Amarbail By Umerah Ahmed Readelle50103 Episode 53
Rate this Novel
Episode 53
امربیل از عمیرہاحمد
۔۔۔۔
قسط نمبر 53
۔۔۔۔۔
باب 48
اگلے دن وہ شام کو شہلا کے ساتھ کے ایف سی گئی جب ایک لمبے عرصے کے بعد اس نے عمر کو وہاں دیکھا۔ علیزہ اور اس کی ٹیبل کے درمیان کافی فاصلہ تھا اور یہ صرف ایک اتفاق ہی تھا کہ علیزہ اور شہلا کی اپنے ٹیبل کی طرف بڑھتے ہوئے اس پر نظر پڑ گئی، کے ایف سی میں اس وقت خاصا رش تھا اور شاید یہ رش ہی تھا جس کی وجہ سے عمر انہیں نہیں دیکھ سکا۔ وہ ایک ٹیبل پر بیٹھا کھانا کھانے میں مصروف تھا مگر اس کی ٹیبل پر ایک اور فرد بھی موجود تھا۔
یقیناً اس کے ساتھ کوئی اور بھی تھا۔
شہلا نے عمر کو نہیں دیکھا اور علیزہ نے عمر کی وہاں موجودگی کے بارے میں اسے بتایا بھی نہیں، وہ دونوں کھانا کھاتے ہوئے باتیں کرتی رہیں مگر وقتاً فوقتاً علیزہ کی نظریں اس ٹیبل کی طرف جاتی رہیں جہاں پر عمر بیٹھا تھا۔
شہلا کے ساتھ کھانا کھاتے ہوئے اس نے سو فٹ ڈرنک کاایک گھونٹ پیا اور پھر اسے جیسے اچھو سا لگا۔
”کیا ہوا علیزہ؟” شہلا نے دیکھا جو اپنے منہ کو صاف کرتے ہوئے کچھ ہکا بکا سی عمر کے ٹیبل پر بیٹھے ہوئے دوسرے شخص کو دیکھ رہی تھی۔
وہ جنید ابراہیم تھا۔
وہ پلکیں جھپکائے بغیر جنید کو عمر کے سامنے بیٹھے دیکھتی رہی، اس کی بھوک اڑ گئی تھی۔ وہ دونوں کھانا کھاتے ہوئے ایک دوسرے سے باتوں میں مصروف تھے۔
”تمہیں کیا ہوا کھا کیوں نہیں رہیں تم؟” شہلا نے اسے متوجہ کیا مگر اس نے شہلا کی بات پر دھیان نہیں دیا وہ ابھی بھی ان ہی دونوں کو دیکھ رہی تھی۔ شہلا نے اس کے تاثرات کو نوٹ کیا اور گردن موڑ کر اس سمت دیکھا جہاں وہ دیکھ رہی تھی۔ چند لمحوں کی جستجو کے بعد اس کی نظر عمر اور جنید پر پڑ گئی۔
”عمر جنید کے ساتھ کیا کر رہا ہے؟ ” شہلا نے بے اختیار گردن سیدھی کرتے ہوئے حیرانی سے کہا۔
”میری زندگی تباہ کرنے کی کوشش۔” علیزہ نے ان دونوں سے نظریں ہٹائے بغیر تلخی سے شہلا سے کہا۔ شہلا کچھ نہیں سمجھی۔ اس نے ایک بار پھر گردن موڑ کر عمر اور جنید کو دیکھا۔
”کیا یہ ایک دوسرے کو جانتے ہیں؟” شہلا نے کچھ تجسس آمیز انداز میں پوچھا۔
”اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ یہ ایک دوسرے کو جانتے ہیں یا نہیں۔ عمر ضرورت کے وقت گدھے کو بھی باپ بنا لینے والا آدمی ہے اور اس وقت گدھا جنید ہے۔ عمر سے زیادہ اچھی طرح کوئی کسی کو استعمال کرنے کا فن نہیں جانتا، بادشاہ ہے وہ اس کام میں۔” اس نے کوک کا گھونٹ لے کر اپنا اشتعال کم کرنے کی کوشش کی۔
”آج کل اسے جنید کی ضرورت ہے تو جنید حاضر ہے۔”
”کیوں جنید کی کیا ضرورت ہے اسے؟ اس سے کیا تعلق ہے اس کا؟” شہلا نے ٹشو سے منہ پونچھتے ہوئے کہا۔
”جنید کے ذریعے مجھے پریشرائز کیا جا سکتا ہے نا۔ جنید کے ذریعے مجھ سے ساری معلومات اور خبریں لی جا سکتی ہیں صالحہ کے بارے میں اور اس کے Source of information(ذرائع) کے بارے میں۔” اس نے بے دلی سے برگر اٹھایا۔
”جنید کو استعمال کرنا عمر جیسے آدمی کے لیے کیا مشکل ہے۔ میں بھی حیران تھی کہ جنید آخر اس سارے معاملے میں اتنی دلچسپی کیوں لے رہا ہے۔ اسے آخر میرے ایک عدد کزن کے ساتھ کیوں ہمدردی ہو رہی ہے۔ کزن بھی وہ جسے وہ ٹھیک سے جانتا بھی نہیں۔”
علیزہ نے ایک بار پھر ان دونوں پر نظر ڈالی۔
”میرا اندازہ کتنا غلط تھا، میں سوچ رہی تھی شاید عباس نے جنید کو پریشرائز کیا ہوگا کیونکہ جنید کی ایک بہن کے ساتھ اس کی دوستی تھی مگر میں تو احمق تھی۔ مجھے پتا ہونا چاہیے تھا کہ عمر اتنا گرا ہوا شخص ہے کہ وہ خود بھی اس معاملے میں جنید سے بات کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرے گا۔ ” اس کا چہرہ بری طرح سرخ ہو رہا تھا۔
”میں اب سوچتی ہوں شہلا! میں بہت خوش قسمت تھی جو اس شخص نے مجھے ریجیکٹ کر دیا ورنہ میں اس جیسے خود غرض اور گھٹیا آدمی کے ساتھ زندگی کیسے گزار سکتی تھی۔”
”ریلیکس اتنے غصے میں آنے کی ضرورت نہیں ہے، ہم یہاں انجوائے کرنے آئے ہیں۔ مزید ٹینشن لینے تو نہیں۔” شہلا نے اسے ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی۔
”تم جانتی ہو اس شخص کی وجہ سے پہلی بار جنید کے ساتھ میرا جھگڑا ہوا ہے۔” وہ اب بات کرتے ہوئے تقریباً روہانسی ہو گئی۔ ”اس کی وجہ سے وہ مجھ سے ناراض ہو گیا ہے مگر اس کو تو ذرہ برابر بھی اس بات کی پروا نہیں ہو گی۔”
”مگر اس معاملے میں اب تم کیا کر سکتی ہو، جنید تم سے پوچھ کر تو ہر کام نہیں کرے گا۔ ” شہلا نے کہا
”ہاں مجھ سے پوچھ کر ہر کام نہیں کرے گا مگر میں چاہتی ہوں جنید عمر سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہ رکھے، وہ کبھی اس سے نہ ملے۔ ” اس نے ایک بار پھر ان کی طرف دیکھا ”اور تم دیکھو، جنید نے ایک بار بھی مجھے یہ نہیں بتایا کہ عمر مسلسل اس سے رابطے میں ہے۔” اس نے تلخی سے کہا۔
”ایک بار بھی اس نے مجھ پر یہ ظاہر نہیں کیا کہ وہ یہ سب کچھ عمر کے کہنے پر کر رہا ہے۔ میں نے جب اس سے عباس کا ذکر کیا بھی تو اس نے مجھے نہیں بتایا کہ وہ یہ سب کچھ عباس کے نہیں خود عمر کے کہنے پر کر رہا ہے اور جنید…جنید کبھی بھی مجھ سے کوئی بات نہیں چھپاتا تھا مگر عمر…صرف اس کی وجہ سے یہ سب کچھ ہو رہا ہے یقیناً اس نے جنید سے کہا ہوگا کہ وہ مجھے اس سے ہونے والی گفتگو کے بارے میں نہ بتائے۔” وہ اب کڑی سے کڑی جوڑ رہی تھی۔
”تمہیں ایک مشورہ دوں علیزہ؟” شہلا نے اچانک اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔
”کیا؟” علیزہ نے چونک کر اسے دیکھا۔
”تم ان سب باتوں کو جانے دو۔” شہلا نے کہا۔
” کن باتوں کو جانے دوں؟”
”ان دونوں کے میل میلاپ کو۔ ” شہلا نے سنجیدگی سے کہا۔ ”تمہارے اعتراض کرنے سے کچھ نہیں ہوگا۔ تو کیا یہ بہتر نہیں ہے کہ تم اعتراض کرو ہی نہ۔”
”کیوں اعتراض نہ کروں…عمر کو اس کے ساتھ رابطہ کرنے کا کیا حق پہنچتا ہے، جنید کو استعمال کرنے کا کیا حق پہنچتا ہے۔ اس کو شرم آنی چاہیے۔” علیزہ نے غصے کے عالم میں اپنی گردن ہلاتے ہوئے کہا۔
”اگر جنید نے تم سے صاف صاف یہ کہہ دیا کہ عمر اس سے یوں ہی ملا تھا۔ تو…؟” شہلا نے دوٹوک انداز میں کہا ”اور ہو سکتا ہے وہ دونوں آج یہاں اتفاقاً ہی مل گئے ہوں۔”
”اتفاقاً…تم ان دونوں کو دیکھو جس طرح یہ لوگ ہنس ہنس کر آپس میں باتیں کر رہے ہیں، کیا یہ ہو سکتا ہے کہ اتفاقاً ہی ملے ہوں۔ جنید کبھی پہلی ملاقات میں کسی کے ساتھ اتنی بے تکلفی کا مظاہرہ نہیں کرتا اور نہ ہی عمر۔۔۔” اس نے شہلا کی بات کو یکسر رد کر دیا۔ ”یہ دونوں آج اتفاقاً نہیں ملے ہیں۔ میں اتنی بے وقوف تو نہیں ہوں کہ اتفاقی ملاقات کو جج نہ کر سکوں۔”
”ملنے دو…دفع کرو دونوں کو۔” شہلا نے اس بار کچھ الجھے ہوئے انداز میں کہا۔ علیزہ نے اس کے لہجے پر غور نہیں کیا۔
”کیوں ملنے دوں ان دونوں کو…میں نہیں چاہتی جنید اس جیسے آدمی سے ملے۔ میں نہیں چاہتی جنید اس جیسے آدمی کے ہاتھوں استعمال ہو۔”
شہلا نے گردن موڑ کر ایک بار پھر ان دونوں کو دیکھا مگر اس بار اس کے چہرے پر سنجیدگی تھی۔ وہ جیسے کسی سوچ میں ڈوبی ہوئی تھی کچھ دیر ان دونوں کو دیکھتے رہنے کے بعد اس نے کہا۔
”یہ سارا قصہ تو اب ویسے بھی ختم ہو ہی گیا ہے۔ عمر کو معطل کیا جا چکا ہے اور اس کے خلاف انکوائری ہو رہی ہے۔ اب وہ اور کیا جنید کو استعمال کرے گا۔ تم اگر جنید کو منع نہ بھی کرو تب بھی میں نہیں سمجھتی کہ وہ زیادہ عرصے جنید سے ملتا رہے گا۔ آخر اب اور کیا لینا ہے اسے جنید سے یا تم سے The cat is already out of the bag (بلی اب تھیلے سے باہر آچکی ہے) وہ کچھ سوچتے ہوئے بولی۔
”ویسے بھی تم اتنی Dominating (حاوی) نہیں ہو کہ جنید کو کسی بات پر مجبور کر سکو۔ یہ بھی سوچو کہ اگر تم اس کی بات ماننے سے صاف صاف انکار کر سکتی ہو تو کیا وہ تمہاری بات مانے گا۔ وہ تم سے یہ نہیں کہے گا کہ اب تم کیوں اس کو اپنی مرضی پر چلانے کی، اس کے فیصلوں کو بدلنے کی کوشش کررہی ہو۔” شہلا نے جیسے تنبیہ کرنے والے انداز میں اس سے کہا۔
”میں اس کو اپنی مرضی پر چلانے کی کوشش نہیں کر رہی اور نہ ہی آئندہ کبھی کروں گی اور dominate کرنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا مگر میں عمر کو پسند نہیں کرتی۔ اسے اس بات کا پتا ہونا چاہیے اور اسے میری پسند یا ناپسند کا احترام کرنا چاہیے۔” اس بار علیزہ کا انداز کچھ مدافعانہ تھا۔
”یہ تو وہ پہلے ہی جان چکا ہوگا کہ تم عمر کو ناپسند کرتی ہو۔ میرا خیال ہے یہ بات تو اس کے لیے کوئی راز نہیں ہو گی مگر اب اگر وہ اس سے ملتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ اسے ناپسند نہیں پسند کرتا ہے۔ پھر اگر اس نے تم سے یہ کہا کہ تمہیں بھی اس کی پسند اور ناپسند کا احترام کرنا چاہیے تو؟”
علیزہ اسے گھورنے لگی۔ ”تم عمر کو جانتے ہوئے بھی اس طرح کی بات کہہ رہی ہو؟”
”ہاں عمر… میں ایسی کوئی بات نہیں ہے جس کو جنید ناپسند کرے۔ تم عمر کو کیوں ناپسند کرتی ہو۔ اس کی وجوہات بھی دوسری ہیں، صرف صالحہ والا معاملہ تو اس کی وجہ نہیں ہے۔” شہلا نے اطمینان سے برگر کھاتے ہوئے کہا۔ علیزہ کچھ لمحوں کے لیے کچھ نہیں بول سکی۔
”پھر میں عمر سے بات کروں گی۔ میں اس سے کہوں گی کہ وہ جنید سے ملنا چھوڑ دے۔” علیزہ نے ایک بار پھر ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا۔
”آخر تم دفع کیوں نہیں کرتیں اس سارے معاملے کو، وہ اس سے ملتا ہے ملنے دو۔ ضروری نہیں ہے کہ ان کے ملنے کی وجہ وہی ہے جو تم سمجھ رہی ہو۔” اس بار شہلا نے قدرے چڑ کر کہا۔ ”ہو سکتا ہے وہ کسی اور وجہ سے آپس میں ملتے ہو۔”
”میں چاہتی ہوں یہ جنید سے ایسے ویسے کیسے بھی نہ ملے۔ میں چاہتی ہوں جنید اس کی شکل تک نہ دیکھے۔” علیزہ بری طرح مشتعل ہو گئی۔
”تم بہت بدل گئی ہو علیزہ۔” شہلا نے یکدم اس سے کہا۔
”کیا مطلب؟” علیزہ نے اسے ناراضی سے دیکھا۔
”پانچ سال پہلے تم کیسی تھیں اور اب کیسی ہو؟ اتنا غصہ اور ضد تو کبھی نہیں کیا کرتی تھیں تم…پھر اب کیا ہو گیا ہے؟”
علیزہ نے جواب دینے کے بجائے اپنے سامنے پڑا ہوا برگر کھانا شروع کر دیا۔
”کتنی جلدی غصہ آ جاتا ہے تمہیں…اور پچھلے ایک سال سے تو تم…آخر ہو کیا رہا ہے تمہیں؟” شہلا اب جیسے اسے ڈانٹ رہی تھی۔
”کچھ نہیں ہو رہا مجھے، میں ایسی ہی تھی ہمیشہ سے۔” اسے شہلا کی بات پر اور غصہ آیا ”کیا ہونا ہے مجھے پچھلے ایک سال میں۔ میں بہت خوش ہوں اور میں آخر خوش کیوں نہیں ہوں گی۔ جنید جیسے آدمی کا ساتھ کسی بھی لڑکی کے لیے خوشی کا باعث ہو سکتا ہے اور ملک کے سب سے بڑے اخباروں میں سے ایک کے لیے کام کر رہی ہوں۔ لوگ میرا نام پہچانتے ہیں اور تم کہہ رہی ہو کہ میں غصہ کرتی ہوں۔ کیوں کروں گی میں غصہ، میں اپنی کامیابیوں کو انجوائے کر رہی ہوں۔” اس نے اپنا برگر پلیٹ میں پٹخ دیا۔ ”چاہے تمہیں یا اور کسی کو اس کا یقین آئے یا نہ آئے مگر یہ سچ ہے کہ میں بہت خوش ہوں اور میں اپنی زندگی سے بہت مطمئن ہوں اور میں اپنی کامیابیوں پر فخر کرتی ہوں بس یا اور کچھ ۔۔۔”
”میں نے یہ سب کچھ تو نہیں پوچھا تھا۔” شہلا نے مدھم آواز میں کہا۔ ”میں نے تو صرف یہ پوچھا تھا کہ اتنی غصیلی کیوں ہو گئی ہو تم، اتنی جلدی غصہ کیوں آتا ہے تمہیں۔ ضد کیوں کرنے لگی ہو اتنی؟ میں نے یہ نہیں کہا تھا کہ تم مجھے اپنی کامیابیوں اور فتوحات کی داستان سنانی شروع کر دو۔
”تم کیا چاہتی ہو شہلا! میں اسی طرح ڈفر اور ڈل رہتی، جس طرح پانچ سال پہلے تھی۔ آنکھوں پر پٹی اور منہ پر ٹیپ لگا کر پھرتی جس طرح دس سال پہلے پھرتی تھی، فار گاڈ سیک میں بے وقوف نہیں رہی ہوں۔ عقل اور سمجھ آ گئی ہے مجھ میں…عمر جیسے لوگوں کی انجوائے منٹ کا سامان نہیں بن سکتی میں، نہ کوئی اب مجھے استعمال کر سکتا ہے اور تو کچھ نہیں بدلا۔۔۔” اس نے تلخی سے کہا۔
شہلا نے جواب میں کچھ کہنے کے بجائے صرف اس کو ایک بار غور سے دیکھا۔
”اس طرح مت دیکھو مجھے۔ میں اب بھی تمہیں کوئی داستان امیر حمزہ نہیں سنا رہی ہوں۔” علیزہ نے برگر کی ٹرے اپنے آگے سے خفگی کے عالم میں ہٹا دی۔
”اچھا نہیں دیکھتی تمہیں بیٹھ کر کھانا تو کھاؤ۔” شہلا نے اٹھتے دیکھ کر کہا ”کم از کم اب اس طرح منہ اٹھا کر یہاں سے مت جاؤ۔”
”نہیں اب مجھے یہاں نہیں رکنا، میں نے جتنا کھانا تھا کھا لیا…تم کھانا چاہو تو کھاؤ، میں باہر گاڑی میں تمہارا انتظار کر لوں گی۔” اس نے اکھڑے ہوئے انداز میں اپنا بیگ اٹھاتے ہوئے کہا۔
”فار گاڈ سیک علیزہ…!مجھے تمہارے ساتھ یہاں آنا ہی نہیں چاہیے تھا۔” شہلا نے اپنی ٹرے اٹھاتے ہوئے کہا۔
”آئندہ مت آنا۔” علیزہ نے اپنا موبائل اٹھاتے ہوئے اس پر ایک نمبر ڈائل کرنا شروع کر دیا۔
”اب کسے کال کر رہی ہو؟” شہلا نے ٹھٹھکتے ہوئے کہا۔
علیزہ نے جواب نہیں دیا، وہ کھڑے کھڑے دور عمر اور جنید کو دیکھتے ہوئے نمبر ڈائل کرتی رہی۔
جنید نے موبائل کی بیپ پر اپنا موبائل اٹھا کر کالر کا نمبر دیکھا اور پھر موبائل آف کر دیا۔
”کس کی کال ہے؟” عمر نے بات کرتے کرتے رک کر اس سے پوچھا۔
”ایسے ہی ایک دوست کی۔۔۔” اس نے عمر کو ٹال دیا۔
”تم کیا کہہ رہے تھے؟” اس نے عمر کو بات جاری رکھنے کے لیے کہا۔
علیزہ نے موبائل کان سے ہٹا لیا۔
اس کے چہرے کا رنگ بدل گیا تھا۔
”کیا ہوا؟” شہلا نے پوچھا۔ علیزہ نے جواب دینے کے بجائے عمر کو اور جنید کو دیکھا۔
”جنید کو کال کی ہے؟” شہلا کو اچانک خیال آیا۔
”ہاں اور اس نے کال ریسیو نہیں کی۔ جب تک یہ شخص اس کے ساتھ ہے۔۔۔” اس نے بات ادھوری چھوڑ کر اپنے ہونٹ بھینچ لیے۔
”اچھا چلو…ہم جا رہے تھے یہاں سے۔” شہلا نے اسے دھکیلتے ہوئے کہا۔ اس نے ایک ہاتھ میں اپنی ٹرے پکڑی ہوئی تھی، علیزہ اس کے ساتھ چلنے لگی مگر ساتھ چلتے ہوئے اب وہ ایک بار پھر موبائل پر کوئی نمبر ڈائل کر رہی تھی۔
”علیزہ ! بار بار نمبر ڈائل مت کرو۔ موبائل کو بیگ میں ڈالو۔ جنید ابھی بات کرنا نہیں چاہ رہا ہوگا کیونکہ وہ کھانے میں مصروف ہے اور پھر عمر کے سامنے وہ تم سے بات نہیں کرنا چاہ رہا ہوگا۔”
عمر نے حیرانی سے اپنے موبائل پر نمودار ہونے والا نمبر دیکھا اور پھر جنید کو۔
”کیا ہوا؟” جنید نے اس کے چہرے کے تاثرات دیکھتے ہوئے کہا۔
”علیزہ کال کر رہی ہے۔” عمر نے کال ریسیو کرتے ہوئے کہا مگر اس کے ہیلو کہتے ہی دوسری طرف سے موبائل بند ہو گیا۔
”بات نہیں کی تم نے؟” جنید نے اس سے پوچھا۔
”نہیں بند کر دیا اس نے۔” عمر نے کچھ الجھے ہوئے انداز میں کہا۔
”اس کی کال پر اتنے حیران کیوں ہو رہے ہو تم؟” جنید نے کہا۔
”کیونکہ بہت عرصہ بعد اس نے آج اچانک موبائل پر مجھے کال کی ہے۔” عمر اب بھی الجھا ہوا تھا۔ جنید یکدم کھانا کھاتے کھاتے رک گیا۔
”تمہیں کیا ہوا؟” عمر نے حیرانی سے اسے دیکھا۔
”ابھی تھوڑی دیر پہلے اس نے مجھے بھی کال کی تھی۔”
”وہ کال جو تم کسی دوست کی کہہ رہے تھے؟”
”ہاں…اب میں سوچ رہا ہوں کہ اگر وہ تمہیں موبائل پر کال نہیں کرتی تو اس طرح آج اچانک اس نے ہم دونوں کو باری باری کال کیوں کی ہے؟”
”میں جانتا ہوں اس نے کیوں بار بار ہم دونوں کو کال کی ہے۔” عمر نے اچانک اپنی ٹرے پیچھے کھسکاتے ہوئے کہا۔
”کیونکہ وہ اسی ہال میں کہیں موجود ہے اور اس نے ہم دونوں کو دیکھ لیا ہے۔” عمر نے ادھر ادھر نظریں دوڑائیں۔
”اب رش اتنا ہے کہ اس طرح بیٹھے بٹھائے تو کچھ بھی نظر نہیں آئے گا۔ کھڑے ہو کر دیکھنا چاہیے۔” عمر اپنی کرسی کھسکا کر اٹھ کھڑا ہوا اور چاروں طرف نظریں دوڑانے لگا جبکہ جنید نے ایسی کوئی زحمت نہیں کی۔ وہ اطمینان سے اسی طرح بیٹھے ہوئے ایک بریسٹ پیس کو ساس کے ساتھ کھاتا رہا۔ عمر چند منٹوں کے بعد کندھے اچکاتے ہوئے اپنی کرسی پر بیٹھ گیا۔
”مجھے ہال میں تو کہیں نظر نہیں آئی۔ حالانکہ میرے اندازے کے مطابق اسے یہیں کہیں ہونا چاہیے تھا۔”
”اگر کال کی وجہ ہم دونوں کا اکٹھے دیکھ لینا ہے تو تمہارا کیا خیال ہے کہ وہ یوں آرام سے ہمیں کال کرتی پھرے گی۔” جنید نے سو فٹ ڈرنک کا سپ لیتے ہوئے اطمینان بھرے انداز میں کہا۔ ”وہ تو ہمیں دیکھتے ہی یہاں موجود ہوتی اور مجھے بازو سے پکڑ کر اس ٹیبل سے لے جاتی۔”
عمر اس کی بات پر مسکرایا۔ ”نہیں میرا خیال ہے، وہ پہلے مجھے دو تین تھپڑ لگاتی اور اس کے بعد تمہارا بازو پکڑ کر تمہیں یہاں سے لے جاتی۔” اس بار جنید اس کی بات پر مسکرایا اور ٹشو سے اپنا منہ صاف کرنے لگا۔
”اس کے باوجود میرا خیال ہے وہ یہیں کہیں ہے۔” عمر اب سو فٹ ڈرنک کے سپ لیتے ہوئے اپنے اطراف میں نظریں دوڑاتا ہوا کہہ رہا تھا۔
”اگر تمہارا اندازہ ٹھیک ہے تو مجھ سے اس کی شکایتوں میں ایک اور شکایت کا اضافہ ہو گیا ہے اور آج رات کو وہ ایک بار پھر مجھے فون کرے گی اور مجھ سے تمہارے ساتھ ہونے والی میری ملاقات کے بارے میں پوچھے گی۔ اس کا مطلب ہے مجھے پہلے ہی خاصا خبردار ہو جانا چاہیے۔” جنید نے اطمینان سے کہا۔
”اور اچھا ہی ہوا مجھے یہ پتا چل گیا ورنہ میں پھر اس بارے میں اس سے جھوٹ بولتا۔”
اس نے کندھے اچکاتے ہوئے عمر سے کہا۔ عمر نے اس کی بات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا، وہ سوفٹ ڈرنک کے سپ لیتے ہوئے اب کسی گہری سوچ میں ڈوبا ہوا تھا۔
٭٭٭
شہلا نے علیزہ سے فون چھین کر آف کر دیا اور اس کے بیگ میں ڈال دیا وہ اب کے ایف سی کی سیڑھیوں سے اتر رہی تھیں۔
”عمر کو فون کرنے کی کیا تُک بنتی ہے۔ اسے فون کرکے تم کیا کہو گی؟” اس نے علیزہ کو سرزنش کرنے والے انداز میں کہا۔
”جوبھی دل میں آئے گا میں کہوں گی۔”
”اور اس نے سب کچھ جنید کو بتا دیا تو؟”
”کیا بتائے گا وہ جنید کو؟”
”اس کے پاس بتانے کے لیے خاصا کچھ ہے۔” شہلا نے رک کر اسے دیکھا۔
”مثلاً کیا ہے اس کے پاس؟”
”وہ جنید کو اپنے لیے تمہاری ناپسندیدگی کی وجہ بتا دے گا۔”
”جنید پہلے ہی جانتا ہے کہ میں اسے کیوں ناپسند کرتی ہوں۔” علیزہ اس کی بات سے متاثر ہوئے بغیر بولی۔
”نہیں جنید نہیں جانتا…اگر جانتا ہوتا تو۔۔۔”
شہلا نے بات ادھوری چھوڑ دی، وہ دونوں اب پارکنگ میں اپنی گاڑی کے پاس پہنچ چکی تھیں۔
”جنید اچھی طرح جانتا ہے، میں سب کچھ بتا چکی ہوں اسے۔”
”کیا بتا چکی ہو؟” شہلا نے درشتی سے گاڑی کے پاس رکتے ہوئے کہا۔
”میں عمر کو اس کی حرکتوں کی وجہ سے پسند نہیں کرتی۔” علیزہ نے اپنی بات پر زور دیتے ہوئے کہا۔
”اس کے باوجود تم اس سے شادی کرنا چاہتی تھیں، یہ پتا ہے جنید کو؟”
علیزہ جواب میں کچھ نہیں بول سکی۔
”تمہاری ناپسندیدگی کی اصل وجہ یہ ہے کہ اس نے تم سے شادی نہیں کی۔”
”ایسا نہیں ہے۔” علیزہ نے کمزور آواز میں کہا۔
”ایسا ہی ہے علیزہ! چاہے تم اسے مانو یا نہ مانو اور اگر تمہاری حرکتوں کی وجہ سے عمر نے جنید کو یہ بات بتا دی تو نتائج کا اندازہ تم کر سکتی ہو۔ ” شہلا نے گاڑی کا دروازہ کھولتے ہوئے کہا۔
”کیامطلب ہے تمہاری اس بات کا۔” علیزہ نے بے یقینی سے اسے دیکھا۔
”یہ مطلب ہے کہ تم اپنے دماغ کو استعمال کیا کرو اور کوئی بھی کام کرنے سے پہلے اس کے بارے میں دوبار سوچا کرو۔۔۔” شہلا نے اس بار تیز آواز میں کہا۔
”کیا بتا دے گا وہ اسے، میرے بارے میں ؟ کون سی قابل اعتراض بات ہے جو…” شہلا نے اس کی بات کاٹ دی۔
”قابل اعتراض ہونے کا فیصلہ تم نہیں جنید کرے گا اور اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ عمر اسے کس طرح ساری بات بتاتا ہے۔”
علیزہ کچھ دیر اسے دیکھتی رہی پھر سر جھٹک کر گاڑی کا دروازہ کھول کر اندر بیٹھ گئی۔ اس کے ہونٹ بھینچے ہوئے تھے۔
”اب چلیں یہاں سے؟” شہلا نے اس کے چہرے کو غور سے دیکھتے ہوئے کہا۔
”تم کو ایک بات بتاؤں۔” علیزہ نے یکدم گردن موڑ کر شہلا سے کہا۔
”عمر ایک انتہائی کمینہ اور گھٹیا آدمی ہے، وہ بے حد خودغرض شخص ہے، اس کی نظر میں کسی چیز کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔” وہ بات کرتے کرتے لمحہ کے لیے رکی ”مگر اس نے آج تک میری کوئی بات کسی سے نہیں کہی۔ مجھے اس سے یہ خوف کبھی محسوس نہیں ہوا کہ وہ میرا کوئی راز کسی تیسرے آدمی کو بتا دے گا۔ اس نے میرے ساتھ ایسا کبھی کیا ہی نہیں اور تمہیں ایک اور بات بتاؤں۔۔۔”
وہ ایک لحظہ کے لیے پھر رکی۔ ”وہ اگر جنید کو یہ بات بتا دے گا تو جنید پر کوئی اثر نہیں ہوگا۔ تم جس بات سے مجھے ڈرا رہی ہو مجھے اس سے اس لیے خوف محسوس نہیں ہوتا کیونکہ میں جانتی ہوں جنید مجھے اتنی معمولی سی بات پر کبھی نہیں چھوڑے گا۔”
شہلا اس کی بات کے جواب میں کچھ نہیں کہہ سکی۔ علیزہ اب ونڈ سکرین سے باہر نظر آنے والی کے ایف سی کی عمارت کو دیکھ رہی تھی۔
رات کو جنید نے اسے فون کیا تھا مگر علیزہ نے فون پر اس سے بات نہیں کی، وہ شاید اس کال پر بہت خوش ہوتی اگر وہ چند گھنٹے پہلے ان دونوں کو وہاں بیٹھے اور پھر جنید کے اس کی کال کو اس طرح نظر انداز کرتے نہ دیکھ چکی ہوتی۔
”آپ اس سے کہہ دیں کہ میں اس سے بات نہیں کرنا چاہتی۔ میں مصروف ہوں جب فرصت ملے گی تو اس سے بات کر لوں گی۔” اس نے بڑی بے رخی کے ساتھ اپنے کمرے میں پیغام لے کر آنے والے ملازم سے کہا۔ ملازم نے حیرانی سے اسے دیکھا اور واپس آگیا۔
جنید کی اگلی کال اس کے موبائل پر آئی تھی۔ اس نے موبائل پر اس کا نمبر دیکھ کر موبائل آف کر دیا، جنید نے اس کے بعد کال نہیں کی۔
اگلے روز صبح جنید نے اس وقت کال کی جب وہ ناشتہ کر رہی تھی۔ اس نے ایک بار پھر موبائل آف کر دیا۔ جنید نے دوبارہ گھر کے فون پر کال کی۔ اس بار فون نانو نے اٹھایا۔ سلام دعا کے بعد انہوں نے کہا۔
”علیزہ ناشتہ کر رہی ہے، میں اسے بلواتی ہوں۔”
پھر انہوں نے ماؤتھ پیس پر ہاتھ رکھتے ہوئے اسے آواز دی۔ وہ کچھ دیر کانٹا ہاتھ میں پکڑے کچھ سوچتی رہی پھر کانٹے کو پلیٹ میں پٹخ کر فون کی طرف آگئی، نانو سے فون لیتے ہی اس نے کسی سلام دعا کے بغیر چھوٹتے ہی کہا۔
”میں آفس کے لیے نکل رہی ہوں، آج آفس میں بہت کام ہے مجھے …اور مجھے وہاں جلدی پہنچنا ہے۔ اس لیے بہتر ہے آج آپ مجھے فون نہ کریں ،میں رات کو بھی دیر سے گھر واپس آؤں گی اور آتے ہی سو جاؤں گی۔ کوشش کروں گی کہ کل آپ سے کچھ بات کروں۔”
”نہیں اس کی ضرورت نہیں ہے، کل میں بہت مصروف ہوں گا اور میں تمہیں بالکل بھی ڈسٹرب نہیں کرنا چاہتا جب تمہیں فرصت ملے تب بات ہو جائے گی۔”
دوسری طرف سے فون رکھ دیا گیا۔ جنید کی آواز میں کوئی گرم جوشی نہیں تھی، وہ جان گئی تھی کہ جنید کو اس کی بات بری لگی ہے مگر اس وقت اسے اس پر اتنا غصہ آ رہا تھا کہ اسے اس بات کی کوئی پروا نہیں تھی۔
”ہر بار اسے میں ہی فون کروں۔ ہر بار اسے میں ہی مناؤں …اور یہ ، یہ ہر بات مجھ سے چھپاتا رہا یہاں تک کہ عمر سے میل جول بھی ۔ عمر کے سامنے اس نے مجھ سے بات تک کرنا پسند نہیں کیا۔ فون بند کر دیا۔ یہ اہمیت ہے اس کی نظر میں میری۔”
وہ بری طرح کھولتی رہی۔ جنید پر اسے پہلے کبھی اتنا غصہ نہیں آیا تھا۔ اس کا خیال تھا جنید جیسے مزاج اور عادات والے شخص پر اسے غصہ آ ہی نہیں سکتا یا کم از کم اس طرح کا غصہ نہیں، جیسا غصہ وہ اس وقت اپنے اندر محسوس کر رہی تھی۔
جنید نے اگلے دن اسے فون نہیں کیا۔ رات کو جب وہ یہ طے کر رہی تھی کہ وہ بھی آئندہ اسے اس وقت تک فون نہیں کرے گی جب تک وہ خود اسے فون نہیں کر لیتا تو اچانک جنید نے اسے موبائل پر کال کر لیا۔ اس کا لہجہ اتنا پرسکون اور خوشگوار تھا کہ علیزہ کو جیسے حیرانی کا ایک جھٹکا لگا۔
”تو جناب…کیا ہو رہا ہے؟” رسمی سلام دعا کے بعد اس نے علیزہ سے پوچھا۔ کچھ دیر کے لیے وہ سمجھ ہی نہیں پائی کہ وہ کیا جواب دے۔ وہاں دوسری طرف لگ ہی نہیں رہا تھا کہ ان کے درمیان کوئی ناراضی ہوئی تھی۔
”کچھ نہیں، میں سونا چاہ رہی تھی۔” اس نے کچھ دیر سوچتے رہنے کے بعد کہا
”تم نے اتنے دن سے مجھ سے بات نہیں کی۔ تمہیں محسوس نہیں ہوا۔ اب تم سونے جا رہی ہو۔” جنید نے جیسے افسوس کا اظہار کیا۔ ”مجھ سے ناراض ہو کر نیند آ جاتی ہے تمہیں؟”
”ہاں بالکل آ جاتی ہے۔”
دوسری طرف وہ ہنسا۔ ”شکر ہے تم نے یہ نہیں کہا…بلکہ پہلے سے زیادہ اچھی آتی ہے۔”
”نہیں پہلے ہی کی طرح آتی ہے۔”
”یعنی میری ناراضی نے تمہارے معمولات پر کوئی اثر نہیں ڈالا؟”
”اگر آپ میری ناراضی سے متاثر نہیں ہوئے تو میں کیوں متاثر ہوں گی۔”
”یہ کس نے کہا ہے کہ میں تمہاری ناراضی سے متاثر نہیں ہوا۔ کھانا پینا چھوڑا ہوا ہے میں نے۔” دوسری طرف سے بظاہر سنجیدگی سے کہا گیا۔ علیزہ کو غصہ آیا۔
”گھر سے نکلنا تک بند کر دیا ہے، اس کے علاوہ اور کیا اثرات ہوتے ہیں؟”
”آپ نے مذاق اڑانے کے لیے فون کیا ہے؟”
”ارے…کس کا مذاق اڑا رہا ہوں میں؟”
”انسان اگر کھانا وغیرہ کھا لے، باہر بھی آتا جاتا رہے مگر دوسروں کو دھوکا دینے کی کوشش نہ کرے تو باہمی تعلقات کے لیے یہ بہتر نہیں ہے۔”
”یہ تم میرے بارے میں کہہ رہی ہو؟” اس بار جنید نے سنجیدگی سے کہا۔
”آپ اپنے بارے میں بھی سمجھ سکتے ہیں۔”
”علیزہ! کیا یہ بہتر نہیں ہے کہ ہم پچھلے کچھ دنوں کے واقعات کو Skip (چھوڑ) کرکے ایک دوسرے سے بات کریں؟” اس نے سنجیدگی سے کہا۔
”کیوں…؟”
”یہ ہم دونوں کے تعلقات کے لیے زیادہ بہتر رہے گا۔”
”کون سے تعلقات جنید…؟” اس نے اس بار بے صبری سے کہا۔ ”مجھے لگتا ہے کہ ہمارے درمیان اتنے لوگ ہیں کہ براہ راست والا تو کوئی تعلق شاید ہے ہی نہیں۔ آپ نے اتنے لوگوں کو اس رشتے میں فریق بنا لیا ہے کہ مجھے تو لگتا ہے ہماری کوئی پرائیویسی بھی نہیں ہے۔”
جنید نے اس کی بات کاٹ دی۔ ”تم عمر کی بات کر رہی ہو۔ میں جانتا ہوں۔”
”یقیناً جانتے ہوں گے، آپ نہیں جانیں گے تو کون جانے گا۔” علیزہ نے اس بار ناراضی سے کہا۔ ”آپ کی تو یہ اعلیٰ ظرفی ہے کہ آپ مان رہے ہیں کہ میں عمر کی بات کر رہی ہوں اور آپ یہ بات جانتے ہیں ورنہ آپ پہلے کی طرح صاف انکار کر دیتے اور یہ کہتے کہ عمر سے کبھی آپ کی کوئی بات ہی نہیں ہوئی تو میں کیا کر سکتی تھی۔”
”کیا یہ بہتر نہیں ہے کہ ہم عمر کی بات نہ کریں۔” جنید کا لہجہ یکدم خشک ہو گیا۔
”اس کی بات میں نے نہیں آپ نے شروع کی۔ اسے اپنے اور میرے درمیان آپ لے کر آئے تھے پھر اب اس کی بات کرنے سے کیوں ہچکچا رہے ہیں آپ؟”
”میں ہچکچا نہیں رہا ہوں۔ میں بس عمر کی بات نہیں کرنا چاہتا۔”
”آپ اس کے ساتھ کے ایف سی جا سکتے ہیں۔” علیزہ نے اپنی بات جاری رکھی۔ ”آپ مجھے دھوکے میں رکھ سکتے ہیں۔ آپ اس کے معطل ہونے پر مجھ سے بات کرنا بند کر سکتے ہیں مگر آپ اس کے بارے میں مجھ سے بات نہیں کر سکتے۔ آپ مجھے بے وقوف سمجھ رہے ہیں یا بے وقوف بنا رہے ہیں۔”
”تمہیں اس وقت غصہ آ رہا ہے اور غصہ میں بات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔” جنید نے تحمل سے کہا۔
”جنید! مجھے غصہ نہیں آنا چاہیے۔ آپ کی غلط بیانی پر بھی مجھے غصہ نہیں آنا چاہیے۔” وہ جنید کی بات پر اور ناراض ہوئی۔
”آپ نے عمر کی وجہ سے اتنے دنوں سے مجھ سے بات کرنا چھوڑا ہوا ہے اور آپ کو لگتا ہے غصہ میں، میں ہوں۔”
”اگر میں نے بات کرنا چھوڑا ہوا تھا تو فون بھی تو میں نے کیا ہے۔” جنید نے کہا۔
”آپ نے کتنی بار فون کیا ہے، بس کل اور آج…اور…اس سے پہلے جو میں آپ کو فون کرتی رہی وہ۔۔۔”
”ہم بچوں کی طرح فضول باتوں پر لڑرہے ہیں۔ ہمیں علم ہونا چاہیے کہ ہم میچور ہیں۔ ٹین ایجر نہیں ہیں۔” علیزہ کو اس کے میچور لفظ استعمال کرنے پر بے اختیار غصہ آ گیا۔
”نہیں میں میچور نہیں ہوں، اور میں واقعی بچوں کی طرح لڑ رہی ہوں کیا یہ بہتر نہیں کہ ہم بات کرنا ختم کر دیں۔”
”علیزہ ! کیا میں ایکسکیوز کروں تم سے…؟ او کے آئی ایم سوری۔”
علیزہ کے اشتعال میں اور اضافہ ہو گیا۔ ”کیا میں نے آپ سے کہا ہے کہ آپ ایکسکیوزکریں۔ بات بھی کی ہے میں نے اس کے بارے میں، پھر آپ کیوں ایکسکیوز کررہے ہیں۔ مجھے وہ لوگ اچھے نہیں لگتے جو اس طرح خواہ مخواہ ایکسکیوز کرتے پھریں۔”
”یعنی تمہیں میں اچھا نہیں لگتا؟”
”اب آپ پھر بات کو غلط رخ دے رہے ہیں۔” وہ گڑبڑائی۔
”ٹھیک ہے میں اب بات کو صحیح رخ دیتا ہوں ، تم کل کھانا کھانے چلو گی میرے ساتھ؟” جنید نے کہا۔
”نہیں۔۔۔” اس نے سوچے سمجھے بغیر کہا۔
”کے ایف سی لے کر جاؤں گا تمہیں…وہیں جہاں عمر کے ساتھ گیا تھا اور جہاں تم ہمیں دیکھنے کے بعد بھاگ گئی تھیں۔”
جنید نے اس بار شوخ لہجے میں کہا۔
”میں کہیں نہیں بھاگی تھی۔ کس نے کہا ہے کہ میں بھاگ گئی تھی؟” وہ چڑ کر بولی۔
”عمر نے بتایا ہے، اسے خاصا اندازہ ہے تمہارے ٹمپرامنٹ کا۔”
علیزہ کا چہرہ سرخ ہو گیا۔ ”آپ عمر کو ہی دوبارہ وہاں لے جائیں، مجھے لے جانے کی ضرورت نہیں ہے۔”
”میں مذاق کر رہا تھا علیزہ سب، تمہارے سینس آف ہیومر کو کیا ہو گیا ہے۔ کیا اب مجھے تم کو یہ بھی بتانا پڑے گا کہ میں مذاق کر رہا ہوں۔”
”آپ مجھے کچھ بھی نہ بتائیں۔”
”اچھا تم ہمارے گھر کب آرہی ہو۔ بہت دن سے نہیں آئیں؟”
وہ کچھ دیر چپ رہی۔ ”میں آؤں گی، ابھی کچھ مصروف ہوں۔”
”علیزہ! مجھے تمہیں کچھ باتیں بتانا ہیں۔ میں چاہتا ہوں کسی دن تم میرے لیے کچھ زیادہ وقت نکالو اور اپنے غصے کو کچھ دیر کے لیے بھول جاؤ۔” جنید نے بڑی رسانیت کے ساتھ کہا۔
”کیسی باتیں؟”
”یہ میں تمہیں ابھی نہیں بتا سکتا۔ آمنے سامنے بات کرنا زیادہ بہتر رہے گا۔ اس وقت کم از کم تم فون بند کرکے گفتگو بند نہیں کر سکو گی۔”
”آپ اس بارے میں پریشان نہ ہوں، میں ابھی بھی فون بند نہیں کروں گی…آپ مطمئن ہو کر بات کر سکتے ہیں۔ ” علیزہ کو کچھ تجسس ہوا۔
”نہیں فی الحال میں تم سے یہ باتیں نہیں کر سکتا کیونکہ میں نہیں چاہتا تمہارے غصے میں مزید اضافہ ہو۔”
”نہیں میرے غصے میں اضافہ نہیں ہوگا، آپ بتا دیں۔” اس نے اصرار کیا دوسری طرف کچھ دیر خاموشی رہی۔
”ابھی مجھ میں اتنی ہمت نہیں ہے نہ ہی میں نے لفظوں کا انتخاب کیا ہے۔ کچھ دنوں کے بعد میں اس قابل ہو جاؤں گا کہ یہ دونوں کام کر سکوں۔”
اسے اندازہ نہیں ہو سکا۔ وہ اس بار بات کرتے ہوئے سنجیدہ تھا یا پہلے کی طرح مذاق کر رہا تھا مگر اس بار علیزہ نے اپنی بات پر اصرار نہیں کیا۔
”تمہارا موڈ ٹھیک ہو گیا ہے نا؟” جنید نے اس کی خاموشی پر کہا۔
”ہاں۔۔۔”علیزہ نے مختصراً جواب دیا۔
”گڈ۔” جنید نے دوسرے طرف سے جیسے اسے سراہا۔ ”ویسے آٹھ دس سال پہلے تمہیں کبھی غصہ نہیں آتا تھا۔”
علیزہ کو شہلا کی بات یاد آئی، وہ کہہ رہا تھا۔
”آٹھ دس سال پہلے تو تمہیں غصہ نہیں آتا تھا۔” علیزہ نے حیرانی سے اس کی بات سنی، جنید نے خدا حافظ کہہ کر فون بند کر دیا۔ فون رکھتے ہوئے وہ بری طرح الجھی ہوئی تھی۔
”آٹھ دس سال پہلے…جنید آٹھ دس سال پہلے کے بارے میں کیسے کچھ جان سکتا ہے۔”
٭٭٭
علیزہ نے جنید کے گھر کے گیٹ پر ہارن بجایا، چوکیدار دروازہ کھولنے لگا وہ اس وقت اتفاقاً ہی ادھر آ گئی تھی۔ شام کے پانچ بج رہے تھے اور شہلا کے گھر سے نکلنے کے بعد اس نے اچانک ہی گاڑی کو جنید کے گھر کی طرف موڑ لیا۔ وہ کافی دن سے انکی طرف نہیں گئی تھی اور آج اسے کچھ فرصت تھی۔
چوکیدار نے گیٹ کھول دیا مگر وہ اپنی گاڑی اندر نہیں لے جا سکی۔ اس کی نظریں اندر پورچ میں کھڑی ایک گاڑی پر جم گئی تھیں۔ چند لمحوں تک اسے یقین ہی نہیں آیا تھا کہ وہ عمر جہانگیر کی ذاتی گاڑی کو وہاں دیکھ رہی تھی مگر پھر اس کے اندر غصے کی ایک لہر سی اٹھی۔ سرخ چہرے کے ساتھ ایک جھٹکے سے وہ گاڑی اندر لے گئی، عمر کی گاڑی کے بالکل پیچھے اس نے اپنی گاڑی کو کھڑا کر دیا ۔ وہ ابھی اپنی گاڑی سے نکل رہی تھی جب اس نے عمر کو لاؤنج کا دروازہ کھول کر باہر نکلتے دیکھا۔ اس کی نظر علیزہ پر پڑی اور ایک لمحہ کے لیے وہ ٹھٹھک گیا مگر اس کے بعد اس کے چہرے پر ایک مسکراہٹ نمودار ہوئی اور اس مسکراہٹ نے علیزہ کو اور مشتعل کیا تھا۔ اسے یوں محسوس ہوا تھا جیسے عمر اس کا منہ چڑا رہا ہو۔ منگنی کی رات کے بعد ان دونوں کی اب ملاقات ہو رہی تھی اور جن حالات میں ہو رہی تھی وہ کم از کم علیزہ کے لیے قابل قبول نہیں تھے۔
”ہیلو علیزہ !” عمر نے اس کے قریب آ کر کہا۔
علیزہ نے اسے سرد مہر ی سے دیکھا۔ ”تم یہاں کیا کررہے ہو؟” کسی لگی لپٹی کے بغیر اس نے عمر سے پوچھا۔
عمر کو شاید اس سے اس طرح کے سوال کی توقع نہیں تھی۔
”میں…میں ویسے ہی آیا ہوں یہاں۔” عمر نے جیسے سنبھلتے ہوئے کہا۔
”وہی پوچھ رہی ہوں…تم یہاں ویسے بھی کیوں آئے ہو؟” علیزہ کا خون کھول رہا تھا۔ چند ہفتے پہلے صالحہ کا انکشاف ایک بار پھر اس کے کانوں میں گونج رہا تھا۔
”کیا ہوا علیزہ! اتنی روڈ کیوں ہو رہی ہوں؟” عمر نے جیسے اس کے اشتعال کو کم کرنے کی کوشش کی۔
”میں تم سے یہ پوچھ رہی ہوں کہ تم ”میرے” گھر میں کیا کر رہے ہو؟” علیزہ نے ”میرے” پر زور دیتے ہوئے کہا اور عمر چند لمحوں کے لیے کچھ نہیں بولا یا شاید بول نہیں سکا پلکیں جھپکا ئے بغیر وہ علیزہ کے چہرے کو دیکھتا رہا جو بری طرح سرخ ہو رہا تھا۔
”تم یہاں کیوں؟ اس کا جواب دے سکتے ہو؟ نہیں، کوئی جواب نہیں ہے نا تمہارے پاس؟” وہ اب استہزائیہ انداز میں کہہ رہی تھی۔ ”دوسروں کی زندگی برباد کرنے کے لیے ہر جگہ منہ اٹھا کر پہنچ جاتے ہو؟” اس کے ہونٹ اور آواز بری طرح لرز رہی تھی۔
”علیزہ !” عمر اس کی بات پر دم بخودرہ گیا۔
”تم سے عمر! تم سے برداشت ہی نہیں ہوتا کہ میں ایک اچھی پرسکون زندگی گزار سکوں۔”
”پتہ نہیں کیوں برباد کرنا چاہتے ہو تم مجھے۔ پتا نہیں میں نے کیا بگاڑا ہے تمہارا۔”
”علیزہ! تمہیں کوئی غلط فہمی ہو رہی ہے۔” عمر نے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔
”مجھے غلط فہمی ہو رہی ہے…مجھے؟ ایسا ہے تو تم یہاں کیوں آئے ہو…؟” اس نے بمشکل خود کو چلانے سے روکا۔
”میں یہاں۔۔۔” عمر نے کچھ کہنے کی کوشش کی مگر علیزہ نے اس کی بات کاٹ دی۔” یہ میرا گھر ہے عمر…! کم از کم یہ وہ جگہ ہے جہاں سے میں تمہیں دھکے دے کر نکلوا سکتی ہوں۔” وہ اب گیٹ کی طرف اشارہ کر رہی تھی۔ ”یہ نانو کا گھر نہیں ہے جسے میں تمہارے ساتھ شیئر کرنے پر مجبور تھی۔ جہاں تم اپنا حق جتا سکتے تھے۔”
”میں یہاں کوئی حق جتانے نہیں آیا۔” عمر نے اس کی بات کاٹ دی ”اور میں نے کبھی گرینی کے گھر پر بھی کوئی حق نہیں جتایا۔” اس کی آواز پرسکون تھی۔ ”تم مجھ پر کم از کم یہ الزام عائد نہیں کر سکتیں۔ میں بہت اچھی طرح جانتا ہوں کہ یہ گھر تمہارا ہے اور تم مجھے یہاں سے دھکے دے کر نکلوا سکتی ہو۔”
وہ عجیب سے انداز میں مسکرایا۔
”مگر اس کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ میں اس کے بغیر ہی یہاں سے چلا جاتا ہوں، ابھی اتنی تہذیب تو باقی ہے مجھ میں کہ میرے ساتھ کسی کو زبردستی نہ کرنا پڑے۔” وہ مدھم آواز میں بولا۔
”تم میں جتنی تہذیب ہے میں جانتی ہوں۔” علیزہ نے تلخ لہجے میں کہا۔ ”بلکہ مجھ سے زیادہ یہ بات تو کوئی جان بھی نہیں سکتا۔” عمر نے غور سے اس کا چہرہ دیکھا اور پھر مڑنے لگا۔
”تم دوبارہ کبھی اس گھر میں مت آنا۔”
عمر مڑتے مڑتے رک گیا۔
”کبھی بھی نہیں۔ عمر جہانگیر نام کے کسی شخص کو میں نہیں جانتی اور نہ ہی میں جاننا چاہتی ہوں۔”
عمر کے چہرے پر ایک سایہ سا گزرا۔ ”ٹھیک ہے…اور کچھ؟” اس نے بہت سکون سے علیزہ سے پوچھا۔
”اب تم یہاں سے چلے جاؤ۔” علیزہ نے اکھڑ انداز میں کہا۔ وہ واپس مڑ گیا علیزہ وہاں نہیں رکی۔ وہ لمبے قدموں کے ساتھ لاؤنج کا دروازہ کھول کر اندر چلی آئی۔
جنید کی امی نے بڑی خوش دلی کے ساتھ اس کا استقبال کیا۔
”ابھی تمہارا کزن آیا ہوا تھا۔” انہوں نے بڑے سرسری انداز میں کہا۔
”ہاں میں ملی ہوں باہر پورچ میں۔” علیزہ نے مسکرانے کی کوشش کی۔
”تمہارا چہرہ کیوں سرخ ہو رہا ہے؟” انہوں نے اچانک چونک کر علیزہ کو دیکھا۔
”کچھ نہیں بس ایسے ہی۔۔۔” علیزہ نے بہانہ بنایا۔ ”آپ عمر کے بارے میں بات کر رہی تھیں۔” علیزہ نے بات کا موضوع بدلا۔
”وہ کس لیے یہاں آیا تھا؟” علیزہ نے ان سے پوچھا۔
”وہ بس ویسے۔۔۔” جنید کی امی روانی سے کچھ کہتے کہتے رک گئیں۔ ”یہ تو اس نے مجھے نہیں بتایا شاید جنید سے ملنے آیا ہوگا۔” جنید کی امی نے کہا۔
”ویسے اچھا ہے…کیوں علیزہ؟” جنید کی امی نے اس کی رائے لی۔
”عباس بھائی بھی آتے رہے ہوں گے پچھلے دنوں؟” علیزہ نے ان کے سوال کو گول کرتے ہوئے پوچھا۔
”عباس…کون؟” جنید کی امی کچھ الجھیں علیزہ نے حیرانی سے انہیں دیکھا۔
”جنید کے دوست ہیں…وہ بھی میرے کزن ہیں انکل ایاز کے بیٹے۔”
”ہاں…ہاں یاد آیا…بس میرے ذہن سے ہی نکل گیا۔” جنید کی امی نے کچھ گڑبڑا کر کہا۔ ”عباس تو یہاں نہیں آیا۔”
”اچھا…پھر میرا خیال ہے انہوں نے جنید سے فون پر رابطہ کیا ہوگا؟” علیزہ نے اپنا خیال ظاہر کیا۔
”ہاں ہو سکتا ہے جنید اور اس کا فون پر رابطہ ہو۔ بہرحال وہ یہاں تو نہیں آیا۔” جنید کی امی نے کہا۔
”اور یہ عمر…کیا آج پہلی بار آیا ہے؟” علیزہ نے ایک خیال آنے پر ان سے پوچھا۔
”عمر…؟” وہ ایک بار پھر کچھ کہتے کہتے رکیں۔۔۔”ہاں پہلی بار آیا ہے۔”
”کیا تمہیں اس کا آنا اچھا نہیں لگا؟” اس بار علیزہ ان کے سوال پر گڑبڑا گئی۔
”نہیں ایسی تو کوئی بات نہیں ہے۔ مجھے اس کا یہاں آنا برا کیوں لگے گا؟”
”مجھے لگا کہ تمہیں برا لگا ہے۔”
”نہیں برا نہیں مجھے کچھ عجیب لگا ہے۔ عمر دراصل کہیں جاتا نہیں اس لیے۔” علیزہ نے وضاحت کرنے کی کوشش کی۔
”مگر۔۔۔” وہ ایک بار پھر کچھ کہتے کہتے رکیں اور انہوں نے علیزہ کو غور سے دیکھا۔ علیزہ کو یوں لگا جیسے ایک بار پھر وہ کچھ کہتے کہتے رکی ہیں۔
”تمہاری بہت تعریف کر رہا تھا۔”
انہوں نے چند لمحوں کی خاموشی کے بعد کہا۔ علیزہ نے جواباً کچھ نہیں کہا وہ صرف بات کرتے ہوئے انہیں دیکھتی رہی۔
”جنید کہہ رہا تھا کہ تم اسے زیادہ پسند نہیں کرتیں۔” انہوں نے یکدم اس سے کہا وہ چند لمحے کچھ نہیں کہہ سکی اسے توقع نہیں تھی کہ جنید اپنی امی سے ایسی کوئی بات کہہ دے گا اور خود جنید نے یہ اندازہ کیسے لگایا کہ میں عمر کو ناپسند کرتی ہوں۔ صرف پچھلے چند واقعات کی وجہ سے۔” وہ سوچنے لگی۔
”تم کیا سوچ رہی ہو علیزہ؟” جنید کی امی نے یکدم اس سے پوچھا۔
”نہیں کچھ بھی نہیں۔۔۔” اس نے یکدم چونک کر کہا۔
”میں نے تم سے کچھ پوچھا تھا؟” جنید کی امی نے جیسے اسے یاد دلایا۔
”میں اسے ناپسند نہیں کرتی۔ پتا نہیں جنید کو ایسا کیوں لگا۔ بس میری اس کے ساتھ انڈر سٹینڈنگ نہیں ہے مگر اس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا کیونکہ ہماری ملاقات ہی بہت کم ہوتی ہے۔” وہ بے اختیار کہتی گئی۔ ”شاید زیادہ ملاقات کا موقع ملتا تو…میں انہیں پسند کرتی اور شاید وہ بھی…مگر جب اتنے عرصے ملاقات کا موقع نہ ملے تو پھر یہ چیزیں اتنی اہم نہیں رہتیں۔” اس نے مسکراتے ہوئے انہیں مطمئن کرنے کی کوشش کی اور اسے لگا کہ شاید وہ ہو بھی گئی تھیں۔
”ہاں میں بھی سوچ رہی تھی کہ آخر تم عمر کو ناپسند کیوں کرو گی…وہ تو اتنا۔۔۔”
اس سے پہلے کہ وہ اپنی بات مکمل کر پاتیں فون کی گھنٹی بجنے لگی۔ جنید کی امی چونک کر فون کی طرف متوجہ ہو گئیں۔ علیزہ نے گفتگو کا سلسلہ اس طرح ٹوٹنے پر خدا کا شکر ادا کیا۔
”میں دیکھوں کس کا فون ہے۔” وہ کہتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئیں۔
”میں فری کے پاس جا رہی ہوں…اپنے کمرے میں ہی ہے نا؟”
علیزہ نے بھی اٹھتے ہوئے کہا۔ وہ نہیں چاہتی تھی فون پر بات کرنے کے بعد وہ ایک بار پھر اس کے پاس آئیں اور موضوع گفتگو پھر عمر جہانگیر ہی ہو۔
”ہاں اپنے کمرے میں ہی ہے۔” انہوں نے کہا۔ ”ٹھیک ہے میں اس کے پاس جا رہی ہوں۔” علیزہ لاؤنج سے نکل گئی۔
٭٭٭
وہ تقریباً ایک گھنٹہ وہاں رہی اور اس کے بعد واپس گھر آگئی مگر گھر آکر اسے پھر کوفت ہوئی تھی، عمر کی گاڑی اب وہاں کھڑی تھی۔ اسے توقع نہیں تھی کہ وہ عمر یہاں موجود ہو گا ورنہ وہ ابھی کچھ اور وقت وہاں گزارتی۔
لاؤنج میں داخل ہوتے ہی اس نے نانو اور عمر کو وہاں بیٹھے دیکھ لیا تھا۔ اس نے دوسری نظر ان پر نہیں ڈالی سلام دعا کیے بغیر وہ سیدھی وہاں سے گزرتی ہوئی اپنے کمرے میں چلی آئی اسے توقع تھی عمر کچھ دیر وہاں بیٹھنے کے بعد وہاں سے چلا جائے گا مگر ایسا نہیں ہوا تھا۔
وہ ابھی کپڑے بدل کر باتھ روم سے نکلی تھی جب اس نے دروازے پر دستک کی آواز سنی۔
”دروازہ کھلا ہے” اس نے اپنے بالوں کو ہیئر بینڈ میں جکڑتے ہوئے کہا۔ اگلے ہی لمحے دروازہ کھلا اور عمر اندر آگیا۔ وہ کچھ دیر شاکڈسی اسے دیکھتی رہی ایک ڈیڑھ گھنٹہ پہلے ہونے والے جھگڑے کے بعد اسے توقع نہیں تھی کہ وہ ابھی فوراً ہی دوبارہ اس طرح اس کے سامنے آ جائے گا۔
”تم مجھے دیکھ کر حیران ہو رہی ہو؟” وہ جیسے اس کے تاثرات بھانپ گیا تھا۔
”نہیں میں نے تمہارے بارے میں حیران ہونا چھوڑ دیا ہے۔ میں تم سے کبھی بھی کسی بھی چیز کی توقع کر سکتی ہوں۔” علیزہ نے ترشی سے کہا۔
وہ دروازے سے چند قدم آگے بڑھ آیا۔ ”میں بیٹھ سکتا ہوں؟”
”ہاں بالکل جہاں چاہو…بیٹھو…اس گھر پر تمہارا حق ہے یہاں میں تمہیں اس طرح Treat نہیں کر سکتی جیسے میں نے جنید کے گھر پر کیا تھا اور یہ بات تم اچھی طرح جانتے ہو۔ پھر اس طرح فارمل کیوں ہو رہے ہوں۔ یوں جیسے تم بڑے مہذب ہو۔ جیسے ہر کام تم مجھ سے پوچھ کر کرتے ہو۔” وہ تلخی سے ہنس کر بولی۔
”ہم کچھ دیر بیٹھ کر بات کر سکتے ہیں؟” وہ کوئی ردعمل ظاہر کیے بغیر بولا۔
”نہیں میں اب تمہارے ساتھ کوئی بات کرنا نہیں چاہتی۔” علیزہ نے دوٹوک انداز میں کہا۔
”میں وجہ جان سکتا ہوں؟”
”نہیں یہ جاننا ضروری نہیں ہے۔” علیزہ نے اکھڑ انداز میں کہا۔
”مجھے ضرورت ہے۔” عمر نے اپنے لفظوں پر زور دیتے ہوئے کہا۔
”تم کسی دن آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر اپنا چہرہ دیکھنا۔ پھر تمہیں وجہ جاننے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔”
”میں آج یہاں آئینے میں اپنا چہرہ ہی دیکھنے آیا ہوں۔ تم مجھے میرا…بقول تمہارے…اصلی چہرہ دکھاؤ۔”
”یہاں تم کیا ثابت کرنے آئے ہو؟”
”مجھے تم پر کچھ بھی ثابت کرنے کی ضرورت نہیں ہے علیزہ !”
”Then just get out of my room” (تب آپ میرے کمرے سے تشریف لے جائیں) ”نہیں فی الحال میں یہاں سے جاؤں گا نہیں۔” عمر نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا۔
”میں تم سے صرف تمہارے غصے اور ناراضی کی وجہ جاننا چاہتا ہوں۔ تمہیں مجھ سے آخر کیا شکایت ہے؟” وہ کمرے کے وسط میں کھڑا کہتا گیا۔ ”آخر میں نے ایسا کیا کر دیا ہے کہ تم مجھ کو اس طرح ناپسند کرنے لگی ہو؟”
”ناپسند؟عمر…! میں تمہاری شکل تک دیکھنا نہیں چاہتی، مجھے نفرت ہے تم سے۔” وہ بلند آواز میں بولی۔
”اسی لیے آیا ہوں یہاں پر ، کیوں نفرت ہے، یہی جاننا چاہتا ہوں۔” وہ اسی طرح پرسکون انداز میں کہتا رہا۔
”میں یہ سب کچھ جنید کے گھر بھی پوچھ سکتا تھا مگر میں وہاں کوئی سین کری ایٹ کرنا نہیں چاہتا تھا مگر جو کچھ تم نے وہاں مجھ سے کہا مجھے یقین نہیں آیا۔ میں تمہارا گھر برباد کرنا چاہوں گا۔ میں؟” عمر نے اپنے سینے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔ ”میں تمہیں پرسکون اور خوشگوار زندگی گزارتے نہیں دیکھ سکتا۔ مجھے سکون ملتا ہے تمہیں تکلیف پہنچا کر۔ مجھے یقین نہیں آتا۔ علیزہ کہ یہ سب تم نے میرے بارے میں کہا ہے۔”
عمر نے مایوسی سے سر ہلاتے ہوئے کہا۔
”میں تمہیں…وضاحتیں دینا نہیں چاہتی۔” علیزہ نے بپھر کر کہا۔
”میں تم سے کوئی وضاحت مانگنے نہیں آیا۔ صرف پوچھنے آیا ہوں کہ تمہیں مجھ سے کیا شکایت ہے۔ تم مجھے بتاؤ تاکہ میں ایکسکیوز کر سکوں۔”
علیزہ کو اپنا خون کھولتا ہوا محسوس ہوا۔ ”تمہیں پتا ہے عمر! تم کس قدر جھوٹے، منافق اور کمینے انسان ہو۔” وہ ہونٹ بھینچے اس کا سرخ ہوتا ہوا چہرہ دیکھتا رہا۔ ”تم میں ذرہ برابر بھی انسانیت نہیں ہے۔” وہ بلند اور تیز آواز میں کہتی رہی۔
”اپنے آپ کو بچانے کے لیے تم کس حد تک گر سکتے ہو میں اس کا تصور بھی نہیں کر سکتی۔ لوگوں کے پیچھے بھکاریوں کی طرح پھر رہے ہو تم اپنے آپ کو بچانے کے لیے۔”
وہ اس وقت آپے سے بالکل باہر ہو رہی تھی۔ اسے بالکل پتا نہیں تھا کہ اسے کیا کہنا چاہیے اور کیا نہیں۔
”میں بیٹھ جاتا ہوں…تم آرام سے جتنی گالیاں دینا چاہتی ہو…دو…جتنا برا بھلا کہنا چاہتی ہو، کہو” وہ صوفے کی طرف بڑھ گیا۔ علیزہ کو اس کے پرسکون لہجے نے اور مشتعل کیا۔
”تم ایک ہارڈ کور کریمنل ہو۔ بس تم نے یونیفارم پہنا ہوا ہے۔ جس دن یہ اتر جائے گا اس دن تم بھی اسی طرح کسی پولیس مقابلے میں مارے جاؤ گے جس طرح تم دوسرے لوگوں کو مارتے ہو۔”
”میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھاعلیزہ! تمہیں اتنا غصہ بھی آ سکتا ہے اور تم اس طرح چلا سکتی ہو۔”
”تم میں اور انکل جہانگیر می?
