Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 44

امربیل از عمیرہاحمد
۔۔۔۔
قسط نمبر 44
۔۔۔۔۔
ایاز حیدر اور عباس کے باہر نکلتے ہی جسٹس نیاز نے مشتعل انداز اور تند لہجے میں چیف منسٹر سے کہا۔ ”دیکھا آپ نے اس شخص اور اس کے بیٹے کا لب و لہجہ؟”
چیف منسٹر نے کچھ کہنے کی کوشش کی، مگر جسٹس نیاز نے ان کی بات نہیں سنی۔
”اور آپ نے مجھے اس شخص کے ساتھ سیٹل منٹ کے لئے بلایا تھا۔۔۔”
”نیاز صاحب! آپ … ”جسٹس نیاز نے ایک بار پھر ان کی بات کو مکمل طورپر نظر انداز کرتے ہوئے کہا۔
”اس شخص نے مجھ پر من گھڑت الزامات کی بھرمار کر دی… مجھے بلیک میل کرنا چاہتے ہیں یہ دونوں باپ بیٹا۔” اس بار چیف منسٹر بالآخر اپنی بات کہنے میں کامیاب ہو گئے۔
”نیاز صاحب! آپ نے ان کی بات نہیں سنی۔ کم از کم میری بات تو سنیں… مجھے تو کچھ کہنے کا موقع دیں۔” چیف منسٹر کے لہجے میں تلخی اور ترشی نمایاں تھی۔ جسٹس نیاز ہونٹ بھنچتے ہوئے انہیں دیکھنے لگا۔
”میں اگر یہ چاہتا ہوں کہ آپ دونوں کی سیٹل منٹ ہو جائے تو یہ میں آپ کے لئے کر رہا ہو… ایاز حیدر کے لئے نہیں۔” چیف منسٹر نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا۔ ”آپ کی فیملی اور خود آپ کا نام کتنا خراب ہو جائے گا۔ آپ کا کیرئیر داؤ پر لگ جائے گا۔”
”آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ کیا آپ کو بھی اس شخص کی بکواس پر یقین آگیا ہے کہ میرے بیٹے نے… ” جسٹس نیاز نے بے اختیار مشتعل ہو کر کہا۔
”نیاز صاحب ! بات یقین کی نہیں ہے۔ بات ان ثبوت اور حقائق کی ہے جو میرے سامنے ہیں… آپ کے بیٹے نے واقعی ایسی حرکت کی تھی۔” چیف منسٹر نے جسٹس نیاز کی بات کاٹتے ہوئے بڑی سنجیدگی سے کہا۔
”میرے بیٹے نے… ” جسٹس نیاز نے ایک بار پھر اپنا مؤقف دہرانے کی کوشش کی، مگر چیف منسٹر نے ان کی بات ایک بار پھر کاٹ دی۔
”ٹھیک ہے مان لیتے ہیں کہ آپ کا بیٹا بے قصور تھا، اس نے کچھ بھی نہیں کیا۔ یہ بھی مان لیتے ہیں کہ آپ نے اس کی بھانجی کو اغوا کرنے کی کوشش کی نہ ہی اس کے گھر پر حملہ کروایا… تو پھر اس سب سے کیا فرق پڑتا ہے۔”
”اس معاملہ کو طے تو آپ کو پھر بھی کرنا پڑے گا… ایاز حیدر کے ساتھ آپ جھگڑا جتنا بڑھائیں گے۔ آپ کو اتنا ہی نقصان پہنچے گا… آپ اس کی دشمنی افورڈ نہیں کر سکتے۔” چیف منسٹر نے آہستہ آہستہ ان کے سامنے حقائق رکھنا شروع کر دیئے۔
”کیوں نہیں افورڈ کر سکتا… کیس کروں گا میں۔ ”
”بچوں جیسی باتیں نہ کریں نیاز صاحب! آپ خود جج ہیں… اس ملک میں قانون اور انصاف کے نظام کو کوئی آپ سے بہتر نہیں سمجھ سکتا۔” چیف منسٹر نے انہیں ٹوک دیا۔
”کتنے سال بھاگیں گے آپ، اس کیس کے پیچھے اور عدالت ثبوت مانگتی ہے… یہ دونوں کہاں سے لائیں گے؟”
”اگر مجھے اصلی گواہ اور ثبوت نہ ملے تو میں بھی جھوٹے گواہ اور ثبوت لے آؤں گا… آپ نے خود ہی کہا ہے میں جج ہوں… عدالت کے نظام کو مجھ سے بہتر کون جانتا ہے۔”جسٹس نیاز نے طنزیہ انداز میں کہا۔
”ٹھیک ہے۔ آپ یہ کر لیں گے مگر یہ ثبوت اور گواہ استعمال کس کے خلاف کریں گے… ایاز حیدر ایک واحد شخص نہیں ہے ایک پورے گروپ کا نمائندہ ہے… مجھ پر پہلے ہی کہاں کہاں سے پریشر پڑ رہا ہے، آپ کو اندازہ نہیں ہے۔ میں ان لوگوں کو Resist (مزاحمت) نہیں کر سکتا۔” چیف منسٹر نے صاف گوئی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا۔
”مجھے ابھی اپنی معیاد پوری کرنی ہے اور میں اپنے خلاف کوئی محاذ کھڑا کرنا نہیں چاہتا۔ آپ ایاز حیدر کو اچھی طرح جانتے ہیں وہ ہر ہتھکنڈہ استعمال کرنے کا ماہر ہے اور میں یہ نہیں چاہتا کہ اگلے الیکشنز میں پریس میرے خلاف کوئی الزامات لگائے اور مجھے اور میری پارٹی کو نقصان پہنچے۔ ہم نے ان لوگوں کے ذریعے اگر اپنے غلط اور ناجائز کام کروائے ہیں تو پھر ہمیں یہ بات نہیں بھولنی چاہئے کہ وہ آنکھیں اور منہ صرف اسی وقت تک بند رکھتے ہیں، جب تک ہم ان کی دم پر پیر نہ رکھیں۔”
”مجھے افسوس ہو رہا ہے، یہ دیکھ کر آپ اس حد تک ایاز حیدر سے خوفزدہ ہیں… مگر میں اس سے خوف زدہ نہیں ہوں… اگر اس کے پاس ایک پریشر گروپ ہے تو میرے پاس بھی پولیٹیکل سپورٹ ہے، میں اسے اس کے خلاف استعمال کروں گا۔”
”میں اس سے خوفزدہ نہیں ہوں، صرف سمجھداری سے کام لے رہا ہوں۔ اسی سمجھداری سے جس کا مظاہرہ قاسم درانی نے کیا ہے۔اگر آپ کے پاس پولیٹیکل سپورٹ ہے تو اس کے پاس بھی ایک پریشر گروپ ہے، مگر وہ بھی چار دن اخبارات میں بیانات دینے کے علاوہ اور کچھ نہیں کر سکا۔”

”میں قاسم کی طرح بزدل نہیں ہوں۔” جسٹس نیاز اب بھی اپنی بات پر اڑے ہوئے تھے۔
”بزدلی اور سمجھداری میں فرق ہوتا ہے۔ قاسم نے بزدلی کا نہیں سمجھداری کا ثبوت دیا۔ بیٹا تو اس کا چلا گیا وہ تو آنہیں سکتا، چاہے وہ کچھ بھی کر لے ۔ مگر انکم ٹیکس کی فائلز کھلوا کر وہ اپنا بزنس کیوں تباہ کروائے… باقی دونوں فیمیلیز نے بھی آپ سے معذرت کر لی ہے کہ انہوں نے اپنا معاملہ اللہ پر چھوڑ دیا ہے اور وہ اس کیس کی پیروی کرنا نہیں چاہتے… یقیناً یہ بھی انہوں نے بغیر سوچے سمجھے تو نہیں کیا ہو گا… کچھ نہ کچھ تو سوچا ہی ہو گا انہوں نے۔” چیف منسٹر اب بے دھڑک انہیں سب کچھ بتاتے جا رہے تھے۔
”میں چاہتا ہوں آپ بھی ایسی ہی سوجھ بوجھ کا مظاہرہ کریں پریس میں شائع ہونے والی خبروں سے آپ کو یہ اندازہ تو ہو ہی گیا ہو گا کہ ایاز حیدر کس حد تک جا سکتا ہے… اب جب وہ آپ کے بیٹے کے بارے میں یہ سارا مواد پریس کو دے دے گا تو پریس کیا شور مچائے گا۔ آپ کو اس کا اندازہ ہونا چاہئے۔”
جسٹس نیاز چیف منسٹر کا منہ دیکھتے رہے۔
”ابھی تو اسے اپنی فیملی کی عزت اور ساکھ کا احساس ہے اس لئے وہ اصل تفصیلات نہیں بتا رہا اخبارات تک نہیں پہنچا رہا، اگر اس نے ایسا کر دیا تو آپ کو اپنے بیٹے، اس کے کردار اور اس کی حرکات کے حوالے سے کتنے سوالات کے جوابات دینا پڑیں گے، آپ کو اس کا اندازہ نہیں ہے۔”
”ایاز حیدر آپ کے ساتھ واقعی اچھی ڈیل کرنا چاہتا ہے… اگر آپ اس کے بیٹے اور بھتیجے کے خلاف انکوائری پر اصرار نہ کریں اور اس کیس کو ختم کر دیں تو وہ سپریم کورٹ کا جج بنوانے کے لئے آپ کے لئے لابنگ کرے گا اور اسے حکومت اور عدلیہ کے حلقوں میں جتنا اثر و رسوخ حاصل ہے، یہ کام اس کے لئے بالکل مشکل نہیں ہو گا۔”
”میں اپنے بیٹے کے قتل کا سودا کر لوں… آپ یہ چاہتے ہیں؟” جسٹس نیاز نے ایک بار پھر تلخ لہجے میں کہا، مگر اس بار ان کی آواز پہلے کی طرح بلند نہیں تھی۔
”میں آپ کو مجبور نہیں کرتا… آپ اپنے آپشنزکو دیکھ لیں… اگر کوئی اور بہتر صورت حال نظر آتی ہے تو وہ اختیار کر لیں۔ مگر میرے خیال میں اس سے بہتر موقع آپ کے پاس نہیں ہے… آپ اپنے بیٹے کے لئے اپنا کیریئر تو داؤ پر نہیں لگا سکتے؟”
جسٹس نیاز اس بار ان کی بات کے جواب میں خاموش رہے۔ چیف منسٹر کو ان کے تاثرات سے اندازہ ہو چکا تھا کہ وہ آہستہ آہستہ اپنا اعتماد کھو رہے ہیں۔ شاید وہ اب پہلی بار اپنے عمل کے نتائج پر غور کر رہے تھے۔ جو چیف منسٹر نے ان کے سامنے رکھے تھے۔
”ایاز حیدر اور اس کی قبیل کے لوگوں کو ہر پنجرے سے نکلنا آتا ہے۔ مگر آپ اور میں اتنی چابیاں نہیں بدل سکتے، بہتر ہے ایک با عزت سیٹلمنٹ کے ساتھ اس معاملہ کو ختم کر دیا جائے۔ ” چیف منسٹر کا لہجہ اور مستحکم ہو تا جا رہا ہے۔
”کون سی سیٹلمنٹ ؟ میری خاموشی کے عوض صرف سپریم کورٹ کی ایک سیٹ؟” جسٹس نیاز نے کچھ سوچتے ہوئے لہجے میں کہا۔
”تو آپ کیا چاہتے ہیں؟… سپریم کورٹ کا جج بننا کوئی معمولی بات تو نہیں ہے۔”
”میرے لئے معمولی ہی ہے۔ میں جو کچھ گنوا کر یہ عہدہ حاصل کر رہا ہوں… وہ ایسے بہت سے عہدوں سے بڑھ کر ہے۔
مجھے ایاز حیدر سے کچھ نہیں چاہئے… مگر مجھے آپ سے یہ گارنٹی چاہئے کہ مجھے واقعی سپریم کورٹ میں سیٹ مل جائے گی… میں اس سلسلے میں واضح یقین دہانی چاہتا ہوں۔”
”آپ کو میں زبان دیتا ہوں… مجھ پر بھروسا ہونا چاہئے …آپ کو… آپ کے ساتھ کیا جانے والا وعدہ ہر صورت میں پورا کیا جائے۔” چیف منسٹر نے انہیں یقین دلایا۔
”یہ تو وقت بتائے گا۔” جسٹس نیاز نے ایک طویل سانس لی۔ ان کے پورے وجود سے اب شکست خوردگی عیاں تھی۔
٭٭٭

”مجھے اندازہ نہیں تھا کہ آپ میوزک کو اتنا ناپسند کرتی ہوں گی۔” وہ اب اس کے قریب آتے ہوئے بڑے خوشگوار لہجے میں کہہ رہا تھا۔
”آپ کا اندازہ ٹھیک نہیں ہے میں میوزک کو قطعاً ناپسند نہیں کرتی۔” علیزہ نے اس کے تبصرے پر مسکرا کر کہا۔
”پھر اس وقت یہاں آپ کی موجودگی کیا ظاہر کر رہی ہے؟” وہ اس کے بالکل سامنے کھڑا ہو گیا۔
”میں کچھ دیر خاموشی میں بیٹھنا چاہتی تھی۔ اس لئے باہر نکل آئی۔ ” اس نے وضاحت کی۔
”پھر تو شاید میں نے آپ کو ڈسٹرب کیا؟” اس کا لہجہ اس بار معذرت خواہانہ تھا۔
”نہیں ایسا نہیں ہے۔”
”میں بیٹھ سکتا ہوں یہاں؟”
وہ اس سے کچھ فاصلے پر بیٹھ گیا۔ کچھ دیر تک دونوں خاموش رہے پھر اس خاموشی کو ایک بار پھر جنید نے ہی توڑا۔
”آپ کو خاموش رہنا اچھا لگتا ہے؟” وہ اس کے سوال پر کچھ حیران ہوئی۔
”پتا نہیں۔۔۔”
”مجھے اچھا لگتا ہے۔”
”خاموش رہنا؟”
”ہاں۔”
”دوسروں کا؟” علیزہ نے حیرانی سے اسے دیکھا۔
”نہیں بھئی اپنا۔”
علیزہ نے غور سے اسے دیکھا۔ ”مگرآپ خاموش تو نہیں رہتے۔”
جنید یک دم کھلکھلا کر ہنس پڑا۔ ”آپ کو لگتا ہے کہ میں بہت باتیں کرتا ہوں؟” وہ جیسے اس کے تبصرے پر پوری طرح محظوظ ہوا تھا۔
”بہت نہیں مگر باتیں تو کرتے ہیں۔”
اس نے کہا۔ ”مجبوری ہے۔ تھوڑا بہت تو بولنا پڑے گا مجھے، بالکل خاموش رہ کر تو کام نہیں چلے گا۔”
علیزہ نے اس کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا، وہ صرف مسکرائی۔
”یہاں پہلے کبھی آئی ہیں؟”
”ہاں چند بار۔”
”کیسی لگی یہ جگہ؟”
”اچھی ہے۔”
”صرف اچھی؟” وہ حیران ہوا۔
”آپ کے پاس کوئی Superlatives (بہترین اصطلاح) نہیں ہیں اس جگہ کے لئے؟”
علیزہ نے کندھے اچکائے۔
”نہیں بہت اچھی ہے۔”
وہ ایک بار پھر ہنسا۔
”اصل میں ، میں ایسی جگہوں پر زیادہ آرام محسوس نہیں کرتی۔” اس نے مدہم مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔
”ارے یہ تو بہت ہی عجیب بات ہے ۔ میں یہاں بالکل گھر کاسا آرام محسوس کرتا ہوں۔”
”اپنے اپنے ٹمپرامنٹ کی بات ہے۔”
”ہاں شاید… مجھے لگتا ہے آپ کو سیر و تفریح میں زیادہ دلچسپی نہیں۔” وہ اس کے درست اندازے پر مسکرائی۔
”مجھے سیر و سیاحت میں خاصی دلچسپی ہے۔ وجہ جو بھی ہو۔”
But I love to be here, there, everywhere.
That’s where men differ from women.
وہ کہہ کر ایک لمحہ کے لئے رکا… شاید وہ علیزہ کا ردعمل دیکھنا چاہتا تھا، مگر اسے پھر خاموش پا کر اس نے اپنی بات جاری رکھی۔
”یہ جگہ چھٹیاں گزارنے کے لئے بہترین ہے میری ہمیشہ خواہش تھی کہ مجھے کبھی ایسی کسی جگہ پر کوئی پروجیکٹ ملے… پہاڑی علاقے میں کوئی بھی پروجیکٹ ڈیزائن کرنا زیادہ مشکل کام ہے۔ بہت سی چیزوں کا خیال رکھنا پڑتا ہے… آپ کے Potential (استعداد) اور Caliber(قابلیت) کا ٹیسٹ ہوتا ہے… ایک ہی پروجیکٹ سے آپ کو اندازہ ہو جاتا ہے کہ آپ کتنے پانی میں ہیں۔”
وہ جتنی دلچسپی سے بتا رہا تھا وہ اتنی ہی غیر دلچسپی سے سن رہی تھی۔
”حالانکہ بہت تھوڑا سا کام ہے جو مجھے کرنا ہے اور کسی بلڈنگ کا Extension (توسیع) یا Renovation(ترمیم) کرنے میں آرکٹیکٹ کے پاس کام کا اتنا مارجن نہیں ہوتا، جتنا ایک نئی بلڈنگ ایک Full fledged(مکمل) بلڈنگ بنانے میں ہوتا ہے مگر میں پھر بھی اس پروجیکٹ کو انجوائے کر رہا ہوں… اچھا تجربہ ہے اور یہ… ”
بات کرتے کرتے وہ یک دم رک گیا۔
”آپ کو میری باتیں سمجھ میں نہیں آرہی ہوں گی۔” علیزہ کا دل چاہا وہ اس سے کہے کہ اسے خاصی تاخیر سے اس بات کا احساس ہوا ہے ، مگر اس نے کہا۔
”میں سمجھنے کی کوشش کر رہی ہوں۔”
”آپ کو آرٹ میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔”
”نہیں مجھے ہے۔ میں پینٹنگ کرتی ہوں مگر پینٹنگ اور آرکیٹیکچر میں بہت فرق ہوتا ہے آرکیٹکچر خاصی ٹیکینکل چیز ہے۔ ”
”چلیں یہ ٹاپک بھی گیا۔” اس نے جنید کو بہت مدہم آواز میں بڑبڑاتے سنا اور حیرت سے اس کے چہرے کو دیکھا۔ اس کا تبصرہ خاصا غیر متعلق تھا۔
”آپ کا دل نہیں چاہا یہاں آکر کچھ پینٹ کرنے کو؟” اس نے فوراً ہی اگلا سوال کیا۔
آرٹسٹ اور پینٹرز تو ایسی جگہوں سے بہت انسپائر ہوتے ہیں ویسے آپ کیا بناتی ہیں لینڈ اسکیپ… اسٹل لائف یا پورٹریٹ؟”
”موڈ پر ڈپینڈ کرتا ہے مگر اکثر لینڈ اسکیپ ، باقی دونوں میں بہت زیادہ دلچسپی نہیں ہے مجھے۔”
”تو پھر تو آپ کو اپنا ایزل اور کینوس لے کر آنا چاہئے تھا یہاں۔”
علیزہ کو بہت عرصے بعد اچانک اس وقت احساس ہوا کہ ایک لمبے عرصے سے اس نے واقعی کوئی لینڈ اسکیپ بنانے کی کوشش نہیں کی تھی اور یہ واقعی حیرت کی بات تھی کہ یہاں آکر بھی اسے کچھ بنانے کی تحریک نہیں ہو رہی تھی… چاروں طرف پھیلے ہوئے رنگوں اور خوبصورتی کے باوجود اس نے ایک گہری سانس لی جنید ابھی تک اس کے جواب کا منتظر تھا۔
”ہاں آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں مگر میں واقعی اپنے ساتھ کچھ لے کر نہیں آئی۔” ایک پھیکی مسکراہٹ کے ساتھ اس نے کہا۔
”چلیں کوئی بات نہیں اگلی بار سہی۔” جنید نے بڑی لاپروائی کے ساتھ کہا۔
اس سے پہلے کہ وہ اس سے کچھ کہتی جنید کے موبائل کی بیپ سنائی دینے لگی۔ جنید نے اپنا موبائل نکال کر کال کا نمبر چیک کیا۔ علیزہ نے اس کے چہرے پر ایک مسکراہٹ پھیلتے دیکھی۔
”یہ یقیناً میری امی ہوں گی۔” اس نے علیزہ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا اور موبائل کان سے لگا لیا۔
”السلام علیکم امی… کیسی ہیں آپ؟”
”میں بالکل ٹھیک ہوں۔” وہ اب دوسری طرف سے ہونے والے سوالات کا جواب دینے میں مصروف تھا۔
”نہیں اب مجھے بالکل بھی ٹمپریچر نہیں ہے… میں نے ابھی آدھ گھنٹہ پہلے چیک کیا ہے… بالکل نارمل تھا۔”
”جی، جی میں نے جوشاندہ بھی پیا ہے… پچھلے دو گھنٹے میں دوبار آپ کو آواز سے اندازہ ہو ہی گیا ہو گا کہ گلے کی حالت کیسی ہے۔” وہ دوسری طرف سے اپنی امی کی بات سنتے ہوئے اچانک ہنسا۔
”ایک ہائی نیک پہنا ہے شرٹ کے نیچے… ایک اور سویٹر پہنا ہے… اور جیکٹ بھی پہنی ہوئی تھی۔ مگر اس وقت میری گود میں پڑی ہوئی ہے کیونکہ آج سردی زیادہ نہیں ہے… میں پہن لوں گا… امی! پہن لوں گا… اچھا… اچھا… اچھا ابھی پہن لیتا ہوں جی۔”
علیزہ دلچسپی سے اسے دیکھتی رہی، وہ اب موبائل گود میں رکھے برق رفتاری سے جیکٹ پہننے میں مصروف تھا۔
”میں نے پہن لی ہے۔” وہ اب موبائل پکڑ کر مسکرائے ہوئے کہہ رہا تھا۔ پھر وہ اچانک اپنی گھڑی دیکھنے لگا، علیزہ نے اس کے چہرے پر موجودمسکراہٹ کو بہت گہرا ہوتے دیکھا۔
”تھینک یو۔۔۔” وہ اب کچھ کہنے کے بجائے دوسری طرف سے آنے والی آواز سن رہا تھا۔
”ٹھیک ہے… تھینک یو… ہاں بات کروائیں۔۔۔” وہ اب ایک بار پھر کسی اور سے بات کرتے ہوئے شکریہ ادا کر رہا تھا۔
”تھینک یو فری…!میں ٹھیک ٹھاک ہوں انجوائے کر رہا ہوں… تم بھجوا دینا۔۔۔”
وہ اب فون پر کسی اور کا نام لے رہا تھا اور ایک بار پھر شکریہ ادا کرتے ہوئے دوسری طرف آنے والی آواز کی بات سنتے ہوئے ہنس رہا تھا۔
کچھ دیر بعد اس نے خدا حافظ کرتے ہوئے موبائل بند کیا اور معذرت خواہانہ انداز میں علیزہ سے کہا۔
”سوری… میں گھر بات کر رہا تھا… آپ بہت بور ہوئی ہوں گی۔” اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتی موبائل پر ایک بار پھر بیپ ہونے لگی۔ وہ ایک بار پھر معذرت کرکے کال ریسیور کرنے لگا۔
اگلے دس پندرہ منٹ وہ لگاتار ایک کے بعد ایک کال ریسیور کرتا رہا۔ موبائل بند کرتے ہی ایک بار پھر بیپ ہونے لگتی اور وہ پھر گفتگو میں مصروف ہو جاتا… پھر اس نے موبائل کو بند کر دیا۔ ایک گہرا سانس لیتے ہوئے اس نے علیزہ سے کہا۔
”آج میری برتھ ڈے ہے۔ اب صبح تک موبائل اسی طرح بجتا رہے گا۔”
”ہیپی برتھ ڈے۔” علیزہ نے اسے مبارک باد دی، وہ پہلے ہی اس کا اندازہ کر چکی تھی۔
”میرا خیال ہے، اب ہمیں اندر چلنا چاہئے، کافی رات ہو چکی ہے… آپ مزید تو یہاں بیٹھنا نہیں چاہتی ہوں گی؟” جنید نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا وہ بھی اٹھ کر کھڑی ہو گئی۔
”آپ بیمار ہیں؟” جنید کے ساتھ سیڑھیاں اترتے ہوئے اس نے پوچھا۔
”بیمار ہوں نہیں ، بیمار تھا۔”جنید نے مسکراتے ہوئے بتانا شروع کیا۔ ”چند دن پہلے فیور اور فلو تھا… امی کو فون پر آواز سے پتا چل گیا اور پھر بس میری شامت آگئی۔ اصل میں دو تین ماہ پہلے مجھے ٹائیفائیڈ ہو گیا تھا کچھ عرصہ ہاسپٹل میں بھی رہنا پڑا۔ امی اس وجہ سے زیادہ پریشان تھیں… حالانکہ یہاں پرویسی سردی نہیں ہے جس سے مجھے کوئی پریشانی ہو، مگر وہ پھر بھی فکر مند ہیں بالکل روایتی ماں ہیں وہ۔ ” وہ مسکراتا ہوا کہتا گیا۔
علیزہ نے اسے رشک سے دیکھا۔ ”آپ کی امی بہت محبت کرتی ہیں آپ سے؟”
”ہاں خاصی۔” جنید نے خوش دلی سے کہا۔
”آپ کو آپ کے فرینڈز رنگ کر رہے تھے؟”
”ہاں فرینڈز بھی… کزنز بھی، کچھ کو لیگز بھی۔”
”آپ بہت سوشل ہیں؟”
”بہت زیادہ نہیں… مگر میرا سوشل سرکل پھر بھی وسیع ہے۔” جنید نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔
”آپ بہت خوش قسمت ہیں۔” اس نے چند لمحوں کی خاموشی کے بعد جنید سے کہا اسے واقعی جنید پر رشک آرہا تھا۔ جنید نے اس کی بات پر مسکرا کر اسے بڑے غور سے دیکھا۔
”آپ کل کھانا کھائیں گی میرے ساتھ؟” علیزہ نے کچھ حیرانی سے اسے دیکھا۔
”میں برتھ ڈے کے سلسلے میں ہی دعوت دے رہا ہوں آپ کو۔” جنید نے جلدی سے وضاحت کی۔”آپ میرے ساتھ لنچ کریں گی تو مجھے بہت خوشی ہو گی۔”
وہ اسے صاف انکار کر دینا چاہتی تھی، مگر وہ ایسا نہیں کر سکی۔ غیر محسوس طور پر اس نے جنید کی بات پر سر ہلا دیا۔ جنید بے اختیار مسکرایا۔
”تھینک یو۔” علیزہ نے محسوس کیا جیسے وہ اس آفر کو قبول کرنے پر خوش تھا۔
”اس کے بعد آپ چاہیں تو کل رات بھی ہم یہیں واک کر سکتے ہیں… یا پھر میں آپ کو شام کو ہائکنگ پر لے جا سکتا ہوں۔ آپ واپس اسلام آباد کب جا رہی ہیں؟”
علیزہ کچھ حیرت سے رک کر اسے دیکھنے لگی۔ وہ اس طرح شیڈول طے کر رہا تھا جیسے دونوں کی بہت پرانی جان پہچان ہو۔ اس کے انداز میں جو تھا وہ بے تکلفی نہیں تھی… کچھ اور تھا… شاید اپنائیت یا پھر وہ اسے کوئی نام نہیں دے پا رہی تھی۔
”پرسوں۔” کچھ دیر اسے دیکھتے رہنے کے بعد اس نے جنید سے کہا۔ وہ ایک بار پھر ساتھ ساتھ چلنے لگے۔
٭٭٭
”ہم لوگ پانچ بہن بھائی ہیں… میں دوسرے نمبر پر ہوں… ایک بہن مجھ سے بڑی ہیں۔” اگلے دن وہ لنچ پراسے بتا رہا تھا۔ ”دوسرا بھائی سب سے چھوٹا ہے۔ خاصی روایتی قسم کی فیملی ہے ہماری۔ ” وہ مدہم آواز میں مسکراتے ہوئے کہہ رہا تھا۔
”میری بڑی بہن کی شادی ہو چکی ہے۔ وہ اسلام آباد میں ہی ہوتی ہے۔ میری فیملی لاہور میں ہے، میں بھی وہیں اپنے بابا کی فرم میں کام کرتا ہوں… میرے بابا بھی آرکیٹکٹ ہیں۔”
کھانا کھاتے ہوئے اس کی باتیں سنتی رہی، کل کی نسبت آج اس کا ڈپریشن خاصا کم ہو چکا تھا اور وہ اندازہ نہیں کر پا رہی تھی کہ اس میں جنید کا کتنا ہاتھ تھا۔
اس دن لنچ پر ان دونوں میں خاصی طویل گفتگو ہوئی اور علیزہ کو احساس ہوا کہ جنید اور اس کی بہت سی عادات ایک جیسی تھیں۔ وہ بہت شائستہ اور نفیس مزاج کا مالک تھا۔ اپنی عمر کے عام نوجوانوں کے برعکس وہ خاصی میچور سوچ رکھتا تھا۔ وہ بڑے نپے تلے انداز میں گفتگو کرتا تھا۔
وہ اس سہ پہر کو اس کے ساتھ ہائکنگ کے لئے بھی گئی۔
جنید ایک بہت اچھا فوٹو گرافر بھی تھا۔ علیزہ کو اس وقت خوشگوار حیرت ہوئی جب اس نے کیمرہ پاس ہونے کے باوجود اپنے کیمرہ سے علیزہ کی کوئی تصویر نہیں لی، البتہ خود اس کے کیمرہ سے کچھ بہت اچھے مناظر کے علاوہ علیزہ کی بھی چند تصویریں یہ کہتے ہوئے کھینچیں۔
”مجھے امید ہے کہ آپ جب اس رول کو ڈویلپ اور پرنٹ کروائیں گی تو آپ کو احساس ہو گا کہ میں صرف اچھا آرکٹیکٹ ہی نہیں فوٹو گرافر بھی ہوں۔”
رات کو وہ پول کے پاس پھرتے رہے، جنید کے طے کئے ہوئے شیڈول کے مطابق۔
پھر اگلی صبح وہ اسے اور سجیلہ کو خدا حافظ کہنے بھی آیا۔
”اچھا لڑکا ہے جنید۔” سجیلہ نے واپسی پر راستے میں گاڑی میں اس سے کہا۔
”ہاں۔” اس نے مختصر جواب دیا۔
”تمہارا اچھا وقت گزر گیا اس کے ساتھ… مجھ سے تمہاری تعریف کر رہا تھا۔۔۔” سجیلہ نے مسکراتے ہوئے اسے بتایا۔ وہ جواباًمسکرائی۔
”ہاں بہت اچھا وقت گزرا میرا اس کے ساتھ۔”
”بہت گرومڈ لگا مجھے وہ۔” سجیلہ نے ایک اور تبصرہ کیا۔
”آپ اس کی فیملی کو جانتی ہیں؟” علیزہ نے جواب میں کچھ کہنے کے بجائے سوال کیا۔
”کافی عرصے سے۔” سجیلہ نے مختصر جواب دیا ،پھر کہا۔
”تم ملنا چاہو گی اس کے گھر والوں سے؟”
”نہیں۔” علیزہ گڑبڑا گئی۔ ”میں کیوں ملنا چاہوں گی۔”
”اچھے لوگ ہیں۔”
”ہاں جنید سے مل کر اس کا اندازہ ہوتا ہے، مگر مجھے جنید کو دیکھ کر بہت عجیب سا احساس ہوتا رہا۔”
سجیلہ نے چونک کر اسے دیکھا۔ ”عجیب سا احساس؟”
”ہاں مجھے یوں لگتا ہے جیسے میں نے اسے پہلے بھی کہیں دیکھا ہے… یا اس کی آواز سنی ہے۔ اس کا نام بھی مجھے بہت شناسا لگا… مگر بہت سوچنے کے باوجودبھی مجھے یادنہیں آیا کہ میں نے اسے کہاں دیکھا ہے۔” علیزہ نے پر سوچ انداز میں کہا۔
”کیا جنید نے تم سے ایسا کچھ کہا؟”
”نہیں اس نے تو ایسا کچھ نہیں کہا۔”
سجیلہ نے ایک گہرا سانس لیا۔
”تو پھر یہ تمہارا وہم ہو گا… بعض لوگوں کی شکل ہمیں ویسے ہی شناسا لگتی ہے۔” علیزہ الجھے ہوئے انداز میں کندھے اچکا کر رہ گئی۔
”شاید ہو سکتا ہے۔”
٭٭٭
بھوربن سے واپسی کے بعد تیسرے دن وہ لاہور چلی آئی۔نانو واپس اپنے گھر شفٹ ہو چکی تھیں۔ گھر کی بیرونی دیوار اور گیٹ کی نئے سرے سے تزئین و آرائش کر دی گئی تھی۔ مگر گیٹ پر پہلی نظر نے علیزہ کو پھر اس رات کی یاد دلائی۔ وہ کچھ دیر گیٹ پر موجود چوکیدار کا حال احوال دریافت کرتی رہی۔
پھر اندر آکر اس نے سب سے پہلی کال شہلا کو کی۔
”میں ابھی آتی ہوں تمہاری طرف۔”
اس نے علیزہ کی آواز سنتے ہی کہا۔ علیزہ نے فون بند کر دیا۔ وہ جانتی تھی وہ آدھا گھنٹہ کے بعد وہاں موجود ہوگی، اور ایسا ہی ہوا اور اس وقت لاؤنج میں نانو کے ساتھ گپ شپ میں مصروف تھی جب شہلا آگئی۔
رات تک وہ دونوں باتیں کرنے میں مصروف رہیں۔ اس کے جانے کے بعد وہ اپنے کمرے میں سونے کے لئے جانا چاہتی تھی۔ جب نانو نے اسے روک لیا۔
”تم سے کچھ بات کرنی ہے۔ علیزہ”
”سارا دن ہم باتیں ہی تو کرتے رہے ہیں نانو۔”ا سے نانو کی بات پر کچھ حیرت ہوئی۔
”ہاں باتیں ہی کرتے رہے ہیں مگر یہ ذرا سنجیدہ بات ہے اور میں چاہتی ہوں تم اسے توجہ سے سنو۔” نانو اب سنجیدہ تھیں۔
”ٹھیک ہے آپ باتیں کریں۔ میں سن رہی ہوں۔” وہ بھی سنجیدہ ہو گئی۔
”اسلام آباد میں سجیلہ نے تمہیں ایک لڑکے سے ملوایا تھا۔ جنید ابراہیم نام تھا اس کا۔” انہوں نے بات شروع کرتے ہوئے کہا۔
”اسلام آباد میں نہیں… بھوربن میں ملوایا تھا۔” اس نے تصحیح کرتے ہوئے کہا۔
”چلو بھوربن ہی سہی… تم یہ بتاؤ… تمہیں کیسا لگا ہے وہ؟”
علیزہ کے دل کی دھڑکن یک دم تیز ہو گئی۔ نانو کا سوال اب اس کے لئے سوال نہیں رہا تھا۔
”کیا مطلب ہے نانو آپ کا، وہ ویسا ہی تھا جیسے سارے لڑکے ہوتے ہیں۔” اس بار اس کے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہو چکی تھی۔
”جنید ابراہیم کے گھر سے پرپوزل آیا ہے تمہارے لئے۔”
نانو نے اب تمہید ختم کر دی۔ وہ بے حس و حرکت بیٹھی رہی۔
”مجھے اچھے لگے ہیں اس کے گھر والے۔” نانو نے اس کے تاثرات سے بے خبر اسے بتا رہی تھیں۔ ”میں نے لڑکے کی تصویر دیکھی ہے… مجھے وہ بھی بہت اچھا لگا ہے۔ سجیلہ سے فون پر میری بات ہوئی تو اس نے بھی کافی تعریف کی اس کی۔”
وہ بات کرتے کرتے ایک لحظہ کے لئے رکیں۔ پھر اس کا چہرہ دیکھتے ہوئے انہوں نے کہا۔
”لیکن بہرحال میں نے ابھی ان سے سوچنے کے لئے کچھ و قت مانگا ہے۔ کیونکہ تم سے پوچھے بغیر تو کچھ بھی نہیں ہو سکتا۔”
”مجھے شادی میں کوئی دلچسپی نہیں ہے… اور فی الحال تو بالکل بھی نہیں۔”
”یہ ایک انتہائی احمقانہ بات ہے اور کم از کم میں ایسی کسی بات کی بنا پر تو تمہاری شادی کے بارے میں سوچنا نہیں چھوڑ سکتی۔” نانو نے قطعی انداز میں کہا۔
”مجھے کچھ وقت چاہئے… چند سال اور۔”
”کس لئے؟”
”آپ جانتی ہیں نانو! میں کسی این جی او یا نیوز پیپر کو جوائن کرنا چاہتی ہوں… میں کچھ سوشل ورک کرنا چاہتی ہوں۔”
علیزہ یہ کام تم شادی کے بعد بھی کر سکتی ہو۔”
”نہیں ۔ میں یہ کام شادی کے بعد نہیں کر سکتی۔ شادی کے بعد کوئی اتنا یکسو ہو کر کام نہیں کر سکتا۔”
نانو اس کی بات پر بے اختیار ہنسیں۔ ”یہ کیا احمقانہ بات ہے۔”
وہ خاموش رہی۔
”بس یہی وجہ ہے یا کوئی اور بھی وجہ ہے؟” اس نے کچھ کہے بغیر صرف ایک نظر انہیں دیکھا۔
”نانو ! میں اس سے صرف دو تین بار ملی ہوں اور وہ بھی اسے ایک عام سا شخص سمجھ کر… اگر میں نے یہ کہہ دیا ہے کہ وہ ایک اچھا آدمی ہے تو اس کا یہ مطلب تو نہیں ہے کہ اس اچھے شخص کو میرے سر پر ہی مسلط کر دیا جائے۔” اس بار اس کی آواز میں خفگی نمایاں تھی۔
”کون مسلط کر رہا ہے کسی کو تمہارے سر پر…؟ میں نے تو تمہیں صرف ایک پرپوزل کے بارے میں بتایا ہے۔” اس بار نانو نے قدرے مفاہمانہ انداز میں کہا۔
”ثمینہ اور سکندر کا بہت پریشر ہے مجھ پر… وہ بار بار مجھ سے اس بارے میں پوچھتے رہتے ہیں۔ ابھی تک تو میں یہی کہتی رہی کہ تم اپنی تعلیم مکمل کر رہی ہو مگر اب میں اس سے اور کیا کہوں… پھرتمہارے انکلز کا بھی بہت پریشر ہے… اب تمہیں اپنے مستقبل کے بارے میں کچھ سوچ لینا چاہئے۔”

وہ اپنے بائیں ہاتھ کے انگوٹھے کو کھرچتے ہوئے ان کی باتیں سنتی رہی۔
”ٹھیک ہے… کوئی بات نہیں۔ میں تمہیں کچھ اور لوگوں کے بارے میں بتا دیتی ہوں، تم ان کے بارے میں غور کر لو۔” نانو نے تحمل سے کہا۔
”میں ان میں سے کسی کے ساتھ شادی کرنا نہیں چاہتی۔” اسے نانو کے ان مجوزہ پرپوزلز کے بارے میں پیشگی اندازہ تھا۔
”یعنی آپ اپنی زندگی قوم کی خدمت کے لئے وقف کرنا چاہتی ہیں۔ ” وہ اب ان کے چہرے اور آواز میں خفگی محسوس کر سکتی تھی۔ ”یا پھر شاید کسی نیوز پیپر میں کام کرکے کوئی انقلاب لانا چاہتی ہیں… اسی قسم کا انقلاب جو آپ نے چند ماہ پہلے لانے کی کوشش کی اور جس کے نتیجے میں آپ کو یہاں سے جانا پڑا۔”
وہ اب قدرے بلند آواز میں بات کر رہی تھیں۔ علیزہ اسی طرح سر جھکائے اپنی انگلیوں کو انگوٹھے سے کھرچتے ہوئے کسی دلچسپی کے بغیر ان کی باتیں سنتی رہیں۔
”کیا بننا چاہتی ہیں آپ…؟” جون آف آرک یا پھر مدر ٹریسا … یا پھر آپ نے بس یہ طے کر لیا ہے کہ آپ ایک کے بعد ایک کرکے میرے لئے مصیبتیں لاتی رہیں گی۔”
”نانو! آپ ایک فضول بات پر ناراض ہو رہی ہیں۔” اس نے ان کی باتوں کے جواب میں خاصی بے زاری سے کہا۔
”فضول بات…؟ تم نے کبھی سوچا ہے تم کس قدر Irrationalہو ۔ علیزہ … اپنے یوٹوپیا سے باہر آکر کبھی حقیقی دنیا کو بھی دیکھا کرو۔” ان کی ڈانٹ جاری رہی۔
”میں بہت اچھی طرح جانتی ہوں نانو کہ میں کتنی Irrational ہوں… آپ کو مجھے اس بارے میں بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔ میں نے آپ سے یہ تو نہیں کہا کہ میں شادی نہیں کروں گی… میں صرف یہ کہہ رہی ہوں کہ میں ابھی شادی نہیں کرنا چاہتی۔”
”تم جنید سے شادی نہیں کرنا چاہتی تو پھر کس سے شادی کرنا چاہتی ہو؟” نانو کے منہ سے بے اختیار نکلا۔
اور پھر جیسے انہیں اپنے سوال پر افسوس ہوا۔ علیزہ نے سر اٹھا کر انہیں دیکھا۔ اس نے کچھ نہیں کہا تھا اور اس نے سب کچھ کہہ دیا تھا۔ نانو کا غصہ اور ناراضی یک دم جھاگ کی طرح غائب ہو گئی۔ وہ کئی منٹ بالکل خاموش بیٹھی رہیں۔
”تم جو چاہتی ہو علیزہ… وہ ممکن نہیں ہے۔”
”میں نے تو آپ سے کچھ بھی نہیں کہا۔”
”میں اس کے باوجود سب کچھ جانتی ہوں۔ ہر بات کو سمجھنے کے لئے لفظوں کا سہارا ضروری نہیں ہے۔”
وہ کچھ دیر ان کا چہرہ دیکھتی رہی۔ ”نانو ! اگر آپ واقعی سب کچھ جانتی ہیں تو پھر آپ مجھ سے یہ سب کیوں کہہ رہی ہیں؟”
”تم واقعی عمر سے شادی کرنا چاہتی ہو۔”
”میں ابھی شادی نہیں کرنا چاہتی۔” اس کا سر جھکا ہوا تھا۔
”میں نے تم سے یہ نہیں پوچھا … کچھ اور پوچھا ہے۔”
”نانو ! میں نے ابھی شادی کے بارے میں کچھ نہیں سوچا۔”
”علیزہ ۔” انہوں نے اس بار تنبیہی انداز میں کہا۔

”جس سوال کا جواب آپ جانتی ہیں ، وہ مجھ سے کیوں کہہ رہی ہیں؟” اس بار اس کی آواز میں واضح شکست خوردگی تھی۔
”عمر کے علاوہ میں اور کس سے شادی کر سکتی ہوں۔” اس کی آواز میں لرزش تھی یوں جیسے وہ اپنے آنسوؤں پر قابو پانے کی کوشش کر رہی ہو۔ ”آپ میرے سامنے ہر دوسرے دن کوئی نہ کوئی پرپوزل لا کر رکھ دیتی ہیں… آپ مجھ سے عمر کے پرپوزل کے بارے میں بات کیوں نہیں کرتیں… لیکن میں جانتی ہوں ۔ آپ یہ نہیں کر سکتیں۔ اگر عمر کو مجھ میں دلچسپی ہی نہیں ہے تو۔۔۔”
”اس کے باوجود تم۔۔۔” نانو نے اپنی بات ادھوری چھوڑ دی۔
”نانو! میں کیا کر رہی ہوں۔ آپ جانتی ہیں… میں حقیقت پسند ہونے کی کوشش کر رہی ہوں۔” وہ ایک لمحہ کے لئے رکی ”میں کوشش کر رہی ہوں کہ زندگی کو عمرکے بغیر گزارنا سیکھ جاؤں… مگر یہ بہت مشکل ہے۔ ” وہ مسکرائی… مگر اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔
”جنید بہت اچھا لڑکا ہے۔” نانو نے موضوع بدلنے کی کوشش کی۔
”عمر بھی بہت اچھا ہے۔”اس نے جواباً کہا۔
لاؤنج میں چند لمحے خاموش رہی۔
”نانو! ایک بار آپ اس سے میرے بارے میں بات کیوں نہیں کرتیں… آپ ایک بار اس سے میرے بارے میں بات تو کریں۔” اس بار اس کی آواز میں التجا تھی۔ ”آپ اسے یہاں بلا کر اس سے میرے بارے میں بات کریں۔”
”اور اگر اس نے انکار کر دیا تو…؟”
”اگر… اگر اس نے انکار کر دیا… تو پھر ٹھیک ہے۔ آپ جنید سے میری شادی کر دیں… میں اعتراض نہیں کروں گی۔” وہ مزید کچھ کہے بغیر اٹھ کر اپنے کمرے میں آگئی۔
”محبت اور عزت نفس کا آپس میں بڑا گہرا تعلق ہوتا ہے۔ محبت سب سے پہلے عزت نفس کو ختم کر دیتی ہے۔ یا بندہ محبت کرلے … یا پھر اپنی عزت… ہاتھ کی مٹھی میں دونوں چیزیں اکٹھی نہیں اسکتیں۔”
اپنے کمرے میں آنے کے بعد وہ بھی کچھ ایسا ہی محسوس کر رہی تھی… اسے یک دم بہت زیادہ تھکن کا احساس ہو رہا تھا۔
”کیا میں نے ٹھیک کیا ہے؟” کھڑکی کے پردے ہٹاتے ہوئے اس نے باہر پھیلی تاریکی میں جھانکتے ہوئے سوچا۔
”کیا خود کو اس قدر گرا دینا ٹھیک ہے؟” وہ اب سینے پر بازو لپیٹے سوچ رہی تھی۔ ”یہ جاننے کے باوجود کہ عمر اور جوڈتھ… پھر میں آخراپنے لئے کس رول کا انتخاب کرنا چاہ رہی ہوں۔” اس نے اپنے ہونٹ بھینچ لیے۔ ”یہ جاننے کے باوجودکہ عمر شاید کبھی بھی مجھ سے شادی کے لئے انٹرسٹڈ نہیں رہا۔ میں اس سے پھر بھی یہ تعلق کیوں قائم کرنا چاہتی ہوں۔” اس نے ایک گہرا سانس لیا۔” آخر عمر ہی کیوں۔۔۔” وہ خود کو بے حد بے بس محسوس کر رہی تھی۔ ”شاید میں ابھی بھی میچور نہیں ہوئی ہوں… شاید میں کبھی بھی میچور نہیں ہو سکتی… یا پھر عمر جہانگیر وہ حد ہے جہاں میری میچوریٹی ختم ہو جاتی ہے۔ میرے حواس خمسہ کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں… پھر میں صرف وہ دیکھتی ، وہ سنتی اور وہ کہتی ہوں جو اس کی خواہش ہوتی ہے… یا شائید اسی کیفیت کو محبت کہتے ہیں۔
اسے اپنی آنکھیں دھندلی ہوتی محسوس ہوئیں۔
اعتراف کا لمحہ عذاب کا لمحہ ہوتا ہے۔

جاری ہے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔