Amarbail By Umerah Ahmed Readelle50103 Episode 41
Rate this Novel
Episode 41
امربیل از عمیرہاحمد
۔۔۔۔
قسط نمبر 41
۔۔۔۔۔
باب 44
دوسری طرف عباس تھا اس کی آواز سنتے ہی ریسیور پر علیزہ کے ہاتھ کی گرفت سخت ہو گئی۔
”ہیلو علیزہ… کیا پرابلم ہے؟ تم نے دوبار فون کیا… سب کچھ ٹھیک تو ہے۔”
”میں نے نیو ز پیپر دیکھ لئے ہیں۔”
دوسری طرف یک دم خاموشی چھا گئی۔
”عباس بھائی! مجھے یقین نہیں آرہا کہ، آپ اس طرح چار انسانوں کو قتل کر سکتے ہیں۔ ”
”علیزہ! تم ان چیزوں کو نہیں سمجھتیں۔” عباس نے بڑے مطمئن انداز میں کہا۔
”تم نے صرف اسی موضوع پر بات کرنے کے لئے فون کیا تھا؟” عباس نے اس کے سوال کا جواب گول کرتے ہوئے کہا۔
”ہاں مجھے صرف اسی بارے میں بات کرنی ہے۔ آپ نے مجھ سے کہاتھا کہ آپ ان لوگوں کو پولیس اسٹیشن لے جانا چاہتے ہیں اس لئے اکٹھے کر رہے ہیں مگر آپ نے انہیں ما ردیا۔” وہ یک دم پھٹ گئی۔
”کوئی انسان اتنی بے رحمی کا مظاہرہ نہیں کر سکتا۔”
”تم تو واقعی غصے میں ہو علیزہ۔” وہ جیسے اس کے غصے سے محظوظ ہوا، علیزہ کو ہتک کا احساس ہوا۔
”آپ کو احساس ہے کہ آپ نے کتنا بڑاظلم کیا ہے؟”
”بالکل احساس ہے کہ میں نے کیا کیا ہے۔ البتہ میں تمہاری طرح اسے ظلم نہیں سمجھتا۔ میں نے وہی کیا ہے جو مناسب سمجھا۔” اس کے اطمینان اور سکون میں رتی بھر کمی نہیں آئی۔
”چار بے گناہ انسانوں کو اس طرح اٹھا کر مار دینا کہاں سے مناسب لگا ہے آپ کو؟”
”پہلی بات تو یہ کہ وہ بے گناہ نہیں تھے اور دوسری بات یہ کہ انہیں میں نے نہیں مارا۔ پولیس مقابلے میں مرے ہیں وہ۔” عباس نے اسے ٹوکتے ہوئے کہا۔
”پولیس مقابلہ…؟ کون سا پولیس مقابلہ؟ مجھے تو بے وقوف نہ بنائیں۔ میرے سامنے آپ نے ان چاروں کو اپنی گاڑی میں بٹھایا ہوا تھا۔”
”ٹھیک … اگر تمہیں یہ یاد ہے تو پھر یہ بھی یاد ہو گا کہ میں نے انہیں کیوں پکڑا تھا۔”
”میری وجہ سے پکڑا تھا آپ نے انہیں،اور میری وجہ سے ہی مار دیا۔”
”تو کیا غلط کیا۔ اب اگر لوگ ہماری عورتوں تک آنا شروع کر دیں۔ تو ہم Don’t do it again (آئندہ ایسا نہیں کرنا) کہہ کر گال کو سہلا کر تو کسی کو نہیں چھوڑ سکتے۔”
”میں نے آپ کو انہیں چھوڑنے کے لئے تو نہیں کہا تھا، آپ انہیں گرفتار کر لیتے مگر اس طرح مارتے تو نہ۔”
”علیزہ! تم ان باتوں کو نہیں سمجھتیں… بہتر ہے اس معاملے کے بارے میں بات نہ کرو۔”
”میں کیا نہیں سمجھتی ۔ میں سب کچھ سمجھتی ہوں۔”
”تمہیں اتنی ہمدردی کیوں ہو رہی ہے ان سے؟”
”مجھے ہمدردی نہیں ہو رہی، میں صرف اس غلط کام کی نشاندہی کر رہی ہوں جو آپ نے کیا ہے؟”
”غلط یا صحیح کام کی تعریف تم میرے لئے چھوڑ دو، تم اس کے بارے میں اپنے ذہن کو مت الجھاؤ ،میں اپنا کام بہت اچھی طرح سے جانتا ہوں۔” عباس کی آواز میں اس بار سرد مہری تھی۔
”کیا کام جانتے ہیں آپ، صرف لوگوں کو جانوروں کی طرح قتل کردینا، اور جعلی پولیس مقابلے قرار دے کر میڈلز بانٹنا۔”
”ان چاروں کے ساتھ وہی ہوا ہے جس کے وہ مستحق تھے۔ میرے خاندان کی عورت کے پیچھے کوئی اس طرح آئے گا تو یہی کروں گا۔ ان کتوں کو عام عورتوں اور ہماری فیملی کی عورتوں میں کوئی فرق نہیں لگا۔”
”وہ نہیں جانتے تھے کہ میرا تعلق کس خاندان سے ہے میرے خاندان کے بارے میں چھان بین کرکے انہوں نے میرا پیچھا کرنا شروع نہیں کیا۔”
”اگر نہیں جانتے تھے تو ان کو جان لینا چاہیے تھا، آنکھیں اور دماغ نہیں رکھتے تھے کیا وہ۔ آج بے خبری میں تمہاری پیچھے آئے تھے کل جانتے بوجھتے آتے۔”
”آپ کی منطق میری سمجھ سے باہر ہے۔”
”تمہاری سمجھ سے تو بہت ساری چیزیں باہر ہیں۔ تم جانتی ہو وہ تمہیں پکڑ لیتے تو کیا کرتے؟”
”مگر انہوں نے مجھے پکڑا نہیں تھا، نہ ہی مجھے کوئی نقصان پہنچایا ، میں بچ گئی تھی۔”
”تم اس لئے بچ گئی تھیں کہ پولیس دس منٹ کے اندر اس علاقے میں پہنچ گئی تھی ورنہ وہ تو تمہارا کوئی لحاظ نہ کرتے۔”
”وہ کیا کرتے اور کیا نہیں میں اس کی بات نہیں کر رہی ہوں۔ انہوں نے جو کیا آپ اس کی بات کریں۔ انہوں نے صرف ایک لڑکی کا پیچھا کیا اسے اغوا کرنے کی کوشش کی اور اس جرم کی سزا دنیا کے کسی قانون کے تحت بھی موت نہیں ہو سکتی۔”
”مجھے اس بات سے کوئی دلچسپی نہیں ہے کہ دنیا کے کسی قانون میں اس جرم کی سزا موت ہے یا نہیں میں نے انہیں اس جرم کے لئے سزا دی جو وہ کرنا چاہتے تھے۔”
”مگر کیا تو نہیں تھا؟”
”کرنا تو چاہتے تھے۔” وہ اپنی بات پر اڑا ہواتھا۔
”پولیس صرف ارادے پر لوگوں کو سزائے موت کب سے دینے لگی؟”
عباس نے دوسری طرف ایک گہرا سانس لیا۔
People are judged by their intentions.”(لوگ اپنے ارادوں سے ہی جانے جاتے ہیں۔)” اس کا لہجہ اس بار بالکل خشک تھا۔
”لیکن انہیں صرف ان کے ارادوں کی وجہ سے سزا نہیں دی جاتی۔”
”علیزہ! میں اس وقت بہت مصروف ہوں، ایک میٹنگ سے فارغ ہوا ہوں، تھوڑی دیر بعد دوسری میٹنگ ہے۔ اس لئے بہتر ہے اس بات کو ابھی ختم کر دیں۔ بعد میں اس پر تفصیلی گفتگو ہو گی۔ تم یہ بتاؤ تمہاری چوٹ پہلے سے بہتر ہے یا نہیں؟”
وہ اب واقعی موضوع بدل دینا چاہتا تھا۔
”آپ میری چوٹ کے بارے میں بات نہ کریں، آپ مجھ سے صرف وہی بات کریں جو میں کرنا چاہتی ہوں۔”
”اور اگر یہی بات میں تم سے کہوں کہ تم مجھ سے صرف وہی بات کرو جو میں کرنا چاہتا ہوں تو پھر؟” عباس کی ٹون میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی۔
”یہ میری بدقسمتی تھی کہ نانو نے آپ سے مدد مانگی، وہ ایسا نہ کرتیں تو وہ چاروں آج زندہ ہوتے۔”
”وہ چاروں اگر آج زندہ ہوتے تم زندہ نہ ہوتیں۔” عباس نے جیسے اسے یاد دہانی کروائی۔
”آپ ایک بار پھر ان کی سوچ کی بات کر رہے ہیں۔”
”ہر جرم سوچ سے ہی شروع ہوتا ہے۔”
”میں آپ کی طرح پریکٹیکل نہیں ہو سکتی کہ منہ اٹھاؤں اور جس کو جہاں چاہوں مار دوں یہ کہہ کر وہ جرم کرنے والا تھا۔”
”میں فون بند کر رہا ہوں۔” عبا س نے علیزہ سے کہا۔
”کر دیں مگر وہ بات ضرور سن لیں، جو میں آپ سے کہنا چاہتی ہوں۔” اس بار علیزہ کی آواز میں ٹھہراؤ تھا عباس ریسیور رکھتے رکھتے رک گیا۔ اسے حیرت ہوئی علیزہ ایسی کون سی بات کہنا چاہتی تھی۔
”کیا ابھی کوئی بات باقی رہ گئی ہے۔ جو تم کہنا چاہتی ہو؟”
”ہاں میں آپ کو یہ بتانا چاہتی ہوں کہ میں جسٹس نیاز کے گھر والوں کو سب کچھ بتا رہی ہوں۔”
ریسیور پر عباس کے ہاتھ کی گرفت سخت ہو گئی۔
”اس رات جو کچھ ہوا تھا، میں انہیں بتا دوں گی۔”
”بتا دوں گی۔” عبا س نے دل ہی دل میں دہرایا، اس کا ذہن برق رفتاری سے اپنا لائحہ عمل طے کر رہا تھا۔
ایک ہاتھ میں ریسیور لئے اس نے دوسرے ہاتھ سے انٹر کام کا ریسیور اٹھایا اور کان سے لگانے کے بعد کندھے کی مدد سے ٹکائے رکھا دوسرے ہاتھ سے اس فون کا ریسیور کان سے ہٹا کر نیچے کیا اور ماؤتھ پیس پر دوسرا ہاتھ رکھ دیا۔
”جسٹس نیاز کے آپریٹر سے کہہ دو کہ جب تک اسے دوبارہ ہدایات نہ ملیں، وہ جسٹس نیاز کے گھر آنے والی کسی کال کے کالر کی ان سے بات نہ کروائے اور جس فون نمبر پر میں ابھی بات کر رہا ہوں۔ اس کو چند منٹوں کے اندر ایکسچینج کے ذریعے ڈس کنکٹ کروا دو۔ انسپکٹر قیوم سے کہو، دو منٹ کے اندر مجھ سے رابطہ قائم کرے۔ ”
دھیمی آواز میں اس نے ساری ہدایات دینے کے بعد انٹر کام بند کر دیا اور دوبارہ فون ریسیور کو کان سے لگا کر علیزہ کی گفتگو سننے لگا، اس کے ماتھے پر بل تھے۔ واضح طور پر اس کی گفتگو اس کے لئے ناگواری کا باعث تھی۔
”ہر شخص پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ ”وہ اب کہہ رہی تھی۔” کہ وہ اپنے سامنے ہونے والے جرم کو پولیس سے نہ چھپائے، پولیس کو اس کے بارے میں ضرور انفارم کرے۔ میں نے بھی آپ کو اپنے سامنے ہونے والے اس جرم سے انفارم کر دیا ہے، جس میں خود پولیس ہی انوالو ہے۔ آپ چونکہ اس پر کوئی کارروائی نہیں کریں گے اس لئے میں خود تمام انفارمیشن پریس اور ان لوگوں کی فیمیلیز کو پہنچا دوں گی۔ جن کے بیٹوں کو آپ نے مارا ہے۔”
دوسری طرف مکمل خاموشی تھی، علیزہ کو پہلی بار سکون محسوس ہوا تھا۔ بات مکمل کرنے کے بعد اس نے فون بند کر دیا۔
اس کے فون کے بند ہوتے ہی آپریٹر نے انسپکٹر قیوم سے اس کا رابطہ کروا دیا۔
”جس گھر پر میں نے گارڈ لگوائی ہے۔ اس گھر سے اب نہ تو کوئی باہرآئے گا۔ نہ ہی اندر جائے گا۔ جب تک میں اجازت نہ دوں، تم اسی ہدایت پر عمل کرو گے۔ گھر کے کسی ملازم کو بھی باہر نکلنے نہیں دو گے۔”
اس نے فون بند کرنے کے بعد آپریٹر کو عمر سے رابطہ کروانے کے لئے کہا۔
”ہاں عمر! میں عباس بول رہا ہوں۔” رابطہ ہوتے ہی اس نے کہا۔
”ہاں عباس ! کیا بات ہے؟”
”علیزہ سے جا کر ملو۔” عباس نے کسی توقف کے بغیر کہا۔
”کیا مطلب ؟ سب کچھ ٹھیک تو ہے؟” عمرکچھ چونک گیا۔
”نہیں، کچھ بھی ٹھیک نہیں ہے۔ علیزہ کا دماغ خراب ہو گیا ہے۔” عباس کے لہجے میں خفگی تھی۔
”کیا ہوا؟”
”ابھی کچھ دیر پہلے فون پر میری اس سے بات ہو رہی تھی۔ وہ کہہ رہی تھی کہ وہ جسٹس نیاز کو سب کچھ بتا دے گی۔”
”کیا؟” عمر نے بے اختیار کہا۔
”مگر کیوں؟”
”کیونکہ وہ ہیومن رائٹس کی چیمپئن ہے۔ اس کا خیال ہے کہ میں نے ان چاروں کو ”قتل” کیا ہے اور یہ غلط تھا۔ اس لئے اب یہ ضروری ہوجاتا ہے کہ سب کچھ جسٹس نیاز اور پریس کو بتا دیا جائے۔”
”اس کا دماغ واقعی خراب ہو گیا ہے۔ ” عمر نے خفگی سے کہا۔
”بہرحال جو بھی ہے اب تم اس کے پاس جاؤ اور اسے سمجھاؤ۔” عباس نے اس سے کہا۔
”میں نے کچھ حفاظتی انتظامات تو کئے ہیں۔ مگر کب تک ۔ اس کے دماغ کا ٹھیک ہونا بہت ضروری ہے۔”
”تم فکر نہ کرو، میں ابھی اس کے پاس جاتا ہوں۔ سمجھا دوں گا میں اسے سب کچھ وہ جذباتی ہو جاتی ہے۔”
”جذباتی ہونے میں اور عقل سے پیدل ہو جانے میں بہت معمولی فرق ہوتا ہے۔ میں نہیں چاہتا یہ سب کچھ پاپا کو پتا چلے وہ تو بالکل Furious(برہم) ہو جائیں گے۔ ابھی پہلے ہی صورت حال خاصی خراب ہے۔ اس پر اس کا کوئی بیان یا نام کہیں پہنچ گیا تو سب کچھ ہاتھ سے نکل جائے گا۔ تم اس کے پاس جاؤ اور پھر اس سے بات کرنے کے بعد مجھ سے رابطہ کرو۔ ” وہ کچھ دیر مزید عمر سے اسی بارے میں بات کر تا رہا اور پھر اس نے فون بند کر دیا۔
٭٭٭
علیزہ نے عباس کو فون کرنے کے بعد ایکسچینج سے جسٹس نیاز کا نمبر لیا۔ وہ اس نمبر کو ملا رہی تھی جب فون لائن اچانک ڈیڈ ہو گئی۔ وہ کچھ حیران ہوئی ، فون کچھ دیر پہلے بالکل ٹھیک کام کر رہا تھا۔ اس نے فون ریسیوررکھ دیا۔ چند منٹوں کے بعد اس نے ریسیور اٹھایا۔ لائن اب بھی ڈیڈ تھی۔ یہ عارضی خرابی نہیں تھی جو ریسیور رکھ کر دوبارہ اٹھا لینے پر ٹھیک ہو جاتی۔ وہ کچھ بے چین ہونے لگی۔ وہ جلد از جلد جسٹس نیاز سے رابطہ کرنا چاہتی تھی۔
کچھ دیر وہ وہیں بیٹھی کچھ سوچتی رہی اور پھر ایک خیال آنے پر اٹھ کر اپنے کمرے میں آگئی۔ اپنا شولڈر بیگ نکال کر اس نے والٹ اندر ڈالا اور پھر جوتا بدل کر باہر نکل آئی۔ نانو کے کمرے سے اس نے دوسری گاڑی کی چابی لی۔ نانو اس وقت کمرے میں نہیں تھیں۔ وہ باہر لان میں تھیں۔ علیزہ باہر پور ٹیکو میں نکل آئی کار کو اسٹارٹ کرکے اس نے ریورس کرنا شروع کیا، لیکن وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئی کہ چوکیدار نے گیٹ نہیں کھولا بلکہ گیٹ کے پاس بنے چھوٹے سے کمرے سے نکل کر اس کی طرف آنے لگا۔ اس نے گاڑی روک دی۔
”علیزہ بی بی! آپ کہاں جا رہی ہیں؟” چوکیدار نے قریب آکر اس سے پوچھا۔
”کہاں جا رہی ہوں؟” وہ حیران ہوئی ”باہر جا رہی ہوں، تم گیٹ کھولو۔”
”علیزہ بی بی! مجھے نہیں پتا… بس کچھ دیر پہلے مجھے بتایا گیا تھا کہ میں کسی کو باہر نہ جانے دوں۔” چوکیدار نے اسے بتایا۔
”میں خود بات کرتی ہوں ان سے، دیکھتی ہوں یہ مجھے کیسے روکتے ہیں۔”
وہ تیز قدموں کے ساتھ گیٹ کی طرف بڑھ گئی۔
گیٹ کی سائیڈ پر موجودہ چھوٹا گیٹ کھول کر اس نے باہر نکلنے کی کوشش کی، مگر وہ کامیاب نہیں ہوئی گیٹ کا بولٹ کھلتے ہی باہر موجود ایک پولیس گارڈ اس کے سامنے آگیا۔ وہ منہ اٹھا کر اسے دیکھنے لگی۔
”آپ اندر چلی جائیں، باہر نہیں جا سکتیں۔” اس کی آواز میں سختی مگر لہجہ مؤدب تھا۔
”کیوں نہیں جا سکتی؟”
”ہمیں صاحب نے حکم دیا ہے کہ گھر سے کسی کو بھی باہر نکلنے نہ دیا جائے۔”
”کون سے صاحب نے حکم دیا ہے تمہیں؟”
”عباس صاحب نے۔ آپ پہلے ان سے بات کرکے اجازت لے لیں پھر ہم آپ کو باہر آنے دیں گے۔”
وہ ہونٹ کاٹتے ہوئے اسے دیکھتی رہی۔ فون میں ہونے والی اچانک خرابی اب اس کی سمجھ میں آنے لگی تھی۔ عباس یقیناً اتنا کمزور نہیں تھا جتنا وہ سمجھ رہی تھی۔
”فون خراب ہے۔ میں ساتھ والے گھر سے فون کرکے عباس سے اجازت لے۔۔۔” پولیس گارڈ نے اس کی بات مکمل نہیں ہونے دی۔
”آپ کہیں بھی نہیں جا سکتیں۔ عباس صاحب اگر آپ کو اجازت دینا چاہیں گے تو خود آپ سے رابطہ کریں گے یا ہدایات دے دیں گے۔ اس لئے بہتر ہے آپ اندر چلی جائیں۔”
اس کی آواز میں قطعیت تھی، علیزہ مزید بحث کئے بغیر واپس اندرآگئی۔ وہ شدید غصے کے عالم میں تھی۔ پاؤں پٹختے ہوئے وہ اندر لاؤنج میں چلی آئی، اندر آتے ہی اس نے وہ بیگ صوفے پر اچھال دیا جو وہ گاڑی سے نکال لائی تھی۔ اسے شدید بے بسی کا احساس ہو رہا تھا۔
چوکیدار نے نانو کو سارے واقعہ کی اطلاع دے دی۔ وہ چند منٹوں کے بعد اندر لاؤنج میں تھیں۔
”تم کہاں جانا چاہ رہی ہو علیزہ؟” انہوں نے آتے ہی پوچھا۔
”مارکیٹ تک جانا چاہ رہی تھی۔”
”کیوں؟”
”کچھ کام تھا نانو…! مگر عباس نے باہر موجود گارڈ سے کہا ہے کہ کوئی اندر سے باہر نہ جائے۔” اس نے برہمی سے کہا۔
”عباس نے کہا ہے تو کچھ سوچ کر ہی کہا ہو گا۔ تم فون پر اس سے بات کر لو۔” نانو اس کے قریب بیٹھتے ہوئے کہا۔
”فون لائن ڈیڈ ہے اور عباس، عباس کبھی کچھ بھی سوچ سمجھ کر کرنے کا عادی نہیں ہے۔”
”فون لائن ڈیڈ ہے؟ ابھی کچھ دیر پہلے تو بالکل ٹھیک تھی۔”
نانو فون کا ریسیور اٹھا کر اسے چیک کرنے لگیں۔ پھر کچھ مایوسی کے ساتھ انہوں نے ریسیور رکھ دیا۔ ”یہ کام نہیں کر رہا۔”
”یہ کام کر بھی کیسے سکتا ہے؟ یہ عباس کی وجہ سے بند ہے۔” علیزہ نے تلخی سے کہا۔
”فون کیوں بند کروایا ہے عباس نے؟” نانو کچھ فکر مند ہو گئیں۔
علیزہ کچھ کہتے کہتے رہ گئی، اسے اچانک خیال آیا تھا کہ نانو سے کچھ بھی کہنا مناسب نہیں ہوگا۔ وہ انہیں پریشان کرنا نہیں چاہتی تھی۔
”نانو! آپ مجھے ساتھ والوں کے گھر بھجوائیں، میں وہاں سے فون کروں گی۔”
”تمہیں فون کرنا کہاں ہے؟”
”شہلا کو فون کرنا ہے۔” اس نے جھوٹ بولا۔
”صبح اس سے بات تو ہوئی تھی تمہاری۔”
”نہیں ہوئی تھی، میں نے فون بند کر دیا تھا۔”
”اتنا بے چین ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہو سکتا ہے ابھی کچھ دیر تک وہ خود آجائے۔”
نانو نے اسے سمجھایا، وہ سوچ میں پڑ گئی۔
”اچھا آپ مرید بابا سے کہیں، وہ ساتھ والوں کے گھر سے اسے فون پر یہاں آنے کے لئے کہیں۔”
اس کے ذہن میں ایک اور خیال آیا۔ نانو اسے جواب دینے کے بجائے مرید بابا کو پکارنے لگیں۔
”جواد صاحب کے گھر جاؤ اور شہلا کو فون کرکے یہاں آنے کے لئے کہو۔” مرید بابا کے آنے پر نانو نے اس سے کہا۔
”اس سے یہ بھی کہیں کہ اپنا موبائل فون لے کر آئے۔” علیزہ نے نانو کی ہدایات کے بعد کہا۔ مرید بابا سر ہلاتے ہوئے لاؤنج میں نکل گئے۔ مگر ان کی واپسی چند منٹوں کے بعد ہی ہو گئی۔
”گیٹ پر موجود پولیس باہر جانے نہیں دے رہی۔ ” انہوں نے آتے ہی اطلاع دی۔
”آپ انہیں بتا دیتے کہ آپ کو ضروری کام سے نانو نے بھیجا ہے۔ ” علیزہ ایک بار پھر بے چین ہو گئی۔
”میں نے ان سے کہا تھا۔ مگر انہوں نے کہا کہ گھر سے کوئی بھی باہر نہیں جائے گا۔”
علیزہ نے بے اختیار اپنے ہونٹ بھینچ لیے۔
”ٹھیک ہے، آپ اپنا کام کریں۔” نانو نے مرید بابا کو ہدایت دی۔
ان کے جانے کے بعد انہوں نے علیزہ سے کہا۔ ”تم شہلا کا انتظار کرو، جب فون نہیں ملے گا تو وہ خود ہی یہاں آجائے گی۔”
انہوں نے جیسے علیزہ کو تسلی دی ”اور اگر باہر موجود پولیس نے اسے بھی اندر آنے نہ دیا تو…؟” وہ سوالیہ لہجے میں ان سے بولی۔
”تو، تو۔۔۔” نانو کو کوئی جواب نہیں سوجھا۔
”پتہ نہیں یہ سب کچھ کیا ہو رہا ہے، اچھی بھلی زندگی گزر رہی تھی اور اب یک دم۔”
انہوں نے بڑبڑاتے ہوئے اپنی بات ادھوری چھوڑ دی۔ علیزہ نے ان کی بات پر غور نہیں کیا۔ وہ اپنا ناخن کاٹتے ہوئے کچھ سوچنے میں مصروف تھی۔
٭٭٭
”آپ کے بیٹے کی وجہ سے بہت بڑی مصیبت میں گرفتار ہو چکا ہوں۔” چیف منسٹر نے ایاز حیدر سے ہاتھ ملاتے ہوئے کہا۔ وہ ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی چیف منسٹر ہاؤس پہنچے تھے۔
”مجھے حیرت ہو رہی ہے آپ کی بات پر، عباس کا سروس ریکارڈ شاندار ہے۔ اس نے ہمیشہ اپنے فرائض کو بڑی ایمانداری سے سر انجام دیا ہے اور وہ آئندہ بھی ایسا ہی کرے گا۔ آپ خود کئی بار اس کی تعریف کر چکے ہیں۔ ” ایاز حیدر نے بڑے خوشگوارانداز میں مسکراتے ہوئے کہا۔
وہ دونوں اس وقت وہاں اکیلے تھے اور اب صوفوں پر بیٹھ چکے تھے۔
”مجھے اس کی قابلیت یا ذہانت پر کوئی شبہ نہیں مگر دو دن پہلے جو کچھ ہوا ہے، میں عباس حیدر جیسے آفیسر سے اس کی توقع نہیں رکھتا تھا۔ ہائی کورٹ کے ایک جج کے بیٹے کو اس طرح گھر سے اٹھا کر مار دینا اور پھر یہ کہنا کہ وہ پولیس مقابلے میں مارا گیا ہے۔”
”سر میری عباس سے اس معاملے میں تفصیلاً بات ہوئی ہے۔ وہ لڑکا اسی رات واقعی پولیس مقابلے میں مارا گیا تھا۔ ڈکیتی کی کوشش…۔” چیف منسٹر نے ایاز حیدر کی بات کاٹ دی۔
”میرے سامنے وہ بیان نہ دہرائیں جو اخباروں کو دیا گیا ہے۔ اس کا باپ کہہ رہا ہے کہ گھر سے سادہ کپڑوں میں پولیس اہلکار اس کے بیٹے کو اٹھا کر لے گئے۔”
”جسٹس نیاز یہ نہیں کہیں گے تو اور کیا کہیں گے… ایک جج کا بیٹا ایک جرم کرتے ہوئے اس طرح مارا جائے تو اس کی ساکھ کس حد تک متاثر ہو گی۔ آپ تو اچھی طرح اس کا اندازہ کر سکتے ہیں۔”
ایاز حیدر نے بڑے پر سکون انداز میں کہا۔ چیف منسٹر جواب میں کچھ بولے بغیر خاموشی سے انہیں گھورتے رہے۔
”جسٹس نیاز جھوٹ پر جھوٹ بول رہے ہیں اور یہ ان کی مجبوری ہے۔ مگر اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس جھوٹ کی بنا پر آپ عباس کو سزا دیں۔ میں یہ بات اس لئے نہیں کہہ رہا کہ عباس میرا بیٹا ہے۔ وہ میرا بیٹا بعد میں ہے، آپ کی انتظامیہ کا ایک رکن پہلے ہے اور اس کی ایمانداری اور فرض شناسی سب پر بہت واضح ہے میں جانتا ہوں اپ اپنے ایک اچھے اور مستعد آفیسر کو کبھی کھونا نہیں چاہیں گے۔”
ایاز حیدر بڑے نپے تلے لفظوں میں اپنی بات آگے تک پہنچا رہے تھے۔ چیف منسٹر اب بھی کچھ کہے بغیر ان کا چہرہ دیکھ رہے تھے۔
”عباس نے کوئی غلط کام کیا ہوتا تو میں کبھی یہاں نہ بیٹھا ہوتا۔ آپ اس کے ساتھ جو چاہے کرتے۔ مجھے کوئی اعتراض نہ ہوتا، لیکن اب عباس نے جو بھی کیا ہے، وہ لا اینڈ آرڈر کو برقرار رکھنے کے لئے کیا ہے، اور اگر عباس حیدر جیسے آفیسرز کو سزا دی جائے گی تو اس سے ساری پولیس فورس کا مورال ڈاؤن ہو گا۔ خود عباس اس سارے واقعہ پر بہت اپ سیٹ ہے، وہ تو ریزائن کر دینا چاہتا تھا مگر میں نے زبردستی اس سے روکا وہ کہہ رہا تھا کہ پریس تو ہمیشہ پولیس کا نیگیٹو امیج ہی لوگوں کے سامنے پیش کرتا ہے، مگر جب اوپر والے بھی اپنے آفیسرز کو سپورٹ کرنے کے بجائے ان کے ایکشن پر شک و شبہ کا اظہار کریں تو پھر کام کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ میں نے اسے خاصا سمجھایا۔ مگر وہ پھر بھی بہت بد دل ہو گیا ہے اس سارے واقعہ پر، وہ مجھ سے شکایت کر رہا تھا کہ آپ نے اس معاملہ میں اس کی حمایت کرنے کے بجائے انکوائری کا حکم دے دیا ہے۔ اس کا واضح مطلب تو یہی ہوا کہ آپ کو جسٹس نیاز کی بات زیادہ وزنی لگ رہی ہے۔ اور وہ کہہ رہا تھا کہ آپ کے اس حکم سے اس کی کریڈ یبلٹی متاثر ہوئی ہے۔”
چیف منسٹر ایاز حیدر کی بات سنتے ہوئے مسلسل سگار پی رہے تھے۔ ان کا چہرہ بالکل بے تاثر تھا۔ ایاز حیدر کی باتیں ان پر اثر کر رہی تھیں یا نہیں، کم از کم ایاز حیدر کو ان کے چہرے سے یہ جاننے میں کوئی مدد نہیں مل رہی تھی ۔ وہ کچھ دیر اور بات کرتے رہے پھر جب وہ خاموش ہو گئے توچیف منسٹر نے کچھ آگے جھکتے ہوئے سامنے پڑی ٹیبل پر موجود ایش ٹرے میں سگار کی راکھ جھاڑی۔
”عباس کے خلاف انکوائری کا حکم میں نے نہیں دیا۔” وہ رکے پھر بولے۔
”میں نے اس پورے معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے اور یہ آرڈر میں نے کسی خاص شخص کو فوکس (مرکز) بنا کرکے نہیں دیا۔”
”سر! بات ایک ہی ہو جاتی ہے۔ عباس کے خلاف انکوائری کروائی جائے یا پھر اس واقعے کے بارے میں دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ ” ایاز حیدر نے کہا۔
”انکوائری تو مجھے کروانا ہی ہے۔ جسٹس نیاز نے Publically (عوام میں) آپ کے بیٹے کو مجرم ٹھہرایا ہے۔”
”آفیشلی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے اس واقعے پر احتجاج کیا ہے۔”
”جسٹس نیاز کے الزامات بے بنیاد ہیں، میں آپ سے پہلے… ” چیف منسٹر نے ان کی بات کاٹ دی۔
”ان کے الزامات اتنے بھی بے بنیاد نہیں ہیں۔ پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹرز سے تفصیلی بات ہوئی ہے میری۔ انہوں نے اعتراف کیا ہے کہ موت کا وقت وہ نہیں تھا جو انہوں نے دیا ہے۔ جسٹس نیاز نے جس وقت امتنان صدیقی سے بات کی، اس وقت ان کا بیٹا زندہ تھا اور ان کے فون پر امتنان صدیقی سے بات کرنے کے تقریباً ایک گھنٹے کے بعد اس کی موت ہوئی۔”
چیف منسٹر اب ایاز حیدر کے چہرے پر نظریں جمائے بول رہے تھے۔ ایاز حیدر کے چہرے کی رنگت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ وہ بالکل پر سکون انداز میں چیف منسٹر کی بات سن رہے تھے۔
”ڈاکٹرز نے یہ بھی اسے بتایا ہے کہ ان چاروں کی موت بہت قریب سے گولیاں لگنے سے ہوئی ہے۔ زیادہ سے زیادہ سات یا آٹھ فٹ کے فاصلے سے اور کچھ گولیاں کم فاصلے کی وجہ سے ان کے جسم کے آرپار بھی ہو گئیں۔”
چیف منسٹر ایک بار پھر سگار کی راکھ جھاڑ رہے تھے۔ ایاز حیدر پلکیں جھپکائے بغیر ان کا چہرہ دیکھ رہے تھے، یوں جیسے وہ انہیں کوئی بہت دلچسپ کہانی سنانے میں مصروف تھے۔
”اور یہ جان کر بھی آپ خاصے محظوظ ہوں گے کہ چاروں کے جسم سے ملنے والی گولیاں ایک ہی رائفل سے چلائی گئی ہیں۔ اب پولیس فورس میں کتنے ماہر نشانہ باز ہیں۔ یہ آپ بھی جانتے ہیں اور میں بھی۔ کیا یہ حیران کن بات نہیں کہ ایک پولیس مقابلے کے چاروں مجرم ایک ہی پولیس والے کا نشانہ بنے؟”
چیف منسٹر کے چہرے پر اب ایک عجیب سی مسکراہٹ تھی۔
”ڈاکٹرز کے مطابق وہ چند منٹوں کے فرق سے تقریباً ایک ہی وقت مرے ہیں اور پولیس کا کہنا ہے مقابلہ دو گھنٹے جاری رہا اور چار مختلف جگہوں پر انہیں شوٹ کیا گیا ایک رائفل ہے؟ چلو مان لیتے ہیں مگر پھر کم از کم موت کے وقت میں دس پندرہ نہیں تو آٹھ دس منٹ کا فرق ہوتا۔” ان کی آواز میں اب کچھ تلخی جھلکنے لگی تھی۔
”اور ڈاکٹر ز کا یہ کہنا ہے کہ جسٹس نیاز کے بیٹے کو موت سے پہلے اچھے خاصے تشدد کا سامنا کرنا پڑا ۔ اس کی پسلی کی کچھ ہڈیوں میں فریکچرز تھے، اور جسم پر چوٹوں کے کچھ نشانات بھی تھے۔ اب آپ اس کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟” انہوں نے کچھ طنزیہ انداز میں ایک اور کش لیتے ہوئے کہا۔
”میں صرف یہی کہوں گا کہ ایسے ڈاکٹرز پر کیس چلنا چاہئے، انکوائری ان کی ہونی چاہئے… جو ڈاکٹر پہلے ایک بیان دے رہے ہیں پھر دوسرا۔ ان پر اعتماد کیسے کیا جا سکتا ہے؟ آپ نے ان سے یہ نہیں پوچھا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں انہوں نے سب کچھ کیوں نہیں بتایا۔”
ایاز حیدر نے اسی پر سکون انداز میں کہا، جس پر سکون انداز میں وہ چیف منسٹر کی ساری گفتگو سنتے رہے تھے۔
”پوچھا تھا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں عباس حیدر نے پوسٹ مارٹم رپورٹ بدلنے پر مجبور کیا۔”
ایاز چیف منسٹر کی بات پر بے اختیار ہنسے۔
”مگر سوال تو یہ پیدا ہوتا ہے کہ عباس نے ایسے کیوں کیا؟”
”اسی سوال کا جواب لینے کے لئے تو میں نے آپ کو یہاں بلایا ہے۔ آپ بتایئے عباس نے یہ سب کیوں کیا؟”
”آپ کی عباس سے بات ہو چکی ہے؟”
”ہاں۔”
”یہ سوال آپ اس سے کر سکتے تھے سر! وہ زیادہ بہتر طریقے سے آپ کو ان سب باتوں کے بارے میں بتاتا۔”
”ڈاکٹرز سے میری بات چند گھنٹے پہلے ہوئی ہے۔ جبکہ عباس سے بات کل ہوئی تھی۔ اگر آپ یہاں نہ آئے ہوتے تو اس وقت عباس ہی یہاں بیٹھاہوتا۔ میں آپ سے سچ سننا چاہتا ہوں۔ کیا جسٹس نیاز کی فیملی کے ساتھ آپ کے کوئی اختلافات تھے؟”
”نہیں ان کی فیملی کے ساتھ ہمارے کیا اختلافات ہو سکتے ہیں۔ میں تو ان کی فیملی کو ٹھیک طرح سے جانتا تک نہیں ہوں۔ ان کا رورل بیک گراؤنڈ ہے، ہمارا اربن ہے پھر کسی اختلاف کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور اختلاف کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ میرا بیٹا کسی کو بھی ایسے ہی اٹھا کر مار دے۔”
ایاز حیدرنے صاف لفظوں میں انکار کرتے ہوئے کہا۔
چیف منسٹر نے ایک گہرا سانس لیا اور صوفے کی پشت سے ٹیک لگالی۔
”اب باتیں کچھ کھل کر ہوں گی۔ یہ بات تو صاف طے ہے کہ عباس نے ان چاروں کو ایک جعلی پولیس مقابلے میں مارا ہے۔ کیوں مارا ہے۔۔۔۔؟”
”انہوں نے کچھ توقف کیا اور سامنے ٹیبل پر پڑی ایک فائل کو کھول کر اس میں سے ایک ایڈریس پڑھنے لگے۔ ایاز حیدر کے چہرے پر پہلی بار تناؤ کی کیفیت نظر آنے لگی۔ وہ ایڈریس اس گھر کا تھا جہاں علیزہ نانو کے ساتھ رہ رہی تھی۔
”یہ ایڈریس اس گھر کا ہے جہاں آپ کی والدہ آپ کے والد کے انتقال کے بعد رہ رہی ہیں۔ ان کے ساتھ آپ کی ایک بھانجی بھی رہتی ہے۔… علیزہ سکندر۔”
وہ خاموش ہو گئے اور فائل میں موجود کاغذات کو دیکھتے رہے، پھر انہوں نے وہ فائل واپس ٹیبل پر رکھ دی اور ایاز حیدر کو دیکھنے لگے۔
”جس رات یہ واقعہ ہوا تھا اس رات آپ کی یہ بھانجی اپنی ایک دوست کے ساتھ کسی کنسرٹ سے واپس آرہی تھی۔ جب ان چاروں لڑکو ں نے ان دونوں کا پیچھا کیا۔ آپ کی بھانجی کی دوست اپنے گھر چلی گئی، لیکن جب آپ کی بھانجی گھر جا رہی تھی تو اس کا ایک بار پھر پیچھا کیا گیا۔ پولیس ہیڈکوارٹرز میں یکے بعد دیگرے کئی کالز آئیں… چند کالز آپ کی والدہ نے کیں کچھ اس گھر سے کی گئیں جہاں آپ کی بھانجی چھپ گئی تھی۔”
وہ بڑی روانی سے سب کچھ بتاتے جا رہے تھے۔ ایاز حیدر کو ان کی معلومات پر کوئی حیرت نہیں ہوئی، پولیس صرف عباس حیدر کی وفادار نہیں ہو سکتی تھی۔
”جس گھر میں آپ کی بھانجی چھپی تھی۔ وہاں کوئی ڈکیتی نہیں ہو رہی تھی، البتہ وہ لڑکے آپ کی بھانجی کے پیچھے ضرور گئے تھے۔ عباس حیدر کے ساتھ اس دن عمر جہانگیر بھی تھا اور اس پورے آپریشن کے دوران اس کے ساتھ رہا۔ عمر جہانگیر کو تو جانتے ہیں نا آپ؟”چیف منسٹر نے مسکرا کر عجیب سے انداز میں کہا اور پھر بات جاری رکھی۔ ”عباس نے اس پورے علاقے کا گھیراؤ کر لیا اور اس گھر تک بھی پہنچ گیا۔ وہ لڑکے اس وقت تک فرار ہو چکے تھے۔ اس کے بعد کیا ہوا کیا یہ بتانے کی ضرورت ہے یا اتنا ہی کافی ہے؟ یہ ضرور یاد رکھیں کہ آپ کی بھانجی کی کار اس وقت بھی پولیس ورکشاپ میں ہے اور اس گھر پر اس وقت بھی پولیس گارڈ لگی ہوئی ہے۔”
انہوں نے بڑے محظوظ ہوتے ہوئے ایاز حیدر کو دیکھ کر پوچھا۔ ایاز حیدر نے ایک گہرا سانس لیا۔
”میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ کیا عباس نے آپ کی بھانجی کی وجہ سے ان چاروں کو مارا تھا۔ کیا صرف اس لئے کہ ان چاروں نے آپ کی بھانجی کا پیچھا کیا تھا یا پھر اس لئے کہ آپ کی بھانجی ان میں سے کسی کے ساتھ انوالوڈ تھی؟ خاص طور پر جسٹس نیاز کے بیٹے کے ساتھ کیونکہ اس کے علاوہ باقی کسی پر اتنا تشدد نہیں کیا گیا تھا۔ آپ کو یہاں بلانے کی وجہ یہی تھی کہ یہ باتیں آمنے سامنے ہوسکیں۔ عباس صورت حال کی سنگینی کو انڈر اسٹیمیٹ کر رہا ہے۔ آپ یقیناً ایسا نہیں کریں گے۔ اب یہ آپ کو طے کرنا ہے کہ آپ ابھی بھی مجھے سچ بتائیں گے یا پھر وہی سب باتیں دہرائیں گے جو پہلے دہرا رہے ہیں اور یہ بات ذہن میں ضرور رکھیں کہ ایسا کرنے کی صورت میں، میں انکوائری ٹیم کو پوری اتھارٹی دے دوں گا اور جو کچھ اس وقت میرے سامنے اس فائل میں پڑا ہے، وہ یقیناً ان تک بھی ضرور پہنچ جائے گا۔ اس کے بعد آپ اور آپ کی فیملی کو کیسی صورت حال کا سامنا کرنا پڑے گا۔ آپ بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں۔
کیا آپ کی فیملی اس طرح کے کسی اسکینڈل کو افورڈ کر سکے گی؟ عباس حیدر کا سوچئے اس کا کیا ہو گا۔ عمر جہانگیر وہ بھی بچ نہیں سکے گا۔”
وہ زیرک سیاست دان بیورو کریسی کے ایک مہرے کو پھانسنے کے لئے اپنے پتے بڑی ہوشیاری سے کھیل رہا تھا۔
دوسری طرف ایاز حیدر اس کی باتوں کو غور سے سنتے ہوئے سارے حساب کتاب میں مصروف تھے۔
”جسٹس نیاز جس سیاسی گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں، آپ اسے اچھی طرح جانتے ہیں۔ اچھی طرح نہ بھی جانتے ہوں تو یہ ضرور آپ کے علم میں ہو گا کہ اسمبلی کے بہت سے ممبرز کی پشت پناہی حاصل ہے انہیں۔ ان کی بات نہ سننے پر مجھے اسمبلی میں خاصی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا اور جسٹس نیاز کا مطالبہ ہے، کہ آپ کے بیٹے کو معطل کیا جائے۔ اب آپ مجھے یہ بتائیں کہ میں کس بنیاد پر ایسا کرنے سے انکار کروں۔ خاص طور پر یہ جاننے کے بعد کہ آپ کے بیٹے نے ایک غلط کام کیا ہے۔”
”میرے بیٹے نے کوئی غلط کام نہیں کیا، نہ عباس نے نہ ہی عمر جہانگیر نے۔ آپ کو ملنے والی اطلاعات ٹھیک ہیں۔ ان چاروں کو ایک جعلی پولیس مقابلے میں مارا گیا تھا اور یہ اس لئے کیا گیا تھا کیونکہ۔۔۔”
ایاز حیدر نے چیف منسٹر کی بات سننے کے بعد بڑے دھیمے اور مستحکم لہجے میں بات کرنا شروع کی۔ چیف منسٹر خاموشی سے اس کی بات سنتے رہے۔
٭٭٭
علیزہ نانو کے ساتھ لاؤنج میں ہی بیٹھی ہوئی تھی، جب اسے باہر پورچ میں کسی گاڑی کے رکنے کی آواز آئی۔
”شاید شہلا آئی ہے۔” نانو نے اس سے کہا۔
”نہیں یہ شہلا کی گاڑی کی آواز نہیں ہے۔ ” علیزہ نے کچھ الجھے ہوئے انداز میں کہا۔ اسی وقت عمر لاؤنج کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا۔ علیزہ بے اختیار خوش ہوئی۔ کچھ دیر پہلے وہ بے بسی کے جس احساس سے دوچار تھی، وہ یک دم غائب ہو گیا تھا۔
”ہیلو۔” عمر کا لہجہ بالکل خوشگوار نہیں تھا۔ اس کے چہرے پر سنجیدگی تھی۔
”اچھا ہوا عمر! تم آگئے۔ یہ علیزہ بہت پریشان ہو رہی تھی۔ فون ڈیڈ ہے اور باہر موجود پولیس گارڈ کسی کو اندر آنے دے رہا ہے نہ ہی باہر جانے دے رہا ہے۔ علیزہ مارکیٹ تک جانا چاہتی تھی، تم اسے لے جاؤ۔” نانو نے عمر کو دیکھتے ہی کہا۔
”مارکیٹ تک کس لئے؟” عمر نے علیزہ کو بڑے غور سے دیکھتے ہوئے کہا۔ وہ اب اس کے قریب صوفہ پر بیٹھ رہا تھا۔
”وہ شہلا کو فون کرنا چاہتی ہے۔” نانو نے کہا۔
”کس لئے؟”
”وہ اسے بلانا چاہ رہی ہے یہاں۔”
”ٹھیک ہے میرا موبائل لے لو اس پر کال کرو اسے۔” عمر نے اپنا موبائل اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔
”ہاں اس پر کال کر لو۔” علیزہ نے اس سے موبائل لے لیا اور اٹھ کر کھڑی ہو گئی۔
”تم کہاں جا رہی ہو؟” عمر نے اسے اٹھتے دیکھ کر ٹوکا۔
”اپنے کمرے میں۔”
”میرے سامنے بات کرو شہلا سے۔”
”ہاں علیزہ یہیں فون کر لو۔ نانو نے بھی مداخلت کی۔”
علیزہ نے چونک کر عمر کو دیکھا، اس کے چہرے پر سنجیدگی کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں تھا۔
”نہیں نانو! میں یہاں فون نہیں کر سکتی۔” اس نے لاؤنج سے نکلتے ہوئے کہا۔
”گرینی میں ابھی آتا ہوں۔”
علیزہ نے چلتے چلتے عمر کو کہتے سنا، وہ اب اس کی طرف آرہا تھا۔ علیزہ کچھ حیران ہو کر اسے دیکھنے لگی۔ وہ اب اس کے قریب آکر بڑی نرمی سے اس کے ہاتھ سے موبائل لے رہا تھا۔
”آؤ تمہارے کمرے میں چلیں، کچھ باتیں کرنی ہیں تم سے۔”
وہ قدرے مدہم مگر مستحکم آواز میں کہہ رہا تھا۔
”مجھے بھی آپ سے کچھ باتیں کرنی ہیں۔” وہ اس کے ساتھ چلتے ہوئے بولی۔
وہ دونوں کمرے میں آگئے۔ کمرے کا دروازہ بند کرتے ہی علیزہ نے عمر سے کہا۔
”آپ نے دیکھا عباس نے ان چاروں کے ساتھ کیا کیا ہے؟”
عمر نے اس کی بات کا جواب دینے کے بجائے اس سے کہا۔
”علیزہ بیٹھ جاؤ اور پھر بات کرو۔” وہ صوفہ پر بیٹھ گئی۔
”عباس نے ان چاروں کو قتل کر دیا ہے یہ کہہ کر کہ وہ پولیس مقابلے میں مارے گئے۔ یہ سب جھوٹ ہے، آپ تو اچھی طرح جانتے ہیں۔ سب کچھ آپ کے سامنے ہی تو ہوا تھا۔”
عمر اب خود بھی دوسرے صوفے پر بیٹھ گیا تھا اور بڑے اطمینان سے اسے دیکھ رہا تھا۔
”اس نے چاروں کے ساتھ وہی کیا جو انکل ایاز نے شہباز کے ساتھ کیا… مجھے اب آپ کی بات پر یقین آگیا ہے، آپ تب سچ کہہ رہے تھے۔” وہ کہتی جا رہی تھی، عمر نے کسی ردِ عمل کا اظہار نہیں کیا۔
”آپ شہباز کے بارے میں کچھ نہیں کر سکے، مگر ان چاروں کے بارے میں ہم بہت کچھ کر سکتے ہیں۔ آپ اور میں گواہ ہیں سب کچھ ہمارے سامنے ہوا تھا۔ ہم عباس کو ایک غلط کام کے لئے سزا دلوا سکتے ہیں۔”
وہ اب بھی بے تاثر چہرے کے ساتھ اسے دیکھ رہا تھا۔
”کیا یہ ضروری ہے کہ ہر غلط کام کرنے کے بعد عباس اور انکل ایاز جیسے لوگ بڑی آسانی سے بچ جائیں۔ کبھی تو انہیں یہ احساس ہونا چاہئے کہ وہ غلط کر رہے ہیں۔ وہ ہر کام غلط طریقے سے کر رہے ہیں، ان کے نزدیک انسانی زندگی کی اہمیت کیوں نہیں ہے۔”
اسے بات کرتے کرتے محسوس ہوا کہ عمر نے اب تک اس کی کسی بات کی تائید نہیں کی تھی، نہ منہ سے نہ چہرے کے کسی تاثر سے۔ وہ یک دم خاموش ہو گئی ۔ لاشعوری طور پر وہ یہ توقع کر رہی تھی کہ عمر اس کی ہر بات کی نہ صرف تائید کرے گا بلکہ فوراً اس کی مدد کی ہامی بھی بھر لے گا۔ مگر وہ … وہ اس کے سامنے بے تاثر چہرے کے ساتھ بالکل خاموش بیٹھا ہوا تھا۔
”کچھ اور بھی کہنا ہے تمہیں؟ یا بس یہی سب کہنا تھا؟” اس کے یک دم خاموش ہونے پر اس نے کہا۔ اس کا لہجہ اتنا عجیب تھا کہ وہ چاہنے کے باوجود ایک لفظ بھی نہیں بول سکی۔
”میرا نام کیوں نہیں شامل کیا تم نے اس لسٹ میں… ایاز انکل، عباس حیدر اور عمر جہانگیر؟” وہ حیرت سے اسے دیکھنے لگی۔
”مجھ کو بھی اس کیٹیگری میں رکھو۔”
”عمر! میں۔۔۔”
عمر نے ہاتھ اٹھا کر اس کی بات کاٹ دی۔ ”زندگی میں جو لوگ دماغ کو استعمال نہیں کرتے، وہ ہمیشہ منہ کے بل گرتے ہیں اس لئے اپنے دماغ کو استعمال کرنا سیکھو۔” اس بار اس کی آواز میں تلخی تھی۔
”اور جو لوگ صرف دماغ استعمال کرتے ہیں، وہ کیسے گرتے ہیں؟”
”وہ گر سکتے ہیں مگر منہ کے بل نہیں۔ عباس نے ایک صحیح کام لیا۔”
”اس نے آپ کی برین واشنگ کر دی ہے ورنہ آپ اس طرح کے قتل کو تو کبھی صحیح ثابت کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔” وہ بے اختیار برہمی سے بولی۔ وہ عجیب سے انداز میں ہنسا۔
”برین واشنگ مائی فٹ۔ میں کوئی پانچ سال کا بچہ نہیں ہوں جس کی برین واشنگ کر دی گئی ہے۔ اس رات ان چاروں کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ ہم دونوں نے مل کر طے کیا تھا۔”
وہ دم بخود اسے دیکھتی رہی وہ بڑے اطمینان سے اسے بتا رہا تھا۔
”اس کے علاوہ دوسرا کوئی راستہ ہمارے پاس نہیں تھا۔”
”آپ نے مجھ سے کہا تھا کہ عباس ان لوگوں کو لاک اَپ میں بند کر دے گا۔ ان پر کورٹ میں کیس چلے گا۔”اس نے شکستہ آواز میں کہا۔
”میں نے جھوٹ بولا تھا۔”
وہ اس کا منہ دیکھ کر رہ گئی۔
”علیزہ سکندر کو کسی بھی عمر میں بے وقوف بنانا دنیا کا آسان ترین کام ہے۔” اس نے دل ہی دل میں اعتراف کیا۔” میں لوگوں کو جانچنے اور پرکھنے میں آج بھی اتنی ہی ناکام ہوں جتنا پہلے تھی۔ کوئی ڈگری ، کوئی تجربہ میری سمجھ داری میں اضافہ نہیں کر سکتا۔ میں کبھی بھی لوگوں کے لفظوں میں چھپے ہوئے اصلی مفہوم تک نہیں پہنچ سکتی یا شاید عمر جہانگیر وہ شخص ہے جس کے لفظوں کو میں کبھی جانچنا نہیں چاہوں گی۔”
”یہ جھوٹ بولنے کی کیا ضرورت تھی۔ آپ مًجھے صاف صاف بتا سکتے تھے۔”
”تاکہ جو حماقت تم اب کر رہی ہو، وہ اسی وقت کرنا شروع کر دیتیں۔” اس کی آواز میں اس بار ترشی تھی۔
”کیا کرنا شروع کر دیتی؟”
”تم بہت اچھی طرح جانتی ہو کہ تم کیا کر رہی ہو؟” اس کی آواز میں تنبیہ تھی۔
”نہیں، میں نہیں جانتی میں کیا کر رہی ہوں۔ آپ بتادیں۔”
”عباس کو فون پر کیا کہا تھا تم نے؟” وہ چند لمحے اسے گھورتے رہنے کے بعد بولا۔
علیزہ کو اب کوئی خوش فہمی باقی نہیں رہی… اس کا ایک اور اندازہ بالکل غلط ثابت ہو گیا۔ وہ جان گئی تھی وہ یہاں کس کے لئے آیا تھا ۔ عباس کو بچانے کے لئے یا پھر شاید اپنے آپ کو بچانے کے لئے۔
”اگر آپ کو یہ پتا ہے کہ میں نے عباس کو فون کیا تھا تو پھر یہ بھی پتا ہو گا کہ کیوں کیا تھا۔” اس نے اپنی آواز پر حتی المقدور قابو پاتے ہوئے کہا۔
”تم اپنے لئے اور دوسروں کے لئے پرابلمز پیدا کرنے کی کوشش مت کرو۔” اس نے تیز آواز میں اس سے کہا۔
”میں کسی کے لئے پرابلمز پیدا نہیں کر رہی۔ میں صرف وہ کر رہی ہوں جسے میں ٹھیک سمجھتی ہوں۔”
”کیا ٹھیک سمجھتی ہو تم۔ خود کو اور خاندان کو اسکینڈلائز کرنا۔۔۔”
”میں کسی کو اسکینڈلائز نہیں کر رہی ہوں۔” اس نے عمر کی بات کاٹ دی۔ ”اگر آپ کو اس چیز کا خوف تھا تو آپ کو یہ سب کچھ نہیں کرنا چاہئے تھا۔”
”اچھا یہ نہیں کرنا چاہئے تھا؟ تو پھر کیا کرنا چاہئے تھا، تم بتاؤ گی مجھے؟”
اس کی آواز میں طنز تھا اور وہ اسے بخوبی محسوس کر سکتی تھی۔
”آپ کو وہی کرنا چاہئے تھا جو مناسب تھا، جو جائز تھا۔ آپ کو انہیں صرف لاک اپ میں بند کر دینا چاہئے تھا۔ان پر کورٹ میں کیس چلتا پھر جو سزا کورٹ انہیں دیتی آپ اس پر عمل کرتے۔”
”لاک اپ میں بند کرنا چاہئے تھا؟ کتنے گھنٹوں کے لئے؟”
”کیا مطلب؟”
”تمہیں کچھ اندازہ ہے کہ وہ کتنے با اثر گھرانوں سے تعلق رکھتے تھے۔ انہیں لاک اپ میں بند کیا جاتا اور رات گزرنے سے پہلے انہیں چھڑوا لیا جاتا، کسی کے ایک فون پر ، کسی ضمانت یا کارروائی کے بغیر۔”
”یہ کیسے ممکن ہے۔ آپ لوگ ایف آئی آر رجسٹر کرتے تو وہ کیسے رہا ہو سکتے تھے۔”
”کون سی ایف آئی آر؟ اور کیا حیثیت ہے ایک ایف آئی آر کی؟ جاننا چاہو گی؟”
عمر نے ترش لہجے میں کہتے کہتے سائیڈ ٹیبل پر پڑے ہوئے پیپرز میں سے ایک کو لے کر برق رفتاری سے پھاڑتے ہوئے قالین پر اچھال دیا۔
”یہ حیثیت ہے ایک ایف آئی آر کی ۔ جو کام میں نے یہاں تمہارے سامنے بیٹھ کر کیا ہے وہ ایسے با اثر خاندانوں کے لوگ پولیس اسٹیشن میں بیٹھ کر کرتے ہیں۔”
وہ دم سادھے قالین پر گرتے ان ٹکڑوں کو دیکھتی رہی۔
”کاغذ کے ایک ردی ٹکڑے سے زیادہ اہمیت نہیں ہوتی، ایف آئی آر کی۔ کون سا خاندان اپنے سپوتوں کا نام پولیس اسٹیشن کے ریکارڈ میں آنے دے گا۔ چاہے انہوں نے جو بھی کیا ہو، یہ خاندان کی ساکھ اور مستقبل کا معاملہ ہوتا ہے۔ کوئی ان چیزوں کو داؤ پر نہیں لگا سکتا۔” وہ رسانیت سے بولتا جا رہا تھا۔
”اور اس صورت حال سے بچنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ ایسے لوگوں کو مار دیا جائے۔ ایک جعلی پولیس مقابلے میں ۔ اس طرح سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ ” وہ طنز سے بولی۔
”سب کچھ نہ سہی بہت کچھ۔”
”آپ کی کوئی بات مجھے قائل نہیں کر رہی۔ سوچے سمجھے بغیر ایک غلط کام کرنے کے بعد آپ اسے صحیح ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ کہہ کر ایف آئی آر کے باوجود بھی وہ چھٹ جاتے۔ آپ ان کو نہ رہا ہونے دیتے۔ اتنا اثر و رسوخ تو ہمارے خاندان کا بھی ہے، ان چاروں کو کورٹ تک لے جانا آپ کے لئے کوئی مشکل یا نا ممکن کام نہیں تھا۔” وہ اس سے کہہ رہی تھی۔
”اچھا لے جاتے ان چاروں کو ہم کورٹ میں، اس کے بعد کیا ہوتا؟” وہ چیلنج کرنے والے انداز میں اس سے پوچھ رہا تھا۔
”ان پر کیس چلتا کورٹ انہیں سزا دیتی۔”
”کون سے یو ٹوپیا میں رہ رہی ہو تم علیزہ! یہاں اس ملک میں ایک با اثر خاندان کے فرد پر ایک لڑکی کا پیچھا کرنے پر کیس چلتا۔ جب یہ ہونا شروع ہو جائے گا تو پھر ایسے لوگ پولیس مقابلوں میں مارے نہیں جائیں گے پھر وہ واقعی کورٹس تک پہنچائے جائیں گے۔” اس نے اب صوفے کی پشت سے ٹیک لگالی۔
”یہاں اب کورٹس میں ججز انصاف کرتے نہیں، انصاف بیچتے ہیں۔ جیب میں روپیہ اورما تھے پر بڑے خاندان کی اسٹمپ ہونی چاہئے پھر وکیل کی ضرورت نہیں پڑتی۔ نہ گواہوں کی ، نہ ثبوتوں کی پھر جج خود آپ کا ہو جاتا ہے۔ ہائی کورٹ کے جج کے بیٹے کو کون سا جج سزا دیتا۔”
وہ اب عجیب سے انداز میں مسکرا رہا تھا۔
”چیمبر آف کامرس کے ایک عہدے دار کے بیٹے کو کون سلاخوں کے پیچھے رکھ سکتا ہے اور کتنی دیر۔”
”پھر بھی آپ کوشش تو کر سکتے تھے، قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کا حق آپ کو کس نے دیا؟” وہ اس کی کسی بات سے قائل نہیں ہو رہی تھی۔
”قانون کو ہاتھ میں ا س لئے لینا پڑا کیونکہ قانون ان چاروں کے بارے میں کچھ بھی نہیں کر سکتا تھا۔ وہ چاروں اسی رات رہا کروا لئے جاتے اور اگر کسی طرح ان پر کیس کر بھی دیا جاتا تو کس طرح جیتا جا سکتا تھا، ثبوت کیا تھے ہمارے پاس؟”
وہ بے یقینی سے اس کا چہرہ دیکھنے لگی۔
”ثبوت تھے ہمارے پاس۔” اس نے ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے کہا۔
”کون سے ثبوت؟ پولیس جب گھر پر پہنچی تو ان چاروں میں سے کوئی بھی وہاں نہیں تھا۔”
”لیکن اس گھر کے لوگوں نے انہیں دیکھا… جب وہ زبردستی اندر آئے تھے۔”
”اس گھر کے لوگ؟” وہ استہزائیہ انداز میں ہنسا۔ ”اس گھر کے کتنے لوگ تمہارے لئے گواہی دینے کورٹ میں آئیں گے ، ایک بھی نہیں۔”
”آپ انہیں ایسا کرنے کے لئے پریشرائز کر سکتے ہیں۔”
”اور یہی کام نہ کرنے کے لئے ان چاروں کے گھر والے بھی انہیں پریشرائز کر سکتے تھے۔”
”ٹھیک ہے وہ گواہی نہ دیتے ، میں تو دے سکتی تھی۔ میں پہچانتی تھی ان چاروں کو۔”
وہ اس کی بات پر ایک بار پھر ہنسا۔
”تم کون ہو علیزہ سکندر؟ کیا حیثیت رکھتی ہے تمہاری گواہی۔ جانتی ہو وہ کن اداروں میں پڑھ رہے تھے؟ کورٹ تم سے پوچھتی کہ چار اعلیٰ حسب و نسب کے نوجوانوں نے آخر تمہارا ہی کیوں پیچھا کیا ۔ ہو سکتا ہے تم نے ان کو ترغیب دی ہو؟ ہو سکتا ہے وہ کہہ دیتے کہ وہ تمہیں پہلے ہی جانتے ہیں اور ان میں سے کسی کا تمہارے ساتھ افئیر چل رہا تھا۔ جب اس نے تمہارے ساتھ تعلقات ختم کئے تو تم نے اسے سزا دینے کے لئے یہ سب کچھ پلان کیا۔ یہ بھی ممکن تھا کہ وہ صاف صاف کہہ دیتے کہ انہوں نے ایسا کچھ نہیں کیا، وہ تمہیں جانتے تک نہیں اور رات وہ چاروں اپنے اپنے گھر میں تھے، دو کو تو ہم نے بھی گھر سے ہی اٹھایا۔ یا پھر ہو سکتا تھا کہ ان کے خاندان یہ کہتے کہ یہ ان کے کسی دشمن کی سازش ہے، کوئی ان کی ریپوٹیشن خراب کرنا چاہتا ہے۔ تم کیسے کاؤنٹر کرتیں ان سب چیزوں کو ، کورٹ پہلی ہی پیشی میں ان چاروں کو بری کر دیتا۔ ”با عزت بری” اور اس کے بعد تم کہاں پر کھڑی ہوتیں؟”
وہ کسی ترحم کے بغیر بڑی بے رحمی اور سفاکی سے اسے سب کچھ سنا رہا تھا۔
”ٹھیک ہے کورٹ انہیں سزا نہ دیتی، مگر سب کچھ جائز طریقہ سے تو ہوتا، غلط طریقے سے تو نہیں۔”
”اور اس جائز طریقے کا جو خمیازہ تم کو بھگتنا پڑتا اس کا اندازہ ہے تمہیں۔ جو لڑکے اتنی دیدہ دلیری کے ساتھ تمہارے نام پتہ سے واقف نہ ہونے کے باوجود تمہارا اس طرح پیچھا کر رہے تھے۔ وہ تمہارے بارے میں جاننے کے بعد تمہیں چھوڑ دیتے۔ تم ان کو کورٹ میں لے کر جاتیں اور وہ اس کے بعد تمہیں بخش دیتے۔”
”آپ عباس کی طرح Hypothetical(فرضی) باتیں نہ کریں۔ وہ کیا کر دیتے، کیا کر سکتے تھے۔ یہ ہو جاتا وہ ہو جاتا حقیقت تو یہی ہے کہ انہوں نے مجھے کوئی نقصان نہ پہنچایا۔”
”عباس ٹھیک کہہ رہا تھا، تم سچ مچ حواس کھو چکی ہو۔ ” عمر بے اختیار جھلایا۔
علیزہ نے اسے دیکھا۔ ”یہ جو اتنا لمبا چوڑا بیان دے رہے ہیں آپ، اس کے بجائے آپ صرف یہ کیوں نہیں کہہ دیتے کہ عباس اور آپ کے لئے یہ انا کا مسئلہ بن گیا تھا۔ وہی میل شاؤنزم جو یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ اس کی فیملی کی عورت کو ایسے کسی کرائسس سے گزرنا پڑے۔ آپ کی نسبت عباس زیادہ صاف گو ہے۔ جس نے واضح طور پر اس بات کا اقرار کیا۔ آپ صرف ایک کے بعد دوسری کے بعد تیسری وضاحت پیش کر رہے ہیں۔ آپ بھی عباس کی طرح یہ اعتراف کر لیں کہ یہ صرف Family Pride (خاندانی انا) تھی جسے Intact (قائم) رکھنے کے لئے آپ نے یہ سب کیا۔”
عمر نے اس کی بات کے جواب میں بڑے واشگاف انداز میں کہا۔
”او کے، تم ایسا سمجھتی ہو تو ایسا ہی سہی۔ ہاں میں بھی یہ برداشت نہیں کر سکا کہ کوئی میری فیملی کی کسی عورت کے ساتھ اس طرح کا سلوک کرے ، کیا یہ کافی ہے تمہارے لئے؟”
”کیا وہی عمر ہیں آپ، جو چند ماہ پہلے شہباز منیر کے موت پر واویلا کر رہا تھا اور آج وہ خود چارانسانوں کو مارنے کے بعد بھی ضمیر پر کوئی بوجھ محسوس نہیں کر رہا۔ کیا انکل ایاز کے نقش قدم پر چل رہے ہیں آپ بھی؟”
اس نے تلخی سے کہا۔
”اس وقت شہباز منیر کی بات
