Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 13

امر بیل
از
عمیرہ_احمد
۔۔۔۔
قسط نمبر 13
۔۔۔۔۔
باب 15

علیزہ اس کے ہاتھ سے ریوالور چھین لینا چاہتی تھی۔ مگر وہ کوشش کے باوجود بھی اپنی جگہ سے ہل نہیں پائی۔ عمر سیفٹی کیچ ہٹا چکا تھا، اورریوالور اپنی کنپٹی کی طرف لے جارہا تھا۔ جب انکل جہانگیر بجلی کی سی تیزی سے لپکے اور اس کاہاتھ پکڑ لیا۔ اس سے پہلے کہ وہ اپنا ہاتھ چھڑاتا۔ انہوں نے اس کے چہرے پر ایک زور دار تھپڑ مارا۔ تھپڑ اتنا زبردست تھاکہ وہ نہ صرف چند قدم پیچھے چلا گیا ، بلکہ ریوالور پر اس کے ہاتھ کی گرفت بھی کمزور پڑگئی۔
انکل جہانگیر نے ایک جھٹکے کے ساتھ ریوالور اس سے چھین لیا اور اس کے چہرے پر ایک اور تھپڑ مارا۔ علیزہ نے اس کی ناک میں سے خون بہتے دیکھا۔ انکل جہانگیر اب اسے گالیاں دے رہے تھے۔ نانو نے یک دم آگے بڑھ کر انہیں پیچھے کھینچ لیا۔ عمر اب سامنے کھڑا پلکیں جھپکائے بغیر انہیں دیکھ رہا تھا۔ علیزہ نے کبھی کسی کے لئے اس کی آنکھوں میں اتنی نفرت نہیں دیکھی تھی۔ جتنی وہ اس وقت عمر کی آنکھوں میں انکل جہانگیر کے لئے دیکھ رہی تھی۔ اس کی ناک سے ٹپکتا ہوا خون اس کی سفید شرٹ پر گر رہا تھا۔ مگر وہ جیسے اس سے بالکل بے خبر تھا۔

”مجھ پر چلائیں مت۔” اس نے اب عمر کو انکل جہانگیر سے کہتے سنا۔
”مجھ پر اب ہاتھ اٹھا کر بہت پچھتائیں گے۔”
”کیا کرو گے تم؟ یہ ڈرامہ جو ابھی کیا ہے؟ خو د کشی کرنا چاہتے ہو تو جاؤ باہر سڑک پر جا کر کرو۔ وہاں جا کر شوٹ کرو اپنے آپ کو لیکن میرے گھر میں نہیں۔”
”نہیں ! ویسے ہی مروں گا جیسے مرنا چاہتا ہوں۔”
”اس سے کیا ہو گا۔ مجھے کوئی بھی فرق نہیں پڑے گا۔ چار چھ دن لوگ بات کریں گے پھر بھول جائیں گے۔ جہانگیر معاذ کو کچھ بھی نہیں ہو گا۔”
”چار ، چھ دن ہی سہی مگر بات تو کریں گے آپ کے بارے میں۔”
اس سے پہلے کہ انکل جہانگیر اس کی بات کے جواب میں کچھ کہتے نانو نے انہیں کہا تھا۔
”جہانگیر !بس کرو ۔ اس بحث کو بند کرو۔ یہاں سے باہر نکلو۔”
انہوں نے انکل جہانگیر کو بازو سے پکڑ کر باہر لے جانے کی کوشش کی تھی۔
”نہیں، مجھے یہاں سے باہر نہیں جانا، کیا سمجھتا ہے یہ خود کو؟ میں ایسی بلیک میلنگ میں نہیں آؤں گا۔”
انہوں نے خود کو نانو سے چھڑاتے ہوئے کہاتھا۔
”پلیز جہانگیر ! فی الحال یہ سب ختم کرو۔مجھے اس طرح پریشان مت کرو۔ ابھی اسے اکیلا چھوڑ دو۔”
نانو نے ایک بار پھر ان کا بازو پکڑ کر التجائیہ انداز میں کہا تھا، لیکن انکل جہانگیر بالکل ہی بپھرے ہوئے تھے۔
”آپ اس کو نہیں جانتی ہیں۔ یہ تماشا اس نے پہلی بار نہیں کیا ہے۔ اس سے پہلے بھی یہ دو بار اسی طرح لڑنے کے بعد سلیپنگ پلز کھاچکا ہے۔”
انہوں نے انکشاف کیا، علیزہ نے شاک کے عالم میں عمر کو دیکھا وہ اب بھی اسی طرح باپ پر نظریں جمائے ہوئے تھا۔
”مجھے شرم آتی ہے اسے اپنی اولاد کہتے ہوئے!”
”آپ کو باپ کہتے ہوئے مجھے بھی اتنی ہی شرم آتی ہے۔” اس نے انکل جہانگیر کو سرد لہجے میں جواب دیا۔
”جہانگیر ! خدا کے لئے دوبارہ جھگڑا شروع مت کرو۔ میرے ساتھ باہر آؤ!”

نانو نے انکل جہانگیر کے کچھ کہنے سے پہلے ہی انہیں باہر کھینچنا شروع کر دیا۔ انکل کچھ کہنا چاہتے تھے مگر نانو کسی نہ کسی طرح انہیں کھینچتے ہوئے کمرے سے باہر لے گئیں۔ عمر اپنی جگہ پر پر بے حس و حرکت کھڑا ا نہیں باہر جاتا دیکھتا رہا۔ کمرے کا دروازہ بند ہوتے ہی اس کی نظریں علیزہ پر جم گئیں۔
”تم بھی یہاں سے جاؤ!”
اس نے درشتی سے علیزہ سے کہا تھا۔ وہ اب ہاتھ کی پشت سے ناک صاف کر رہا تھا، اور شاید تب ہی اسے پہلی بار احساس ہوا تھا کہ اس کی ناک سے خون بہہ رہاہے۔ علیزہ اس کے کہنے کے باوجود بھی اپنی جگہ سے نہیں ہلی۔ عمر نے ایک بار پھر سر اٹھا کر اسے دیکھا اور اسے وہیں کھڑے دیکھ کر اس کے چہرے کی ناگواری بڑھ گئی۔
۔۔۔۔
”تمہیں کہا ہے نا۔ جاؤ یہاں سے!”
اس با ر اس نے بھرائی ہوئی آواز میں علیزہ سے کہا۔
”پلیز، میں آپ کے پاس رہنا چاہتی ہوں۔” اس نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا۔
”مگر مجھے کسی کی بھی ضرورت نہیں ہے۔”
”پھر بھی… پھر بھی میں یہیں رہنا چاہتی ہوں۔”
وہ اس وقت کسی بھی قیمت پر عمر کو اکیلا نہیں چھوڑ ناچاہتی تھی۔
”علیزہ ! مجھے اس وقت یہ کمرہ بالکل خالی چاہئے ۔ ،میں تمہاری موجودگی برداشت نہیں کر سکتا۔ اس لئے یہاں سے چلی جاؤ۔”
اس نے تیز اور ترش لہجے میں اس سے کہا اوروہ بے اختیار رونے لگی۔ عمر اپنے سر کو دونوں ہاتھوں میں پکڑ کر بیڈ پر بیٹھ گیا۔ وہ اب اس کا چہرہ نہیں دیکھ سکتی تھی لیکن اس کی ناک سے ٹپکتے ہوئے خون کے قطرے اب بھی اس کی قمیض پر گر رہے تھے۔ عمر دونوں ہاتھوں سے سر کو پکڑے بہت گہرے سانس لے رہا تھا۔ علیزہ کی سمجھ ہی نہ آیا کہ وہ کیا کرے۔ چند لمحے اپنے آنسو ؤں کو پونجھتے ہوئے وہ اسی طرح کمرے کے وسط میں کھڑی رہی۔پھر ایک خیال آنے پر وہ ڈریسنگ ٹیبل پر پڑے ہوئے کچھ ٹشو پیپر اٹھا لائی تھی۔

عمر کے بالکل بالمقابل گھٹنوں کے بل قالین پر بیٹھتے ہوئے اس نے ایک ٹشو سے اس کی ناک سے بہتا ہوا خون صاف کرنے کی کوشش کی تھی۔ وہ کرنٹ کھا کر پیچھے ہٹا تھا۔ علیزہ کو اس کے چہرے پر پہلے والی وحشت نظر نہیں آئی تھی۔ وہ اب تھکا ہوا لگ رہا تھا۔ چند لمحے وہ علیزہ کو دیکھتا رہا پھر اس نے اس کے ہاتھ میں پکڑے ہوئے ٹشو لے لئے اور خود اپنا چہرہ صاف کرنے لگا۔ علیزہ بھیگی پلکوں سے اس کا چہرہ دیکھتی رہی۔ اس کی نظریں عمر کو ڈسٹرب کر رہی تھیں۔
”میں آپ کے لئے کچھ لے کر آؤں؟”
علیزہ نے اچانک ہی اس سے پوچھا۔ وہ چہرہ صاف کرتے کرتے رک گیا۔
”تمہیں میری پرواہ ہے؟”
اس نے عجیب سے لہجے میں علیزہ سے پوچھا۔ وہ ایسے کسی سوال کی توقع نہیں کر رہی تھی۔ چند لمحے حیرانی سے اس کا منہ دیکھتے رہنے کے بعد اس نے کہا۔
”ہاں ! سب سے زیادہ۔”
”ٹھیک ہے پھر تم میری بات مانو اور یہاں سے چلی جاؤ۔”
علیزہ کو اس کے مطالبے پر شاک لگا۔
”اس وقت مجھے صرف تنہائی درکار ہے۔”
اس نے ایک بار پھر کہا وہ چند لمحے کچھ بھی کہے بغیر اس کا چہرہ دیکھتی رہی، جو اس کے جواب کا منتظر تھا۔ پھر اس نے کہا۔
”اگر آپ وعدہ کریں کہ آپ… آپ نہیں کریں گے تو میں چلی جاتی ہوں۔”
”کیا نہیں کروں گا؟”
اس نے علیزہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے پوچھا ۔
”جوکچھ دیر پہلے آپ……!”
علیزہ نے جان بوجھ کر بات ادھوری چھوڑ دی۔ وہ خاموشی کے عالم میں اسے دیکھتا رہا۔
”آپ نہیں کریں گے نا؟!”

اس بار علیزہ نے اس کا ہاتھ پکڑ کر یقین دھانی حاصل کرنے کی کوشش کی۔ ”نہیں کروں گا۔” بہت دھیمے لہجے میں کہتے ہوئے اس نے علیزہ سے آنکھیں چرالی تھیں۔ اسے عمر کی آنکھوں میں نمی کی ہلکی سی چمک نظر آئی۔ اگلے لمحے وہ اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ سے ہٹا کر چہرہ جھکا چکا تھا۔
وہ بوجھل دل سے اس کے قریب سے اٹھ گئی۔ عمر ایک بار پھر اپنا خون بند کرنے کی کوشش میں مصروف تھا۔ بھاری قدموں سے چلتے ہوئے وہ باہر نکل آئی، اور پھر چند لمحوں کے بعد اس نے دروازہ لاک ہونے کی آواز سنی تھی۔ وہ نہیں جانتی تھی کہ اب وہ اندر کیا کر رہاتھا یا کیا کرنے والا تھا وہ وہاں سے نہیں جانا چاہتی تھی۔ علیزہ وہیں دیوار سے ٹیک لگا کر کھڑی ہوگئی چند منٹ پہلے جو کچھ بھی ہوا تھا وہ اس کے لئے قطعی غیر متوقع تھا، لیکن غیر متوقع ہونے سے زیادہ ناقابل یقین تھا۔
انکل جہانگیر اور عمر کے درمیان ہمیشہ ہی اختلافات رہے تھے، اور ان سے کوئی بھی بے خبر نہیں تھا، لیکن یہ کسی کے لئے تشویش کا باعث بھی نہیں تھے۔ ایسے اختلافات صرف عمر اور جہانگیر کے درمیان ہی نہیں تھے، بلکہ خاندان کے تمام لوگوں کے درمیان تھے۔
٭٭٭
معاذ حیدرانگریزوں کے زمانے میں انڈین سول سروس میں شامل ہوئے تھے۔ اس زمانے میں انڈین سول سروس میں مسلمانوں کی تعداد بہت ہی کم تھی، اور جو تھے، وہ سول سروس میں رہنے کے لئے بڑی جانفشانی سے کام کرتے تھے۔ اپنے انگریز افسروں کے سامنے برٹش گورنمنٹ سے اپنی وفاداری ثابت کرنے کے لئے بعض اوقات انہیں آؤٹ آف دا وے جا کر کام کرنا پڑتا، مگر ان کے ضمیر کے لئے یہ بات بہت کافی تھی کہ ان کے آفیسرز ان سے خوش تھے۔ سول سروس اس زمانے میں بھی ان کی ضرورت نہیں، شوق تھا۔ ان کا خاندان مالی طور پر اتنا مستحکم تھا کہ نوکری کی ضرورت نہ تو کسی کو پیش آتی تھی اور نہ ہی اسے پسند کیا جاتا تھا۔مگر معاذ حیدر کے باپ نے اس ٹرینڈ کوتوڑا اور اپنے بیٹے کو اعلیٰ تعلیم دلوانے کے بعد سول سروس میں لے آئے۔ بنیادی طور پر وہ ایک جاگیردار خاندان سے تعلق رکھتے تھے، اور ان کے مزاج میں جاگیرداروں والی تمام چیزیں کوشش کے باوجود ختم نہیں ہو سکی تھیں۔ سول سروس جوائن کرنے کے کچھ سالوں بعد ہندوستان تقسیم ہو گیا تھا معاذ حیدر مشرقی پنجاب سے تعلق رکھتے تھے۔ اس لئے انہوں نے اپنی فیملی کے ساتھ پاکستان ہجرت کی۔ جتنا عرصہ وہ سول سروس میں رہے، انہوں نے بہت محنت سے کام کیا۔ جب انہوں نے ملازمت سے ریٹائرمنٹ لی تب تک ان کے چاروں بیٹے تھوڑے تھوڑے عرصہ کے وقفہ سے سول سروس سے منسلک ہو چکے تھے۔
ان کا سب سے بڑا بیٹا ایاز حیدر بیرون ملک لاء کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد اب وطن واپس آکر فارن سروس جوائن کر چکا تھا۔ دوسرے بیٹے سعد حیدر نے بھی بڑے بھائی کی پیروی کرتے ہوئے قانون کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد سول سروس جوائن کر لی، لیکن بڑے بھائی کے برعکس انہوں نے ڈسٹرکٹ مینجمنٹ گروپ کا انتخاب کیاتھا۔ عالمگیر اور جہانگیر نے بھی بڑے بھائیوں کی طرح بیرون ملک تعلیم حاصل کی اور اس کے بعد فارن سروس جوائن کر لی۔ سول سروس میں اپنی ساری اولاد بھیجنے والے معاذ حیدر واحد نہیں تھے، ان کے بھائیوں نے بھی قیام پاکستان کے بعد اپنی اولادوں کے لئے اسی شعبے کا انتخاب کیا تھا، اور اس وقت ان کا تقریباً سارا خاندان سول سروس کے مختلف شعبوں سے منسلک تھا۔

معاذ حیدر نے ملازمت صاف ہاتھوں سے چھوڑی تھی۔ چھوٹی موٹی چیزوں کو اگر ایک طرف رکھ دیں تو انہیں اپنی ملازمت کے دوران کسی اسکینڈل کا سامنا کرنا پڑا تھا، نہ ہی انہیں کوئی ایسا کام کرنا پڑا تھا کہ جس پر انہیں شرمندگی ہو یا ان کا ضمیر خود کو مجرم تصور کرتا ہو۔ ورثے میں باپ سے لمبی چوڑی جاگیر ملی تھی، اور انہوں نے اسی روپے سے اولاد کو بیرون ملک تعلیم کے لئے بھیجوایا تھا۔ لیکن بیرون ملک قیام کے دوران ان کے بیٹوں کی مکمل برین واشنگ ہو گئی تھی۔ وہ چاروں زندگی کو ایک نئی نظر سے دیکھنے لگے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ ان کے باپ نے اپنی سروس میں صرف اچھی ریپیوٹیشن کمائی ہے اور یہ کمائی ان کی محنت کے مقابلے میں کچھ نہیں تھی۔ ان چاروں نے سول سروس جوائن کرتے ہوئے اپنے ذہن میں کچھ اور مقاصد رکھے تھے اور پھر انہوں نے ہمیشہ ان ہی مقاصد کے حصول کے لئے کام کیاتھا۔ چاروں نے اپنی سروس کے دوران ہر طرح کی کرپشن کی۔ مگر اس کے باوجود وہ فیملی بیک گراؤنڈ اور تعلقات کی وجہ سے ایسے اہم عہدوں تک پہنچ گئے تھے جس کی مثال صرف پاکستان میں ہی ملتی تھی ۔
معاذ حیدر سے غلطی یہ ہوئی کہ انہوں نے کبھی اپنی اولاد کے ذہنوں کو پڑ ھنے کی کوشش نہیں کی۔ انہوں نے خود کو ضرورت سے زیادہ لبرل ظاہر کیا تھا۔ ان کی مصروفیات ہمیشہ ان کے اپنے بچوں کے ساتھ رابطوں میں آڑے آتی رہیں۔ مگر انہوں نے اس کی خاص پرواہ نہیں کی۔ ان کا خیال تھا کہ وہ بچوں کی آئیڈیل تربیت کر رہے ہیں۔ انہوں نے انہیں دنیا کی ہر نعمت دے رکھی تھی۔ اس لئے وہ ہر لحاظ سے ایک مثالی باپ ہیں۔ بعد میں بھی بیٹوں کو کسی چیز سے منع کرنے کے بجائے،انہوں نے اس چیز کی ضرورت محسوس کرتے ہوئے انہیں ہر کام کی اجازت دے دی تھی۔

جب ان کے بیٹوں کی کرپشن کا ذکر ہونے لگا تب بھی انہوں نے انہیں روکنے کے بجائے انہیں بچانے کے لئے اپنے تعلقات کو بخوبی استعمال کیا۔ ان کا خیال تھا کہ ان کے بیٹے جو کچھ کر رہے ہیں وہ ساری بیورو کریسی کرتی ہے اور ان چیزوں کے بغیر ان کے بیٹے اپنا کیرئیر نہیں بناسکتے۔ کبھی اگر انہیں پچھتاوا ہوتا بھی تو وہ خود کو سو دلیلوں سے سمجھا لیتے۔
ان کے چار بیٹے اور دو بیٹیاں تھیں۔ بیٹوں کو انہوں نے اعلیٰ تعلیم دلوائی تھی ، لیکن بیٹیوں کو کانونٹ میں پڑھانے کے بعد بہت ہی کم عمری میں ہی ان کی شادیاں کر دی تھیں۔ ان کے بیٹے اور بیٹیاں مالی لحاظ سے جتنے آسودہ تھے، نجی زندگی میں اتنے ہی زیادہ مسائل کا شکار تھے۔
ان کے سب سے بڑے بیٹے ایاز نے بیرونِ ملک تعلیم کے دوران ہی ان کی مرضی کے خلاف اپنی مرضی سے ایک یونانی لڑکی سے شادی کر لی تھی۔ ایک ڈیڑھ سال یہ شادی کسی نہ کسی طرح چلتی رہی پھر دونوں میں طلاق ہو گئی تھی۔ پاکستان آنے کے بعد انہوں نے سول سروس جوائن کرنے کے بعد ماں باپ کی مرضی سے دوسری شادی کی۔ یہ شادی کچھ عرصہ تو اچھی طرح چلتی رہی۔ ان کے تین بیٹے اور ایک بیٹی ہوئے پھر کچھ عرصہ بعد انہوں نے چھپ کر ایک اورشادی کر لی۔

اس بار ان کی بیوی ایک ایرانی عورت تھی۔ اس شادی کاعلم ہونے پر خاندان میں بہت ہنگامہ ہوا۔ کیونکہ ان کی دوسری بیوی کا تعلق معاذ حیدرکے اپنے ہی خاندان سے تھا۔ خاندان کے بہت زیادہ دباؤ پر انہوں نے اسے طلاق دے دی، اور اس کے بعد انہوں نے کوئی اور شادی کر نے کی کوشش نہیں کی۔ بلکہ کسی نہ کسی طرح اپنی دوسری شادی کو ہی نبھاتے آ رہے تھے۔ ان کے تینوں بیٹے بھی اب سول سروس میں آچکے تھے۔
دوسرے بیٹے سعد نے بھائی کے نقش قدم پر چلنے کی بجائے ماں باپ کی مرضی کے مطابق خاندان میں ہی شادی کی۔ آٹھ سال تک یہ شادی چلی پھر دونوں کے درمیان اختلافات طلاق تک جا پہنچے۔ سعد حیدر نے دوبارہ ماں باپ کے اصرار کے باوجود بھی دوسری شادی نہیں کی۔ ان کے دو بیٹے تھے اور وہ دونوں بیٹے اپنی ماں کے پاس تھے۔
۔۔۔
تیسرے بیٹے عالمگیر نے اپنی مرضی سے شادی کی تھی، اور ان کی شادی تمام تر اختلافات کے باوجود ابھی تک قائم تھی۔ ان کی دو بیٹیاں اور دو بیٹے تھے۔
چوتھے بیٹے جہانگیر نے پہلی شادی اپنی پسند سے کی تھی۔ گیارہ سال شادی قائم رہی پھر دونوں کے درمیان طلاق ہوگئی۔ جہانگیر نے اپنی بیوی کے اصرار کے باوجود عمر کو اپنی بیوی کے حوالے نہیں کیا۔بلکہ اپنے پاس ہی رکھا۔ طلاق کے دو ہی ماہ کے اندر انہوں نے دوسری شادی کر لی۔ اس بیوی سے ان کی دو بیٹیاں تھیں۔ کراچی کی ایک ماڈل سے کچھ عرصہ پہلے انہوں نے تیسری شادی کر لی تھی۔

ان کی بڑی بیٹی حسینہ اپنے باقی بہن بھائیوں کے مقابلے قدرے پر سکون زندگی گزار رہی تھی ، اس کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں تھیں۔ جبکہ سب سے چھوٹی بیٹی ثمینہ کو شادی کے کچھ عرصہ کے بعد طلاق ہو گئی تھی۔ علیزہ کو اس کی ماں نے اپنی تحویل میں لے لیا تھا مگر دوبارہ شادی کرنے کے بعد اسے اپنے ماں باپ کے پاس ہی چھوڑ گئی تھی۔
معاذ حیدر اور ان کی بیوی نے اپنے بچوں کی نجی زندگی کو خاص طور سے ناکام ہوتے دیکھا تھا، اور انہیں ہمیشہ یہ حیرت ہوتی تھی کہ ان کی تربیت میں ایسی کونسی کمی رہ گئی تھی کہ جس نے ان کی اولاد کو زندگی کے اہم فیصلہ کرتے ہوئے بہت سے مسائل سے دوچار رکھا۔
عمر جہانگیر اور اس کے باپ کی طرح معاذ حیدر کے سارے بیٹے ہی اپنی اولادوں کے ساتھ اچھے تعلقات نہیں رکھ پائے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ علیزہ وقتاً فوقتاً عمر اور جہانگیر انکل کے درمیان ہونے والے جھگڑوں کے ساتھ اپنے دوسرے انکلز اور ان کی اولادوں کے درمیان ہونے والے جھگڑوں سے بھی آگاہ ہوتی رہتی۔ مگر اس نے کبھی کسی جھگڑے کو اتنا شدید ہوتے نہیں دیکھا تھا۔

”اور پھر عمر……کیا عمر یہ سب کر سکتا ہے؟”
اسے کمرے سے باہر آکر بھی یقین نہیں آرہا تھا کہ عمر نے خود کشی کی کوشش کی تھی۔
”کیا اتنی معمولی سی بات پر عمر خود کشی کر سکتا ہے۔”
”اور انکل جہانگیر کہہ رہے تھے کہ اس نے پہلے بھی دو بار سلیپنگ پلز……!”
علیزہ نے کچھ بے چینی سے کمرے کے دروازہ کو دیکھاتھا۔
”عمر ایسا نہیں تھا……عمر کبھی بھی ایسا نہیں تھا پھر اب… اب اسے کیا ہو گیا ہے۔”
اس نے دروازے اور فرش کے درمیان والی درز سے کمرے کی روشنی کو دیکھتے ہوئے سوچا۔
”یہ چار سال پہلے والا عمر تو نہیں ہے۔یہ تو۔۔۔۔۔”
وہ آگے کچھ سوچ نہیں سکی تھی۔
نانو کے کمرے کا دروازہ کھلا ہوا تھا اور وہاں سے بلند آوازمیں انکل جہانگیر کے بولنے کی آواز آرہی تھی۔

”میں کوئی انوکھا کام تو کرنا نہیں چاہتا۔ ہمارے خاندان میں وہ کوئی پہلا تو نہیں ہے جس کے لئے ایسا سوچا جارہا ہے۔ کیا ایاز نے اپنے بیٹے کی شادی خود کو بچانے کے لئے نہیں کی تھی اور اس کے بیٹے نے تو کوئی اعتراض نہیں کیا ۔ آپ بتائیں کیا وہ خوش نہیں ہے۔ اس کی بیوی اسے کہاں سے کہاں لے گئی، اور اس وقت وہ پرائم منسٹر سیکرٹریٹ میں بیٹھا ہے۔ عیش کر رہا ہے۔ کیا سعد اور عالمگیر نے اپنے بیٹوں کی شادی اپنی مرضی سے کر کے کوئی فائدے حاصل نہیں کئے، اور اگر میں بھی ایسا کرنا چاہتا ہوں تو کیا غلط ہے۔خالی خولی افسری حاصل کر نے سے کچھ بھی نہیں ہو تا۔ جب تک اوپر ہاتھ پکڑ کر کھینچنے والا نہ ہو، آپ کچھ نہیں کر سکتے۔ اس کا خیال ہے کہ اسے ابھی تک جو کچھ ملتا رہا ہے۔ اس کی اپنی قابلیت کی بنیاد پر ملتا رہا ہے ۔ میں اگر اس کے پیچھے نہ ہوتا تو اسے پتا چل جاتا کہ یہ کتنے پانی میں ہے۔”
انکل جہانگیر کی آواز سے ان کے غصہ کا بخوبی اندازہ ہو رہا تھا۔ وہ نہ چاہتے ہوئے بھی ان کی باتیں سننے لگی تھی۔
”مگر جہانگیر ! اگر وہ یہ شادی کرنا نہیں چاہتا تو اسے مجبو رمت کرو۔ میں بہت ڈر گئی ہوں۔ اگر اسی طرح وہ کچھ کر بیٹھا تو۔۔۔”
نانو نے اپنا خوف ظاہر کرتے ہوئے کہا مگر انکل جہانگیر نے ان کی بات کاٹ دی۔
”تو……تو کیا ہو گا۔ آپ کا کیا خیال ہے کہ میں اس کی بلیک میلنگ کے سامنے جھک جاؤں۔ نہیں ، ایسا کبھی بھی نہیں ہو سکتا۔”
”جہانگیر وہ تمہارا اکلوتا بیٹا ہے۔ تم……!”
انکل جہانگیر نے ایک بار پھر نانو کی بات کاٹ دی تھی۔
”اگر اکلوتا بیٹا میرے کام نہیں آسکتا تو مجھے ضرورت نہیں ہے ایسے اکلوتے بیٹے کی۔ میری طرف سے وہ بھاڑ میں جائے۔”
”جہانگیر ! ایسے مت کہو!”

”کیوں نہ کہوں۔میں نے تو اسے دنیا کی ہر لگژری دے رکھی ہے ،اور آج سے نہیں،بچپن سے اور یہ……یہ میری ایک بھی بات مانے پر تیار نہیں ہے۔ وہاں شادی نہیں کرنا چاہتا تو پھر کہاں کرنا چاہتا ہے۔ وہ لڑکی اچھے کردار کی نہیں تو پھر میں اسے ایک اور لڑکی دکھا دیتا ہوں۔ یہ وہاں شادی کر لے مگر نہیں، یہ وہاں بھی شادی نہیں کرے گا۔ یہ ایسی کسی جگہ شادی نہیں کرے گا جہاں میں اس کی شادی کرنا چاہتا ہوں۔ اسے لگتا ہے باپ اس کا سودا کرنا چاہتا ہے۔ اس لئے یہ باپ کو کوئی بھی فائدہ نہیں پہنچائے گا۔ ہاں باپ اس کا ملازم ہے، وہ اسے ساری عمر فائدے پہنچاتا رہا ہے اور پہنچاتا رہے گا۔”
”جہانگیر ! تم اس معاملہ میں ضد نہ کرو۔ جوان اولاد سے ضد کرنا ٹھیک نہیں ہے اور پھر جوان بیٹے سے۔…تم سمجھتے کیوں نہیں۔ وہ تمہاری بات نہیں مانتا تو اسے اس کے حال پر چھوڑ دو۔ اس طرح اس کے پیچھے مت پڑو۔ آج اس نے جو کچھ کرنے کی کوشش کی ہے اس نے مجھے دہلا دیا ہے۔”
”آپ خوفزدہ مت ہوں……یہ پہلے بھی دوبار ڈرامہ کرنے کی کوشش کر چکا ہے۔”
انکل جہانگیر اب بھی تلخ تھے۔
”اگر وہ پہلے بھی دو بار یہی کوشش کر چکا ہے تو تمہیں زیادہ فکر مند ہونا چاہئے۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ واقعی اس حد تک زچ ہو چکا ہے کہ اس آخری قدم کو اٹھانے سے بھی گریز نہیں کر رہا۔”
نانو نے انکل جہانگیر کو سمجھانے کی کوشش کی تھی، مگر وہ کچھ بھی سننے کو تیار نہیں تھے۔
”آپ اسے مجھ سے بہتر نہیں سمجھتیں ، میں جانتا ہوں، مجھے اسے کس طرح سے ہینڈل کرنا ہے اور میں کرلوں گا۔ آپ اس معاملے میں اس کی سائیڈ مت لیں۔”
”میں اس کی سائیڈ نہیں لے رہی۔میں صرف تمہیں سمجھا رہی ہوں۔ کہ یہ سب ٹھیک نہیں ہے۔ تم کسی تیرہ سالہ لڑکے کو ہینڈل نہیں کر رہے۔ تیس سالہ مرد کا سامنا ہے تمہیں۔ اسے بچہ سمجھ کر کسی چیز کو اس پر ٹھونسنے کی کوشش مت کرو۔”
”اس پر کسی بھی چیز کو ٹھونسنے کی کوشش نہ کروں اور اپنا کیرئیر تباہ کر لوں۔”
”اگر وہ نہ ہوتا تو پھر تم کیا کرتے، پھر بھی تو کسی نہ کسی طرح خود کو مصیبت میں سے نکالتے ہی نا پھر اب بھی کچھ نہ کچھ کر لو۔”
”تب کی بات اور ہوتی مگر اب میں یہ سوچ کر نہیں چل رہا ہوں کہ وہ نہیں ہے۔ اب اگر وہ ہے تو پھر اسے میرے کام آنا ہو گا۔جیسے میں ہمیشہ اس کے کام آتا رہا ہوں۔”
”جہانگیر ! تم اتنی ضد کیوں کر رہے ہو؟ تمہیں یاد نہیں ہے،تمہارے باپ نے کبھی تم چاروں کے ساتھ اس طرح ضد نہیں کی تھی۔ تم لوگوں نے جو کرنا چاہا، انہوں نے تمہیں کرنے دیا۔ چاہے وہ اپنی مرضی سے شادی یا طلاق جیسا احمقانہ فیصلہ ہی کیوں نہ ہوں۔”
”مجھے ڈیڈی کی مثال مت دیں۔ تب حالات اور تھے، لیکن اب صورت حال کچھ اور ہے۔”
انکل جہانگیر نے تیزی سے کہاتھا۔
” اس لئے صورت حال اور ہے کیونکہ تم اب کسی اور کے باپ ہو ، بیٹے نہیں۔ اب تمہاری ڈیمانڈز بھی بدل گئی ہیں۔”
”چلیں آپ ایسا ہی سمجھ لیں ڈیڈی اور طرح کے تھے، میں اور طرح کا ہوں۔”
”جہانگیر ! ابھی اسے چھوڑ دو ، تم اس کے پیچھے کس حد تک بھاگ سکتے ہو۔ اسے مجبور کرو گے تو وہ یہاں سے چلا جائے گا پھر کیا کرو گے۔ کہاں کہاں اس کے پیچھے جاؤ گے؟”
”آپ اسے سمجھانے کی بجائے مجھے سمجھا رہی ہیں؟”
”میں اسے بھی سمجھاؤں گی مگر تم خود کو تھوڑا ٹھنڈا تو کرو۔ میں تمہاری طرح اس کے پیچھے پنجے جھاڑ کر نہیں پڑسکتی۔ ابھی اسے کچھ بھی مت کہو۔ ابھی اسے اس کی مرضی کے مطابق جو وہ چاہے وہ کرنے دو۔ کچھ عرصہ گزر جائے گا تو اس کا غصہ بھی ٹھنڈا ہو جائے گا، پھر میں اس سے بات کروں گی۔”
نانو انکل جہانگیر کوسمجھا رہی تھیں مگر وہ کچھ سمجھنے پر تیار نہیں تھے۔ وہ اپنی ضد پراڑے ہوئے تھے۔ علیزہ نے ایک بار پھر دروازے کو دیکھا۔ کمرے میں بالکل خاموشی تھی پتا نہیں وہ اندر کیا کر رہا تھا۔ پھر اسے پتا نہیں کیا خیال آیا اور وہ لان میں چلی گئی۔ عمر کے کمرے کی کھڑکیاں باہر لان میں کھلتی تھیں۔ اس کا خیال تھا کہ وہ کھڑکیوں میں سے اندر دیکھ سکے گی، لیکن اسے مایوسی ہوئی۔ کھڑکیاں بند تھیں اور ان کے آگے پردے تنے ہوئے تھے۔ وہ کسی بھی طرح اندر نہ دیکھ سکی۔
۔۔۔۔۔۔۔

کچھ دیر وہ بنا کسی آہٹ کے کھڑکیوں کے سامنے کھڑی رہی اور ایک بار پھر اندر واپس آگئی۔ نانو اور انکل جہانگیر کی بحث اب بھی جاری تھی۔ وہ عمر کے کمرے کی طرف جانے کے بجائے اپنے کمرے میں آگئی۔ کپڑے بدل کے وہ بستر پر لیٹنے کے باوجود اس کی آنکھوں میں نیند کے کوئی آثار نہیں تھے۔ وہ عمر کے وعدہ کے باوجود اس کے بارے میں پریشان تھی اور اسے حیرانی تھی کہ انکل جہانگیر عمر کے بارے میں فکر مند کیوں نہیں ہیں۔ انہیں اس کی زندگی کی پرواہ کیوں نہیں ہے۔ کچھ بے چین ہو کر وہ ایک بار پھر اٹھ گئی اور کمرے کے چکر لگانے لگی۔ پھر تھک کر بیڈ پر بیٹھ گئی۔
سونے سے پہلے ایک خیال آنے پر وہ دوبارہ اپنے کمرے سے نکل کر عمر کے کمرے کی طرف گئی تھی۔ نانو کے کمرے کا دروازہ اب بند تھا وہاں اب خاموشی تھی۔ عمر کے کمرے کی لائٹ اب بھی آن تھی لیکن کمرے میں سے کوئی آواز نہیں آرہی تھی۔ عمر کبھی بھی لائٹ آن کر کے نہیں سوتا تھا۔ یہ بات وہ اچھی طرح جانتی تھی، اور اگر اس وقت سو نہیں رہا تو پھر کیا کر رہاتھا۔ اس نے بے قراری سے سوچا۔
کچھ دیر کمرے کے سامنے کھڑے رہنے کے بعد وہ واپس کمرے میں آگئی۔ اپنے کمرے میں آنے کے بعد وہ بہت دیر تک عمر کے بارے میں سوچتی رہی۔
اگلی صبح اس کی آنکھ دیر سے کھلی۔ گھڑی ساڑھے نو بجا رہی تھی۔ آنکھیں کھولتے ہی جو پہلا خیال اس کے ذہن میں آیا، وہ عمر کا تھا۔
کپڑے تبدیل کرنے کے بعد وہ کمرے سے باہر نکلی، گھر میں بالکل ہی خاموشی تھی۔ عمر کے کمرے کا دروازہ اب بھی بند تھا۔ وہ دروازہ پر دستک دینا چاہ رہی تھی لیکن پھر کچھ سوچ کر رک گئی۔
نانو کو ڈھونڈتے ہوئے وہ کچن میں آگئی۔ اسے نانو قدرے پریشان لگ لگیں۔ کچن میں ان کے علاوہ اور کوئی نہیں تھا۔ اسے دیکھتے ہی انہوں نے کہا۔
”میں تمہیں جگانے ہی والی تھی۔ اچھا ہوا کہ تم خود اٹھ گئیں۔ آج یونیورسٹی جانے کا ارادہ نہیں ہے؟”
”نہیں نانو !میں آج یورنیورسٹی نہیں جاؤں گی!”
اس نے ڈائننگ ٹیبل کی کرسی کھنچتے ہوئے کہاتھا۔
”کیوں !”
” بس میرا دل نہیں چاہ رہا۔” نانو اوون میں کوئی چیز رکھ رہی تھیں۔
”پھر ناشتہ کر لو۔”
”نہیں میرا دل نہیں چاہ رہا۔”
اس نے انکار کر دیا تھا۔
”نانو انکل جہانگیر کہاں ہیں؟”
اچانک اس نے پوچھا ۔
”وہ صبح چلا گیا ہے!”
علیزہ کو اچانک ہی بے حد اطمینان کا احساس ہواتھا۔
”عمر سے دوبارہ ان کی کوئی بات ہوئی۔”
”نہیں، عمر سو یا ہوا تھا میں نے اسے نہیں جگایا۔”
نانو نے کام کرتے ہوئے کہا۔
”اب جگا دوں اسے؟”
علیزہ نے چند لمحے خاموش رہنے کے بعد پوچھا تھا۔
”نہیں ،ابھی اسے سونے دو۔”
نانو نے اس سے کہا تھا۔ کچن میں ایک بار پھر خاموشی چھا گئی تھی۔
”نانو ! عمر نے یہ سب کیو ں کیا؟”
اس نے کچھ دیر بعد پوچھا تھا۔
نانو چند لمحے اس کا چہرہ دیکھتی رہیں۔ ”پتا نہیں۔”
انہوں نے مایوسی سے سر ہلایا تھا۔
”نانو ! وہ بالکل بدل گیا ہے نا۔”
”ہاں ! ایسا تو ہونا ہی تھا۔”
”مگر کیوں نانو ! عمر تو……وہ تو…… مجھے یقین نہیں آتا نانو! عمر ایساہو جائے گا۔ ابھی کل تک تو وہ بالکل ٹھیک تھا، ایک دن میں ہی کیا ہو گیا؟”
”میرے پاس تمہارے کسی سوال کا جواب نہیں ہے علیزہ!”
نانو نے بے بسی سے کندھے اچکاتے ہوئے کہاتھا۔
”جہانگیر انکل اسے کیوں پریشان کر رہے ہیں ۔اس کی مرضی کے خلاف اس سے ایک کام کیوں کروانا چاہتے ہیں۔”
”وہ بھی مجبور ہے!”
انہوں نے ایک گہری سانس لیتے ہوئے کہا۔
”نہیں نانو ! وہ مجبور نہیں خود غرض ہیں۔”
نانو نے اس کی بات کا جواب نہیں دیا تھا۔
وہ کچھ دیر وہیں بیٹھی رہی پھر اٹھ کر واپس اپنے کمرے میں آگئی۔
دوپہر کے دو بجے وہ ایک بار پھر پریشان ہو کر اپنے کمرے سے نکلی۔ عمر کا دروازہ اب بھی بند تھا۔ اس نے بنا سوچے سمجھے دروازہ پر دستک دی۔ اندر خاموشی چھائی ہوئی تھی۔۔ علیزہ نے ایک بار پھر دستک دی۔ اس بار دستک کی آواز زور دار تھی۔ مگر اندر خاموشی نہیں ٹوٹی۔اس نے یکے بعد دیگرے کئی بار دروازہ بجایا۔ مگر کوئی جواب نہیں آیا۔ علیزہ خوفزدہ ہوگئی۔
”عمر دروازہ کیوں نہیں کھول رہا۔ وہ اتنی گہری نیند تو نہیں سوتا۔”
اس نے دم سادھے سوچا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔

بجلی کے ایک جھماکے سے اسے یاد آیا کہ کمرے کی ایک اور چابی نانو کی درازمیں پڑی ہوئی ہے اور وہ اس چابی کو لاکر دروازہ کھول سکتی ہے۔ تقریباً بھاگتے ہوئے وہ نانو کے کمرے میں ائی تھی۔ اس نے ان کی دراز سے چابیوں کا گچھا نکالا اور تیز رفتاری سے واپس عمر کے کمرے کے دروازے کے پاس آگئی۔ کانپتے ہاتھوں کے ساتھ اس نے دروازے میں چابی گھمائی۔دروازہ کا لاک کھل گیا۔ اس نے ناب گھما تے ہوئے آہستہ آہستہ دروازہ کھولنا شروع کر دیا۔ کمرے میں لائٹ اب بھی آن تھی، اور دروازہ کھلنے کی آواز نے بھی عمر کو متوجہ نہیں کیا تھا۔ علیزہ نے دروازہ کھولتے ہوئے اپنا قدم اندر بڑھایا اور پھر جیسے اسے شاک لگا تھا۔
عمر بیڈ پر کمبل لپیٹے اوندھے منہ سویا ہوا تھا۔ اس کا سر تکیہ پر تھا، اور دایاں ہاتھ کہنی تک تکیہ کے نیچے تھا۔ جس کی وجہ سے تکیہ داہنی طرف سے کچھ اٹھ گیاتھا اور اس اٹھے ہوئے حصہ نے اس کے چہرہ کو مکمل طور پر کور کر لیا تھا۔

اس کے لئے حیران کن بات تھی کہ عمر لائیٹ جلتی چھوڑ کر سو گیا تھا۔ مگر اس وقت جس چیز سے اسے شاک لگا تھا وہ بیڈ کے کچھ فاصلے پر تپائی پر موجود دو تین بوتلیں اور ایک گلاس تھا وہ بوتلیں اس کے لئے نئی نہیں تھیں ۔وہ بہت دفعہ ویسی ہی بوتلیں بازار سے خرید کر انہیں بیلیں لگا نے کے لئے استعمال کرتی رہی تھی مگر وہ بوتلیں ہمیشہ خالی ہوتی تھیں۔ آج پہلی بار وہ ان بوتلوں کا اصلی مصرف دیکھ رہی تھی اور وہ بھی عمر کے کمرے میں۔۔۔۔۔
وہ کچھ دیر تک ساکت کھڑی ان بوتلوں کو دیکھتی رہی تھی۔ پھر دھیمے قدموں سے تپائی کی جانب جانے لگی۔ تپائی کے قریب پہنچ کر اس نے جھک کر ان بوتلوں کو دیکھاتھا۔ ایک بوتل خالی تھی جبکہ دوسری بوتل آدھی خالی تھی۔ عمر کے بیڈ سائڈ ٹیبل پر پڑی ہوئی ایش ٹرے سگریٹ کے جلے ہوئے ٹکڑوں سے بھری ہوئی تھی۔
وہ اب جان چکی تھی کہ رات کو کمرہ لاک کرنے کے بعد وہ کیا کرتا رہا ہو گا اور شاید نشہ کی ہی حالت میں وہ لائٹ بند کیے بغیر ہی سو گیاتھا۔ علیزہ ابھی بھی کچھ بے یقینی سے ان چیزوں کو اور بیڈ پر پڑے ہوئے عمر کو دیکھتی رہی۔
”عمر تو یہ دونوں چیزیں استعمال نہیں کرتا تھا۔ پھر اب کیوں؟” اس نے مایوسی سے سوچا، چند لمحے وہیں کھڑی وہ بے مقصد عمر کو دیکھتی رہی۔ پھر کچھ مایوسی سے اسی طرح دھیمے قدموں سے کمرے سے باہر نکل گئی تھی۔ نانو کے کمرے میں چابی رکھنے کے بعد وہ ایک بار پھر لاؤنج میں آگئی تھی۔
لاؤنج کے صوفہ پر بیٹھ کر وہ ایک بار پھر رات کے واقعات کے بارے میں سوچنے لگی تھی۔

”کیا عمر اٹھ گیا ہے؟”
وہ اچانک نانو کی آواز پر چونکی تھی۔ وہ پتا نہیں کس وقت کچن سے نکل کر لاؤنج میں آگئی تھیں۔ علیزہ نے انہیں دیکھتے ہوئے نفی میں سر ہلا دیا۔ نانو کچھ فکر مند کھڑی تھیں۔
”ابھی تک نہیں جاگا؟ تم نے اسے جگانے کی کوشش کی؟” انہوں نے علیزہ سے پوچھا تھا۔
”نہیں۔” اس نے ایک بار پھر نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا۔
”کیوں نہیں جگایا؟ تمہیں جگانے کی کوشش کرنی چاہئے تھی۔”
وہ کچھ خفا ہو کر بولی تھیں۔
”آپ نے کہا تھاکہ اسے سونے دو۔”
اس نے انہیں یاد دلایا تھا۔
”ہاں ،میں نے کہا تھا لیکن اب تو بہت دیر ہو گئی ہے۔ مجھے خود ہی جاکر دیکھنا چاہئے۔”
نانو نے بڑ بڑا تے ہوئے کہا۔ علیزہ خاموشی سے انہیں لاؤنج سے جاتے ہوئے دیکھتی رہی۔
نانو کی واپسی بہت جلدی نہیں ہوئی تھی۔ وہ تقریباً دس منٹ کے بعد واپس آئی تھیں۔
”آپ نے اسے اٹھا دیا۔”
علیزہ نے ان کے چہرے پر موجود اطمینان دیکھ کر کہا تھا۔
”ہاں بہت دیر دروازہ بجانا پڑا لیکن وہ اٹھ گیا۔ کہہ رہا ہے ابھی آتا ہوں۔”
انہوں نے ایک بار پھر کچن میں جاتے ہوئے کہا تھا۔
علیزہ نے اندازہ لگا نے کی کوشش کی تھی کہ کیا نانو عمر کے کمرے کے اندر گئی تھیں یا عمر نے دروازہ کھولے بغیر انہیں اندر سے ہی جواب دے دیا تھا۔
”نانو ! آ پ عمرکے کمرے میں گئی تھیں۔”
علیزہ نے وہیں بیٹھے بیٹھے ہی بلند آواز میں پوچھاتھا۔
”نہیں ! اندر نہیں گئی ، کیوں پوچھ رہی ہو۔”
نانو نے کچن سے باہر آئے بغیر جواب دیا تھا۔
”بس ایسے ہی۔”
اس نے ایک بار پھربلند آواز میں کہا تھا۔
اس کا مطلب ہے نانو نے وہ بوتلیں نہیں دیکھی ہیں۔ یہ اچھا ہی ہوا ورنہ نانو کو تکلیف پہنچتی۔ انہوں نے تو کبھی یہ نہیں سوچا ہو گا کہ عمرڈرنک کرے گا اور پھر یوں ان کے گھر، پر ان کے سامنے۔ علیزہ نے کچھ مطمئن ہو کر سوچا تھا۔ عمر نے بھی اسی لئے دروازہ کھولے بغیر نانو کو جواب دیا ہو گا تاکہ نانو اندر آکر بوتلیں نہ دیکھ سکیں۔ مگرآخر عمر یہ سب کچھ کیوں کر رہا ہے۔ وہ تو ایسا نہیں تھا۔ وہ تو کبھی بھی ایسا نہیں تھا؟ اس کا ذہن ایک بار پھر الجھ گیا تھا۔
٭٭٭
اسے کہیں بہت دور سے شور کی آواز سنائی دے رہی تھی۔ لاشعو ر میں اٹھنے والا شور آہستہ آہستہ جیسے بلند ہوتا جارہا تھا۔ یوں جیسے دروازے پر کوئی دستک دے رہا ہو۔ شعو ر نے آہستہ آہستہ اس شور کو پہچان لیا تھا۔ عمر نے اوندھے پڑے ہوئے آنکھیں کھولنی شروع کر دیں۔ چند لمحے تو وہ آنکھیں کھولنے میں بالکل ہی ناکام رہا۔ مگر پھر کچھ جدو جہد کے بعد اس نے آنکھیں کھول دی تھیں۔کمرے میں روشنی تھی۔ کچھ دیر تک تو وہ اپنے ارد گرد کے ماحول کو پہچاننے کی کوشش کرتا رہا، اور پھر اس کا دھیان دروازے پر ہونے والی دستک پر چلا گیا۔ کوئی بڑی مستقل مزاجی سے دروازہ بجا رہا تھا اور ساتھ اس کا نام بھی پکار رہا تھا۔
عمر کا سر چکرا رہا تھا ، وہ لیٹے لیٹے ہی کروٹ لے کر سیدھا ہو گیااور آواز کو پہچاننے کی کوشش کرنے لگا۔ آواز کو شناخت کرنے میں اسے کچھ وقت لگاتھا۔ مگر وہ آواز کو پہچان گیا، وہ آواز نانو کی تھی اور وہ بار بار اسی کا نام پکار رہی تھیں۔
”گرینی ! میں جاگ گیا ہوں ابھی باہر آجاؤں گا۔”
اس نے بے اختیار بلند آواز میں ان کی آواز کے جواب میں کہا تھا۔
اس وقت اس کے دروازے پر ہونے والی دستک اس کے اعصاب کو جھنجھوڑ رہی تھی اور وہ اسے روک دینا چاہتا تھا دستک یک دم رک گئی تھی۔
”ٹھیک ہے، عمر جلدی باہر آجاؤ بہت دیر ہو گئی ہے۔ میں کھانا لگوا رہی ہوں!”
اس نے گرینی کو کہتے ہوئے سنا۔

وہ کچھ کہے بغیر ہی چپ چاپ بستر میں پڑا رہا ، انگلیوں کے پوروں سے اس نے اپنی کنپٹیوں کو دبانے کی کوشش کی تھی۔ مگر وہ سر میں ہونے والی اس تکلیف سے نجات حاصل نہیں کر سکا تھا۔ اس کے لئے یہ ساری کیفیا ت نئی نہیں تھیں۔ وہ جانتا تھا کہ وہ زبردست قسم کے hang over کا شکار ہو رہا ہے۔
کچھ دیر وہ اسی طرح لیٹا اپنے اعصاب کو پر سکون کرنے کی کوشش کرتا رہا پھر جدوجہد کرتے ہوئے بیڈ پر بیٹھ گیا۔ اس نے سر کو دو تین بار جھٹک کر کمرے میں لگے ہوئے وال کلاک پر نظر دوڑانے کی کوشش کی تھی مگر وہ وقت دیکھنے میں کامیاب نہ ہو سکا۔
سامنے تپائی پر پڑی ہوئی بوتلوں نے ایک بار پھر رات کے تمام مناظر کو اس کے سامنے کھڑا کر دیا تھا۔ اس کے ہونٹوں پر ایک تلخ مسکراہٹ ابھری تھی۔
”اوراس کمرے کے باہر ایک بار پھر وہی شیطان ہوگا۔ کاش میں کہیں غائب ہو سکتا ؟”
اس نے کمبل کو ایک جھٹکے سے دور پھینکتے ہوئے سوچا تھا۔ بیڈ سے کھڑا ہونے کی کوشش میں وہ لڑ کھڑا گیا۔ اسے متلی ہو رہی تھی۔
چند لمحوں کے لئے وہ ایک بار پھر بیڈ پر بیٹھ گیا۔ پھر ہمت کر کے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں سے کنپٹیوں کو دباتے ہوئے وہ اٹھ کھڑا ہوا تھا۔ لڑکھڑاتے ہوئے قدموں سے وہ ڈریسنگ روم کی طرف چل دیا۔
ڈریسنگ روم میں داخل ہونے کے بعد اس نے وارڈروب میں پڑا ہوا بریف کیس نکال لیاتھاوہ اب جلد از جلد اس hang over سے نجات حاصل کرنے کے لئے بریف کیس میں پڑی ہوئی گولیاں لینا چاہتا تھا۔
مگر بریف کیس کھولنے کے بعد بھی وہ بریف کیس میں سے اپنی مطلوبہ گولیاں تلاش نہیں کر پایا تھا۔

”اف!”
اس نے بریف کیس کو دور پھینک دیاتھا۔ کچھ دیر گھومتے ہوئے سر کو دونوں ہاتھوں سے پکڑے ڈریسنگ ٹیبل کے اسٹول پر بیٹھا رہاتھا۔ پھر وہ اٹھ کر لڑ کھڑاتے قدموں سے واش روم کی طرف بڑھ گیا۔

نل کو پوری رفتا ر سے کھولتے ہوئے وہ واش بیسن کے سامنے جھک کر دائیں ہاتھ کی انگلیاں اپنے حلق میں ڈالنے لگا یہ کوشش کامیاب رہی۔ اسے اپنا معدہ خالی ہوتا ہوا محسوس ہواتھا۔ مگر اس کے چکراتے ہوئے سر کو زیادہ افاقہ نہیں ہواتھا۔
چند منٹوں بعد اس نے صابن سے ہاتھ دھونے کے بعد اپنے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارنے شروع کر دئیے تھے۔ مگر یہ ترکیب بھی کچھ زیادہ فائدہ مند ثابت نہیں ہوئی۔ چند لمحے وہ اسی طرح وہیں کھڑا رہا۔پھر کچھ بے چارگی کے عالم میں واش روم سے نکل آیا۔ اب کچن میں جانے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں تھا۔
وہ جانتا تھا۔ کچن میں اس وقت خانساماں کے علاوہ گرینی بھی ہوں گی اور شاید علیزہ بھی اور وہ اس حالت میں ان لوگوں کے سامنے نہیں جانا چاہتا تھا۔ مگر اب اس کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں تھا۔
آہستہ آہستہ چلتے ہوئے وہ ڈریسنگ روم سے نکلا تھااور پھر اپنے کمرے کے دروازے تک پہنچ گیا۔
دروازہ کی ناب پر ہاتھ رکھتے ہوئے اس نے لاک کھولنے کی کوشش کی تھی اور ٹھٹک گیاتھا۔ اسے بہت اچھی طرح یاد تھا کہ رات کو علیزہ کے کمرے سے نکلنے کے بعد اس نے سب سے پہلا کا م دروازے کو لاک کرنے کا کیا تھا۔ مگر اس وقت لاک کھلا ہوا تھا۔ وہ hang over کا شکار تھا مگر وہ رات کو ہونے والے تمام واقعات یاد کر سکتا تھا۔ اسے اچھی طرح یاد تھا کہ اس نے دروازے کو خود لاک کیا تھا تاکہ علیزہ یا کوئی اور دوبارہ اس کے کمرے میں نہ آئے اوراس کے بعد وہ ڈرنک کرنے لگا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
”اور اب یہ دروازہ کھلا ہوا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ کوئی نہ کوئی رات کے کسی وقت یا پھر صبح میرے کمرے میں مجھے دیکھنے آیا تھا، اور وہ کون ہو سکتا ہے؟” اس نے ناب پر ہاتھ رکھے ہوئے چند لمحے جھنجھلاتے ہوئے سوچا تھا، اور پھر جیسے اس کے ذہن میں ایک جھماکا ہوا تھا۔ وہ ہونٹوں کو بھینچتے ہوئے اپنے کمرے سے باہر نکل آیا تھا۔
لاؤنج سے گزر کر وہ کچن میں آگیاتھا۔
”اوہ عمر ! تم اٹھ گئے؟”
گرینی نے اسے دیکھتے ہی کہاتھا۔ اس نے کوئی جواب نہیں دیاتھا ان کی طرف دیکھے بغیر وہ فریج کی طرف بڑھ گیاتھا۔
”تمہیں کچھ چاہئے؟”
گرینی نے اسے فریج کا دروازہ کھولتے دیکھ کر پوچھا تھا۔ اس نے اب بھی کوئی جواب دینے کے بجائے فریج کے اندر جھانکتے ہوئے سرکے کی بوتل تلاش کرنی شرو ع کر دی۔ گرینی اب کچھ کہنے کی بجائے خاموشی سے اس کی حرکات کو دیکھتی رہیں۔ وہ سرکے کی بوتل نکال کر کچن میں پڑی ہوئی چھوٹی سی ڈائننگ ٹیبل کی کرسی کھینچ کر اس پر بیٹھ گیا تھا۔
”مرید بابا ! ایک گلاس میں تھوڑا سا پانی دے دیں۔”
اس نے سرکے کی بوتل کھولتے ہوئے کہاتھا۔

گرینی دم بخود اس کی کارروائی دیکھ رہی تھیں۔ مرید بابا نے خاموشی سے ایک گلاس میں تھوڑا سا پانی ڈال کر اس کی طرف بڑھا دیا۔ اس نے سرکے کی بوتل میں سے کچھ سرکہ اس گلاس میں انڈیلا اور گلاس ہاتھ میں لے کر اسے پینے لگا۔ چند گھونٹ پینے کے بعد اس نے یک دم خود کو بہتر محسوس کیاتھا۔ گلاس میں اس نے کچھ اور سرکہ انڈیلا تھا اور پھر گلاس ہاتھ میں لے کر اٹھ کر کھڑا ہو۔ اس بار نانو نے اس سے کچھ کہنے کی کوشش نہیں کی تھی۔ وہ سب کچھ سمجھ چکی تھیں اور اس وقت وہ اسے شرمندہ نہیں کرنا چاہتی تھیں۔ وہ گلاس لے کر کچن کے دروازے سے نکلا تھااور اس کی نظر لاؤنج کے سامنے والے صوفے پر بیٹھی ہوئی علیزہ پر پڑی تھی۔ لاؤنج سے پہلے گزرتے ہوئے وہ علیزہ کی طرف پشت ہونے کی وجہ سے اسے دیکھ نہیں سکا تھامگر اب علیزہ اس کے بالکل سامنے تھی اور عمر یک دم غضبناک ہو گیا تھا۔ اس نے بلند آواز میں علیزہ سے کہا تھا۔
”دوسروں کے معاملات میں اتنی دلچسپی کیوں ہے تمہیں؟”
علیزہ نے بے حد حیرانی کے عالم میں اسے دیکھا تھا۔ وہ تھوڑی دیر پہلے ہی اس کے سامنے سے گزر کر کچن میں گیا تھا اور اب کچن سے باہر نکل کر وہ ایک دم اس ٹون میں اس سے بات کرنے لگا تھا۔ اس کی آواز کی کرختگی اور چہرے پر موجود خفگی علیزہ کو خوفزہ کرنے کے لئے کافی تھی۔وہ زرد چہرے سے اس کے جملے کا مقصد سمجھنے کی کوشش کرنے لگی۔

وہ کچھ آگے بڑھ آیا تھا اور علیزہ نے اس کے پیچھے نانو کو بھی کچن سے نکلتے دیکھا تھا۔
”کیا ہوا عمر؟ کیوں شور کر رہے ہو؟”
”میرا دماغ خراب ہو گیا ہے، اس لئے شور کر رہا ہوں!”
وہ نانو کی بات پر اور بھی بگڑ گیا۔
”آخر ہوا کیا ہے؟جس پر اتنے ناراض ہو رہے ہو؟”
نانو نے نرمی سے اس کے بازو پر ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا تھا۔
”یہ سوال مجھ سے نہیں اس سے پوچھیں۔”
اس نے علیزہ کی طرف اشارہ کیا تھا۔ جو بالکل بے حس و حرکت صوفہ پر بیٹھی ہوئی تھی۔ نانو کو جیسے حیرت کا ایک جھٹکا لگاتھا۔
”علیزہ سے پوچھوں؟ علیزہ نے کیا کیا ہے؟”
”اس کے نزدیک دوسروں کی زندگی تماشا ہے جسے دیکھ کر انجوائے کرنا اس کا فرض بنتا ہے۔”
نانو اس کی بات بالکل نہیں سمجھی تھیں۔
”عمر ! مجھے بتاؤ اس نے کیا کیا ہے؟”
”میں نے آپ سے کہا ہے نا کہ مجھ سے مت پوچھیں اس سے پوچھیں۔”
عمر اس کی بات پر یک دم بھڑکا تھا۔ نانو نے حیرت سے علیزہ کو دیکھا تھا جس کا چہرہ سفید ہو گیا تھا۔
اس کے وہم و گمان میں بھی تھا کہ عمر کمرے میں آنے کی بات جان جائے گا اور پھر اس پر اس طرح ہنگامہ کھڑا کر دے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
”کیا حق پہنچتا ہے تمہیں کہ تم لوگوں کی ذاتیات میں دخل اندازی کرو منہ اٹھا کر چوری چھپے دوسروں کے کمروں کے لاک کھول کر وہاں جاؤ۔”
اس کی آواز اتنی بلند اور لہجہ اتنا تلخ تھا کہ علیزہ کے ہاتھ پیر کانپنے لگے تھے۔
”تم ہوتی کون ہو، یہ سب کچھ کرنے والی۔ یہ گھر تمہارا یا تمہارے باپ کا نہیں ہے کہ تم یہاں کے ہر کمرے میں جھانکنے لگو۔”
وہ انگلی اٹھا کر تیز آواز میں اس سے کہہ رہا تھا۔
”جتنا حق تمہارا اس گھر پر ہے اتنا ہی میرا ہے اس لئے تمہیں اپنی حدود کاپتا ہونا چاہئے۔”
”عمر ! اتنے غصہ میں آنے کی ضرورت نہیں ہے۔ علیزہ کا کوئی قصور نہیں ہے میں نے ہی اسے تمہارے کمرے میں جانے کے لئے کہا تھا۔”
نانو نے بڑی نرمی سے اسے روکنے کی کوشش کی تھی۔ عمر کو ایک دم دھچکا لگا تھا۔
”آپ نے کہا تھا؟”
”ہاں ! میں نے کہا تھا؟”
عمر نے اپنے بازو پر رکھا ہوا ان کا ہاتھ ایک جھٹکے سے ہٹا دیا۔
”آپ نے کیوں کہا تھا؟”
”تمہیں اتنی دیر ہو گئی تھی ، تم اٹھ ہی نہیں رہے تھے۔ میں پریشان ہو گئی تھی، اس لئے میں نے علیزہ سے کہا کہ وہ لاک کھول کر اندر جائے اور دیکھے کہ تم ٹھیک ہو۔”
نانو نے بہت مہارت سے جھوٹ بولتے ہوئے کہاتھا۔
”میں جب چاہوں گا ، اٹھوں گا اور آپ کو کیا حق پہنچتا ہے کہ اس طرح میرے کمرے میں جاسوس بھیجیں۔”
وہ اب نانو سے الجھنے لگا تھا۔

”کیوں مجھے تمہارے بارے میں پریشان ہونے کا کوئی حق نہیں ہے ؟”
نانو نے اس سے شکوہ کیا۔
”نہیں ! آپ کو میرے بارے میں پریشان ہونے کا کوئی حق ہے نہ ہی اس کی ضرورت ہے۔میں یہاں اس لئے نہیں آیا کہ اپنے بیڈ روم میں بھی آزادی سے نہ رہ سکوں۔”
”عمر ! جو لوگ تم سے محبت کرتے ہیں وہ……!”
اس نے جھنجھلائے ہوئے انداز میں نانو کی بات کاٹ دی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔
”جہنم میں جائیں وہ لوگ جو مجھ سے محبت کرتے ہیں، مجھے ضرورت نہیں ہے کسی کی محبت کی……نہ ہی محبت کرنے والے لوگوں کی۔ میں تھک چکا ہوں اور تنگ آچکا ہوں ان لغویات سے۔”
اس کے لہجے میں اتنی بیزاری تھی کہ نانو چپ کی چپ ہی رہ گئی تھیں۔
وہ جھنجھلایا ہوا اپنے کمرے کی جانب جانے لگا تھا، لیکن جاتے جاتے وہ ایک بار پھر رک گیا اور اس نے انگلی اٹھا کر علیزہ سے کہا تھا۔
”آئندہ کبھی ایسی کوئی حرکت میرے ساتھ مت کرنا۔”
اس کے جواب یا رد عمل سے پہلے ہی وہ لاؤنج سے نکل گیا تھا ۔ چند لمحوں بعد علیزہ نے ایک دھماکے کے ساتھ اس کے کمرے کا دروازہ بند ہوتے سناتھا۔ نانو ابھی بھی وہیں کھڑی تھیں اور اب علیزہ کے لئے ان سے نظر ملانی مشکل ہو گئی تھی۔
وہ یک دم اٹھ کر ہی بھاگتی ہوئی لاؤنج سے نکل گئی تھی۔ اس نے اپنے عقب میں نانو کی آواز سنی تھی مگر وہ رکی نہیں تھی۔
وہ ان کے سامنے رونا نہیں چاہتی تھی۔
”وہ مجھ سے اس طرح کیسے بات کر سکتاہے؟”
اسے اب بھی یقین نہیں آ یا تھا کہ یہ سب اس نے عمر سے سنا تھا۔ اس نے صوفہ پر بیٹھ کر دونوں ہاتھوں سے اپنے چہرے کو چھپا لیا تھا۔

”عمراتنا ………تلخ کیسے ہو سکتا ہے……اور……اور وہ بھی میرے ساتھ؟”
اس نے بہتے ہوئے آنسوؤں کے ساتھ سوچا تھا۔
”اس نے کبھی مجھے اس طرح نہیں ڈانٹا……کبھی یوں بات نہیں کی پھر اب کیوں؟” اس کے آنسوؤں کی رفتار میں اضافہ ہو گیا تھا۔
”اس طرح سب کے سامنے اس نے ……کیا وہ مجھے اتنا ناپسند کرتا ہے۔”
اس کا دل ڈوبنے لگا…
”مگر میں نے ایسا کیا کیا ہے؟ میں تو… !”
اس نے اپنے کمرے کے دروازہ کھلنے کی آواز سنی تھی وہ جانتی تھی نانو اس کے پیچھے آئی ہوں گی اور یک دم اس کے وجود کو شرمندگی نے اپنی گرفت میں لے لیا تھا۔ اس کی وجہ سے عمر نے نانو کے ساتھ بھی بدتمیزی کی۔ اس نے چہرے سے اپنے ہاتھ نہیں ہٹائے تھے۔
نانو اس کے پاس صوفہ پر بیٹھ گئی تھیں اور انہوں نے بڑی شفقت سے اپنا بازو اس کے گرد پھیلا لیا تھا۔
”تمہیں اس کے کمرے میں اس طرح نہیں جانا چاہئے تھا۔”
اس نے ان کی دھیمی سی آواز سنی تھی۔
”آئی ایم سوری نانو ! میں پریشان تھی اس لئے……میں صرف یہ دیکھنا چاہتی تھی کہ وہ ٹھیک ہے۔”
اس نے اسی طرح چہرہ ڈھانپے اور سسکیوں میں کہا تھا۔
”میں جانتی ہوں مگر پھر بھی تمہیں اس کے کمرے میں اس طرح نہیں جانا چاہئے تھا وہ اس وقت ذہنی طور پر بہت پریشان ہے اور معمولی سی بات بھی اسے مشتعل کر دینے کے لئے کافی ہے۔ اس لئے تم آئندہ محتاط رہنا۔”
نانو نے اس کی پشت تھپتھپا تے ہوئے کہاتھا۔

”لیکن کیا نانو آپ کو لگتا ہے کہ میں اس کا تماشا……؟”
اسے اور رونا آیا تھا۔
”آخر اس نے اتنی بڑی بات کیوں کہی؟”
”علیزہ رونے کا کوئی فائدہ نہیں ہے اور اس