Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 12

امربیل از عمیرہاحمد
۔۔۔۔
قسط نمبر 12
۔۔۔۔۔
باب 14

کمرے کے کونے میں وہی پلانٹ پڑا ہوا تھا۔ جس کی ایک شاخ اس نے چند دن پہلے ہی کاٹ دی تھی۔ مگر حیرانی اسے پلانٹ کو دیکھ کر نہیں ہوئی، بلکہ ربڑ پلانٹ کی اس کاٹی جانے والی شاخ کو دیکھ کر ہوئی جو اس نے جان بوجھ کر کاٹ دی تھی، اور اس وقت وہ شاخ اس گملے میں ہی لگی ہوئی تھی۔ شاخ مرجھا چکی تھی مگر اسے گملے سے نکال کر پھینکا نہیں گیا تھا۔
علیزہ کی شرمندگی میں ایک دم ہی ڈھیروں اضافہ ہو گیا چند لمحے دروازہ کے ہینڈل پر ہاتھ رکھے وہ اس شاخ کو دیکھتی رہی پھر اس نے عمر کی طرف دیکھا تھا وہ اس کی طرف متوجہ نہیں تھا، وہ تو اپنے بیگ سے چیزیں نکال رہاتھا۔ علیزہ کا ملال کچھ اور بڑھ گیا۔
”پتہ نہیں، عمر کو اس پودے سے کتنی محبت تھی، مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔”
اس نے ایک بار پھر شاخ کو دیکھتے ہوئے سوچا۔

اسی لمحہ عمر اس کی طرف متوجہ ہوا اس کی نظروں کا تعاقب کرتے ہوئے اس کی نظر بھی کمرے کے کونے تک گئی، اورعلیزہ کو پلانٹ پر نظریں جمائے دیکھ کر وہ سب کچھ سمجھ گیا۔
”مجھے اپنی ہر چیز سے خاص قسم کی محبت ہوتی ہے۔ اس لئے میں انہیں ہمیشہ اپنے پاس رکھنا چاہتا ہوں، اور اسے بھی میں نے اسی لئے وہاں لگایا تھا۔”
علیزہ اس کی آواز پر چونکی وہ اسی سے مخاطب تھا۔
”مگر یہ تو خشک ہو رہی ہے؟”
”جب پوری طرح خشک ہو جائے گی، تب پھینک دوں گا!”
اس نے بڑے ہی نارمل انداز میں علیزہ سے کہا اور ایک بار پھر اپنے کام میں مصروف ہو گیا۔ علیزہ الجھن بھری نظروں سے کچھ دیر اسے دیکھتی رہی اور پھر کمرے سے باہر نکل آئی۔
٭٭٭
عمر کے واپس آجانے سے نانو کا رویہ یک دم بالکل ٹھیک ہو گیا تھا، اور اس پر علیزہ نے خدا کا شکر ادا کیاتھا۔
عمر کے پیپرز شروع ہو چکے تھے اور ان دونوں کا سامنا بہت کم ہی ہوتا تھا۔ خود علیزہ بھی کالج جانا شروع کر چکی تھی، اور اپنے سمیسٹر کی تیار ی میں مصروف تھی۔
اس رات جب دو بجے کے قریب عمر سونے کی تیاری میں مصروف تھاجب پیاس لگنے پر اس نے ریفریجریٹر میں پڑی ہوئی بوتل کو خالی پایااور پھر پانی پینے کے لئے وہ کچن کی طرف آیا تھا لاؤنج میں سے گزرتے ہوئے وہ ٹھٹھک کر رک گیا۔ لاؤنج میں ہلکی روشنی کا بلب آن تھا اور اس کی روشنی میں اس نے کسی کو لاؤنج کا دروازہ کھولتے دیکھا اسے پہچاننے میں دیر نہیں لگی، وہ علیزہ تھی۔
”مگر رات کے اس وقت لاؤنج کے دروازے پر وہ کیا کر رہی ہے؟” اس نے حیرانی سے سوچا اور آگے بڑھ کر لائٹ آن کر دی۔ اس کا خیال تھا کہ علیزہ واپس پلٹ کر دیکھے گی مگر ایسا نہیں ہوا۔ واپس پلٹے بغیر وہ دروازہ کھول کر لاؤنج سے نکل گئی تھی۔
”علیزہ!” عمر نے کچھ حیران ہو کر اسے آواز دی مگر وہ متوجہ نہیں ہوئی۔ عمر کچھ حیران ہو کر خود بھی اس کے پیچھے لاؤنج کا دروازہ کھول کر باہر نکل آیا تھا۔ علیزہ آہستہ آہستہ مین گیٹ کی طرف جا رہی تھی۔
”علیزہ !”

عمر نے ایک بار پھر اسے آواز دی مگر وہ متوجہ نہیں ہوئی۔ عمر کچھ اور حیران ہوا۔ وہ اب بھی گیٹ کی طرف چلتی جا رہی تھی۔ وہ کچھ پریشانی کے عالم میں اسے جاتا دیکھتا رہا۔ وہ اب گیٹ کے پاس پہنچ چکی تھی۔ گیٹ پر موجود چوکیدار کرسی سے اٹھ کر اس کے پاس آگیا اور اس سے کچھ کہہ رہا تھا مگر وہ گیٹ کی طرف بڑھ گئی تھی اور اب گیٹ کھولنے کی کوشش کر رہی تھی۔ عمر تیز قدموں کے ساتھ گیٹ کی طرف بڑھ آیا۔ چوکیدار کچھ سراسیمہ نظر آرہا تھا۔
”جناب! یہ علیزہ بی بی گیٹ کھولنے کے لئے کہہ رہی ہیں۔” چوکیدار نے عمر کے آتے ہی اس سے کہا عمر اس سے کچھ کہے بغیر علیزہ کی طرف بڑھ گیا وہ گیٹ پر لگے ہوئے تالے کے ساتھ الجھی ہوئی تھی۔
”علیزہ ! کیا بات ہے؟ کہاں جانا چاہتی ہو؟” اس نے علیزہ سے پوچھا۔
” گیٹ نہیں کھل رہا۔ باہر جانا ہے!”
وہ اب بھی گیٹ کھولنے کی کو شش میں مصروف تھی۔
”یہی تو پوچھ رہا ہوں کہ کہاں جانا ہے؟”
”پاپا کے پاس جانا ہے۔”
”علیزہ!”
عمر ساکت رہ گیا۔
”گیٹ کھول دوچوکیدار… گیٹ کھول دو۔”
وہ اب بھی اسی طرح کہہ رہی تھی۔ عمر نے اس کے چہرے کو غور سے دیکھا۔ چند لمحے تک وہ کچھ بول نہیں سکا۔ خاموشی کے ان چند سیکنڈزمیں اسے جیسے ہر چیز سمجھ میں آنے لگی تھی۔ اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اس نے پوچھا۔
”پاپا کے پاس کیسے جاؤ گی؟”
”یہ باہر جاؤں گی نا……تو ادھر……وہ …پاپا ہوں گے!”
اس نے اٹک اٹک کر کہاتھا۔
”آؤ میں تمہیں پاپا کے پاس لے جاتا ہوں۔”
اس نے نرمی سے اس کا ہاتھ پکڑ لیا، اور اسے واپس لے جانے لگا۔ وہ خاموشی سے اس کے ساتھ اسی طرح چلتی رہی۔ عمر جان چکاتھا کہ وہ نیند میں چل کر باہرآئی ہے، لیکن اس کے لئے جو بات پریشان کن تھی، وہ یہ تھی کہ علیزہ کب سے اس عادت کا شکار تھی اور کیا نانو اور نانا اس بات سے واقف تھے۔ وہ جب سے یہاں آیا تھا، آج پہلی بار علیزہ اسے اس حالت میں ملی تھی۔ وہ اسی طرح اس کا ہاتھ پکڑے ہوئے اس کے کمرے تک لے آیا اور اسے اس کے بیڈ پر جا کر بٹھا دیا۔
اور وہ کچھ بھی کہے بغیر بیڈ پر لیٹ گئی۔ عمر کو اس سے کچھ بھی کہنا نہیں پڑا۔ اس نے خود ہی آنکھیں بند کر لیں تھیں۔ عمر کچھ دیر وہیں کھڑا اسے دیکھتا رہا۔ پھر اس نے آگے بڑھ کر اس پر چادر پھیلا دی۔ دوتین بار علیزہ کو آوازدینے پر بھی جب اس نے آنکھیں نہیں کھولیں تو وہ مطمئن ہو گیا۔
٭٭٭
اگلی صبح چھٹی تھی علیزہ گھر پر ہی تھی۔ ناشتہ کی میز پر عمر سے اس کی ملاقات ہوئی۔ عمر نے بیٹھتے ہوئے بڑے غور سے اسے دیکھا۔ وہ بالکل نارمل نظر آرہی تھی۔ عمر کی سمجھ میں ہی نہیں آیا کہ وہ رات کے بارے میں اس سے کیسے بات کرے۔ ناشتہ کرتے ہوئے اس نے جان بوجھ کر اپنی رفتار ہلکی رکھی۔ جب نانا کے بعد نانو بھی ٹیبل سے اٹھ گئیں تو عمر نے علیزہ سے بات کرنے کا سوچاتھا۔
”علیزہ ایک بات پوچھوں ؟”
عمر نے بڑے نارمل انداز میں کہا۔
علیزہ نے کچھ حیرانی سے اسے دیکھا اور پھر کارن فلیکس کھاتے ہوئے کہا۔
”ہاں!”
”تمہیں نیند میں چلنے کی عادت ہے؟”
علیزہ کے ہاتھ سے چمچ چھوٹ کر ٹیبل پر گرگیا۔ عمر نے اس کی آنکھوں میں بے تحاشا خوف دیکھا۔ وہ بالکل ہی بے حس و حرکت تھی۔ عمر چند لمحے میز پر پڑے چمچ کو دیکھتا رہا پھر پر سکون انداز میں اس نے علیزہ سے کہا۔
”یعنی ہے……اٹس آل رائٹ بہت سے لوگوں کو یہ…۔۔۔”عادت”ہوتی ہے۔”
وہ روانی میں بیماری کہتے کہتے رک گیا۔ وہ اب بھی اسی طرح بے حس و حرکت تھی۔
” علیزہ ! کب سے ایسا ہے؟”
عمر نے جوس پیتے ہوئے بڑے عام سے انداز میں اس سے پوچھا۔
”کیا؟”
وہ اب بھی خوفزدہ تھی۔
”نیند میں چلنے کی عادت !”

علیزہ نے بے بسی سے سر جھکا لیا اور عمر کچھ دیر اسے دیکھتا رہا۔
”مجھے نہیں پتا ۔”
اسے علیزہ کی مدھم سی آواز سنائی دی تھی۔
”گرینی اور گرینڈ پا جانتے ہیں کیا اس بات کو؟”
علیزہ نے اس کے سوال پر سر ہلا دیا وہ چپ چاپ اسے دیکھتا رہا۔
”کل رات تم باہر گیٹ پر تھیں میں تمہیں وہاں سے لے کر آیا تھا۔ پہلے تو میری سمجھ میں کچھ بھی نہیں آیا……لیکن پھر میں سمجھ گیا۔”
وہ اسے بتا رہا تھا اور علیزہ کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ وہاں سے غائب ہو جائے۔
”کیا عمر سے میری کوئی بات بھی راز نہیں رہے گی؟”
اس نے بے بسی سے سوچا۔
”سونے سے پہلے تم کمرہ اچھی طرح لاک کر لیا کرو پھر سلیپنگ پلز لے لیا کرو۔ بلکہ بہتر ہے کہ کوئی سکون آور گولی لے لیا کرو، لیکن ڈاکٹر سے پوچھ کر۔ اس طرح رات کو باہر نکل جانا کافی خطرناک ہے۔ ابھی تم چھوٹی ہو، اس کا ٹریٹمنٹ بہت آسانی سے ہو جائے گا۔ اگر ابھی اگنور کرو گی تو بعد میں پرابلم ہو گا۔”
وہ ہلکی آواز میں اسے سمجھا رہا تھا۔
”تم سن رہی ہو نا ،میں کیا کہہ رہا ہوں؟”
عمر نے اس سے پوچھا اور اس نے جھٹکے سے سر کوہلا دیا۔
”ٹھیک ہے!”
یہ کہہ کر وہ ٹیبل سے کھڑا ہو گیا۔
”پلیز آپ نانا کو اس بارے میں نہ بتائیں۔”
اس نے اچانک علیزہ کی التجائیہ آواز سنی تھی۔
”لیکن تم نے کہا کہ وہ یہ بات جانتے ہیں!”
”ہاں وہ جانتے ہیں لیکن ان کا خیال ہے کہ میں ٹھیک ہو چکی ہوں۔ وہ پریشان ہوں گے پلیز آپ ان سے بات نہ کریں۔”
عمر کو اس پر ترس آگیا۔

”انہوں نے کسی سے تمہارا ٹریٹمنٹ کروایا ہے۔”
”ہاں وہ… وہ ایک سائیکاٹرسٹ سے سیشن کرواتے رہے ہیں۔”
اس نے الجھے ہوئے انداز میں کہا۔
”پھر ؟”
”پھر میں ٹھیک ہو گئی تھی!”
”تواب کیوں؟” عمر نے بات ادھوری چھوڑی دی۔
”پتا نہیں۔ میری سمجھ میں نہیں آتا مگر آپ نانو سے بات نہ کریں۔”
”ان سے بات کرنے کا فائدہ ہی ہوگا۔ سائیکاٹرسٹ سے دوبارہ سیشن ہوں گے تو تم پھر ٹھیک ہو جاؤ گی۔”
عمر نے اسے تسلی دی۔
”میں یہ سب نہیں چاہتی۔”
وہ سر پکڑ کر دبی ہوئی آواز میں چلائی تھی۔
”آپ سمجھتے نہیں میرے ایگزامز شروع ہونے والے ہیں ، میں ٹینشن میں تھی، اسی لئے ایسا ہوا۔ اب میں ریلیکس ہونے کی کوشش کروں گی تو سب کچھ ہی ٹھیک ہو جائے گا۔ نانو اور نانا فضول میں پریشان ہوں گے۔ مجھے بھی ڈسٹرب کریں گے۔ میں بھی اپنے پیپرز پر توجہ نہیں دے پاؤں گی۔ پلیز آپ ان کو کچھ مت بتائیں!”
اس کے لہجہ میں اتنی بے چارگی تھی کہ وہ نہ چاہتے ہوئے بھی اس کی بات ماننے پر مجبور ہو گیا۔
”ٹھیک ہے میں ان سے بات نہیں کروں گا۔”
اسے یک دم علیزہ کے چہرے پر اطمینان نظر آیا۔
”تھینک یو!”
اس نے بے اختیار عمر سے کہا۔
”کوئی بات نہیں !”
وہ کہتے ہوئے وہاں سے چلا گیا تھا۔ علیزہ خاموشی سے اسے جاتا دیکھتی رہی۔
٭٭٭
اگلے چند دن عمر رات کو خود لاؤنج لاک کرتارہاتھا اور سونے سے پہلے باہر کا بھی ایک چکر لگا لیتا تھا۔ پھر علیزہ کے کمرے کے ہینڈل بہت آہستگی سے گھما کر چیک کرتا،دروازہ ہمیشہ ہی اسے لاکڈ ہی ملا۔ وہ مطمئن ہو گیا کہ علیزہ نے اس کی ہدایات پر عمل کیا تھا اور اس رات کا واقعہ واقعی وقتی ٹینشن کا نتیجہ تھا۔
مگر یہ اطمینان زیادہ دنوں تک بر قرار نہیں رہاتھا۔ اس رات وہ اپنے آخری پیپر کی تیاری میں مصروف تھا۔ اس نے رات کے پچھلے پہر گھر میں مدھم شور سنا۔ کچھ چونک کر اس نے غور سے شور کی نوعیت سمجھنے کی کوشش کی۔ وہ چیخوں کی آواز تھی۔ وہ بجلی کی سی تیزی سے اپنے کمرے سے نکل آیا۔ چیخوں کی آواز علیزہ کی تھی، اور اس کے کمرے سے آرہی تھی۔ عمر بے اختیار بھاگتا ہوا اس کے کمرے کی طرف گیا دروازہ لاکڈ تھا اور اندر سے وہ کچھ کہتے ہوئے زور زور سے چیخ رہی تھی۔ عمر نے پوری قوت سے دروازہ بجایا۔
”علیزہ کیا بات ہے؟ کیا ہوا؟”
اس نے عمر کی بات کے جواب میں کچھ بھی نہیں کہاتھا۔ وہ اب بھی اسی طرح چیخ رہی تھی۔ عمر کی سراسیمگی میں اضافہ ہو گیا۔ اس نے ایک بار پھر پوری قوت سے دروازے کو پیٹا۔
”علیزہ !……علیزہ ! دروازہ کھولو۔”
فار گاڈ سیک… دروازہ کھولو۔”
اندر کیا ہورہا ہے۔ علیزہ… علیزہ…۔”
اس بار اندر یک دم خاموشی چھا گئی تھی اور اس خاموشی نے عمر کے اضطراب میں اور اضافہ کیا تھا۔
”علیزہ! علیزہ! دروازہ کھولو۔ کیا ہوا ہے؟” اس نے ایک بار پھر بلند آواز میں کہتے ہوئے دروازہ بجایا اور تب ہی اس نے نانا اور نانو کو تیز رفتاری سے آگے پیچھے آتے دیکھا۔
”گرینی ! علیزہ ابھی کچھ دیر پہلے اندر چیخ رہی تھی، پتہ نہیں کہ اسے کیا ہوا ہے؟”
عمر نے اضطراب کے عالم میں نانو سے کہا۔ ان کے چہرے پر بھی تشویش تھی مگر وہ عمر کی طرح گھبرائی نہیں تھیں۔
”دوبارہ ڈر گئی ہو گی!”
انہوں نے دروازہ بجاتے ہوئے کہاتھا۔
”کیا؟”
عمر نے حیرانی سے ان کا چہرہ دیکھا۔

”دوبارہ ڈر گئی، کس چیز سے ڈر گئی ؟”
نانا نے اس کے کندھے پر تھپکی دیتے ہوئے کہا۔ ”پریشان مت ہو۔ وہ نیند میں ڈر جاتی ہے۔”
عمر ساکت کھڑا انہیں دیکھتا رہا۔ وہ بھی اب نانو کے ساتھ مل کردروازہ بجا رہے تھے۔
علیزہ لائٹ جلاؤ۔ میری جان دروازہ کھولو۔ گھبراؤ مت۔”
نانواب اسے ہدایات دے رہی تھیں۔ چند منٹوں بعد عمر نے دروازے کی جھری سے کمرے میں روشنی ہوتے دیکھی۔ پھر چند لمحوں بعد دروازہ کھل گیا۔
علیزہ کا رنگ زرد تھا اور وہ کانپ رہی تھی۔ عمر نے اس کے چہرے کو پسینے سے بھیگا ہوا دیکھا۔ نانو نے آگے بڑھ کر اسے اپنے ساتھ لپٹا لیا۔
”کیا ہوا میری جان؟”
وہ اسے ساتھ لپٹائے ہوئے پوچھ رہی تھیں۔
نانا بھی کمرے کے اندر چلے گئے، لیکن عمر اندر داخل نہیں ہوا تھا۔ وہ وہیں کوریڈور میں کھڑا کچھ دیر اسے دیکھتا رہا اور پھروہاں سے چلا گیا۔
٭٭٭
”تم ذہن پر اس چیز کو سوار مت کرو۔اس کے ساتھ پہلے بھی ایسا ہوتا رہا ہے۔ جب بھی وہ اپنے پیرنٹس کے پاس رہ کر آتی ہے تو پھر اسی طرح ڈر جاتی ہے ، یا پھر نیند میں چلنے لگتی ہے۔ تم اگر پہلے مجھے اس رات کے بارے میں بتا دیتے تو میں محتاط ہو جاتی اور اسے سائیکاٹرسٹ کے پاس لے جاتی”
اگلی شام عمر نانو کے ساتھ علیزہ کا پرابلم ڈسکس کر رہا تھا۔ اس نے انہیں اس رات علیزہ کے باہر جانے کے بارے میں بھی بتا دیا تھا اور اس کے پوچھنے پر نانو نے اسے علیزہ کی پرابلم کے بارے میں بھی بتا دیا تھا۔
”سائیکاٹرسٹ کیا کہتا ہے؟”
”وہ کہتا ہے کہ Insecurity (عدم تحفظ) کے احساس کی وجہ سے ایسا ہوتا ہے۔ وہ خود کو محفوظ محسوس نہیں کرتی، اور پیرنٹس کے ملنے کے بعد یہ احساس اور بھی زیادہ ہو جاتا ہے، اورپچھلے کئی سالوں سے ایسا ہی ہو رہا ہے۔ وہ پیرنٹس سے مل کر آتی ہے، اس کے بعد اگلے دو تین ماہ اسی طرح ڈسٹرب رہتی ہے۔ لیکن پھر آہستہ آہستہ ٹھیک ہو جاتی ہے۔ سائیکاٹرسٹ کی ہدایت ہے کہ پیرنٹس کے پاس نہ جانے دیں۔کم از کم اے ایک سال تک ان کے پاس رہنے کے لئے نہ بھیجیں اور پھر دیکھیں کہ وہ کیسے بی ہیو کرتی ہے۔ لیکن میں اسے روک نہیں سکتی کہ وہ ماں یا باپ کے رابطہ کرتے ہی ان کے پاس جانے کے لئے تیار ہو جاتی ہے۔”
”مگر کل رات تو وہ بہت بری طرح ڈر گئی تھی۔ آپ نے اس کی حالت دیکھی۔ وہ تو… !”
”اب چند دن میں اس کے پاس سوؤں گی تو وہ ٹھیک ہوجائے گی، اورکل دوبارہ اسے سائیکاٹرسٹ کے پاس لے کر جاؤں گی۔”
نانو نے اسے بتایا۔

”گرینی! آپ سائیکاٹرسٹ بدل دیں۔ اگر اتنے سالوں میں یہ سائیکاٹرسٹ اس کا علاج نہیں کر سکا، تو کوئی دوسرا سائیکاٹرسٹ دیکھیں۔”
”سائیکاٹرسٹ بدلنے سے کیا ہو گا؟”
”ہو سکتاہے، کوئی دوسرا سائیکاٹرسٹ اسے زیادہ بہتر طریقہ سے ٹریٹ کرے۔”
”میں نے تمہیں بتایا ہے نا اسے یہ پرابلمزصرف چند ماہ ہی ہوتا ہے۔ وہ بھی جب وہ اپنے پیرنٹس سے مل کر آتی ہے ، اور پھر آہستہ آہستہ وہ ٹھیک ہو جاتی ہے۔”
مگر گرینی ! ان دو تین ماہ میں ہی اسے کوئی نقصان بھی تو پہنچ سکتا ہے۔ میں نے آپ کو بتایا تھا کہ اس رات وہ باہر گیٹ تک پہنچ گئی تھی، اور اسے بالکل پتہ ہی نہیں تھا۔ اگر اسی طرح نیند کی حالت میں اس نے کچھ اور کر لیا تو؟” عمر واقعی فکر مند تھا۔
”میری سمجھ میں یہ نہیں آتا کہ اسے کس قسم کا عدم تحفظ ہے؟ کیسی پروٹیکیشن چاہئے۔ میں نے اسے ہر چیز تو دے رکھی ہے ۔کسی چیز کی کمی نہیں ہے۔”
”گرینی ! چیزیں انسانوں کی جگہ نہیں لے سکتیں ، وہ اپنے والدین کو مس کرتی ہے۔ آپ والدین کی کمی کو چیزوں سے پورا نہیں کر سکتیں۔”
عمر نے سنجید گی سے کہا۔
”ٹھیک ہے کہ اس کے والدین اس کے پاس نہیں ہیں، مگر پھر بھی وہ دونوں جس طرح اس کا خیال رکھتے ہیں ، بہت کم لوگ ہی رکھتے ہوں گے۔ ہر سال ثمینہ چھٹیوں میں اسے اپنے پاس بلوا لیتی ہے۔باپ سے ہر سال نہ سہی مگر وہ دو تین سال بعد ملتی ہی رہتی ہے۔ دونوں باقاعدگی سے اسے فون کرتے رہتے ہیں۔ ہر آنے جانے والے کے ہاتھ اس کے لئے کچھ نہ کچھ بھجواتے رہتے ہیں۔ ہر ماہ اس کے اخراجات کے لئے جو رقم بھجواتے ہیں وہ الگ ہے۔ پھر میں ہوں۔ اس کے نانا ہیں۔ جتنی دیکھ بھال ہم لوگ کرتے ہیں شاید ہی کوئی کرتا ہوگا، پھر بھی اسے ان سیکیورٹی کا احساس ہے پھر بھی اسے پروٹیکشن چاہئے اور کیا دیا جا سکتا ہے اسے؟ اس کے علاوہ بھی تو فیملی میں بہت سے بچوں کے ساتھ یہی پرابلم ہے۔مگر انہوں نے تو ایسی چیزیں اپنے اندر ڈیولپ نہیں کیں۔ تم بھی تو ہو، تمہارے پیرنٹس میں بھی تو Divorceہو گئی تھی۔ کتنے سالوں سے تم بھی تو بورڈنگ میں رہتے آ رہے ہو ۔تم نے بھی تو سب کچھ سنبھالا ہے نا!”
نانو نے اس کے سامنے اپنے دلی جذبات کا اظہار کیا۔
”یہ سب اتنا آسان نہیں ہے ، گرینی !”
عمر نے مدھم آواز میں کہا۔
”یہ چیز ہمیشہ تکلیف دیتی ہے!”
نانو چند لمحے تک اس کو دیکھتی رہیں۔

”میں جانتی ہوں، یہ تکلیف دہ ہے ۔مگر تم نے تو اس چیز کو اپنے اعصاب پر سوار نہیں کیا۔ میں چاہتی ہوں کہ وہ بھی اسے lightly لے۔ اپنے اور دوسروں کے لئے مسئلے نہ کھڑے نہ کرے۔ میں نے اس کی پرورش بہت محنت سے کی ہے، اور اس کا تم تصور بھی نہیں کر سکتے۔ میں نے اپنی کتنی ہی مصروفیات اس کی خاطر ختم کر دیں۔ اب اس قسم کی باتیں مجھے کتنا ٹینس کرتی ہیں۔ اسے اندازہ ہی نہیں۔” نانو بہت شاکی نظر آرہی تھیں۔
”گرینی! وہ جا ن بوجھ کر یہ سب نہیں کرتی۔ یہ اس کے اپنے ہاتھ میں نہیں ہے۔”
”میں جانتی ہوں، وہ یہ سب جان بوجھ کر نہیں کرتی مگر وہ خوش رہنے کی کوشش کیوں نہیں کرتی۔ کیوں چیزوں کو اپنے اعصاب پر اتنا سوار کر لیتی ہے۔ تم نے غور کیا ہے جب سے وہ کراچی سے ہو کر آئی ہے اس وقت سے وہ بالکل ہی گم صم ہو گئی ہے۔ کسی بھی کام میں دلچسپی نہیں لیتی۔ ہر سال ایسا ہی ہوتا ہے۔ ثمینہ کے پاس رہ کر آئے تب بھی یہی کچھ ہوتا ہے۔”
”تو پھر آپ اسے وہاں جانے سے روک دیا کریں۔”
”میں کیسے روکوں، وہ خود وہاں جانا چاہتی ہے اور ظاہر ہے ثمینہ کے پاس جانے سے اسے نہیں روک سکتی۔ تو پھر اس کے باپ کے پاس جانے سے کیسے روکوں؟”
”گرینی ! چلیں چھوڑیں کوئی اور بات کرتے ہیں۔”
عمر نے انہیں زیادہ فکر مند دیکھتے ہوئے بات کا موضوع بدلنے کی کوشش کی تھی۔
”بس علیزہ اے لیولز کر لے تو میری بھی ذمہ داری ختم ہو جائے گی۔”
عمر ان کی اس بات پر کچھ حیران ہوا تھا۔
”آپ کی ذمہ داری کیسے ختم ہو گی۔”
”اس کا باپ اب اس کی شادی کرنا چاہتا ہے۔ اس بار واپس جانے سے پہلے اس نے اس سلسلے میں مجھ سے بات کی تھی۔”
”علیزہ کی شادی!”
عمر جیسے چلا ہی اٹھا۔ نانو نے اسے حیرانی سے دیکھا۔
۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے