Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 32

امربیل از عمیرہاحمد
۔۔۔۔
قسط نمبر 32
۔۔۔۔۔
باب 33

”ہم نے معدہ واش کر دیا ہے ۔ وہ اب ٹھیک ہے۔ دس پندرہ منٹ بعد اسے کمرے میں شفٹ کر دیں گے۔ تب آپ اس سے مل سکتے ہیں۔”
ڈاکٹر نے انہیں اطلاع دی۔ نانو اور عمر نے ایک دوسرے کا چہرہ دیکھا نانو کے چہرے پر اطمینان ابھر آیا جبکہ عمر پہلے ہی کی طرح سنجیدہ نظر آرہا تھا۔
علیزہ کو ہاسپٹل لے جاتے ہوئے عمر نے گاڑی میں نانو کو ذوالقرنین کے بارے میں بتا دیا تھا۔ علیزہ کی سائیڈ ٹیبل پر پڑا ہوا کاغذ جو علیزہ کے بیڈ کے پاس جاتے ہی عمر کو نظر آیا تھا۔ اس نے نانو کو دکھا دیا جس میں علیزہ نے اپنی خودکشی کے بارے میں لکھا تھا۔
نانو خط ہاتھ میں لئے پورا راستہ سکتے کے عالم میں بیٹھیں رہیں۔ ان کے فیملی ڈاکٹر نے ہاسپٹل پہنچنے پر فوری طور پر علیزہ کے کیس کو ڈیل کیا تھا۔ فیملی ڈاکٹر ہونے کی وجہ سے اس نے اس کیس کو پولیس میں بھی رپورٹ نہیں کیا۔
”اس نے کیا کھایا تھا؟” عمر نے ڈاکٹر سے پوچھا۔
”سلیپنگ پلز تھیں، آپ لوگ اسے بہت جلدی لے آئے ابھی پوری طرح حل نہیں ہو سکی تھیں اور اس پر زیادہ اثر اس لئے بھی نہیں ہوا کہ وہ یہ گولیاں لینے کی عادی لگتی ہے ورنہ جتنی تعداد میں اس نے یہ گولیاں لی ہیں اس کی حالت خاصی خراب ہونی چاہئے تھی۔” ڈاکٹر آہستہ آہستہ بتا رہا تھا۔ ‘
”لیکن علیزہ نے اس طرح کیوں کیا ہے، وہ تو بہت سمجھ دار بچی ہے… پھر اس طرح ۔” ڈاکٹر نے اپنی بات ادھوری چھوڑ کر جواب طلب نظروں سے نانو کو دیکھا۔

”کالج میں کچھ فرینڈز سے اس کا جھگڑا ہو گیا اور شاید ڈپریشن میں یا غصے میں اس نے یہ کیا ہے۔” عمر نے ڈاکٹر کو مطمئن کرنے کی کوشش کی۔
”گرینی کیا علیزہ سلیپنگ پلز لیتی ہے؟”
”یہ گولیاں تو نہیں کوئی اور دوا لیتی رہی ہے مگر وہ بھی صرف تب جب سائیکاٹرسٹ کے ساتھ سیشنز ہوتے تھے۔”
”تو پھر اس کے پاس یہ Pills کہاں سے آئیں؟”
”میں تو خود حیران ہوں۔”
”کیا گرینڈ پا لیتے ہیں؟”
”نہیں وہ تو نہیں لیتے ہو سکتا ہے اس نے کہیں سے خرید لی ہوں۔” نانو نے اندازہ لگانے کی کوشش کی۔
”کب خریدی ہیں اس نے، یہی تو سمجھ نہیں پا رہا۔ پارک سے تو میں اس کو سیدھا گھر لایا ہوں اور اس کے بعد وہ گھر سے باہر نہیں گئی پھر اس کے پاس یہ Pillsکہاں سے آگئیں۔ آپ کہہ رہی ہیں کہ گرینڈ پا بھی نہیں لیتے… پھر۔”
عمر الجھے ہوئے انداز میں کہتے کہتے یک دم سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔ اس نے اپنی بات ادھوری چھوڑ دی۔
”کیا ہوا؟” نانو نے کچھ حیران ہو کر اس کے چہرے کے تاثرات کو دیکھا۔
”کچھ نہیں؟” وہ یک دم بہت پریشان نظر آنے لگا تھا۔
٭٭٭
وہ اگلے دن ہاسپٹل سے ڈسچارج ہو کر گھر آگئی تھی۔ ہاسپٹل میں اس سے ملاقات کے دوران کسی نے اس سے کچھ پوچھنے یا اسے کچھ کہنے کی کوشش نہیں کی تھی۔ نانا کو اگر اس سارے واقعہ سے شاک لگا تھا تو نانو بہت خوفزدہ ہو گئی تھیں، شاید وہ دونوں علیزہ سے اس حرکت کی توقع نہیں کر سکتے تھے۔
نانو کو اب بھی یقین نہیں آرہا تھا کہ علیزہ پچھلے ایک ماہ سے اتنی کامیابی سے انہیں دھوکا دے رہی تھی۔ ”علیزہ، علیزہ اس طرح کی حرکت کیسے کر سکتی ہے۔ وہ تو بہت شائی ہے۔ ریزرو، انٹروورٹ آج تک وہ ایک سے دوسرا دوست نہیں بنا سکی پھر بوائے فرینڈ اور وہ بھی اس طرح چھپ کر،میری سمجھ میں کچھ نہیں آرہا میں نے تو اس پر بہت محنت کی تھی، اس کی اچھی تربیت کی تھی۔”
شام کو اس کے گھر آنے کے بعد نانو، عمر اور نانا کے ساتھ لاؤنج میں بیٹھی ہوئی کہہ رہی تھی، علیزہ اپنے کمرے میں تھی اور عمر کسی قسم کے تاثر کے بغیر نانا اور نانی کی گفتگو سن رہا تھا۔
”مجھے افسوس اس بات پر ہے کہ عمر نے سب کچھ ہم سے چھپایا اگر یہ ہمیں پہلے بتا دیتا تو یہ سب کچھ نہ ہوتا۔” نانا نے اچانک عمر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
”اگر میں آپ کو بتا دیتا تو آپ کیا کرتے۔” عمر نے بڑی سنجیدگی سے پہلی بار گفتگو میں حصہ لیا۔
”کم از کم یہ سب کچھ نہ ہونے دیتا جو اب ہوا ہے۔”
”میں آپ کو بتا دیتا تو آپ اس کو ڈانٹتے ذوالقرنین سے ملنے پر پابندی لگا دیتے۔ پھر کیا ہوتا ، وہ پھر بھی یہی کرتی۔”
”تب کی تب دیکھی جاتی۔ مگر تمہارے اس طرح سب کچھ چھپانے سے حالات زیادہ خراب ہوئے ہیں۔” اس بار نانو نے کہا۔
”آپ جو چاہے کہہ سکتے ہیں ۔ میں اس سلسلے میں اب تو کچھ کہہ ہی نہیں سکتا۔ مگر مجھے کوئی شرمندگی نہیں ہے کہ میں نے علیزہ اور ذوالقرنین کے افیئر کو آپ سے چھپایا۔ میں نے اپنے طور پر یہ مسئلہ حل کرنے کی کوشش کی اور شاید میں نے ایسا کر بھی لیا تھا، مگر پرابلم صرف علیزہ کی اس حرکت سے ہوا ورنہ ذوالقرنین کا معاملہ تو ختم ہو چکا تھا۔” اس نے بڑے پر سکون انداز میں کہا۔
”آپ اب آگے کے بارے میں سوچیں ، اب آپ اس سے اس سارے معاملے کے بارے میں کیا کہیں گے یہ طے کریں۔”
”میں ذوالقرنین کی فیملی سے رابطہ قائم کروں گا اگر سب کچھ ٹھیک ہو تو میں ذوالقرنین کے ساتھ علیزہ کی شادی کرا دوں گا۔” نانا نے یک دم جیسے اپنا فیصلہ سنا دیا۔
”وہ لڑکا اچھا نہیں ہے۔ گرینڈ پا…! وہ صاف صاف انکار کر گیا ہے اس شادی سے۔” عمر کچھ بے چین ہوا۔
”عمر تمہارے بات کرنے میں اور میرے بات کرنے میں بہت فرق ہو گا، ہماری فیملی کی اپنی ایک حیثیت ہے۔ یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ ہم کسی فیملی کے ساتھ رشتہ جوڑنا چاہیں اور وہ بغیر سوچے سمجھے انکار کر دیں۔ ذوالقرنین شادی پر تیار نہیں بھی ہو گا تو اس کے ماں باپ اسے تیار کر لیں گے۔”
”وہ اچھا لڑکا نہیں ہے گرینڈ پا! کم از کم مجھے اس نے امپریس نہیں کیا۔”
”اچھا ہے یا برا، مجھے اس کی پروا نہیں ہے، اگر علیزہ کو وہ پسند ہے اور وہ اس سے شادی کرنا چاہتی ہے تو میرے لئے اتنا ہی کافی ہے ساری عمر اسے پالنے اور بڑا کرنے کے بعد میں یہ تو نہیں چاہوں گا کہ وہ اس طرح خودکشی کرلے اگر وہ اس شخص کے ساتھ خوش رہ سکتی ہے تو ٹھیک ہے۔ اتنا بڑا ایشو بنانے کی ضرورت نہیں ہے۔ جہاں تک اس کی اچھائی یا برائی کا تعلق ہے میں پتہ کروا لوں گا اس کے بارے میں۔” نانا وہیں بیٹھے بیٹھے فیصلے کرتے جا رہے تھے۔ نانو اور عمر کچھ کہے بغیر خاموشی سے ان کا چہرہ دیکھتے رہے۔
٭٭٭
اگلے چند دن بھی عمر اور علیزہ کے درمیان کوئی ملاقات نہیں ہوئی۔ اپنے تحریری امتحان کے رزلٹ آنے کے بعد وہ اسلام آباد چلا گیا۔ وہاں سے اس کی واپسی دو ہفتے کے بعد ہوئی۔
”آپ نے ذوالقرنین کے سلسلے میں اس سے بات کی؟”
رات کے کھانے پر ڈائننگ ٹیبل پر علیزہ سے اس کا سامنا ہوا۔ رسمی سلام دعا کے بعد وہ سر جھکائے خاموشی سے کھانا کھاتی رہی اور پھر کھانے سے فارغ ہو کر سب سے پہلے ٹیبل سے اٹھ کر چلی گئی۔ اس کے جانے کے بعد عمر نے نانا سے پوچھا۔
”وہ اس سلسلے میں کوئی بات کرنے کے لئے تیار ہی نہیں، میں نے اس سے بات کرنے کی کوشش کی مگر اس نے دھمکی دی کہ اگر میں نے دوبارہ ذوالقرنین کے بارے میں کچھ کہا تو وہ خودکشی کرلے گی یا پھر گھر سے بھاگ جائے گی، میں تو خوفزدہ ہو گئی، علیزہ کبھی بھی اتنے باغیانہ انداز میں بات نہیں کرتی تھی۔ مگر اب تو وہ بالکل بدل گئی ہے اس کا دل چاہے کالج جاتی ہے دل چاہے توگھر سے باہر نہیں نکلتی۔ دو دن پہلے جا کر سارے بال کٹوا آئی، پچھلے ایک ہفتے میں تین بار شہلا آچکی ہے۔ اس سے بات کرنے کی بجائے اسے دیکھتے ہی کمرے میں چلی جاتی ہے وہ دروازہ بجاتی رہی ، اس نے دروازہ نہیں کھولا وہ روہانسی ہو کر واپس گئی۔ باقی سب کچھ تو چھوڑو کر سٹی کی ساری چیزیں اٹھا کر کمرے سے باہر پھینک دیں۔ وہ آگے پیچھے پھرتی رہتی ہے مگر مجال ہے۔ علیزہ اسے ہاتھ بھی لگا جائے گھر میں ہو تو سارا دن بلند آواز میں اسٹیریو آن رکھتی ہے۔ پہلے کبھی اس نے یہ بھی نہیں کیا، دل چاہے تو کھانا کھائے گی ورنہ دو چمچ لے کراٹھ جاتی ہے اور ان سے بات کروں تو یہ کہتے ہیں کہ وہ جو کچھ کر رہی ہے کرنے دوں میں کوئی اعتراض نہ کروں۔ مگر اس طرح سب کچھ کتنے دن اور کیسے چلے گا۔”
عمر خاموشی سے نانو کی شکایتیں سنتا رہا، جبکہ نانا بڑی بے نیازی سے کھانا کھانے میں مصروف رہے۔
”گرینڈ پا نے ٹھیک کہا۔ وہ جو کر رہی ہے اسے کرنے دیں۔ آہستہ آہستہ وہ خود ہی نارمل ہو جائے گی۔” عمر نے پانی پیتے ہوئے کہا۔
”میں نے ان سے کہا۔ اسے سائیکاٹرسٹ کو دکھائیں، دوبارہ سے سیشن کروائیں اس کا ڈپریشن تو کم ہو مگر یہ اس پر بھی تیار نہیں۔” نانو کو ایک بار پھر سے شکایت ہو رہی تھی۔
”میں اس کی مرضی کے بغیر اسے سائیکاٹرسٹ کے پاس کیسے لے جا سکتا ہوں اور اس نے صاف صاف کہہ دیا ہے کہ وہ اب کسی سائیکاٹرسٹ کے پاس نہیں جائے گی کیونکہ وہ پاگل نہیں ہے اور میں اسے مجبور نہیں کر سکتا نہ ہی کرنا چاہتا ہوں۔” نانا نے پہلی بار گفتگو میں حصہ لیتے ہوئے کہا۔
”میری بات کرنے کا نتیجہ تو آپ دیکھ ہی چکے ہیں، مجھے تو پہلے ہی شرمندگی ہے نہ میں ذوالقرنین سے بات کرتا اور نہ یہ سب ہوتا۔ وہ خوش تھی خوش رہتی۔” عمر کو واقعی پچھتاوا تھا۔
”پھر بھی تم اس سے بات کرو، اس طرح اس کو اکیلا تو نہیں چھوڑا جا سکتا پرسوں سکندر کا فون آیا تھا، اس سے بات کرنے سے انکار کر دیا۔ سات آٹھ دن پہلے ثمینہ کا فون آیا تھا، تب بھی اس نے یہی کیا میں نے سمجھانے کی کوشش کی تو اس نے صاف کہہ دیا میرے کوئی ماں باپ نہیں ہیں، نہ ہی میں کسی سے فون پر بات کرنا چاہتی ہوں مجھے کوئی ٹیلی فونک رشتہ نہیں چاہئے۔” نانو نے رنجیدہ لہجے میں کہا۔
”میں نے اتنے سال اس کی تربیت پر لگا دیے اور اب یہ سب کر رہی ہے، میری ساری محنت اس نے ضائع کر دی۔”
”گرینی! آپ نے اس کی تربیت نہیں کی، آپ نے اس کی شخصیت بننے ہی نہیں دی۔” نانو نے عمر کی بات کاٹ دیں۔
”میں نے اسے ہر چیز دی۔”
”تربیت سہولتوں اور چیزوں کو نہیں کہتے۔” اس نے مستحکم آواز میں کہا۔ ”آپ نے اس کو صرف پالا ، پالنے میں اور تربیت کرنے میں فرق ہوتا ہے۔ آپ نے اس کی تربیت کی ہوتی تو وہ ذوالقرنین کے ساتھ افیئر نہ چلاتی یا ایسی غلطی کر بھی لیتی تو اس طرح خودکشی کی کوشش نہ کرتی۔ میں نہیں مانتا کہ اس کو ذوالقرنین سے محبت ہوئی ہے… ذوالقرنین کی جگہ آ ج کوئی دوسرا بندہ آکر وہی سب کچھ اس سے کہنا شروع کر دے جو ذوالقرنین کہتا تھا وہ اس کے ساتھ بھی اسی طرح آنکھیں بند کرکے چل پڑے گی… اس کو جہاں سے توجہ اور محبت ملے گی ، وہ وہاں چلے جائے گی۔ کیونکہ اس کو یہ چیزیں آپ سے یا اپنے پیرنٹس سے نہیں ملی ہیں۔
”اس خاندان میں اور بھی تو بہت سے اس جیسے بچے ہیں جن کے پیرنٹس میں علیحدگی ہو چکی ہے کسی نے بھی ویسے پرابلمز کھڑے نہیں کئے جیسے علیزہ نے کئے ہیں۔”
”اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ باقی سارے بچے علیحدگی کی صورت میں پیرنٹس میں سے کسی ایک کے پاس رہے ہیں اور دوسرے سے ملتے رہے ہیں، علیزہ کی طرح کسی کو نانا، نانو کے پاس نہیں چھوڑا گیا۔”
”تم بھی تو ہو عمر! تم تو بورڈنگ میں رہے ہو، جہانگیر نے مستقل تمہیں اپنے پاس نہیں رکھا اور زارا سے بھی ملنے نہیں دیا پھر بھی تم نے کسی کے لئے کوئی پرابلمز کھڑے نہیں کئے۔” عمر کے چہرے پر ایک تلخ مسکراہٹ ابھری۔
”میں کتنا نارمل ہوں، یہ میں ہی جانتا ہوں۔ ۔ مرد کی زندگی کا دائرہ عورت کی زندگی کے دائرے سے مختلف ہوتا ہے۔ میری ساری زندگی گھر کے باہر گزرتی ہے، میرے پاس بہت سی مصروفیات ہیں، بہت سی تفریحات ہیں پھر ایک کیرئیر ہے اور پھر میں چھبیس سال کا ہوں۔ مجھے اس ٹین ایجر سے تو کمپیئر نہیں کر سکتے جس کی زندگی کے دائرہ میں ایک دوست، دو گرینڈ پیرنٹس ایک بلی اور چند خواب ہوں۔”
”اس کے پیرنٹس کی سیپریشن کی ذمہ دار میں نہیں ہوں، اگر اس نے کوئی دکھ اٹھایا ہے تو میری وجہ سے نہیں کیا، میں اسے جودے سکتی تھی، میں نے دیا اب چوبیس گھنٹے تو میں اس کو گود میں لے کر نہیں بیٹھ سکتی اور پھر اب وہ بچی نہیں ہے۔ میچور ہو رہی ہے۔ اپنی سیچویشن اور پرابلمز کو سمجھے حالات کے ساتھ ایڈجسٹ کرنا سیکھے۔”
”تیراکی سکھائے بغیر آپ کسی کو انگلش چینل کراس کرنے کے لئے سمندر میں دھکیل دیں گی تو اس کے ساتھ وہی ہو گا جو علیزہ کے ساتھ ہو رہا ہے اس پر ترس کھانے کے بجائے اس کے ساتھ وقت گزاریں۔”
”وہ پاس بیٹھنے کو تیار تو ہو۔” عمر کھانا ختم کرچکا تھا۔
”میں اس سے بات کرتا ہوں، لیکن میرا خیال ہے اس کو کچھ عرصہ کے لئے لے جائیں۔”
”کہاں لے جاؤں؟”
”کہیں بھی کسی ہل اسٹیشن یا اس سے پوچھ لیں، جہاں وہ جانا چاہے۔” وہ ٹیبل سے اٹھ گیا۔
٭٭٭

علیزہ کے کمرے کے دروازے پر ناک کرکے وہ جواب کا انتظار کئے بغیر اندر داخل ہو گیا۔ وہ اپنی راکنگ چیئر پر جھول رہی تھی۔ عمر کو دیکھ کر کچھ گڑبڑائی۔
”کیسی ہو علیزہ؟” عمر نے بڑے دوستانہ انداز میں مسکراتے ہوئے کہا۔ اس نے جھولنا بند کر دیا۔ اس کے چہرے پر جواباً کوئی مسکراہٹ نمودار ہوئی نہ ہی اس نے عمر کے سوال کا جواب دیا۔ وہ صرف بے تاثر چہرے کے ساتھ عمر کو دیکھتی رہی۔ جو اطمینان سے اس کی کرسی کے قریب بیڈ پر بیٹھ گیا۔
”آپ مجھ سے میرا حال پوچھنے نہیں آئے۔ کچھ اور پوچھنے آئے ہیں۔”
”تم نے ٹھیک کہا۔ میں واقعی کچھ اور پوچھنے آیا ہوں۔”
”میں جانتی ہوں۔ آپ کیا پوچھنے آئے ہیں؟” اس نے اپنی گود میں رکھا ہوا ہیئربینڈ اپنے بالوں میں لگاتے ہوئے کہا۔
”یہ تو بڑی اچھی بات ہے، اچھا تو کیا پوچھنے آیا ہوں میں؟” عمر نے بڑے اطمینان سے پوچھا۔
”آپ مجھ سے کہیں گے کہ میں نے خودکشی کی کوشش کیوں کی؟”
”نہیں میں یہ پوچھنے نہیں آیا۔”
علیزہ کی آنکھوں میں بے یقینی لہرائی۔ ”پھر آپ مجھ سے یہ کہنے آئے ہوں گے کہ میں نے خودکشی کی کوشش کرکے اچھا نہیں کیا۔ مجھے ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا۔”
”نہیں میں یہ کہنے نہیں آیا۔”
”پھر نانو نے آپ سے میرے بارے میں کچھ کہا ہو گا۔ آپ مجھے سمجھانے آئے ہوں گے کہ میں اپنا رویہ ٹھیک کر لوں۔”
”سوری علیزہ! تمہارا اندازہ اس بار بھی غلط ہے، میں یہ بھی کہنے نہیں آیا۔ میں صرف یہ پوچھنے آیا ہوں کہ تم کب سے میرے کمرے سے سلیپنگ پلز لیتی آرہی ہو؟” عمر نے دیکھا کہ علیزہ کے چہرے کا رنگ اڑ گیا۔
”اور ظاہر ہے تم میرے سامان کی اچھی خاصی جانچ پڑتال کرتی رہی ہو۔”
علیزہ نے کچھ کہنا چاہا عمر نے اسے ٹوک دیا۔ ”نہیں، کم از کم میرے ساتھ جھوٹ نہیں۔ میں جانتا ہوں تم میرے کمرے میں پلز لیتی رہی ہو اورتم نے میرے کمرے سے ہی پلز لے کر خودکشی کی کوشش کی کیا میں غلط کہہ رہا ہوں؟”
”ہاں ٹھیک ہے میں نے آپ کے کمرے سے پلز لیں… لیکن مجھے ضرورت تھی اس لئے لیں اور اس میں بری بات کیا ہے؟ آپ بھی تو یہ گولیاں کھاتے ہیں۔”
وہ کچھ لمحوں کے لئے کچھ بول نہیں سکا۔ ”تمہاری اور میری عمر میں بڑا فرق ہے اور میں نے اسے عادت نہیں بنایا۔”
”مگر آپ لیتے تو ہیں نا۔” اس نے اپنے لفظوں پر زور دیتے ہوئے کہا۔
”لیکن میں مرنے کے لئے تو نہیں لیتا۔”
اس بار وہ چپ ہو گئی۔ ”ذوالقرنین نے گھرجا کر ایک بار بھی تمہارے بارے میں نہیں سوچا ہو گا اور تم نے اس کے لئے مرنے کی کوشش۔”
علیزہ نے تیز آواز میں اس کی بات کاٹ دی۔ ”آپ اس کے بارے میں بات نہ کریں۔”
”کیوں کیا اب تم اس سے نفرت کرنے لگی ہو؟” عمر نے جیسے مذاق اڑایا۔ ”مگرتمہیں اس سے نفرت کبھی نہیں ہو سکتی تو پھر ٹھیک ہے گرینڈ پا کہہ رہے ہیں نا کہ تم چاہو تو وہ تم سے اس کی شادی کروا دیتے ہیں پھر تم ان کا پرپوزل قبول کر لو۔”
”مجھے ذوالقرنین کی ضرورت نہیں ہے۔ مجھے اب کسی کی بھی ضرورت نہیں ہے مجھ میں اتنی سیلف ریسپیکٹ (عزت نفس) ہے کہ جو شخص میری انسلٹ کرے ، میں اس سے شادی نہ کروں اور اس نے میری انسلٹ کی ہے۔” اس کی آنکھوں میں یک دم آنسو امڈ آئے۔ اس نے چہرہ جھکا لیا۔
”تو پھر ایسے شخص کے لئے اس طرح کی حرکت کرنے کی کیا ضرورت تھی؟” اس نے جواب دینے کی بجائے اپنا سر گھٹنوں میں چھپا لیا۔ عمر نے اپنا سوال دہرایا۔
وہ اب رو رہی تھی۔ ” لوگ اتنے جھوٹے ہوتے ہیں، اتنے مکار ہوتے ہیں کہ میں تو ان کے ساتھ نہیں رہ سکتی۔ لوگ اپنے چہرے پر اتنے ماسک چڑھا کر پھرتے ہیں کہ میں تو کسی کو پہچان ہی نہیں سکتی ہر چیز کا استعمال کرتے ہیں لفظوں کا بھی، میں تو لوگوں کو نہیں سمجھ سکتی اس نے مجھ سے بہت دفعہ محبت کا اظہار کیا۔ اس نے مجھ سے بہت دفعہ کہا کہ وہ مجھ سے شادی کرے گا، اور اور اس دن آپ کے سامنے اس نے صاف انکار کر دیا کہ اس نے ایسا کہا ہی نہیں نہ اس نے مجھ سے محبت کا اظہار کیا ہے ،نہ اس نے مجھ سے کبھی شادی کا وعدہ کیا ہے۔ اسے احساس بھی نہیں ہوا کہ وہ میرے ساتھ کیا کر رہا ہے۔ اس کے لئے سب کچھ ٹائم پاس تھا۔ مگر میرے لئے تو ٹائم پاس نہیں تھا میں تو اب کسی کا سامنا کرنے کے قابل نہیں رہی نہ نانا کا نہ نانو کا نہ ہی آپ کا۔میرے بارے میں کیا سوچتے ہوں گے سب کہ میں کس طرح کی لڑکی ہوں۔ میرا دل چاہتا ہے دنیا کا ایک دروازہ ہو جس سے میں باہر نکل جاؤں اگر اکیلے رہنا ہے تو پھر وہاں جا کر رہوں۔”
”اور تم نے وہ دروازہ سلیپنگ پلز کھا کر ڈھونڈنے کی کوشش کی؟”
علیزہ نے ایک دم سر اٹھا کر عمر کو دیکھا۔ ”پتہ نہیں میں نے کیا کیا آپ اس دن کی بات نہ کریں۔ آپ کچھ بھی نہ کہیں مجھے بار بار سب کچھ یاد نہ دلائیں۔”
”ٹھیک ہے میں کوئی بات نہیں کرتا، ہم سب کچھ بھول جاتے ہیں سب کچھ ذوالقرنین کو بھی۔ اب تم بتاؤ آگے کیا کرنا ہے؟”
”وہی جواب کر رہی ہوں۔”
”تم جانتی ہو تمہاری وجہ سے گرینی اور گرینڈ پا کتنے پریشان ہیں؟”
”میری سمجھ میں نہیں آتا ہر ایک میری وجہ سے پریشان کیوں ہوتا ہے۔ وہ دونوں اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کی وجہ سے پریشان کیوں نہیں ہوتے جو کچھ آپ کے پاپا نے کیا۔ اس پر وہ پریشان کیوں نہیں ہوتے۔”
وہ بات کرتے کرتے چپ ہو گئی۔ عمر کا رنگ ایک لمحہ کے لئے بدلا پھر وہ اسی طرح اسے دیکھتا رہا۔
”کہتی رہو خاموش کیوں ہو گئیں۔” اس نے بڑے نارمل انداز میں اس سے کہا۔
”آپ نانا اور نانو سے کہیں وہ میرے بارے میں پریشان نہ ہوں میں بالکل ٹھیک ہوں۔”
”ٹھیک ہے میں کہہ دوں گا۔ کرسٹی کو کیوں چھوڑ دیا تم نے اور شہلا سے کیوں نہیں مل رہیں۔”

”مجھے وہ دونوں اچھی نہیں لگتیں۔”
”پھر ایک دوسری بلی اور دوسری فرینڈ بنالو۔” علیزہ نے تیکھی نظروں سے اسے دیکھا۔
”جس چیز سے دل بھر جائے اسے Replaceکر دینا چاہئے۔” عمر نے بات جاری رکھی۔
”بالکل ویسے ہی جیسے ذوالقرنین نے مجھے Replaceکردیا؟”
عمر چپ ہو گیا۔ میں ذوالقرنین کی بات نہیں کر رہا۔” کچھ دیر بعد اس نے کہا۔
”آپ اپنی زندگی میں چیزوں کو Replaceکرتے ہیں؟”وہ اسی طرح سر اٹھا کر اس سے پوچھ رہی تھی۔
”نہیں، میں نہیں کر پاتا۔” عمر نے اعتراف کیا۔ ”مگر میں سیکھ جاؤں گا۔ جس پروفیشن میں جا رہا ہوں، وہ پروفیشن مجھے سب کچھ سکھا دے گا۔”
”مگر میں کبھی کسی چیز کو Replaceکرنا نہیں سیکھ سکتی۔”
”پھر زندگی بڑی مشکل ہو جائے گی ۔ تمہارے لئے۔”
”مشکل ہو جائے گی؟ مشکل ہے۔” وہ عجیب سے انداز میں ہنسی۔
”میں چاہتا ہوں علیزہ! تم خود کو اس طرح ضائع مت کرو میں چاہتا ہوں۔ تم بہت اچھی زندگی گزارو۔” اس نے بڑی سنجیدگی سے علیزہ کا ہاتھ پکڑ لیا۔
”آپ ایسا کیوں چاہتے ہیں۔”
”پتہ نہیں، مگر میں تمہاری پروا کرتا ہوں۔ میں تمہیں تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا۔”
”آپ واقعی پروا کرتے ہیں میری ؟” علیزہ نے پوچھا۔
”کیا تمہیں اب بھی مجھ سے یہ پوچھنے کی ضرورت ہے۔ میرا خیال تھا تم یہ جانتی ہو گی۔”
”میں کچھ نہیں جانتی میں نے آپ سے کہا نا میں لوگوں کو نہیں سمجھ سکتی۔” اس نے مایوسی سے سر ہلاتے ہوئے کہا۔
”مجھے ان لو گوں میں شامل مت کرو تمہیں مجھ پر اعتماد ہونا چاہئے۔ علیزہ سکندر کو عمر جہانگیر کبھی دھوکا نہیں دے سکتا۔”
علیزہ بہت غور سے اس کا چہرہ دیکھتی رہی۔ وہ اب بھی اسی طرح اس کا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں لئے ہوئے تھا۔
”کیا آپ مجھ سے شادی کریں گے؟” اس نے سر اٹھا کر عمر سے پوچھا۔


جاری ہے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔