Amarbail By Umerah Ahmed Readelle50103 Episode 10
Rate this Novel
Episode 10
امربیل از عمیرہاحمد
۔۔۔۔
قسط نمبر 10
۔۔۔۔۔
باب 12
وہ نانو کے پیچھے ان کے بیڈ روم میں داخل ہو گئی تھی۔
”بیٹھو۔”
نانو نے اندر داخل ہوتے ہی اس سے کہا تھا۔ وہ خاموشی سے صوفہ پر بیٹھ گئی تھی۔ نانو خود اپنے بیڈ پر بیٹھ گئیں۔
”تم نے عمر سے کیا کہا تھا؟”
چند لمحوں کی خاموشی کے بعد انہوں نے اسی اکھڑے ہوئے لہجے میں اس سے پوچھا تھا۔
”میں نے ٹھیک اندازہ لگایا تھا ۔یہ سب کچھ عمر ہی کا کیا دھرا ہے۔” اس نے نانو کے سوال پر سوچا تھا۔
”میں سمجھی نہیں نانو!”
”میں نے اتنا مشکل سوال تو نہیں پوچھا۔ صرف یہی پوچھا ہے کہ تم نے عمر کو کیا کہا تھا۔”
”نانو کس بارے میں؟”
”اس گھر سے چلے جانے کے بارے میں !”
علیزہ بالکل ساکت ہو کر رہ گئی۔
”یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں نانو ، میں نے اس سے کیا کہا ہے؟”
”تمہاری وجہ سے وہ گھر چھوڑ کر چلا گیا ہے اور تم کہہ رہی ہو کہ میں نے اس سے کیا کہا ہے؟”
اس بار نانو کا لہجہ پہلے سے بھی زیادہ تلخ تھا۔
وہ حیرانی سے ان کاچہرہ دیکھتی رہی۔
”نانو میں نے اس سے گھر چھوڑنے کے لئے نہیں کہا، آئی سوئیر! میں نے ایسا کچھ بھی نہیں کہا۔”
وہ روہانسی ہو گئی تھی۔
”تو پھر وہ کسی وجہ کے بغیر ہی گھر چھوڑ کر چلا گیا ہے۔”
اس با ر نانو کا لہجہ طنزیہ تھا۔
”مجھے نہیں پتہ کہ وہ کیوں گھر چھوڑ گیا ہے۔، بٹ بلیو می نانو! کہ میں نے اسے گھر چھوڑنے کے لئے نہیں کہا۔ میں آخر اس سے ایسی بات کیوں کہتی۔”
وہ اپنی صفائی دینے کی کوشش کر رہی تھی۔
“تم نے اسے گھر چھوڑنے کے لئے نہیں کہا مگر تم نے ایسے حالات پیدا کردئیے کہ وہ یہاں نہیں رہے۔”
وہ نانو کے اس الزام پر ہکا بکا رہ گئی۔
”نانو میں نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا!”
”میں نے کبھی یہ نہیں سوچا تھا علیزہ کہ تم اس طرح کی حرکتیں کرو گی۔ تم نے میری ساری عمر کی محنت پر پانی پھیر دیا ہے۔”
”نانو پلیز ! آپ اس طرح مت کہیں۔ میں نے ایسا کچھ نہیں کیا جس کی وجہ سے عمر گھر چھوڑ کر چلا گیا ہو۔”
”علیزہ ! میں نے اس سے بات کی تھی ، تمہارا کیا مطلب ہے، میں نے اسے ایسے ہی جانے دیا ہے، اسی نے مجھے بتایا تھا کہ تمہیں اس کا یہاں رہنا پسند نہیں ہے اور وہ یہاں رہ کر خوامخواہ کی ٹینشن کھڑی نہیں کرنا چاہتا، اور میں یہی جاننا چاہتی ہوں کہ تمہیں اس کے یہاں رہنے پر کیا اعتراض ہے؟”
نانو نے تیز آواز میں بات کرتے ہوئے کہا تھا۔علیزہ کا چہرہ سرخ ہو گیا۔
”نانو وہ جھوٹ بولتا ہے۔”
”وہ جھوٹا ہے اور تم؟”
”نانو ! اس نے آپ سے ایک بات کہہ دی اور آپ نے سوچے سمجھے بغیر اس کی بات کا یقین کر لیا۔ اب میں جب ایکسپلی نیشن دے رہی ہوں تو آپ میری بات ہی سننے کو تیار نہیں ہیں۔”
وہ بالکل روہانسی ہو رہی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
”آپ کو عمر کی ہر جھوٹی بات پر یقین آجاتا ہے مگر میری بات پر یقین نہیں ہے۔”
”عمر جھوٹ نہیں بولتا!”
نانو کے جملے نے اس کی رنجیدگی میں اضافہ کر دیاتھا۔
”اور میں……آپ سمجھتی ہیں کہ میں جھوٹ بولتی ہوں؟”
”مجھے تم سے فضول بحث نہیں کرنی۔ میں صرف یہ جاننا چاہتی ہوں کہ تمہیں عمر کا یہاں رہنا کیوں پسند نہیں ہے؟”
”نانو ! میں نے آپ سے کتنی بار کہا ہے کہ مجھے اس کے یہاں رہنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ اسے ضرور کوئی غلط فہمی ہوئی ہے ، یہاں تو بہت سے لوگ آتے اور رہتے ہیں ، کیا میں نے پہلے کبھی کسی کے رہنے پر اعتراض کیا ہے پھر اب عمر کے رہنے پر کیوں کروں گی۔”
اس نے ایک کے بعد ایک وضاحت دیتے ہوئے کہاتھا۔
”آپ اسے دوبارہ واپس بلا لیں۔”
نانو کچھ دیر اسے دیکھتی رہی تھیں۔
”وہ اب یہاں واپس نہیں آئے گا۔ یہ بات صاف صاف کہہ کر گیا ہے ، کم از کم رہنے کے لئے تو دوبارہ واپس نہیں آئے گا۔”
”آپ بتائیں نانو! اس میں میرا کیا قصور ہے۔ وہ اپنی مرضی سے یہاں ایا۔ اپنی مرضی سے واپس یہاں سے چلا گیا۔ اس میں میرا کوئی ہاتھ نہیں ہے۔”
”اگر تم اس کے ساتھ وہ سلوک نہ کرتیں جو تم نے کیا تو شاید وہ اس طرح سے یہاں سے نہ جاتا۔” نانو ابھی بھی اپنی بات پر جمی ہوئی تھیں۔
”میں نے اس کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ نانو! میں نے تو اس کے ساتھ کوئی برا سلوک نہیں کیا۔”
”علیزہ ! تم نے مجھے بہت مایوس کیا ہے، مجھے کم از کم تم سے اس طرح کے رویے کی توقع نہیں تھی۔ اتنے سالوں سے میں اتنی محبت سے تمہاری پرورش کرتی رہی ہوں اور تم نے چند ہفتے میں اس ساری محنت پر پانی پھیر دیا۔ کیا سوچتا ہو گا عمر کہ میں نے تمہیں اس طرح کی تربیت دی ہے اور جب وہ جا کر اپنے باپ سے اس بات کا ذکر کرے گا تو جہانگیر میرے اور تمہارے بارے میں کیا سوچے گا۔ یہ گھر صرف تمہارا نہیں، ان سب کا بھی ہے۔ یہ اور بات ہے کہ وہ لوگ یہاں بہت کم آکر رہتے ہیں مگر نہ رہنے سے اس گھر پر ان کا حق تو ختم نہیں ہو جاتا۔ عمر ہو یا تمہارا کوئی اور کزن، تمہیں کوئی اختیار حاصل نہیں کہ تم ان کے یہاں رہنے پر کوئی اعتراض کر ویا اپنی ناپسندیدگی کا اظہار اپنے رویے سے کرو۔”
وہ چپ چاپ نانو کی باتیں سنتی رہی تھی۔ نانو بہت دفعہ اسے ڈانٹ دیا کرتی تھیں مگر آج ان کا رویہ بہت زیادہ سخت تھا۔ جس طرح آج وہ اس سے بات کر رہی تھیں۔اس طرح سے انہوں نے پہلے کبھی نہیں کی تھی۔
”عمر کے ساتھ تو خیر جو کچھ تم نے کیا سو کیا مگر آئندہ یہ حرکت پھر کبھی مت کرنا۔ تم اب بچی نہیں ہو جسے ساری باتیں سمجھانا پڑیں۔ بڑی ہو چکی ہو، ہر چیز سمجھ سکتی ہو۔ بہتر ہے کہ اپنے رویے کو ٹھیک کرو۔اب جاؤ یہاں سے۔ مجھے کچھ کام ہے۔”
انہوں نے ایک لمبے چوڑے وعظ کے بعد بات ختم کردی وہ شاک کی حالت میں ان کے بیڈ روم سے نکل کر آئی تھی۔
”سارا قصور صرف میرا ہے اور کسی کا نہیں۔ عمر کا بھی نہیں۔ اس کے یہاں سے چلے جانے کی وجہ سے میری ہر خوبی خامی میں تبدیل ہو گئی ہے۔ نانو کو میں بد تمیز لگنے لگی ہوں۔ عمر کی نانو کو پرواہ ہے ،میری نہیں!”
وہ اپنے بیڈ روم کی طرف جاتے ہوئے کچھ اور ہی دل گرفتہ ہو گئی تھی۔
”میری کسی کو ضرورت ہی نہیں ہے۔ ممی کو نہیں، پاپا کو نہیں، نانو کو بھی نہیں، ضرورت تو عمر جیسے بندے کی ہوتی ہے۔ جس کی دنیا میں کوئی ویلیو ہو۔”
اس کی رنجیدگی میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہا تھا۔
”کس قدر فراڈ انسان ہے۔ مجھ سے اور طرح کی باتیں کرتا تھا اور میرے جاتے ہی یہاں چکر چلانے شروع کر دئیے مجھے اپنا دوست کہہ کراس نے میرے ساتھ ایسے کیا۔”
اور عمر جہانگیر کے لئے اس کی ناپسندیدگی میں کچھ اور ہی اضافہ ہوگیاتھا۔
دوپہر کو مرید کے بلانے پر بھی وہ لنچ کے لئے نہیں آئی ، اس کا خیال تھا کہ نانو اسے آکر خود ہی لنچ کے لئے کہیں گی ، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ نانو نے اسے دوبارہ لنچ کے لئے نہیں کہا اور وہ بھی اپنے کمرے سے نہیں نکلی۔
شام کو سو کر اٹھنے کے بعد وہ نہانے کے لئے باتھ روم میں چلی گئی۔ اس وقت اسے واقعی بھوک لگ رہی تھی نہانے کے بعد نیم دلی سے وہ اپنے کمرے سے نکل آئی تھی۔ لاؤنج میں داخل ہوتے ہی کانوں میں پڑنے والی آواز سے اس کا خون کھولنے لگا تھا۔ وہ عمر کی آواز تھی۔ اگر وہ لاؤنج میں داخل نہ ہوئی ہوتی اور نانو اور عمر نے اسے نہ دیکھا ہوتا تو وہ وہیں سے واپس اپنے کمرے میں چلی جاتی۔ اس وقت وہ کسی صورت بھی عمر کی شکل دیکھنا نہیں چاہتی تھی مگر لاؤنج میں داخل ہوتے ہی عمر کی نظر اس پر پڑ گئی تھی۔ نہ صرف اس نے علیزہ کو دیکھ لیا تھا، بلکہ فوراً اسے مخاطب بھی کیاتھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
”ہیلو علیزہ ! اتنی جلدی واپسی؟”
اس نے کچھ حیرانی سے علیزہ سے پوچھاتھا۔ علیزہ نے ایک نظر صوفہ پر بیٹھے ہوئے عمر پر ڈالی اور پھر نانو کی ساری نصیحتوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے کوئی جواب دیئے بغیر کچن میں چلی گئی۔ اپنے پیچھے سے ایک بار پھر عمر کو اپنا نام پکارتے ہوئے سنا۔ مگر اس وقت وہ دنیا کا آخری شخص تھا، جس سے وہ بات نہ کرنا چاہتی تھی۔
”اگر یہ یہاں سے چلا گیا ہے تو اب یہاں کیا لینے آیا ہے۔”
اس نے کچن میں داخل ہوتے ہوئے تلخی سے سوچاتھا۔
”اور اسے اس بات سے کیا کہ میں اتنی جلدی واپس کیوں آئی ہوں۔”
اس وقت اس کا غصہ آسمان سے باتیں کر رہا تھا۔
”مرید بابا ! مجھے کچھ کھانے کے لئے دے دیں۔”
اس نے کچن میں داخل ہوتے ہی خانساماں سے کہا تھا۔
”علیزہ بی بی ! آپ کچھ دیر انتظار کرلیں۔ میں ابھی کھانا لگانے ہی والا ہوں۔ پھر آپ سب کے ساتھ ہی کھانا کھا لیجئے گا۔” خانساماں نے اس سے کہا تھا۔
”نہیں مجھے ابھی کچھ کھانا ہے اور ان سب کے ساتھ بیٹھ کر کچھ نہیں کھانا ۔”
اس نے ضد کی تھی۔ خانساماں نے کچھ حیرانی سے اسے دیکھا۔ علیزہ نے کبھی ضد نہ کی تھی، اور پھر اس طر ح کی ضد……اس نے کچھ کہنے کی بجائے کھانے کی کچھ چیزیں کچن کی ٹیبل پر رکھنی شروع کر دیں۔ اس وقت علیزہ نے لاؤنج میں سے نانا کی آواز سنی تھی۔ وہ اس کا نام پکار رہے تھے۔ وہ بے اختیار کچن سے باہر نکل آئی۔
”علیزہ تم رات کو بھی مجھ سے ملی ہی نہیں۔ آتے ہی سو گئیں۔”’
انہوں نے اسے دیکھتے ہی شکوہ کیاتھا۔
”کراچی سے اتنی جلدی کیوں واپس آگئیں؟”
انہوں نے اسے اپنے ساتھ لگاتے ہوئے کہا۔
”بس میر ا دل نہیں لگا وہاں ، حالانکہ پاپا تو بہت کہہ رہے تھے اور ناراض بھی ہو گئے تھے میرے اس طرح سے جلدی چلے آنے پرمگر میں آپ لوگوں کو مس کر رہی تھی۔” اس نے ایک بار پھر جھوٹ بولنا شروع کر دیا تھا۔
”بہت اچھا کیا اتنی جلدی واپس آکر!”
نانا نے اس کا کندھا تھپتھپاتے ہوئے کہا تھا، اور وہ کچھ مطمئن ہو گئی تھی کم از کم نانا تواس سے ناراض نہیں تھے۔ اس نے سوچا عمر نانو کے ساتھ صوفہ پر بیٹھا بڑی خاموشی سے اس کی نانا کے ساتھ ہونے والی گفتگو سن رہا تھا۔ اس بار اس نے علیزہ کو مخاطب کرنے کی کوشش نہیں کی تھی۔
”مرید سے کہو کھانا لگا دے!”
نانا نے نانو سے کہاتھا۔
”گرینڈ پا ! میں تو کھانا نہیں کھاؤں گا۔”
عمر اٹھ کھڑا ہوا تھا۔
”کیوں، اب تمہیں کیا ہوا ہے؟”
”کچھ بھی نہیں بس مجھے ابھی تھوڑی دیر میں واک پر جانا ہے اور اب میں نے کھانا واک سے واپسی پر کھانا شروع کر دیا ہے۔”
”یہ ایک انتہائی احمقانہ حرکت ہے۔ واک سے واپسی پر کھانا۔”
نانا نے اسے جھڑکتے ہوئے کہا۔
”میں تو اپنی کچھ چیزیں لینے آیا تھا ۔یہ تو بس گرینی نے پکڑ کر بٹھا لیا۔”
اس نے مسکراتے ہوئے کہاتھا۔
”جو چیزیں تمہیں لینی ہیں، ضرور لو لیکن کھانا کھائے بغیر تم یہاں سے نہیں جا سکتے۔ سمجھے تم!”
نانا نے اسے ڈانٹتے ہوئے کہاتھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے کچھ اور کہنے کی کوشش کی تھی لیکن انہوں نے اس کی بات نہیں سنی تھی۔ علیزہ کو ایک بار پھر اپنا آپ بیک گراؤنڈ میں جاتا ہوا محسوس ہوا تھا۔ یوں لگ رہا تھا وہاں صرف عمر اور نانا، نانو ہی تھے، کوئی چوتھا شخص نہیں۔ کسی چوتھے شخص کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ نانا کی پوری توجہ اب عمر پر مرکوز تھی۔ وہ ملول ہونے لگی تھی۔
خانساماں نے کھانا لگا دیا تھا اور علیزہ نے بڑی خاموشی کے ساتھ کھانا کھا یا تھا۔ عمر کے ساتھ ٹیبل پر اس کی دوبارہ کوئی بات نہیں ہوئی تھی ، نہ ہی وہ اس کی طرف متوجہ تھا۔ وہ نانا سے باتوں میں مشغول تھا،اور کھانا کھانے کے بعد نانا کپڑے بدلنے اپنے کمرے میں چلے گئے تھے۔ نانو کافی بنانے کے لئے کچن میں گئی تھیں اور ان کے جانے کے بعد عمر بھی اپنے کمرے میں چلا گیا تھا۔ علیزہ ڈائننگ ٹیبل پر بالکل اکیلی بیٹھی رہ گئی تھی۔ بڑی بے دلی کے ساتھ وہ اپنی پلیٹ میں موجود کھانا کھاتی رہی۔ پھر یک دم پلیٹ چھوڑ کر اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔
عمر کے کمرے کے دروازے پر دستک دینے سے پہلے وہ ہچکچائی تھی پھر اس نے دروازے پر دستک دی۔
”یس کم ان!”
اندر سے عمر کی آواز ابھری تھی۔
وہ آہستہ سے دروازہ کھول کر اندر داخل ہو گئی۔ عمر کارپٹ پر ایک بیگ کھولے کچھ چیزیں اس میں رکھنے میں مصروف تھا۔ علیزہ کو دیکھ کر کچھ حیران ہواتھامگر پھر اس کے چہرے پر ایک مسکراہٹ نمودار ہوئی تھی۔
”آؤ علیزہ !” وہ بدستور اپنے کام میں مصروف تھا۔
”بیٹھ جاؤ!” ایک بار پھر علیزہ کو دیکھتے ہوئے کہاتھا۔
”میں بیٹھنے کے لئے نہیں آئی۔” اس نے خفگی سے کہا تھا۔
وہ چونک کر اس کی طرف متوجہ ہوا تھا اور پھر ہولے سے ہنس دیا۔ ”اچھا۔” وہ ایک بار پھر اپنے کام میں مصروف ہو گیا تھا۔
”آپ نے نانو سے میرے بارے میں کیا کہا ہے؟” اس نے سر اٹھا کر اس کی طرف دیکھا۔
”کچھ بھی نہیں!”
”آپ جھوٹ بول رہے ہیں ، آپ نے نانوسے کہا کہ میں نے آپ کو اس گھر سے جانے کے لئے کہا ہے۔”
”کم آن علیزہ ! میں نے ایسا کچھ نہیں کہا!”
اس بار اس نے ایک بار پھر بڑے پر سکون اور ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہا۔
”آپ نے نانو سے کہا کہ میں یہاں آپ کا رہنا پسند نہیں کرتی۔”
”ہاں یہ میں نے کہا تھا۔” اس کا لہجہ اب بھی پر سکون تھا۔
”آپ نے یہ کیوں کہا تھا؟” وہ تیز آواز میں بولی تھی۔
”کیا میں نے غلط کہا ہے؟” اس نے بہت سیدھا سوال کیا گیا تھا۔ وہ چند لمحے اس کا چہرہ دیکھتی رہی ۔ وہ اس کے جواب کا انتظار کئے بغیر ایک بار پھر اپنے کام میں مصروف ہو گیا۔
”آپ نے نانو کو میرے خلاف کر دیا ہے۔” وہ کتابوں کے شیلف کی طرف جاتے جاتے مڑا تھا۔ ”میں نے ایسا کچھ نہیں کیا۔”
”آپ نے کیا ہے!”
”میں نے جو کچھ بھی کیا ہے، وہ تمہاری خوشی اور convenience (سہولت) کے لئے کیا ہے اور اس میں گرینی کو تمہارے خلاف کر نے کی احمقانہ حرکت شامل نہیں ہے۔” وہ اب کتابیں شیلف پر سے اٹھا رہا تھا۔
”آپ کی وجہ سے نانو مجھ سے ٹھیک سے بات بھی نہیں کر رہیں!” اس بار وہ روہانسی ہو گئی تھی۔
اس نے مڑ کر علیزہ کو دیکھا تھا اور پھر بڑی نرمی سے کہا تھا۔ ”وہ اگر ایسا کر رہی ہیں تو غلط کر رہی ہیں، میں ان سے بات کروں گا۔”
”آپ کو اب ان سے کوئی بات کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ میں آپ کو بہت اچھی طرح سے سمجھ چکی ہوں، You are a crook”
اس بار اس کے ریمارکس پر پہلی بار عمر کے ماتھے پر کچھ بل آئے تھے مگر اس نے کچھ کہا نہیں تھا، صرف خاموشی سے اسے دیکھتا رہا۔
”آپ صرف نانو کو یہ بتائیں کہ میں نے آپ سے یہاں رہنے کے بارے میں کچھ بھی نہیں کہا،نہ ہی میں نے آپ کے یہاں رہنے پر کوئی اعتراض کیا ہے۔”
وہ اب بھی خاموش تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
”آپ نانو کو جاکر کہیں کہ میں نے آپ کے یہاں رہنے پر کوئی ناپسندیدگی کا اظہار نہیں کیا۔”
”حالانکہ تم میرے یہاں رہنے کو ناپسند کرتی ہو۔”
”میں نے آپ سے ایسا کب کہا۔”
”تم نے کہا نہیں مگرپھر بھی تم میرا یہاں رہنا پسند نہیں کرتی۔”
”آپ غلط کہہ رہے ہیں۔”
”علیزہ میں کوئی بچہ نہیں ہوں اور صحیح غلط تم سے بہت اچھے طریقے سے سمجھ سکتا ہوں۔ تمہیں یاد ہے اس دن جب میں تمہیں پرفیومز دکھا رہا تھا ،اور میں نے اپنا فیورٹ پرفیوم تمہیں دکھایا تو تم نے اسے گرا دیا۔”
علیزہ کا رنگ اڑ گیا تھا۔ ”میں نے جان بوجھ کر پرفیوم نہیں گرایا تھا۔ میرے ہاتھ ….. !”
”علیزہ میں بے وقوف نہیں ہوں،نہ ہی مجھے بے وقوف سمجھو۔” وہ بات کرتے ہوئے بے حد پر سکون تھا۔
”اسی طرح اس دن پلانٹس کی کٹنگ کرتے ہوئے، میں نے تم سے کہاں یہ میرا فیورٹ پلانٹ ہے اور تم نے اس کی سب سے خوبصورت شاخ کاٹ دی۔” اس بار وہ کچھ بول نہ سکی ، عمر واقعی بے وقوف نہیں تھا۔
”میں نے بہت پہلے تمہیں بتا دیا تھا کہ میں یہاں تمہاری جگہ لینے نہیں آیا ہوں۔ تھوڑے عرصہ کے لئے آیا ہوں پھر واپس چلا جاؤں گا۔ مگر اس کے باوجود مجھے محسوس ہوا کہ تم میری طرف سے اپنا دل صاف نہیں کر پائیں۔ شاید تمہارے دل میں میری طرف سے کچھ خدشات تھے، اور میں کوشش کے باوجود انہیں ختم نہیں کر پایا۔ اس لئے میں نے بہتر یہی سمجھا کہ یہ جگہ چھوڑ دوں۔ بس اتنی سی بات تھی اور میں نے گرینی سے بھی ان سب باتوں کے بارے میں کچھ بھی نہیں بتایا۔ انہوں نے جب میرے باہر جانے کے فیصلے کے بارے میں بہت اصرار کیا تو میں نے ان سے صرف اتنا کہا کہ تم میرے یہاں رہنے کو پسند نہیں کرتیں۔ اس سے زیادہ میں نے ان سے کچھ نہیں کہا۔”
وہ بہت سنجیدگی سے اسے بتاتا جا رہا تھا۔ وہ ایک بار پھر اپنے کام میں مصروف ہو گیاتھا۔ وہ سرخ چہرے کے ساتھ اسے دیکھتی رہی۔ وہ اب اس کی طرف متوجہ نہیں تھا۔
”پلیز ! آپ واپس آجائیں!”
عمر نے ایک گہری سانس لے کر اسے دیکھا تھا۔” آئی ایم سوری۔”
”علیزہ ! میں یہاں سے ناراض ہو کر نہیں گیا۔ اپنی خوشی سے گیا ہوں اور اکثر آتا جاتا رہوں گا۔”
اس نے نرمی سے کہا۔
”پلیز آپ واپس آجائیں……جب تک آپ واپس نہیں آئیں گے نانو کا موڈ ٹھیک نہیں ہوگا۔ آپ سمجھتے نہیں ہیں وہ۔۔۔۔۔”
عمر نے اسے کچھ الجھی ہوئی نظروں سے دیکھا وہ بے حد پریشان نظر آرہی تھی۔
”میں دوبارہ کوئی ایسی حرکت نہیں کروں گی جس سے آپ کو شکایت ہو۔” وہ اس سے نظریں نہیں ملا رہی تھی۔
”علیزہ ! میں واپس نہیں آسکتا۔” اس نے مایوسی سے عمرکو دیکھاتھا۔
”جہاں تک گرینی کی بات ہے تو وہ تم سے بہت محبت کرتی ہیں۔ وہ تم سے ناراض نہیں ہو سکتیں۔”
”ہاں ! وہ تو مجھ سے بہت محبت کرتی ہیں، مگر پھر بھی یہ گھر میرا نہیں ہے میرا تواب کوئی گھر ہے ہی نہیں۔”
عمر نے اسے اپنے دونوں ہاتھ آنکھوں پر رکھتے ہوئے دیکھا تھا اور وہ جان گیا تھا۔ وہ کیا چھپانے کی کوشش کر رہی تھی۔ چند لمحوں تک وہ اسے حیران پریشان آنکھوں پر ہاتھ رکھے سسکیاں بھرتے دیکھتا رہا، پھر وہ اس کے قریب آگیا تھا۔
”علیزہ ! کیا ہوا ،رونے والی کیا بات ہے؟”
اس نے بچوں کی طرح اسے چمکارتے ہوئے اس کے چہرے سے ہاتھ ہٹانے کی کوشش کی تھی۔ مگر چپ ہونے کی بجائے وہ یکدم پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی تھی۔ وہ ساکت کھڑا اسے دیکھتا رہاتھا پھر اس نے کندھوں سے پکڑ کر اسے بیڈ پر بٹھا دیاتھا۔
”ٹھیک ہے میں واپس آجاتا ہوں لیکن تم یہ رونا بند کردو۔”
۔۔۔۔۔۔۔۔
علیزہ نے اسے کہتے سناتھا مگر وہ خود سمجھ نہیں پارہی تھی کہ وہ اپنے آنسوؤں پر قابو کیوں نہیں پا رہی اسے نہیں پتاوہ کتنی دیر روتی رہی تھی۔اس نے دوبارہ عمر کی آواز نہیں سنی تھی۔ کافی دیر کے بعد جب اس کے آنسوتھمے تو اس نے آہستہ سے چہرہ اوپر اٹھایا۔ اس کے بالکل سامنے ہی عمر ایک کرسی پر بیٹھا ہوا تھا۔ وہ اندازہ کر سکتی تھی کہ اس وقت اس کا چہرہ کیا منظر پیش کر رہا ہو گا۔ سو جی ہو ئی آنکھیں ، گیلا چہرہ، سرخ ناک اور اس میں سے بہتا ہو ا پانی۔
اس سے زیادہ بری وہ اور کسی حالت میں بھی نہیں لگ سکتی تھی۔ اس نے سر نیچے جھکا کر ٹی شرٹ کی آستینوں سے چہرہ صاف کرنے کی کوشش کی پھر نامحسوس انداز میں ٹی شرٹ کے کونے سے ناک سے بہتا ہوا پانی صاف کرنا چاہا تھا، اور اسی وقت ٹشو کا ڈبہ اس کے سامنے آ گیا۔ کچھ جھجک کے بعد اس نے دو ٹشوز نکال لئے تھے۔
”پانی چاہئے ؟”
بہت نرم آواز میں اس سے پوچھا گیا۔
اور اس کا سر اثبات میں ہل گیا۔ جب تک اس نے ٹشو سے اپنے چہرے کو خشک کیا وہ ایک گلاس میں پانی لے کر آگیا۔ اس نے پانی پینے کے بعد اسی خاموشی سے گلا س واپس اسے تھما دیا تھا۔
”رونا کس بات پر آیا تھا؟”وہ اب اس کے پاس بیٹھ کر اس سے پوچھ رہا تھا۔
علیزہ کو اب شرمندگی محسوس ہونے لگی تھی۔ اسے رونا نہیں چاہئے تھاکم از کم عمر کے سامنے تو بالکل بھی نہیں۔
”کراچی میں کوئی بات ہوئی ہے کیا؟”
علیزہ نے خوف کے عالم میں سر اٹھا کر اسے دیکھا۔ وہ بلا کا قیافہ شناس تھا۔ وہ بڑے غور سے اس کا چہرہ دیکھ رہا تھا۔ علیزہ کا دل چاہا اسے بتا دے کہ اس کے پاپا نے اس کے ساتھ کیا سلوک کیا مگر وہ ایک بار پھر رک گئی۔ اس کی آنکھیں ایک بار پھر دھندلانے لگی تھیں۔اس بار عمر نے بڑی نرمی سے اپنی انگلیوں سے آنسو پونچھ دیے تھے۔
”رونے سے کیا ہو گا علیزہ ! زندگی میں تو بہت کچھ فیس کرنا پڑ تا ہے۔ ہر بار آنسو پرابلم حل نہیں کرتے۔”
اس کا خیا ل تھا۔ عمر اس سے پوچھے گا کہ وہاں ایسا کیا ہوا ہے جس کی وجہ سے وہ اتنی دل گرفتہ تھی، مگر عمر نے مزید کوئی سوال نہیں کیاتھا۔ اس کے بجائے نرم لہجے میں ایک نصیحت کی گئی تھی۔
”چلو میں تم سے وعدہ کرتا ہوں۔ میرے پاس جب بھی روپے آئے،میں تمہیں ایک گھر ضرور گفٹ کروں گا۔” علیزہ نے حیرانی سے عمر کو دیکھاتھا۔
”آئی ایم سیریس!” وہ علیزہ کی حیرانی کو بھانپ گیاتھا۔
”مجھے گھر نہیں چاہئے۔”
”تو پھر کیا چاہئے ؟”
”کچھ بھی نہیں!”
وہ ابھی بھی اتنی ہی ملول نظر آرہی تھی۔ وہ چپ چاپ اسے دیکھتا رہا۔
”آپ پھر یہاں رہیں گے نا!”
اس نے اچا نک سر اٹھا کر عمر سے پوچھاتھا۔
”ہاں ! رہوں گا۔”
عمر کو اس کے چہرے پر کچھ اطمینان نظر آیاتھا۔وہ اٹھ کر کھڑی ہو گئی تھی۔
”پھر یہ چیزیں واپس رکھ دیں۔”
اس نے بیگ کی طرف اشارہ کیا۔
”میں رکھ دوں گا لیکن آج تو مجھے جانا ہی ہو گا کیونکہ میرا باقی سامان تو وہیں ہے۔”
اس نے کہاتھا۔
وہ اٹھ کر دوبارہ اپنے بیگ کی طرف چلا گیاتھا۔ اب وہ بیگ میں سے چیزیں واپس نکال رہا تھا۔ علیزہ نے کچھ مطمئن ہو کر اسے دیکھا تھا اور کمرے سے نکلنے کے لئے مڑ گئی۔ دروازہ کے ہینڈل پر ہاتھ رکھتے ہوئے اس کی نظر کمرے کے کونے میں پڑی ہوئی ایک چیز پر پڑی تھی اور وہ ٹھٹھک کر رہ گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔
