Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 33

امربیل از عمیرہاحمد
۔۔۔۔
قسط نمبر 33
۔۔۔۔۔
باب 34
”ہیلو! میں عمر بول رہا ہوں۔”
”ہیلو عمر کہاں تھے تم؟ صبح سے کتنی بار کال کر چکا ہوں… مگر تم نے موبائل آف کیا ہوا تھا۔ ہو کہاں تم؟” ایاز حیدر نے دوسری طرف سے کہا۔
”یہیں ہوں میں ، لاہور میں۔ گرینی نے بتایا کہ آپ مجھ سے بات کرنا چاہ رہے تھے کس سلسلے میں بات کرنا چاہتے ہیں مجھ سے؟”
”تم نے آج کے نیوز پیپرز دیکھے ہیں؟”
”دیکھ چکا ہوں۔” عمر نے اسی بے تاثر انداز میں کہا۔
”اپنے بارے میں خبر دیکھی ہے؟”
”ہاں۔”
”میں اسی سلسلے میں تم سے بات کرنا چاہ رہا تھا۔”
”کیا بات کرنا چاہتے ہیں آپ مجھ سے ، ہمدردی کرنا چاہتے ہیں۔”
”میں تمہیں یہ بتانا چاہ رہا تھا کہ کچھ دنوں تک تمہیں Suspend(معطل) کرکے تمہارے خلاف انکوائری شروع ہونے والی ہے؟” ایاز حیدر نے جیسے انکشاف کیا۔
”تھینک یو اور کچھ؟”
”تم یہاں اسلام آباد آجاؤ۔”
”مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے۔ مجھے جو کچھ کرنا ہے میں یہیں رہ کر کروں گا۔”
”کیا کرو گے تم؟”
”وہی جو پاپا نے کیا انہوں نے میرے خلاف پریس میں یہ سب کچھ شائع کروایا۔ میں بھی ان کے خلاف پریس کو وہ سارے پیپرز دے دوں گا جو میرے پاس ہیں۔”
”بے وقوفی مت کرو… میں جہانگیر سے بات کر چکا ہوں۔ پریس نے تمہارے اور چند دوسرے آفیسرز کے بارے میں جو کچھ شائع کیا ہے۔ اس میں جہانگیر کا ہاتھ نہیں ہے۔ وہ تو خود نیوز پیپرز دیکھ کر حیران ہوا ہے۔… اس نے مجھے بتایا ہے کہ وہ تمہیں پہلے ہی خبردار کر چکا تھا کہ تم اگر اس پرپوزل کو ریجیکٹ کرو گے تو تمہارے لئے سروس میں رہنا بہت مشکل ہو جائے گا۔”
”میں سب کچھ جانتا ہوں، کون کیا کر رہا ہے اور کیوں کروا رہا ہے۔ آپ صرف پاپا کو یہ اطلاع دے دیں کہ وہ کل کا نیوز پیپرز بھی ضرور پڑھیں۔ انہیں خبروں میں رہنے کی خاصی عادت ہے کل ان کے بارے میں بھی کچھ خبریں لگیں گی ہو سکتا ہے کافی پسند آئیں انہیں۔” عمر کا لہجہ تلخ تھا۔
”عمر تم کچھ نہیں کرو گے۔ یار! کیا ہو گیا ہے تمہیں یہاں آؤ اسلام آباد میں تمہاری اور جہانگیر کی بات کرواتا ہوں۔ کوئی حل سوچتے ہیں۔” ایاز حیدر نے مصالحانہ انداز میں بھتیجے سے کہا۔
”میں اب ان سے کوئی بات نہیں کرنا چاہتا اب باتوں کا وقت رہا ہی نہیں، وہ میرے لئے ہر راستہ بند کرتے جا رہے ہیں۔”
”اس میں جہانگیر کا کیا قصور ہے۔ تم نے امریکہ میں جو کچھ کیا۔ ایجنسیز کے آدمیوں نے اس کے بارے میں گورنمنٹ کو رپورٹ کر دی۔ اب اگر اس رپورٹ میں سے کچھ Excerptsپریس کے ہاتھ لگ گئے اور پریس نے شائع کر دیئے تو اس میں جہانگیر کی انوالومنٹ کہاں سے ثابت ہوتی ہے۔”
”اور انکوائری کے بارے میں کیا خیال ہے۔ وہ بھی پریس نے شروع کروائی ہے؟”
عمر ! تمہارے خلاف بہت Serious offense ہے Treason Case بنتا ہے۔ اب ظاہر ہے ایسی رپورٹس پر گورنمنٹ انکوائری تو کروائے گی۔”
”میں نے امریکہ میں جو کچھ کیا پاپا کے لئے کیا اور پاپا کے کہنے پر کیا۔Treason Case پاپا کے خلاف بننا چاہئے، یہ انکوائری بھی ان ہی کے خلاف شروع ہونی چاہئے۔ ایجنسیز کے لوگ اتنے ہوشیار ہیں کہ مجھے انہوں نے فوراً ٹریس آؤٹ کر لیا اور پاپا، پاپاکے بارے میں وہ ایک لفظ تک رپورٹ نہیں کر سکے اور اس ملک میں پریس تک سرکاری افسروں کے بارے میں وہی کچھ آتا ہے جو گورنمنٹ پہنچاناچاہتی ہے ورنہ کم از کم ایجنسیز کی رپورٹس اس طرح لیک آؤٹ نہیں ہوتیں۔” عمر کا اشتعال بڑھتا جا رہا تھا۔
”دیکھو عمر! تم۔۔۔” عمر نے ایاز حیدر کی بات کاٹ دی۔
۔۔۔۔۔۔
”میں نے اگر ایمبیسی میں فائلز اور رپورٹس کی کاپیز کسی کوپہنچائی ہیں تو پاپا کے کہنے پر کی ہیں۔ آپ کیا کر سکتے ہیں اگر آپ کا باس آپ کے پاس موجود فائلز کسی کو دینے کے لئے کہے اور وہ باس آپ کا باپ بھی ہو جس نے سارے رولز اور ریگولیشنز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنے بیٹے کو وہاں پوسٹ ہی اسی لئے کروایا ہو۔۔۔”
”عمر! موبائل پر اس طرح کی باتیں مت کرو… ہو سکتا ہے کہیں یہ سب سنا جا رہا ہو۔” ایاز حیدر نے اسے ٹوکا۔ ”I don’t Care(مجھے پروا نہیں سنا جا رہا ہے تو سنا جائے۔) وہ میرا سروس ریکارڈ خراب کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور میں ان کے بارے میں ایک لفظ بھی نہ کہوں پہلے بھی انہوں نے مجھے استعمال کیا اور اب پھر وہ یہی کرنا چاہ رہے ہیں۔”
”تمہیں خواہ مخواہ غلط فہمی ہو گئی ہے۔ وہ تمہیں کیوں استعمال کرے گا؟”
”وہ مجھے استعمال کر رہے ہیں، کیونکہ اب گورنمنٹ جانے والی ہے اور انہوں نے اس سیاست دان کو میرے بارے میں کچھ بھی شائع کرنے سے نہیں روکا کیونکہ جب چند ماہ بعد گورنمنٹ جائے گی تو وہ عبوری حکومت میں میرے کیس کو استعمال کرکے فائدہ اٹھائیں گے۔ یہ ظاہر کرتے ہوئے کہ وہ اور ان کا بیٹا ان بیوروکریٹس میں سے ہیں جو اس حکومت کے زیر عتاب ہیں بعد میں اگلی گورنمنٹ سے وہ پھر اچھی پوسٹنگ لے جائیں گے مگر میرا سروس ریکارڈ تو خراب ہو جائے گا۔”
”عمر، جہانگیر ایسا کچھ کرنا نہیں چاہتا۔” اس بار ایاز حیدر کا لہجہ پہلے سے محتاط تھا۔
”Oh really(واقعی) تو پھر ان سے کہیں کہ میں اب اس منسٹر کی بیٹی سے شادی پر تیا ر ہوں، وہ جب چاہیں میری شادی کر سکتے ہیں۔”
دوسری طرف سے ایاز حیدر نے ایک گہرا سانس لیا۔
”آپ خاموش کیوں ہو گئے ہیں۔”عمر نے طنزیہ انداز میں کہا۔
”تم احمقانہ بات کر رہے ہو اور احمقانہ باتوں کا کوئی جواب نہیں ہوتا۔”
”انکل! میں کوئی بچہ نہیں ہوں کہ ایسی چالوں کو نہ سمجھوں ، پاپا سے کہیں اب جوڑیں رشتہ داری اس منسٹر سے۔ اب وہ کسی قیمت پر میری شادی اس شخص کی بیٹی سے نہیں ہونے دیں گے، کیونکہ چند ماہ تک گورنمنٹ چلی جائے گی اور اگلی گورنمنٹ پچھلی گورنمنٹ کے تمام رشتہ دار بیوروکریٹس پر انکوائریز لائے گی او ایس ڈی بنا دے گی یا پھر وہ پوسٹنگز دے گی جو بے کار ہیں۔”
”تم امکانات کی بات کر رہے ہو۔” ایاز حیدر کا لہجہ بہت ٹھنڈا تھا۔
”میں حقائق کی بات کر رہا ہوں اگر یہ امکان ہے تو پاپا اسلام آباد میں جم کر کیوں بیٹھے ہوئے ہیں۔ اگلی پوسٹنگ لینے سے کیوں ہچکچا رہے ہیں میڈیکل لیو کو کیوں بڑھایا ہے انہوں نے جبکہ وہ بالکل ٹھیک ہیں اور آپ انگلینڈ سے اسلام آباد کیوں آگئے ہیں۔۔۔”
”عمر میں تمہارے اور جہانگیر کے مسئلے کو حل کروانا چاہتا ہوں، میں واقعی ایسا چاہتا ہوں۔ تم یہاں آؤ آمنے سامنے بیٹھ کر بات کرتے ہیں۔” ایاز حیدر نے بہت پر سکون انداز میں بات کا موضوع تبدیل کر دیا۔
”نہیں میں نے اب کوئی آمنا سامنا نہیں کرنا اگر وہ سب کچھ پریس میں لے گئے ہیں تو میں بھی سب کچھ پریس میں لے جاؤں گا اور میرے پاس ان کے بارے میں جو کچھ ہے۔ وہ ایک بار پریس میں آگیا تو کوئی گورنمنٹ بھی انہیں سروس میں نہیں رکھ سکے گی۔ وہ اپنی باقی زندگی جیل میں گزاریں گے یا کسی دوسرے ملک میں فرار ہو کر ۔”
”تم جانتے ہو اس سے کیا ہوگا۔ ہماری پوری فیملیSuffer کرے گی۔ ریپوٹیشن خراب ہو جائے گی ہماری، جہانگیر کا کیرئیر ختم ہو گا،تو تمہارا بھی ختم ہو جائے گا۔” ایاز حیدر پہلی بار بلند آواز میں بولے۔
”مجھے کسی چیز کی پروا نہیں ہے نہ فیملی کی نہ اپنے کیریئر کی۔ اگر کچھ ختم ہو رہا ہے تو ختم ہو جائے بلکہ سب کچھ ختم ہو جانے دیں۔”
”عمر! تم جذباتی ہو رہے ہو، ذرا ٹھنڈے دل و دماغ سے سوچو، اگر پریس میں تمہارے بارے میں کچھ آبھی گیا ہے تو اس کو کور اپ کیا جاسکتا ہے۔ تم اکیلے آفیسر نہیں ہو اور بھی آفیسرز کا نام آیا ہے۔ ان کی فیمیلز بھی ہاتھ پاؤں ماریں گی۔ ہم کسی نہ کسی طرح انکوائری کو Delayکروالیں گے۔ چند ماہ تک ویسے ہی سیاسی سیٹ اپ تبدیل ہونے والا ہے۔ اک بار وہ منسٹر وہاں سے ہٹ گیا تو کون دوبارہ انکوائری شروع کروائے گا پھر اگراس نے جلدی انکوائری کروانا بھی چاہی تو ہم دیکھ لیں گے کہ انکوائری بورڈ میں سے کون سے ممبرز ہیں ان کے ساتھ ڈیل کی جا سکتی ہے۔”
”لیکن میرے سروس ریکارڈ میں یہ سب کچھ آجائے گا۔”
”اس کے بارے میں بھی کچھ نہ کچھ کر لیں گے۔”
”تو پھر ٹھیک ہے جب پاپا کے بارے میں پریس کچھ شائع کرے تو آپ بالکل اسی طریقے سے سارے معاملے کو ہینڈل کریں، جس طرح آپ میرے معاملے کو ہینڈل کرنے کا کہہ رہے ہیں۔” وہ اب بھی اپنی بات پر اڑا ہوا تھا۔
”انہوں نے میرے ساتھ جو کیا ہے میں بھی ان کے ساتھ وہی کروں گا… کم از کم اب وہ مجھے استعمال کرکے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے۔”
”میں نے تمہیں بتایا ہے کہ جہانگیر نے یہ سب نہیں کروایا۔”
”مگر انہوں نے یہ سب ہونے سے روکا بھی نہیں۔ انکل !آپ اپنے بیٹے کے خلاف ایسی کوئی رپورٹ پریس تک آنے دیتے؟ خاص طور پر تب جب وہ آپ کے کہنے پر ہی سب کچھ کرتا رہا ہو۔”
ایاز حیدر اس کے سوال کا کوئی جواب نہیں دے سکے۔
”کوئی اپنے گھر کے کتے کے ساتھ بھی وہ نہیں کرتا جو میرے باپ نے میرے ساتھ کیا ہے۔ مجھے پوری طرح دلدل میں پھنسا دیا ہے۔ میرے بارے میں جو الزامات آئے ہیں۔ ان کے بعد میں تو کسی کو منہ بھی نہیں دکھا سکتا میں صرف اس گندگی کی وجہ سے فارن سروس چھوڑ کر آیا تھا کہ نہ میں وہاں ہوں گا نہ مجھے اس طرح کے کام کرنا پڑیں گے اور پاپا مجھے یہاں بھی رہنے نہیں دے رہے، اگر وہ رپورٹ اس شخص نے پریس تک پہنچائی ہے تب بھی کیوں نہیں انہوں نے روکا اسے؟ مگر جہاں جہانگیر معاذ کی اپنی ذات آجائے وہاں تو انہیں اور کچھ نظر ہی نہیں آتا حتیٰ کہ اپنی اولاد بھی اگر یہ میرے ساتھ یہ سب کچھ کریں گے تو پھر میں بھی ان کا لحاظ نہیں کروں گا۔”
”Enough is enough. Now I’ ll pay him in the same coin.(اب میں انہیں ان ہی کی زبان میں جواب دوں گا)” اس نے فون بند کر دیا۔
ایاز حیدر نے پریشانی کے عالم میں اس کا نمبر دوبارہ ملنا شروع کیا۔ موبائل آف کر دیا گیا تھا۔ ایک گہری سانس لے کر انہوں نے جہانگیر معاذ کا نمبر ملانا شروع کر دیا۔
٭٭٭
”پتا نہیں ایاز کو کیا بات کرنی ہے عمر سے، کہہ رہا تھا مجھے فون کرکے بتا دے گا مگر ابھی تک فون بھی تو نہیں کیا اس نے۔”
لنچ کرتے ہوئے نانو مسلسل عمر کے بارے میں پریشان ہو رہی تھیں۔ علیزہ ان کی بڑبڑاہٹ سنتے ہوئے خاموشی سے کھانا کھا رہی تھی۔
”تم ذرا فون کرو عمر کو۔” بالآخر نانو نے اس سے کہا۔
”فون کرنے سے کیا ہو گا؟”
”میں بات تو کروں نا اس سے پتا تو چلے کہ ایاز کو اس سے کیا بات کرنی تھی۔”
”نانو! آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے انکل نے کام کے حوالے سے ہی کوئی بات کرنی ہو گی۔ ہمیں بتانے والی بات ہوتی تو انکل آپ کو بتا دیتے یا پھر عمر ہی آپ کو بتا دیتا۔” علیزہ اب بھی مطمئن تھی۔
”نہیں کوئی نہ کوئی بات ضرور ہے۔ مجھے لگتا ہے۔ اس کا پھر جہانگیر کے ساتھ کوئی جھگڑا ہو گیا ہے۔ وہ کچھ کہہ بھی رہا تھا۔”
”تو یہ کون سی نئی بات ہے چند ماہ پہلے بھی تو یہیں جھگڑا ہوا تھا۔ انکل جہانگیر اور اس کے درمیان تو ہمیشہ ہی جھگڑے ہوتے رہتے ہیں۔” علیزہ نے نانو کو مطمئن کرنے کی کوشش کی۔
”پھر بھی کچھ پتا تو چلنا چاہئے، تم عمر کو فون کرو۔” نانو نے اصرار کیا۔
”کھانا تو کھا لینے دیں پھر کر دیتی ہوں۔” علیزہ کو ان کے اصرار سے کچھ الجھن ہوئی۔
کھانا کھانے کے بعد علیزہ نے عمر کے موبائل کا نمبر ڈائل کیا۔
”موبائل آف ہے۔” اس نے نانو کو اطلاع دی۔
”تم ہوٹل میں فون کرو۔” نانو نے ہدایت دی۔
علیزہ نے ہوٹل کا نمبر ڈائل کیا کچھ وقت کے بعد ہوٹل کی ایکسچینج کے تھرو عمر سے اس کا رابطہ ہو گیا۔
”نانو! آپ سے بات کرنا چاہ رہی ہیں۔” اس نے عمر کی آواز سنتے ہی ریسیور نانو کو تھما دیا۔
”ہیلو گرینی! اب کیا مسئلہ ہے؟” وہ اکتایا ہوا لگا۔
”تم نے مجھے دوبارہ فون نہیں کیا۔ ایاز سے بات ہو گئی تمہاری؟”
”ہاں ہو گئی؟”
”کیا کہا اس نے تم سے؟”
”آپ نے آج کا نیوز پیپر دیکھا؟” عمر نے جواباً سوال پوچھا۔
”ہاں دیکھا ہے۔”
”پھر بھی آپ پوچھ رہی ہیں۔”
”کیا مطلب؟”
”فارن سروس کے کچھ آفیسرز کے بارے میں فرنٹ پیج پر ایک ہیڈ لائن ہے، اسے ذرا غور سے پڑھ لیں۔ اس میں میرا نام نہیں دیا گیا مگر میرے عہدے اور پوسٹنگ کے حوالے سے کچھ انفارمیشن دی گئی ہے۔ انکل ایاز اس کے سلسلے میں بات کرنا چاہ رہے تھے۔ میرے خلاف انکوائری ہونے والی ہے چند دنوں تک مجھے Suspend(معطل)کر دیا جائے گا۔”
اس نے ایک گہری سانس لے کر بتایا۔ نانو یک دم پریشان ہو گئیں۔
”پھر کیا ہوگا؟ تم نے آخر ایسا کیا کیا ہے کہ وہ تمہیں Suspend(معطل)کر رہے ہیں۔”
”گرینی! اس وقت مجھ سے کچھ نہ پوچھیں، میں رات کو آپ کی طرف آؤں گا۔ کھانا آپ کے ساتھ کھاؤں گا تب آپ کو سب کچھ بتا دوں گا۔”
”ٹھیک ہے میں رات کو تمہارا انتظار کروں گی۔” عمر نے خدا حافظ کہہ کر فون رکھ دیا۔
”عمر کو معطل کر رہے ہیں؟” علیزہ نے نانو کے فون رکھتے ہی ان سے پوچھا۔
”ہاں تم ذرا آج کا نیوز پیپر لاؤ۔” نانو بے حد فکرمند نظر آنے لگی تھیں۔
علیزہ اخبار لے کر ان کے پاس آگئی۔ وہ بھی یک دم سنجیدہ نظر آنے لگی تھی۔ نانو نے اخبار اپنے سامنے پھیلا لیا۔ علیزہ نے انہیں ڈسٹرب نہیں کیا۔
خاصی دیر بعد انہوں نے سر اٹھایا۔
۔۔۔۔
”نیوز پیپرز میں عمر کے بار ے میں کوئی خبر ہے؟”
”ہاں۔” نانو نے مزید کچھ کہے بغیر وہ صفحہ اس کی طرف بڑھا دیا۔
”عمر نے یہ سب کچھ کیوں کیا؟” وہ جیسے حیرت سے چیخ اٹھی۔ ” مجھے یقین نہیں آرہا کہ عمر بھی یہ سب کر سکتا ہے۔” خبر پڑھ کر اس کے چہرے پر بے یقینی ابھر آئی تھی۔
رات کو عمر کے آنے تک وہ دونوں فکر مندی کے عالم میں وہاں بیٹھی اسی کے بارے میں بات کرتی رہیں۔ مگر جب وہ آیا تو اس کے چہرے کے تاثرات نے ان دونوں کو حیران کیا۔
خلاف توقع وہ بہت پر سکون اور مطمئن نظر آرہا تھا۔ کھانے کی میز پر وہ نانو سے مختلف ڈشز کو ڈسکس کرتا رہا۔ علیزہ اس کے چہرے کو غور سے دیکھتی رہی وہ ہمیشہ کی طرح بڑے اطمینان سے اپنے آپ کو چھپائے ہوئے تھا۔ اس کے چہرے سے یہ اندازہ لگانا مشکل تھا کہ وہ کسی قسم کی مشکل یا پریشانی سے دوچار تھا۔
کھانے کے بعد وہ تینوں کافی پینے لاؤنج میں بیٹھ گئے اور تب نانو نے خود بات شروع کی۔
”تم نے یہ سب کچھ کیوں کیا؟”
”آپ کے بیٹے کے لئے کیا” اس نے ایک لمحے کے توقف کے بغیر کہا۔
”تمہیں نہیں کرنا چاہئے تھا۔”
”یہاں اس وقت کافی کے سپ لیتے ہوئے یہ مشورہ دینا بہت آسان ہے گرینی! مگر جب آپ ٹی وی لاؤنج کے بجائے ایمبیسی کے آفس میں بیٹھے ہوں اور آپ کا باس جو آپ کا باپ بھی ہو وہ آپ سے یہ کہے کہ اس فائل کی ایک کاپی کسی ایسے شخص کو دے دو جو سیکیورٹی رسک ہو تو آپ انکار نہیں کر سکتے۔ آپ کس طرح اعتراض کر سکتے ہیں یہ کہیں گے کہ میں نہیں دوں گا یا اپنی حب الوطنی کے بارے میں کوئی تقریر شروع کر دیں گے۔ ایسا کرنے کے بعد آپ اس آفس میں کتنی دیر اور دن بیٹھ سکتے ہیں جہاں کے چپراسی سے لے کر ایمبیسیڈر تک سب ایک جیسے ہوں۔”
”جہانگیر کو ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا۔” نانو نے افسردگی سے کہا۔
”یہ جملہ آپ نے پچیس سال دیر سے کہا پچیس سال پہلے آپ اپنے بیٹے کو یہ بات کہہ دیتیں تو شاید وہ چند لمحے سوچتا کہ زندگی میں کیا کرنا چاہئے اور کیا نہیں مگر اب پچیس سال بعد اس کے لئے یہ ایک بے معنی جملہ ہے ان فائلز کے بدلے میرے باپ کے پاس اتنے ڈالرز آگئے ہیں کہ ان سے خریدی جانے والی چیزیں کسی بھی رشتے سے زیادہ مہنگی ہوتی ہیں۔”
علیزہ کو اندازہ نہیں ہوا کہ اس کی باتیں زیادہ تلخ تھیں یا وہ کافی جو وہ اپنے اندر انڈیل رہی تھی۔
”اب کیا ہو گا؟” نانو نے اس کی بات کے جواب میں کہا۔
”پتا نہیں۔” عمر نے کندھے اچکائے۔
”بس میرے پاس پاپا کے خلاف جو بھی پیپرز ہیں، میں بھی انہیں پریس کے ذریعے سامنے لا رہا ہوں… پاپا نے مجھے ڈبونے کی کوشش کی ہے۔ میں انہیں ڈبونے کی کوشش کروں گا۔”
اس کے لہجے میں عجیب سرد مہری تھی۔
ٹی وی پر نو بجے کا نیوز بلیٹن شروع ہو چکا تھا۔ وہ اب کافی پینے کے ساتھ خبروں کی طرف متوجہ تھا۔
”اور تمہارا کیا ہو گا؟” نانو اس کے لئے فکر مند تھیں۔
”میرا ؟” وہ ہنسا ”کچھ بھی نہیں چند ہفتے یا مہینے معطل رہوں گا پھر دوبارہ پوسٹنگ مل جائے گی۔ البتہ ریکارڈ خراب ہو جائے گا ہاں مگر پاپا کو خاصے فوائد حاصل ہوں گے۔ ان خبروں اور میری Suspensionسے ۔ وہ واقعی بہت خوش قسمت آدمی ہیں ٹرمپ کارڈ ہمیشہ انہی کے ہاتھ رہتا ہے۔” وہ ٹی وی اسکرین پر نظریں جمائے کہہ رہا تھا۔
”آج کراچی میں کچھ نامعلوم حملہ آوروں نے معروف صحافی شہبازمنیر کو اس وقت گولی مار کرہلاک کردیا جب وہ اپنے آفس میں تھے۔ مقتول ایک صف اول کے انگلش اخبار کے ایڈیٹر تھے حملہ آور جانے سے پہلے ان کے آفس میں موجود تمام دستاویزات کو آگ لگا گئے۔ پولیس نے مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردی ہے وزیر اعلیٰ اور گورنر نے اس حادثہ پر دلی افسوس۔۔۔”
”ایک تو یہ روز روز کے قتل پتا نہیں حکومت لا اینڈ آرڈر کو ٹھیک کیوں نہیں کر پاتی۔”
نانو کی بڑبڑاہٹ نے علیزہ کی سوچوں کا تسلسل توڑ دیا۔ ٹی وی پر اب نیوز کاسٹر کوئی اور خبر پڑھ رہی تھی۔
”تمہیں کیا ہوا ہے عمر؟” علیزہ نے نانو کی آواز پر چونک کر عمر کو دیکھا۔ وہ ہونٹ بھینچے زرد چہرے کے ساتھ صوفے کی پشت سے ٹیک لگائے ہوئے تھا۔

جاری ہے۔۔۔
۔۔۔۔