Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 47

امربیل از عمیرہاحمد
۔۔۔۔
قسط نمبر 47
۔۔۔۔۔
علیزہ کو مطمئن کرنے کی اس کی ساری کوششیں اس وقت بری طرح ناکام رہیں جب وہ دونوں ایک ریسٹورنٹ میں جا کر بیٹھیں۔ شہلا نے ویٹر کو آرڈر نوٹ کروایا اور ویٹر کو گئے ابھی چند منٹ ہی ہوئے تھے جب شہلا نے عمر کو جوڈتھ کے ساتھ ریسٹورنٹ میں آتے دیکھا۔ وہ دونوں اس وقت جس ٹیبل پر بیٹھی ہوئی تھیں۔ وہ ایسی جگہ پر تھی کہ اندر آنے والے ہر شخص کی پہلی نظر ان پرہی پڑتی۔نہ صرف شہلا نے عمر کو دیکھا تھا بلکہ عمر کی بھی اندر داخل ہوتے ہی ان پر نظر پڑی تھی وہ ٹھٹھک گیا تھا۔
شہلا نے علیزہ کو دیکھا۔ وہ بھی عمر اور جوڈتھ کو دیکھ چکی تھی۔ شہلا کا خیال تھا عمر ان دونوں کی طرف نہیں آئے گا لیکن اس کی یہ توقع غلط ثابت ہوئی ۔
عمر جوڈتھ سے کچھ کہہ رہا تھا پھر شہلا اور علیزہ نے جوڈتھ کو بھی اپنی ٹیبل کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے دیکھا۔ علیزہ نے ان دونوں سے نظریں ہٹا لیں۔
”ہیلو! ” عمر نے قریب آکر کہا علیزہ نے سر اٹھا کر نہیں دیکھا۔ شہلا اپنی کرسی سے کھڑی ہو گئی تھی۔
”ہیلو علیزہ !” ا س بار علیزہ نے جوڈتھ کی گرم جوش آواز سنی۔ وہ بھی اپنی سیٹ سے کھڑی ہو گئی۔
اس نے جوڈتھ کی طرف ہاتھ بڑھایا مگر جوڈتھ نے اس کا ہاتھ تھامنے کی بجائے اسی پرانی بے تکلفی اور گرم جوشی کے ساتھ آگے بڑھ کر اس کے دونوں گالوں کو خیر مقدمی انداز میں چوما۔
”مجھے یقین نہیں آرہا کہ یہ علیزہ ہی ہے، خوبصورت تو یہ پہلے ہی تھی مگر اب… کیوں عمر؟”
وہ علیزہ کے دونوں کندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے بڑی بے تکلفی کے ساتھ عمر سے پوچھ رہی تھی۔ علیزہ کا دل چاہا وہ اپنے کندھوں سے اس کے ہاتھوں کو جھٹک دے۔
عمرنے اس کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا۔
”بہت سالوں کے بعد دیکھا ہے میں نے تمہیں علیزہ ! کتنے سالوں بعد، کچھ یاد ہے تمہیں؟”
علیزہ نے مسکرانے کی کوشش کی، وہ جانتی تھی یہ بہت مشکل کام تھا۔
”نہیں۔” اس نے یک لفظی جواب دیا۔ اپنی آواز اسے بے حد کھوکھلی لگی تھی، صرف چہرے ہی نہیں آوازیں بھی انسان کی کیفیات کا آئینہ ہوتی ہیں۔
جوڈتھ اب شہلا سے ہیلو ہائے میں مصرو ف تھی۔
”تم لوگ یہاں لنچ کے لئے آئے ہو؟” عمر نے پوچھا۔
”ہاں۔” شہلا نے کہا۔
”اکٹھے لنچ کر لیتے ہیں۔” اس بار جوڈتھ نے کہا۔
”نہیں۔ ہم لوگ اکیلے لنچ کرنا چاہتے ہیں۔”
نہ چاہتے ہوئے بھی اس کے لہجے میں سرد مہری آگئی تھی اور شاید جوڈتھ نے اسے محسوس بھی کیا تھا۔
”کوئی بات نہیں۔ تم لوگ لنچ کرو۔ ہم دونوں کافی پینے آئے تھے لیکن میں سوچ رہا ہوں کہ کہیں اور پیتے ہیں یہاں کافی رش ہے۔ اچھا خدا حافظ!” عمر نے بڑی آسانی کے ساتھ بات ختم کرتے ہوئے کہا۔ اس نے ایک بار بھی علیزہ کو مخاطب کرنے کی کوشش نہیں کی علیزہ نے پوری گفتگو کے دوران ایک بار بھی عمر کے چہرے پر نظر نہیں ڈالی۔ اس میں اتنی ہمت باقی نہیں رہی تھی۔ وہ صرف جوڈتھ کو دیکھ رہی تھی جو ایک بہت خوبصورت سبز شلوار قمیض میں ملبوس تھی۔ اس میں زیادہ تبدیلی نہیں آئی تھی۔ صرف اس کا ہیر اسٹائل اور بالوں کا کلر بدل گیا تھا۔
علیزہ کو یک دم اپنی بھوک بھی ختم ہوتی ہوئی محسوس ہوئی۔ وہ ان دونوں کو اس وقت تک دیکھتی رہی جب تک وہ دونوں ریسٹورنٹ سے باہر نہیں نکل گئے۔
ویٹر اب ان کی ٹیبل پر کھانا سرو کر رہا تھا مگر کھانے میں اس کی دلچسپی ختم ہو گئی تھی۔ وہ اب یہاں سے بھاگ جانا چاہتی تھی۔

اپنی پلیٹ میں کچھ چاول ڈال کر وہ بے دلی سے شہلا کا ساتھ دینے کے لئے کھانا کھاتی رہی۔ شہلا نے کھانے میں اس کی عدم دلچسپی کو محسوس کر لیا تھا ، مگر اس نے علیزہ سے کچھ نہیں کہا اس کے لیے اتنا ہی کافی تھا کہ وہ کھانا کھا رہی تھی اور اس نے کھانا چھوڑ کر جانے کی کوشش نہیں کی تھی۔
شہلا کے کھانا ختم کرتے ہی علیزہ نے اس سے کہا ۔ ”میں گھر جانا چاہتی ہوں۔”
یہ جیسے ایک اعلان تھا کہ وہ اب گھومنا نہیں چاہتی۔
”مگر ہم دونوں نے تو یہ طے کیا تھاکہ ہم آج سارا دن ادھر ادھر پھریں گے پھر یک دم تم نے اپنا فیصلہ کیوں بدلا ہے؟ ” شہلا نے اعتراض کیا۔
”بس میں گھر جانا چاہتی ہوں۔ میں کچھ دیر آرام کرنا چاہتی ہوں۔”
وہ اپنا شولڈر بیگ اٹھاتے ہوئے شہلا سے پہلے ہی اپنی کرسی سے اٹھ کھڑی ہوئی۔
شہلا نے بھی اصرار نہیں کیا۔ اس کے گھر کے گیٹ پر شہلا نے گاڑی روک کر ہارن دیا تو علیزہ نے اس کی طرف دیکھے بغیر کہا۔
”شہلا! اب تم جاؤ…میں کچھ وقت اکیلے رہنا چاہتی ہوں۔”
”مگر علیزہ! میں۔۔۔” شہلا نے کچھ کہنے کی کوشش کی۔ علیزہ نے نرمی سے اس کی بات کاٹ دی۔
”پلیز…کچھ دیر کے لیے مجھے واقعی اکیلا رہنے دو…میں اس وقت تنہائی کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں چاہتی، تم میرے ساتھ رہو گی تو میں ڈسٹرب رہوں گی۔”
چوکیدار نے گیٹ کھول دیا۔ شہلا چپ چاپ اسے گاڑی سے اترتے اور جاتے دیکھتی رہی، اس نے گیٹ کے اندر جانے سے پہلے مڑ کر ایک بار شہلا کو دیکھا اور ہلکے سے مسکرائی اس کے بعد وہ اندر غائب ہو گئی۔
٭٭٭
اگلے کئی دن وہ اسی آسیب کی گرفت میں رہی۔ ہر چیز اپنی اہمیت کھو چکی تھی۔ وہ دن اور رات کے کسی بھی لمحے میں عمر کے خیال سے غافل نہیں رہتی تھی اور اگر کبھی کچھ دیر کے لیے کوئی اور خیال اس کے ذہن میں آتا بھی تو صرف چند لمحوں کے لیے اس کے بعد وہ پھر اسی تکلیف دہ خیال میں لوٹ جاتی تھی۔
کئی ہفتوں کے بعد نانو نے ایک بار پھر اس سے جنید ابراہیم کے بارے میں بات کی تھی۔ اس نے اقرار یا انکار کچھ بھی نہیں کیا تھا۔
”آپ جو ٹھیک سمجھیں، کریں۔” اس نے صرف یہ کہا تھا۔
جنید کے ساتھ اس کی نسبت کتنی برق رفتاری کے ساتھ طے ہوئی تھی، اسے اس کی توقع بھی نہیں تھی۔ نانو پہلے ہی ثمینہ اور سکندر سے جنید کے بارے میں بات کر چکی تھیں۔ دونوں بخوشی اس پر پوزل کو قبول کرنے پر تیار ہو گئے تھے۔
سکندر مسقط سے کراچی شفٹ ہونے کے بعد پہلی بار اس سے ملنے لاہور آئے تھے۔ ان کی یہ آمد بنیادی طور پر جنید سے ملاقات کے لیے تھی اور وہ خاصے مطمئن واپس گئے تھے۔
”کیا یہ بہتر نہیں ہے کہ تم جنید سے ایک بار پھر مل لو۔” باقاعدہ طور پر جنید کے گھر والوں کو اس پر پوزل کے لیے اپنی رضا مندی دینے سے پہلے نانو نے ایک دن اس سے کہا۔
”میں پہلے ہی اس سے مل چکی ہوں۔ ایک بار اور مل کر کیا کر لوں گی؟” اس نے دوٹوک انکار کر دیا۔
”پھر بھی یہ ضروری ہے…پہلے کی بات اور تھی۔۔۔”
علیزہ نے نانو کی بات کاٹ دی۔ ”کیا وہ مجھ سے ملنا چاہتا ہے؟”
”نہیں۔ اس نے ایسی کسی خواہش کا اظہار نہیں کیا…میں خود یہ چاہتی ہوں کہ تم دونوں ایک بار اور آپس میں مل لو بلکہ بہتر یہ ہے کہ تم اس کے سارے گھر والوں سے مل لو۔ یہ اس کی امی کی خواہش ہے۔” نانو نے اسے بتایا۔
”میں اس کے تقریباً سارے گھر والوں سے ہی مل چکی ہوں۔ وہ پچھلے کئی ہفتے سے آ جا رہے ہیں ہمارے گھر۔”علیزہ نے کہا۔
”ٹھیک ہے، وہ آتے رہے ہیں مگر تم سے اتنی بے تکلفی سے گفتگو تو نہیں ہوئی۔ جنید کی امی چاہتی ہیں کہ تم ان کے گھر کھانے پر آؤ۔ کچھ وقت ان کے ساتھ گزارو تاکہ تمہیں ان کے گھر کے ماحول کا اچھی طرح اندازہ ہو سکے۔”
”اس کا فائدہ کیا ہے؟” اسے الجھن ہوئی۔ ”مجھے جنید کو جتنا جاننا تھا، میں جان چکی ہوں۔”
”اگر اس کی امی کی خواہش ہے کہ تم وہاں کچھ وقت گزارو تو تمہیں اس پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔” نانو نے اسے سمجھانے کی کوشش کی۔
”کیا وہ مجھے اکیلے انوائیٹ کر رہی ہیں؟” اس نے چند لمحے خاموش رہنے کے بعد نانو سے پوچھا۔
”نہیں، وہ مجھے بھی ساتھ کھانے پر بلا رہی ہیں۔”
علیزہ نے ایک نظر انہیں دیکھا اور پھر کہا۔ ”ٹھیک ہے مجھے کوئی اعتراض نہیں، آپ انہیں ہمارے آنے کے بارے میں بتا دیں۔”
تیسرے دن شام کو وہ نانو کے ساتھ جنید کے گھر موجود تھی۔
گیٹ پر انہیں جنید نے ہی ریسیو کیا تھا۔ رسمی سلام دعا کے دوران ان دونوں کے درمیان مسکراہٹوں کا تبادلہ ہوا۔
”مجھے آپ کو یہاں دیکھ کر بہت خوشی ہوئی ہے۔” نانو کے اس کی امی کے ساتھ آگے چلے جانے پر اس نے علیزہ سے کہا ”اور یہ رسمی الفاظ نہیں ہیں۔”
اس نے اپنے لفظوں پر زور دیتے ہوئے کہا۔ علیزہ کوشش کے باوجود اپنے ہونٹوں پر مسکراہٹ لانے میں ناکام رہی۔ ہر چیز پہلے سے زیادہ کھو کھلی لگنے لگی تھی۔ ساتھ چلتے ہوئے اس شخص سے اسے یکدم خوف آنے لگا تھا۔
”میری خاصی دیرینہ خواہش پوری ہوئی ہے آپ کو یہاں دیکھ کر۔” وہ ساتھ چلتے ہوئے کہہ رہا تھا۔
”اور یہاں تک پہنچنے کے لیے میری ایک دیرینہ خواہش کا خون ہوا ہے۔” اس نے سوچا۔
جنید کے گھر والوں کے ساتھ اگلے چند گھنٹے اس نے بہت مشکل سے گزارے تھے۔ وہ ایک اچھی فیملی سے تعلق رکھتا تھا۔ یہ وہ بھوربن میں ہونے والی اس سے اپنی پہلی ملاقات میں ہی جان چکی تھی حالانکہ تب تک وہ اس کی فیملی سے ملی تھی نہ اس نے انہیں دیکھا تھا۔ اسے ان کے بارے میں اور کچھ بھی جاننے کی خواہش نہیں تھی۔
جنید کا گھرانہ بہت زیادہ تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود بہت روایتی تھا۔ وہ سب آپس میں بہت بے تکلف تھے اور علیزہ کی وہاں موجودگی اسی بے تکلفی کا ایک ثبوت تھی۔
جنید کی چھوٹی دونوں بہنیں گھر پر موجود تھیں۔ اس کا چھوٹا بھائی گھر پر نہیں تھا نہ ہی اس کی بڑی بہن جس سے وہ پہلے مل چکی تھی مگر اس کے باوجود اندازہ کر سکتی تھی، گفتگو کے دوران بار بار جنید کی امی اور پاپا کی طرف سے ان کے ذکر کی وجہ سے کہ ان کی غیر موجودگی سے کوئی زیادہ فرق نہیں پڑا تھا۔
وہ جنید کی دادی اور دادا سے بھی ملی تھی۔ اسے یہ جان کر حیرت ہوئی کہ وہ دونوں علی گڑھ کے گریجویٹس تھے۔ اس کے دادا بہت عرصہ ایک انگلش اخبار سے منسلک رہے تھے ، وہ فری لانس جرنلسٹ تھے اور تحریک پاکستان کے بارے میں بہت سی کتابیں بھی تحریر کر چکے تھے۔
جنید کے والد سول انجینئر تھے اور اس کمپنی کی بنیاد انہوں نے ہی رکھی تھی جس میں اب جنید ابراہیم کام کر رہا تھا۔ اگرچہ اس کی امی اور دادی ورکنگ ویمن نہیں تھیں مگر وہ اس کے باوجود بہت ایکٹو تھیں۔ کمیونٹی ڈویلپمنٹ کے بہت سے کاموں میں وہ دونوں حصہ لیتی رہی تھیں۔

چند گھنٹے وہاں گزارنے کے دوران اسے یہ احساس ہو گیا تھا کہ وہ سب اسے پہلے ہی اس گھر کے ایک فرد کی حیثیت دے چکے تھے۔ اب جو کچھ ہو رہا تھا وہ صرف رسمی نوعیت کا تھا۔
رات کے کھانے کے بعد جب وہاں سے واپس آئی تو پہلے سے زیادہ خاموش اور مضطرب تھی۔ نانو نے اس کے چہرے کے تاثرات سے اس کی دلی کیفیات جاننے کی کوشش کی، وہ متفکر ہو گئیں۔ وہ کسی طرح بھی خوش یا مطمئن نظر نہیں آرہی تھی۔
”علیزہ…!کیسے لگے تمہیں وہ لوگ؟” انہوں نے اسے کریدنے کی کوشش کی۔
”اچھے ہیں۔” وہ جتنا مختصر جواب دے سکتی تھی اس نے دیا۔ نانو نے بے اختیار سکون کا سانس لیا۔
”تو پھر تم اتنی پریشان نظر کیوں آرہی ہو؟ وہاں بھی تم بہت چپ چپ تھیں۔”
”کچھ نہیں آپ کو یوں ہی محسوس ہو رہا ہے۔” اس نے انہیں ٹالنے کی کوشش کی۔ نانو کچھ دیر خاموش رہیں۔ ”میں جنید کے گھر والوں کو تمہاری رضامندی دے دوں؟” انہوں نے کچھ دیر کے بعد پوچھا۔
”جیسے آپ کی مرضی۔” اس نے تھکے تھکے انداز میں کہا۔
”وہ لوگ فوری شادی نہیں چاہتے، ایک ڈیڑھ سال تک شادی چاہتے ہیں۔ جنید کو چند کورسز کے لیے سنگاپور جانا ہے۔ پھر کچھ عرصہ کے لیے کوئٹہ بھی رہنا ہے، وہاں کوئی پروجیکٹ ہے اس کا۔” وہ اسے بتانے لگیں۔
”ابھی وہ چاہتے ہیں کہ انگیجمنٹ ہو جائے۔” وہ خالی الذہنی کے عالم میں ان کا چہرہ دیکھتی رہی۔
”میں نے ثمینہ سے بات کی تھی۔ وہ بہت خوش ہے، تمہاری انگیجمنٹ کے لیے آنا چاہتی ہے۔ اس کی فلائٹ کا پتا چل جائے تو ہم لوگ انگیجمنٹ کی ڈیٹ طے کر لیں گے۔” نانو اپنی رو میں اسے بتاتی جا رہی تھیں وہ ذہنی طور پر کہیں اور پہنچی ہوئی تھی۔
”ثمینہ چاہتی ہے کہ خاصی دھوم دھام سے تمہاری انگیجمنٹ ہو، پوری فیملی آرہی ہے اس کی۔”
”میں جاؤں نانو ؟” وہ یک دم کھڑی ہو گئی۔ نانو اسے کھڑا ہوتے دیکھ کر خاموش ہو گئیں۔
”ٹھیک ہے تم چلی جاؤ” وہ انہیں شب بخیر کہتے ہوئے ان کے کمرے سے نکل آئی۔
اگلے دو تین ہفتے اس کے لیے بہت صبر آزما ثابت ہوئے۔ ثمینہ اپنی فیملی کے ساتھ اس کی انگیجمنٹ میں شرکت کے لیے پاکستان آئی تھیں۔
وہ بڑے جوش و خروش سے آتے ہی اس کی انگیجمنٹ کی تیاریوں میں لگ گئی تھیں، ہر روز علیزہ کو ساتھ لے کر وہ مارکیٹس کی خاک چھاننے نکل کھڑی ہوتیں۔
انہیں علیزہ کے رویے سے بالکل یہ احساس نہیں ہوا تھا کہ وہ خوش نہیں ہے یا کسی چیز کی وجہ سے پریشان ہے اور علیزہ کو اس بات پر حیرت نہیں ہوئی۔ وہ اس کی ماں تھیں مگر اتنے سال ایک دوسرے سے کٹ کر رہنے کے بعد ان سے یہ توقع کرنا کہ وہ اس کے چہرے پر جھلکنے والے ہر رنگ کو پہچان سکیں عبث تھا۔
اپنے سوتیلے بہن بھائی اسے خونی رشتوں سے زیادہ مہمان لگ رہے تھے نہ صرف وہ بلکہ ثمینہ بھی اور علیزہ اپنی پوری کوشش کر رہی تھی کہ وہ مہمانوں سے اچھے طریقے سے پیش آئے۔
منگنی والی شام سٹیج پر جنید کے ساتھ بیٹھے اس نے کچھ فاصلے پر عمر کو دیکھا تھا اس کے چہرے پر موجود مصنوعی مسکراہٹ غائب ہو گئی۔ عمر بہت خوش باش نظر آرہا تھا۔ متحرک اور زندہ دل، وہ سٹیج کی طرف ہی آرہا تھا۔
فوٹو گرافر اس وقت مختلف رشتہ داروں کے ساتھ ان دونوں کی تصویریں بنا رہا تھا۔ عمر سٹیج پر آنے کے بعد سیدھا جنید کی طرف گیا۔ جنید اٹھ کر عمر سے گلے ملا باقی لوگوں کا تعارف جنید سے باری باری کروایا گیا تھا چند کزنز کے سوا۔
علیزہ کو حیرت ہوئی عمر اور جنید کو ایک دوسرے سے تعارف کی ضرورت نہیں پڑی، کیا عمر جنید سے واقف تھا؟
”مبارک ہو علیزہ…!” اس نے علیزہ کے سامنے کھڑے ہو کر اسے مخاطب کیا۔ وہ اس کے سیاہ چمکتے جوتوں کو دیکھتی رہی۔ اس نے ان جوتوں کو دیکھتے ہوئے ہی اس کا شکریہ ادا کیا تھا۔
وہ کچھ دیر جنید کے ساتھ باتیں کرتارہا پھر علیزہ نے اسے سٹیج سے اترتے دیکھا۔
اس کے بعد علیزہ نے اسے ہال میں کئی جگہ پر مختلف لوگوں کے ساتھ گفتگو میں مصروف دیکھا، وہ ایک لمحے کے لیے بھی اس پر سے اپنی نظر اور دھیان نہیں ہٹا سکی، جنید یک دم پس منظر میں چلا گیا تھا بلکہ وہ شاید کبھی پیش منظر میں آیا ہی نہیں تھا۔
٭٭٭
رات دس بجے کے قریب وہ سب واپس آئے تھے۔ شہلا، علیزہ کے ساتھ تھی اور اسے رات وہیں اس کے ساتھ رکنا تھا۔
پورا گھر مہمانوں سے بھرا ہوا تھا۔ اس کے سارے انکلز اپنی فیملیز کے ساتھ وہاں موجود تھے، اس کے کزنز میں سے کچھ منگنی کی تقریب میں شرکت کے بعد ہوٹل سے ہی واپس چلے گئے تھے مگر ابھی بھی کافی کزنز وہیں تھے جنہیں اگلے دن واپس جانا تھا۔
ایک لمبے عرصے کے بعد لاؤنج میں بیٹھے ہوئے لوگوں کے درمیان خوشگوار گپ شپ ہو رہی تھی۔
وہ بھی کپڑے تبدیل کرنے کے بعد کافی دیر اپنی کزنز کے ساتھ گفتگو کرتی رہی پھر وہ سونے کے لیے اپنے کمرے میں آگئی۔
اس نے عمر کو بھی وہیں موجود دیکھا تھا اور اسے حیرت ہو رہی تھی کہ وہ تقریب کے فوراً بعد واپس کیوں نہیں گیا۔
شہلا کچھ دیر اس کے ساتھ باتیں کرتی رہی پھر وہ دونوں لائٹ بند کرکے سونے لیٹ گئیں مگر بستر پر لیٹتے ہی علیزہ کی آنکھوں سے نیند غائب ہو گئی تھی۔ نائٹ بلب کی ہلکی سی روشنی میں وہ چھت کو دیکھتے ہوئے پچھلے کچھ گھنٹوں کے بارے میں سوچتی رہی۔ اس کے لیے سب کچھ ایک بھیانک خواب کی طرح تھا، جواب شروع ہوا تھا اور شاید کبھی ختم نہیں ہونے والا تھا۔
وہ لائٹ جلائے بغیر اپنے بیڈ سے نیچے اتر گئی، شہلا گہری نیند میں تھی۔ علیزہ جانتی تھی وہ ایک بار سونے کے بعد اتنی معمولی سی حرکت پر نہیں جاگے گی۔
اپنے کمرے کا دروازہ کھول کر وہ باہر کوریڈور میں نکل آئی۔ لاؤنج سے ابھی بھی باتوں کی آوازیں آرہی تھیں۔ یقیناً وہ سب ابھی بھی وہاں موجود تھے۔ وہ لاؤنج میں جانے کے بجائے گھر کے پچھلے حصے کی طرف آئی اور دروازہ کھول کر عقبی لان میں نکل آئی۔
باہر عجیب سی خاموشی نے اس کا استقبال کیا تھا۔ دور بیرونی دیوار کے پاس لگی لائٹس اگرچہ تاریکی کو ختم کرنے کی کوشش کر رہی تھیں مگر وہ اس میں کامیاب نہیں ہو پا رہی تھیں، لان بڑی حد تک تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا، تاریکی، خاموشی اور تنہائی اسے اس وقت ان ہی چیزوں کی ضرورت تھی۔
نیچے لان میں اترنے کے بجائے وہ ماربل کی سیڑھیوں میں سب سے اوپر والی سیڑھی پر بیٹھ گئی۔ بایاں ہاتھ اپنی گود میں رکھتے ہوئے اس نے دایاں ہاتھ ماربل کے فرش پر رکھ دیا۔ فرش کی ٹھنڈک اسے پوروں کے ذریعے اپنے اندر اترتی محسوس ہوئی۔
”تو آج بالآخر آپ کے یوٹوپیا کا خاتمہ ہو گیا اور اب ایلس ونڈر لینڈ سے باہر آگئی ہے۔”
باہر کی خاموشی نے اس کے اندر کی خاموشی کو توڑ دیا تھا۔ وہ بہت آہستگی سے فرش پر انگلیوں کی پوریں پھیرنے لگی۔
”کاش معجزے ہونا بند نہ ہوتے، ایک معجزہ میری زندگی میں بھی ہوتا، میں آنکھیں بند کروں اور پھر کھولوں تو مجھے پتا چلے یہ سب خواب تھا۔ حقیقت یہ ہو کہ جنید کی جگہ پر عمر ہو جو ڈتھ اور جنید ہم دونوں کی زندگی میں موجود ہی نہ ہوں۔” اس نے سوچتے ہوئے آنکھیں بند کیں پھر آنکھیں کھولیں۔ خواب ختم نہیں ہوا، حقیقت بدل نہیں سکی۔ وہ آنکھوں میں نمی لیے مسکرائی۔

ہم کہ دشت جہاں کو آباد کیے بیٹھے ہیں
آرزوئے یار کو اب خاک کیے بیٹھے ہیں
خواب کے تار سے خواہش کو رفو کرتے
دامنِ دل کو اب چاک کیے بیٹھے ہیں
اس نے زیر لب اس غزل کے شعروں کو دہرانے کی کوشش کی جنہیں وہ دو سال سے بڑی باقاعدگی سے سنتی آرہی تھی۔
کاش وہ آئے جلائے یہاں کوئی چراغ
دل کے دربار کو ہم طاق کیے بیٹھے ہیں
اس نے دور دیوار پر لگی ہوئی لائٹس پر نظریں جمادیں۔ اس کا دل چاہ رہا تھا وہ لائٹس بھی بجھ جائیں۔ مکمل تاریکی، ویسی جیسی اس وقت میرے اندر ہے۔ کیا چند لمحوں کے لیے ویسی تاریکی نہیں ہو سکتی ہر طرف؟ اس کے اندر خواہش ابھری۔
”علیزہ !” اس نے بے اختیار گردن موڑ کر پیچھے دیکھا پھر اسی رفتار سے گردن واپس موڑی۔ وہ اپنے چہرے کے تاثرات کو چھپانا چاہتی تھی ، پھر اسے یاد آیا یہ کام پہلے ہی وہاں چھائی ہوئی تاریکی کر رہی تھی۔ اس نے بھی عمر کو اس کی آواز اور قدوقامت سے ہی پہچانا تھا اور عمر نے اسے کیسے پہچانا تھا یہ صرف وہی جانتا تھا۔
وہ اتنے دبے قدموں آیا تھا کہ اسے اس کی آمد کی خبر ہی نہیں ہوئی یا پھر شاید وہ اپنی سوچوں میں اس قدر گم تھی کہ اپنے اردگرد ہونے والی ہر چیز سے مکمل طور پر بے نیاز ہو گئی تھی۔

”تم اس وقت یہاں کیا کر رہی ہو؟” وہ اب اس کے عقب میں کھڑا پوچھ رہا تھا۔
”کچھ نہیں ویسے ہی نیند نہیں آرہی تھی اس لیے باہر آگئی۔” اس نے اپنی آواز پر قابو رکھتے ہوئے اسے دیکھنے کی کوشش کیے بغیر کہا۔ اس کا خیال تھا، وہ اسے اندر جانے کا کہے گا…یا پھر اندر جانے کی ہدایت دے کر خود چلا جائے گا۔ ایسا نہیں ہوا۔
وہ اس کی بات کے جواب میں کچھ کہے بغیر اس کے عقب میں خاموشی سے کھڑا رہا۔ پھر علیزہ نے اسے چند قدم آگے بڑھتے اور اسی سیڑھی پر بیٹھتے دیکھا جس پر وہ بیٹھی تھی۔
اس کا دل چاہا وہ اٹھ کر وہاں سے بھاگ جائے یا پھر پوری قوت سے دھکا دے کر اسے وہاں سے دھکیل دے وہ چند لمحے اور اس کے پاس بیٹھتا تو اپنے آنسوؤں پر قابو پانے کی اس کی ساری کوششیں ناکام ہو جاتیں اور وہ اب عمر جہانگیر کے سامنے رونا نہیں چاہتی تھی۔
اس کی طرف دیکھے بغیر گردن سیدھی رکھے، وہ دور دیوار پر موجود لائٹس کو دیکھتی رہی مگر اس کی ساری حسیات بالکل بیدار تھیں۔ وہ اس کے سانس کی آواز سن رہی تھی۔ وہ اس کے کولون کی مہک کو محسوس کر رہی تھی۔ اسے اپنی گردن سیدھی رکھنا مشکل ہو رہا تھا۔
وہ سیڑھیاں دونوں کے لیے نئی نہیں تھیں، وہ بہت بار وہاں بیٹھے تھے دن کی روشی میں۔ رات کی تاریکی میں مگر اس بار خاموشی ایک تیسرے فرد کی طرح ان دونوں کے درمیان موجود تھی۔ پہلے وہ کبھی نہیں آئی تھی، وہ دونوں یہاں بیٹھ کر گپیں ہانکتے رہتے، گفتگو میں کسی بھی وقفے کے بغیر، انہی سیڑھیوں پر بیٹھ کر عمر نے اسے بہت سے لطیفے سنائے تھے۔ وہ ہر بار لطیفہ سنانے سے پہلے اس سے کہتا۔ ”تمہیں ایک جوک سناتا ہوں۔”
علیزہ ہنسنا شروع ہو جاتی۔ ”کم آن یار! پہلے سن تو لو۔ تم تو پہلے ہی ہنسنا شروع ہو جاتی ہو۔” وہ اسے ٹوکتا وہ سنجیدہ ہو جاتی۔
”ایک باپ اپنے بچے کو ایک سائیکولوجسٹ کے پاس لے کر گیا۔” وہ لطیفہ شروع کرتا پھر رک کر اضافہ کرتا۔” میری طرح کے بچے کو، اس نے سائیکولوجسٹ سے کہا کہ یہ بچہ بہت ضدی ہے۔ اس نے مجھے اور باقی گھر والوں کو بہت پریشان کر دیا ہے۔ اپنی فضول ضدوں کی وجہ سے۔ میں چاہتا ہوں آپ اس کا علاج کریں تاکہ یہ اپنی اس عادت سے باز آ جائے۔
سائیکولوجسٹ نے باپ کی بات غور سے سنی اور پھر بچے کو سمجھانے کے بجائے باپ سے کہا کہ وہ کچھ تحمل سے کام لے، وقت گزرنے کے ساتھ وہ خود ہی یہ عادت چھوڑ دے گا۔
باپ نے کہا۔ ”اس وقت جو ضد کر رہا ہے اسے ہم نہیں مان سکتے اور یہ چھوڑنے پر تیار نہیں۔”
سائیکولوجسٹ نے پوچھا ”اب یہ کون سی ضد کر رہا ہے۔”
”یہ کہتا ہے مجھے ایک کینچوا لا کر دیں، میں وہ کھاؤں گا۔ اب آپ خود بتائیں کہ میں اسے کینچوا کیسے کھانے دے سکتا ہوں۔”
سائیکولوجسٹ نے باپ کو سمجھایا کہ بچے پر سختی کرنے سے اس پر نفسیاتی طور پر برا اثر پڑے گا۔ بہتر ہے کہ آپ اسے کینچوا کھانے دیں۔”
باپ کچھ پس و پیش کے بعد مان گیا۔
سائیکولوجسٹ نے اپنے اسسٹنٹ کو بھجوا کر ایک کینچوا منگوایا اور بچے کے سامنے میز پر رکھ دیا۔
بچے نے ایک نظر کینچوے پر ڈالی اور پھر بڑے آرام سے کہا۔
”آپ اس کینچوے کے دو ٹکڑے کریں۔ ایک آپ کھائیں، ایک میں کھاؤں گا۔”
سائیکولوجسٹ اس کے مطالبے پر گڑبڑا گیا۔
”دیکھا میں نے بتایا ہے نا کہ یہ بہت فضول ضدیں کرتا ہے۔” باپ نے کہا۔
سائیکولوجسٹ نے باپ کو تسلی دی اور ایک چاقو کے ساتھ کینچوے کے دو ٹکڑے کیے اور ایک ٹکڑا اٹھا کر اپنے منہ میں ڈال لیا اور اس نے بچے سے کہا ۔”اب تم اپنا ٹکڑا کھاؤ۔”
بچے نے سائیکولوجسٹ کا چہرہ دیکھا اور کہا۔
”آپ نے میرا ٹکڑا کھا لیا۔”
علیزہ کو بے اختیار گھن آئی ”یہ کیا جوک تھا۔ وہ بچہ اور سائیکولوجسٹ دونوں پاگل تھے۔ کینچوا کیسے کھا سکتے ہیں؟” وہ ہنسنے کے بجائے جھرجھری لے کر پوچھتی۔
”جوک تھا بھئی…حقیقت تو نہیں تھی۔” وہ اسے یاد دلاتا۔
”مگر پھر بھی کینچوے۔” اسے ایک بار پھر جھرجھری آئی۔
”اچھا…اچھا چلو، میں تمہیں ایک اور جوک سناتا ہوں۔” وہ جلدی سے ہاتھ اٹھا کر کہتا ”ایک جرنلسٹ ایک مینٹل ہاسپٹل میں گیا وہاں وہ مختلف وارڈز میں پھر رہا تھا کہ اچانک اس کی نظر ایک آدمی پر پڑی جو بہت خاموشی سے ہاتھ میں اخبار لیے کرسی پر بیٹھا تھا۔ اس نے بہت شاندار قسم کا سوٹ پہنا ہوا تھا، جرنلسٹ اس کے پاس گیا اور حیرانی سے پوچھا۔

”کیا آپ پاگل ہیں؟”
اس نے اخبار سے نظر اٹھا کر بڑی سنجیدگی سے کہا۔ ”نہیں۔”
”تو پھر آپ کو یہاں کیوں رکھا ہے؟” جرنلسٹ نے پوچھا۔
”کیونکہ میں نے ایک کتاب لکھی تھی دو ہزار صفحات کی۔”
جرنلسٹ کو شدید حیرت ہوئی اس نے پوچھا۔ ”آپ نے کس چیز کے بارے میں کتاب لکھی تھی؟”
”گھوڑوں کے بارے میں۔” اس نے بڑی سنجیدگی سے بتایا۔
جرنلسٹ غصے کے عالم میں ڈاکٹر کے پاس گیا اور اس سے کہا۔ ” آپ نے بے سوچے سمجھے ایک ذہین آدمی کو پکڑ کر یہاں بند کر دیا جس نے گھوڑوں پر دو ہزار صفحات پر مشتمل کتاب لکھی ہے۔”
ڈاکٹر نے بڑے سکون سے اس کی بات سنی اور کہا۔
”آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ اس شخص نے گھوڑوں پر واقعی دو ہزار صفحات کی ایک کتاب لکھی ہے مگر اس کی کتاب کے دو ہزار صفحات پر صرف ایک ہی بات ہے۔”
”وہ کیا؟” جرنلسٹ نے کچھ تجسس کے عالم میں پوچھا۔ ڈاکٹر نے ایک گہری سانس لی اور کہا ”دگڑ…دگڑ۔”
وہ لطیفہ سنانے کے بعد علیزہ کو دیکھتا جو اب بھی پورے انہماک اور سنجیدگی کے ساتھ اسے دیکھ رہی ہوتی۔ ”سمجھ میں نہیں آیا نا؟” وہ بڑی ہمدردی سے پوچھتا۔ وہ پلکیں جھپکائے بغیر اسے دیکھتی رہتی۔ انکار اور اقرار دونوں مشکل تھے۔
”آپ آسان جوکس سنایا کریں۔”
”مثلاً…ہاں ایسے والے ایک بچہ ماں سے کہتا ہے۔ ”ممی آج مجھے ٹیچر نے ایک ایسے کام کے لیے سزا دی جو میں نے کبھی کیا ہی نہیں۔” ماں حیرانی سے کہتی ہے۔
”کون سا کام؟”
”ہوم ورک۔” بچہ مزے سے کہتا ہے۔
وہ کندھے اچکاتا ہوا لطیفہ ختم کرتا۔ علیزہ ہنسنے لگتی۔ وہ بے اختیار گہرا سانس لیتے ہوئے کہتا۔
”وہ جو آپ میرے جوک سنانے سے پہلے ہنستی ہیں نا، وہی ٹھیک ہے۔ کم از کم مجھے یہ اطمینان تو ہو گا کہ تمہاری حس مزاح اچھی ہے۔” وہ مصنوعی اندازسے خفگی اسے ڈانٹتا۔
وہاں بیٹھے بیٹھے علیزہ کو بہت کچھ یاد آرہا تھا، چاروں طرف چھائی تاریکی ایک ایسا گنبد بن گئی تھی جس کے اندر اسے اپنی اور عمر کی آوازوں کی بازگشت سنائی دے رہی تھی ”اور شاید آج ہم آخری بار یہاں ان سیڑھیوں پر ایک دوسرے کے اتنے قریب بیٹھے ہیں۔”
اس نے دل گرفتی کے عالم میں سوچا۔
”تم آج بہت اچھی لگ رہی تھیں۔” عمر نے یک دم خاموشی کو توڑا۔
”تمہارے علاوہ ہر ایک کو۔” اس نے سوچا۔
”جنید بہت خوش قسمت ہے۔” وہ کہہ رہا تھا۔
”اور میں بہت بدقسمت ہوں۔” اس کے جواب اس کے اندر گونج رہے تھے۔
علیزہ کی مستقل خاموشی شاید اس کے لیے غیر متوقع تھی۔ وہ چند لمحوں کے لیے خود بھی خاموش ہو گیا۔
”آپ واپس نہیں گئے؟” علیزہ نے اچانک اس سے پوچھا۔
”میں جانا چاہ رہا تھا۔ گرینی نے روک لیا۔ سب فیملی ممبرز اکٹھے ہوئے تھے اس لیے۔” وہ مدھم آواز میں بتانے لگا۔
”ابھی بھی سب اندر بیٹھے ہوئے ہیں۔ صرف میں باہر آیا ہوں۔ کچھ دیر واک کرنا چاہ رہا تھا۔ تمہیں دیکھا تو ادھر آ گیا۔”
وہ اب لائٹر سے ہونٹوں میں دبا ہوا ایک سگریٹ جلا رہا تھا۔ چند لمحے جلتے رہنے والے شعلے میں علیزہ نے اس کا چہرہ دیکھا پھر شعلہ بجھ گیا۔

عمر نے لائٹر واپس جیب میں نہیں رکھا۔ وہ اسے ایک بار پھر جلا رہا تھا۔ اس بار وہ لائٹر جلا کر علیزہ کے ہاتھ کے پاس لے گیا۔ لائٹر سے اٹھنے والے شعلے کی روشنی میں علیزہ کے ہاتھ میں پہنی ہوئی انگوٹھی جگمگانے لگی تھی۔ وہ کچھ دیر اس کے ہاتھ میں موجود انگوٹھی کو دیکھتا رہا پھر اس نے لائٹر بند کر دیا۔ وہ اب اپنے بائیں ہاتھ سے سگریٹ کو ہونٹوں سے نکال رہا تھا۔ سگریٹ کا ننھا سا شعلہ اب اس کے ہونٹوں سے انگلیوں میں منتقل ہو چکا تھا۔ علیزہ اندھیرے میں ہونے والی اس حرکت کو دیکھتی رہی۔
”تم نے مجھ سے کوئی گفٹ نہیں مانگا؟” کچھ دیر بعد اس نے مدھم آواز میں کہا۔ علیزہ کو اپنے حلق میں آنسوؤں کا پھندا لگتا ہوا محسوس ہوا۔
”گفٹ؟ جو کچھ تم مجھ سے لے چکے ہو۔ اس کے بعد پوری دنیا اٹھا کر میرے سامنے رکھ دینے پر بھی خوش نہیں ہو سکتی۔” اس کے اندر ایک اور سرگوشی ہوئی تھی۔
”تم مجھ سے بات نہیں کرو گی؟” وہ بہت نرم آواز میں پوچھ رہا تھا۔” تمہاری ناراضی ختم نہیں ہو گی؟”
وہ ساکت رہ گئی، وہ کس ناراضی کی بات کر رہا تھا کیا وہ جانتا تھا۔ وہ اس سے ناراض ہے اور اگر وہ یہ جانتا تھا تو پھر کیا اس کی ناراضی کی وجہ سے بھی واقف تھا پھر بھی وہ اب تک اتنی بے نیازی دکھا رہا تھا۔
”اندھیرے میں بیٹھ کر رونے کی عادت چھوڑ دو علیزہ۔” اس کی نرم آواز اسے ایک چابک کی طرح لگی تھی۔ ساری دنیا میں وہی ایک شخص تھا جو تاریکی میں بھی اسے پہچان سکتا تھا جو اس کے چہرے پر ایک نظر ڈالے بغیر بھی اس کی ساری کیفیات سے باخبر تھا۔ اس نے خود کو بے بسی کی انتہا پر پایا۔
”میرے ساتھ یہ کیوں کیا آپ نے؟” وہ یک دم پھٹ پڑی۔ ”آپ نے میری پوری زندگی تباہ کر دی۔ آپ نے مجھے میرے قدموں پر کھڑے رہنے کے قابل تک نہیں چھوڑا۔” وہ بچوں کی طرح بلک رہی تھی۔
”مجھے یقین نہیں آتا کہ آپ کو مجھ سے محبت نہیں ہے۔ مجھے یقین نہیں آتا کہ آپ مجھے اپنی زندگی سے اس طرح باہر نکال کر پھینک سکتے ہیں۔” وہ بالکل خاموش تھا۔
”جوڈتھ۔ آپ کس طرح اسے اپنی زندگی میں لا سکتے ہیں، کس طرح اسے میری جگہ دے سکتے ہیں۔”
”کیا ان سب باتوں کا اب کوئی فائدہ ہے؟” اس کی آواز اب بھی اتنی ہی مدھم تھی۔
”کیوں فائدہ نہیں۔ کیوں فائدہ نہیں ہے؟” اس نے بلند آواز میں کہا۔
”آپ کو پتا ہے آپ نے کس طرح میری ذات کی نفی کی ہے… کس طرح Crippled (بے بس) کر دیا ہے مجھے؟”
”علیزہ۔” عمر نے کچھ کہنے کی کوشش کی مگر وہ بولتی رہی۔
”دس سال میں آپ کو ایک بار بھی یہ احساس نہیں ہوا کہ میں آپ کے لیے عام فیلنگز نہیں رکھتی۔ میں آپ کی کزنز میں سے ایک اور کزن نہیں ہوں۔ میں آپ کی فرینڈز میں سے ایک اور فرینڈ نہیں ہوں۔
you always meant so much to me. آپ نے کبھی ایسا سوچا ہی نہیں آپ کو کبھی اس کا احساس ہی نہیں ہوا۔ میں یقین نہیں کر سکتی، کبھی یقین نہیں کر سکتی۔”
وہ اب اس کے کندھے کو سختی سے پکڑے ہوئے کہہ رہی تھی۔
”میں نے تم سے کبھی کوئی وعدہ نہیں کیا۔ کیا کبھی میں نے تم سے کچھ کہا؟” اس نے پرسکون انداز میں پوچھا۔ وہ چند لمحوں کے لیے کچھ بھی نہیں کہہ سکی.
”تم اسے مانو یا نہ مانو مگر حقیقت یہی ہے کہ میں نے کبھی تمہارے بارے میں اس طرح سے سوچا ہی نہیں۔” وہ بہت نرمی سے اپنے کندھے کو اس کے ہاتھ کی گرفت سے چھڑا رہا تھا۔ وہ گیلے چہرے کے ساتھ اندھیرے میں اس کے چہرے کے نقوش کو کھوجتی رہی۔
”اگر مجھے تم میں کوئی دلچسپی ہوتی تو میں اتنے سالوں میں ضرور بتا دیتا۔ اگر میں نے ایسا نہیں کیا تو اس کا صاف مطلب ایک ہی ہے اور وہ وہی ہے جو تم سمجھنا نہیں چاہ رہیں۔”
عمر کے لہجے کی ٹھنڈک اور سرد مہری نے اسے عمر سے مزید برگشتہ نہیں کیا۔ اپنے کندھے سے اس کا ہاتھ ہٹانے سے بھی وہ دل برداشتہ نہیں ہوئی۔
”تم بہت اچھی ہو لیکن مجھے تم سے محبت نہیں ہے۔” وہ بہت صاف اور واضح لفظوں میں کہہ رہا تھا۔ وہ نہیں جانتی اسے کیا ہوا۔ وہ اندر نہیں بھاگی۔ وہ عمر پر نہیں چلائی۔ وہ ننھے بچوں کی طرح دونوں ہاتھوں سے اس کا بازو پکڑ کر اس کے کندھے سے سر ٹکائے بچوں کی طرح بلک بلک کر رونے لگی۔

”مجھ سے یہ مت کہو۔ تمہیں پتا ہے اس سے کتنی تکلیف ہوتی ہے مجھے۔”
عمر اب بالکل ساکت تھا یوں جیسے وہ پتھر کا کوئی مجسمہ ہو۔
”میرے ساتھ وہ سب کچھ مت کرو جو ذوالقرنین نے کیا۔ تم دنیا کے آخری آدمی ہو گے جس سے میں یہ توقع کروں گی کہ وہ مجھ سے یہ کہے گا اسے مجھ سے محبت نہیں ہے۔” وہ اسی طرح روتی رہی۔
”میں کبھی جنید کے ساتھ وفادار نہیں ہو سکتی۔ میں کبھی کسی کے ساتھ وفادار نہیں ہو سکتی۔ تم کیوں نہیں سمجھتے، ہم دونوں بہت اچھی زندگی گزار سکتے ہیں، ہم دونوں اب بھی اکٹھے رہ سکتے ہیں۔ سب کچھ ٹھیک ہو سکتا ہے۔ اگر تم چاہو تو…اگر تم چاہو تو۔”
”اور میں ایسا نہیں چاہتا۔” اس کی پرسکون آواز میں کوئی اضطراب تھا نہ ارتعاش…وہ اب بھی اپنی بات پر اسی طرح اڑا ہوا تھا۔ اس کے بازو پر علیزہ کی گرفت اور سخت ہو گئی۔
”تم کیوں نہیں چاہتے…؟ تم کیوں نہیں چاہتے؟” وہ اس کے بازو سے ماتھا ٹکائے بچوں کی طرح بے تحاشا روتی گئی۔ عمر نے بازو پر اس کے آنسوؤں کی نمی کو محسوس کیا۔
”مجھے آج یہاں نہیں آنا چاہیے تھا۔” عمر بڑبڑایا۔ ”میں نے یہاں آکر غلط کیا۔”
علیزہ نے اس کے کندھے پر ٹکا سر اٹھا کر اندھیرے میں دھندلی آنکھوں کے ساتھ اسے تلاش کرنے کی کوشش کی اور بہت سالوں کے بعد پہلی بار اسے احساس ہوا کہ اس نے اپنی زندگی کے دس سال ایک غلط شخص کے لیے ضائع کر دیئے۔ اس کے نزدیک علیزہ کی کیا اہمیت تھی؟ اس کے نزدیک اس کے آنسو کیا معنی رکھتے تھے…؟ اس کے نزدیک اس کی خوشی کی کیا حیثیت تھی…اس کے نزدیک علیزہ کیا تھی…؟
دس سالوں کے بعد پہلی بار اس نے آئینے میں اپنے چہرے کو آنکھیں بند کر کے دیکھنے کی کوشش کرنے کے بجائے آنکھیں کھول کر دیکھنے کی کوشش کی۔
اپنے کانپتے ہوئے ہاتھوں کو اس نے عمر کے بازو سے ہٹا لیا۔
”تم آج بھی وہیں ہو، جہاں میں نے تمہیں اتنے سال پہلے دیکھا تھا۔ تم میں کوئی تبدیلی نہیں آئی…پہلے بھی تمہاری سوچ بچکانہ تھی۔ آج بھی ہے۔” وہ اندازہ نہیں کر سکی۔ وہ اسے جھڑک رہا تھا یا اسے آئینہ دکھا رہا تھا۔
”تمہیں اس بات پر یقین آئے یا نہ آئے بہرحال میں نے دس سال تمہارے لیے کچھ محسوس نہیں کیا۔”
علیزہ نے اپنے ہونٹ کھینچ لیے۔
”میں بہت کوشش کروں تو بھی میں اپنے اندر تمہارے لیے کوئی خاص قسم کے جذبات دریافت کرنے میں ناکام ہو جاتا ہوں۔ میں نے بارہا خود کو ٹٹولا ہے لیکن میرے دل سے کوئی آواز نہیں آئی۔ کیا اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مجھے تم سے محبت نہیں ہے؟” اس کی سفاک حقیقت پسندی عروج پر تھی، وہی سفاکی جس کے لیے وہ مشہور تھا۔
”دس سال میں کبھی ایسا ہوا کہ میں نے تم سے اظہار محبت کیا ہو…؟ نہیں میں نے ایسا کچھ نہیں کیا…اگر دنیا میں محبت نام کا کوئی جراثیم موجود بھی ہے تو میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ اس سے میرا دل کبھی متاثر نہیں ہوا۔”
علیزہ کے آنسو رک چکے تھے۔ وہ پلکیں جھپکائے بغیر اندھیرے میں اپنے سے چند انچ دور اس شخص کے ہیولے کو دیکھ رہی تھی جسے اس نے اپنی زندگی میں سب سے زیادہ چاہا تھا۔
”مرد اور عورت کے درمیان ہر رشتہ محبت کا رشتہ نہیں ہوتا…چاہو تو بھی نہیں بن سکتا…جیسے تمہارا اور میرا رشتہ…اپنے اور میرے رشتے کو اگر تم نے اتنے سالوں میں نہیں پرکھا تو یہ تمہاری غلطی ہے، میری نہیں…میں کسی حماقت آمیز خوش فہمی کا حصہ نہیں بن سکتا۔”
وہ ہر چیز کے چیتھڑے اڑا رہا تھا…اس کے اعتماد کے…عزت نفس کے…زندگی کے…خوابوں کے…خواہشات کے…اور علیزہ سکندر کو دس سال یہ زعم رہا تھا کہ یہ سب چیزیں اس نے اسی شخص سے لی تھیں۔
”اگر تم نے میرے حوالے سے کوئی خوش فہمیاں پال لیں تو میں کیا کر سکتا ہوں …میرا اس سب میں کیا حصہ ہے، در حقیقت میں اس سارے معاملے میں کبھی بھی حصہ دار نہیں رہا۔” اس نے عمر کو کندھے اچکاتے دیکھا۔
”میں تو اتنے سالوں میں سینکڑوں لڑکیوں سے ملتا رہا ہوں …میں سب کے ساتھ فرینڈلی رہا ہوں …سب کے ساتھ میرا ایک جیسا رویہ رہا ہے …اور میرے لئے تم بھی ان سب سے مستثنیٰ نہیں تھیں۔” وہ دم بخود تھی۔
”دوست تم تھیں …ہو …رہو گی …مگر اس سے دو قدم آگے بڑھ کر کسی خاص رشتے کے حوالے سے تمہیں دیکھنا بہت مشکل ہے …بلکہ نا ممکن۔”
Rude,harsh,bitter اس سے پہلے اس نے عمر کو دوسرے لوگوں کے ساتھ ان خصوصیات کا استعمال کرتے دیکھا تھا۔ آج وہ اس پر استعمال کر رہا تھا۔
”شادی کوئی ون سائیڈڈ افئیر نہیں ہوتی اور نہ ہی اسے بنانے کی کوشش کرو …یہ ایسا نہیں ہوتا کہ تم نے کہا اور میں نے مان لیا …نہ ہی یہ کوئی کیک ہوتا ہے جو میں بیکری سے بنوا کر لا دوں …ساری زندگی کے لئے کسی شخص کو چن کر، اس کے ساتھ رہنا بہت سوجھ بوجھ مانگتا ہے …صرف دماغ ہی نہیں دل بھی اس جگہ پر ہونا چاہیے جس شخص کے ساتھ جس جگہ پہ رشتہ آپ قائم کرنا چاہتے ہیں۔”
اس کی آواز میں ٹھنڈک تھی …وہ اس عمر سے پہلی بار ملی تھی۔
”گرینی نے مجھ سے تمہارے بارے میں بات کی …میں نے انکار کر دیا ……مجھے سوچنے کی ضرورت ہی نہیں پڑی۔ It was like a reflex action …کوئی ہچکچاہٹ …کوئی تامل …کوئی تردد …میں نے کچھ محسوس نہیں کیا …تو اس کا صاف صاف مطلب تو یہی ہے کہ جن خواتین کے بارے میں، میں نے کبھی کچھ خاص جذبات محسوس کرنے یا خاص خیالات رکھنے …یا آسان لفظوں میں جن سے شادی کے بارے میں سوچنے کی کوشش کی …ان میں تم کبھی نہیں آئیں …نہ شعوری طور پر، نہ لا شعوری طور پر۔”
علیزہ کو اب اپنے ہونٹ خشک ہوتے ہوئے محسوس ہو رہے تھے۔
”پھر اگر صرف تمہاری ضد پر یہ یک طرفہ شادی ہو جائے تو کیا ہو گا۔ a total disaster میں زندگی میں سارے حساب کتاب کر کے رسک لیتا ہوں، آنکھیں بند کر کے سوچے سمجھے بغیر کسی کھائی کو سوئمنگ پول سمجھ کر اس میں چھلانگ لگانے کا عادی نہیں ہوں …اور تم مجھ سے یہی سب کچھ چاہتی ہو۔”
وہ پانی پینا چاہتی تھی …اس کے حلق اور بدن پر کانٹوں کا جنگل اگ آیا تھا۔
”ممکن ہے، تم مجھ سے شادی کر کے خوش رہو …مگر سوال یہ ہے کہ کیا میں خوش رہ سکتا ہوں …کیا تم نے میری خوشی کا سوچا ہے؟ تم نے نہیں سوچا ہو گا …میں کسی شاپنگ آرکیڈ کے کسی شو کیس میں لگی ہوئی چیز نہیں ہوں جو تمہیں پسند آ جائے اور تم ہر قیمت پر اسے گھر لے جانے پر تل جاؤ۔” اس کی آواز کے چابک اپنا کام بخوبی کر رہے تھے۔
”جہاں تک تمہاری اس غلط فہمی کا تعلق ہے کہ میں نے تمہیں اپنی زندگی سے نکال دیا …تو میں صرف یہی کہہ سکتا ہوں کہ نہ میں تمہیں زندگی کے اندر لایا تھا، نہ میں نے باہر نکالا ہے۔ تم جس رول میں میری زندگی موجود ہو …اس رول میں ہمیشہ رہو گی …ہاں، مگر تم جو رول لینا چاہتی ہو، وہ میرے لئے قابل قبول نہیں ہے …اگر اس بات کو تم زندگی سے نکال دینا سمجھتی ہو تو میں اس کے بارے میں کیا کہہ سکتا ہوں۔”
اس کا دل چاہا وہ وہاں سے بھاگ جائے۔
”میں نے تمہاری زندگی تباہ کر دی …میں نے تمہیں معذور کر دیا …نہیں علیزہ ! میں نے ایسا کچھ نہیں کیا …اگر یہ کسی نے کیا ہے تو تم نے خود کیا ہے۔” اس نے دو ٹوک لہجے میں کہا۔
”جہاں تک جنید کا تعلق ہے …اس کے ساتھ تمہاری وفاداری کا سوال ہے …یا تمہاری خوشی کا مسئلہ ہے تو میں اس کے بارے میں کیا کہہ سکتا ہوں …سوائے اس کے کہ یہ بھی صرف اور صرف تمہارا مسئلہ ہے اور تمہیں ان دونوں چیزوں کے بارے میں منگنی سے پہلے سوچ لینا چاہئے تھا۔ تمہیں یہ محسوس ہوتا تھا کہ تم اس کے ساتھ خوش نہیں رہ سکتیں تو تمہیں اس سے منگنی کرنا ہی نہیں چاہئے تھی۔ کسی نے یقیناً تمہیں پریشرائز نہیں کیا ہو گا اس پرپوزل کے لئے کہ تم یہیں شادی کرو …تم نہ کرتیں۔”
وہ اسے مسئلے کا حل نہیں بتا رہا تھا، وہ اسے اس کی حماقت جتا رہا تھا۔
”بلکہ اب منگنی توڑ دو …اگر تمہیں یہی محسوس ہوتا ہے کہ تمہیں وہ پسند نہیں ہے یا وفاداری اور خوشی کا سوال ہے تو ٹھیک ہے یہ رشتہ ختم کر دو …ابھی صرف منگنی ہوئی ہے اور منگنی کوئی ایسا بڑا رشتہ نہیں ہوتا جس کے باے میں دوبارہ نہ سوچا جا سکے۔”
علیزہ کو اپنے ہاتھ پیر سن ہوتے ہوئے لگ رہے تھے۔
”لیکن اگر اس خوشی اور وفاداری کے ایشو کو تم میری ذات سے منسلک کر رہی ہو تو فار گیٹ اباؤٹ اٹ …مجھے ہر چیز …ہر تعلق …ہر رشتے …ہر بیک گراؤنڈ …ہر فور گراؤنڈ سے نکال کر دیکھو …مجھ کو بھول کر جنید کو جج کرو …پھر بھی تمہیں یہی لگے کہ وہ تمہارے لئے ٹھیک نہیں ہے۔ تو یہ رشتہ ختم کر دو …مگر یہ ذہن میں ضرور رکھو کہ جنید نہیں ہو گا تو کوئی دوسرا ہو گا …کوئی دوسرا نہیں ہو گا تو کوئی تیسرا ہو گا… کوئی بھی سہی مگر …وہ …میں …نہیں …ہوں گا …نہ آج …نہ آئندہ کبھی۔”
اس نے آخری جملے کا ایک ایک لفظ ٹھہر ٹھہر کر کہا تھا …ہر لفظ پر زور دیتے ہوئے …صاف …واضح اور دو ٹوک انداز میں …کسی مغالطے یا خوش فہمی کی گنجائش رکھے بغیر۔
علیزہ نے ہر لفظ سنا تھا۔ کسی دشواری …یا رکاوٹ کے بغیر …کسی خوش فہمی یا غلط فہمی کے بغیر …عمر کے وہاں آنے سے پہلے وہ خواہش کر رہی تھی، سب کچھ ختم ہو جائے …اس کی خواہش پوری ہو گئی تھی۔ سب کچھ ختم ہو گیا تھا۔
بہت سے لیبلز کے ساتھ وہ آج بھی وہیں تھی، جہاں دس سال پہلے تھی …اندھیرے نے ساتھ بیٹھے ہوئے شخص کی شناخت ختم نہیں کی تھی …یہ کام روشنی نے کیا تھا …روشنی معجزے کرتی ہے …وجود کو اس طرح عیاں کرتی ہے کہ کسی فریب اور دھوکے میں رہنا ممکن ہی نہیں رہتا …مقدر کو منور کر دیتی ہے …ہار ماننے پر قبر میں گاڑ دیتی ہے …نہ ماننے پر صلیب چڑھا دیتی ہے …بس چیزوں کو ان کے مقام پر نہیں رہنے دیتی …پارس چھوئے بغیر بھی انسان سونا بن جاتا ہے اور آگ کے پاس آئے بغیر بھی موم کی طرح پگھلنے لگتا ہے …روشنی واقعی معجزے کرتی ہے۔
وہاں اب خاموشی تھی …مکمل خاموشی …علیزہ کبھی کسی ”اجنبی” کے اتنا قریب نہیں بیٹھی تھی …آج بیٹھی تھی …وہ انتظار کر رہی تھی عمر کچھ اور کہے …کچھ اور ملامتیں …اور عمر شاید ان تمام باتوں کے جواب میں اس کی طرف سے کچھ کہے جانے کا منتظر تھا …شاید چند وضاحتیں …کچھ معذرتیں …پچھتاوے …اسے توقع تھی۔ علیزہ اسی طرح کا اظہار کرے گی۔ اس نے ایسا کچھ نہیں کیا۔
”آپ ٹھیک کہتے ہیں۔” وہ اٹھ کر کھڑی ہو گئی۔
سب کچھ اسی گھر میں شروع ہوا تھا …سب کچھ اسی گھر میں ختم ہو گیا تھا۔ علیزہ نے مڑ کے اوپر والی سیڑھی پر قدم رکھ دیا …عمر نے اپنی جگہ سے حرکت نہیں کی …نہ ہی اس نے کچھ کہا۔
وہ غیر ہموار قدموں سے چلی آئی …اس نے پیچھے مڑ کر دیکھنے کی کوشش نہیں کی ……وہ جانتی تھی۔ پیچھے رہ جانے والے شخص نے بھی اسے مڑ کر نہیں دیکھا ہو گا …وہ اس کا ماضی تھا …ایسا ماضی جس پر اس کا پچھتاوا اب شروع ہوا تھا۔
وہ اسی طرح چلتی ہوئی اندر اپنے کمرے میں آ گئی۔ شہلا سو رہی تھی۔ کمرے میں تاریکی تھی …وہ دبے قدموں ڈریسنگ روم میں چلی آئی۔ لائٹ جلاتے ہی سامنے قد آدم آئینے میں اس نے اپنا عکس دیکھا اور وہ چند لمحوں کے لئے ساکت رہ گئی۔ آئینے میں نمودار ہونے والا عکس کس کا تھا …اس نے نظریں چرا لیں …شکست …احساس جرم …پچھتاوا …ہر چیز اس کے چہرے پر تحریر تھی ۔۔۔”بولتا ہوا چہرہ” کوئی آواز اس کے کانوں میں لہرائی۔ اس نے آئینے کی طرف پشت کر لی …وہ اس وقت وہاں مزید کسی ماتم کے لئے نہیں آئی تھی …ماتم کی گنجائش ہی کہاں رہ گئی تھی۔
وہ باتھ روم میں چلی گئی۔ چہرے پر پانی کے چند چھینٹے مار کر، اس نے ان ابھری ہوئی تحریروں کو مٹانے کی کوشش کی …نیم گرم پانی نے اس کی سوجھی ہوئی آنکھوں کو قدرے سکون پہنچایا …وہ بنا سوچے سمجھے کسی مشین کی طرح چہرے پر پانی کے چھینٹے مارتی گئی …واش بیسن میں گرتے ہوئے پانی کی آواز سے وہ جیسے اپنے کانوں میں گونجتی ہوئی آوازوں کے شور کو دبانے کی کوشش کر رہی تھی …جب وہ اس میں نا کام رہی تو اس نے ہار ماننے والے انداز میں چھینٹے مارنا بند کر دیئے۔ پانی کی ٹونٹی بند کر کے وہ واپس ڈریسنگ روم میں آ گئی اور دراز میں نیند کی گولیاں تلاش کرنے لگی۔
واپس نیم تاریک بیڈ روم میں جا کر، وہ ایک گلاس میں پانی لے کر ڈریسنگ روم میں آئی اور اس نے دو گولیاں پانی کے ساتھ نگل لیں۔ پھر وہ ڈریسنگ روم کی ایک دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر فرش پر بیٹھ گئی۔
اس کے ہاتھ میں پانی کا گلاس ابھی بھی موجود تھا، مگر اس میں پانی نہیں تھا۔ وہ خالی الذہنی کے عالم میں گلاس کو دونوں ہاتھوں کے درمیان گھماتی رہی …وہ نیند کا انتظار کر رہی تھی۔ واحد چیز جس کے سوا اسے اس وقت اور کسی چیز کی ضرورت نہیں تھی۔ صرف نیند ہی اسے ان آوازوں سے چھٹکارہ دلا سکتی تھی جنہوں نے اس وقت اس کے پورے وجود کو گنبد بنا کر رکھ دیا تھا …آوازیں …باز گشت …سر گوشیاں …ہنسی …قہقہے …وہاں کیا نہیں تھا۔
”اگلی بار میں علیزہ کو Joy دوں گا …پھر …Eternity ”
گلاس پر علیزہ کی گرفت سخت ہو گئی۔ اسے نیند کے علاوہ کسی چیز کا انتظار نہیں تھا۔
”میں تمہیں مس کروں گا۔” وہ اٹھ کر کھڑی ہو گئی۔ شاید نیند لانے کے لئے دو گولیاں کافی نہیں تھیں۔ اس نے پانی کے ساتھ ایک اور گولی نگل لی اور دوبارہ وہیں بیٹھ گئی۔
”کیوں گرینی ! علیزہ پہلے سے زیادہ خوبصورت نہیں ہو گئی۔”
اس نے ہاتھ میں پکڑا ہوا گلاس دور پھینک دیا۔ شیشے کا گلاس کارپٹ پر گرا لیکن ٹوٹا نہیں۔ اسے وہاں موجود ہر چیز سے الجھن ہو رہی تھی۔
”میں بہت کوشش کروں تو بھی میں اپنے اندر تمہارے لئے کوئی خاص قسم کے جذبات دریافت کرنے میں نا کام ہو جاتا ہوں اور ایسا متعدد بار ہوا ہے تو کیا میں یہ نہ سمجھوں کہ مجھے تم سے محبت نہیں ہے۔”
علیزہ کو نیند آنے لگی تھی۔ اس نے اپنی آنکھوں کو بوجھل ہوتے ہوئے محسوس کیا۔
”دس سال میں کبھی ایسا ہوا کہ میں نے تم سے اظہار محبت کیا ہو …؟ میں نے نہیں کیا …اگر دنیا میں محبت نام کا کوئی جراثیم موجود ہے تو میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ اس سے میرا دل اور دماغ کبھی متاثر نہیں ہوا۔”
وہ اٹھ کر کھڑی ہو گئی۔ لڑ کھڑاتے قدموں کے ساتھ وہ ڈریسنگ روم کا دروازہ بند کر کے بیڈ روم میں آ گئی۔
”مرد اور عورت کے درمیان ہر رشتہ محبت کا رشتہ نہیں ہوتا …چاہو تو بھی نہیں بن سکتا۔ جیسے تمہارا اور میرا رشتہ …اپنے اور میرے رشتے کو اگر تم نے اتنے سالوں میں کبھی غیر جانبداری سے نہیں دیکھا تو یہ تمہاری غلطی ہے …میں کسی Comedy of errors (حماقت) کا حصہ نہیں بن سکتا۔” وہ بیڈ روم کی کھڑکیوں کی طرف بڑھ گئی۔ وہ پردے کھینچ رہی تھی.