئی تھی ورنہ اس سے پہلے اس کی ذوالقرنین سے ملاقاتیں صرف برٹش کونسل اور ایک دو جگہوں تک ہی محدود تھیں۔ وہ ان جگہوں پر جاتی، ذوالقرنین پہلے سے وہاں موجود ہوتا، دونوں کچھ دیر وہاں بیٹھے باتیں کرتے رہتے اور پھر واپس چلے آتے… مگر عمر کے آنے کی وجہ سے اس کا برٹش کونسل کا شیڈول بری طرح متاثر ہو رہا تھا۔ وہ کوشش کے باوجود ذوالقرنین سے مل نہیں پا رہی تھی کیونکہ نانو ہر جگہ عمر کو اس کے ساتھ بھیجنے کی کوشش کرتیں۔ خود عمر بھی بڑی خوش سے اس کے ساتھ چلنے پر آمادہ رہتا اور یہ چیزہ علیزہ کو بری طرح ڈسٹرب کر رہی تھی شاید یہ اسی فرسٹریشن کی وجہ سے تھا کہ جب ذوالقرنین نے اس سے کالج سے اپنے ساتھ چلنے کے لئے کہا تو وہ زیادہ دیر تک انکار نہیں کر سکی تھی۔

ڈرائیور نے صبح اسے کالج اتارا تھا اور وہ ڈرائیور کے جانے تک کالج کے گیٹ کے اندر نہیں گئی تھی اور جب ڈرائیور چلا گیا تو وہ گیٹ سے کچھ فاصلے پر کھڑی ذوالقرنین کی گاڑی کی طرف گئی تھی۔ جسے وہ کالج آتے ہوئے دیکھ چکی تھی اور پھر وہ دونوں سارا دن جگہ جگہ گھومتے رہے تھے۔ ذوالقرنین نے اس سے وعدہ کیا تھا کہ وہ کالج کی چھٹی ہونے کے وقت اسے کالج کے باہر ڈراپ کر دے گا اور وہاں سے وہ اپنے گھر چلی جائے گی مگر ذوالقرنین کے ساتھ پھرتے ہوئے اسے وقت گزرنے کا بالکل احساس نہیں ہوا اور جس وقت ایک ریسٹورنٹ میں بیٹھے لنچ کرتے ہوئے اسے یہ خیال آیا… اس وقت کالج کو بند ہوئے بہت دیر ہو چکی تھی اور تب صحیح معنوں میں علیزہ کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے تھے۔
اس کے برعکس ذوالقرنین بالکل خوفزدہ نہیں تھا بلکہ وہ اسے بھی تسلیاں دینے کی کوشش کر رہا تھا۔ مگر اس کی تسلیوں نے اس پر کوئی زیادہ اثر نہیں کیا تھا، کالج پہنچتے پہنچتے ساڑھے تین بج چکے تھے اور رہی سہی کسر اس وقت پوری ہو گئی تھی۔ جب علیزہ نے عمر کی گاڑی کو کالج کے گیٹ پر کچھ فاصلے پر دیکھا تھا۔اس نے ذوالقرنین کو اس وقت وہاں عمر کی موجودگی کے بارے میں نہیں بتایا تھا مگر اس کا جسم تب تک کانپنا شروع ہو چکا تھا اسے توقع تھی کہ عمر کے ساتھ نانو بھی وہاں ہوں گی اور شاید وہ اس وقت کالج کے اندر ہوں گی مگر بعد میں عمر کو اکیلا وہاں دیکھ کر اسے کچھ حیرت ہوئی اور عمر کے اب تک کے رویے نے اس حیرت میں بتدریج اضافہ ہی کیا تھا۔
٭٭٭
وہ اپنے کمرے میں ایک کتاب پڑھنے میں مصروف تھا جب دروازے پر دستک ہوئی۔ ”کم ان” عمر نے کتاب سے نظر اٹھا کر دروازے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ دروازہ آہستہ آہستہ کھلا اور عمر نے علیزہ کو اندر آتے دیکھا۔ عمر وال کلاک کو دیکھتے ہوئے کچھ حیران ہوا۔ رات کے اس وقت علیزہ کا وہاں آنا خاصا حیران کن تھا۔
”میں نے آپ کو ڈسٹرب تو نہیں کیا؟” اس نے اندر آکر پوچھا۔
”ناٹ ایٹ آل… آؤ بیٹھو۔۔۔” عمر نے کتاب بند کرکے سائیڈ ٹیبل پر رکھتے ہوئے کہا۔
وہ کچھ سوچتے ہوئے کمرے میں موجود صوفہ پر بیٹھ گئی، عمر اس کا چہرہ دیکھنے لگا وہ اب کارپٹ پر نظریں جمائے بیٹھی تھی۔
”کوئی پریشانی ہے؟” عمر نے اسے مسلسل خاموش دیکھ کر گفتگو شروع کرنے میں اس کی مدد کی۔
”نہیں۔۔۔”اس نے اسی طرح کارپٹ پر نظریں جمائے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔
چند لمحے کمرے میں خاموشی رہی پھر علیزہ نے خاموشی کو توڑا۔
”آپ مجھے رات کے اس وقت یہاں دیکھ کر حیران ہوئے ہوں گے؟”
”نہیں۔” اس بار عمر نے اسی کے انداز میں جواب دیا۔ علیزہ نے بے اختیار سر اٹھا کر اسے دیکھا۔ وہ بے حد پر سکون نظر آرہا تھا”تم اگر یہ سوچ کر پریشان ہو رہی ہو کہ میں گرینی کو تمہارے بارے میں کچھ بتا دوں گا، تو بے فکر رہو… میں ایسا نہیں کروں گا۔”
علیزہ نے بے اختیار ہونٹ بھینچ لیے، وہ خود ہی اس موضوع پر آگیا تھا۔
”آپ مجھ سے پوچھیں گے نہیں؟” اس نے کچھ جھجکتے ہوئے کہا۔
”مثلاً کیا؟” عمر اب بھی اسی طرح پر سکون تھا۔
”آج… کے… واقعہ… کے بارے میں” اس نے کچھ لڑکھڑاتے ہوئے کہا۔
”نہیں۔” اس نے اطمینان سے کہا۔
”کیوں؟” وہ بے چین ہوئی۔
”یہ تمہارا پرسنل معاملہ ہے، تمہاری اپنی زندگی ہے۔ جو چاہے کرو۔” عمر کے لہجے میں لاپروائی تھی اور علیزہ کو یہ لا تعلقی اچھی نہیں لگی۔
”آپ واقعی مجھ سے کچھ نہیں پوچھیں گے۔” اسے ابھی بھی جیسے عمر کی بات پر یقین نہیں آیا تھا۔
”نہیں میں واقعی کچھ نہیں پوچھوں گا، لیکن تم اگر کچھ بتانا چاہتی ہو… تو ٹھیک ہے، میں سن لیتا ہوں۔”
”کیا آپ کو میری حرکت بری نہیں لگی؟”
”میں نے اس بارے میں سوچا نہیں… اور ویسے بھی مجھے دوسروں کے کاموں میں فتوے دینے کا کوئی شوق نہیں ہے۔” اس نے بڑی صاف گوئی کا مظاہرہ کیا۔
”پھر آپ نے نانو سے میرے بارے میں جھوٹ کیوں بولا؟”
”تمہیں بچانے کے لئے۔”
”اور آپ مجھے بچانا کیوں چاہتے ہیں؟”
”کیونکہ تم میری دوست اور کزن ہو، دوستوں کے لئے میں اکثر جھوٹ بولتا رہتا ہوں۔” وہ بڑے دوستانہ انداز میں کہہ رہا تھا۔
”آپ کو مجھ سے کچھ توپوچھنا چاہئے۔”
”مثلاً کیا؟”
”یہی کہ میں کہاں گئی تھی؟”
”تم کہاں گئی تھیں علیزہ؟” عمر نے اسی کے انداز میں اس کا سوال دہرا دیا۔
وہ کچھ دیر خاموش رہی پھر اس نے کہا ”ذوالقرنین کے ساتھ۔”
”اور یہ… یہ ذوالقرنین کون ہے؟” اس بار عمر نے اگلا سوال خود ہی کیا تھا۔
”میرا فرینڈ ہے۔”
”کب سے دوستی ہے تمہاری اس کے ساتھ؟”
”اور یہ شخص کرتا کیا ہے؟”
”تقریباً ڈیڑھ ماہ ہوا ہے۔”
”میڈیکل کالج میں ہے۔”
”تمہاری دوستی کیسے ہوئی؟”
وہ اب آہستہ آہستہ اس سے سب کچھ اگلوا رہا تھا، علیزہ نے اسے ذوالقرنین کے ساتھ ہونے والی پہلی ملاقات کے بارے میں بتا دیا۔
”تم اس سے اکثر ملتی ہو؟”
”اکثر تو نہیں، مگر ملتی ہوں۔” اس نے اعتراف کیا۔
”اسی طرح کالج سے غائب ہو کر؟”
”نہیں، آج پہلی بار کالج سے گئی تھی ورنہ پہلے تو کبھی نہیں گئی… ہم برٹش کونسل میں ملتے ہیں۔”
”اور آج کہاں گئی تھیں؟”
”ہم سارا دن پھرتے رہے، بہت ساری جگہوں پر۔”
عمر کچھ دیر خاموش ہو کر کچھ سوچتا رہا۔”ذوالقرنین سے صرف دوستی ہے نا… کوئی رومانٹک انوالومنٹ؟” علیزہ کا چہرہ سرخ ہوا۔
”صرف… دوستی نہیں ہے۔۔۔” مدہم آواز میں اس نے کہا۔
”ٹھیک ہے دوستی نہیں ہے۔ محبت ہے مگر کیا صرف تمہاری طرف سے ہے یا پھر ذوالقرنین بھی اسی طرح کے خیالات رکھتا ہے؟”
۔۔۔۔
”وہ بھی… مجھے … پسند کرتا ہے۔۔۔”
”تو پھر کیا پروگرام ہے تم دونوں کا… اس نے پروپوز کیا تمہیں، کچھ شادی وغیرہ کا ارادہ ہے؟”
”پروپوز نہیں کیا۔”
”کیوں نہیں کیا… اگر وہ پسند کرتا ہے اور سیریس ہے تو اسے کر دینا چاہئے۔”
علیزہ نے سر جھکا لیا۔
”یا پھر تم پروپوز کر دو۔۔۔”
اس نے عمر کی بات پر حیران ہو کر اس کا چہرہ دیکھا۔
”میں پروپوز کروں؟”
”ہاں… تم کیوں نہیں کر سکتیں۔ یہ کوئی ایسی حیران ہونے والی بات تو نہیں ہے۔”
”مگر میں تو یہ کبھی نہیں کر سکتی۔”
”تم جانتی ہو علیزہ! تم کوئی افیئرافورڈ نہیں کر سکتیں۔ آج نہیں تو کل گرینی کو تمہارے اور ذوالقرنین کے بارے میں پتا چل ہی جائے گا ، تو ان کا ری ایکشن کیا ہو گا۔ اس کا اندازہ تم اچھی طرح کر سکتی ہو۔” وہ اب سنجیدہ ہو گیاتھا۔
”اگروہ اچھا بندہ ہے تو اسے سیدھی طرح سے گرینی سے ملواؤ، یا پھر مجھ سے ملوا دو… میں بات کرتا ہوں اس سے۔”
علیزہ چونکی ”میں آپ سے ملواؤں؟”
”ہاں، کیوں تم ملوانا نہیں چاہتیں؟”
”نہیں… نہیں ایسی بات نہیں ہے۔۔۔۔” اس نے جلدی سے کہا۔
”تو پھر ٹھیک ہے۔ تم ذوالقرنین سے بات کرو، میں بھی دیکھنا چاہتا ہوں، کیسا بندہ ہے وہ۔” عمر کا لہجہ اب شگفتہ ہو گیا تھا۔
”ٹھیک ہے میں اس کو آپ سے ملوا دوں گی۔”
”اور اس سے ملنے کے بعد میں گرینی سے خود اس کے بارے میں بات کر لوں گا۔”
عمر نے جیسے اسے یقین دہانی کروائی، وہ سر جھکائے خاموش بیٹھی رہی۔
”آپ مجھے برا تو نہیں سمجھتے۔” کچھ دیر بعد عمر نے علیزہ کو سر جھکائے کہتے سنا۔
”نہیں… میں تمہیں برا کیوں سمجھوں گا… تم نے ایسا کوئی کام نہیں کیا۔”
”کالج سے جانابھی غلط نہیں ہے؟”وہ اس سے پتا نہیں کس چیز کی یقین دہانی کروانا چاہ رہی تھی۔
”تم سچ سننا چاہتی ہو یا جھوٹ؟” عمر سنجیدہ ہو گیا۔
”سچ۔۔۔” ”تو پھر اس طرح جانا واقعی غلط ہے۔ میں کوئی کنزرویٹو بندہ تو نہیں ہوں، مگر اپنی فیملی کو اچھی طرح جانتا ہوں اور تمہیں بھی… تم میچور نہیں ہو… ٹین ایج میں ہر چیز تھرلنگ لگتی ہے مگر یہاں اس سوسائٹی میں ایسے ایڈونچرز خاصے مہنگے ثابت ہو سکتے ہیں۔ ذوالقرنین اچھا ہے یا برا، میں نہیں جانتا مگر تم ابھی لوگوں کو پرکھنا نہیں جانتیں، تمہارا کوئی Exposure نہیں ہے۔ اس لئے اپنی زندگی کے بارے میں محتاط رہو تو خاصا بہتر ہے۔”
وہ خاموشی سے سر جھکائے اس کی باتیں سنتی رہی۔
”ذوالقرنین ایسا نہیں ہے۔” اس نے اپنا گلا صاف کرتے ہوئے کہا۔
”تم یہ کیسے کہہ سکتی ہو؟”اس نے دو بدو کہا۔
) “He is Different” وہ مختلف ہے(
عمر بے اختیار ہنسا ”یہ اس نے تم سے کہا یا تم نے خود سوچا؟”
”He is really Different (وہ واقعی دوسروں سے مختلف ہے۔)” علیزہ نے جیسے اسے یقین دلانے کی کوشش کی۔
”ہر انسان دوسرے انسان سے مختلف ہوتا ہے۔ فنگر پرنٹس سے لے کر جینز تک کچھ بھی ایک جیسا نہیں ہوتا۔” عمر نے بڑی لاپروائی سے کہا۔
”وہ اندر سے مختلف ہے۔” علیزہ نے اپنی بات پر زور دیتے ہوئے کہا۔
”تم اس کے اندر کیسے پہنچ گئیں۔ اوہ آئی سی وہ ڈاکٹر بن رہا ہے، ہو سکتا ہے اس نے اپنی ڈائی سیکشن کرکے تمہیں اپنا اندر دکھایا ہو۔ ٹھیک کہہ رہا ہوں ناں؟”
وہ اب مذاق اڑا رہا تھا۔ علیزہ کا چہرہ سرخ ہونے لگا۔
”وہ واقعی ایک مختلف مرد ہے۔”
وہ اب بھی اپنی بات پر مصر رہی۔
”What a typical statement!” عمر ایک بار پھر ہنسا” Different man” کوئی مرد مختلف نہیں ہوتا مائی ڈیئر کزن… کم از کم گرل فرینڈ کے معاملے میں کوئی مختلف نہیں ہوتا۔ ہر ایک کی سوچ اور محسوسات ایک جیسے ہوتے ہیں۔”
” میں اس کی گرل فرینڈ نہیں ہوں۔” علیزہ کو اس کی بات پر شاک لگا۔

”اس کا فیصلہ تو بعد میں ہو گا میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ تم کچھ Realistic(حقیقت پسند) ہو جاؤ۔ ہم دنیا میں رہ رہے ہیں اور دنیا میں کوئی مختلف نہیں ہوتا بعض لوگ جو ہمیں بظاہر مختلف لگتے ہیں، وہی ہمارے لئے سب سے زیادہ عذاب لاتے ہیں۔ تب ہمیں پتہ چلتا ہے کہ وہ کتنے معمولی اور عام سے ہوتے ہیں اور شاید بے قیمت بھی بلکہ بعض دفعہ وہ عام لوگوں سے بھی زیادہ بے قیمت ثابت ہوتے ہیں۔”
وہ بات کرتے کرتے سنجیدہ ہو گیا۔
”ذوالقرنین ایسا نہیں ہے۔” اس کی ساری باتیں سننے کے بعد اس نے سر اٹھا کر بڑے اعتماد سے کہا۔
”میری خواہش ہے… واقعی ایسا ہی ہو۔” عمر نے اس کا چہرہ دیکھتے ہوئے کہا۔
٭٭٭
وہ حسب معمول رات کے وقت نانو اور نانا کے سو جانے کے بعد لاؤنج میں آئی… ہمیشہ کی طرح لائٹ آن کئے بغیر صرف کوریڈور میں روشن زیرو پاور کے بلب اور باہر پورچ کی کھڑکیوں سے آنے والی دھندلی روشنی میں صوفہ پر بیٹھ کر ذوالقرنین کو کال کرنا شروع کیا۔
”کوئی پریشانی تو نہیں ہوئی؟”
رابطہ قائم ہوتے ہی ذوالقرنین نے پہلا سوال کیا تھا۔ وہ بھی علیزہ کو کالج چھوڑتے ہوئے عمر کی گاڑی میں علیزہ کو بیٹھتے دیکھ چکا تھا۔
”نہیں کچھ نہیں ہوا… عمر نے نانو سے جھوٹ بول دیا… اس نے کہا کہ میں اندر کالج میں ہی تھی چوکیدار کو غلط فہمی ہو گئی تھی۔ نانو نے اس کی بات پر اعتبار کر لیا، اگر وہ جھوٹ نہ بولتا تو نانو سے بچنا آج بہت مشکل ہو گیا تھا۔ وہ بے حد غصے میں تھیں۔”
اس نے دھیمی آواز میں کہا۔
”تم خواہ مخواہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر پریشان ہوتی رہتی ہو۔ میں تم سے کہہ بھی رہا تھا کہ کچھ نہیں ہو گا۔” ذوالقرنین نے جواباً خاصی لاپروائی سے کہا۔
”مگر عمر نہ ہوتا یا وہ جھوٹ نہ بولتا تو پھر میرے ساتھ کیا ہو سکتا تھا، آپ کو اس کا اندازہ نہیں ہے کیونکہ آپ نانو کو نہیں جانتے۔” علیزہ نے کہا۔ ”میں آئندہ اس طرح کالج سے کبھی نہیں جاؤں گی۔”
”تم بہت بزدل ہو علیزہ” ذوالقرنین نے اس کی بات کے جواب میں کہا، وہ خاموش رہی۔
”تمہاری نانو آخر کیا کر سکتی ہیں… جان سے تو نہیں مار سکتی ہیں۔”
”پھر بھی مجھے اچھا نہیں لگا اگر ان کو پتہ چل جاتا تو۔۔۔”
”تم اپنی نانو سے اتنا ڈرتی کیوں ہو؟” ذوالقرنین نے کچھ الجھ کر کہا۔

”ڈ