Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 17

امربیل از عمیرہاحمد
۔۔۔۔
قسط نمبر 17
۔۔۔۔۔
باب 19

”پھر کب تک آجاؤ گی؟” نانو نے شاید دسویں بار پوچھا۔
”نانو! پرسوں شام تک واپسی ہو جائے گی۔” علیزہ نے دسویں بار بھی اتنے ہی تحمل سے جواب دیا۔
”تم جب تک واپس نہیں آجاتیں، مجھے فکر رہے گی۔”
”فکر کرنے والی کون سی بات ہے نانو! میں کون سا اکیلی جارہی ہوں۔” علیزہ نے انہیں تسلی دی۔
”پھر بھی علیزہ! پتا نہیں وہاں کیسا ماحول ہو؟ کیسے لوگ ہوں؟”
”اچھے لوگ ہوں گے۔ پہلے بھی ہمارے ڈیپارٹمنٹ کے بہت سے گروپ کئی سال سے وہاں جارہے ہیں۔ ظاہر ہے اچھے لوگ ہوں گے تب ہی تو بار بار ہمارا ڈیپارٹمنٹ وہاں جاتا ہے۔”
علیزہ نے آخری بار اپنے بیگ کو چیک کرتے ہوئے بند کیا۔
”پتا نہیں تم وہاں کیسے رہو گی۔ گاؤں ہے۔”
”نانو! کچھ نہیں ہوتا۔ میں کون سا ساری عمر کیلئے وہاں جارہی ہوں۔ دو ہی دن کی تو بات ہے پھر آجاؤں گی نا۔” اس نے مسکراتے ہوئے کہا۔
”اپنے ساتھ پانی رکھ لینا تھا گاؤں کا پانی صاف نہیں ہوگا۔ صفائی بھی تو نہیں ہوتی وہاں۔”
”اب میں پانی تو ساتھ لے کر نہیں جاؤں گی، جیسا پانی سب پئیں گے میں بھی پی لوں گی۔” علیزہ نے صاف انکار کردیا۔
”تم بیمار ہوجاؤ گی۔”
”کچھ نہیں ہوگا نانو! اب میں اسٹڈی ٹور پر جارہی ہوں اور جن لوگوں کی زندگیوں کو آبزرو کرنے جارہی ہوں ان کے ساتھ پانی بھی نہ پیوں تو پھر تو میں بس جھوٹ ہی لکھوں گی۔ سوشیالوجی ہے میرا سبجیکٹ۔ نانو! آپ کچھ تو سوچیں۔”
”سوشیالوجی یہ تو نہیں کہتی کہ بندہ اپنی صحت کا خیال بھی نہ رکھے۔”
”نانو! وہ لوگ بھی وہی کچھ کھا پی کر زندہ ہیں جو آپ کے نزدیک ہائی جینک نہیں ہے اس لیے دو دن وہ سب کچھ کھا کر میں بھی فوت نہیں ہونگی۔”
”ان لوگوں کو عادت ہے’ وہ اسی ماحول میں پلے بڑھے ہیں، مگر تمہیں تو عادت نہیں ہے تم اور طرح کے ماحول میں پلی ہو۔” نانو اب بھی اپنی بات پر مصر تھیں۔
”اچھا۔ میں صبح جاتے ہوئے دیکھوں گی۔” علیزہ نے مزید بحث کرنا مناسب نہیں سمجھا اور انہیں ٹال دیا۔
”دیکھوں گی نہیں۔ میں نے ایک چھوٹے بیگ میں ٹن رکھوا دیئے ہیں۔ کوشش کرنا۔ کوئی فضول چیز وہاں سے مت کھاؤ۔ کل کا کھانا تو میں صبح تمہارے ساتھ دے دوں گی۔ شام تک کیلئے کافی ہوگا اور پرسوں تم ان ٹن کو استعمال کرنا۔”
نانو اسے ہدایات دے رہی تھیں۔ وہ چپ چاپ سنتی رہی۔ کھانا ساتھ لے جانے میں کوئی ہرج نہیں تھا۔ سب مل کر اس کھانے سے اچھی انجوائے منٹ حاصل کرسکتے ہیں۔ اس نے سوچا تھا۔
اس کی کلاس اسٹڈی ٹور پر دو دن کیلئے ڈسکہ کے قریب کسی گاؤں میں جارہی تھی۔ دو دن کے قیام کے دوران انہیں اس گاؤں اور اس سے ملحق علاقوں میں پچھلے کچھ سالوں میں این جی اوز کی طرف سے ہونے والی دیہی اصلاحات کا جائزہ لینا تھا اور پھر اس پر ایک رپورٹ بھی تیار کرنی تھی۔
علیزہ اس ٹور کی اطلاع پر سب سے زیادہ ایکسائیٹڈ تھی۔ اسے پہلی بار کسی گاؤں میں جانے کا موقع ملا تھا اور نہ صرف وہاں جانے کا موقع ملا تھا۔ بلکہ وہاں رہنے کا بھی موقع مل رہا تھا۔ اس سے پہلے ہونے والے تمام اسٹڈی ٹورز کسی نہ کسی طرح لاہور اور اس کے گرد و نواح تک ہی محدود رہے تھے۔ پہلی بار ایسا ہوا تھا کہ وہ لوگ اتنی دور جارہے تھے۔ گاؤں میں ان کے قیام کا بندوبست وہاں کے کچھ زمیندار گھرانوں میں کیا گیا تھا۔
نانو نے بہت آسانی سے اسے جانے کی اجازت نہیں دی تھی لیکن بہرحال دے دی تھی اور علیزہ کیلئے اتنا ہی کافی تھا اور اب صبح سویرے اسے یونیورسٹی سے اپنے سفر کا آغاز کرنا تھا اور رات کو وہ اپنی پیکنگ کر رہی تھی جب نانو نے اس کے سر پر کھڑے ہو کر ہدایات دینی شروع کردیں۔
۔۔۔۔۔۔
کھانے کی میز پر نانو نے یہ خبر عمر کو بھی دی۔ وہ سالن کے ڈونگے میں سے سالن نکالتے نکالتے رک گیا۔
”کیوں علیزہ! گاؤں میں کیا کرو گے تم لوگ؟”
”تھوڑی بہت ریسرچ کریں گے۔”
”جا کہاں رہے ہو؟”
علیزہ نے اسے گاؤں کا نام بتایا۔
”کس چیز کے بارے میں ریسرچ کرنی ہے۔” وہ بہت متجس نظر آرہا تھا۔
”وہاں پچھلے کچھ سالوں سے چند این جی اوز کافی کام کر رہی ہیں سوشل ڈویلپمنٹ اور دیہی اصلاحات کے حوالے سے ان ہی کے کام کا جائزہ لینا تھا۔ ان کا طریقہ کار اور اتنی کامیابی سے وہاں کیسے کام کر رہی ہیں۔”
اس نے بڑی سنجیدگی سے بتانا شروع کیا مگر اس کے جواب پر عمر کا ردعمل حیرت انگیز تھا۔ وہ بے اختیار قہقہہ لگا کر ہنسنے لگا اور پھر کافی دیر تک ہنستا ہی رہا۔ علیزہ کچھ شرمندہ ہوگئی۔ اسے اپنی ہتک کا احساس ہوا تھا۔
”کیا ہوا عمر؟ ہنس کیوں رہے ہو؟” نانو نے بھی کچھ حیران ہو کر عمر کو دیکھا جس کا چہرہ اب سرخ ہو رہا تھا۔ پھر اچانک اس نے خود پر قابو پاتے ہوئے پانی کا گلاس ہاتھ میں لے لیا۔ پانی کے چند گھونٹ لینے کے بعد اس نے علیزہ سے کہا۔
”تو آپ وہاں ان چیزوں پر ریسرچ کرنے جارہی ہیں؟”
علیزہ نے کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ چہرے پر خفگی کے تاثرات کے لئے کھانا کھانے میں مصروف رہی۔ عمر اس کی خفگی کو جیسے بھانپ گیا تھا۔
”یہ جو تم لوگوں کا ڈیپارٹمنٹ وہاں اسٹڈی ٹور کیلئے جارہا ہے، یہ خود سے جارہا ہے یا کسی کے invitation پر؟” علیزہ نے چونک کر اسے دیکھا۔
”میرا مطلب ہے، کوئی اسپانسر کر رہا ہے اس ٹور کو؟” اس نے وضاحت کی۔
”ہاں وہاں کام کرنے والی ایک این جی او۔” علیزہ نے مختصراً جواب دیا۔

اور عمر نے اس کا جواب سن کر بڑی روانی اور اطمینان کے ساتھ اس این جی او کا نام دہرا دیا۔ علیزہ حیران رہ گئی۔
”آپ کیسے جانتے ہیں کہ ہمیں اس این جی او نے اسپانسر کیا ہے۔”
”بس ہمارے بھی کچھ سورسز ہیں۔” وہ اب اطمینان سے چاول کھانے میں مصروف ہوگیا۔
”آپ ہنسے کیوں تھے؟” اس بار علیزہ نے اس سے کچھ کڑے تیوروں سے پوچھا۔
عمر ایک بار پھر مسکرایا۔ ”بس ایسے ہی… وہ تم کہہ رہی تھیں این جی او کی کامیابیاں اور طریقہ… وہ سوشل ڈویلپمنٹ… ہاں اور وہ دیہی اصلاحات تو بس مجھے ہنسی آگئی۔”
”اس میں ہنسنے والی تو کوئی بات نہیں ہے۔” علیزہ کچھ برہم ہوگئی۔
”اگر بندہ ایک ایسی چیز پر ریسرچ کرنے جارہا ہو جس کا کوئی وجود ہی نہیں تو پھر میرے جیسے بندے کو تو ہنسی آئے گی۔”
”کیا مطلب؟”
”علیزہ بی بی! وہاں جا کر اپنا وقت ضائع مت کریں ہم سے پوچھیں ساری انفارمیشن آپ کو گھر بیٹھے دے دیں گے۔ آپ بس حکم کریں۔”
اس کی مسکراہٹ بے حد معنی خیز تھی۔
”میری سمجھ میں نہیں آرہا کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں۔”وہ الجھ گئی۔ ”این جی او وہاں اس قسم کا کوئی کام نہیں کر رہی ہیں جس کے بارے میں آپ ابھی اعلان فرما رہی تھیں۔ یہ ساری این جی اوز ڈونر ایجنسیز کے روپے کے بل بوتے پر چلتی ہیں اور یہ ڈونر ایجنسیز یورپین ہوتی ہیں یا امریکن اور انہیں ان کی گورنمنٹ پیسے دیتی ہے۔ آپ کا کیا خیال ہے کہ امریکہ یا یورپ یہاں دیہی اصلاحات پر اپنا روپیہ ضائع کریں گے۔ علیزہ بی بی! جس ملک کی ستر فیصد آبادی دیہات میں رہتی ہو وہاں دیہی اصلاحات کا مطلب ہے کہ آپ نے اس ملک کی اکانومی کو صحیح ڈائریکشن دی اور ترقی کیلئے ایک سنگ بنیاد رکھ دیا۔ کون سا ملک اتنا احمق ہوگا کہ وہ اپنا روپیہ دوسرے ملک کی ترقی یا بقول آپ کے دیہی اصلاحات پر لگائے۔ وہاں این جی اوز ایسا کچھ بھی نہیں کر رہی۔ وہ کچھ اورکر رہی ہیں۔”

وہ اپنی پلیٹ میں کچھ اور چاول نکالتے ہوئے کہتا جارہا تھا۔
”یہ کیسے ہوسکتا ہے۔ پچھلے کئی سال سے ہمارے ہیڈ آف دا ڈیپارٹمنٹ وہاں ہمارے ڈیپارٹمنٹ کو بھجواتے رہے ہیں اور وہ سب لوگ وہی سب کچھ لکھتے رہے ہیں جو میں بتا رہی ہوں اور پھر انٹرنیشنل میڈیا بھی تو کافی عرصے سے وہاں این جی اوز کی کارکردگی پر لکھتا رہا ہے۔ میڈیا کو دھوکا کیسے دیا جاسکتاہے؟”
عمر نے کھانا کھاتے ہوئے اچانک سر اٹھا کر علیزہ کے سامنے اپنے ہاتھ کی دو انگلیاں اٹھا دیں۔
”یہ کتنی انگلیاں ہیں علیزہ؟” بڑی ملائمت سے اس سے پوچھا گیا۔ وہ اس سوال پر گڑ بڑا گئی اس کے چہرے سے اندازہ نہیں کر پائی کہ وہ سنجیدہ تھا یا مذاق کر رہا تھا۔
”دو” بے اختیار اس کے منہ سے نکلا۔
”گڈ… یہ دو انگلیاں جو آپ کو دو نظر آتی ہیں، یہ اس لیے دو ہیں کیونکہ میں نے آپ کو دو ہی انگلیاں دکھائی ہیں۔ تین یا چار نہیں… لیکن دو انگلیاں نظر آنے کا مطلب یہ تو نہیں ہے کہ میرے ہاتھ میں باقی تین انگلیاں نہیں ہیں مگر ان تین انگلیوں کو میں ضرورت کے وقت دکھاؤں گا۔”
۔۔۔۔۔
علیزہ الجھی ہوئی نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔
”آپ کے ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ ایک بہت بڑے الو ہیں… نہیں شاید یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ وہ ہم لوگوں کے نزدیک الو ہوسکتے ہیں، ہو سکتا ہے وہ ان معاملات میں خاصی سمجھداری کا مظاہرہ کر رہے ہوں۔” وہ پرسوچ انداز میں کہہ رہا تھا۔
”کیا مطلب؟”
”مطلب یہ ہے علیزہ بی بی کہ یورپ میں الو کو ایک خاصا عقلمند جانور سمجھا جاتا ہے۔ آپ کے ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ بھی ایسے ہی الو ہوسکتے ہیں۔”
علیزہ کچھ کہے بغیر اس کا چہرہ دیکھتی رہی وہ اب خاصی لاپروائی سے پانی پینے میں مصروف تھا۔ ” این جی او بہت عرصے سے اگر آپ کے ڈیپارٹمنٹ کو یہاں کے دورے کروا رہی ہے تو یقیناً ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ کو بھی کچھ نہ کچھ پیش کرتی رہی ہوگی۔ ڈالرز کی کمی تو نہیں ہوتی ان این جی اوز کے پاس۔”
پانی کا گلاس نیچے رکھ کر وہ ایک بار پھر بولنا شروع ہوچکا تھا۔
”مگر وہ کیوں دیں گے انہیں ڈالرز؟” اسے شاک لگا۔
”تاکہ آپ کا ڈیپارٹمنٹ وہاں کے اسٹڈی ٹورز کر کے رپورٹس بناتا رہے اور یہ این جی او ہمیشہ گورنمنٹ کی گڈ بکس میں رہے۔ نام بنتا رہے۔ ریپوٹیشن بہتر سے بہتر ہوتی جائے۔ آپ کا ڈیپارٹمنٹ کوئی واحد ڈیپارٹمنٹ نہیں ہوگا جسے وہاں کے وزٹ کروائے جاتے ہیں۔ دوسری بہت سی یونیورسٹیز کے ڈیپارٹمنٹس کو بھی اس طرح بلایا جاتا ہوگا۔ خود سوچو ملک کی دس بارہ اچھی یونیورسٹیز کے کچھ اچھے ڈیپارٹمنٹس کو این جی اوز بار بار انوائٹ کریں اس کے بعد وہ لوگ اپنی ریسرچ میں یا رپورٹس میں اس خاص این جی او کا ذکر اچھے لفظوں میں کریں تو کتنا بڑا ہتھیار ہے یہ اس این جی او کے ہاتھ میں جسے وہ کبھی بھی استعمال کرسکتی ہے۔” وہ اب قدرے سنجیدہ نظر آرہا تھا۔

”کیا این جی اوز اس علاقے میں کچھ نہیں کررہیں؟” علیزہ نے قدرے حیرانی سے پوچھا۔
”نہیں وہ کر رہی ہیں… اپنا کام وہ بڑی مستعدی سے کر رہی ہیں مگر وہ کام بہرحال ان کاموں میں شامل نہیں ہے جن کا ذکر تھوڑی دیر پہلے آپ کر رہی تھیں۔ یہ لوگ وہاں پچھلے کئی سالوں سے کچھ ڈیٹا اکٹھا کرنے میں مصروف تھے بلکہ کرچکے ہیں۔”
”کیسا ڈیٹا؟”
‘ یہ جو علاقہ ہے ڈسکہ، سیالکوٹ، نارووال اور اس کے اردگرد کے سارے دیہات یہ پچھلے بہت سے سالوں سے بین الاقوامی طور پر بہت مشہور ہو رہے ہیں اور ان پر خاصی نظر رکھی جارہی ہے۔ کیوں نظر رکھی جارہی ہے؟ اس کی بہت سے وجوہات ہیں۔ یہ علاقے مشہور اسپورٹس گڈز کی وجہ سے ہیں۔ سرجیکل انسسٹرومنٹس کا کام بھی ہوتا ہے مگر اصل وجہ شہرت اسپورٹس گڈز ہی ہیں اور اسپورٹس گڈز میں بھی فٹ بال۔ اس وقت یورپ امریکہ میں استعمال ہونے والا اسی فیصد فٹ بال اسی علاقے سے آتا ہے۔”
وہ اب بڑی سنجیدگی سے اسے تفصیلات بتا رہا تھا۔ چند لمحے پہلے والی مسکراہٹ اس کے چہرے سے غائب ہوچکی تھی۔
”لیکن یہ فٹ بال adidas کی اسٹیمپ کے ساتھ پوری دنیا میں سپلائی کردیا جاتا ہے۔ اس علاقے میں جو فٹ بال سینٹس میں تیار ہوتا ہے وہ انٹرنیشنل مارکیٹ میں ڈالرز میں بکتا ہے۔”
علیزہ کی دلچسپی ختم ہوتی جارہی تھی۔
”مگر اس سارے معاملے کا این جی اوز کے ساتھ کیا تعلق ہے؟”

عمر نے اپنی بات جاری رکھی۔ ”اب یہ سارا فٹ بال وہاں کی فیکٹریز میں تیار نہیں ہوتا۔ عجیب بات ہے لیکن نوے فیصد فٹ بال وہاں کے دیہی ایریا میں تیار ہوتا ہے… گاؤں میں… چھوٹے چھوٹے گھروں میں عورتیں اور خاص طور پر بچے تیار کرتے ہیں۔ وہاں سے یہ فٹ بال فیکٹریز میں جاتا ہے۔ ان فیکٹریز میں جنہوں نے joint venture کیا ہوا ہے ملٹی نیشنل کمپنیز کے ساتھ اور اب تک وہاں پر ان کمپنیز کا ہولڈ تھا جن کا تعلق امریکہ سے ہے مگر کچھ عرصے پہلے وہاں کچھ جاپانی کمپنیز نے بھی جوائنٹ وینچرز کرنا شروع کردیئے ہیں اور اب صورتحال یہ ہوچکی ہے کہ وہاں فٹ بال کے حوالے سے دو بڑے حریف ہیں۔ ایک وہ فرم جس کا adidas کے ساتھ وینچر ہے اور دوسری وہ جس کا جاپانی کمپنی کے ساتھ وینچر ہے۔ اس دوسری کمپنی نے adidas کے بزنس کو خاصا نقصان پہنچایا۔ ان لوگوں نے بہت ہی پروفیشنلی کام کرتے ہوئے ان دیہی علاقے کے کافی اندر تک رسائی حاصل کی اور وہ عورتیں اور بچے جو پہلے گھروں میں کام کرتے تھے۔ انہوں نے باقاعدہ انہیں ملازم رکھا اور اپنی فیکٹریز تک لانا شروع کردیا۔ پھر ورکرز کیلئے فیسیلیٹیز کی بھرمار کردی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہاں اچھے ورکرز نے اس نئی فرم کیلئے کام کرنا شروع کردیا۔ adidas کو ایک زبردست جھٹکا لگا۔ فٹ بال کے بزنس کے حوالے سے کیونکہ ان کیلئے کام کرنے والوں کی تعداد میں کمی ہوگئی اور دوسری طرف جس فٹ بال کی اسٹچنگ سات آٹھ روپے میں ہوتی تھی وہ یک دم گیارہ بارہ روپے میں پڑنے لگا کیونکہ ورکرز نے زیادہ روپیہ مانگنا شروع کردیا۔ دوسری طرف یہ بھی ہوا کہ امریکہ میں فٹ بال کا ورلڈ کپ ہونے والا ہے پھر اولمپکس… بھی آرہے ہیں۔ اس لیے وہاں اس وقت فٹ بال کی بہت ڈیمانڈ ہے اور بہت مہنگی بک رہی ہے تو فٹ بال کی مارکیٹ میں امریکی کمپنیز کا حصہ کچھ کم ہوگیا ہے۔ پہلے جو فٹ بال صرف امریکن لیبل کے ساتھ بک رہا تھا اب وہ جاپانی لیبل کے ساتھ بکنے لگا۔ تیسری طرف یورپ تھا جس کی مارکیٹ میں امریکی اور جاپانی لیبلز نے افراتفری مچائی ہوئی ہے۔ کم از کم فٹ بال کے حوالے سے۔

اب اس صورتحال پر قابو پانے کیلئے ہر ایک نے اپنے ہتھکنڈے استعمال کرنے شروع کیے اور پہلے ہتھیار کے طور پر یورپین ممالک نے این جی اوز کو آگے لانے کا فیصلہ کیا۔ جواباً امریکہ نے بھی این جی اوز کا مقابلہ این جی اوز سے ہی کرنے کا فیصلہ کیا۔ طے یہ کیا گیا کہ اس انڈسٹری کے حوالے سے چائلڈ لیبر کا ایشو اگلے کچھ سالوں میں اٹھایا جائے گا۔”
عمر کی معلومات اور باتوں پر اسے حیرانی ہو رہی تھی۔
”مگر کیوں؟”
”اس وقت دنیا میں سب سے اچھا فٹ بال اس کو سمجھا جاتا ہے جس کی اسٹچنگ بچے کرتے ہیں۔”
”بچے؟” علیزہ نے بے یقینی سے کہا۔ ”مگر بچے اتنے ماہر تو نہیں ہوتے۔”
”ہوتے ہیں۔ آپ وہاں جاکر دیکھیں گی تو ان کی مہارت آپ کو حیران کردے گی مگر بچوں کو ان کی مہارت کی وجہ سے برتری حاصل نہیں ہے۔ بچوں کی انگلیاں باریک اور نرم ہوتی ہیں ان کے ہاتھ کی اسٹچنگ میں ایک خاص قسم کی نفاست ہوتی ہے۔ خاص طور پر جب فٹ بال کو پلٹا جاتا ہے تو اس وقت باریک انگلیوں کی وجہ سے ڈوری بڑی صفائی سے کھینچی جاتی ہے یہ کچھ ویسی ہی بات ہے جس طرح کارپٹ بناتے ہوئے بھی انٹرنیشنل مارکیٹ میں اس کارپٹ کی قیمت بہت زیادہ ہوتی ہے جسے بچے بناتے ہیں کیونکہ جب کارپٹ میں گرہیں لگائی جاتی ہیں تو بچوں کی باریک اور نرم انگلیاں بڑوں کی نسبت یہ کام زیادہ صفائی اور نفاست سے کرتی ہیں۔

یہی مسئلہ اس علاقے کا ہے۔ غربت بہت ہے اس لیے لوگوں نے چھوٹے چھوٹے بچوں کو اس کام میں لگایا ہوا ہے۔ اب یورپ میں چائلڈ لیبر پر بین ہے اور وہاں گورنمنٹ سرکاری طور پر ایسی چیزیں اپنی مارکیٹ میں نہیں انے دیتی جس کے بارے میں تھوڑا سا بھی شک ہو کہ یہ بچوں نے بنائی ہے۔ امریکہ میں بھی ایسا ہی ہے این جی اوز جب یہاں آئیں تو انہوں نے دیہی اصلاحات اور سوشل ڈویلپمنٹ کا نام لے کر facts and figures اکٹھے کرنے شروع کردیئے کس علاقے میں کس عمر سے کس عمر تک کے بچے یہ کام کر رہے ہیں۔ فٹ بال کی انڈسٹری سے منسلک عورتوں کی تعداد کتنی ہے۔ بانڈڈ لیبر کی ریشو کیا ہے۔ اجرتوں کا ریٹ کیا ہے؟ ان لوگوں کو کس طرح سہولیات میسر ہیں یہ سارا ڈیٹا اکٹھا کیا گیا ہے اور آپ دیکھیے گا علیزہ بی بی! آئندہ چند سالوں میں چائلڈ لیبر اور بانڈڈ لیبر کے حوالے سے ان ہی علاقوں کے متعلق انٹرنیشنل میڈیا خاص شور مچائے گا۔ کچھ پابندیاں بھی لگائی جائیں گی۔”
”مجھے یقین نہیں آرہا۔”
”آجائے گا۔” عمر نے اطمینان سے کہا۔
”مگر یہ این جی اوز تو تعلیم کے حوالے سے بہت کام کر رہی ہیں۔”
”کام کم کر رہی ہیں، شور زیادہ کر رہی ہیں۔ وہ کس لیے ہے یہ بھی میں آپ کو بتا دوں گا۔ فی الحال تو آپ یہ جان لیں کہ ابھی اس علاقے میں موجود فیکٹریز یا فرمز iso 9000 کے سر ٹیفکیٹ کے بغیر ہیں اور ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن اور Gatt کے ساتھ ہونے والے معاہدوں کے مطابق اگلے کچھ سالوں میں ہر ملک کو اپنی مارکیٹ کھلی رکھنی پڑیں گی مگر اس مارکیٹ میں ان ہی فرمز یا کمپنیز کا مال جاسکے گا جس کے پاس یہ سرٹیفکیٹ ہے اور سر ٹیفکیٹ جاری کیا جاتا ہے جب چائلڈ لیبر بانڈڈ لیبر کے حوالے سے اس فرم یا کمپنی پر کوئی الزام نہ ہو مگر این جی اوز نے اتنے اچھے طریقے سے ڈیٹا اکٹھا کیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی کمپنی یا فرم کو اس حوالے سے یورپین یا امریکن مارکیٹ میں بلیک لسٹ کروا سکتے ہیں۔ ان این جی اوز کے پاس مکمل ریکارڈ ہے کہ کون سی فرم کون سے علاقے کے کون سے گھروں سے کتنی تعداد میں کیا چیز تیار کرواتے ہیں۔ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ وہ مال تیار کرنے میں بچوں یا عورتوں کا کس حد تک حصہ ہے۔ اب فرض کرلیں کہ اس علاقے کی کسی فرم نے کسی امریکن ملٹی نیشنل کمپنی کے ساتھ جوائنٹ وینچر کیا۔

اب ان کی شرط یہ ہوتی ہے کہ فٹ بال میں ان کا لیبل لگے گا اس لوکل فرم کا نہیں اور ساری دنیا میں وہ فٹ بال امریکی فٹ بال کے طور پر سپلائی کی جائے گی۔ اب اگر یہ لوکل فرم یہ طے کرلیتی ہے کہ وہ خودمختار ہوجائے اور کانٹریکٹ ختم کر کے اپنے لیبل کے ساتھ دنیا میں فٹ بال سپلائی کرے تو این جی اوز کی مدد سے حاصل کیے جانے والے ریکارڈ کو اس فرم کے منہ پر مارا جائے گا اور کہا جائے گا کہ آپ تو چائلڈ لیبر کرواتے ہیں۔ بانڈڈ لیبر کے بھی ذمہ دار ہیں اس لیے آپ کو آئی ایس او سرٹیفکیٹ جاری نہیں کیا جائے گا جو اگلے چند سال میں امپورٹ ایکسپورٹ سے تعلق رکھنے والے ہر ادارے کیلئے لازمی ہوجائے گا۔ اب علیزہ! آپ بتائیے وہ لوکل فرم بے چاری کیا کرے گی۔ ظاہر ہے وہ کبھی بھی کسی ملٹی نیشنل کمپنی کے ساتھ معاہدہ ختم نہیں کرے گی اور یہ سلسلہ چلتا ہی رہے گا۔”
علیزہ کچھ شاکڈ سی اس کی باتیں سن رہی تھی۔
”مجھے ابھی بھی یقین نہیں آرہا اگر وہاں اتنی این جی اوز اس طرح کا کام کر رہی ہیں تو ابھی تک میڈیا نے ان چیزوں کو ہائی لائٹ کیوں نہیں کیا۔جرنلسٹ تو فوراً ہر چیز، خاص طور پر چھپی ہوئی چیزوں کو ڈھونڈ لیتے ہیں اور پھر اگر این جی اوز اس طرح کا کام کررہی ہیں تو ان کی فیلڈ فورس بھی تو بہت زیادہ ہوتی ہے۔ ان میں سے کسی کو یہ سب کچھ نظر کیوں نہیں آتا۔ یا وہ لوگ یہ باتیں میڈیا تک کیوں نہیں پہنچاتے۔”
علیزہ نے بے یقینی سے پوچھا تھا۔

”اس کی بھی بہت سی وجوہات ہیں۔” عمر اب بھی سنجیدہ تھا۔ ”اس علاقے کی خوش قسمتی کہہ لو یا بدقسمتی مگر یہ پاکستان کے ان علاقوں میں سے ایک ہے جہاں اقلیتوں کی ایک بڑی تعداداباد ہے اور اقلیتوں کا بھی وہ طبقہ جس کو آپ لوئر مڈل کلاس کہتے ہیں جن کے پاس صرف یہ آپشن ہوتا ہے کہ وہ تعلیم حاصل نہ کر کے میونسپلٹی میں سویپر کا کام کرلیں یا تعلیم حاصل کرنے کے بعد ہاسپٹلز میں نرسوں یا وارڈ بوائز کے ”اعلیٰ عہدے” حاصل کرلیں جہاں پر اقلیتوں کیلئے مواقع کو اتنا محدود کردیا جائے کہ انہیں بھوک یا بددیانتی میں سے کسی ایک کو چننا پڑے تو وہ بددیانتی کو چن لیں گے۔ اس علاقے میں بھی یہی ہو رہا ہے۔ فیلڈ میں کام کرنے والوں کا انتخاب کرتے ہوئے این جی اوز اقلیتی طبقوں کو ترجیح دیتی ہے ان کے نزدیک وہ قدرے زیادہ قابل اعتماد ہوتے ہیں مگر اس کا یہ مطلب قطعاً نہیں ہے کہ صرف وہ لوگ ہی این جی اوز کے ساتھ کام کر رہے ہیں ان کے ساتھ ہر طرح کے لوگ شامل ہیں۔ روپے میں بڑی طاقت ہوتی ہے، علیزہ! اور خاص طور پر تب جب بندہ بے روزگار ہو۔ یہ لوگ کام کا بہت اچھا معاوضہ دیتے ہیں پک اینڈ ڈراپ کی سہولت دیتے ہیں، کھانا بھی مہیا کرتے ہیں اس کے علاوہ بھی اور کچھ سہولیات ہوتی ہیں اور جب ایک بے کار بندے کو بیٹھے بیٹھائے اتنا سب کچھ مل جائے تو وہ اپنی آنکھوں کے ساتھ کان اور زبان بھی بند کرلیتا ہے اگر کوئی ذرا زیادہ حب الوطنی کا ثبوت دینے کی کوشش کرے تو اس کی زبان بند کرنے کیلئے بھی کئی طریقے ہوتے ہیں۔
اور ویسے بھی یہ این جی اوز ان علاقوں سے صرف فیلڈ فورس کیلئے لوگ لیتی ہیں۔ آفیسرز یا ایڈمنسٹریشن کے سارے لوگ لاہور، کراچی یا دوسرے بڑے شہروں سے آتے ہیں اور وہ وہی ہوتے ہیں جو کئی کئی سالوں سے ان این جی اوز کے ساتھ منسلک ہیں۔ ان کا کچا چٹھا چھپائے رکھنے کی قیمت وہ ڈالرز اور پاؤنڈز میں وصول کرتے ہیں۔”
”مگر میڈیا… میڈیا کیوں خاموش ہے۔ یہ ساری باتیں ان لوگوں سے کیوں پوشیدہ ہیں؟” وہ اب کچھ فکرمند نظر آنے لگی تھی۔
”کس میڈیا کی بات کر رہی ہیں آپ۔ نیوز پیپر کی یا ٹی وی کی؟”
”دونوں کی۔”

”ٹی وی تو کبھی این جی اوز کے بارے میں سچ دکھا نہیں سکتا کیونکہ یہ گورنمنٹ کی پالیسی نہیں ہے۔ میں نے تمہیں بتایا ہے نا کہ این جی اوز کو جن ایجنسیز کے ذریعے روپیہ ملتا ہے وہ غیرملکی حکومتوں کی آلہ کار ہوتی ہیں اور یہ لوگ ہماری حکومت پر پریشر ڈالتے رہتے ہیں۔ حکومت کو این جی او پر تنقید ٹی وی پر دکھانے کی کیا ضرورت ہے۔ اس کے پاس اتنی طاقت ہے کہ وہ اس این جی اوز کو بین کردے مگر صرف طاقت ہونے سے تو کچھ نہیں ہوتا۔ گورنمنٹ کس کس سے لڑے گی۔ وہ کیا کہتے ہیں Beggars Can’t be choosers گداگر کے پاس انتخاب کی گنجائش نہیں ہوتی تو ہمارا حال بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ اپنے اپنے مفاد کیلئے ہم ہر چیز کا سودا کرلیتے ہیں اس لیے گورنمنٹ بھی یہی کرتی ہے جہاں تک نیوز پیپرز کا تعلق ہے تو وہ کہاں کے پارسا ہیں۔ تم کیا سوچتی ہو کہ وہ واقعی پیپرز سے۔ وہ تو اپنے آپ کو اس ملک کا حصہ ہی نہیں سمجھتے۔ ان کا خیال ہے کہ ایسی این جی اوز سے اس ملک میں وہ انقلاب آجائے گا جس کی انہیں خواہش ہے۔” اس کے لہجے میں علیزہ کو کچھ تلخی محسوس ہوئی۔
”تو کیا وہ تعلیم کے حوالے سے وہاں سرے سے کوئی کام نہیں کر رہے؟” علیزہ نے پوچھا۔
”کر رہے ہیں… کر کیوں نہیں رہے! دیہی علاقوں میں انہوں نے کچھ اسکولز کھولے ہیں اور شور مچا دیا ہے کہ وہ اس علاقے میں انقلاب لے آئے ہیں۔ انہوں نے قسمت بدل دی ہے علاقے کی۔ حالانکہ ایسی کوئی خاص چیز نہیں کی ہے انہوں نے وہاں ابھی بھی اتنی ہی غربت ہے جتنی پہلے تھی۔ کسی حد تک بچوں کی اسکول جانے والی تعداد میں اضافہ ہوگیا ہے اور کچھ نہیں بدلا۔”
وہ ایک بار پھر کھانا کھانے لگا۔
”مگر آپ یہ سب کچھ کیسے اتنے وثوق سے کہہ رہے ہیں؟ ہوسکتا ہے آپ کو کوئی غلط فہمی ہوگئی ہو؟” علیزہ نے قدرے محتاط انداز میں کہا۔
”علیزہ بی بی! آپ نے اپنی ساری زندگی گھر کی چاردیواروں کے اندر گزاری ہے۔ protected life آپ کو کیا پتا کہ اس گھر کے باہر کیا کیا ہوتا ہے اور کیسے کیسے ہو رہا ہے۔ مخصوص کلاس میں رہتی ہو۔ مخصوص سوشل سرکل ہے اور میرا تو خیال ہے کہ اب تک دوست بھی بدلے نہیں ہونگے۔ شہلا سے ہی دوستی ہے نا اب تک؟”
علیزہ کو کچھ ہتک کا احساس ہوا۔ وہ کیا کہنا چاہ رہا تھا۔
”تم سمجھو، تم جنت میں زندگی گزار رہی ہو ابھی تک، اور جنت میں رہ کر دوزخ ایک الیوژن ہی لگتا ہے جیسے تمہیں لگ رہا ہے۔”
”آپ غلط کہہ رہے ہیں۔ ایسا بھی نہیں ہے کہ مجھے باہر کی دنیا کی کچھ خبر ہی نہیں ہے۔ ہوسکتا ہے مجھے چیزوں کے بارے میں اتنی Authentic Information (مصدقہ معلومات) نہیں ہوں جتنی آپ کو ہے مگر میں بے خبر نہیں ہوں۔”
اس نے جیسے کچھ برامان کر کہا مگر عمر نے اس کی بات پر کوئی دھیان نہیں دیا۔

”تم جیسی لڑکیاں جن کی زندگی ایک گھر کے اندر گھومتی ہے۔ ان تک پہنچنے والی انفارمیشن اتنے ذرائع سے گزرتی ہے کہ اس میں سے سچائی کا عنصر، تلخ سچائی سمجھتی ہو نا، وہ غائب ہوجاتا ہے۔ اتنا شفاف ورژن آتا ہے تم لوگوں کے پاس چیزوں کا کہ تم لوگوں کو کوئی پریشانی ہوتی ہے نہ خوف آتا ہے۔ اسی لیے تو تم اطمینان سے زندگی گزارتے رہتے ہو۔”
وہ سلاد کھاتے ہوئے سنجیدگی سے کہہ رہا تھا۔
”یہ اس لیے ہوتا ہے کیونکہ جب ہم لوگ کوئی بات جاننا چاہتے ہیں تو ہمیں بتائی نہیں جاتی جیسے اس وقت!” عمر نے چونک کر اسے دیکھا اور پھر یک دم کھلکھلا کر ہنس پڑا۔
”او ہو… ایسا کیا پوچھ لیا آپ نے جو ہم نہیں بتارہے۔ ہاں یاد آیا، تم پوچھ رہی تھیں کہ میں اتنے وثوق سے کیسے یہ سب کہہ سکتا ہوں؟ ہے نا!”
”ہاں!”
”اصل میں جب میں امریکہ میں پوسٹڈ تھا تو ایک ٹریڈ قونصلر تھے ہمارے۔ اسی علاقے سے تعلق تھا ان کا۔ میں تو نہیں مگر وہ خاصی محب وطن قسم کی چیز تھے۔ کچھ دوستی ہوگئی میری ان کے ساتھ۔”
وہ یوں بات کر رہا تھا جیسے اپنی کسی غلطی کا اعتراف کر رہا تھا۔
”ہمیں کچھ رپورٹس ملیں کچھ این جی اوز کے حوالے سے۔ ہم نے سوچا کہ چلو کچھ ریسرچ کریں کہ آخر یہ معاملہ کیا ہے۔ دو ماہ ہم لوگوں نے اس علاقے میں ہی نہیں بلکہ یورپ اور امریکہ میں بھی اچھی خاصی چھان بین کی۔ حاصل ہونے والے حقائق اور اعداد و شمار خاصے ڈرا دینے والے تھے مگر غلط نہیں تھے۔”
”یہ کیسے ہوسکتا ہے؟” وہ گنگ تھی۔

”کیسے ہو سکتا ہے یہ تو مجھے نہیں پتا مگر یہی ہو رہا ہے۔ تمہارا ڈیپارٹمنٹ اتنے سالوں سے اس علاقے میں آجارہا ہے مگر میرے جتنی انفارمیشن نہیں ہوگی۔ اس علاقے کے بارے میں ہر چیز میری فنگر ٹپس پر ہے۔ کچھ پوچھ لو۔ پاپولیشن کے بارے میں، کسی لوکیشن کے بارے میں، کسی فیکٹری کے بارے میں، کسی این جی او کے بارے میں یا اور کسی چیز کے بارے میں۔ پھر 95 کا اکنامک سروے آف پاکستان کھولنا اور تصدیق کرلینا۔” عمر کے لہجے میں اسے عجیب سا فخر محسوس ہوا۔
”پھر آپ نے کیا کیا؟” اس نے کچھ بے تاب ہو کر پوچھا۔
”کیا کیا؟ مطلب؟” عمر پانی پیتے پیتے رک گیا۔
”آپ نے جب یہ ریسرچ کی تو آپ نے اس سب سے گورنمنٹ کو مطلع کیا؟”
عمر کے چہرے پر ایک مسکراہٹ نمودار ہوئی۔”ہاں گورنمنٹ کو مطلع کیا۔ باقاعدہ رپورٹ سب مٹ کی۔”
اس نے پانی پی کر کہا۔
”پھر گورنمنٹ نے ایکشن لیا؟”
”بالکل لیا۔ بلکہ فوری طور پر لیا۔”
”گورنمنٹ نے کیا کیا؟” اس کا تجسس اپنی انتہا کو پہنچ چکا تھا۔
”وجاہت حسین کو امریکہ سے زمبابوے ٹرانسفر کردیا گیا اور مجھے پاپا نے بلوا کر کہا کہ میں فارن سروس میں ہوں انٹیلی جنس میں نہیں اس لیے اپنے کام سے کام رکھوں اور فضول معاملات میں اپنی ٹانگ نہ اڑاؤں۔”
وہ شاکڈ رہ گئی۔ عمر کے چہرے پر کمال کا اطمینان تھا۔
”اور رپورٹ… رپورٹ کا کیا ہوا؟” اس نے ایک بار پھر پوچھا۔
”رپورٹ کی ایک ایک کاپی سوینئر کے طور پر میں نے اور وجاہت نے رکھ لی جو کاپی گورنمنٹ کو بھجوائی تھی، وہ انہوں نے تبرک کے طور پر امریکہ کے فارن آفس کو بھجوا دی۔” وہ مزے لے لے کر بتا رہا تھا۔
”کیا؟” وہ تقریباً چلا اٹھی۔

”ہاں! ٹھیک بتا رہا ہوں۔ رپورٹ سب مٹ کروانے کے ایک ہفتے کے اندر یہ سب کچھ ہوا اور پھر تقریباً ایک ہفتے کے بعد ایک سفارتی ڈنر میں امریکہ کے فارن آفس سے تعلق رکھنے والے، جان پہچان والے ایک آفیسر نے بڑی بے تکلفی سے میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر مجھے اتنے اچھے ”ریسرچ ورک” کیلئے مبارکباد دی ساتھ یہ بھی کہا کہ آئندہ بھی اگر ایسا کوئی پراجیکٹ کرنے کا ارادہ ہوتو وہ اسے اسپانسر کردیں گے۔ مجھے اخراجات کا کوئی پرابلم نہیں ہوگا۔ ساتھ یہ بھی فرمایا کہ اس بار یہ رپورٹ حاصل کرنے میں انہیں دو دن لگ گئے کیونکہ پاکستان سے منگوانا پڑی۔ آئندہ میں کرٹسی کے طور پر ایک کاپی انہیں پہلے ہی بھجوا دوں تو انہیں بڑی خوشی ہوگی۔”
علیزہ کی سمجھ میں نہیں آیا وہ ہنسے یا روئے۔ وہ ہونقوں کی طرح عمر کا چہرہ دیکھتی رہی۔ عمر نے مسکرا کر کہا۔
”بالکل یہی ایکسپریشن میرے بھی تھے اس وقت۔ بعد میں، میں نارمل ہوگیا۔ بالکل ویسے ہی جیسے تم ہوجاؤ گی۔”
علیزہ نے ایک گہری سانس لی۔ ”آپ نے کوئی احتجاج نہیں کیا؟”
”میں نے تو نہیں کیا۔ مجھے اپنی غلطی کا احساس ہوچکا تھا۔ ہاں وجاہت نے احتجاج کیا۔ اس نے زمبابوے جانے سے انکار کردیا تو اسے کہا گیا کہ پھر وہ ریزائن کردیں۔ تو اس نے ریزائن کردیا۔ دراصل وہ سیلف میڈ بندہ تھا۔ پتا نہیں بچتے بچاتے کیسے اتنے اونچے عہدے پر پہنچ گیا۔ اس کی کوئی بیک نہیں تھی۔ بیک ہوتی تو شاید اس کے ساتھ یہ سب کچھ نہ ہوتا۔”
علیزہ کو بے اختیار وجاہت حسین پر ترس آیا۔
”پھر اب… اب وہ کیا کر رہے ہیں؟”
”عیش کر رہا ہے۔”
”کیا مطلب؟”
”ریزائن کرنے کے تیسرے دن اس کو ورلڈ بینک سے جاب کی آفر ہوگئی۔ اس نے وہاں کام شروع کردیا۔ اس وقت وہ تقریباً ایک لاکھ ڈالر کی تنخواہ پر کام کر رہا ہے۔ اصل میں ہوا یہ کہ وہ رپورٹ ان لوگوں نے بھی دیکھی۔ وہ بڑے متاثر ہوئے اس بندے سے۔ جان گئے کہ اس میں بڑی صلاحیت ہے بس پھر وہ اس کے پیچھے پڑ گئے۔ اب وہ وہیں ہے نیویارک میں۔”
علیزہ کے پاس جیسے لفظ نہیں رہے تھے۔ وہ اس کے سامنے کون سا پینڈورا باکس کھول رکھاتھا۔
”مگر وجاہت حسین نے کیوں جوائن کیا ورلڈ بینک… سب کچھ جانتے ہوئے بھی؟”
”تو کیا کرتا۔ بھوکا مرتا۔ایک تو اسے حب الوطنی کی بیماری اوپر سے ایمانداری کی بیماری۔ اس سے زیادہ Fatal combination کوئی نہیں ہوسکتا کسی پاکستانی کیلئے۔ پاکستان میں آجاتا تو دھکے کھاتا ان خوبیوں کے ساتھ اور دھکے کسی کو بھی اچھے نہیں لگتے۔ پھر اس کے بیوی بچے تھے۔ ذمہ داریاں تھیں اس پر۔ اس نے جو کیا بالکل ٹھیک کیا۔ میری طرح اس کو بھی اپنی غلطی کا احساس ہوگیا مگر کچھ دیر سے۔”
”عمر! یہ کوئی غلط کام نہیں ہے جو آپ نے کیا یا جو انہوں نے کیا۔”

”کیوں غلط کام نہیں ہے۔ ہماری آفیشل ڈیوٹیز میں تو یہ کام نہیں آتا تھا۔ انٹیریئر منسٹری کا کام تھا یہ ظاہر ہے۔ ہم نے ان کے کام میں ٹانگ اڑائی۔”
”مگر عمر! آپ یہ نہ کرتے تو شاید سب کچھ چھپا رہتا۔” اس نے جیسے اسے تسلی دینے کی کوشش کی۔
”نہیں علیزہ بی بی! ہماری غلطی یہی تھی کہ ہم جانے بوجھے حقائق کو دریافت کرنے چل پڑے تھے حالانکہ وہ باتیں سب کو پتا تھیں۔” اس نے علیزہ کو ایک بار پھر چونکایا۔
”کیا مطلب؟”
”ہاں، انٹیریئر منسٹری اچھی طرح واقف تھی یہاں تک کہ ایجنسیز بھی۔ ہماری طرح کے کئی الّو ایسی ہی رپورٹس تیار کر کے پیش کرچکے تھے۔ اس علاقے میں جاؤ گی تو یہ دیکھ کر حیران ہو جاؤ گی کہ ان این جی اوز کے دفاتر کینٹ کے علاقے میں ہیں اور ظاہر ہے یہ تو ناممکن ہے کہ آرمی کے علاقے میں ہونے والی ایسی سرگرمیاں آرمی کی ایجنسیز سے خفیہ ہوں مگر وہ بھی صرف رپورٹس دے دیتے ہیں۔ کچھ کر نہیں سکتے اس لیے ہم نے کوئی ایسا نیا اور انوکھا کام نہیں کیا۔”
وہ اب سویٹ ڈش پر ہاتھ صاف کرتے ہوئے کہہ رہا تھا۔ علیزہ کو عمر پر رشک آیا۔ اس کی باخبری نے اسے ہمیشہ کی طرح متاثر کیا۔

”کم از کم میرے پاس کبھی بھی عمر جتنی معلومات نہیں ہوسکتیں۔” اس نے دل ہی دل میں اعتراف کیا۔
”اب جارہی ہو وہاں تو آنکھیں کھلی رکھنا۔ ہر چیز کو اس کی فیس ویلیو پر مت لینا۔ تھوڑا سا بھی ریشنل ہوجاؤ گی تو حقیقت جاننے لگو گی۔ پھر زیادہ متاثر نہیں ہوسکو گی۔” وہ اب اسے ہدایات دے رہا تھا۔
”لیکن میں اب وہاں جانا ہی نہیں چاہتی۔” اس نے اعلان کیا۔ عمر نے حیرانی سے اسے دیکھا۔
”کیا مطلب ہے تمہارا؟”
”آپ کہہ رہے ہیں کہ وہاں تو ایسی کسی چیز کا وجود ہی نہیں ہے، جس کا جائزہ لینے میں جارہی ہوں تو پھر ٹھیک ہے وہاں جاکر میں وقت کیوں ضائع کروں۔” اس نے جیسے فوراً طے کرلیا تھا۔
”یار! عجیب احمق ہو تم۔۔۔” عمر نے کچھ جھلا کر کہا۔
”پہلے جو آپ کے ڈیپارٹمنٹ نے کہا، آپ نے وہ مان لیا۔ پھر آپ نے میری بات سنی تو اس پر یقین لے آئیں۔ ہوسکتا ہے میں جھوٹ بول رہا ہوں۔ تم آخر اپنا ذہن استعمال کیوں نہیں کرتیں۔ سچائی کو خود دریافت کرو، اس کے ہر aspect کو investigate کرو مگر مگر یہ کام خود کرو اپنی sense of judgement استعمال کرو۔”
”نہیں تو ٹھیک ہے۔ وہ نہیں جانا چاہ رہی تو نہ جائے، آخر تم خود ہی تو کہہ رہے تھے کہ یہ سب فراڈ ہے۔” نانو نے پہلی بار گفتگو میں مداخلت کی۔

”اچھا یہ سب فراڈ ہے۔ چلیں اس کے بارے میں تو میں نے اسے بتادیا۔ زندگی میں آگے چل کر یہ کیسے جانے گی کہ کون سی چیز کیا ہے اور کیا نہیں۔ ایک بار اپنے دماغ اور اپنی آنکھوں سے کچھ دیکھے گی، کچھ فیصلہ کرے گی تو آگے بھی کچھ کرسکے گی۔ تم ضرور جاؤ گی علیزہ۔ بلکہ واپس آکر مجھے بتانا کہ تم نے وہاں پر کیا کیا سیکھا ہے؟”
عمر کا لہجہ یک دم نرم ہوگیا۔ وہ سوچ میں پڑگئی۔
”جو کچھ میں نے تمہیں بتایا ہے وہ اس لیے نہیں بتایا کہ تم وہاں جانا ہی چھوڑ دو۔ میری کسی بات کو اپنی ذہن پر سوار کرنے کی کوشش مت کرو۔ صرف یہی سمجھو کہ تمہارے پاس ایک اور ورژن آیا ہے اب تمہیں یہ طے کرنا ہے کہ دونوں میں سے کس version میں سچائی ہے۔”
علیزہ نے عمر کے چہرے کو غور سے دیکھا۔
”آپ کو افسوس نہیں ہوا کہ آپ کی محنت ضائع ہوئی؟”
”نہیں۔ کوئی افسوس نہیں ہوا۔ بیورو کریسی کی ایسی محنتیں اکثر ضائع ہوتی ہیں۔ یہ تو ہماری بے وقوفی تھی کہ ہم نے ایسے کام میں اپنا وقت ضائع کیا۔”
”ایسے تو نہیں سوچنا چاہیے۔ اگر سب لوگ اس طرح سوچیں گے تو۔۔۔”
اس نے کچھ کہنے کی کوشش کی مگر عمر نے اس کی بات کاٹ دی۔
”تو ملک کا کیا ہوگا؟ یہی کہنا چاہ رہی ہونا؟” اس نے خاصی بے رحمی سے جملہ مکمل کیا۔
”ملک کا وہی ہوگا جو اب تک ہو رہا ہے۔ میرے یا وجاہت حسین جیسے لوگوں سے کوئی انقلاب نہیں آسکتا اور ہم پر کہاں فرض ہے کہ ہم صرف ملک اور قوم کیلئے ایسی حماقتیں کر کے اپنا کیریئر داؤ پر لگاتے رہیں۔ سول سروس ہم نے سوشل ورک کرنے کیلئے جوائن نہیں کی۔ اپنے اسٹیٹس کو برقرار رکھنے کیلئے اس میں آئے ہیں۔”
علیزہ چپ چاپ اسے دیکھتی رہی۔ وہ یک دم ہی بہت بدلا ہوا نظر آنے لگا تھا اس کے سامنے چند لمحوں کے اندر اندر اس کا نیا روپ آگیا تھا۔ insensitive اور indifferent… کچھ دیر پہلے والا انداز یکسر تبدیل ہوچکا تھا۔
”اب تم کیوں پریشان ہوگئی ہو؟” عمر نے اچانک اس سے پوچھا۔ وہ کچھ گڑبڑا گئی۔
”نہیں، میں پریشان نہیں ہوں۔ میں صرف سوچ رہی ہوں۔”

”مثلاً کیا سوچ رہی ہو؟” اس نے نیپکن سے منہ صاف کرتے ہوئے پوچھا۔
”یہی کہ۔۔۔” اس نے کچھ محتاط نظروں سے عمر کو دیکھا۔
”کہ ہم لوگ تو گھر کے اندر زندگی گزارتے ہیں ہمارے سامنے چیزوں کا شفاف ورژن آتا ہے اس لیے ہم ہر بات سے بے خبر رہتے ہیں۔ ہمیں کوئی پریشانی ہوتی ہے نہ ہی کوئی خوف محسوس ہوتا ہے اور اسی لیے ہم کچھ کرنے کے قابل نہیں ہوتے۔”
عمر اب منہ صاف کرتے کرتے ہاتھ روک کر گہری نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا جو بڑی روانی سے کہہ رہی تھی۔
”مگر وہ لوگ جن کی زندگیاں گھر سے باہر گزرتی ہیں۔ جن کے بقول وہ چیزوں کے اصل ورژن سے واقف ہوتے ہیں، جنہیں سب کچھ پتا ہوتا ہے۔ جو خود کو باخبر کہتے ہیں وہ ان چیزوں کے سدباب کیلئے کیا کرتے ہیں۔ صرف باتیں؟”
وہ عمر کے تاثرات دیکھے بغیر ٹیبل سے اٹھ گئی۔ عمر نے حیرانی اور خاموشی کے ساتھ اسے باہر جاتے دیکھا چند لمحے وہ اس دروازے کو دیکھتا رہا جہاں وہ غائب ہوئی تھی پھر اس کے چہرے پر ایک عجیب سی مسکراہٹ نمودار ہوئی۔
”صرف باتیں؟… Good” اس نے نانو کی طرف دیکھتے ہوئے کہا اس کے لہجے میں ستائش تھی۔ ”علیزہ! مجھ پر طنز کر کے گئی ہے گرینی اور مجھے خوشی ہوئی ہے۔” وہ مسکراتے ہوئے ٹیبل سے اٹھ گیا۔


جاری ہے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔