Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 42

امربیل از عمیرہاحمد
۔۔۔۔
قسط نمبر 42
۔۔۔۔۔
اگلا خیال اسے نانو کا آیا تھا۔ ”پتا نہیں وہ کہاں ہوں گی؟ شاید اپنے کمرے میں یا پھر۔۔۔” اس نے بیڈ کو ٹٹولتے ہوئے فرش پر کھڑے ہونے کی کوشش کی۔ فائرنگ اب بھی کسی توقف کے بغیر جاری تھی۔ لڑکھڑاتے قدموں کے ساتھ اندھیرے میں دروازہ تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہوئے وہ رستے میں آنے والی کئی چیزوں سے ٹکرائی مگر دروازے تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئی۔
دروازے کو کھول کر وہ کوریڈور میں نکل آئی۔ کوریڈور بھی مکمل طور پر تاریک تھا۔ فائرنگ میں اب اور بھی شدت آگئی تھی۔ علیزہ نے کوریڈور کی دیواروں کو ٹٹولتے ہوئے نانو کے کمرے تک پہنچنے کی کوشش کی ۔ نانو کے کمرے کے دروازے تک پہنچتے ہی اس نے وحشت کے عالم میں اسے دھڑ دھڑایا۔ دروازہ لا کڈ تھا۔
”نانو…! نانو…! دروازہ کھولیں۔ میں علیزہ ہوں۔” اس نے بلند آواز میں پکارنا شروع کر دیا۔ فائرنگ کی آواز کے دوران بھی اس نے اندر سے آنے والی نانو کی آواز سن لی۔
”علیزہ…! ٹھہرو میں آرہی ہوں… دروازہ کھولتی ہوں۔”
چند لمحوں کے بعد نانو نے دروازہ کھولتے ہوئے پوچھا۔
”یہ کیا ہو رہا ہے؟” نانو بہت خوفزدہ لگ رہی تھیں۔
”مجھے نہیں معلوم نانو! یہ کیا ہو رہاہے؟”
”تم ٹھیک تو ہو؟”
”ہاں میں ٹھیک ہوں۔ آپ ٹھیک ہیں؟”
”ہاں میں ابھی تمہارے پاس ہی آنا چاہ رہی تھی مگر اندھیرے میں رستہ۔۔۔” وہ خاصی سراسمیگی کے عالم میں کہہ رہی تھیں۔ ”اور لائٹ… پتا نہیں لائٹ کیوں چلی گئی ہے؟”
”نانو! یہ فائرنگ کہاں ہو رہی ہے؟”
”پتا نہیں… مجھے کیسے پتا ہو سکتا ہے۔۔۔” اندھیرے میں نانو کی آواز ابھری۔
”ہمیں فون کرنا چاہئے۔ پولیس کو۔” علیزہ نے بے تابی سے کہا۔
”کیا آپ نے پولیس کو فون کیا ہے؟”
”نہیں… میں تو کچھ سمجھ ہی نہیں پا رہی… ابھی میں چند منٹ پہلے ہی اٹھی ہوں۔۔۔”
”پتا نہیں اصغر کہاں ہے؟” علیزہ نے چوکیدار کا نام لیا۔ ”میں لاؤنج میں جا کر اس سے انٹر کام پر فائرنگ کے بارے میں پوچھتی ہوں… ہو سکتا ہے یہ ہمارے گھر کے باہر نہ ہو رہی ہو۔” علیزہ نے کسی امید کے تحت کہا۔
”ٹھہرو میں بھی تمہارے ساتھ چلتی ہوں، مجھے ٹارچ نکال لینے دو۔” نانو نے اسے روکتے ہوئے کہا۔ فائرنگ ابھی بھی اسی طرح جا ری تھی، اس کی شدت میں کوئی کمی نہیں آئی تھی۔
نانو اب خاموش تھیں۔ وہ کمرے میں ٹارچ ڈھونڈنے کی کوشش کر رہی تھیں۔
”نانو پلیز، جلدی کریں۔ اگر ٹارچ نہیں مل رہی تو رہنے دیں۔ کچن سے ٹارچ لے لیں گے یا پھر اسی طرح لاؤنج میں چلتے ہیں۔” علیزہ نے بے صبری سے کہا۔
”نہیں مل گئی ہے مجھے۔” نانو نے اسی وقت ٹارچ روشن کر دی۔ کمرے کی تاریکی یک دم ختم ہو گئی۔
وہ نانو کے ساتھ چلتے ہوئے لاؤنج میں آگئی۔ انٹر کام کا ریسیور اٹھا کر اس نے گیٹ پر چوکیدار کے کیبن میں اس سے رابطہ قائم کرنے کی کوشش کی۔ وہ کامیاب نہیں ہو سکی۔
”کیا ہوا؟” نانو نے بے تابی سے پوچھا۔

”میں یہ تو بھول ہی گئی تھی لائٹ نہیں ہے۔ انٹر کام کیسے کام کر سکتا ہے۔” علیزہ نے پریشانی کے عالم میں کہا۔
”کیا باہر نکل کر اسے دیکھیں۔”
وہ کہتے کہتے رک گئی۔” علیزہ بی بی! آپ باہر مت آئیے گا۔” پیچھے سے خانساماں کی آواز آئی تو وہ چونک کر مڑی۔
”کیوں؟”
”ہمارے گھر پر فائرنگ ہو رہی ہے۔”
”ہمارے گھر پر؟” اس کا دل اچھل کر حلق میں آگیا۔
”ہاں، میں کچھ دیر پہلے باہر نکلا تھا مگر اصغر نے مجھے واپس بھجوا دیا۔” خانساماں نے چوکیدار کا نام لیا۔
”فائرنگ کون کر رہا ہے؟” علیزہ نے پوچھا۔
”یہ تو نہیں پتا… مگر اصغر کہہ رہا تھا کہ باہر کوئی گاڑی ہے اور کچھ لوگوں نے دیوار پھلانگنے کی کوشش بھی کی۔ وہ اندر آنا چاہ رہے تھے۔ کتوں کے بھونکنے پر اصغر نے انہیں دیکھ لیا اور وہ اندر نہیں آئے مگر اس کے بعد سے وہ مسلسل فائرنگ کر رہے ہیں۔ اصغر بھی ان پر جوابی فائرنگ کر رہا ہے۔ مگر وہ لوگ تعداد میں زیادہ ہیں اور ابھی تک گیٹ کے باہر موجود ہیں۔ا نہوں نے گیٹ پر بھی بری طرح فائرنگ کی ہے۔ ” وہ مرید بابا کی آواز میں لرزش محسوس کر سکتی تھی۔
”ہمارے گھرکے علاوہ ارد گرد کے تمام گھروں میں لائٹ موجود ہے۔ شاید انہوں نے بجلی کی سپلائی کاٹ دی ہے۔ اصغر خوفزدہ ہے کہ کہیں وہ اندر نہ آجائیں۔ اندھیرے میں وہ انہیں دیکھ نہیں سکے گا۔”
”مرید بابا! میں ابھی پولیس کو فون کرتی ہوں۔ آپ گھبرائیں مت، بس اپنے کوارٹر میں ہی رہیں۔”
علیزہ نے اپنے حواس پر قابو پانے کی کوشش کی۔
”علیزہ،! یہ کیا ہو رہاہے؟” نانو بے حد خوفزدہ تھیں۔
”ہمیں پولیس کو فون کرنا چاہئے۔ ابھی پولیس آجائے گی، سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔”
علیزہ نے انٹر کام بند کر دیا اور تیزی سے فون کی طرف بڑھی۔ ٹیلی فون کا ریسیور اٹھاتے ہی وہ ساکت ہو گئی۔
”کیا ہوا؟ … فون ملاؤ۔”
”نانو! فون ڈیڈ ہے، شاید کسی نے فون کی تار کاٹ دی ہے۔” اس نے کانپتے ہاتھ کے ساتھ ریسیور واپس رکھتے ہوئے کہا۔
”اور میرا موبائل بھی کام نہیں کر رہا، اس کا کارڈ ختم ہو چکا ہے۔”
”میرے خدا اب کیا ہو گا؟ اگر یہ لوگ اندر آگئے تو ؟” نانو اپنے قدموں پر کھڑی نہیں رہ سکیں۔ وہ صوفے پر بیٹھ گئیں۔
”نہیں ، وہ اندر کیسے آئیں گے؟ پورا علاقہ جاگ چکا ہے… اتنی فائرنگ ہو رہی ہے۔ ابھی کچھ دیر میں ساتھ والے گھروں کے چوکیدار بھی باہر نکل آئیں گے۔ پھر تو یہ لوگ بھاگ جائیں گے۔” علیزہ نے اپنے خشک ہوتے ہوئے حلق کے ساتھ کہا۔
”بے وقوفی کی باتیں مت کرو علیزہ۔” نانو نے اسے ڈانٹا ”کون اپنے گھر سے اتنی بے تحاشا فائرنگ میں باہر نکلے گا؟ کوئی نہیں۔۔۔”
”مگر نانو! وہ لوگ پولیس کو ضرور اطلاع کر دیں گے، بلکہ ہو سکتا ہے اب تک وہ پولیس کو انفارم کر چکے ہوں۔ ابھی پولیس آنے والی ہی ہو گی۔”
علیزہ نے کہا۔ نانو اس کی بات کے جواب میں کچھ کہنے کے بجائے خاموش رہیں۔
ٹارچ کی مدہم روشنی میں بے تحاشا فائرنگ اور کتوں کے بھونکنے کی آوازوں میں ، وہ چند لمحے دم سادھے ایک دوسرے کو دیکھتی رہیں۔
”یہ سب عمر کی وجہ سے ہوا۔ اس نے پولیس گارڈ کیوں ہٹا لی ہے۔” نانو اچانک غصیلی آواز میں بولیں۔ ”شام کو پولیس گارڈ ہٹی اوراب ہم یہ سب بھگت رہے ہیں۔”
علیزہ کچھ نہیں بول سکی، وہ کچھ چور سی بن گئی۔ وہ انہیں بتا نہیں سکتی تھی کہ یہ سب کچھ خود اس کی وجہ سے…
نانو ایک دم اٹھ کر کھڑی ہو گئیں۔ ” میں مرید سے بات کرتی ہوں۔ وہ کچھ کرے۔”
وہ ٹارچ پکڑے باہر کی طرف بڑھیں، علیزہ خاموشی سے انہیں جاتا دیکھتی رہی۔ نانو اب مرید بابا سے بات کر رہی تھیں۔
”تم کسی طرح کوارٹر سے باہر نکل کرساتھ والے گھر کی دیوار پھلانگ کر ان کے ہاں جانے کی کوشش کرو۔ انہیں ساری صورت حال بتاؤ۔”

علیزہ نے اچانک ان کے پاس آتے ہوئے ان کی بات کاٹی۔
”مگر نانو! مرید بابا کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے۔ اگر ساتھ والوں کے چوکیدار نے ان پر فائرنگ کر دی تو… اور وہاں بھی تو کتے موجود ہیں۔”
”تو پھر کیا کیا جائے۔ آخر کتنی دیر ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھا جا سکتا ہے۔ ” نانو نے اسے جواب دیا
علیزہ ان کی گھبراہٹ اور پریشانی کا اندازہ کر سکتی تھی۔ وہ خود بھی ان ہی کیفیات سے دوچار تھی مگر وہ پھر بھی سوچ رہی تھی کہ چند منٹوں کے بعد پولیس کسی نہ کسی طرح وہاں آجائے گی اور سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ چند دن پہلے ہونے والے واقعہ نے اگر ایک طرف اسے خوف اور سراسمیگی سے دوچار کیا تھا تو دوسری طرف وہ یہ بھی جان گئی تھی کہ اسے مضبوط پشت پناہی حاصل ہے اور ایسی کسی صورتِ حال میں وہ کسی عام شہری کی طرح غیر محفوظ نہیں تھی اس لئے پریشان ہونے کے باوجود وہ پچھلی بار کی طرح سراسمیگی کا شکار نہیں تھی۔
”پتا نہیں اور کیا کیا مصیبت ابھی باقی ہے۔” نانو نے صوفے کی طرف جاتے ہوئے کہنا شروع کیا۔ ”اچھی بھلی زندگی گزر رہی تھی اور اب اچانک۔۔۔”
انہوں نے بات ادھوری چھوڑ دی اور سر پکڑے ہوئے صوفہ پر بیٹھ گئیں۔ علیزہ ان کی ادھوری بات بہت اچھی طرح سمجھ گئی۔ وہ جانتی تھی کہ یہ کچھ اسی کی وجہ سے ہو رہا تھا اور پچھلے کچھ دنوں سے نانو کے لئے وہی کسی نہ کسی طرح پریشانی کا باعث بن رہی تھی۔
اسے اندازہ نہیں تھا کہ پولیس گارڈ ہٹائے جاتے ہی اس طرح کی صورتِ حال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، اس کا خیال تھا کہ عباس اور عمر ضرورت سے زیادہ احتیاط کا مظاہرہ کر رہے تھے اور اس کی قطعاً ضرورت نہیں تھی… مگر اس وقت وہاں بیٹھے، وہ دل ہی دل میں اعتراف کر رہی تھی کہ وہ بہت سے معاملات میں ضرورت سے زیادہ امیچیور تھی۔
اگر اسے معمولی سا شائبہ بھی ہوتا کہ اسے ایسی کسی صورتِ حال کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ تو وہ عمر کو کبھی پولیس گارڈ ہٹانے نہ دیتی۔ اگرچہ وہ جانتی تھی کہ پولیس گارڈ ہٹانے کی واحد وجہ اس کی اپنی ذات تھی۔ اگر وہ جسٹس نیاز کو فون نہ کرتی تو شاید سب کچھ پہلے ہی کی طرح رہتا۔ وہ اس قدر غیر محفوظ نہ ہوتی مگر ان تمام اعترافات کے باوجود وہ اس وقت وہاں پر بالکل بے بس بیٹھی ہوئی تھی۔
باہر ہونے والی فائرنگ یک دم بند ہو گئی۔ وہ دونوں چونک گئیں۔ کتوں کے بھونکنے کی آوازیں ابھی بھی پہلے کی طرح آرہی تھیں۔ مگر فائرنگ کی آواز بند ہو گئی تھی۔
”مجھے لگتا ہے وہ لوگ چلے گئے ہیں۔” علیزہ نے غیر معمولی پر امیدی سے کہا۔
”ہاں شاید ۔۔۔” نانو نے مدہم آواز میں کہا۔ وہ باہر کان لگائے بیٹھی تھیں۔
”میں مرید بابا سے بات کرتی ہوں۔ وہ باہر نکل کر دیکھیں کہ چوکیدار کہاں ہے۔ ” علیزہ نے باہر کی طرف جاتے ہوئے کہا۔ نانو خاموش رہیں۔
اسی وقت لاؤنج کے دروازے کے بیرونی جانب کچھ آہٹیں ابھریں، وہ دونوں یک دم چونک گئیں۔
”میرا خیال ہے مرید بابا اور چوکیدار آئے ہیں… وہ لوگ یقیناً بھاگ گئے ہیں۔” علیزہ نے کچھ مطمئن ہوتے ہوئے کہا۔ وہ بے اختیار لاؤنج کے دروازسے کی طرف گئی اس سے پہلے کہ وہ دروازہ کھول دیتی۔ نانو نے اسے روک دیا۔
”دروازہ مت کھولو، پہلے تصدیق کر لو کہ باہر چوکیدار یا مرید ہی ہے۔”
نانو نے دبی آواز میں کہا۔ علیزہ رک گئی۔ دروازے سے کچھ فاصلے پر رک کر اس نے دروازے کی طرف دیکھا۔ دروازے کی دوسری جانب کچھ مدہم آوازیں ابھر رہی تھیں مگر ان میں سے کوئی آوز بھی شناسا نہیں تھی۔ پھر کسی نے دروازے کی ناب پر ہاتھ رکھ کر اسے گھمایا۔ علیزہ کے پورے جسم میں سنسناہٹ ہونے لگی۔ مرید بابا یا اصغر اگر دروازے کے دوسری طرف موجود ہوتے تو وہ کبھی اس طرح دروازہ کھولنے کی کوشش نہ کرتے۔ وہ بلند آواز میں اجازت لیتے۔
اپنے ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے اس نے خوف کے عالم میں پلٹ کر نانو کو دیکھا۔ وہ بھی صوفے پر بالکل ساکت بیٹھی تھیں۔
”باہر کون ہے؟” علیزہ نے یک دم اپنی آواز کی لڑکھڑاہٹ پر قابو پاتے ہوئے بلند آواز میں کہا۔ دروازے کے باہر یک دم خاموشی چھا گئی۔
”باہر کون ہے؟” اس نے ایک بار پھر بلند آواز میں کہا اس بار بھی کسی نے جواب نہیں دیا۔ وہ یک دم بدک کر نانو کی طرف گئی۔
”اب کیا ہو گا نانو؟ وہ لوگ اندر آچکے ہیں… اور پتا نہیں… پتا نہیں انہوں نے چوکیدار اور مرید بابا کے ساتھ کیا سلوک کیا ہے؟”
اس نے نانو کے قریب جا کر دبی ہوئی آواز میں کہا۔ نانو نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔
”پتا نہیں اب کیا ہو گا؟”
”اگریہ لوگ دروازہ کھول کر اندر آگئے تو؟”
”علیزہ ہمیں لاؤنج سے چلے جانا چاہئے۔” نانو نے دبی ہوئی آواز میں سرگوشی کی۔
”کہاں چلے جانے چاہئے؟”
”اندر… اندر کسی کمرے میں۔”
”نانو! وہ وہاں بھی آجائیں گے… ہم کہاں چھپیں گے… وہ ہمیں ڈھونڈ لیں گے۔” وہ اب روہانسی ہو رہی تھی۔
دروازے پر ایک بار پھر آوازیں گونج رہی تھیں۔ ناب کو ایک مرتبہ پھر گھمایا جا رہا تھا۔ پھر باہر سے ایک بھاری اور بلند مردانہ آواز میں کسی نے کہا۔
”ہم لوگ جانتے ہیں اندر صرف تم دونوں ہو… ہم صرف علیزہ کو یہاں سے لے جانے کے لئے آئے ہیں… اور اسے نقصان نہیں پہنچائیں گے… بہتر ہے تم دونوں دروازہ کھول دو… ورنہ ہم دروازہ توڑ دیں گے۔”
درشتی اور کرختگی سے کہے گئے، ان جملوں نے اندر موجود دونوں عورتوں کے باقی ماندہ حواس بھی گم کر دیئے تھے۔
”میرا نام… یہ میرا نام کیسے جانتے ہیں؟ ” علیزہ نے خوف اور بے یقینی کے عالم میں کہا۔
”ان کو کس نے بھیجاہے…؟ یا اللہ… علیزہ یہ سب کیا ہو رہا ہے؟” نانو یک دم اٹھ کر کھڑی ہو گئیں۔
”ہمیں بیسمنٹ میں چلے جانے چاہئے۔ یہ لوگ وہاں نہیں آسکیں گے۔ جلدی کرو۔” وہ علیزہ کا ہاتھ پکڑ کر کھینچنے لگیں۔
”جب تک پولیس نہیں آجائے ہم وہیں چھپے رہیں گے۔” تیزی سے اس کے ساتھ چلتے ہوئے نانو نے کہا۔ وہ ماؤف ہوتے ہوئے ذہن کے ساتھ نانو کی ہدایت پر بلا چوں و چرا عمل کر رہی تھی۔
تہہ خانہ کا دروازہ اندر سے لا ک کرنے کے بعد نانو نے ٹارچ اندر سے بجھا دی۔ وہ تاریکی میں۔ ایک پرانے صوفہ پر بیٹھ گئیں۔ جو وہاں پڑا ہوا تھا۔ وہاں بہت پرانا سامان پڑا ہوا تھا اور وہ ایسے سامان کو اسٹور کرنے کے لئے ہی کام میں لایا جا رہا تھا۔ وہاں بیٹھ کر وہ اوپر گھر میں ہونے والی کسی کارروائی کو جان نہیں سکتی تھیں۔
علیزہ کا ذہن اب بھی اس شخص کے کہے جانے والے جملے میں اٹکا ہوا تھا۔
”ہم علیزہ کو لینے آئے ہیں۔ میرا نام… میرا ایڈریس… آخر کس لئے… یہ کون لوگ ہیں؟” اسے اپنا آپ کسی مکڑی کے جال میں پھنسا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔ چند دن پہلے کی پر سکون زندگی یک دم جیسے قصۂ پارینہ بن گئی تھی اور اب… اب آگے اور کیا ہونے والا تھا۔
”یہ کون لوگ ہوسکتے ہیں۔ علیزہ؟ ” نانو کی متفکر آواز میں اندھیرے میں گونجی۔
”میں نہیں جانتی نانو…! میں کیا بتا سکتی ہوں۔” اس نے اپنے سر کو دونوں ہاتھوں میں پکڑے ہوئے کہا۔
”وہ لوگ تمہارا نام لے رہے تھے۔”

”ہاں، میری یہی تو سمجھ میں نہیں آرہا کہ وہ میرا نام کیوں لے رہے تھے۔ مجھے کیسے اور کس حوالے سے جانتے ہیں۔” اندھیرے میں وہ ایک دوسرے کو دیکھ نہیں سکتی تھیں مگر ان کی آوازیں ان کی کیفیات کو ظاہر کرنے کے لئے کافی تھیں۔
”یہ سب عمر اور عباس کی وجہ سے ہوا… یہ لوگ یقیناً ان چاروں لڑکوں میں سے کسی فیملی کے بھجوائے ہوئے ہیں۔” وہ یک دم مشتعل ہو کر بولی۔ ” نہ وہ ان چاروں کو قتل کرتے نہ یہ لوگ یہاں اس طرح میرے پیچھے آتے۔”
”عمر اور عباس نے تمہیں بچانے کے لئے سب کچھ کیا۔”
”کیا بچایا ہے انہوں نے… جو بات چند گھنٹوں میں ایک ایف آئی آر کے ساتھ ختم ہو سکتی تھی۔ وہ اب مجھے اس طرح اپنی زندگی بچانے کے لئے یہاں چھپنے پر مجبور کر رہی ہے۔ کیا حفاظت کی ہے ان دونوں نے میری۔”
اس کا خوف اب مکمل طور پر اشتعال میں تبدیل ہو گیا تھا۔
”نہ یہ لوگ انہیں قتل کرتے نہ کوئی اس طرح بدلہ لینے کے لئے مجھے ٹریس آؤٹ کرتا… یہ سب ان کی وجہ سے ہوا۔” وہ عباس اور عمر کو مورد الزام ٹھہرا رہی تھی۔
”اوپر سے پولیس گارڈ بھی ہٹا لی۔۔۔” اس نے بے بسی سے بات ادھوری چھوڑ دی۔ ”انہیں سوچنا چاہئے تھا کہ یہ آخر مجھے کب تک اور کہاں تک تحفظ دے سکتے ہیں، مجھے ان ہی چیزوں سے خوف آتا ہے جو اب بھوت بن کر میرے سامنے کھڑی ہیں۔”
”وہ دونوں تمہارے دشمن نہیں ہیں۔” نانو نے ان دونوں کے دفاع کی کوشش کی۔
”دشمن نہیں تو وہ میرے دوست بھی ثابت نہیں ہوئے۔”
اس نے درشتی سے کہا۔ نانو کی طرف سے ان دونوں کے لئے حمائیت اس وقت اسے بری طرح مشتعل کر رہی تھی۔
”پتا نہیں انہوں نے چوکیدار اور مرید بابا کے ساتھ کیا کیا ہے؟” اسے بات کرتے کرتے اچانک ان دونوں کا خیال آیا۔
”پولیس کو اب تک آجانا چاہئے تھا… آخر اتنی فائرنگ ہوئی ہے اس علاقے میں اور پھر ساتھ والے سارے گھروں نے بھی پولیس کو رنگ کیا ہو گا… پھر بھی پتا نہیں ابھی تک پولیس کیوں نہیں آرہی۔” نانو کو اچانک ایک دوسری تشویش ستانے لگی۔
”اگر پولیس نہ آئی تو؟”
”تو…تو… پتا نہیں کیا ہو گا؟” نانو کے سوال نے اس کے خوف کو پھر بیدار کر دیا۔
”آخر ہم یہاں کب تک بیٹھے رہیں گے؟” کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد نانو نے کہا۔
”ہم باہر کیسے نکل سکتے ہیں… اگر وہ لوگ وہاں ہوئے تو…؟”
وہ ہمیں پورے گھر میں ڈھونڈ رہے ہوں گے اگر ہم انہیں وہاں نہ ملے تو۔۔۔” علیزہ بات کرتے کرتے خاموش ہو گئی۔
”تو وہ پھر شاید یہی سوچیں گے کہ ہم کسی بیسمنٹ میں ہیں… اور… اور پھر… وہ لوگ شاید یہاں پہنچ جائیں گے۔”
علیزہ نے اپنے ہاتھ کی مٹھیاں بار بار کھولنی اور بند کرنی شروع کر دیں۔ اس کے ہاتھوں اور پیروں کی لرزش بڑھتی جا رہی تھی۔
”میں نے کبھی یہ نہیں سوچا تھا کہ مجھے زندگی میں ایسی صورت حال کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔” نانو نے اس بار دھیمی آواز میں کہا۔ علیزہ چپ چاپ تاریکی کو گھورتی رہی۔ اس کے کان باہر سے آنے والی کسی بھی آواز پر لگے ہوئے تھے۔
”Its Terrible” (یہ کس قدر ہولناک ہے) اس نے نانو کی بات کا جواب نہیں دیا۔ اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ چند دن پہلے کے واقعات اتنی جلدی دہرائے جائیں گے اور پہلے سے زیادہ بدتر انداز میں۔
نانو اب خاموش ہو گئی تھیں۔ شاید وہ علیزہ کی کیفیات کو سمجھ رہی تھیں۔
وہ دونوں وہاں کتنی دیر چپ چاپ بیٹھی رہیں، انہیں اندازہ نہیں ہوا مگر یہ ضرور جانتی تھیں کہ انہیں وہاں بیٹھے کئی گھنٹے گزر گئے تھے۔
پھر اچانک انہوں نے تہہ خانے کے دروازے پر کچھ آہٹیں اور آوازیں سنیں۔ علیزہ نے بے اختیار نانو کا ہاتھ پکڑ لیا۔ نانو اس کی ہاتھ کی کپکپاہٹ اور ٹھنڈک کو محسوس کر سکتی تھیں۔
”نانو…!” اس کی آواز بھی اسی طرح لرز رہی تھی۔ وہ کیا کہنا چاہتی تھی، نانو اچھی طرح سمجھ سکتی تھیں۔ تہہ خانے کے دروازے کو اب کوئی کھولنے کی کوشش کر رہا تھا۔ وہ دونوں دم سادھے بیٹھی رہیں۔ پھر علیزہ نے ایک بلند آواز سنی۔
”گرینی اندر ہیں آپ؟” وہ عباس تھا۔
”یا اللہ ! ” نانو کے منہ سے نکلا۔ علیزہ کا رکا ہوا سانس دوبارہ چلنے لگا۔
”عباس آگیا ہے… پولیس پہنچ گئی ہو گی۔ آؤ، اب یہاں سے نکلتے ہیں۔” علیزہ نے نانو کو کھڑا ہوتے ہوئے محسوس کیا۔ وہ بھی ان کے ساتھ کھڑی ہو گئی۔ نانو نے ہاتھ میں پکڑی ہوئی ٹارچ جلا دی۔ تہہ خانے کا اندھیرا ایک دم غائب ہو گیا۔
ٹارچ کی روشنی میں چلتے ہوئے وہ دونوں دروازے تک پہنچیں اور انہوں نے دروازہ کھول دیا۔ عباس دروازے کے بالکل سامنے تھا۔ گھر میں اب روشنی تھی، شاید بجلی کی کٹی ہوئی تاریں جوڑ دی گئی تھیں۔
عباس اور علیزہ کے درمیان خاموش نظروں کا تبادلہ ہوا پھر عباس نے نانو کا ہاتھ پکڑ لیا۔

”آپ ٹھیک ہیں؟”
”ہاں، میں ٹھیک ہوں۔ خدا کا شکر ہے۔ وہ لوگ چلے گئے۔”
”ہاں، پولیس کے آنے سے پہلے ہی چلے گئے۔”
اس نے علیزہ کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا تھا۔ یوں جیسے وہ وہاں موجود ہی نہیں تھی۔ وہ وجہ جانتی تھی۔
”کون لوگ تھے وہ؟” عباس اب نانو سے پوچھ رہا تھا۔
نانو نے ایک بار پلٹ کر علیزہ کو دیکھا۔ عباس نے ان کی نظروں کا تعاقب کیا۔ علیزہ کے چہرے کی رنگت کچھ تبدیل ہو گئی ۔ نانو شاید کسی کش مکش کا شکار تھیں۔
”وہ… وہ… اوہ یا اللہ … ان لوگوں نے کیا کیا ہے؟” نانو عباس کی بات کا جواب دیتے ہوئے یک دم اس کمرے کی چیزوں کو دیکھنے لگیں جو ادھر ادھر بکھری ہوئی تھیں۔
”پورے گھر کا یہی حال ہے۔” عباس نے نانو کو اطلاع دی۔ علیزہ باکل شاکڈ تھی۔
”تم کب یہاں آئے؟”
”میں آدھ گھنٹہ پہلے پہنچا ہوں یہاں پر۔”
”مرید اور اصغر کہاں ہیں؟” نانو کو اچانک یاد آیا۔
”اصغر تو زخمی ہے۔ اس کے بازو پر گولی لگی ہے…اور مرید کو باندھ کر انہوں نے کوارٹر میں بند کر دیا تھا۔ پولیس نے آکر اسے وہاں سے نکالا ہے۔” عباس نانو کے ساتھ چلتے ہوئے بتا رہا تھا۔
”یہ لوگ اندر کیسے آگئے؟”
”لاؤنج کے دروازے کا لاک ٹوٹا ہوا تھا۔ وہیں سے آئے تھے۔ آپ نے بہت اچھا کیا کہ بیسمنٹ میں چھپ گئیں۔ میں تو یہاں آتے ہی پریشان ہو گیا تھا، پہلے تو مجھے یہی خیال آیا کہ شاید وہ لوگ آپ کو اپنے ساتھ لے گئے ہیں۔ کیونکہ گھر میں کوئی نہیں تھا، مگر پھر مجھے بیسمنٹ کا خیال آیا اور میں نے اسے چیک کرنا ضروری سمجھا۔” وہ اب بھی علیزہ کو مکمل طورپر نظر انداز کئے ہوئے تھے۔
وہ لوگ اب لاؤنج میں داخل ہو گئے تھے۔ گھر میں جگہ جگہ پولیس والے فنگر پرنٹس لے رہے تھے۔
”فون اور بجلی کی تاریں کٹی ہوئی تھیں جب میں یہاں آیا سب سے پہلے تو میں نے انہیں ہی ٹھیک کروایا۔ وہ کون لوگ تھے گرینی…! کیا آپ کو کچھ اندازہ ہے؟” عبا س نے بات کرتے کرتے ایک بار پھر پوچھا۔
نانو نے ایک بار پھر علیزہ کو دیکھا ”پتا نہیں” ان کی آواز مدہم تھی۔
عباس نے بھی علیزہ کو دیکھا۔ اس کے چہرے کے تاثرات بہت عجیب تھے۔ اس پر ایک نظر ڈالنے کے بعد وہ پھر سے نانو کی طرف متوجہ ہو گیا۔
”دو گاڑیوں میں آئے تھے وہ لوگ… آٹھ دس تو ضرور ہوں گے۔ تین چار کو تو اصغرنے بھی دیکھا تھا۔ باؤنڈری والاگیٹ تو انہوں نے فائرنگ سے مکمل طور پر تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔”
وہ لاؤنج میں کھڑا نانو کو بتاتا رہا۔ علیزہ اس کے چہرے پر نظر ڈالے بغیر اس کی بات سنتی رہی۔
”پولیس ابھی تک باہر سے گولیاں اکٹھی کر رہی ہے۔”
”یہ سب عمر کی وجہ سے ہوا۔ وہ پولیس گارڈ نہ ہٹاتا تو یہ سب نہ ہوتا۔”
علیزہ نے پہلی بار گفتگو میں مداخلت کی۔ اس کی آواز میں اشتعال تھا۔ عباس نے بہت سرد نظروں سے اسے دیکھا۔
”عمر نے آخر پولیس گارڈ کیوں اس طرح اچانک ہٹائی…؟ اسے احساس ہونا چاہئے تھا۔” نانو نے بھی کچھ برہم ہوتے ہوئے کہا۔
عباس نے یک دم ان کی بات کاٹ دی۔
”اس سے پوچھیں کہ عمر نے پولیس گارڈ کیوں ہٹا دی۔” اس نے علیزہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ علیزہ ساکت ہو گئی۔
”علیزہ سے؟” نانو نے حیران ہو کر کہا ”علیزہ کا اس سے کیا تعلق ہے… پولیس گارڈ تو عمر نے ہٹائی ہے۔”
”عمر آرہا ہے… چند منٹوں تک یہیں ہو گا، اس سے پوچھ لیجئے گا کہ اس نے پولیس گارڈ کیوں ہٹائی۔” عباس نے نانو سے کہا۔
”علیزہ ! کیا تم نے عمر سے گارڈ ہٹانے کے لئے کہا تھا؟” نانو نے اچانک مڑ کر علیزہ سے پوچھا۔
”نہیں نانو! میں نے اس سے گارڈ ہٹانے کے لئے نہیں کہا۔”
اس نے مدھم آواز میں سر جھکائے ہوئے کہا۔ اس سے پہلے کہ نانو کچھ کہتیں۔ عباس نے اچانک لاؤنج میں موجود پولیس کے لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔
”باقی کام کل کرنا… اب سب کچھ رہنے دو۔” وہ لوگ اپنا سامان سمیٹنے لگے۔
”علیزہ تو۔۔۔” نانو نے کچھ کہنے کی کوشش کی مگر عباس نے ایک بار پھر ان کی بات کاٹ دی۔
”عمر کو آجانے دیں۔ اس کے بعد بات ہو گی۔”
نانو الجھی ہوئی نظروں سے علیزہ کو دیکھتے ہوئے لاؤنج کے صوفہ پر بیٹھ گئیں۔ لاؤنج میں موجود پولیس والے آہستہ آہستہ اپنا سامان اٹھاتے ہوئے وہاں سے نکلنے لگے۔ عباس بھی ان کے ساتھ وہاں سے نکل گیا۔
پانچ منٹ کے بعد وہ دوبارہ اندر داخل ہوا، اس بار اس کے ساتھ عمر بھی تھا۔ علیزہ اس وقت نانو کے ساتھ صو فہ پربیٹھی ہوئی آنے والے وقت کے لئے خود کو تیار کر رہی تھی۔
عباس نے اندر داخل ہوتے ہی لاؤنج کا دروازہ اندر سے بند کر لیا۔
”تو علیزہ بی بی ! کیا کرنا چاہتی ہیں آپ؟”
عباس نے اس کے بالمقابل صوفہ پر بیٹھے ہوئے کہا۔ اس نے سر اٹھا کر اسے اور عمر کو دیکھا۔ سرد مہری اور سنجیدگی کے علاوہ ان دونوں کے چہرے پر اور کچھ بھی نہیں تھا۔
فون پر عباس سے بات کرنا اور بات تھی۔ آمنے سامنے اس سے کچھ کہنا دوسری بات… اور وہ بھی ان حالات میں جس میں وہ گرفتار تھی۔ وہ عمر نہیں تھا جس پر وہ چلا لیتی۔ اس کی بات کے جواب میں کچھ بھی کہنے کے بجائے اس نے سر جھکا لیا۔ وہ جانتی تھی اب نانو سب کچھ جان جائیں گی۔ پچھلے دن عمر کے ساتھ ہونے والی اس کی گفتگو اور اس کے بعد جسٹس نیاز کے سامنے کیا جانے والا انکشاف۔
”میں نے تم سے کچھ پوچھا ہے؟” اس کی آواز میں اب کچھ تیزی تھی۔
”میں… میں کیا کرنا چاہتی ہوں؟” اس نے بمشکل کہا۔
”کل فون پر کچھ کہہ رہی تھیں تم مجھ سے؟” علیزہ نے نانو کی طرف دیکھا۔ وہ اسی کو دیکھ رہی تھیں۔ علیزہ کی سمجھ میں نہیں آیا۔ وہ عباس کی بات کے جواب میں کیا کہے۔ اس کا غصہ اور اشتعال یک دم جھاگ کی طرح بیٹھ گیا تھا۔
”اب خاموش کیوں ہو تم؟” عباس نے ایک بار پھر تلخی سے کہا۔
”آپ کیا پوچھنا چاہتے ہیں مجھ سے؟” اس نے سر اٹھایا۔
”وہی سب کچھ جو تم فون پر مجھ سے کہہ رہی تھیں۔” عباس نے اسے گھورتے ہوئے کہا۔
”جو کچھ میں نے آپ سے فون پر کہا۔ مجھے اس پر کوئی شرمندگی نہیں ہے۔” اس نے عباس سے نظریں ملائے بغیر کہا۔
”اور جو کچھ تم نے جسٹس نیاز سے کہا…؟”
”مجھے اس پر بھی کوئی شرمندگی نہیں ہے۔”
”جسٹس نیاز… کیا علیزہ نے جسٹس نیاز سے کچھ کہا ہے؟” نانو بے اختیار چونکیں۔
”کچھ؟… سب کچھ گرینی ! یہ انہیں فون پر سب کچھ بتا چکی ہے۔ کس طرح میں نے اور عمر نے ان کے بیٹے اور اس کے دوستوں کو مارا… کیوں مارا؟ سب کچھ۔”
”علیزہ؟” نانو کو جیسے عباس کی بات پر یقین نہیں آیا۔
عباس یک دم ہونٹ بھینچتے ہوئے اپنے صوفہ سے اٹھا اور اس نے ایک جھٹکے کے ساتھ علیزہ کے ہاتھ پکڑ کر اسے بھی اس کی جگہ سے اٹھادیا۔ علیزہ عباس کی اس حرکت کے لئے تیار نہیں تھی۔ وہ اسی طرح اسے بازو سے کھینچتے ہوئے لاؤنج کے دروازے کی طرف جانے لگا۔
”عباس! اسے کہاں لے کر جا رہے ہو؟” نانو نے مداخلت کرنے کی کوشش کی۔
”کہیں نہیں گرینی! ابھی واپس لے آتا ہوں۔ آپ اطمینان سے بیٹھیں۔”
اس نے علیزہ کی مزاحمت کی پرواہ نہ کرتے ہوئے کہا۔ جو اب اس سے اپنا ہاتھ چھڑانے کی کوشش کر رہی تھی۔ وہ دروازہ کھول کر اسی طرح اسے کھینچتے ہوئے باہر لے آیا۔
”عباس بھائی! میرا ہاتھ چھوڑ دیں۔ آپ کہاں لے کر جانا چاہتے ہیں مجھے؟” عباس نے یک دم اس کا ہاتھ چھوڑ دیا۔
”کہیں نہیں لے کر جانا چاہتا تمہیں۔ میں تمہیں صرف باہر کی دیوار اور وہ گولیاں دکھانا چاہتا ہوں جو چند گھنٹوں میں یہاں برسائی گئی ہیں۔ تمہیں دیکھنا چاہئے، تمہاری حماقت کی وجہ سے کیا ہوا ہے؟”
”مجھے کچھ نہیں دیکھنا۔” علیزہ نے واپس اندر جانے کی کوشش کی۔
عباس نے ایک بار پھر اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور اسے کھینچتے ہوئے گیٹ کی طرف لے جانے لگا۔
”کیوں نہیں دیکھنا جو چیز تمہاری وجہ سے ہوئی ہے۔ اسے دیکھنا چاہئے تمہیں۔” وہ کہہ رہا تھا۔ علیزہ نے مزاحمت ختم کر دی۔ اس کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔
گیٹ کی طرف جاتے ہوئے اس نے بہت دور سے گیٹ پر بے شمار چھوٹے چھوٹے سوراخ دیکھ لیے تھے۔ وہ سوراخ کس چیز کے تھے، اسے پوچھنے کی ضرورت نہیں تھی۔ گیٹ تھوڑا سا کھلا ہوا تھا اور اس کے باہر پولیس کی دو گاڑیاں موجود تھیں۔ گیٹ پر موجود پولیس والے عباس کو آتا دیکھ کر مستعد ہو گئے تھے۔ علیزہ کی شرمندگی میں پہلے سے زیادہ اضافہ ہو گیا۔ عباس اب خاموش تھا مگر وہ اب بھی اس کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھا۔
گیٹ کے باہر جاتے ہوئے اس نے انگلش میں علیزہ سے کہا۔
”دروازے بند کرکے گھر کے اندر بیٹھے ہوئے باتیں کرنا، بہت آسان ہوتا ہے۔ تمہاری طرح ہر ایک کو اخلاقیات یاد آسکتی ہیں۔ یہاں کھڑے ہو کر اس دیوار کو دیکھو اور پھر سوچو کہ دیوار کی جگہ تم ہوتیں تو۔”
اس نے عباس کی بات کے جواب میں کچھ بھی نہیں کہا۔ وہ صرف خاموشی سے باؤنڈری وال کو دیکھتی رہی جو بری طرح مسخ ہو چکی تھی۔ باہر لگے ہوئے آرائشی پتھر کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ادھر ادھر پڑے ہوئے تھے۔ رات کو فلڈ لائٹس کی روشنی میں وہ دیوار اور گیٹ جتنا خوفناک لگ رہا تھا۔ دن کے وقت اس سے زیادہ لگتا۔
”تمہارے لئے صرف ایک گولی کافی تھی۔” وہ مدھم آواز میں انگلش میں بولا۔ شاید وہ اردگرد موجود دوسرے لوگوں کی وجہ سے احتیاط کر رہا تھا۔ علیزہ کچھ بول نہیں سکی۔ وہ اب اس کا ہاتھ چھوڑ چکا تھا۔
”اندر آؤ۔” وہ درشتی سے اس سے کہتے ہوئے واپس گیٹ کی طرف مڑ گیا۔
علیزہ نے اسی خاموشی کے ساتھ سر جھکائے ہوئے اس کی پیروی کی۔ اس نے گیٹ کے اندر آکر اس سے کچھ نہیں کہا۔ تیز قدموں کے ساتھ وہ اندر جا رہا تھا۔علیزہ سر جھکائے اس کے پیچھے چلتی رہی۔

آگے پیچھے چلتے ہوئے جب وہ لاؤنج میں پہنچے تو نانو اور عمر ابھی بھی وہیں بیٹھے ہوئے تھے۔ نانو کے چہرے پر تشویش تھی جبکہ عمر کے ہاتھ میں اس وقت پائن ایپل کا ایک ٹن تھا اور وہ ٹانگ پر ٹانگ رکھے ہوئے بڑے اطمینان سے کانٹے کے ساتھ پائن ایپل کے سلائس کھانے میں مصروف تھا۔ ان دونوں کو اندر آتے دیکھ کر اس نے ایک لمحے کے لئے نظر اٹھائی اور پھر ایک بار پھر پائن ایپل کھانے میں مصروف ہو گیا۔
علیزہ خاموشی کے ساتھ صوفہ پر جا کر بیٹھ گئی۔
”اب اس کے بعد اور کیا ہے آپ کے ذہن میں؟” عباس نے اس بار علیزہ کا نام نہیں لیا تھا مگر علیزہ جانتی تھی، یہ سوال اس سے ہی کیا گیا ہے۔
”مجھے اب بھی کوئی شرمندگی نہیں ہے۔ یہ سب میری وجہ سے نہیں ہو رہا ۔”
عمر پائن ایپل کھاتے کھاتے رک گیا۔ عباس اوراس نے ایک دوسرے کو دیکھا۔
”اگر عمر گارڈ نہ ہٹاتا تو وہ لوگ یہاں کبھی حملہ نہ کرتے۔” وہ کہہ رہی تھی۔
”کون لوگ؟” عباس نے تلخ اور تیز آواز میں اس سے کہا۔
”جو لوگ بھی یہاں آئے ہیں۔”
”کون لوگ آئے ہیں؟”
”مجھے نہیں پتا۔”
”کیوں نہیں پتا۔”
”مجھے کیسے پتا ہو سکتا ہے؟”
”تمہارے علاوہ اور کس کو پتا ہو سکتا ہے۔”
”آپ غلط کہہ رہے ہیں۔ مجھے کیسے پتا ہو سکتا ہے کہ یہاں کون آیا ہے۔”
”تم فون کرکے لوگوں کو یہاں بلواتی ہو اور پھر یہ کہتی ہو کہ تمہیں پتا نہیں ہے۔”
وہ عباس کا منہ دیکھنے لگی۔ ”میں لوگوں کو فون کرکے بلواتی ہوں؟”
”ہاں تم۔”
”میں نے کسی کو فون کرکے یہاں نہیں بلوایا۔”
”تم نے جسٹس نیاز کو فون کیا تھا۔”
اس کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔ ”آپ… آپ کا مطلب ہے کہ ان… ان لوگوں کو جسٹس نیاز نے بھجوایا تھا؟”
”اور کون ہو سکتا ہے۔”
وہ الجھی ہوئی نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔ ” یہ … یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ جسٹس نیاز یہ کیسے کر سکتے ہیں؟”
”تم کس دنیا میں رہتی ہو۔ اپنی آنکھوں پر کون سے بلائنڈز لگا کر پھر رہی ہو۔”
وہ ماؤف ہوتے ہوئے ذہن کے ساتھ عباس کا چہرہ دیکھتی رہی۔
”جسٹس نیاز… جسٹس نیاز مجھے… مجھے اغوا کرنے کی کوشش کریں گے۔ وہ… وہ یہ سب کریں گے… کیوں… یا اللہ۔” اس کا ذہن سوالوں کے گرداب میں پھنسا ہوا تھا۔
”مجھے یقین نہیں ہے کہ جسٹس نیاز نے یہ سب کیا ہے۔”
عباس بے اختیار اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا۔ ”فون پڑا ہوا ہے تمہارے سامنے … نمبر تم جانتی ہو، فون ملاؤ اور ان سے بات کر لو… اپنی خیریت کی اطلاع دو انہیں اور ساتھ یہ بھی بتا دو کہ ابھی تک تم یہیں ہو۔ وہ دوبارہ کسی کو بھیجیں۔”
علیزہ اپنی جگہ سے نہیں ہلی۔
”تم عقل سے پیدل ہو۔”
”آپ مجھے اس لئے یہ سب کچھ کہہ رہے ہیں کیونکہ آپ خوفزدہ ہیں… یہ سب کچھ آپ دونوں کی وجہ سے ہوا ہے۔ آپ لوگ ان چاروں کوقتل نہ کرتے تو آج یہ سب کچھ نہ ہو رہا ہوتا۔” اس نے سر اٹھاکر عباس سے کہا۔
”ایکسکیوزمی میڈم…! کون خوفزدہ ہے اور کس سے… تم سے؟ … جسٹس نیاز سے… مائی فٹ۔” عباس اس بار بری طرح ہتھے سے اکھڑا تھا۔
”تم کیا سمجھتی ہو کہ میں بہت خوفزدہ ہوں کل سے۔” وہ اس کے بالکل سامنے کھڑا ہوا کہہ رہا تھا۔ ”مجھے اپنا کیرئیر تاریک نظر آرہا ہے؟”
علیزہ نے سر جھکالیا۔
”اپنی گردن میں پھانسی کا پھندہ نظر آرہا ہے؟”
وہ اپنے ہاتھوں کو دیکھتی رہی۔
”تمہارے اس انکشاف کی وجہ سے میں نے کھانا پینا چھوڑدیا ہے؟ ” عباس کی آواز بہت بلند تھی۔
” جسٹس نیاز کے ساتھ ہونے والی گفتگو نے میری نیند اور سکون حرام کر دیا ہے؟”
اس نے عباس کو کبھی اتنے اشتعال میں نہیں دیکھا تھا۔ انکل ایاز کی طرح وہ بھی ایک نرم خو شخص تھا مگر اس وقت وہ جس طرح بول رہا تھا۔
”تمہارا خیال ہے کہ کل میں سلاخوں کے پیچھے ہوں گا؟ ”
علیزہ نے سر جھکائے ہوئے کن اکھیوں سے عمر کو دیکھا۔ وہ عباس یا علیزہ کی طرف متوجہ نہیں تھا۔ وہ ہاتھ میں پکڑے ہوئے کانٹے اور پائن ایپل کے ڈبے کے ساتھ مصرو ف تھا… ہر چیز سے بے پروا… ہر چیز سے بے نیاز… یوں جیسے وہاں بہت دوستانہ گفتگو ہو رہی تھی۔
”تم کون ہو علیزہ سکندر… اور جسٹس نیاز کون ہے۔”
علیزہ ایک بار پھر اپنے ہاتھوں کو دیکھنے لگی جواب لرز رہے تھے، وہ اس لرزش کو چھپانے کی کوشش کر رہی تھی۔
”جس خاندان سے تم اور میں تعلق رکھتے ہیں، اس خاندان کے کسی شخص کو کورٹ میں لے جانا اتنا ہی ناممکن ہے جتنا سورج کا مغرب سے نکلنا۔ تم نے کل فون پر مجھ سے جو بھی کچھ کہا۔ میں اس سب پر لعنت بھیجتا ہوں۔”
”تم میرے خلاف پرائم Witness (عینی گواہ) بننا چاہتی ہو ضرور بنو، لیکن میں تمہیں ایک بات بتا دوں۔”
اس نے سر اٹھا کر عباس کو دیکھا۔
”وہ جو چار لڑکے میں نے مارے ہیں نا ، وہ چاروں اگر خود بھی زندہ ہو جائیں اور کورٹ میں جا کر میرے خلاف بیان دیں تو بھی… مجھے سزا دلوانا تو دور کی بات، لاہور سے میرا ٹرانسفر تک کوئی نہیں کروا سکتا۔”
اس کی آواز اور انداز میں کھلا چیلنج تھا۔
”میں یہیں تھا۔ یہیں ہوں، یہیں رہوں گا۔”
اس کی آواز اب پہلے سے ہلکی اور پہلے سے زیادہ سرد تھی۔
”اگر جسٹس نیاز یا تم جیسے لوگوں کے کہنے پر پولیس کو سزائیں ملنے لگیں۔ تو پورے ملک کی پولیس تمہیں سلاخوں کے پیچھے نظر آئے گی۔”
علیزہ نے سر جھکا لیا۔
”تم نے کل خاصی لمبی چوڑی بات کی تھی مجھ سے … لیکن مجھے کوئی فرق نہیں پڑا اس سے۔
یہ سب کچھ میری نیندیں نہیں اڑا سکتا۔ میرے پیروں کے نیچے سے زمین نکالنے کے لئے تمہیں اس سے دس گناہ زیادہ بڑا سٹنٹ چاہئے۔” وہ جو کچھ کہہ رہا تھا وہ صرف بڑکیں نہیں تھیں۔ یہ وہ جانتی تھی عباس حیدر کو بڑکوں کی ضرورت ہی نہیں تھی۔
”عباس بھائی! مجھے آپ سے کوئی دشمنی نہیں ہے… میں صرف یہ چاہتی ہوں کہ ایک غلط کام۔۔۔”
عباس نے درشتی سے اس کی بات کاٹ دی۔
”مائنڈ یور اون بزنس۔ میرے پروفیشن کی اخلاقیات سکھانے کی کوشش مت کرو۔ میں اپنے پروفیشن کو تم سے بہتر سمجھتا ہوں۔ کیا صحیح ہے کیا غلط ، اس کی تعریف مجھے تم سے نہیں چاہئے۔”
وہ خاموش ہو گئی۔)”And don’t try to poke your nose into my affairs.” تمہیں میرے معاملات میں ٹانگ اڑانے کی ضرورت نہیں۔)
وہ اس کی کوئی بات سننے کے لئے تیار نہیں تھا۔

”دو ماہ کسی تھرڈ کلاس میگزین کے دفتر میں کام کرنے سے تم اس قابل نہیں ہو گئی ہو کہ دوسروں کو صحیح اور غلط کا فرق بتاتی پھرو۔” علیزہ نے ہونٹ بھینچ لیے۔ ”تمہارے جیسے Self Employed reformers۔ ہمیں اور نہ ہی تمہیں ہیومن رائٹس کی چیمپئن بننے کی ضرورت ہے۔”
نانو نے اب تک ہونے والی گفتگو میں کوئی مداخلت نہیں کی تھی۔ وہ اگر مداخلت کرتیں بھی تو عباس انہیں بولنے کا موقع نہ دیتا۔ علیزہ کو اس کا اندازہ تھا۔
”چند منٹ اور اگر پولیس کو آنے میں دیر ہو جاتی تو وہ لوگ بیسمنٹ تک بھی پہنچ جاتے۔ اس کے بعد وہ کیا کرتے، تمہیں اس کا اندازہ ہے مائی ٹیلنٹڈ کزن؟” اس کے لہجے میں اب طنز تھا۔ ”تمہیں یہیں مار دیتے وہ یا پھر لے جاتے ساتھ… کہاں … یہ پھر کسی کو پتا نہ چلتا۔”
علیزہ کے ہونٹ لرزنے لگے۔” اپنے آپ کو کس طرح پھنسا لیا ہے تم نے… تمہیں اندازہ ہے؟” علیزہ کی آنکھیں بھیگنے لگیں۔
”تمہیں ان سب چیزوں سے بچانے کے لئے ان چاروں کو مارا تھا، لیکن تم نے خود ساری مصیبتوں کو دعوت دے دی ہے… اپنے ساتھ تم نے گرینی کی زندگی کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔” وہ اپنے ہونٹ کاٹنے لگی۔
”اب کیا کرو گی تم… بیٹھی رہو گی یہاں اندر… اسی تہہ خانے میں… کتنے دن رکھیں گے پولیس گارڈ باہر… اور کہاں کہاں پروٹیکشن دیں گے تمہیں… بڑا شوق ہے نا تمہیں ہیروئن بننے کا… لائم لائٹ میں آنے کا… تمہیں اندازہ ہے؟” اس کے آنسوؤں نے عباس پر کوئی اثر نہیں کیا۔
”جسٹس نیاز یا باقی تینوں کے گھر والے میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے مگر تمہیں وہ نہیں چھوڑیں گے۔ آخر مارے تو وہ تمہاری وجہ سے ہی گئے تھے۔” اس کی آواز میں اب تلخی کے ساتھ بے رحمی بھی تھی۔
علیزہ نے اپنے ہاتھوں سے اپنی آنکھوں کو ڈھانپ لیا۔
”اپنے فیوچر کے بارے میں سوچا ہے، کیا ہو گا آگے؟”
اس کی آواز اب پہلے سے زیادہ مدہم تھی مگر آواز میں موجود تلخی کم نہیں ہوئی۔
”اخباروں میں تمہارا نام آئے گا… اور کس طرح آئے گا؟… لوگ سیلوٹ کریں گے تمہیں؟… یا تمہارے ہیرو ازم کو… یا پھر انگلیاں اٹھائیں گے تمہارے کریکٹر پر؟” وہ اب بھی اسی طرح بول رہا تھا۔ ”اور کون کھڑا ہو گا… تمہارے پیچھے… جسٹس نیاز … کب تک؟ … ٹشو پیپر کی طرح استعمال کریں گے وہ تمہیں… اس کے بعد… کیا کرو گی… تم؟”
اس کا دل چاہ رہا تھا وہ ، اٹھ کر وہاں سے بھاگ جائے مگر وہ ایسا نہیں کر سکتی تھی۔ وہ عباس کی تمام باتیں سننے پر مجبور تھی۔
”اور فیملی کے لوگ کیا کہیں گے؟ اس کے بارے میں سوچا ہے ۔ جو بھی کیا گیا تمہارے لئے کیا گیا اوراگر تم دوسروں کو ڈبونے کی کوشش کرو گی تو تمہیں ڈبوتے ہوئے بھی کوئی تم سے اپنا رشتہ سوچے گا… نہ لحاظ کرے گا… اور جب تمہاری اپنی فیملی تمہارے خلاف ہو جائے گی تو تم کیا کرو گی؟ ” وہ تیکھے لہجے میں اس سے پوچھ رہا تھا۔
”کیا اتنی بہادر ہو تم کہ اکیلے دنیا کا مقابلہ کر سکو… اور ایک دو دن کے لئے نہیں… ساری زندگی کے لئے۔”
وہ بے آواز رو رہی تھی۔
”جس معاشرے میں تم رہ رہی ہو… ا س کی Norms(اطوار) جانتی ہو… خاندان کی Discarded(ٹھکرائی ہوئی) عورت کا مقام جانتی ہو تم… تم کسی پہاڑ کی چوٹی پر ساری عمر کے لئے چلہ کاٹنے بھی بیٹھ جاؤ تو بھی تمہاری پاک بازی پر کوئی یقین نہیں کرے گا۔”
عباس کی باتوں میں وہی تلخی تھی جو عمر کی باتوں میں ہوا کرتی تھی۔ عمر کے لہجے میں اس کے لئے سرد مہری کے باوجود کبھی کبھار اپنائیت جھلکنے لگتی تھی… عباس کے لہجے میں ایسی کوئی اپنائیت نہیں تھی۔ وہ بہت ٹھوس لہجے میں بول رہا تھا۔
”اور تمہیں اگر کہیں یہ شائبہ ہے کہ میں کبھی اپنی اس حرکت پر پچھتاوا محسوس کروں گا یا مجھے اپنے فیصلے پر کوئی شرمندگی ہو گی… تو یہ تمہاری غلط فہمی ہے۔”
وہ مسلسل بول رہا تھا۔
”اگر دوبارہ وقت پیچھے چلا جائے تو میں ایک بار پھر وہی کروں گا جو میں نے کیا… میں ان چاروں کو پھر شوٹ کروا دوں گا… اوردس بار موقع ملنے پر بھی میں یہی کروں گا۔”
اس کا لہجہ اب بھی اتنا ہی تلخ تھا۔ ”یہ کوئی بے سوچا سمجھا فیصلہ نہیں تھا… طے شدہ تھا… میں نے وہی کیا جو مجھے کرنا چاہئے تھا اور مجھے اس پر کوئی شرمندگی نہیں ہے۔” وہ اب اپنے صوفہ پر جا کر بیٹھ گیا۔
”میں نے ابھی تک پاپا کو تمہاری کل کی حرکت کے بارے میں نہیں بتایا۔ اب بتاؤں گا… باقی باتیں تم خود ان سے کر لینا۔” اس کی آواز کا اشتعال اب بہت کم ہو گیا تھا۔
”گرینی! آپ اپنی پیکنگ کر لیں۔ آپ ابھی میرے گھر شفت ہو رہی ہیں کیونکہ میں آپ کو یہاں نہیں چھوڑ سکتا… کم از کم تب تک جب تک سب کچھ ٹھیک نہیں ہوجاتا۔” وہ اب نانو سے مخاطب تھا۔
”اور علیزہ جہاں تک تمہارا تعلق ہے۔ تم اپنی سیکورٹی کی خود ذمہ دار ہو… بہتر ہے تم خود جسٹس نیاز کے پاس چلی جاؤ۔ اس طرح کم از کم تمہاری زندگی محفوظ رہے گی… اور اگر تم یہاں ہی رہنا چاہتی ہو تو رہ سکتی ہو لیکن تمہارے لئے میں اب یہاں کوئی پولیس پروٹیکشن نہیں دے سکتا۔”
وہ بات کرتے کرتے اُٹھ گیا۔
”آئیے گرینی! آپ کے ساتھ آپ کی پیکنگ کرواؤں۔”
علیزہ اسی طرح سر جھکائے آنسو بہاتی رہی۔ چند منٹوں کے بعد اس نے نانو، عمر اور عباس کو لاؤنج سے نکلتے محسوس کیا۔
علیزہ نے اپنی آنکھوں سے ہاتھ ہٹا لیے اور سر اوپر اٹھایا۔ چند لمحے کے لئے وہ ساکت ہو گئی۔ عمر وہیں تھا… سامنے صوفہ پر بیٹھے ہوئے… اس پر نظریں جمائے… اب اس کے ہاتھ میں پائن ایپل کا ٹن نہیں تھا۔ علیزہ نے ایک بار پھر سر جھکا لیا۔
عمر اپنی جگہ سے اٹھ کر اس کے پاس آگیا۔ سینٹر ٹیبل کو کھینچ کر وہ اس کے بالمقابل لے آیا اور ٹیبل پر بیٹھتے ہوئے اس نے علیزہ کی آنکھوں سے اس کے ہاتھ ہٹا دیئے۔ علیزہ نے برہمی سے اس کے ہاتھ پیچھے کرنے کی کوشش کی۔
”یہ سب تمہاری وجہ سے ہوا ہے عمر۔”
”میری وجہ سے؟”
”تم نے پولیس گارڈ ہٹائی تھی۔”
”وہ تمہاری خواہش تھی۔”
”تمہاری وجہ سے عباس نے میری انسلٹ کی ہے۔”
”اس نے تمہاری انسلٹ نہیں کی… تمہیں حقائق بتائے ہیں۔”
وہ جواب میں کچھ کہنے کی بجائے رونے لگی۔
”تم نے سوچا ہے، ابھی کچھ دیر کے بعد جب ہم سب یہاں سے چلے جائیں گے تو کیا ہو گا؟… یہاں اکیلے رہ سکو گی… اور پھر جو کچھ تم کرنا چاہتی ہو… یا اس کے نتائج پر غور کیا ہے تم نے، تم منظر سے ہٹ کیوں نہیں جاتیں؟”
وہ ایک لمحہ کے لئے رکا۔” Why don’t you get out of every thing.
علیزہ نے سر اٹھا کر بے یقینی سے اسے دیکھا۔ ” کیا یہ ممکن ہے؟… اب؟”
”کیوں نہیں؟”
”کیسے؟”
”یہ مجھ پر چھوڑ دو۔”
”لیکن کیسے؟”
”اپنا سامان پیک کرو اور عباس کے ساتھ چلی جاؤ… صبح وہ تمہیں اسلام آباد انکل ایاز کے پاس بھجوا دے گا۔ چند ماہ وہاں رہو… جب سب کچھ سیٹل ہو جائے تو واپس آجانا…It’s as simple as that…اس نے جیسے چٹکی بجاتے میں حل پیش کیا۔
”کیا عباس مجھے لے کر جائے گا؟”
”ہاں کیوں نہیں… وہ نہیں تو میں اپنے ساتھ لے جاؤں گا۔ تم اب بھی ہمارا حصہ ہو۔” اس نے جیسے علیزہ کو یقین دلایا۔
”مگر میں جو کچھ جسٹس نیاز کو بتا چکی ہوں… سب کچھ کل پریس میں آسکتا ہے… اور پھر۔۔۔”
”اس کو ہم ہینڈل کر لیں گے… وہ اب تمہارا درد سر نہیں ہے… تم بس خاموشی سے اسلام آباد میں رہنا۔ ” وہ پلکیں جھپکائے بغیر عمر کا چہرہ دیکھنے لگی۔
”میں تم پر کوئی دباؤ نہیں ڈال رہا ہوں… تم فیصلہ کرنے کے لئے آزاد ہو، لیکن میں تمہاری مدد کرنا چاہتا ہوں… میں نہیں چاہتا کہ تمہاری زندگی برباد ہو جائے۔۔۔” وہ محتاط اور سنجیدہ لہجے میں کہہ رہا تھا۔
”تمہیں کسی چیز کے لئے بھی گلٹی فیل کرنے کی ضرورت نہیں ہے… اگر تمہارے نزدیک کوئی غلط کام ہوا ہے تو اس کے ذمہ دار میں اور عباس ہیں… پھر تم اپنی زندگی کیوں خراب کر رہی ہو۔” وہ چند لمحوں کے لئے رکا۔
”ابھی کسی کو کچھ بھی نہیں پتا… فیملی میں نانو، میرے اور عباس کے علاوہ اور کوئی بھی کچھ نہیں جانتا… اور ہم تینوں تمہاری اس حماقت کو بھلا سکتے ہیں… چند ماہ بعد تم اپنی زندگی دوبارہ یہیں سے شروع کر سکتی ہو۔”
اس کے بہتے ہوئے آنسو رک گئے۔ “Stay out of everything Aleeza! just stay out.” (دور چلی جاؤ علیزہ! اس سب سے دور چلی جاؤ)
وہ اس کے چہرے کو دیکھتے ہوئے اور لفظوں کو سنتے ہوئے مکمل طور پر کنفیوژن کا شکار ہو چکی تھی۔ کچھ دیر اسے دیکھتے رہنے کے بعد اس نے تھکے ہوئے انداز میں سر جھکا لیا۔
”ٹھیک ہے۔”
عمر کے چہرے پر پہلی بار ایک پر سکون مسکراہٹ ابھری۔
”تم جا کر اپنی چیزیں پیک کرو۔ میں عباس سے بات کرتا ہوں۔”
اس نے علیزہ کا ہاتھ تھپتھپاتے ہوئے کہا۔ وہ کچھ کہے بغیر اٹھ کر اپنے کمرے میں آگئی۔
اپنے بیگ میں اپنے کپڑے اور دوسری چیزیں رکھتے ہوئے وہ بری طرح شکست خوردہ تھی۔ اسے یوں لگ رہا تھا جیسے وہ جنگ کے میدان سے بھاگ جانے والا فوجی ہو۔
”لیکن اس میں میرا کیا قصور ہے؟… جسٹس نیازنے کیوں یہ سب کچھ کروایا … جب میں اپنی مرضی سے ان کا ساتھ دینے پر تیار تھی تو پھر اس سب کا کیا مطلب تھا۔” وہ اپنے فیصلے کو صحیح ثابت کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔
”اور پھر میں نے عمر اور عباس کو نہیں کہا تھا کہ وہ ان چاروں کو مار دیں۔ پھر میں آخر کس چیز کی سزا بھگتوں۔” وہ جانتی تھی ساری دلیلیں شرمندگی کے اس احساس کو مٹانے میں ناکام تھیں جس نے اس کا گھیراؤ کیا ہواتھا۔
ستے ہوئے چہرے کے ساتھ وہ جس وقت اپنا بیگ اٹھائے لاؤنج میں آئی، اس وقت عباس، عمر اور نانو تینوں وہیں تھے۔ شاید وہ اسی کا انتظار کر رہے تھے۔ عمر نے آگے بڑھ کر اس کا بیگ اٹھا لیا۔ کچھ کہے بغیر ساتھ چلتے ہوئے وہ لاؤنج سے باہر نکل آئے جہاں اب ایک کار کھڑی تھی۔ وہ چاروں بڑی خاموشی کے ساتھ اس میں سوار ہو گئے۔نانو کے گھر سے عباس کے گھر تک کا سفر بھی اسی خاموشی سے طے ہوا تھا۔ عباس کی بیوی تانیہ ان کا انتظار کر رہی تھی۔ شاید عباس نے اسے فون کیا تھا۔
”کیا ہوا عباس! میں تو بہت پریشان ہو گئی تھی… سب کچھ ٹھیک تو ہے؟” اس نے پورچ میں ان لوگوں کا استقبال کرتے ہوئے کہا۔
”کون لوگ تھے گرینی؟” وہ اب نانو سے پوچھ رہی تھی۔
”کون لوگ ہو سکتے ہیں… ڈاکو وغیرہ تھے۔” عباس نے بات گول کرتے ہوئے کہا۔
”اوہ گاڈ… کوئی نقصان تو نہیں ہوا؟” وہ اب تشویش بھرے لہجے میں علیزہ سے پوچھ رہی تھی۔
”نہیں۔