Amarbail By Umerah Ahmed Readelle50103 Episode 26
Rate this Novel
Episode 26
امربیل از عمیرہاحمد
۔۔۔۔
قسط نمبر 26
۔۔۔۔۔
”خود سوچو انجوائے کر رہی ہو یا نہیں۔ تم خواہ مخواہ اپنی نانو سے خوفزدہ ہو رہی تھیں۔”شہلا نے تالیاں بجاتے ہوئے بلند آواز میں علیزہ سے کہا جو خود بھی تالیاں بجانے میں مصروف تھی۔ علیزہ مسکراتے ہوئے کچھ کہے بغیر اسٹیج پر نظریں جمائے رہی جہاں سنگر اگلے گانے کی تیاری کر رہا تھا۔
وہ دونوں اس وقت ایک میڈیکل کالج میں ہونے والے ایک کنسرٹ میں موجود تھیں۔ شہلا کا بھائی اور اس کے کچھ دوست بھی اس کنسرٹ میں پرفارم کر رہے تھے۔ کنسرٹ شام کو تھا اور شہلا کا اصرار تھا کہ علیزہ بھی اس کے ساتھ وہاں چلے۔ مگر علیزہ جانتی تھی کہ نانو شام کے وقت اسے گھر سے باہر نہیں جانے دیں گی اور پھر کسی کنسرٹ میں جانے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ کنسرٹ بھی ایسا جو لڑکوں کے ایک کالج میں تھا… شہلا کے اصرار کے باوجود اس نے انکار کردیا مگر شہلا نے ہار نہیں مانی تھی۔
”دیکھو! میں خود نانو سے بات کرلیتی ہوں۔” اس نے بالآخر علیزہ سے کہا۔
”بات کرنے سے کچھ نہیں ہوگا۔ میں جانتی ہوں وہ نہیں مانیں گی۔”
”مان جائیں گی۔ میں انہیں یہ نہیں بتاؤں گی کہ میں تمہیں کنسرٹ پر لے جا رہی ہوں۔”
”کیا مطلب!” علیزہ حیران ہوئی۔
”میں ان سے یہی کہوں گی کہ میرے گھر پر فنکشن ہے اور میں تمہیں اس کیلئے انوائٹ کر رہی ہوں۔” شہلا نے بڑے آرام سے کہا۔
”یعنی تم نانو سے جھوٹ بولو گی؟”
”ظاہر ہے بھئی جب وہ سچ سچ بتانے پر جانے نہیں دے رہیں تو پھر جھوٹ ہی بولنا پڑے گا۔”
”نہیں۔ یہ ٹھیک نہیں ہے۔” علیزہ نے صاف انکار کردیا۔
”کیوں ٹھیک نہیں ہے۔ میں بھی تو تمہارے ساتھ جارہی ہوں۔”
”مگر نانو کو پتا چل گیا تو وہ آئندہ تمہارے ساتھ کبھی کہیں نہیں جانے دیں گی بلکہ وہ مجبور کریں گی کہ میں تم سے دوستی بھی ختم کردوں۔”
”مگر انہیں پتا چلے گا ہی نہیں۔ شام چھ بجے کنسرٹ شروع ہو رہا ہے ہم آٹھ بجے تک واپس آجائیں گے۔”
”اور اگر نانو نے اس دوران تمہارے گھر فون کرلیا تو؟”
”تو میری ماما ان سے کہہ دیں گی کہ تم وہیں ہو اور بس گھر آنے والی ہو۔”
”یعنی تمہاری ماما بھی جھوٹ بولیں گی؟”
‘ہاں صرف تمہارے لیے۔”
علیزہ اس کی بات پر سوچ میں پڑ گئی، وہ خود بھی اس کنسرٹ میں جانا چاہ رہی تھی کیونکہ اس کے کالج کی بہت سی لڑکیاں وہاں جارہی تھیں مگر نانو اسے اس طرح اکیلے کبھی کنسرٹس میں نہیں بھیجتی تھیں۔ وہ ان ہی کنسرٹس میں جایا کرتی تھی جو جم خانہ میں ہوتے تھے اور جہاں نانا اور نانو بھی اس کے ساتھ ہوتے تھے۔ اس طرح لڑکوں کے کسی کالج میں کنسرٹ پر جانے کی اجازت ملنا ناممکن تھا اور اب شہلا اصرار کر رہی تھی کہ۔
”ٹھیک ہے ۔ تم نانو سے بات کرلو۔ اگر وہ اجازت دیتی ہیں تو پھر سوچ لیں گے۔” علیزہ نے نیم رضا مندی سے کہا۔
”یہ ہوئی نا بات۔”شہلا اس کی بات پر بے تحاشا خوش ہوئی۔
”مگر تم انہیں کس فنکشن کے بارے میں کہو گی؟”
”اپنی برتھ ڈے کروا دوں گی۔”
”یہ کبھی مت کرنا، انہیں تمہاری برتھ ڈے یادہے۔” علیزہ نے فوراً منع کیا۔
”تو پھر ٹھیک ہے، سبین کی برتھ ڈے پارٹی کا کہہ دیتے ہیں۔” شہلا نے اپنی چھوٹی بہن کا نام لیا۔
”ہاں یہ ٹھیک ہے۔” علیزہ متفق ہوگئی۔
پھر اگلے دن شہلا کالج سے اس کے ساتھ اس کے گھر آئی تھی اور اس نے نانو سے علیزہ کو اس فنکشن پر بھیجنے کیلئے اجازت مانگی تھی۔ نانو نے حسب توقع فوراً انکار کردیا مگر شہلا نے اپنی بات پر اصرار اور ان کی اتنی منت کی کہ وہ بالآخر تیار ہوگئیں۔
اور اب وہ دونوں وہاں کنسرٹ میں بیٹھی ہوئی تھیں۔ کنسرٹ میں دو مشہور سنگر تھے اور ان کے علاوہ باقی سارے اسٹوڈنٹ سنگرز تھے۔
”کنسرٹ ختم ہونے کے بعد سنگرز سے بھی ملیں گے۔” شہلا نے شور و غل کے درمیان اس سے کہا۔ علیزہ بے اختیار خوش ہوئی۔
”مگر کنسرٹ ختم ہوتے ہوتے تو بہت دیر ہوجائے گی پھر۔۔۔” علیزہ کو اچانک خیال آیا۔
”ایسا کریں گے جب فاروق پرفارم کرلے گا تو ہم اسٹیج کے پیچھے جا کر ان لوگوں سے مل لیں گے اور پھر چلے جائیں گے۔” شہلا کو بھی احساس ہوا کہ اس وقت تک دیر ہوجائے گی۔
پھر انہوں نے یہی کیا۔ شہلا کے بھائی نے اسٹیج پر دو گانے گائے اور اس کے دوسرے گانے کے ختم ہوتے ہی وہ دونوں اسٹیج کے پیچھے چلی آئی تھیں۔ شہلا نے جاتے ہی فاروق کومبارکباد دی اور پھر کہا۔
”میرا اور علیزہ کا تعارف کرواؤ ان لوگوں سے۔ کوئی فائدہ تو ہو تمہارے کنسرٹ کا۔” شہلا نے دور کھڑے ہوئے سنگرز کو خوش گپیوں میں مصروف دیکھ کر اس سے کہا۔
”اچھا ٹھیک ہے میرے ساتھ آؤ۔”
وہ انہیں لے کر ان لوگوں کی طرف بڑھ گیا تھا۔ علیزہ یک دم ایکسائیٹڈ ہوگئی۔ فاروق نے ان دونوں کا تعارف کروایا تھا۔ شہلا اب بڑی بے تکلفی سے ان لوگوں سے خوش گپیوں میں مصروف تھی جبکہ علیزہ کچھ نروس سی ان لوگوں کودیکھ رہی تھی۔ کچھ دیر ان لوگوں کے ساتھ گپ شپ کرنے کے بعد وہ لوگ فاروق کے ساتھ واپس جارہے تھے جب ایک لڑکے کو دیکھ کر فاروق ایک بار پھر رک گیا۔
”یہ ذوالقرنین آج اس نے بھی پرفارم کیا ہے۔ تم لوگوں نے دیکھا ہی ہوگا۔ بہت اچھا دوست ہے میرا۔” اس نے علیزہ اور شہلا سے کہا۔
۔۔۔۔۔۔
علیزہ نے اسٹیج پر سب سے پہلے اسی لڑکے کو پرفارم کرتے دیکھا تھا اور وہ اس کے گانے سے زیادہ اس کی اسمارٹنیس سے متاثر ہوئی تھی۔
”ویری گڈ لکنگ، یار” اس نے اس کے اسٹیج پر آتے ہی شہلا سے کہا تھا اور اب وہ اس کے سامنے کھڑا تھا۔
”آپ لوگوں کو میرا گانا کیسا لگا؟” وہ مسکراتے ہوئے ان سے پوچھ رہا تھا۔
”خاصا اچھا گا لیتے ہیں آپ۔” شہلا نے تعریف کی۔
”اور آپ کی کیا رائے ہے؟” وہ علیزہ کی طرف متوجہ ہوا۔
اس سے پہلے کہ علیزہ کچھ کہتی، شہلا نے شوخ انداز میں کہا۔ ”علیزہ آپ کی آواز سے زیادہ آپ کی لکس سے متاثر ہوئی ہے۔”
علیزہ کا دل چاہا وہ دھواں بن کر وہاں سے غائب ہوجائے۔ بے تکلفی اور مذاق میں کہا گیا وہ تبصرہ شہلا اس طرح ذوالقرنین کو بتا دے گی، یہ اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔
ذوالقرنین اور فاروق نے بے اختیار شہلا کی بات پر قہقہہ لگایا۔ ”ہاں یہ ہمیشہ اپنی لکس کی وجہ سے فائدے میں رہتا ہے۔ سنگر گڈلکنگ ہو تو سننے والوں کی توجہ خودبخود بڑھ جاتی ہے۔ پھر بونگی آواز کو بھی وہ برداشت کرلیتے ہیں۔” اب فاروق نے تبصرہ کیا۔
”تمہارا اشارہ میری طرف ہے۔” ذوالقرنین نے فاروق کے کندھے پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا۔
”نہیں یار! یہ جرأت میں کیسے کرسکتا ہوں۔” فاروق نے پہلو بچایا۔
”چلیں میں تو آپ کو پسند آیا لیکن میری آواز آپ کو کیسی لگی۔ یہ آپ نے نہیں بتایا؟”
ذوالقرنین ایک بار پھر علیزہ سے مخاطب تھا۔ علیزہ میں سر اٹھانے کی بھی ہمت نہیں رہی۔ کچھ دیر پہلے کا سارا جوش و خروش غائب ہوچکا تھا۔
”بتاؤ علیزہ! ان کاگانا کیسا لگا تمہیں؟” اس بار شہلا نے جیسے اس کی ہمت بندھاتے ہوئے کہا۔ علیزہ نے کچھ کہے بغیر غصے سے ایک نظر اس کو دیکھا۔
”اب علیزہ ناراض ہوگئی ہے۔ یار! میں مذاق کر رہی تھی۔” شہلا اس کے تیور فوراً بھانپ گئی۔
”نہیں بہرحال! میں تو اس بات کو مذاق سمجھنے پر تیار نہیں۔ میں واقعی اچھا خاصا گڈلکنگ بندہ ہوں۔” ذوالقرنین نے شہلا کی بات پر فوراً کہا۔
”مگر اتنے گڈلکنگ نہیں کہ علیزہ آپ سے متاثر ہوجائے۔” شہلا نے جیسے کچھ جتاتے ہوئے کہا۔
”کیوں علیزہ کو متاثر کرنے کیلئے کتنا گڈلکنگ ہونا ضروری ہے؟” اس بار پھر اس نے بڑی بے ساختگی سے کہا۔
”یہ تو آپ علیزہ سے پوچھیں۔” شہلا نے مسکراتے ہوئے کہا۔
”ٹھیک ہے ان ہی سے پوچھ لیتا ہوں۔”
”شہلا! گھر چلو دیر ہو رہی ہے۔” وہ جواب دینے کے بجائے شہلا کو بازو سے کھینچنے لگی۔
”بھئی، یہ اتنا مشکل سوال تو نہیں ہے کہ آپ اس طرح یہاں سے بھاگنے کا سوچیں۔” ذوالقرنین نے ایک بار پھر قہقہہ لگا کر کہا۔ علیزہ مزید نروس ہوگئی۔
”جی نہیں، آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے۔ ہم بالکل یہاں سے بھاگنے کی کوشش نہیں کر رہے۔ ہمیں واقعی دیر ہورہی ہے۔” شہلا نے بلند آواز میں کہا۔
”ٹھیک ہے، میں مان لیتا ہوں لیکن کیا آپ لوگ میرے اگلے کنسرٹ میں آئیں گے۔ خاص طور پر علیزہ؟” اس نے انہیں انوائیٹ کیا۔
”آپ کا کنسرٹ کب ہے؟” شہلا نے پوچھا۔
”اگلے مہینے۔”
”ٹھیک ہے، ہم سوچیں گے اور فاروق کو بتادیں گے۔” شہلا نے چلنا شروع کردیا۔
”میں کم از کم علیزہ سے یہ توقع نہیں رکھتا کہ وہ میرے کنسرٹ میں آنے کیلئے پہلے سوچیں اور پھر فیصلہ کریں انہیں آنا ہے۔”
علیزہ نے شہلا کے ساتھ تیز قدموں سے چلتے ہوئے اپنی پشت پر اس کی آواز سنی۔
فاروق اور ذوالقرنین کی نظروں سے اوجھل ہوئے ہی علیزہ شہلا پر برس پڑی۔
”تمہیں شرم آنی چاہیے اس طرح اس سے میرے بارے میں بات کرتے ہوئے… وہ کیا سوچتا ہوگا کہ میں کیسی لڑکی ہوں۔”
”اس میں بری بات کیا ہے۔ اس نے تمہارے بارے میں اچھا ہی سوچا ہوگا اسی لیے تو خاص طور پر اپنے کنسرٹ میں انوائیٹ کیا ہے اگر برا سوچتا تو ایسا نہ کرتا۔ ویسے بھی اپنی تعریف کسی کو بری نہیں لگتی۔”
”شہلا! تم بہت بدتمیز ہو، میں آئندہ تم سے کوئی بات شیئر نہیں کروں گی۔” علیزہ کا غصہ کم نہیں ہوا تھا۔
”اچھا ٹھیک ہے، میں ایکسکیوز کرتی ہوں، آئندہ ایسا نہیں کروں گی۔ اب تم یہ بتاؤ کہ اس کے کنسرٹ میں چلنا ہے؟” شہلا نے فوراً معذرت کرنی شروع کردی۔
”میں ابھی تم سے کوئی بات کرنا نہیں چاہتی، تم بس چپ ہوجاؤ۔” علیزہ اس کی معذرت سے متاثر نہیں ہوئی۔ شہلا خاموش ہوگئی۔ وہ علیزہ کو اچھی طرح جانتی تھی اور اسے پتا تھا کہ اب وہ اس وقت تک اس سے بات نہیں کرے گی جب تک اس کا غصہ ٹھنڈا نہیں ہوجاتا۔
٭٭٭
ذوالقرنین سے ہونے والی علیزہ کی یہ پہلی ملاقات تھی اور پہلی ملاقات آخری ثابت نہیں ہوئی، کوشش کے باوجود بھی اس رات کنسرٹ سے گھر واپس جانے کے بعد علیزہ اسے اپنے ذہن سے جھٹک نہیں پائی، وہ واقعی اتنا ڈیشنگ تھا کہ کسی بھی لڑکی کیلئے اسے نظر انداز کرنا مشکل ہوتا اور علیزہ جس عمر سے گزر رہی تھی اس عمر میں صنف مخالف میں اس طرح پیدا ہوجانے والی دلچسپی بڑی طوفانی رفتار سے بڑھتی ہے۔
اگلے چند دن بعد ایک دن شہلا نے اسے ایک فون نمبر دیا تھا۔
”یہ ذوالقرنین کا فون نمبر ہے، وہ تم سے بات کرنا چاہتا ہے یا پھر تم اگر کہو تو وہ خود تم کو کال کرلے۔”
”کیا مطلب وہ کیوں بات کرنا چاہتا ہے۔” علیزہ کے ہاتھ پاؤں پھول گئے تھے۔
”وہ دوستی کرنا چاہتا ہے تم سے۔”
”اس نے فاروق کا دماغ کھالیا ہے اس دن سے کہ وہ تم سے اس کا رابطہ کروائے، فاروق نے مجھ سے کہا اب میں تمہیں اس کا فون نمبردے رہی ہوں۔”
”کہیں تم نے اس کو میرا فون نمبر تو نہیں دیا؟” علیزہ یک دم خائف ہوگئی۔
”میں نے تو نہیں مگر فاروق نے دے دیا ہے، اب اگر تم اسے فون نہیں کرتیں تو پھر یقیناً وہ تمہیں فون کرے گا۔” علیزہ کا جیسے سانس رک گیا۔” اوہ گاڈ! اگر فون نانو نے ریسیو کرلیا تو… شہلا! تم اسے منع کردو کہ مجھے کبھی فون مت کرے۔”
”تو پھر بہتر ہے تم خود اس سے بات کرلو… اسے فون کرلو۔۔۔”
شہلا نے اس کے سامنے جیسے ایک تجویز رکھی تھی۔
”مگر میں اس سے فون پر کیا کہوں… نہیں میں اسے کال نہیں کروں گی۔” اس نے فوراً انکار کردیا۔
اس کا انکار بہت دیر تک نہیں چلا۔ دوسرے دن لاشعوری طور پر اسے فون کر بیٹھی تھی۔ اور فون کالز کا یہ سلسلہ پھر بڑھتا گیا تھا۔ ذوالقرنین میڈیکل کالج میں فاروق کا کلاس فیلو تھا وہ دونوں تھرڈ ایئر میں تھے اور نہ صرف فاروق بلکہ شہلا کی بھی ذوالقرنین کے بارے میں اچھی رائے تھی۔
عمر ان دنوں اسلام آباد میں تھا اور اس کے اور علیزہ کے درمیان ہمدردی اور انسیت کا جو ایک تعلق شروع ہوا تھا وہ یک دم جیسے غائب ہوگیا تھا، عمر خود اسے کبھی کال نہیں کرتا تھا، نانو یا نانا ہی اسے کال کیا کرتے تھے اور علیزہ کو کبھی اس سے بات کرنے کا موقع نہیں ملا نہ ہی عمر نے کبھی علیزہ سے بات کرنے کی خواہش ظاہر کی۔
دوسری طرف علیزہ کیلئے ان دنوں ذوالقرنین سے بڑھ کر کوئی چیز اہم نہیں رہی تھی۔ وہ شہلا کو کال کرنے کے بہانے ذوالقرنین کو کال کرتی اور بہت دیر تک اس سے باتیں کرتی رہتی۔ اس کے اندر یک دم بہت سی تبدیلیاں آنے لگی تھیں۔ وہ پہلے سے زیادہ خوش رہنے لگی تھی۔ خود پر بہت زیادہ توجہ دینے لگی تھی۔ کرسٹی کے ساتھ بھی پہلے سے کم وقت گزارنے لگی تھی۔ نانو اس میں ہونے والی ان تبدیلیوں کی وجہ نہیں جانتی تھی مگر وہ خوش تھیں کہ وہ آہستہ آہستہ ڈپریشن کے اس فیز سے باہر آرہی ہے جس میں وہ پچھلے کچھ عرصہ سے تھی۔ ان کا خیال تھا کہ اب وہ اپنی اسٹڈیز پر بھی پہلے کی طرح توجہ دینے لگے گی۔
ذوالقرنین میں علیزہ کو کیا چیز اچھی لگی تھی۔ علیزہ خود بھی نہیں جانتی تھی۔ وہ اس کے لکس سے زیادہ متاثر ہوئی تھی یا اس کے سنگر ہونے سے یا پھر علیزہ میں لی جانے والی دلچسپی سے… اسے کچھ بھی ٹھیک سے اندازہ نہیں تھا مگر وہ صرف اس بات سے خوش تھی کہ وہ یک دم کسی کیلئے اتنی اہم ہوگئی ہے۔ ذوالقرنین اس کی تعریفیں کرتا تھا اور علیزہ کیلئے ان دنوں عمر کی عدم موجودگی میں شاید اسی چیز کی ضرورت تھی۔
٭٭٭
وہ لئیق انکل کے ساتھ شام کو جاگنگ کیلئے پارک میں آیا تھا جاگنگ ٹریک پر دوڑتے ہوئے ہر دوسرے قدم میں ان کے ساتھ کام کرنے والا کوئی نہ کوئی کولیگ یا شناسا انہیں مل رہا تھا۔ وہ جاگنگ کرتے ہوئے سلام دعا کا تبادلہ کرتے اور رکے بغیر آگے بڑھ جاتے۔
”میں نے جہانگیر سے کہا تھا، تمہیں فارن سروس کے بجائے پولیس سروس میں آنے دے مگر وہ میری بات ماننے پر تیار نہیں ہوا۔” جاگنگ ٹریک پر اس کے ساتھ بھاگتے بھاگتے وہ باتیں کرتے جارہے تھے۔
”تمہارا اپنا انٹرسٹ کس چیز میں ہے؟”
”کسی میں بھی نہیں۔” اس کا دل چاہے وہ کہہ دے۔
”فارن سروس ہی ٹھیک ہے۔” اس نے ساتھ بھاگتے ہوئے کہا۔
”فارن سروس ٹھیک نہیں ہے۔ اسکوپ نہیں ہے اب اس کا کوئی… ہر پولیٹیکل گورنمنٹ آتے ہی سیاسی بنیادوں پر اپائنٹمینٹ کردیتی ہے۔ چار چھ جو اچھے ملک ہیں وہاں فارن سروس کے کسی بندے کو وہ لگاتے ہی نہیں جو سیاست دان الیکشن ہار جاتے ہیں، مگر پارٹی کو اچھا خاصا روپیہ دیتے رہتے ہیں وہ انہیں کو اٹھا کر ان ملکوں میں بھیج دیتی ہے۔ باقی جو ملک رہ جاتے ہیں وہاں صرف کام ہی کیا جاسکتا ہے۔ عیش کرنے کا کوئی امکان نہیں ہوتا اور کام اس لیے نہیں کیا جاسکتا کہ مشن کے پاس فنڈز ہی نہیں ہوتے جو روپیہ گورنمنٹ دیتی ہے اس سے بمشکل مشن اپنے اخراجات ہی پورے کرسکتا ہے ایسے حالات میں فارن سروس میں آنے کا فائدہ کیا ہے۔” وہ پھولے ہوئے سانس کے ساتھ کہتے جارہے تھے۔
”پوسٹنگ میرا کنسرن نہیں ہے، پاپا کروالیں گے۔”
”جہانگیر کروا تو لے گا مگر بات صرف ایک پوسٹنگ کی تو نہیں ہوتی۔ مسلسل اچھی پوسٹنگ ملتی رہے تب جاکر کچھ فائدہ ہوتا ہے اور جہانگیر کو تو خود اس بار بہت پرابلم ہوا ہے۔ بڑی مشکل سے اس نے اپنی پوسٹ بچائی ہے۔ فارن منسٹر اپنے بھائی کو اس کی جگہ لانے کی کوشش کر رہے تھے بلکہ لانے میں کامیاب ہوگئے تھے وہ تو بس جبار کام آگیا۔ اس کے فادران لا نے منسٹر کے بھائی کی پوسٹنگ نہیں ہونے دی۔”
انہوں نے عمر کو جہانگیر کے ایک اور دوست کے بارے میں بتایا عمر نے اس بار کوئی جواب نہیں دیا۔
”پھر جہانگیر کی اس اچانک شادی کی وجہ سے بھی مسئلہ ہوا۔ ایمبیسی میں موجود کسی ایجنسی کے آدمی نے جہانگیر کی شادی سے پہلے رشنا کے حوالے سے کوئی خفیہ رپورٹ بھیج دی۔ فارن منسٹر تو پہلے ہی تاک میں بیٹھے تھے، انہوں نے فوراً شور شرابا کردیا۔ پریس تک یہ خبر لانے والے بھی وہی تھے۔ ان کا خیال تھا کہ معاملہ پریس تک آئے گا تو خوب اچھلے گا اور پھر وزیراعظم اسے ہٹانے پر مجبور ہوجائیں گے۔ مگر جبار بہت کام آیا۔ اس نے منسٹر کی ایک نہیں چلنے دی… لیکن آخر کب تک… اب منسٹر مسلسل تاک میں ہے۔ چوٹ کھایا ہوا سانپ بنا بیٹھا ہے۔”
”فارن سروس میں اس طرح کی سچویشن ہے تو پولیس سروس میں تو اور بھی زیادہ پرابلمز ہوں گے، کیونکہ وہاں سیاسی مداخلت اور بھی زیادہ ہے۔” لئیق انکل کے ساتھ بھاگتے ہوئے اس نے تبصرہ کیا۔
”اچھی پوسٹنگ تو وہاں بھی مشکل سے ہی ملے گی۔”
”ہاں یہ پرابلمز تو وہاں بھی ہیں، مگر وہاں بندہ جس بھی شہر میں پوسٹڈ ہو، وہاں کی انڈسٹریلسٹ کلاس سے کانٹیکٹس بنا سکتا ہے۔ اچھا خاصا فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ بندے کے پاس پاور اور اتھارٹی ہو تو سمجھو، ساری دنیا اپنی ہے۔” وہ اسے گر سکھا رہے تھے۔
”تم نے انتخاب میں دوسرے نمبر پر کون سا ڈیپارٹمنٹ دیا ہے؟”
”ڈی ایم جی۔”
”اور پولیس سروس کو کس نمبر پر لیا ہے؟”
”تیسرے پر۔”
”بہتر ہوتا تم اسے ہی پہلے نمبر پر رکھتے بہر حال ابھی بھی وقت ہے، تم سوچ لو، میں جہانگیر سے دوبارہ بات کروں گا۔ سب کچھ بدلا جاسکتا ہے۔” انہوں نے اس کے سامنے جیسے نیا راستہ کھولا تھا۔
”نہیں انکل! میں فارن سروس ہی جوائن کرنا چاہتا ہوں… مجھے کسی دوسرے گروپ میں دلچسپی نہیں ہے۔” عمر نے انکار کردیا۔
”پھر بھی ایک بار دوبارہ سوچ لو۔”
”نہیں، جو بھی پاپا نے طے کیا ہے۔ وہ ٹھیک ہے۔” لئیق انکل جاگنگ کرتے ہوئے خاموش ہوگئے۔
لئیق انکل جہانگیر معاذ سے اپنی دوستی پر بڑا فخر کرتے تھے اور وہ اس بات پر بھی خاصے نازاں تھے کہ جہانگیر معاذ ان پر مکمل طور پر اعتماد کرتا تھا۔
عمر سے ملاقات کے دوران بھی انہوں نے کئی بار اس بات کا اظہار کیا تھا اور وہ صرف مسکرا کر رہ گیا تھا وہ ان کی خوش فہمی کو برقرار رکھنا چاہتا تھا۔ ورنہ وہ جانتا تھا کہ جہانگیر معاذ جیسا شخص جو اپنے سائے پر بھی اعتماد نہیں کرتا۔ وہ ایک کزن پر کیسے اعتماد کرسکتا ہے، بہت سے دوسرے لوگوں کی طرح لئیق انکل بھی ان کے ہاتھ ایک کٹھ پتلی کی طرح تھے جنہیں وہ بڑی ہوشیاری سے استعمال کر رہے تھے۔ عمر صرف اس بات کا اندازہ نہیں کر پارہا تھا کہ لئیق انکل اس بات کو جانتے تھے یا نہیں۔ عمر نے لئیق انکل کے بارے میں اپنے باپ کے منہ سے بہت بار تمسخرانہ جملے سنے تھے اور لئیق انکل واحد نہیں تھے۔ وہ اپنے ہر دوست اور ملنے والے کے بارے میں کچھ نہ کچھ کہتے رہتے تھے۔ عمر کو حیرانی ہوتی کہ اس کے باوجود ان کے دوستوں کی لمبی چوڑی تعداد میں کوئی کمی آئی نہ ہی انہیں کبھی اپنے دوست سے نقصان پہنچا تھا۔
اس نے جہانگیر معاذ کو صرف اپنے فرینڈ اور کزنز کا ہی نہیں بلکہ اپنے بھائیوں کے نام اور پوزیشن کا بھی بری طرح استعمال کرتے دیکھا تھا، اور اب جب وہ اپنے باپ کے کسی بھی دوست سے ملتا تو اسے ہمیشہ ان پر ترس آتا… لئیق انکل بھی ان ہی میں سے ایک تھے۔
٭٭٭
”وہ عمر! ثمرین آنٹی نے دوبارہ کال کی ہے۔ میں نے انہیں بتا دیا کہ تم گھر پر نہیں ہو۔ وہ کہہ رہی تھیں کہ جب تم واپس آؤ تو میں تم سے کہوں کہ تم انہیں کال کرو۔”
وہ اس وقت کلب سے واپس آیا تھا جب لاؤنج میں داخل ہوتے ہی اسے دیکھ کر شانزہ نے اطلاع دی۔ عمر یک دم سنجیدہ ہوگیا۔
”انہوں نے بس یہی پیغام چھوڑا ہے؟”
”ہاں بس یہی کہا تھا انہوں نے تمہارے موبائل پر بھی کال کی تھی مگر تم نے اپنا موبائل آف کیا ہوا تھا۔”
شانزہ نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا۔ عمر مزید کچھ پوچھنے کے بجائے سیدھا اپنے کمرے میں آگیا۔
موبائل آن کر کے سائیڈ ٹیبل پر رکھنے کے بعد وہ نہانے کیلئے باتھ روم میں چلا گیا۔ آدھ گھنٹہ کے بعد جب وہ نہانے کے بعد باہر نکلا تھا تو اس کے موبائل کی بیپ سنائی دے رہی تھی۔ اس نے کچھ ٹھٹک کر تذبذب کے عالم میں موبائل اٹھایا تھا کال کرنے والے کا نمبر دیکھ کر اس نے ہونٹ بھینچ لیے۔ کچھ دیر سوچنے کے بعد ایک گہرا سانس لے کر اس نے کال ریسیو کیا۔
”ہیلو عمر! میں ثمرین بات کر رہی ہوں۔” دوسری طرف سے اسے اپنے باپ کی دوسری بیوی کی آواز سنائی دی۔
”ہاں، میں بول رہا ہوں… کیسی ہیں آپ؟”
”میں ٹھیک ہوں۔ تم کیسے ہو؟”
”فائن۔”
”میں آج سارا دن بار بار تم سے کانٹیکٹ کرنے کی کوشش کر رہی ہوں مگر تمہارا موبائل آف تھا۔”
”ہاں، میں کچھ مصروف تھا، آپ کو کوئی ضروری کام تھا؟” دوسری طرف چند لمحے خاموشی رہی پھر ثمرین کی آواز سنائی دی۔
”تمہیں جہانگیر کی شادی کا تو پتا چل ہی گیا ہوگا؟”
”ہاں میں جانتا ہوں۔” اس نے مختصراً کہا۔
”تم یہ بھی اچھی طرح جانتے ہو گے کہ وہ لڑکی جہانگیر کی آدھی عمر سے بھی کم عمر ہے۔ پھر جس طرح کی شہرت وہ رکھتی ہے میں نہیں جانتی، جہانگیر کو کیا ہوگیا ہے وہ کیوں اس طرح کی حرکتیں کر رہا ہے۔” ثمرین کے لہجے سے پریشانی جھلک رہی تھی۔
عمر خاموشی سے ان کی بات سنتا رہا۔” میں اور بچے جہانگیر کی اس حرکت سے کتنے ڈسٹرب ہیں اس کا تم اندازہ نہیں کرسکتے۔”
”لیکن میں اس سلسلے میں کیا کرسکتا ہوں؟” اس نے ان کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔
”تم جہانگیر سے بات کرو” ثمرین کا لہجہ اس بار کچھ دھیما تھا۔
”کیا بات کروں؟” دوسری طرف کچھ دیر خاموشی رہی۔
”کہ وہ اس لڑکی کو ڈائی وورس دے دے۔”
”آپ کا کیا خیال ہے، میرے کہنے پر پاپا اسے ڈائی وورس دے دیں گے؟” اس نے جواباً ان سے پوچھا۔
”تم اس کے سب سے بڑے بیٹے ہو، تمہاری بات بہت اہمیت رکھتی ہے۔”
”آپ اگر ایسا سوچ رہی ہیں تو غلط سوچ رہی ہیں۔ خوش قسمتی سے میں ان کا سب سے بڑا بیٹا تو ہوں لیکن میری بات ان کیلئے کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔”
”عمر! تم اسے مجبور کرسکتے ہو۔”
”نہیں۔ میں انہیں مجبور کرسکتا ہوں نہ ہی کرنا چاہتا ہوں۔” اس نے دو ٹوک انداز میں کہا۔
”عمر! میں تم سے ریکویسٹ کررہی ہوں۔” اس بار ثمرین کا لہجہ منت بھرا تھا۔
۔۔۔۔۔
”میں ان پر جتنا دباؤ ڈال سکتا تھا، ڈال چکا ہوں، ان سے اس موضوع پر میری بات ہوچکی ہے اور یہ گفتگو کچھ زیادہ خوشگوار نہیں رہی، اس لیے میں اس بارے میں کچھ نہیں کرسکتا۔”
”جہانگیر ہمیں اسلام آباد والے گھر میں شفٹ کرنا چاہتا ہے۔”
”میں جانتا ہوں۔”
”مگر میں اور بچے ایسا نہیں چاہتے۔ جہانگیر اپنی اس نئی بیوی کو کیوں نہیں یہاں شفٹ کرتا… میں اور بچے اس کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔ وہ اس طرح ہمیں اٹھا کر کیسے پھینک سکتا ہے۔ تم کم از کم اس سے یہ تو کہہ ہی سکتے ہو کہ وہ ہمیں امریکہ میں اپنے پاس ہی رہنے دے۔”
”میرے کہنے سے کچھ نہیں ہوگا۔ پاپا میری بات سنیں گے نہ مانیں گے، ویسے بھی یہ آپ دونوں کا ذاتی معاملہ ہے بہتر ہے آپ اسے خود حل کریں۔ مجھے درمیان میں مت لائیں۔”
اس نے بڑے پرسکون انداز میں کہا۔
”جہانگیر کی شادی صرف میرا یا میرے بچوں کا ذاتی معاملہ نہیں ہے۔ کیا تم اس سے متاثر نہیں ہوئے، کیا تمہیں شرمندگی نہیں ہوئی کہ اس عمر میں جہانگیر نے اس طرح کی حرکت کی ہے۔”
”میں اس تکلیف سے بہت پہلے گزر چکا ہوں۔ باپ کی صرف دوسری شادی تکلیف دہ ہوتی ہے۔ تیسری، چوتھی، پانچویں، چھٹی سے کچھ نہیں ہوتا۔ وہ سب کچھ پھر روٹین لگتی ہے۔” اس کے لہجے کی کاٹ نے ثمرین کو چند لمحوں کیلئے خاموش کردیا۔
”میں نے جہانگیر سے شادی تمہاری ماں کی ڈائی وورس کے بہت بعد کی تھی۔”
”مگر اس ڈائی وورس کا سبب آپ ہی تھیں۔”
”نہیں ایسا نہیں ہے۔ عمر جہانگیر اور زارا کے درمیان انڈر سٹینڈنگ نہیں تھی پھر تمہاری ماں نے اپنی مرضی سے۔۔۔”
عمر نے ناگواری سے ان کی وضاحت کو کاٹ دیا۔
”میں ماضی میں نہیں جانا چاہتا کہ کس نے کیا کس کی وجہ سے اور کیوں… کم از کم اب مجھے اس بحث سے کوئی دلچسپی نہیں ہے میں آپ کو بس یہ بتانا چاہتا ہوں کہ آپ مجھے اپنے ہاتھ کا ہتھیار بنا کر استعمال کرنے کی کوشش نہ کریں۔”
”عمر! تم مجھے غلط سمجھ رہے ہو۔”
”ہوسکتا ہے، بہرحال یہ آپ دونوں کا ذاتی معاملہ ہے اور بہتر ہے، آپ اسے خود ہی حل کریں۔ جو کچھ آپ میرے ذریعے پاپا سے کہلوانا چاہتی ہیں۔ وہ خود کہہ دیں یا پھر ولید سے کہیں کہ وہ پاپا سے بات کرے ہوسکتا ہے، میرے بجائے وہ زیادہ بہتر طریقے سے یہ سب کچھ پاپا تک پہنچا دے۔”
دوسری طرف سے فون یکدم بند کردیا گیا تھا۔
ثمرین کے ساتھ اس کے تعلقات میں ہمیشہ ایک تکلف رہا تھا۔ ثمرین نے یہ اجنبیت دور کرنے کیلئے پہل کی تھی نہ ہی عمر نے اس کی کوشش کی تھی۔ عمر اور ان کے درمیان بڑی سرسری اور رسمی سی گفتگو ہوتی تھی۔ عمر کو حیرانی ہوئی تھی کہ ثمرین نے اس طرح اس سے مدد لینے کی کوشش کیوں کی تھی۔
اس کے دل میں ثمرین کے خلاف کسی قسم کا کوئی بغض نہیں تھا نہ ہی اس نے کبھی ثمرین کو اپنی ماں اور باپ کے درمیان ہونے والی علیحدگی کا ذمہ دار سمجھا تھا لیکن اس کے باوجود بھی اس نے ثمرین کیلئے کبھی بہت اچھے احساسات بھی نہیں رکھے تھے اور اس میں بڑا ہاتھ خود ثمرین کا ہی تھا۔
۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔
