Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 28

امربیل از عمیرہاحمد
۔۔۔۔
قسط نمبر 28
۔۔۔۔۔
باب 29

“تمہارا جہانگیر کے ساتھ کوئی جھگڑا ہے؟” اس شام لان میں چائے پیتے ہوئے باتوں کے دوران اچانک لئیق انکل نے اس سے پوچھا۔
عمر چونکا ”نہیں۔” اس نے بڑے نارمل انداز میں کہا۔
”اچھا!” لئیق انکل نے حیرت کا اظہار کیا۔ ”جہانگیر تو کہہ رہا تھا کہ تم آج کل اس سے کچھ ناراض ہو۔ تم دونوں کے درمیان کوئی بات وات نہیں ہوتی؟”
لئیق انکل نے چائے کے سپ لیتے ہوئے بڑے جتانے والے انداز میں کہا۔
”نہیں، بات تو ہوجاتی ہے مگر کوئی خوشگوار انداز میں نہیں ہوتی۔” عمر نے بڑی لاپروائی سے کہا۔
”اچھا! کیوں؟” لئیق انکل نے خاصی بے نیازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پوچھا۔
عمر نے ایک گہری نظر ان پر ڈالی۔ ”پاپا خوشگوار انداز میں کسی خوبصورت عورت سے ہی بات کرتے ہیں۔ یا پھر کسی سیاست دان سے۔”
لئیق انکل نے بے اختیار قہقہہ لگایا۔ عمر اسی طرح بے تاثر چہرے سے انہیں دیکھتا رہا۔ بمشکل اپنی ہنسی روکتے ہوئے انہوں نے کہا۔ ”you have a very good sense of humour” (تمہاری حس مزاح بہت اچھی ہے) مگر اس طرح کی بات جہانگیر کے سامنے مت کرنا۔”
”ورنہ وہ چوتھی شادی کرلیں گے۔ ہے نا۔۔۔” عمر نے لاپروائی سے کہہ کر ایک بار پھر چائے پینا شروع کردیا۔
”اسی قسم کی باتیں تم جہانگیر سے کرتے ہو، اسی لیے تو وہ اتنا پریشان رہتا ہے۔”
”ایکسکیوزمی! پاپا میری وجہ سے پریشان نہیں ہوتے۔ وہ اپنے علاوہ کسی دوسرے کے بارے میں پریشان ہوتے ہیں نہ ہی کسی دوسرے کی وجہ سے پریشان ہوتے ہیں۔”
عمر نے چائے کا کپ سامنے پڑی ہوئی میز پر رکھ دیا۔
”عمر! جہانگیر کے بارے میں اتنا بدگمان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ تمہاری بہت پروا کرتا ہے۔ تم اس کے بیٹے ہو۔ وہ تمہارے رویے کی وجہ سے بہت فکر مند رہتا ہے۔” لئیق انکل یکدم سنجیدہ ہوگئے۔
”اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ میں ان کی اولاد ہوں یا ان کا بیٹا ہوں۔”
”کیوں فرق نہیں پڑتا… تم جہانگیر سے پوچھو، کتنی اہمیت ہے اس کے نزدیک تمہاری۔”
”میں ان کی اکلوتی اولاد نہیں ہوں۔ دوسری بیوی سے بھی ان کی اولاد ہے اور اب۔ اب تیسری سے بھی ہوجائے گی۔” اس کے لہجے میں تلخی تھی۔
”مگر تم اس کے سب سے بڑے بیٹے ہو۔ تمہاری اور اس کی بہت اچھی انڈراسٹینڈنگ ہونی چاہیے ورنہ آگے چل کر اور پرابلمز ہوں گی۔”
عمر نے غور سے ان کا چہرہ دیکھا۔ ”کیا مطلب! آگے چل کر کیا پرابلمز ہوں گی؟” عمر نے کچھ الجھ کر کہا۔
”وہ تمہارے مستقبل کے بارے میں بہت کچھ پلان کرتا رہتا ہے۔ کل کو جب تمہاری شادی کے بارے میں اگر وہ کوئی فیصلہ کرنا چاہے گا تو اس طرح کے ٹکراؤ کی صورت میں پرابلم ہوگا۔”
لئیق انکل نے اتنے نارمل انداز میں یہ بات کہی کہ وہ ان کا چہرہ دیکھ کر رہ گیا۔
”میں آپ کی بات نہیں سمجھا ہوں۔ آپ کس کی شادی کی بات کر رہے ہیں؟” اس نے سرد آواز میں کہا۔
”تمہاری شادی کے بارے میں؟”
”میری شادی کے بارے میں پاپا کچھ طے کیوں کریں گے؟”
”وہ تمہارا باپ ہے۔”
”تو۔۔۔”
”عمر! تمہیں شادی۔۔۔”
اس نے یکدم لئیق انکل کی بات کاٹ دی۔ ”انکل! آپ مجھ سے جو کچھ بھی کہنا چاہتے ہیں، صاف صاف کہیں۔ کیا پاپا نے میری شادی کے بارے میں آپ سے کچھ کہا ہے؟” وہ جیسے بات کی تہہ تک پہنچ گیا تھا۔
لئیق انکل کچھ دیر اس کا چہرہ دیکھتے رہے۔ ”شادی تو نہیں! ہاں البتہ وہ تمہاری انگیجمنٹ ضرور کرنا چاہتا ہے۔”
”کس سے؟”
”یہ میں نہیں جانتا۔”
”بہت خوب، بہر حال آپ پاپا کو بتا دیں کہ مجھے شادی نہیں کرنا نہ آج نہ ہی آئندہ کبھی اور جس سے وہ میری انگیجمنٹ کرنا چاہتے ہیں اس سے خود شادی کرلیں۔” اس کی آواز میں تلخی تھی۔
”یار! تم خواہ مخواہ ناراض ہو رہے ہو، میں نے تو ویسے ہی بات کی تھی ایک… اس نے کون سا کچھ طے کرلیا ہے۔”
تم مجھے یہ بتاؤ کہ صفدر مقصود کے ساتھ کیسی ملاقات رہی تمہاری؟”
لئیق انکل نے یکدم بات کا موضوع بدلتے ہوئے سائیکالوجسٹ کا نام لیا۔
۔۔۔
”میں نے پاپا سے پہلے بھی کہا تھا، مجھے کسی سائیکالوجسٹ کے ساتھ سٹنگ کی ضرورت نہیں ہے۔ میرے لیے یہ سائیکالوجیکل ٹیسٹ ایک کیک واک ہے۔ مجھے صفدر مقصود جیسے لوگوں کی گائیڈنس کی ضرورت نہیں ہے۔”
”کسی بھی چیز کو اتنا سرسری نہیں لینا چاہیے۔ بعض دفعہ یہ نقصان دہ بھی ہوتا ہے۔ صفدر مقصود نے ہی بعد میں تمہارا انٹرویو کرنا ہے۔ اس لیے جو کچھ وہ بتاتا ہے، اسے غور سے سنا کرو۔” لئیق انکل نے اسے سنجیدگی سے سمجھایا۔
”جو شخص جہانگیر معاذ کے ساتھ چھبیس سال گزار کر بھی پاگل نہیں ہوا، وہ یقیناً ایک بہت ہی پازیٹو پرسنالٹی رکھتا ہوگا اور ویسے بھی پبلک سروس کمیشن کے سائیکالوجسٹس کیا جان سکتے ہیں، انسان کی شخصیت کے بارے میں۔ ان کے اپنے اندر اتنے کمپلیکسز ہوتے ہیں کہ ان سے دس منٹ بات کرنے کے بعد ان پر ترس آنے لگتا ہے۔ مجھے وہ شخص اچھا نہیں لگا۔” عمر نے بڑی صاف گوئی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا۔
”وہ بہت ماہر سائیکالوجسٹ ہے۔” لئیق انکل نے صفدر مقصود کو سراہا۔
”ہوسکتا ہے مگر اس کی اپنی پرسنالٹی… مجھے کچھ زیادہ متاثر نہیں کرسکی۔۔۔” لئیق انکل بے اختیار اس کی بات پر ہنسے۔
”فارگاڈسیک عمر! یہ بات کہیں اس کے سامنے مت کہہ دینا۔”
”کہہ دینا کیا مطلب… میں کہہ چکا ہوں۔” عمر نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا۔
”تمہارا باپ تمہارے بارے میں جو کچھ کہتا ہے ٹھیک ہی کہتا ہے۔ تم واقعی اپنے اور دوسروں کیلئے پرابلمز پیدا کردیتے ہو۔ اب صفدر مقصود اگر اس طرح کے ریمارکس پر ناراض ہوگیا تو۔۔۔” لئیق انکل یکدم سنجیدہ ہوگئے… ”تم جانتے نہیں ہو اسے بڑا انا پرست بندہ ہے سیلف رسپیکٹ کی بات آئے تو۔۔۔” عمر نے لئیق انکل کی بات کاٹ دی۔
”کسی کرپٹ شخص میں سیلف رسپیکٹ نہیں ہوسکتی اور صفدر مقصود ایک کرپٹ بندہ ہے۔” عمر کے لہجے میں حقارت تھی۔
”فضول باتیں مت کرو… وہ تمہاری مدد کر رہا ہے اور تم اس کے بارے میں اس طرح کی باتیں کر رہے ہو۔” لئیق انکل نے کچھ سختی سے اسے کہا۔
”مدد وہ اپنے مقصد کیلئے کر رہا ہے۔ مجھ پر کوئی احسان نہیں کررہا۔ اس کی مدد کے بغیر بھی میں کامیاب ہوسکتا ہوں۔” عمر پر ان کی ڈانٹ کا کوئی اثر نہیں ہوا۔
”تمہیں عزت کرنی چاہیے اس کی۔”
”سوری انکل! کم از کم میں کسی کرپٹ شخص کی عزت نہیں کرسکتا۔” عمر نے بڑے دوٹوک انداز میں کہا۔ لئیق انکل کچھ دیر عجیب سی نظروں سے اس کا چہرہ دیکھتے رہے۔ پھر انہوں نے ٹھہرٹھہر کر کہا۔
”جہانگیر… بھی… کرپٹ… ہے۔”
”میں ان کی عزت بھی نہیں کرتا۔” عمر نے بغیر رکے کہا۔
لئیق انکل کا چہرہ سرخ ہوگیا۔ ”اور میرے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟”
”آپ کے بارے میں آپ کے سامنے بیٹھ کر کچھ نہیں کہوں گا کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ آپ مجھے اٹھوا کر اس گھر سے باہر پھینکوا دیں۔” اس بار اس نے کچھ مسکرا کر کہا۔ لئیق انکل کچھ دیر اس کا چہرہ دیکھتے رہے۔
”تم ذرا سروس جوائن کرلو پھر میں تم سے پوچھوں گا کہ تم کسی کرپٹ شخص کی عزت کرتے ہویا نہیں۔ جب تمہارے اوپر بیٹھے ہوئے سارے افسران اور ان کے اوپر موجود سارے حکومتی عہدیدار تمہارے سامنے اپنے اصل چہروں کے ساتھ ہوں گے اور تم پھر بھی انہیں سر… سر کہتے پھرو گے… پھر میں دیکھوں گا کہ تم کرپٹ شخص کی عزت کیسے نہیں کرتے۔” لئیق انکل کے لہجے میں تلخی جھلکنے لگی تھی۔
”سر کہنے میں اور عزت کرنے میں بہت فرق ہوتا ہے۔ میں بہت سے لوگوں کو سر کہتا ہوں مگر ان کی عزت نہیں کرتا بالکل ویسے ہی جیسے میں بہت سے لوگوں کی عزت کرتا ہوں مگر انہیں سر نہیں کہتا، اس لیے مجھے کسی کو سر کہنے میں کوئی عار نہیں ہوگا مگر میں کسی کرپٹ شخص کی عزت نہیں کروں گا۔” عمر نے اس بار بھی خاصی بے خوفی سے کہا۔
”اس ملک میں اپنی بقا کیلئے کرپٹ ہونا پڑتا ہے۔ کرپشن کے بغیر یہاں کچھ نہیں ہوسکتا۔ سروس جوائن کرو گے تب تمہیں پتا چلے گا کہ اس جاب میں کیا کیا پریشانیاں ہیں جب تمہیں دس،بارہ ہزار کے ساتھ ایک مہینہ گزارنا پڑے گا… وہ بھی افسر بن کر… تو تمہارے ہوش ٹھکانے آجائیں گے تب تمہیں پتا چلے گا کہ کرپشن کے بغیر تم کسی سفارت خانے میں ہونے والے تین ڈنر اٹینڈ نہیں کرسکتے کیونکہ وہاں پہنچنے کیلئے بھی تمہیں تین نہیں تو کم از کم ایک سوٹ تو ضرور ہی چاہیے ہوگا اور ایسے سوٹ کی قیمت کم از کم تمہاری تنخواہ پوری نہیں کرسکے گی۔”
عمر نے ان کی باتوں کے جواب میں کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا۔ وہ بس خاموشی سے مسکرا دیا۔
”تعلقات بنانا سیکھو۔ ضروری نہیں ہوتا کہ ہر شخص جو تمہیں پسند نہیں آتا اس کے ساتھ رابطہ ہی نہ رکھا جائے۔ کسی کے ساتھ کوئی بھی کام پڑسکتا ہے۔ پھر ایسے وقت تعلقات ہی کام آتے ہیں۔ مجھے حیرت ہے جہانگیر نے تمہیں اب تک یہ سب کچھ سکھایا کیوں نہیں؟ بیورو کریٹس کے بچے تو ایسی باتوں کے بارے میں خاصے باخبر ہوتے ہیں۔ کم از کم انہیں یہ نہیں بتانا پڑتا کہ جھوٹ ہمارے پروفیشن کی کتنی بڑی ضرورت ہے۔ کوئی شخص پسند نہ بھی آئے تو بھی اس کی تعریف کردینے میں کیا ہرج ہے۔”
”انکل! آپ بہت اچھے ہیں” عمر نے درمیان میں ان کی بات اچکتے ہوئے یکدم سنجیدگی سے کہا۔
لئیق انکل فوری طور پر اس کے جملے پر حیران ہوئے مگر پھر وہ قہقہہ مار کر ہنس پڑے۔’ ‘تم اگر جہانگیر کے بیٹے نہ ہوتے تو اس جملے کے بعد اس گھر میں نہیں رہ سکتے تھے مگر اب میں تمہیں اور کچھ نہیں کہنا چاہتا۔ تم سب کچھ خود ہی سیکھ جاؤ گے۔”
انہوں نے جیسے اس کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے۔
٭٭٭
ذوالقرنین سے علیزہ کی دوسری ملاقات بھی شہلا کے ساتھ ہی ہوئی تھی، علیزہ کالج سے واپسی پر شہلا کے ہاں جانے کیلئے اس کے ساتھ گئی، راستے میں دونوں آئس کریم کھانے کیلئے لبرٹی میں رک گئیں اور آئس کریم کھانے کے ساتھ وہ ونڈو شاپنگ میں مصروف تھیں۔ جب ہیلو کی ایک آواز نے انہیں اپنی طرف متوجہ کیا، وہ ذوالقرنین تھا۔ علیزہ اسے دیکھتے ہی حواس باختہ ہوگئی۔
”ارے آپ… آپ یہاں کیا کر رہے ہیں؟” شہلا نے ذوالقرنین کو دیکھتے ہی خاصی حیرت اوربے تکلفی کا مظاہرہ کیا۔
”تقریباً وہی کر رہا ہوں جو آپ لوگ کر رہی ہیں۔” اس نے علیزہ پر نظریں جماتے ہوئے کہا جس کیلئے وہاں کھڑے رہنا مشکل ہو رہا تھا۔
”ویسے آپ کا کیا خیال ہے ہم یہاں کیا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں؟” شہلا نے خاصی شوخی سے کہا۔
”آپ مجھے ڈھونڈنے کی کوشش کر رہی تھیں۔” جواب دینے والے نے کمال اعتماد سے کہا۔
”ارے واہ… آپ کو تو اچھی خاصی خوش فہمی ہے اپنے بارے میں۔”
”اگر خوش فہمی ہے تو کچھ ایسا غلط بھی نہیں ہے۔ آفٹر آل میں اچھا خاصا گڈلکنگ بندہ ہوں۔ ایسی خوش فہمیاں افورڈ کرسکتا ہوں۔ کیوں علیزہ؟” اس کے لہجے میں شرارت تھی اور علیزہ کا دل چاہ رہا تھا۔ وہ سر پر پاؤں رکھ کر وہاں سے بھاگ جائے۔ ”ویسے یہ سوال آپ نے علیزہ سے ہی کیوں کیا ہے؟ مجھ سے بھی کرسکتے ہیں۔” شہلا نے دوبدو جواب دیتے ہوئے کہا۔
”آپ مجھے علیزہ جیسی باذوق نہیں لگتیں، اس لیے آپ سے رائے لینے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔” اس کی بے تکلفی میں اضافہ ہوتا جارہا تھا۔
”اچھا اور علیزہ کے ذوق کے بارے میں آپ کیسے جانتے ہیں؟” شہلا اب باقاعدہ بحث پر اتر آئی۔
”علیزہ کے صرف ذوق کے بارے میں ہی نہیں جانتے اور بھی بہت کچھ جانتے ہیں ہم۔” اس بار ذوالقرنین کا لہجہ معنی خیز تھا۔
”مثلاً…؟” شہلا نے بھنویں اچکاتے ہوئے پوچھا۔
”یہ ضروری نہیں ہے کہ ہر بات آپ کو بتائی جائے مس شہلا۔”
”ارے!کس طرح آپ نے آنکھیں پھیر لی ہیں۔ جب علیزہ سے رابطہ کرنا چاہ رہے تھے تو واحد ذریعہ میں ہی نظر آرہی تھی اور اب… اب مجھے کچھ بتانا بھی ضروری نہیں لگ رہا۔” شہلا یکدم برامان گئی۔
”تم فضول مت بولا کرو۔ اب چلو یہاں سے۔”
علیزہ نے یکدم اس کا بازو پکڑ کر کھینچنا شروع کردیا۔ اس نے شہلا کو یہ ضرور بتایا تھا کہ ذوالقرنین نے اسے چند بار فون کیا تھا مگر یہ نہیں بتایا تھا کہ وہ اس سے مسلسل رابطہ رکھے ہوئے ہے اور اسے خوف تھا کہ مذاق میں ہونے والی اس گفتگو کے دوران ذوالقرنین کوئی ایسی بات نہ کردے جس سے شہلا کو یہ پتہ چل جائے کہ اس نے ذوالقرنین سے رابطے کے بارے میں اس سے جھوٹ بولا ہے۔
”علیزہ! آپ انہیں کہاں لے جارہی ہیں۔ بھئی! میں تو آپ دونوں کو لنچ کروانے کا سوچ رہا ہوں۔” ذوالقرنین نے فوراً مداخلت کی۔
”لنچ؟ ضرور۔”شہلا فوراً آمادہ ہوگئی۔
”نہیں۔ بہت دیر ہو رہی ہے ابھی مجھے شہلا کے گھر جانا ہے اور پھر واپس اپنے گھر بھی جانا ہے۔” علیزہ نے نظریں ملائے بغیر فوراً کہا۔
”یار میرے گھر جاکر بھی تو ہم نے کھانا ہی کھانا ہے۔ اب ذوالقرنین آفر کر رہے ہیں تو ٹھیک ہے چلتے ہیں۔ ایڈونچر رہے گا۔” شہلا نے اپنا بازو اس کے ہاتھوں سے چھڑاتے ہوئے کہا۔
”نہیں! شہلا دیر ہو رہی ہے۔”
”کبھی کبھی دیر ہوجانے میں کوئی ہرج نہیں۔ اس کو بھی ایڈونچر ہی سمجھیں۔” ذوالقرنین نے علیزہ کے انکار کے جواب میں کہا۔
”نہیں۔ مجھے جانا ہے۔”
”یار! جب کوئی اتنا اصرار کرے تو اس کی بات مان لینی چاہیے۔ روز روز ایسے لوگ کہاں ملتے ہیں جو خود بخود ہی لنچ کی دعوت دیتے پھریں۔”
شہلا پر بھی علیزہ کے انکار کا کوئی اثر نہیں ہوا۔
پھر علیزہ کے مسلسل انکار کے باوجود وہ دونوں اسے ایک ریسٹورنٹ میں لے گئے تھے۔ ذوالقرنین اور شہلا لنچ کے دوران مسلسل چہکتے رہے تھے جبکہ علیزہ بمشکل اپنے حلق سے کھانا نیچے اتارتی رہی۔ ذوالقرنین کے سامنے اس طرح بیٹھ کر کھانا کھانا اس کیلئے ایک بالکل نیا تجربہ تھا۔ اسے اس کی باتوں پر ہنسی بھی آرہی تھی اور ساتھ یہ خوف بھی تھا کہ اگر نانو کو یہ پتہ چل گیا کہ وہ شہلا کے گھر کے بجائے اس وقت کسی انجان شخص کے ساتھ بیٹھی لنچ کر رہی ہے تو وہ شاید قیامت ہی اٹھادیں گی۔ ذوالقرنین بار بار اسے مخاطب کر رہا تھا وہ نروس ہو رہی تھی۔ شاید اسے اس کا اندازہ بھی تھا، اس لیے وہ بار بار اس حوالے سے بھی مذاق میں تبصرے کر رہا تھا اور علیزہ کی گھبراہٹ میں اضافہ ہوتا جارہا تھا۔
ایک گھنٹہ ریسٹورنٹ میں گزار کر وہ دونوں وہاں سے نکلی تھیں اور تب تک علیزہ روہانسی ہوچکی تھی۔ شہلا کے گھر جانے کے بجائے وہ اس کے ڈرائیور کے ساتھ واپس گھر آگئی۔
۔۔۔
نانو کو اس کے اس ایڈونچر کا پتہ نہیں چل سکا۔ اگلے چند دن وہ اس خدشہ سے ہولتی رہی کہ انہیں کسی نہ کسی ذریعے سے کہیں ذوالقرنین کے ساتھ کیے جانے والے اس لنچ کا پتا نہ چل جائے مگر نانو کو پتا نہیں چل سکا تھا۔ وہ ایک بار پھر نانو کو دھوکا دینے میں کامیاب رہی تھی اور اس کامیابی نے اسے غیرمحسوس طور پر خوش کیا تھا۔ نہ صرف وہ خوش تھی بلکہ اس کے اعتماد میں بھی کچھ اضافہ ہوگیا۔ یہی وجہ تھی کہ چند دن بعد… ذوالقرنین کے ساتھ فون پر بات کرتے ہوئے اس نے جب اس سے دوبارہ ملنے پر اصرار کیا تو وہ کوشش کے باوجود بھی انکار نہیں کرسکی۔
ان کی اگلی ملاقات فیروز سنز پر ہوئی تھی اور اس بار وہ اکیلی تھی۔ نانو سے اس نے کچھ کتابیں خریدنے کیلئے مارکیٹ جانے کا کہا اور فیروز سنز پہنچ کر اس نے ڈرائیور کو ایک گھنٹہ تک انتظار کرنے کیلئے کہا۔
ذوالقرنین اندر پہلے ہی اس کا انتظار کر رہا تھا۔ اس دن وہ ایک گھنٹہ وہیں اندر کھڑے باتیں کرتے رہے۔
اگلی ملاقات امریکن سینٹر میں ہوئی۔ اس کے پاس امریکن سینٹر اور برٹش کونسل کی لائبریریز کی ممبر شپ تھی، اور پہلے بھی اکثر ان دونوں جگہوں پر جایا کرتی تھی۔ صرف یہ دو جگہیں ایسی تھیں جہاں جانے کی اسے بڑی آسانی سے اجازت مل جایا کرتی تھی۔ اب یہ دونوں جگہیں ان کیلئے ملاقات کا مقام بن چکی تھیں۔ علیزہ کو وہاں یہ خوف نہیں ہوتا تھا کہ کوئی ذوالقرنین کے ساتھ دیکھے جانے پر نانو کو انفارم کردے گا کیونکہ وہ کوئی بھی بہانا بنا سکتی تھی… وہاں بہت سے لوگ آتے جاتے رہتے تھے اور کہا جاسکتا تھا کہ وہ بھی کسی سے رسمی سی گفتگو کر رہی تھی۔
فون پر ذوالقرنین سے ہونے والی گفتگو کا سلسلہ بھی طویل ہوتا جارہا تھا۔ وہ ذوالقرنین سے بات کرنے کیلئے رات دیر تک جاگتی رہتی اور پھر لاؤنج میں آکر اندھیرے میں بیٹھ کر اسے فون کرتی اور ہر روز رات کو وہ نانا اور نانو کے کمرے میں موجود ایکسٹینشن کے پلگ کو نکال دیتی اور پھر صبح سویرے جب نانا واک کیلئے نکل جاتے اور نانو نماز میں مصروف ہوتیں تو وہ ان کے کمرے میں جاکر دوبارہ اسے لگا آتی۔
عورت کی تعریف اسے زیرکرنے کیلئے مرد کا سب سے بڑا ہتھیار ہوتی ہے اور ذوالقرنین اس ہتھیار کو بخوبی استعمال کرلیتا تھا۔ اس سے بات کر کے علیزہ کو یوں لگتا تھا جیسے وہ اس دنیا کی مخلوق نہ ہو۔ اس کا تعلق کسی دوسری دنیا سے ہو۔ اس دنیا سے جہاں سے ذوالقرنین تعلق رکھتا تھا۔ اس کے سامنے بیٹھے ہوئے اسے پہلی بار احساس ہوا تھا کہ وہ کسی کیلئے کتنی اہم ہے۔ کوئی اس کے دیر سے آنے پر ناراض ہوسکتا ہے۔ علیزہ سکندر خود کو پہلی بار دریافت کر رہی تھی یا شاید زندگی کو پہلی بار دریافت کر رہی تھی۔
اس کیلئے ہر چیز جیسے مکمل طور پر بدل گئی تھی۔ ذوالقرنین جیسے ہر جگہ موجود رہنے لگا تھا۔ جہاں وہ نہ ہوتا وہاں اس کی آواز ہوتی، جہاں اس کی آواز نہ ہوتی وہاں اس کا خیال ہوتا جہاں اس کا خیال نہ ہوتا۔ وہاں… وہاں علیزہ سکندر کیلئے کچھ بھی نہیں ہوتا تھا۔ ہر بار فون رکھنے کے بعد وہ اگلے فون پر اس سے ہونے والی گفتگو کے بارے میں سوچنا شروع کردیتی۔ اسے کیا کہنا تھا… ذوالقرنین کس بات کے جواب میں کیا کہے گا اس کے ذہن میں اس کے علاوہ کچھ نہیں رہتا تھا۔
ان دنوں پہلی بار اس نے اپنے ذہن میں اپنے ماں، باپ کے بارے میں سوچنا ختم کردیا تھا۔ ذوالقرنین کی محبت نے جیسے دوسری ہر محبت، ہر رشتہ کی جگہ لے لی تھی۔ اسے یوں لگنے لگا تھا جیسے اپنے ماں، باپ کے بارے میں سوچتے ہوئے وہ اپنا وقت ضائع کر رہی تھی۔ وہ عمر کو بھی مکمل طور پر فراموش کرچکی تھی۔
”آپ کا کیا خیال ہے اگلے الیکشن میں کون سی پارٹی کی حکومت آئے گی؟”
اسلام آباد میں ایک فیڈرل سیکرٹری کے گھر ہونے والی اس پارٹی میں عمر لئیق انکل کے ساتھ جس ٹیبل پر بیٹھا ہوا تھا، وہاں ان سروس اور ریٹائرڈ بیورو کریٹس کی ایک بڑی تعداد بھی موجود تھی اور ہونے والی گفتگو کا موضوع اگلے الیکشنز تھے۔ ملک میں مارشل لاء کے ایک لمبے عرصے کے بعد بننے والی پہلی جمہوری حکومت کو کچھ عرصہ پہلے برطرف کیا جاچکا تھا اور اب عبوری حکومت ملک چلا رہی تھی اور بیسویں صدی کے اس آخری عشرے میں جمہوریت کے اس پہلے تجربے کی ناکامی کے بعد جانے والی حکومت کے مختلف عہدیداروں کی طرف سے کی جانے والی حماقتوں پر کھل کر ہنسا جارہا تھا اور اس کے ساتھ ساتھ آنے والی حکومت کے بارے میں اندازے لگائے جارہے تھے۔
”ایک بات تو طے ہے کہ اگلے الیکشن میں یہ پارٹی تو برسر اقتدار نہیں آسکتی جس کی حکومت برطرف کی گئی ہے۔”
عمر کوک کے سپ لیتے ہوئے خاموشی سے گفتگو میں حصہ لیے بغیر صرف ہونے والی گفتگو سن رہا تھا۔ ایک ان سروس بیورو کریٹ کے اس جملے پر میز کے اطراف بیٹھے ہوئے تمام لوگوں نے ایک دوسرے کے ساتھ مسکراہٹوں کا تبادلہ کیا۔
”میں، میں تو چاہتا ہوں کہ دوسری پارٹی کے بجائے تیسری پارٹی آجائے۔” لئیق انکل کے اس معنی خیز جملے پر اس بار مسکراہٹیں ہلکے پھلکے قہقہوں میں تبدیل ہوگئیں۔

”آپ تو یہی چاہیں گے لئیق صاحب! آخر آپ کا پورا سسرال تیسری پارٹی میں ہے۔”
زمان شاہد نامی ایک سینئر بیورو کریٹ نے لئیق انکل کے سسرال کے فوجی بیک گراؤنڈ کی طرف اشارہ کیا۔ اس جملے پر ایک بار پھر قہقہے ابھرے۔
”یار! بہت عیش کروا چکے ہیں تمہارے سسرال والے۔ پچھلے دس بارہ سالوں میں تمہیں… اب ہم جیسے لوگوں کے سسرال والوں کو بھی ہماری خدمت کا موقع دو۔”
حسین شفیع کی بیوی کا تعلق ایک سیاسی گھرانے سے تھا اور ان کو توقع تھی کہ اس بار اگر ان کی بیوی کے معروف گھرانے کی پارٹی الیکشن جیت گئی تو ایک عدد صوبائی وزارت ان کی بیوی کے باپ یا بھائی کی جیب میں تھی۔
”تیسری پارٹی ہمیشہ سے ہی حکومت میں شامل رہی ہے۔ ڈائریکٹ نہیں تو ان ڈائریکٹ طریقے سے مگر وہ ہمیشہ حکومت کے آگے، پیچھے ، اوپر نیچے رہتے ہیں اور اگلی حکومت کے ساتھ بھی یہی ہوگا، کیوں جنرل صاحب؟”
راجہ سعید نے اس بار میز پر بیٹھے ہوئے ایک ریٹائرڈ جنرل کو خاصی شوخی سے مخاطب کرتے ہوئے کہا۔
”یہ آگے، پیچھے اوپر، نیچے آپ نے خوب کہا مگر دائیں بائیں کو کیوں بھول گئے۔”
۔۔۔
ریٹائرڈ جنرل جیسے ان کے تبصرے پر محظوظ ہوا۔
میز کے گرد بیٹھے ہوئے لوگوں نے ایک ہلکا فہمائشی قہقہہ لگایا۔
”بھئی! تم لوگ مجبور کردیتے ہوئے آگے، پیچھے اور اوپر، نیچے رہنے پر۔” جنرل نے اپنا پائپ سلگاتے ہوئے کہا۔
”قریشی صاحب! یہ نہ کہیں … یہ کہیں کہ اقتدار کا نشہ ایسا نشہ ہے کہ ایک بار لگ جائے… پھر چھوٹتا نہیں۔”
شاہد زمان نے جنرل کو مخاطب کیا۔
”چلیں… آپ یہی سمجھ لیں۔ کچھ نشہ آپ کو ہے… کچھ ہمیں… وہ کیا کہتے ہیں… ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود و ایاز نہ کوئی بندہ رہا نہ کوئی بندہ نواز۔” جنرل قریشی نے اس بار اس بیورو کریٹ پر جوابی جملہ کیا تھا۔
”نہیں! یہ ٹھیک نہیں ہے۔ آپ کو یہ کہنا چاہیے تھا۔
birds of a feather flock together (کندہم جنس، باہم جنس پرواز) ٹیبل پر بیٹھے ہوئے واحد سیاسی رہنما نے اپنے سامنے پڑا ہوا گلاس اٹھاتے ہوئے کہا۔
”اجمل صاحب! آپ یہ نہ بھولیں۔ آپ بھی اسی flock (ٹولے) کا حصہ ہیں۔” جنرل قریشی نے اس بار اجمل درانی سے کچھ طنزیہ انداز میں کہا۔
”ٹھیک ہے! سرتسلیم خم ہے جو مزاج یار میں آئے۔” اجمل درانی نے بڑے مؤدب مگر جتانے والے انداز میں سرجھکاتے ہوئے گلاس لہرایا۔
”مگر ہمیں تو فی الحال اگلے کچھ عرصہ کیلئے اس ٹولے سے باہر ہی سمجھیں۔”
”اچھا…! ہماری طرح آپ کو بھی یقین ہے کہ اگلے الیکشن میں آپ کی پارٹی اقتدار میں نہیں آرہی۔” لئیق انکل نے اجمل درانی سے کہا۔
”بھی، اتنے احمق تو ہم نہیں ہیں۔ ہمیں ہی دوبارہ لے کر آنا ہوتا تو ہمارا تختہ کیوں پلٹتے اس طرح… مگر چلو… کچھ دیر باہر بیٹھ کر تماشا دیکھتے ہیں۔ دیکھتے ہیں اگلے کھلاڑی کس طرح پٹتے ہیں۔” اجمل درانی کے لہجے میں طنز تھا۔
”یہ تو کھلاڑیوں پر ہے کہ وہ پٹنے کیلئے آتے ہیں یا پیٹنے کیلئے۔” جنرل قریشی نے اس بار بھی طنزیہ مسکراہٹ سے کہا۔
”ارے جناب! پیٹنا کس کو ہے… آپ کو… یا ان کو؟” اجمل درانی نے بڑے معنی خیز انداز میں پہلے جنرل قریشی اور پھر شاہد زمان کی طرف اشارہ کیا۔
”آپ بتایئے آپ کسے پیٹنا پسند کریں گے؟” جنرل قریشی نے بھی اسی انداز میں جواب دیا۔
”آپ تو ایسے پوچھ رہے ہیں جیسے انتخاب کا حق واقعی ہمیں دے رہے ہوں۔ بھئی تم لوگوں میں سے جس کا داؤ لگے گا… وہی پیٹے گا۔ ملٹری بیورو کریسی کی باری آئے گی تو وہ پیٹے گی اور سول بیورو کریسی کا بس چلے گا تو وہ بھی ویسی ہی تواضع کرے گی ہم ”عوامی نمائندوں” کی۔”
اجمل درانی نے مشروب کا گھونٹ لیتے ہوئے کہا۔
”ہاں! جی آپ جیسے ”عوامی نمائندے” ہی تو کسی بھی قوم کا تیا پانچہ کردیتے ہیں۔ آپ جیسے مظلوموں کا کیا کہنا؟”
جنرل قریشی کی بات پر ٹیبل کے گرد بیٹھے ہوئے دوسرے سامعین نے ایک بار پھر فہمائشی قہقہہ لگایا۔
”جنرل صاحب…! جنرل صاحب…! میں کچھ کہوں گا تو آپ کے ماتھے پر بھی خاصا پسینہ آجائے گا۔ قوم کا تیا پانچہ کرنے والوں میں بڑے بڑے نامور لوگ شامل ہیں۔” اجمل درانی کا لہجہ اس بار بھی طنزیہ ہی تھا۔
”ارے بھئی! چھوڑیں۔ کچھ اور باتیں کریں۔ آپ لوگ بھی کن باتوں میں الجھے ہوئے ہیں۔” ان کے پاس سے گزرتے ہوئے ان کے میزبان فیڈرل سیکرٹری نے شاید ہونے والی گفتگو سن لی تھی، اس لیے وہ قریب آگیا تھا۔
”اس بار آپ نے ڈرنکس میں کوئی چوائس نہیں چھوڑی۔ وہی پیناپڑرہا ہے۔ جو ناپسند ہے عباس صاحب! آپ تو خاصے ”دلیر” قسم کے میزبان تھے۔ آپ کی ڈرنکس کو کیا ہوگیا؟” شاہد زمان نے ایک معنی خیز بات کی۔
”ہم آج بھی خاصے دلیر قسم کے ہی میزبان ہیں بلکہ یہ کہیے کہ ”شوقین” میزبان ہیں۔ بس کچھ مجبور ہیں۔ خطرہ مول نہیں لیا کیونکہ ابھی الیکشن ہونے والے ہیں۔ کوئی پتا نہیں کون سی پارٹی ٹیک اوور کرتی ہے۔ اگلی پوسٹنگ سے پہلے کوئی رسک نہیں لینا چاہتا تھا۔ آپ فکر نہ کریں، اگلی پارٹی میں سارے شکوے ختم کردوں گا۔”
عباس حاکم نے شاہد زمان کا کندھا تھپکتے ہوئے کہا۔
”ہمارے ہوتے ہوئے ڈرنے کی کیا ضرورت تھی عباس صاحب…؟ جو چاہے پیش کرتے۔” جنرل قریشی نے پائپ کا کش لیتے ہوئے کہا۔
”آپ کے ہوتے ہوئے ہی تو کچھ پیش کرتے ہوئے ڈر لگتا ہے۔ آپ خود ”کھا پی” لیتے ہیں مگر دو سروں کو نہ ”کھانے” دیتے ہیں اور نہ پینے۔” اجمل درانی نے عباس حاکم کے کچھ کہنے سے پہلے برجستہ انداز میں کہا۔ ٹیبل پر بے اختیار ایک قہقہہ گونجا۔
۔۔۔
”اجمل صاحب! آج بڑی فارم میں ہیں۔ آج ان کے ساتھ ٹکر نہ ہی لیں تو بہتر ہے۔” لئیق انکل نے ہنستے ہوئے جنرل قریشی سے کہا۔
عباس حاکم اپنی پارٹیز میں غیرملکی مہمانوں کی ایک لمبی چوڑی تعداد کو مدعو کرتے رہتے تھے اور ان کا ہی سہارا لے کر وہ اپنی پارٹیز میں شراب بھی پیش کیا کرتے تھے۔ اس وقت وہ سب لوگ بھی پہلی بار ان کی پارٹی میں شراب پیش نہ کرنے کے بارے میں شکایت کررہے تھے۔ عباس حاکم کچھ دیر وہیں ٹیبل کے پاس کھڑے خوش گپیوں میں مصروف رہے، پھر وہاں سے چلے گئے۔
عمر خاصی دلچسپی کے ساتھ وہاں ہونے والی گفتگو سن رہا تھا۔ اس نے گفتگو میں حصہ لینے کی کوشش نہیں کی تھی شاید اس کی ایسی کوشش کو بہت اچھا بھی نہ سمجھا جاتا کیونکہ اس ٹیبل پر وہ سب سے کم عمر تھا اور وہ وہاں بیٹھے ہوئے باقی لوگ نہ صرف عمر میں اس سے بہت بڑے تھے بلکہ وہ بہت سینئر پوسٹس پر بھی تھے اور عمر کو ایسے ڈنرز اٹینڈ کرنے کا اچھا خاصا تجربہ تھا۔
جہانگیر معاذ اسے بہت کم عمری سے ہی ایسی تقریبات میں لے جاتے رہتے تھے اور وہاں ہونے والی گفتگو یا موضوعات اس کیلئے کوئی نئی چیز نہیں تھے۔ ایسی تمام تقریبات میں وہ بس خاموشی سے ایک غیرمتعلق شخص کی طرح سب کچھ سنتا اور دیکھتا رہتا۔ اس کیلئے یہ سب جیسے زندگی کا ایک حصہ تھا۔
اس وقت بھی وہاں بیٹھا وہ اسی قسم کے تبصرے اور خوش گپیاں سن رہا تھا جیسی وہ پچھلے کئی سالوں سے سنتا آرہا تھا۔
”تم بور تو نہیں ہو رہے؟” یکدم لئیق انکل کو اس کا خیال آیا تھا اور ان کے اس جملے پر ٹیبل پر بیٹھے ہوئے تمام لوگوں کی توجہ اس پر مرکوز ہوگئی۔ اس کا تعارف لئیق انکل پہلے ہی ان لوگوں سے کروا چکے تھے اور جہانگیر معاذ کا نام وہاں کسی کیلئے بھی نیا نہیں تھا اور جہانگیر معاذ کا بیٹا بھی ان کیلئے اتنا ہی شناسا ہوگیا تھا۔
”نہیں! بالکل نہیں۔” اس نے بے نیازی سے کندھے اچکاتے ہوئے کہا۔
”یہ اس عمر میں کوئی اچھی بات نہیں ہے کہ ہم جیسے ادھیڑ عمر کے لوگوں کے پاس بھی اتنی دیر بیٹھ کر تم بور نہیں ہوئے۔ جاؤ کہیں ادھر ادھر پھرو۔ اپنے لیے کوئی خوبصورت کمپنی ڈھونڈو، تم تو جہانگیر معاذ کے بیٹے ہی نہیں لگتے۔”
شاہد زمان کی بات پر ایک قہقہہ لگا اور عمر کا چہرہ چند لمحوں کیلئے بے اختیار سرخ ہوگیا۔ وہ آج کل باپ کے نام پر اسی طرح نروس ہوجاتا تھا۔ اسے یہی لگتا تھا کہ جہانگیر کا ذکر آتے ہی لوگ فوراً ان کی حالیہ شادی کا ذکر کرنے سے نہیں چوکیں گے اور زیادہ تر ایسا ہی ہو رہا تھا۔ اس وقت بھی وہ یہ سوچ کر نروس ہونے لگا تھا کہ اب بات جہانگیر کی شادی کی طرف نہ نکل پڑے۔
”جہانگیر کی تو بات ہی اور ہے۔ ضروری تو نہیں ہے، اولاد بھی ویسی ہی ہو۔”
لئیق انکل حسب عادت جہانگیر کو سراہنا شروع ہوگئے تھے اور عمر کو حیرت نہیں ہوئی جب اس نے ان لوگوں میں سے بہت سوں کو ان کی ہاں میں ہاں ملاتے دیکھا تھا۔
وہ اپنے باپ کو جتنے قریب سے جانتا تھا، شاید کوئی دوسرانہیں جانتا تھا۔ جہانگیر معاذ کرپٹ تھا، لوز کریکٹر کا مالک تھا، خودغرض تھا۔ …خود پرست تھا… مگر عمر یہ بھی اچھی طرح جانتا تھا کہ ان تمام خامیوں کے باوجود اس کے باپ کو بہت زیادہ پسند کیا جاتا تھا۔ اس کی شخصیت میں کوئی ایسا چارم ضرور تھا کہ جو شخص ایک بار اس سے مل لیتا اس کیلئے جہانگیر معاذ کو بھلانا ناممکن تھا۔ عمر کیلئے کسی سے دوستی کرنا ہمیشہ مشکل کام تھا۔ وہ لوگوں سے تعلقات بڑھانے میں محتاط تھا اور یہی وجہ تھی کہ اس کے دوستوں کی تعداد بھی خاصی محدد تھی اور ان میں کتنوں پر وہ مکمل طور پر اعتبار کرسکتاتھا۔ وہ اس بارے میں بھی یقین سے نہیں کہہ سکتا تھا مگر اس نے اپنے باپ کو چند منٹوں میں لوگوں کو اپنا گرویدہ بناتے دیکھا تھا۔ جہانگیر معاذ نہ صرف بہت آسانی سے لوگوں کو دوست بنالیا کرتا تھا بلکہ جن لوگوں کو اس نے ایک بار اپنا دوست بنالیا وہ پھر اس کے زندگی بھر دوست ہوتے تھے اور عمر نے کبھی اپنے باپ کے دوستوں میں کسی کو جہانگیر معاذ کے ساتھ دھوکا کرتے نہیں دیکھا تھا۔ جہانگیر معاذ کی اس خوبی نے اسے پچھلے کئی سالوں میں بہت سی مصیبتوں سے بچایا تھا۔ ہربار اپنے خلاف انکوائری شروع ہونے سے پہلے جہانگیر معاذ کو اس بارے میں اطلاعات ہوتیں اور پھر اپنے دوستوں کی مدد سے وہ بڑی آسانی سے پہلے ہی اس کا توڑ کرلیا کرتا تھا۔ بعض دفعہ عمر کو اپنے باپ کی اس خوبی پر رشک بھی آتا۔
اب کھانا شروع کیا جانے لگا تھا اور عمر نے شکرادا کیا کہ گفتگو کا موضوع یکدم بدل گیا تھا۔

جاری ہے۔