Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 20

امربیل از عمیرہاحمد
۔۔۔۔
قسط نمبر 20
۔۔۔۔۔

باب 22

اس عورت نے یک دم آگے بڑھ کر عمر کا ماتھا چوم لیا۔ علیزہ نے عمر کو جیسے کرنٹ کھا کر دو قدم پیچھے ہٹتا دیکھا۔ اس عورت نے ایک بار پھر آگے بڑھ کر عمر کے کندھوں پر ہاتھ رکھنا چاہے مگر اس بار عمر نے اپنے ہاتھوں سے اس کے بازوؤں کو پیچھے ہٹا دیا۔
”پلیز یہ کافی ہے۔”
علیزہ نے اسے کرخت لہجے میں کہتے سنا، اس کا اشارا واضح طور پر اس عورت کے اس والہانہ اظہار محبت کی طرف تھا۔ علیزہ ہکا بکا عمر اور اس عورت کا چہرہ دیکھ رہی تھی۔ اس عورت کا چہرہ یک دم جیسے بجھ گیا تھا۔ عمر اب نانو کو دیکھ رہا تھا۔
”تم کیسے ہو عمر؟” اس بار اس عورت نے وہیں کھڑے کھڑے پوچھا تھا۔
”میں ٹھیک ہوں۔” عمر نے نظریں ملائے بغیر جواب دیا۔
”زارا! آؤ یہاں بیٹھ جاؤ عمر! تم بھی بیٹھ جاؤ۔ اس طرح کھڑے کھڑے باتیں کرنا مناسب نہیں۔”
نانو نے پہلی بار مداخلت کرتے ہوئے کہا۔ علیزہ نے اس عورت کو پلٹ کر اپنی جگہ جاتے دیکھا۔ علیزہ نے عمر کو کسی کشمکش میں مبتلا پایا یوں جیسے وہ طے نہ کر رہا ہو کہ اسے اس عورت کے پاس جاکر بیٹھنا چاہیے یا نہیں بالآخر وہ جیسے کسی نتیجہ پر پہنچ گیا۔
علیزہ نے اسے بے آواز قدموں سے نانو کے صوفہ پر بیٹھتے دیکھا۔ اس عورت کی نظریں مسلسل عمر پر ٹکی ہوئی تھیں جبکہ عمر مسلسل اپنی نظریں نیچے جھکائے ہوئے تھا۔ علیزہ کی حیرانی میں شدت آتی جارہی تھی آخر یہ عورت کون ہے جو اس طرح یہاں آتی ہے؟ جسے نانو چائے پلا رہی ہیں اور جو عمر کودیکھ کر یوں بے اختیار ہوگئی تھی۔ اس کا ذہن عجیب سی سوچ میں الجھا ہوا تھا۔
لاؤنج میں مکمل خاموشی تھی، شاید کسی کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ بات کیسے شروع کی جائے۔ علیزہ اپنی جگہ کھڑی صوفوں پر موجود تینوں کرداروں کو دیکھ رہی تھی سب کچھ جیسے یکدم ہی بہت پراسرار ہوگیا تھا۔ وہ منتظر تھی کہ ان میں سے کوئی گفتگو کا آغاز کرے اور وہ اس اسرار کو حل کرسکے۔ اس عورت نے اب اچانک علیزہ کو دیکھا۔ اس کی نظریں کچھ دیر کیلئے اس پر ٹھہر گئیں علیزہ اس کی نظروں سے نروس ہوگئی۔ نانو نے اس عورت کی نظروں کا تعاقب کیا۔
”یہ علیزہ ہے۔” انہوں نے اس عورت سے جیسے اس کا تعارف کروایا تھا۔
”علیزہ؟” اس عورت نے استفہامیہ نظروں سے نانو کو دیکھا۔
”ہاں علیزہ، ثمینہ کی بیٹی۔”
”اوہ… ہاں علیزہ… کیا ثمینہ یہیں ہوتی ہے؟”
”نہیں وہ آسٹریلیا میں ہوتی ہے۔ علیزہ میرے پاس رہتی ہے۔” نانو نے مختصراً اس کا تعارف کروایا۔
”علیزہ! یہ… یہ عمر کی ممی ہیں۔”
علیزہ کا منہ نانو کے اس تعارف پر کھل گیا۔ ایک نظر اس نے اس عورت کو دیکھا جس کے چہرے پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ ابھری تھی۔ دوسری نظر اس نے عمر پر ڈالی، وہ اب بھی سرجھکائے بیٹھا تھا۔
”ہیلو۔” اس نے بالآخر انہیں مخاطب کیا۔
”ہیلو، کیسی ہو تم؟”
”میں ٹھیک ہوں۔” اس نے کچھ الجھے ہوئے انداز میں کہا۔
”علیزہ! آؤ مجھے تم سے کچھ باتیں کرنی ہیں۔” نانو نے یک دم اٹھتے ہوئے اسے مخاطب کیا۔ اس کا دل اچھل کر حلق میں آگیا۔
کیا وہ اسے اب ڈانٹنا چاہتی تھیں۔ نانو ان دونوں کو وہیں چھوڑ کر لاؤنج سے باہر نکل گئیں۔ علیزہ نے بھی بے جان قدموں سے ان کی پیروی کی۔
”میں تمہیں اس لیے باہر لے آئی ہوں، تاکہ وہ دونوں آپس میں گفتگو کرسکیں۔” باہر نکلتے ہوئے نانو نے اس سے کہا۔
”مگر عمر کی ممی کہاں سے آگئی ہیں؟” اس نے خدا کا شکرادا کرتے ہوئے نانو سے پوچھا کہ انہیں یاد نہیں رہا کہ وہ کہاں گئی تھی۔
”زارا پاکستان آئی ہوئی ہے آج کل اپنی فیملی کے ساتھ، اس کا دل چاہا تو یہاں ملنے آگئی۔” نانو نے اپنے کمرے کی طرف بڑھتے ہوئے کہا۔
”اپنی فیملی کے ساتھ۔” وہ ٹھٹک گئی۔
”ہاں بھئی، اپنی فیملی کے ساتھ۔ دو بیٹے ہیں اس کے، شادی کرچکی ہے۔ انگلینڈ سے آئی ہے۔”
”مگر کیوں؟”
”کیوں کا کیا مطلب ہے؟ ظاہر ہے اپنے بیٹے سے ملنے آئی ہے۔”
وہ ان کے پیچھے چل رہی تھی۔ ”کیا پہلے بھی یہ عمر سے ملنے کیلئے آتی رہی ہیں؟”
”مجھے نہیں پتا۔ عمر تو ابھی چند ماہ سے ہی میرے پاس ہے۔ اب یہ اس سے ملتی رہی ہے یا نہیں اس کے بارے میں تو کچھ کہنا خاصا مشکل ہے۔ مگر وہاں البتہ جہانگیر پسند نہیں کرتا کہ یہ عمر سے ملے۔”
علیزہ کچھ حیران ہوئی۔ ” کیوں انکل جہانگیر کیوں پسند نہیں کرتے؟”
”پتا نہیں، مگر بس وہ شروع سے ہی کوشش کرتا رہا ہے کہ زارا عمر سے نہ مل پائے، خاص طور پر علیحدگی کے فوراً بعد تو جہانگیر نے جان بوجھ کر عمر کو اس بورڈنگ میں کروایا تھا جہاں زارا کیلئے جانا مشکل ہو… اب پتا نہیں ہوسکتا ہے وہ کچھ نرم پڑ گیا ہو اور عمر کا رابطہ ماں سے ہو مگر پہلے تو ایسا بالکل بھی نہیں تھا۔”
”مگر انکل جہانگیر کیوں نا پسند کرتے ہیں عمر کا اپنی ممی سے ملنا؟”
”بس دونوں میں علیحدگی خاصے خراب حالات میں ہوئی تھی۔ بہت زیادہ جھگڑے ہوئے دونوں میں۔ بات کورٹ تک گئی، وہاں بھی دونوں نے ایک دوسرے پر بہت سے الزامات لگائے۔ شاید جہانگیر اسی وجہ سے عمر کے اس سے ملنے کو ناپسند کرتا رہا۔”
”مگر اب اس میں عمر کا کوئی قصور نہیں۔ انکل جہانگیر یہ کیوں نہیں سوچتے۔” اس نے عمر کی طرف داری کرتے ہوئے کہا۔
۔۔۔۔

”جہانگیر کا دماغ ہمیشہ ہی بہت گرم رہا… وہ اپنے معاملات میں کسی دوسرے کی سنتا ہے نہ ہی کسی کی مداخلت پسند کرتا ہے۔”
”پھر آپ نے زارا آنٹی کو اندر کیوں بٹھایا۔ عمر سے ملنے کیوں دیا اگر انکل جہانگیر کو پتا چلا تو وہ آپ سے بھی ناراض ہوسکتے ہیں۔”
”ہاں ناراض ہوسکتا ہے مگر میں اتنی بے مروت تو نہیں ہوسکتی کہ اسے اندر ہی نہ آنے دیتی یا اسے اپنے بیٹے سے نہ ملنے دیتی۔ اب نہ سہی مگر کبھی تو وہ اسی خاندان کا ایک حصہ رہی ہے۔ اگر جہانگیر اپنی عادات کچھ بدل لیتا تو شاید ان دونوں میں طلاق نہ ہوتی۔ زارا اتنی خراب لڑکی نہیں تھی۔ اچھی تھی۔ جہانگیر سے محبت کرتی تھی اور بھی خاصی خوبیاں تھیں ان دونوں کی ایک دوسرے کے ساتھ اچھی گزرسکتی تھی مگر جہانگیر… اب اگر وہ بیٹے سے ملنے آتی ہے تو مجھے تو اس پر کوئی اعتراض نہیں۔ آخر عمر بھی اب میچور ہے۔ میں نے دونوں کو ملوا دیا اب، اور پھر عمر کو زارا سے ملنا ناپسند ہوتا تو وہ ابھی انکار کردیتا مگر اس نے نہیں کیا… میں نے یہی سوچ کر زارا کو اس سے ملوایا تھا۔”
نانو اب اپنے کمرے میں آچکی تھیں۔ علیزہ ان کے ساتھ چلتے ہوئے ان کی باتیں سن رہی تھی۔
”مگر عمر نے کبھی بھی اپنی ممی کا ذکر نہیں کیا، کیا کبھی آپ کے ساتھ وہ زارا آنٹی کی بات کرتا ہے؟”
”نہیں، مجھ سے اس نے کبھی بات نہیں کی لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ زارا کو ناپسند کرتا ہے۔ بچپن میں بہت اٹیچ تھا یہ زارا کے ساتھ۔ جب جہانگیر اور زارا میں علیحدگی ہوگئی تو پانچ چھ ماہ خاصا بیمار رہا۔ ڈاکٹرز نے جہانگیر سے کہا کہ وہ اسے ماں کے پاس بھجوا دے مگر جہانگیر اس پر تیار نہیں ہوا وہ کہتا تھا کہ بیمار ہو یا ٹھیک رہے اسے رہنا جہانگیر کے پاس ہی ہے۔” وہ یک دم جیسے کچھ یاد کر کے خاموش رہ گئی تھیں۔
”پھر کیا ہوا نانو؟” علیزہ نے بڑی بے تابی سے پوچھا۔
”کیا ہونا تھا۔ زارا نے کافی کوشش کی، شروع میں اسے اپنی کسٹڈی میں لینے کی مگر بعد میں اس نے شادی کرلی عمر کی کسٹڈی کا کیس تب کورٹ میں تھا۔ زارا خود ہی پیچھے ہٹ گئی، جہانگیر نے عمر کو جس بورڈنگ میں رکھا تھا وہاں سائیکالوجسٹ عمر کا علاج کرتا رہا آہستہ آہستہ یہ ٹھیک ہوگیا۔ بعد میں کبھی کوئی پرابلم نہیں ہوا۔”
نانو آہستہ آواز میں بتاتی جارہی تھیں، وہ خاموشی کے ساتھ ان کی باتیں سنتی رہی۔ بات کرتے کرتے اچانک نانو کو یاد آیا۔
”تم کہاں تھیں؟ میں پورے گھر میں ڈھونڈتی رہی پھر چوکیدار نے بتایا کہ تم عمر کے ساتھ گئی ہو۔”
”وہ… عمر نے کہا تھا کہ مطلب مارکیٹ تک جانا چاہ رہا تھا تو میں۔” وہ گڑبڑا گئی اس کی سمجھ میں نہیں آیا کہ فوری طور پر نانو سے کیا کہے۔
نانو کچھ دیر اسے گھورتی رہیں۔ ”اس کے ساتھ مارکیٹ گئی تھیں؟”
”ہاں۔” اس نے سر ہلا دیا۔
”کم از کم بتا تو سکتی تھیں مجھے۔”
”میں نے کہا تھا مگر عمر کہہ رہا تھا کہ واپس آکر بتا دیں گے۔” اس نے منمناتے ہوئے کہا۔
”گئے کیسے تھے تم لوگ؟ گاڑی تو یہیں تھی؟”
”پیدل گئے تھے واک کرتے ہوئے۔”
”اتنی دور پیدل جانے کی کیا ضرورت تھی؟ گاڑی لے جاسکتے تھے۔ میں پریشان ہوتی رہی۔” نانو نے اب کچھ سخت لہجے میں اسے جھڑکا۔
”سوری نانو۔”
”ٹھیک ہے مگر آئندہ محتاط رہنا، اس طرح بتائے بغیر غائب ہونا کوئی مناسب بات نہیں۔ تمہارے نانا ابھی تک نہیں آئے۔ وہ آجاتے تو وہ مجھ سے بھی زیادہ پریشان ہوتے۔” نانو کا لہجہ کچھ نرم پڑ گیا۔
”اب میں جاؤں؟” علیزہ نے فوراً وہاں سے کھسکنے کی کوشش کی۔
”ہاں ٹھیک ہے جاؤ۔”
علیزہ فوراً اٹھ کر نانو کے کمرے سے باہر آگئی۔ باہر آنے کے بعد اس نے اپنے کمرے کی طرف قدم بڑھائے مگر پھر جیسے اس کے ذہن میں کوئی خیال ابھرا تھا۔ نانو کے کمرے کا دروازہ بند تھا۔ وہ یقیناً اب اسی وقت وہاں سے نکلتیں جب عمر کی ممی وہاں سے چلی جاتیں۔
”مجھے دیکھنا چاہیے کہ عمر اور اس کی ممی۔” وہ یک دم متجسس ہوگئی۔
۔۔۔۔۔

اپنے کمرے کی طرف جانے کے بجائے وہ پچھلا دروازہ کھول کر لان میں نکل آئی اور وہاں سے لمبا چکر کاٹ کر وہ لاؤنج کی ان کھڑکیوں تک آگئی جو لان میں کھلتی تھیں لان میں تاریکی تھی اس لیے اسے یہ تسلی تھی کہ کھڑکی سے دیکھی نہیں جاسکتی۔ پھر بھی وہ دبے پاؤں لاؤنج کی کھلی کھڑکیوں کے پاس آگئی۔ اندر سے آتی ہوئی عمر کی بلند آواز نے اسے چونکا دیا تھا۔
”مجھے آپ سے کوئی رابطہ رکھنے میں دلچسپی نہیں ہے پھر آپ میرے پیچھے کیوں پڑی ہیں؟”
علیزہ نے تھوڑی سی گردن آگے کر کے اندر کا منظر دیکھنے کی کوشش کی۔ وہ ماں بیٹے کا جو جذباتی سین دیکھنے کیلئے آئی تھی۔ وہاں ایسا کچھ بھی نہیں تھا۔ عمر صوفہ پر بیٹھنے کے بجائے لاؤنج کے درمیان کھڑا تھا اور اس کا لہجہ بہت درشت تھا جبکہ زارا آنٹی اسی صوفہ پر بیٹھی ہوئی تھیں علیزہ کو ان کا چہرہ بہت بجھا ہوا لگا۔
”تم میرے بیٹے ہو عمر! میں۔۔۔” انہوں نے عمر سے کچھ کہنے کی کوشش کی مگر عمر نے ان کی بات کاٹ دی۔
”اب میں آپ کا بیٹا ہوں تو اس میں میرا کیا قصور ہے۔”
”عمر! اس طرح بات مت کرو مجھ سے۔”
”میں اس طرح بلکہ کسی بھی طرح آپ سے بات نہیں کرنا چاہتا۔ آپ بس یہاں سے جائیں۔”
”جہانگیر نے میرے خلاف تمہاری اتنی برین واشنگ کردی ہے کہ تم۔”
اس نے ایک بار پھر غصے میں ماں کی بات کاٹی تھی
”ہاں ٹھیک ہے’ کردی ہے انہوں نے برین واشنگ پھر…؟
زارا آنٹی زرد چہرے کے ساتھ کچھ دیر اس کا چہرہ دیکھتی رہیں۔ ”میں تم پر اتنا حق تو رکھتی ہوں کہ کبھی کبھار تمہیں دیکھ لیا کروں، تم مجھ سے بات کرلیا کرو۔”
”آپ مجھ پر کوئی حق نہیں رکھتیں۔ آپ کی اپنی فیملی ہے، گھر ہے، بچے ہیں۔ آپ اپنی زندگی ان کے ساتھ گزاریں۔ خود بھی سکون سے رہیں اور دوسروں کو بھی سکون سے رہنے دیں اور اپنا ہر حق اس اولاد کیلئے مخصوص رکھیں جو آپ کے ساتھ ہے۔”
”میں تم سے بہت محبت کرتی ہوں۔”
”تو میں کیا کروں؟”
”میں جانتی ہوں، تم مجھ سے ناراض ہو۔ بہت سی باتیں ہیں جن کی میں وضاحت کرنا چاہتی ہوں۔”
”میں آپ سے ناراض ہوں نہ ہی آپ کی وضاحتوں میں مجھے کوئی دلچسپی ہے۔ میں اپنی زندگی سے بہت خوش اور مطمئن ہوں لیکن آپ میرا سکون خراب کرنا چاہتی ہیں۔”
”تم میری اولاد ہو عمر! میں نے اتنا بہت سا عرصہ تم سے رابطہ صرف اس لیے نہیں کیا کہ میں تمہیں ڈسٹرب نہیں کرنا چاہتی تھی لیکن میرا خیال ہے اب تم اتنے میچور ہوچکے ہو کہ ہر چیز کو سمجھ سکو صرف مجھے مورد الزام ٹھہرانے سے حقیقت نہیں بدلے گی۔”
”میں نے آپ سے کہا ہے، مجھے آپ کی کسی وضاحت میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ آپ میری زندگی میں اب مداخلت نہ کریں۔” اس نے اس بار تقریباً چلاتے ہوئے کہا تھا۔
”میں تمہاری زندگی میں مداخلت کر رہی ہوں؟ میں تم سے صرف ملنے آئی ہوں۔”
”میں آپ سے ملنا نہیں چاہتا تو آپ کیوں ملنے آئی ہیں۔ آپ یہاں سے جائیں۔”
”مجھے اس گھر میں آنے کا کوئی شوق نہیں تھا۔ تم اگر سوات میں مجھے دیکھ کر یوں واپس یہاں بھاگ نہ آتے تو مجھے بھی یہاں نہ آنا پڑتا۔”
”کس نے کہا ہے کہ میں سوات سے بھاگ آیا ہوں اور وہ بھی آپ کو دیکھ کر… میں وہاں اپنی مرضی سے گیا تھا اور اپنی مرضی سے ہی آیا ہوں اور میں آپ سے خوفزدہ نہیں ہوں، پھر ڈر کر کیوں بھاگوں گا۔” اس نے تنک کر کہا تھا۔ ” تم مجھ سے خوف زدہ نہیں ہو لیکن جہانگیر سے خوف زدہ ہو۔ اسی لیے تم مجھے اس طرح رد کرتے ہو۔”
”اچھا ٹھیک ہے، میں پاپا سے خوفزدہ ہوں پھر جب آپ یہ بات جانتی ہیں تو اس طرح مجھے پریشان کیوں کر رہی ہیں؟”
”تم اب کوئی ننھے بچے نہیں ہو عمر! بڑے ہوچکے ہو اپنے فیصلے خود کرتے ہو تمہیں میرے بارے میں بھی فیصلہ خود کرنا چاہیے اگر جہانگیر کی دوسری شادی پر تمہیں کوئی اعتراض نہیں اور تم اس کی فیملی کے ساتھ ایڈجسٹ کرسکتے ہو تو پھر میری دوسری شادی۔”
اس بار ان کے لہجے میں بے چارگی تھی مگر ان کی بے چارگی نے عمر پر کوئی اثر نہیں کیا۔ اس نے ایک بار پھر ان کی بات کاٹ دی تھی۔
”مجھے آپ کی دوسری شادی پر بھی کوئی اعتراض نہیں ہے۔ میں آپ کو بتا چکا ہوں کہ مجھے آپ سے اور آپ کی زندگی سے قطعاً کوئی دلچسپی نہیں ہے آپ نے جو چاہا کیا آپ جو چاہیں کریں میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ آپ میرا پیچھا کرنے کی کوشش نہ کریں۔”
”میں تم سے سال میں چند بار ملنا چاہتی ہوں… چند بار فون پر بات کرنا چاہتی ہوں… مجھے اس سے زیادہ اور کچھ نہیں چاہیے۔”
”میں آپ کی وجہ سے زندگی میں پہلے ہی بہت اذیت اٹھا چکا ہوں، اب مزید کسی پرابلم کا سامنا کرنا نہیں چاہتا۔ میں آپ سے کوئی رابطہ نہیں رکھنا چاہتا۔ یہ بات آپ اچھی طرح سمجھ لیں۔”
”تم… تم بالکل اپنے باپ کی طرح بے حس ہو، خود غرض، جس طرح وہ ہمیشہ صرف اپنے بارے میں سوچتا تھا… اس طرح تم بھی صرف اپنے بارے میں سوچتے ہو۔”
”پھر آپ میرے جیسے بے حس اور خودغرض انسان کے پاس کیوں آئی ہیں۔ کیوں بار بار فون کرتی ہیں، خط لکھتی ہیں انسان میں جو self respect (عزت نفس) ہوتی ہے وہ شاید آپ میں نہیں ہے۔ میری خامیوں کی نشان دہی کرنے کے بجائے آپ مجھے چھوڑ دیں… میں تو آپ کے پیچھے بھاگتا ہوں نہ آپ کو آپ کی خامیاں جتاتا پھرتا ہوں۔”
”تم میرے بیٹے ہو۔ میں تمہیں نہیں چھوڑ سکتی۔”
”آپ مجھے بہت سال پہلے چھوڑ چکی ہیں اور اس وقت بھی میں آپ کا بیٹا ہی تھا۔”
”عمر! تمہارے دل میں میرے لیے جو شکایتیں ہیں وہ ٹھیک ہیں مگر۔”
”میرے دل میں آپ کیلئے شکایت نہیں ہے۔ میں نے صرف آپ کے جھوٹ کی نشاندہی کی ہے۔”
”چند سال بعد جب تم شادی کرو گے اور تمہارے بچے ہوں گے۔ تب تمہیں اندازہ ہوگا کہ اولاد کو چھوڑنا کتنا مشکل ہوتا ہے۔”
”میں کبھی شادی نہیں کروں گا۔ آپ نے مجھے کوئی نیا رشتہ قائم کرنے کے قابل نہیں چھوڑا۔ آپ نے رشتوں کو کتنا زہر آلود کردیا ہے میرے لیے آپ کو اندازہ ہی نہیں۔”
۔۔۔۔۔

علیزہ دم بخود اس کی باتیں سن رہی تھیں۔ ایک گھنٹہ پہلے والا عمر اب کہیں غائب ہوچکا تھا وہ جو کچھ دیر پہلے اسے سمجھا رہا تھا کمپرومائز کرنے کیلئے کہہ رہا تھا۔ سب کچھ بھلا دینے کی تاکید کر رہا تھا۔ اپنے ماں باپ کے پرابلمز کو سمجھنے کی نصیحت کر رہا تھا۔ وہ اس وقت وہی سب کچھ دہرا رہا تھا جو کچھ دیر پہلے وہ روتے ہوئے اس سے کہہ رہی تھی فرق صرف یہ تھا کہ وہ رو نہیں رہا تھا۔
”یہ سب صرف میں نے نہیں کیا… جہانگیر نے بھی کیا ہے۔”
”but you were the root cause of everything (لیکن اس کی بنیادی وجہ آپ ہیں) آپ کو بیوی بننا نہیں آتا تھا تو آپ نے پاپا سے شادی کیوں کی اگر کرلی تھی تو رشتے کو نبھاتیں۔”
”اس سب کے باوجود جو جہانگیر میرے ساتھ کرتا رہا؟”
”عورت میں برداشت ہونی چاہیے… پاپا میں اتنی برائیاں ہوتیں تو ثمرین آنٹی کیوں اب تک ان کے ساتھ ہوتیں… آپ کی طرح انہوں نے divorce نہیں لی۔”
علیزہ نے زارا آنٹی کی آنکھوں میں آنسو نمودار ہوتے دیکھے تھے۔
”جہانگیر جانور ہے، ایک ایسا جانور جسے زندگی میں اپنے علاوہ کسی دوسرے کے احساسات کا خیال نہیں، جس کیلئے سب سے زیادہ اہم اپنی خوشی ہے۔ اپنے پیر کے نیچے آنے والے گڑھے کو پر کرنے کیلئے وہ کسی کو بھی اس میں پھینک سکتا ہے چاہے وہ کوئی بہت اپنا ہی کیوں نہ ہو۔ مجھے اس شخص کو چھوڑنے پر کوئی شرمندگی نہیں ہے نہ ہی کوئی پچھتاوا ہے۔ تم میری اولاد ہو، تم سے میرا رشتہ کبھی ختم نہیں ہوسکتا۔”
I dont need your sermons. “آپ کو میرے پاس محبت نہیں کوئی ضرورت کھینچ کر لائی ہوگی آپ بتا دیں کہ آخر اب آپ کو کیا چاہیے؟”
علیزہ نے زارا آنٹی کو یک دم کھڑے ہوتے دیکھا۔
”مجھے تم سے کچھ نہیں چاہیے۔’تمہارے پاس ایسا کچھ ہے ہی نہیں جوتم مجھے دے سکو تمہیں پسند ہو یا نہ ہو مگر میں تمہیں خط بھی لکھوں گی اور فون بھی کروں گی جب میرا دل چاہے گا۔ میں تم سے ملنے بھی آیا کروں گی۔”
علیزہ نے انہیں لاؤنج سے نکلتے ہوئے دیکھا۔ عمر اگلے چند منٹ خاموشی سے لاؤنج کے بند ہوتے ہوئے دروازے کو دیکھتا رہا۔ پھر علیزہ نے اسے بھی لاؤنج سے غائب ہوتے دیکھا۔
علیزہ کھڑکی کے پاس سے ہٹ گئی۔ اسے عمر پر بہت ترس آرہا تھا۔
”کیا واقعی اسے زارا آنٹی کی ضرورت نہیں؟ کیا واقعی یہ ان کے بغیر رہ سکتا ہے؟ یہ زارا آنٹی کو اتنا ناپسند کیوں کرتا ہے اور نانو کہہ رہی تھیں کہ یہ ان سے بہت اٹیچ تھا۔ مگر یہ تو۔”
اس کا ذہن بہت سے سوالوں میں الجھ گیا تھا۔
پچھلے دروازے سے وہ ایک بار پھر اپنے کمرے میں چلی گئی۔
”تو کیا عمر سوات سے اتنی جلدی اس لیے واپس آگیا تھا کیونکہ اس نے وہاں زارا آنٹی کو دیکھ لیا تھا؟ مگر زارا آنٹی کو اس نے avoid کیوں کیا اس نے اور پھر اس طرح وہاں سے چلے آنا۔ یہ زارا آنٹی سے وہاں بھی تو یہ سب کچھ کہہ سکتا تھا۔”
کپڑے بدلتے ہوئے بھی وہ مسلسل عمر کے بارے میں سوچ رہی تھی۔ وہ نانو سے دوپہر کو پڑنے والی ڈانٹ بھی بھول چکی تھی۔
رات کے کھانے کی میز پر عمر نہیں تھا۔
”وہ کہہ رہا تھا اسے بھوک نہیں ہے۔ تمہارے ساتھ برگر اور آئس کریم کھا کر آیا تھا۔”
نانو نے اس کے استفسار پر اسے بتاتے ہوئے ساتھ جیسے تصدیق چاہی۔
”ہاں برگر اور آئس کریم تو کھائی تھی۔” اس نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔
”بس اسی لیے وہ اب کھانا کھانا نہیں چاہ رہا۔”
نانو نے مزید کہا، یک دم ہی جیسے اس کا دل بھی کھانے سے اچاٹ ہوگیا۔ کچھ دیر وہ کسی نہ کسی طرح چند لقمے کھاتی رہی مگر پھر اس نے کھانا چھوڑ دیا۔
”بھوک نہیں ہے میں نے بھی برگر کھایا ہے، شاید اسی وجہ سے۔”
اس نے ڈائننگ ٹیبل سے اٹھتے ہوئے نانو کو وضاحت دی۔
اپنے کمرے کی طرف آتے ہوئے اس نے عمر کے کمرے میں تاریکی دیکھی۔
”کیا وہ اتنی جلد سونے کیلئے لیٹ گیا ہے؟” کچھ حیران ہو کر اس نے سوچا تھا۔ عام طور پر وہ رات کو بہت لیٹ سوتا تھا۔ آج روٹین میں ہونے والی یہ تبدیلی فوراً ہی اس کی نظروں میں آگئی۔ کچھ دیر وہ اس کے کمرے کے آگے کھڑی رہی پھر خاموشی سے آگے بڑھ گئی۔
٭٭٭

بیڈ پر چت لیٹے ہوئے وہ تاریکی میں کمرے کی چھت کو گھور رہا تھا۔ سوات میں ماں کو اپنی فیملی کے ساتھ دیکھنے پر جس طرح وہاں سے بھاگا تھا۔ اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا، اس کی ممی اس کے پیچھے ہی لاہور آگئی تھیں۔
پچھلے چودہ سالوں میں ایسا بہت بار ہوا تھا کہ ماں کو کہیں دیکھنے پر وہ سرپٹ وہاں سے بھاگ نکلا ہو ،اور زارا اگر اسے دیکھ لیتیں تو وہ اسی طرح اس کے پیچھے آتی تھیں اور ماں کا اپنے پیچھے آنا اس طرح آنا اسے اچھا لگتا تھا۔ شاید لاشعوری طور پر وہ آج بھی منتظر تھا کہ وہ اس کے پیچھے آئے اور پھر وہ اسی طرح ماں کا ہاتھ جھٹکے جس طرح پچھلے چودہ سالوں میں جھٹکتاآیا تھا اور ماں کے ساتھ اس طرح کرنے کے بعد ہر بار وہ ایسے ہی کمرہ بند کر کے بیٹھ جایا کرتا تھا۔
”کون کہتا ہے کہ میں عمر جہانگیر میچیور ہوچکا ہوں۔ کم از کم آج جو میں نے ممی کے ساتھ کیا اس کو دیکھنے والا کوئی بھی شخص مجھے میچیور سمجھ سکتا ہے نہ ہوش مند۔” آنکھیں بند کرتے ہوئے اس نے جیسے بے چارگی سے سوچا۔


جاری ہے۔