Amarbail By Umerah Ahmed Readelle50103 Episode 59
Rate this Novel
Episode 59
امربیل از عمیرہاحمد
۔۔۔۔
قسط نمبر 59
۔۔۔۔۔
باب نمبر 53
”تم آخر کرنا کیا چاہتے ہو عمر؟ ” ایاز حیدر فون پر درشت لہجے میں کہہ رہے تھے۔ ”آخر کتنی بار مجھ تک تمہاری شکایات آئیں گی۔ اب تو مجھے بھی شرمندگی ہوتی ہے جب میں تمہارے سینئرز سے تمہارے بارے میں بات کرتا ہوں۔ ہر بار میں ان سے کہتا ہوں کہ میں تمہیں سمجھا دوں گا…اور ہر بار تم حماقت کی حد کر دیتے ہو۔” عمر خاموشی سے ان کی بات سن رہا تھا۔
ایاز حیدر نے ابھی کچھ دیر پہلے اس کو آفس میں فون کیا تھا اور وہ اسے جھڑک رہے تھے۔ معاملہ پھر کرنل حمید والا ہی تھا۔ عمر کے بارے میں ایک بار پھر اوپر شکایت کی گئی تھی اور آئی جی نے ایک بار پھر ایاز حیدر سے بات کی تھی۔ اس بار وہ بے حد ناراض تھے اور انہوں نے ایاز حیدر کو بتا دیا تھا کہ وہ اب زیادہ عرصے تک عمر کی حمایت نہیں کر سکیں گے۔ وہ عمر کی ٹرانسفر کرنا چاہتے تھے کیونکہ ان کے پاس عمر کی ٹرانسفر کے احکامات آئے تھے۔ انہوں نے اس معاملے میں ایک بار پھر عمر سے بات کرنے کے بجائے ایاز حیدر سے بات کرنا ضروری سمجھا اور اب ایاز حیدر اس سے بات کررہے تھے۔
”انکل! وہ شخص اس قدر بدتمیز تھا کہ۔۔۔” عمر نے کچھ کہنے کی کوشش کی، ایاز حیدر نے غصے کے عالم میں اس کی بات کاٹی۔
”وہ شخص بدتمیز تھا تو تم بڑے تمیز والے ہو۔ تم اس سے بھی بدتر ہو۔ وہ تو صرف بدتمیز تھا۔ تم تو ڈفر اور ڈل بھی ہو۔”
”اگر آپ اس سے بات کرتے تو میری طرح آپ کو بھی غصہ آتا۔”
”آتا ضرور آتا…مگر میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ مجھے کب، کہاں، کس کے سامنے اپنا غصہ دکھانا ہے اور کس سے غصہ چھپانا ہے۔ تمہاری طرح ہر آدمی کے ساتھ جھگڑا میں افورڈ نہیں کر سکتا۔”
”جو بھی ہو انکل…! میں کسی کے باپ کا ملازم نہیں ہوں کہ کوئی مجھ پر چلائے اور وہ بھی ایسا شخص جس کو میں جانتا تک نہیں۔”
”تو برداشت نہ کرنے کا نتیجہ دیکھ لیا ہے تم نے…ٹرانسفر کے آرڈرز آنے والے ہیں تمہارے۔”
”آنے دیں، میں چارج نہیں چھوڑوں گا۔” عمر کو طیش آ گیا۔
”ٹرانسفر آرڈر کے بجائے تم اپنے لیے Suspension orders (معطلی) چاہتے ہو یا پھر termination۔”
”جو مرضی ہو جائے ، میں اس طرح چارج نہیں چھوڑوں گا۔”
”تم آخر چاہتے کیا ہو عمر…کیوں کسی کے ساتھ بنا کر رکھنا نہیں آتا تمہیں۔ کسی نہ کسی کو تم نے اپنے پیچھے لگایا ہوتا ہے۔ پہلے پریس والا تماشا تھا۔ اب فوج کے ساتھ جھگڑا مول لے رہے ہو۔ پتا ہونا چاہیے تمہیں کہ آج کل ہر کام کتنی احتیاط سے کرنا چاہیے ورنہ تم خود تو ڈوبو گے، ساتھ ہمیں بھی ڈبوؤ گے۔”
”میں جتنی احتیاط کر سکتا تھا کر چکا ہوں مگر ان لوگوں کو اپنے علاوہ کوئی اچھا اور پاک صاف لگتا ہی نہیں۔ ہم بھی آفیسر ہیں، کوئی کھیل تماشے کے لیے نہیں بیٹھے ہوئے۔ کام کررہے ہوتے ہیں، ان کا جب دل چاہتا ہے منہ اٹھا کر میرے آفس میں آ جاتے ہیں۔ مجھ پر چلاتے ہیں۔ اگر وہ کرنل ہے تو اسے بھی میرے رینک کا لحاظ ہونا چاہیے۔” عمر شدید غصے میں تھا۔
”اسے پتا ہونا چاہیے کہ مجھ سے کس طرح بات کرنی چاہیے ۔ وہ کسی پولیس کانسٹیبل سے بات کر رہا تھا کہ اس طرح اس پر چلاتا اور وہ بھی اس صورت میں جب غلطی اس کی اپنی تھی اس کا بیٹا ملزم نہیں تھا بلکہ مجرم تھا۔”
”تمہیں معمولی باتوں پر اتنا مشتعل ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔”
”انکل ! مشتعل ہونے کی بات نہیں ہے۔ میں نے کس طرح اس کے بیٹے کی رہائی کے بعد وہاں مشتعل ہجوم کو کنٹرول کیا ہے۔ آپ یہاں موجود ہوتے تو آپ کو اندازہ ہوتا ہجوم کے اشتعال کا، وہ لوگ پولیس سٹیشن کو آگ لگا دینا چاہتے تھے اور بالکل صحیح کرنا چاہتے تھے۔ ان کی جگہ میں بھی ہوتا تو یہی کرتا۔ ایک بچہ شراب پی کر گاڑی کا ایکسیڈنٹ کرکے ایک آدمی کو مار دیتا ہے اور اس شخص کے لواحقین کی آنکھوں کے سامنے ایک فون آنے پر اس بچے کو کسی پوچھ گچھ کے بغیر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ یہ واقعی صرف یہاں ہی ہو سکتا ہے، اس کے باوجود میں نے اس ہجوم کے پاس خود جا کر ان سے مذاکرات کیے۔ پتا نہیں کتنے جھوٹ بول کر ان کا غصہ ٹھنڈا کیا اور اس آدمی کی لاش کو دفنانے پر مجبور کیا ورنہ وہ لوگ اسے گورنر ہاؤس کے باہر لا کر رکھ دینا چاہتے تھے۔ اس کے باوجود آپ مجھے بتا رہے ہیں کہ میرے ٹرانسفر کے آرڈر آگئے ہیں۔”
”اچھا ، میں نے تمہاری تقریریں سننے کے لیے تمہیں فون نہیں کیا، میں صرف یہ بتا دینا چاہتا ہوں تمہیں کہ تم کرنل حمید سے مصالحت کرو۔ اپنے اس مسئلے کو خوش اسلوبی کے ساتھ حل کرو۔” ایاز حیدر نے ایک بار پھر اسے ٹوکتے ہوئے کہا۔
”کمال کرتے ہیں آپ بھی۔” عمر کو ان کی بات پر جیسے پتنگے لگ گئے۔
”مصالحت اسے مجھ سے کرنی چاہیے یا مجھے اس کے ساتھ۔ اگر اس سارے معاملے میں کسی نے بدتمیزی کی ہے تو وہ میں نہیں کرنل حمید ہے اور آپ کہہ رہے ہیں کہ میں اس کے ساتھ مصالحت کروں۔”
اچھا فرض کرو کہ کرنل حمید نے ہی تمہارے ساتھ بد تمیزی کی ہے …پھر اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔”
”کیوں فرق نہیں پڑتا …یہ اس کی غلطی ہے وہ اسے ٹھیک کرے۔ ۔ وہ معذرت کرے۔”
”اور وہ ایسا کبھی نہیں کرے گا کیونکہ اس کو ایسا کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔”
”تو میں بھی ایسا کبھی نہیں کروں گا کیونکہ مجھے بھی ایسا کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔”
”تم مجھے مجبور کر رہے ہو عمر کہ میں آئی جی سے کہوں کہ تمہیں ٹرانسفر آرڈر نہیں بلکہ سیدھا Termination لیٹر بھجوائیں۔ بلکہ تمہارے خلاف کوئی انکوائری کروائیں تم اس قابل نہیں ہو کہ تمہاری مدد کی جائے۔ میں تمہیں سمجھانے کی کوشش کر رہا ہوں اور تم اپنی بکواس میں مصروف ہو۔”
ایاز حیدر اس کے جواب پر یک دم بھڑک اٹھے۔ عمر نے اس بار کچھ کہنے کی کوشش نہیں کی۔ وہ خاموش رہا۔
”تم پورے خاندان میں واحد ہو۔ جس کے لئے مجھے اتنی بار اس طرح کی وضاحتیں اور معذرتیں کرنی پڑ رہی ہیں۔ ورنہ ہر کوئی بڑی آسانی سے ہر طرح کے سیٹ اپ میں ایڈجسٹ ہو جاتاہے۔ صرف تم ہو جسے کبھی کسی سے شکایات شروع ہو جاتی ہیں اور کبھی کسی سے۔” وہ اب بلند آواز میں دھاڑ رہے تھے۔
”آخر کب تک میں تمہاری پشت پناہی کرتا رہوں گا۔ کب تک تمہیں بچاتا رہوں گا۔ تمہیں نہ صورت حال کی سنگینی کا احساس ہوتا ہے نہ اپنی اور فیملی کی عزت کا۔ تمہیں پروا تک نہیں ہے کہ میں تمہارے لئے اپنا کتنا وقت ضائع کر کے تمہیں فون کر رہا ہوں تو پھر مجھے کیا ضرورت ہے تمہیں عقل دینے کی۔ جاؤ ڈوبو۔ مائی فٹ ۔۔۔”
انہوں نے دوسری طرف سے بڑے غصے کے ساتھ فون پٹخا۔ عمر بہت دیر تک ریسیور ہاتھ میں لئے بیٹھا رہا۔ ایاز حیدر کے اس طرح مشتعل ہونے سے اسے اس بات کا اندازہ تو اچھی طرح ہو گیا تھا کہ اس بار معاملہ خاصا خراب ہے۔ ورنہ ایاز حیدر اس سے اس طرح بات نہ کرتے۔ وہ واقعی پوری فیملی کے لئے گاڈ فادر کی طرح تھے۔ ہر معاملے میں وہ اپنے خاندان کے مفادات کے تحفظ کے لئے کسی حد تک بھی جا سکتے تھے اور کم از کم یہ ایسی چیز نہیں تھی جس نے انہیں کبھی پریشان کیا ہو جس کی وجہ سے وہ کبھی احساس ندامت کا شکار ہوئے ہوں اور اب اگر وہ عمر کے معاملے پر اس طرح جھنجھلا رہے تھے تو یقیناً اس بار انہیں عمر کا دفاع کرنے میں واقعی کچھ دقت کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔
عمر جہانگیر کم از کم اتنا زیرک ضرور تھا کہ اسے اس بات کا اندازہ ہو جاتا اور وہ اتنا احمق یا جذباتی بھی نہیں تھا کہ اپنی جاب کو اس طرح جذبات میں آ کر گنوا دیتا۔ فون کا ریسیور رکھ کر وہ کچھ دیر تک اس سارے معاملے کے بارے میں سوچتا رہا۔ ایاز حیدر کا اس کی پشت سے ہاتھ اٹھا لینا اس کے لئے واقعی خاصا مہنگا ثابت ہو سکتا تھا۔ مگر انہیں اس وقت فوری طور پر دوبارہ فون کرنے کا کوئی فائدہ نہ ہوتا۔ وہ غصے میں دوبارہ اس سے بات کرنا پسند نہ کرتے۔ مگر اس کے لئے ضروری ہو گیا تھا کہ وہ ایک بار ان سے اس سارے معاملے پر گفتگو کرتا۔
اس نے ایک گھنٹے کے بعد انہیں فون کیا۔ ان کے پی اے نے چند منٹوں کے بعد ایاز حیدر سے اس کا رابطہ کروا دیا تھا۔
”جی عمر جہانگیر صاحب ! آپ نے کیوں زحمت فرمائی ہے یہ کال کرنے کی؟” ایاز حیدر نے اس کی آواز سنتے ہی طنزاً کہا تھا مگر اس کے باوجود عمر جانتا تھا کہ وہ اس وقت غصے میں نہیں تھے۔ ان کے کال ریسیو کر لینے کا مطلب یہی تھا۔
”انکل ! آپ کیا چاہتے ہیں، میں کیا کروں؟” عمر نے بڑی سنجیدگی سے کسی تمہید کے بغیر ان سے پوچھا۔
”میں چاہتا ہوں کہ تم کرنل حمید سے ملو …اس سے معذرت کرو، پھر سارا معاملہ ٹھیک ہو جائے گا۔”
”اور اگر اس نے مجھ سے ملنے سے انکار کر دیا تو؟”
”نہیں کرے گا …میں اس پر بھی کچھ پریشر ڈلواؤں گا۔ تم بہر حال اس سے ملاقات تو کرو۔”
”ٹھیک ہے، میں اس سے مصالحت کی کوشش کرتا ہوں۔ پھر میں آپ کو بتاتا ہوں کہ کیا ہوا؟”
”مجھے اس کے بارے میں جلدی انفارم کرنا اور ہاں یہ علیزہ کے سسرال والوں نے شادی کی تاریخ کو آگے کرنے کی خواہش کا اظہار کیوں کیا ہے، تمہارا تو رابطہ ہو گا ان کے ساتھ؟”
ایاز حیدر نے …موضوع بدلتے ہوئے کہا۔ عمر یک دم محتاط ہو گیا۔
”میں نیوز پیپر میں نوٹس پڑھ کر حیران رہ گیا۔ میں نے تو ممی سے کہا ہے کہ انہیں اس طرح نوٹس دینے سے پہلے مجھ سے بات کر لینی چاہیے تھی” وہ عمر کو بتا رہے تھے۔
”جنید کے گھر والوں کو پہلے ہی شادی کی تاریخ سوچ سمجھ کر رکھنی چاہیے تھی۔ بعد میں اس طرح تبدیلی تو بہت نامناسب بات ہے۔”
”آپ کی گرینی سے بات ہوئی ہے؟”
”ہاں بڑی لمبی بات ہوئی ہے۔ میں پریشان ہو گیا تھا نوٹس دیکھ کر…پھر انہوں نے ہی مجھے بتایا کہ جنید کے گھر والوں نے شادی کے التوا کی درخواست کی تھی۔ تمہیں پتا ہے اس بات کا؟”
”ہاں میری جنید سے بات ہوئی تھی۔” عمر نے گول مول انداز میں کہا۔
”پھر…؟” ایاز حیدر تقریباً تفصیلات جاننا چاہ رہے تھے۔
”یکدم ہی بس کچھ پرابلمز آگئی تھیں۔ اس کی بہن کو کچھ ہفتوں کے لیے سنگاپور جانا تھا۔ خود اس کے ایک دو پروجیکٹس کی ڈیٹس کا مسئلہ ہونے لگا۔ اس کے کچھ دوسرے رشتہ دار بھی ان دنوں باہر سے نہیں آ سکتے تھے۔ اسی لیے انہوں نے بہتر سمجھا کہ ایک ماہ کے لیے شادی آگے کر دی جائے۔”
عمر نے یکے بعد دیگرے جھوٹ پر جھوٹ بولتے ہوئے کہا۔ نانو نے یقیناً علیزہ کو بچانے کے لیے اس نوٹس کو جنید کے گھر والوں کے سر تھوپ دیا تھا۔ یہ خوش قسمتی ہی تھی کہ ایاز حیدر نے سیدھا جنید کے گھر فون کرکے اس کے والدین سے بات نہیں کی تھی۔ ورنہ اس جھوٹ کا انکشاف ہو جاتا۔ وہ شاید عمر کے معاملے میں الجھے ہونے کی وجہ سے اس طرف اتنا دھیان نہیں دے پائے تھے۔
”جنید نے مجھ سے یہ سب کچھ ڈسکس کیا تھا بلکہ اس نے پوچھا تھا کہ اگر شادی کو آگے کر دیا جائے تو ہماری فیملی کو کوئی اعتراض تو نہیں ہوگا میں نے گرینی سے بات کی تھی۔ پھر یہی طے ہوا کہ شادی آگے کر دی جائے۔”
”اچھا مگر ممی نے تو مجھ سے کہا ہے کہ انہوں نے اچانک ہی درخواست کی تھی۔ یہ تو انہوں نے نہیں بتایا کہ تم نے ان سے اس سلسلے میں بات کی تھی۔” ایاز حیدر نے کہا۔
”گرینی کے ذہن میں نہیں رہا ہوگا اور جہاں تک ریکویسٹ کی بات ہے تو وہ انہوں نے اچانک ہی کی تھی۔ ورنہ پہلے تو وہ بھی تیاریوں میں ہی مصروف تھے۔” عمر نے گول مول بات کی۔
”میں آج فون کروں گا ابراہیم کو، اس معاملے پر اگر تھوڑی بہت بات ہو جائے تو اچھا ہے۔”
”انکل ابراہیم تو کوئٹہ گئے ہوئے ہیں۔” عمر نے بڑی رسانیت سے کہا۔
”کل رات میں جنید سے بات کر رہا تھا تو اس نے مجھے بتایا تھا۔ وہاں کسی بینک کی بلڈنگ کا پراجیکٹ ہے جنید بھی دو چار دن تک وہیں جا رہا ہے۔ آپ آنٹی فرحانہ سے بات کر لیں۔” عمر نے آخری جملہ ادا کرتے ہوئے رسک لیا تھا۔
”نہیں، ان سے کیا بات کروں گا۔ ابراہیم کو آنے دو پھر ان ہی سے بات کروں گا۔” حسب توقع ایاز حیدر نے کہا۔
”اچھا پھر تم مجھے کرنل حمید سے اپنی ملاقات کے بارے میں جلد انفارم کرو۔” رسمی الوداعی کلمات کے ساتھ انہوں نے فون رکھ دیا۔
عمر کچھ دیر گہری سوچ میں گم رہا۔ پھر اس نے اپنے پی اے کو کرنل حمید سے کانٹیکٹ کروانے کا کہا۔
وہ ایک فائل چیک کر رہا تھا جب پی اے نے اسے فون پر اطلاع دی۔
”سر! کرنل حمید کاآپریٹر کہہ رہا ہے کہ آپ کو ان سے کیا بات کرنی ہے؟”
”اس سے کہو کہ میں ان سے بات کرنا چاہتا ہوں۔”
”سر! میں نے یہی کہا تھا مگر وہ پوچھ رہا تھا کہ آپ کیا بات کرنا چاہتے ہیں۔ پہلے وہ بات بتائیں۔”
”اس سے کہو کہ میں اس کو بات نہیں بتا سکتا۔ وہ کرنل حمید سے میری بات کروائے۔” عمر نے کچھ سختی سے اسے ہدایت دی۔
کچھ دیر بعد فون کی گھنٹی ایک بار پھر بجی ”سر! وہ کہہ رہا ہے کہ جب تک آپ بات نہیں بتائیں گے وہ کرنل حمید سے آپ کا رابطہ نہیں کروا سکتا۔” عمر کو اندازہ ہو گیا کہ کرنل حمید اسے آپریٹر کے ذریعہ زچ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
”اس سے کہو کہ صاحب کرنل حمید سے کوئی ذاتی بات کرنا چاہتے ہیں۔” عمر نے اپنے غصے کو ضبط کرتے ہوئے کہا۔
کچھ دیر کے بعد پی اے نے ایک بار پھر اس سے رابطہ کیا۔
”سر! وہ کہہ رہا ہے کہ کرنل حمید دفتر میں ذاتی باتیں نہیں کرتے۔”
”تو پھر اس سے کہو کہ وہ ان کے گھر کا نمبر دے دے۔” پی اے نے کچھ دیر بعد اس سے کہا۔
”سر ! وہ کہہ رہا ہے کہ صاحب کا گھر کا نمبر ہرایرے غیرے کے لیے نہیں ہوتا۔” اس بار پی اے نے کچھ جھجکتے ہوئے تک کرنل حمید کے پی اے کے الفاظ پہنچائے تھے۔
”بات کراؤ میری اس آپریٹر سے۔” اس بار عمر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔
”یس سر! ” پی اے نے مستعدی سے کہا۔
چند منٹوں کے بعد عمر نے دوسری طرف کسی کی آواز سنی۔
”ایس پی سٹی عمر جہانگیر بات کر رہا ہوں۔ کرنل حمید سے بات کراؤ۔” عمر نے کھردرے لہجے میں کرنل حمید کے پی اے سے کہا۔
”سر! وہ ابھی کچھ دیر پہلے آفس سے نکل گئے ہیں۔” اس بار کرنل حمید کے آپریٹر کا لہجہ مودب تھا شاید یہ عمر کے عہدے سے زیادہ اس کے لہجے کا اثر تھا۔
”کب واپس آئیں گے؟” عمر نے اسی انداز میں پوچھا۔
”سر! یہ نہیں پتا، وہ ٹیم کے ساتھ گئے ہیں۔”
”میں کل صبح ان سے ملنا چاہتا ہوں۔”
”سر! آپ یہ بتا دیں کہ آپ کس سلسلے میں ان سے ملنا چاہتے ہیں۔”
عمر نے اس کو بات مکمل نہیں کرنے دی۔
”یہ جاننا تمہارا پرابلم نہیں ہے۔ میں ایس پی ہوں، کسی بھی سلسلے میں ان سے بات کر سکتا ہوں۔” اس بار عمر کا لہجہ اتنا کھردرا اور تحکمانہ تھا کہ پی اے نے کچھ ہکلاتے ہوئے کہا۔
”تو سر! پھر آپ اپائنمنٹ لے لیں۔”
”اپائنمنٹ میرا پی اے طے کرے گا تمہارے ساتھ، میں نہیں۔”
عمر نے کہتے ہوئے فون بند کر دیا اور پھر اپنے پی اے کو کرنل حمید کے آپریٹر کے ساتھ بات کرنے کے لیے کہا۔ کچھ دیر بعد پی اے نے اسے اگلے دن کی اپائنمنٹ کی تفصیل بتا دی تھی۔
٭٭٭
”بے وقوفی کی باتیں مت کیا کرو علیزہ! کیا تم نے طے کر رکھا ہے کہ۔۔۔”
علیزہ نے غصے کے عالم میں شہلا کی بات کاٹ دی۔ ”تم میرے سامنے نانو کے جملے مت دہراؤ…میں تنگ آ چکی ہوں اس طرح کے جملے سن سن کر۔”
شہلا ابھی کچھ دیر پہلے ہی علیزہ کے پاس آئی تھی۔ اس نے بھی اخبار میں وہ نوٹس پڑھ لیا تھا، وہ کوشش کے باوجود فون پر علیزہ سے رابطہ نہیں کر سکی۔ پھر وہ کچھ پریشانی کے عالم میں خود اس کے گھر چلی آئی تھی اور اب وہ علیزہ کو سمجھانے کی کوشش میں مصروف تھی۔
”یہ سب کچھ اتنا آسان نہیں ہوتا جتنا تم نے سمجھ لیا ہے۔” شہلا اس کے غصے سے متاثر ہوئے بغیر بولی۔ ”آخر اس سارے معاملے میں جنید اور اس کی فیملی کا کیا قصور ہے بلکہ عمر کا بھی کیا قصور ہے۔ اس نے ایسا کون سا غلط کام کر دیا ہے جس پر تم اس طرح ناراض ہو رہی ہو۔”
”تمہارے خیال میں یہ غلط کام ہی نہیں ہے؟ تمہارے نزدیک تو پھر کوئی بھی غلط کام نہیں ہوگا۔”
”عمر نے کیا کیا؟ اس نے تمہیں جنید سے ملوایا ، تم نے خود اس کو پسند کیا…اور پھر تمہاری ہی مرضی کے مطابق اس سے تمہاری شادی ہو رہی تھی۔”
”عمر سے کس نے کہا تھا کہ وہ مجھے جنید سے ملوائے، میرے ساتھ اتنی ہمدردی کرنے کی کیا ضرورت تھی اسے؟ غلط بیانی کرکے اس نے میرے ساتھ دھوکہ کیا۔ کیا میرے اور اس کے درمیان اتنے اچھے تعلقات تھے کہ وہ اپنے بیسٹ فرینڈ کو میرے لیے اس طرح پیش کرتا اور وہ بھی ایسا دوست جو صرف اس کے کہنے پر مجھے اپنے گلے میں لٹکا رہا تھا۔”
”علیزہ! تم کمال کرتی ہو۔ جنید تمہیں کیوں گلے میں لٹکائے گا۔ تمہاری طرح اسے بھی ایک لڑکی سے ملوایا گیا۔ اسے تم پسند آئیں اس لیے وہ تم سے شادی کر رہا تھا۔ کورٹ شپ اور کسے کہتے ہیں۔ ہماری فیملیز میں اسی طرح لڑکے لڑکی کو آپس میں ملوایا جاتا ہے۔ ملوانے والا کون ہے اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ اہم چیز تو یہ ہے کہ جس سے ملوایا جا رہا ہے وہ کیسا ہے اور کم از کم میں یہ بات پورے یقین سے کہہ سکتی ہوں کہ عمر نے تمہیں کسی غلط آدمی سے نہیں ملوایا۔ تمہارے نزدیک عمر کا دوست ہونے کے علاوہ اس میں کوئی خرابی نہیں ہے اور یہ ایسی خرابی ہے جو تمہارے علاوہ کسی دوسرے کو نظر نہیں آئے گی۔”
”ہر چیز اس طرح نہیں ہے جس طرح تم میرے سامنے پیش کرنے کی کوشش کررہی ہو۔ عمر نے جنید کو پریشرائز کیا ہے مجھ سے شادی کرنے کے لیے۔”
”یہ ناممکن ہے جنید۔۔۔”
”اس نے مجھ سے خود کہا ہے کہ اس کی عمر سے اتنی گہری دوستی ہے کہ عمر اسے میرے بجائے کسی اور سے بھی شادی کا کہتا تو وہ اسی سے شادی کر لیتا۔” علیزہ نے شہلا کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔
”جنید اس طرح کا آدمی لگتا ہے تمہیں کہ وہ آنکھیں بند کرکے عمر کے کہنے پر کسی کے بھی گلے میں شادی کا ہار ڈال دیتا یا اس کی فیملی اس طرح کی نظر آتی ہے تمہیں کہ وہ کسی بھی لڑکی کو آسانی سے قبول کر لیتے۔۔۔” شہلا نے اس کی بات کے جواب میں کہا۔
”جنید جتنا میچور اور سوبر آدمی ہے وہ کسی بھی لڑکی سے شادی نہیں کر سکتا تھا۔ چاہے یہ بات وہ اپنے منہ سے کہے تب بھی۔ اسے اگر یہ احساس ہو جاتا کہ تم اس کی فیملی کے ساتھ ایڈجسٹ نہیں ہو سکتیں یا تمہارے ساتھ اس کی انڈر سٹینڈنگ نہیں ہو سکے گی تو وہ کبھی بھی تم سے شادی نہ کرتا۔ عمر کے کہنے پر بھی وہ اپنی فیملی کو نظر انداز نہیں کر سکتا ہے۔آخر تم اس بات کو محسوس کیوں نہیں کرتیں۔”
”میں کچھ بھی محسوس کرنا نہیں چاہتی۔ میں اس سب سے باہر نکل چکی ہوں اور میں بہت خوش ہوں۔”
”ہر بے وقوف آدمی تمہاری طرح ہی سوچتا ہے۔ مصیبت میں قدم رکھ کر یہ سمجھتا ہے کہ وہ مصیبت سے نکل چکا ہے۔ آخر تم خطرہ دیکھ کر کبوتر کی طرح کب تک آنکھیں بند کرتی رہو گی۔” شہلا نے کچھ چڑ کر کہا۔ ”ہر کام سوچے سمجھے بغیر کرتی ہو تم۔ نانو کو کتنے لوگوں کے سامنے جھوٹ بولنا اور وضاحتیں کرنی پڑیں گی۔ یہ سوچا ہے تم نے؟”
”میں کیوں سوچوں؟نانو سوچیں اس کے بارے میں آخر انہوں نے بھی تو مجھے ہر چیز کے بارے میں اندھیرے میں رکھا تھا۔”
شہلا کچھ بے بسی کے عالم میں اسے دیکھنے لگی۔ ”تمہیں واقعی کوئی افسوس، کوئی دکھ نہیں ہو رہا۔ اس رشتے کو ختم کرکے۔”
”نہیں ۔ مجھے کچھ محسوس نہیں ہو رہا۔”
”ایک سال سے زیادہ عرصہ گزر گیا ہے اس کے ساتھ تمہاری انگیجمنٹ کو۔ کیا اتنا آسان ہے تمہارے لیے اسے بھلانا۔” علیزہ کچھ دیر خاموشی سے اسے دیکھتی رہی۔
”اگر میں عمر کو بھلا سکتی ہوں تو جنید…اس کو بھلانا کیا مشکل ہے۔ عمر سے زیادہ لمبی ایسوسی ایشن تو کسی کے ساتھ نہیں ہو سکتی تھی میری۔” اس نے کچھ دیر کے بعد کہا۔
”کہنے میں اور کرنے میں بہت فرق ہوتا ہے علیزہ!” شہلا نے عجیب سے انداز میں کہا۔ علیزہ نے دل ہی دل میں اعتراف کیا۔ واقعی کہنے اور کرنے میں بہت فرق ہوتا ہے۔
”اتنے عرصے سے تم جنید کے گھر آ جا رہی ہو۔ کیا تمہیں اپنی وجہ سے ہونے والی ان کی پریشانی کا بھی کوئی احساس نہیں ہو رہا۔”
وہ ساری گفتگو میں پہلی بار الجھ کر خاموش رہی اسے اگر اس سارے معاملے میں کسی سے شرمندگی تھی تو وہ جنید کے گھر والے ہی تھے اور کم از کم وہ ان کے حوالے سے وہ اپنے آپ کو مطمئن نہیں کر پا رہی تھی۔
”میرے پاس ان کے لیے معذرت کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔” اس نے کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد کہا۔
”وہ واقعی یہ سب کچھ deserve نہیں کرتے جو میں کر رہی ہوں مگر میرے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔”
”دوسرا راستہ؟ علیزہ! تمہارے پاس فی الحال ہر راستہ موجود ہے۔ تم اگر اپنے فیصلے پر ایک بار نظرثانی کرو تو سب کچھ ٹھیک ہو سکتا ہے۔ دوسروں کے ساتھ ساتھ تم اپنے معاملے کو بھی سلجھا لو گی۔”
”میں کسی معاملے کو سلجھانا نہیں چاہتی۔” اس نے صاف گوئی سے کہا۔ ”ہر چیز پوائنٹ آف نو ریٹرن پر پہنچ چکی ہے۔”
”یا پہنچائی جا چکی ہے؟” شہلا نے کچھ دیر دیکھتے ہوئے کہا۔
”تم یہی سمجھ لو۔”
”زندگی میں کوئی پوائنٹ آف نو ریٹرن نہیں ہوتا۔ ہر بار اور ہر جگہ سے واپس آیا جا سکتا ہے اگر تھوڑی سی عقلمندی اور دور اندیشی کامظاہرہ کیا جائے تو۔”
”اور یہ دونوں خصوصیات میرے اندر نہیں ہیں۔ یہ تو تم اچھی طرح جانتی ہو۔” اس نے تیز لہجے میں کہا۔
”آخر تم اتنی ضد کیوں کر رہی ہو علیزہ۔” علیزہ نے ایک بار پھر اس کی بات کاٹی۔
”اب پھر میرے سامنے تقریر مت کرنا کہ میں پہلے تو ایسی نہیں تھی …اب کیوں ہو گئی ہوں وغیرہ۔”
”مجھے یہ کہنے کی ضرورت نہیں۔ تم خود ہی یہ سب جانتی ہو۔”
”ہاں، میں جانتی ہوں اور مجھے اپنی ہٹ دھرمی سے کوئی پریشانی نہیں ہے …یہ عادت دیر سے سیکھی ہے مگر میرے لئے یہ بہت فائدہ مند ہے …دیر آید درست آید کے مصداق۔” علیزہ نے سنجیدگی سے کہا۔
شہلا تقریباً تین گھنٹے اس کے ساتھ سر کھپا کر اگلے دن پھر آنے کا کہہ کر چلی گئی تھی۔
٭٭٭
عمر دس منٹ کی اپائنمنٹ کا سن کر خون کے گھونٹ پی کر رہ گیا۔
اس نے پولیس سروس صرف اس Absolute power (مکمل اختیارات) کے لئے جوائن کی تھی جو کسی پولیس آفیسر کے پاس ہوتی تھی …اسے اب یوں لگنے لگا تھا جیسے اس کے پر کاٹ کر آزادی دی گئی ہے …ہر گزرتا دن اس احساس کو بڑھاتا جا رہا تھا اور وہ یہ احساس رکھنے والا واحد آفیسر نہیں تھا …اسے اگر بے جا مداخلت بری لگ رہی تھی تو دوسرے آفیسرز کو کرپشن ختم کرنے کے لئے آرمی کا چیک تنگ کر رہا تھا …یہ ملک و قوم کی خدمت نہیں تھی جس کے لئے سول سروس میں آتے تھے یہ دو سے چار اور چار سے آٹھ بنانے کا فارمولا تھا۔ جس کو سیکھنے کے لئے لوگ اس میدان میں کودتے تھے یا پھر کچھ کو وہ Authority اس طرف کھینچ لاتی تھی جو کسی بھی آفیسر کے پاس موجود ہوتی تھی اور آرمی، بیوروکریسی سے یہی دونوں چیزیں کھینچنے کی کوشش کر رہی تھی۔
عمر کے ساتھ بھی یہی ہو رہا تھا۔ اب بعض دفعہ اسے فارن سروس سے پولیس سروس میں آنے کے فیصلے پر افسوس ہوتا اور بعض دفعہ سول سروس میں سرے سے آنے پر اگر دوسروں کے ہاتھوں کٹھ پتلیاں بن کر ہی ناچنا تھا تو پھر تو پوری دنیا پڑی تھی …کہیں بھی جا سکتا تھا …کہیں بھی کیرئیر بنا سکتا تھا …آخر پاکستان ہی کیوں …وہ اکثر سوچتا اور اپنے فرینڈز اور کولیگز سے ڈسکس کرتا رہتا …اس ڈسکشن میں حصہ لینے والا وہ واحد نہیں تھا وہاں ہر دوسرے بندے کے پاس یہی مسائل تھے۔ پاور شیئرنگ آرمی اور بیورو کریسی دونوں کے لئے جیسے گالی کی حیثیت اختیار کر گیا تھا۔
آرمی کے بعد اگر ملک میں کوئی دوسرا آرگنائزڈ اسٹرکچر تھا تو وہ بیورو کریسی کا ہی تھا اور دونوں ایک دوسرے کے حربوں، ہتھکنڈوں اور چالوں سے بخوبی واقف تھے، یہی وجہ تھی کہ دونوں میں سے کوئی بھی دوسرے کو مات دینے میں ناکام رہتا تھا۔ دوسرے کے پاس پہلے ہی ہر چیز کا توڑ موجود ہوتا تھا …دونوں طرف بہترین دماغ اور بد ترین سازشی موجود تھے …دونوں طرف بہترین خوشامدی اور بہترین درباری موجود تھے اور دونوں طرف ذہین ترین احمقوں کی بھی بڑی تعداد تھی۔ اس بار پہلی بار آرمی نے سول سیٹ اپ پر کاری ضرب لگائی تھی اور پہلی بار بیورو کریسی کو واقعی اپنی پاور خطرے میں محسوس ہونے لگی تھی۔ کچھ نے محاذ آرائی کا رستہ اختیار کیا تھا کچھ نے بغیر کسی حجت کے ہتھیار ڈال دیئے تھے۔ عمر پہلی ٹائپ میں شامل تھا اور دوسری ٹائپ میں شامل ہونے کی تمام کوششوں کے با وجود اس میں کامیاب نہیں ہو پا رہا تھا۔
٭٭٭
وہ اگلے دن ساڑھے دس ہونے والی اپائنٹمنٹ سے پانچ منٹ پہلے ہی کرنل حمید کے آفس پہنچ گیا۔ یہ ایک حفاظتی قدم تھا جو تاخیر کی صورت میں کرنل حمید کی طرف اپائنٹمنٹ کینسل نہ ہونے سے بچنے کے لیے اٹھایا گیا تھا۔
کرنل حمید اسے آفس میں نہیں ملا۔ اس کا پیغام ملا۔ اس نے عمر کی اپائنٹمنٹ کینسل کروا دی تھی کیونکہ بقول پی اے ”صاحب کہہ رہے ہیں کہ وہ بہت مصروف ہیں۔”
”یہ تمہارے صاحب کو پہلے پتا ہونا چاہیے تھا۔” عمر نے ناراضی کے عالم میں پی اے سے کہا۔ ”اگر انہوں نے اپائنٹمنٹ طے کی تھی تو انہیں ملنا چاہیے تھا۔”
”اپائنٹمنٹ تو سر میں نے طے کی تھی کرنل صاحب نے تو نہیں کی تھی، وہ بھی آپ نے زبردستی اپائنٹمنٹ طے کروائی تھی۔”
پی اے اب بڑی دیدہ دلیری کے ساتھ تیزی سے کہہ رہا تھا شاید اسے عمر کے لئے کرنل حمید سے خاص ہدایات ملی تھیں عمر کو اس کے سامنے بے پناہ ہتک کا احساس ہوا۔
”وہ آپ کے لئے پیغام دے کر گئے ہیں کہ آپ چاہیں تو فون پر اپنی بات کہہ سکتے ہیں۔” پی اے نے اس سے کہا۔
عمر اس کے پیغام کے جواب میں کچھ بھی کہنے کے بجائے وہاں سے نکل آیا۔
اپنے آفس واپس آنے کے بعد اس نے ایاز حیدر کو فون کیا اور انہیں اس تمام معاملے کی تفصیلات بتا دیں۔
”میں نے آپ کو پہلے ہی بتا دیا تھاکہ یہ آدمی مصالحت نہیں چاہتا۔” اس نے تفصیلات بتانے کے بعد کہا۔ ”یہ آدمی صرف میری بے عزتی کرنا چاہتا ہے۔ صرف مجھے اپنے سامنے جھکانا چاہتا ہے اور کچھ بھی نہیں۔” وہ تقریباً پھٹ پڑا۔
”اور اب تو میں دوبارہ کبھی اس کی شکل تک دیکھنے نہیں جاؤں گا۔” ایاز حیدر کچھ دیر خاموشی سے اسے بولتا سنتے رہے پھر انہوں نے کہا۔
”عمر ! میں چاہتا ہوں تم چند ماہ کی چھٹی پر چلے جاؤ۔”
”کیا مطلب؟” وہ یک دم ٹھٹھک گیا۔
”ہاں، تم چند ماہ کی چھٹی پر چلے جاؤ، نہ تم یہاں رہو گے نہ یہ مسئلے پیدا ہوں گے۔”
”مگر میں کیوں چھٹی پر چلا جاؤں، اس سے میرا کیرئیر ۔۔۔”
ایاز حیدر نے اس کی بات کاٹی ”کیرئیر کی تم فکر مت کرو۔ میں ہوں اس کو دیکھنے کے لئے، تم بس چند ماہ کی چھٹی پر چلے جاؤ۔”
”میں اس طرح اپنی جاب چھوڑ کر جانا نہیں چاہتا، آپ …۔۔۔”
”تم نہیں جاؤ گے تو پھر تمہیں بھیج دیا جائے گا۔”
”آپ نے کہا تھا میری ٹرانسفر کر رہے ہیں۔” عمر نے انہیں یاد دلایا۔
”ہاں کر رہے ہیں۔ تمہاری خدمات وفاقی حکومت کو واپس کر رہے ہیں اور وہاں سے تم بھیجے جاؤ گے بلوچستان، کوئٹہ تم کو نہیں ملے گا، اور کون سا اور کیسا شہر مل سکتا ہے۔ اس کا اندازہ تمہیں اچھی طرح ہو گا۔”
عمر کا دل ڈوب گیا۔ وہ بلوچستان یا سرحد بھجوائے جانے کا مطلب اچھی طرح سمجھتا تھا۔
”پھر کیا یہ بہتر نہیں ہے کہ تم چھٹی پر چلے جاؤ …کم از کم چھٹی کے بعد تم کسی بہتر پوسٹنگ کی امید تو رکھ سکتے ہو۔”
”انکل ! میں دو چار ماہ کی چھٹی نہیں چاہتا۔” عمر یک دم سنجیدہ ہو گیا
”مجھے دو سال کی چھٹی چاہیے …ایکس پاکستان لیو۔”
”کس لئے؟”
”بس میں واقعی اس سب سے تنگ آ چکا ہوں۔ اگر چھٹی پر ہی جانا ہے تو لمبی چھٹی پر کیوں نہیں۔”
”تم کرنا کیا چاہتے ہو اتنی لمبی چھٹی کا؟”
”میں کچھ عرصے سے سوچ رہا تھا کہ واپس جا کر اپنی اسٹڈیز کو دوبارہ شروع کروں، ایم بی اے کر لوں۔”
”اس کا کیا فائدہ ہو گا۔ دو سال ضائع ہوں گے تمہارے۔” ایاز حیدر نے اسے بتایا۔
”ہونے دیں۔ ابھی بھی تو مجھے یونہی لگتا ہے جیسے میں وقت ضائع کر رہا ہوں۔” عمر نے تلخی سے کہا۔
”میں اس طرح اپنی tenure پوری ہونے سے پہلے کہیں نہیں جانا چاہتا تھا۔ مگر اب اگر یہ مجھے زبردستی ٹرانسفر کر ہی دینا چاہتے ہیں تو بہتر ہے میں لمبی چھٹی پر چلا جاؤں۔”
”تم اب ایک بار پھر جذباتی ہو کر سوچ رہے ہو۔ جاب میں اونچ نیچ ہوتی رہتی ہے۔” ایاز حیدر نے اس بار بہت نرم لہجے میں اسے سمجھانے کی کوشش کی۔
”میری جاب میں صرف نیچ ہے۔ اونچ ابھی تک مجھے نظر نہیں آئی۔” عمر نے تلخی سے ہنس کر کہا۔
”فارن سروس میں بھی تم اسی طرح منہ اٹھا کر بھاگ گئے تھے۔”
”انکل ! آپ جانتے ہیں، میں فارن سروس میں کس کی وجہ سے بھاگا تھا۔ پاپا کی وجہ سے۔ ورنہ میں وہاں بڑا خوش تھا۔” عمر نے ان کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔
”اور یہاں پر تم آرمی کی وجہ سے بھاگ رہے ہو۔” ایاز حیدر نے اپنی بات جاری رکھی۔
”ہر جگہ تم کسی نہ کسی وجہ سے بھاگتے رہو گے تو کام کیسے چلے گا کیرئیر ایسے نہیں بنتا بیٹا۔ بڑے جھٹکے سہنے پڑتے ہیں۔”
”میں نہیں سہہ سکتا اور کم از کم اب تو نہیں، فی الحال تو ہر لحاظ سے میرے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔”
”تم اتنی جلد بازی میں فیصلہ نہ کرو، اچھی طرح اس بارے میں سوچ لو۔” ایاز حیدر نے کہا۔
”انکل! میں بہت اچھی طرح اس کے بارے میں سوچ چکا ہوں، میں نے آپ کو بتایا ہے، میں پچھلے کچھ عرصے سے صرف اسی کے بارے میں ہی سوچتا آ رہا ہوں۔ آپ پلیز، اس سلسلے میں میری مدد کریں۔” اس نے قطعیت سے کہا۔
”جب ایم بی اے کر لو گے، اس کے بعد پھر کیا کرو گے؟”
”پتا نہیں، ابھی تو میں صرف یہاں سے جانا چاہتا ہوں۔”
”میں جہانگیر سے اس سلسلے میں بات کروں گا۔ تم ابھی سارے معاملے کے بارے میں ایک بارپھر سوچو۔” انہوں نے اسے پھر سمجھانے کی کوشش کی۔
”آپ مجھے چھٹی دلوا سکتے ہیں یا نہیں؟ ” عمر نے ان کی بات کے جواب میں سوال کیا۔
”دیکھو عمر! فی الحال تو تمہارے لئے صرف دو چار ماہ کی چھٹی پر جانا بہتر ہے۔ اس کے بعد کچھ عرصہ گزر جانے کے بعد تم اپنی چھٹی بڑھوا لینا۔ کیونکہ ابھی فوری طور پر تم پر کوئی بھی اتنی مہربانی نہیں کرے گا کہ فوراً تمہیں دو سال کی چھٹی دے دے۔ تمہاری حرکتوں کی وجہ سے تمہارا سروس ریکارڈ خاصا خراب ہو چکا ہے۔ اس لیے پہلے میں تمہاری چار ماہ کی چھٹی منظور کرواتا ہوں بعد میں اسے دیکھیں گے۔” ایاز حیدر نے اسے دوٹوک الفاظ میں کہا۔
”ٹھیک ہے آپ فی الحال مجھے چار ماہ کی چھٹی پر بھجوا دیں۔” عمران کی بات مان گیا۔
”میں فوری طور پر اپنی چھٹی کی منظوری چاہتا ہوں۔”
”آئی جی تم سے اتنا ناخوش ہے کہ وہ بڑی خوشی سے تمہیں چھٹی پر بھجوائے گا۔ تم کو اس بارے میں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔” ایاز حیدر نے ہلکے پھلکے انداز میں کہا۔
”بلکہ وہ تم سے اتنا بیزار ہے کہ اس کا بس چلے تو وہ تمہاری اس چھٹی کو کبھی ختم نہیں ہونے دے۔”
”وہ خود کون سا بڑا اچھا آدمی ہے، تاریخ میں اس سے زیادہ نکما اور بزدل آئی جی آج تک اپائنٹ نہیں ہوا۔” عمر نے بڑی بے باکی سے تبصرہ کیا۔
کچھ احتیاط کرو…اگر تمہاری لائن انڈر آبزرویشن ہوئی تو ایسے تبصروں کے بعد تمہارا کیا حشر ہوگا۔ تمہیں یاد رکھنا چاہیے۔”
”اگر وہ آپ کا دوست نہ ہوتا تو میں یہ جملہ اس کے منہ پر اس کے آفس میں کہہ کر آتا۔ میں اس سے خوفزدہ نہیں ہوں۔” عمر نے بے خوفی سے کہا۔
”تم کتنے بہادر ہو، میں اچھی طرح جانتا ہوں۔ فی الحال فون بند کر رہا ہوں۔ کال خاصی لمبی ہو گئی ہے۔ تم اب اپنا سامان پیک کرنا شروع کروا دو، میں چند دنوں تک تمہاری چھٹی کے بارے میں آرڈر تم تک بھجوا دوں گا۔”
ایاز حیدر نے فون بند کرتے ہوئے کہا۔ فون کا ریسیور رکھ کر عمر نے بے اختیار سر کو جھٹکا۔ اپنی کرسی کی پشت سے ٹیک لگا کر وہ بہت دیر تک اپنی کنپٹیوں کو مسلتا رہا۔
”جنید کے پیرنٹس آئے ہیں۔ تم سے ملنا چاہتے ہیں۔” ثمینہ نے اس کے کمرے میں آکر اسے اطلاع دی۔
”میں ان سے ملنا نہیں چاہتی۔ آپ معذرت کر لیں، کوئی ایکسکیوز دے دیں۔” علیزہ نے ہاتھ میں پکڑی ہوئی کتاب بند کرتے ہوئے کہا۔
”ان سے یہی کہہ دیتی ہوں کہ تم ان سے ملنا نہیں چاہتیں۔”
ثمینہ نے واپس مڑتے ہوئے کہا علیزہ خاموش رہی۔ اس سارے معاملے میں وہ اگر کسی سے واقعی شرمندہ تھی تو وہ جنید کی فیملی اور خاص طور پر اس کے والدین ہی تھے۔ اس نے ثمینہ سے کچھ نہیں کہا وہ کمرے سے نکل گئیں۔
علیزہ نے کتاب کو ایک طرف رکھ دیا۔ وہ پہلے بھی کچھ پڑھ نہیں پا رہی تھی اور اب اس کا جی کچھ اور اچاٹ ہو گیا تھا۔ بیڈ سے اٹھ کر وہ اسٹیریو کی طرف گئی اور اس نے کیسٹ لگا لیا۔ کچھ دیر وہ کمرے میں ٹہلتی ہوئی میوزک سنتی رہی پھر یکدم اس نے اسٹیریو کو بھی آف کر دیا۔
صرف دو دن پہلے سب کچھ نارمل تھا سب کچھ اور اب سب کچھ ایک خواب لگ رہا تھا۔ وہ اب ایک عجیب سے اضطراب کا شکار ہو رہی تھی۔ بار بار وہ اپنے ذہن سے جنید، اس کے گھر والوں اور اس کے گھر کو جھٹکنے کی کوشش کر رہی تھی اور بری طرح ناکام ہو رہی تھی۔
کمرے کے دروازے پر ایک بار پھر دستک ہوئی۔
”یس کم ان!” اس نے رک کر دروازے کی طرف دیکھا۔ دروازہ کھول کر اندر داخل ہونے والی نانو اور جنید کی امی تھیں۔ علیزہ کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ اسے توقع نہیں تھی کہ جنید کی امی نانو کے ساتھ یوں اچانک کمرے میں آ جائیں گی۔ اس سے بہتر تھا وہ ان سے ملنے کے لیے خود باہر چلی جاتی۔
”علیزہ! مسز ابراہیم تم سے ملنا چاہ رہی تھیں۔ میں انہیں یہاں لے آئی۔” نانو نے اعلان کرنے والے انداز میں کہا۔
”آپ بیٹھیں مسز ابراہیم! میں چائے یہیں بھجوا دیتی ہوں۔ آپ علیزہ کے ساتھ چائے پئیں۔”
نانو نے اس کے کچھ کہنے سے پہلے جنید کی امی سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا اور کمرے کا دروازہ بند کرکے باہر نکل گئیں۔
”آپ بیٹھیں پلیز!” علیزہ نے قدرے ہکلاتے ہوئے جنید کی امی سے کہا۔ اسے اندازہ تھا اس وقت اس کے چہرے پر کتنے رنگ آرہے ہوں گے۔ وہ صوفہ پر بیٹھ گئیں۔
”تم بھی بیٹھو۔” جنید کی امی نے صوفہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ وہ کچھ جھجکتی ہوئی ان کے پاس آکر بیٹھ گئی۔
”جنید نے مجھے سب کچھ بتا دیا ہے۔” انہوں نے چند لمحے خاموش رہنے کے بعد کہا۔ علیزہ انہیں دیکھنے لگی۔”عمر کو ہمارے گھر آتے ہوئے بہت عرصہ ہو گیا ہے۔ جنید اور اس کی دوستی بہت پرانی ہے۔ پرانی دوستیوں میں بہت زیادہ جذبات اور احساسات انوالو ہو جاتے ہیں۔ اٹیچ منٹ بہت گہری ہو جاتی ہے اور عمر تو ہمارے لیے ہمارے گھر کے ایک فرد جیسا ہے۔ میں نہیں جانتی کہ تم اسے کیوں اتنا ناپسند کرتی ہو، یقیناً تمہارے پاس بھی اسے ناپسند کرنے کی کوئی نہ کوئی وجہ ضرور ہو گی بالکل اسی طرح جس طرح ہمارے پاس اسے پسند کرنے کی وجوہات ہیں، مگر عمر کو تمہارے اور جنید کے درمیان مسئلہ نہیں بننا چاہیے۔”
وہ چند لمحوں کے لیے رکیں۔
”جنید تم سے محبت کرتا ہے اور یہ محبت عمر کی وجہ سے نہیں ہے۔ علیزہ تم ابھی ہمارے گھر نہیں آئی ہو، لیکن تم پچھلے ایک سال سے ہمارے گھر میں ہمارے ساتھ ہو۔ ہم سب کو بہت عادت ہو گئی ہے تمہاری یہ شادی نہ ہونے سے صرف جنید متاثر نہیں ہوگا ہم سب متاثر ہوں گے اور تم بھی متاثر ہو گی۔ تمہیں جنید سے ناراضی کا حق ہے لیکن اس ناراضی میں کم از کم تمہیں تو جنید جیسی کوئی احمقانہ حرکت یا قدم نہیں اٹھانا چاہیے۔” وہ اسے سمجھا رہی تھیں۔ ”ہم سب نے ہی تم سے عمر کے بارے میں چھپایا مگر یہ اس لیے نہیں تھا کہ ہم تمہیں دھوکہ دینا چاہتے تھے، یہ صرف اس لیے تھا کیونکہ ہم لوگ تمہیں تکلیف نہیں دینا چاہتے تھے۔ عمر تو جنید کا صرف دوست ہے مگر تم تو ہماری فیملی کا حصہ بن جاؤ گی۔ ہمارے لیے کس کی اہمیت زیادہ ہے تم اندازہ کر سکتی ہو، جنید کے لیے کس کی اہمیت زیادہ ہے یہ بھی تم جان سکتی ہو، تمہیں اگر یہ ناپسند ہے کہ عمر ہمارے گھر آئے تو میں عمر کو منع کر دوں گی۔ وہ گھر نہیں آئے گا مگر جہاں تک جنید اور عمر کی دوستی کا تعلق ہے اس کو رہنے دو۔ علیزہ! ان کے اس تعلق سے تمہاری اور جنید کی زندگی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ میں تمہیں اس بات کی گارنٹی دیتی ہوں مگر اتنی چھوٹی چھوٹی باتوں پر اس طرح رشتوں کو ختم کرنا کم از کم میں تم سے اس کی توقع نہیں کرتی ۔ علیزہ! ہم سب بہت پریشان ہیں نہ صرف ہم بلکہ جنید بھی۔ میں چاہتی ہوں کچھ بھی ختم نہ ہو سب کچھ ویسا ہی رہے۔ جنید میرے ساتھ آیا ہوا ہے اور تم سے معذرت کرنے کے لیے تیار ہے۔”
علیزہ بالکل لاجواب تھی۔ وہ جنید کے گھر والوں کا سامنا کرتی کجا یہ کہ ان سے بات کرتی مگر جنید کی امی اس طرح اچانک اس کے پاس آگئی تھیں کہ وہ اپنی مدافعت کے لیے ان سے کچھ بھی نہیں کہہ پائی تھی۔
”ہماری زندگی ہمیشہ سے بڑی smooth (ہموار) رہی ہے، ہم نے کبھی یہ نہیں سوچا تھا کہ اس طرح اچانک ہماری زندگی میں کوئی کرائسس آئے گا۔”
وہ ایک بار پھر کہنے لگیں۔ علیزہ کے اعصاب کا بوجھ بڑھتا جا رہا تھا، وہاں بیٹھے ایک دم اسے اپنی ہر دلیل بے کار اور اپنا اقدام بچکانہ لگنے لگا تھا۔
”اس لیے ہم تو سمجھ ہی نہیں پا رہے کہ ہم کیا کریں، ابھی بہت زیادہ لوگوں کو پتہ نہیں چلا مگر…کچھ دنوں میں…نہیں علیزہ! ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ تمہاری میری فیملی کے ساتھ اتنی وابستگی تو ہے کہ تم ہماری فیلنگز کو سمجھ سکو، اس شرمندگی اور بے عزتی کا اندازہ کر سکو جس کا سامنا میری فیملی کو کرنا پڑے گا اور صرف میری نہیں تمہاری فیملی کو بھی، میں حیران ہوں کہ اتنی چھوٹی سی بات پر تم نے اتنا بڑا فیصلہ کیسے کر لیا۔ کیا تم نے اس کے نتائج کے بارے میں سوچا تھا۔”
علیزہ ان کے احساسات اور ذہنی کیفیات کو سمجھ رہی تھی، وہ یقیناً بہت زیادہ پریشان تھیں۔ علیزہ کے پاس اس کی کسی بات کا کوئی جواب نہیں تھا۔ وہ خاموش بیٹھی رہی جنید کی امی بہت دیر تک اسے سمجھاتی رہی تھیں اور شاید اس کی یہ مسلسل خاموشی انہیں حوصلہ افزا لگی تھی، وہ بہت دیر کے بعد اگلے دن دوبارہ آنے کا کہہ کر رخصت ہو ئیں۔
جنید کی امی کو اگر اس کی خاموشی، اس کا ہتھیار ڈال دینا لگا تھا تو واقعی ایسا ہی تھا۔ جن باتوں پر اسے پہلے سوچنا چاہیے تھا، وہ ان کے بارے میں اب سوچ رہی تھی۔ اشتعال اور جلد بازی میں کیے ہوئے فیصلے کے مضمرات اب پہلی بار اس کے سامنے آرہے تھے۔ یہ یقیناً جنید کی امی کی گفتگو کا نتیجہ نہیں تھا، اگرچہ ان کی گفتگو نے اس کی کنفیوژن اور پچھتاوے میں اضافہ کیا تھا مگر وہ اس پچھتاوے کا موجب نہیں تھیں۔ اسے ہر ایک سے اسی ردعمل کی توقع تھی مگر اسے یہ اندازہ نہیں تھا کہ وہ خود اس قدر شرمندگی اور ندامت محسوس کرے گی، اگر دوسروں کو میری پروا نہیں ہے تو مجھے بھی دوسروں کی پروا نہیں ہونی چاہیے۔” اس نے وہ نوٹس شائع کروانے سے پہلے سوچا تھا لیکن اب اسے احساس ہو رہا تھا کہ دوسروں کی پروا کرنے کے لیے مجبور ہے۔ کم از کم وہ ہر شخص کو ناراض کرکے خوش رہنے والے لوگوں میں شامل ہونے کی صلاحیت یا اہلیت نہیں رکھتی تھی اور جنید کیا واقعی، اس کے لیے کوئی احساسات رکھتی تھی…؟ اس شخص کے لیے جسے وہ چند ہفتوں میں اپنے ہم سفر کے طور پر دیکھ رہی تھی جس کے ساتھ وہ پچھلے ایک سال سے منسوب تھی جس کے ساتھ وہ مستقبل کو پلان کرتی پھر رہی تھی۔
وہ بار بار خود کو یہ یقین دلانے کی کوشش کر رہی تھی کہ جنید کو اس سے محبت نہیں ہے۔ اس سے شادی صرف عمر کی خواہش کا احترام تھا لیکن اب اسے احساس ہو رہا تھا کہ دوسری طرف جو کچھ بھی تھا، کم از کم اس کے لیے جنید کوئی عام شخص نہیں رہا تھا، وہ اسے بار بار یاد آرہا تھا بہت آہستہ آہستہ اس کا غصہ اور اشتعال ختم ہو رہے تھے۔
اگلے دو تین دن جنید کے گھر والے آتے رہے، جنید بار بار فون کرتا رہا۔ نانو اسے سمجھاتی رہیں، ثمینہ اپنی مجبوریاں اسے بتاتی رہیں، سکندر نے کراچی سے لاہور آکر اس سارے معاملے پر اس سے بات کی۔
اس نے چوتھے دن ہتھیار ڈال دیئے۔ اس نے اعتراف کیا تھا وہ پریشر کے سامنے نہیں ٹک سکتی تھی۔ وہ مضبوط نہیں تھی، اگر وہ ایسی کوشش کر بھی لیتی تو بھی کیا وہ جنید اور اس کی فیملی کے بغیر رہ سکتی تھی۔ وہ نہیں رہ سکتی تھی…وہ انہیں بھول نہیں سکتی تھی۔ وہ انہیں کاٹ کر اپنی زندگی سے الگ نہیں کر سکتی تھی۔
نانو نے اس کے فیصلے پر سکون کا سانس لیا تھا، اس کے اس فیصلے سے سب سے زیادہ مسائل کا سامنا انہیں ہی کرنا پڑتا تھا، وہ خوش تھیں کہ وہ بچ گئیں۔
”میں نہیں جانتا۔ میں تمہارا شکریہ کیسے ادا کروں؟” جنید نے فون پر اس سے کہا تھا۔
”اس کی ضرورت نہیں ہے۔” علیزہ نے جواباً کہا۔
”تم میرے لیے بہت اہم ہو۔”
”میں جانتی ہوں۔” اس نے مختصراً کہا۔
”Last few days were a nightmare I’m happy I’m out of it”
(پچھلے چند دن ایک بھیانک خواب کی طرح تھے، میں خوش ہوں کہمیں اس سے نکل آیا)
وہ اس کے لہجہ سے اس کے سکون اور اطمینان کا اندازہ کر سکتی تھی۔
”جنید! آپ نے ایک حقیقت مجھے بتا دی، ایک مجھے آپ کو بتانی ہے۔ کیا ہم کل مل سکتے ہیں؟” علیزہ نے کہا۔
”کل…کل نہیں، کل میں مصروف ہوں گا۔” جنید کو یاد تھا کل عمر لاہور آرہا تھا اور اسے عمر کے ساتھ ہونا تھا۔
”پرسوں ملتے ہیں۔” ”ٹھیک ہے، پرسوں ملتے ہیں۔”
٭٭٭
عمر اور جنید ریسٹورنٹ میں بیٹھے ڈنر کررہے تھے۔
”پھر شادی کی نئی ڈیٹ کب طے ہو رہی ہے؟” عمر نے کانٹے سے مچھلی کے ایک ٹکڑے کو منہ میں ڈالتے ہوئے کہا۔
”پرسوں بابا جا رہے ہیں امی کے ساتھ۔” اس نے سلاد کا ایک ٹکڑا اٹھاتے ہوئے جواب دیا۔
”ہو سکتا ہے۔ پرانی والی ڈیٹ ہی دوبارہ رکھ دیں۔ ابھی بھی دس دن تو ہیں ایک نوٹس اور دینا پڑے گا۔” جنید نے کہا۔
”نہیں یار! ڈیٹ چینج کرو۔ اس طرح تو ہم لوگ بڑے مشکوک ہو جائیں گے کہ پتہ نہیں پہلے کیوں شادی کینسل کر رہے تھے اور اب کیوں دوبارہ اس ڈیٹ پر کررہے ہیں۔ لوگ یہی سمجھیں گے کہ لڑکی نے کوئی مسئلہ کھڑا کیا ہے۔” عمر ہلکے پھلکے انداز میں بولا۔
”تو مسئلہ کھڑا تو لڑکی نے ہی کیا تھا۔” جنید نے کہا۔
”نہیں جو بھی تھا۔ ہم لڑکی والے ہیں، ہماری پوزیشن خراب ہو گی۔” عمر نے اس کے جملے کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا۔
”اس سارے معاملے میں لڑکی والوں کا رول تو ہمارا ہی رہا ہے۔ تم لوگوں کو کیا پریشانی ہوئی ہے، سب کچھ تو ہمیں ہی کرنا پڑا ہے۔ منت سماجت صفائیاں وضاحتیں اور کیا کیا کچھ۔”
عمر نے مچھلی کھاتے کھاتے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا۔
”you deserved it”
تمہارے ساتھ یہی ہونا تھا کیونکہ کیا دھرا تو تمہارا ہی تھا۔” اس نے سنجیدگی سے جنید سے کہا۔
”میں نے تمہیں منع کیا تھا کہ اس کو میرے۔۔۔” جنید نے اس کی بات کاٹ دی۔
”تم چور ہو، ڈاکو ہو کیا ہو کہ میں تمہارے ساتھ اپنے تعلق کو اس سے چھپاتا۔”’
”میں پولیس والا ہوں اور وہ مجھے ان دونوں سے زیادہ برا سمجھتی ہے۔” عمر ہنستے ہوئے دوبارہ اپنی پلیٹ کی طرف متوجہ ہوا۔
”اگر کسی شخص سے محبت ہو تو اس سے وابستہ ہر چیزسے محبت ہو جاتی ہے۔”
عمر نے کھانا کھاتے ہوئے بے اختیار قہقہہ لگایا۔ جنید اس کے قہقہے پر کچھ جھینپ گیا۔
”اس سے زیادہ گھسا پٹا جملہ تم اس موقع پر نہیں بول سکتے تھے۔ یہ کہاں سے پڑھ لیا ہے تم نے جس سے محبت ہو، اس سے وابستہ ہر چیز سے محبت ہو جاتی ہے۔” وہ اب بھی اس کے فقرے پر محظوظ ہو رہا تھا۔
”میں نے پڑھا نہیں ، میں نے سنا ہے۔”
”تو آپ نے غلط سنا ہے جنید ابراہیم صاحب! ایسا تو غاروں کے زمانے کا انسان بھی نہیں کرتا ہوگا اور آپ بیٹھے ہیں ایک جدید دور میں۔”
”زمانہ بدلا ہے…تعلق، احساسات اور جذبات تو نہیں بدلے۔”
”یہ بھی تمہاری ذاتی رائے ہے، مشینی دور کے انسان کے جذبات بھی بدل چکے ہیں۔”
”جو بھی ہے، اس کو مجھ سے وابستہ لوگوں کی پروا کرنی چاہیے اور تم مجھ سے وابستہ ہو۔”
”اوہ بھئی کیوں کرنی چاہیے کیا تم ایسا کرتے ہو؟” جنید نے ایک بار پھر اس کی بات کاٹی۔
”میں ان تمام لوگوں سے محبت کرتا ہوں جن سے وہ کرتی ہے۔”
”اچھا؟ تو پھر تمہیں ان تمام لوگوں سے نفرت بھی ہونی چاہیے، جن سے وہ کرتی ہے۔”
جنید لاجواب ہو گیا۔ عمر ایک بار پھر اطمینان سے مچھلی کھانے میں مصروف تھا۔
”آسمان اپنی جگہ چھوڑ دے گا، زمین اپنی جگہ سے ہٹ جائے گی مگر مجھے یہ توقع نہیں رکھنی چاہیے کہ تم علیزہ کے خلاف کچھ کہو گے اور اس کے خلاف میری حمایت کرنا تو ویسے ہی ایک خواب ہے۔”
جنید نے اپنی پلیٹ میں پڑا ہوا چمچ اٹھاتے ہوئے کہا۔ عمر اس کی بات پر مسکرایا۔
”درست…تم یہ کوشش کر کیوں رہے ہو، تمہیں پتہ ہونا چاہیے کہ ہماری فیملی کا سلوگن ہے We are always right اور اپنی فیملی کے ایک ممبر کے خلاف اس طرح ریسٹورنٹ میں بیٹھ کر میں باتیں کروں، سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔”
جنید نے کچھ نہیں کہا۔ اس نے صرف ایک گہرا سانس لے کر اپنی پلیٹ میں کچھ ساس اور ڈالی، عمر مسکرانے لگا۔
”تمہاری یہ کزن۔۔۔” جنید نے کچھ کہنا چاہا عمر نے بھنویں اچکاتے ہوئے اس کی بات کاٹی۔
”اس بات سے تمہارا کیا مطلب ہے”میری کزن” .
