Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 18

امربیل از عمیرہاحمد
۔۔۔۔
قسط نمبر 18
۔۔۔۔۔
باب 20

میں واک کیلئے جارہا ہوں۔ چلوگی میرے ساتھ؟” وہ شام کے وقت حسب معمول واک کیلئے نکل رہا تھا جب اس نے لان کے ایک کونے میں علیزہ کو کرسٹی کے ساتھ دیکھا۔ چند لمحے وہ کھڑا اسے دیکھتا رہا پھر اس کی طرف بڑھ آیا۔
قدموں کی چاپ پر علیزہ نے سر اٹھا کر دیکھا اور عمر کو دیکھ کر اس نے سر جھکالیا۔ وہ اس کے چہرے کو دیکھ کر اندازہ لگا چکا تھا کہ وہ ساری دوپہر روتی رہی ہوگی۔ اسے بے اختیار ترس آیا۔
”کیا ہو رہا ہے علیزہ؟” اس نے بڑے دوستانہ انداز میں اسے مخاطب کیا۔
علیزہ نے کوئی جواب نہیں دیا۔ سر جھکائے وہ اسی طرح گھاس پر بیٹھی ہوئی کرسٹی کے بالوں میں انگلیاں پھیرتی رہی۔
”مجھ سے کیا ناراضی ہے یار؟” وہ بے تکلفی سے کہتا ہوا خود بھی اس کے پاس گھاس پر بیٹھ گیا۔ وہ اب بھی اسی طرح خاموش اور اس کی طرف دیکھنے سے گریزاں تھی۔
”میں واک کیلئے جارہا ہوں۔ چلوگی میرے ساتھ؟”
ایک بار پھر اس نے بڑے دوستانہ انداز میں کہا۔ علیزہ نے کچھ حیران ہو کر سر اٹھایا۔ اس نے پہلے کبھی اسے ساتھ چلنے کی آفر نہیں کی تھی۔ پھر آج کیوں؟
”نہیں۔” اس کے یک لفظی جواب نے عمر کو مایوس نہیں کیا۔
”مگر گرینی کہہ رہی تھیں کہ میں تمہیں ساتھ لے جاؤں۔”
”کیوں؟” وہ حیران ہوئی۔
”یہ تو پتا نہیں مگر اندر سے نکلتے ہوئے انہوں نے مجھ سے کہا کہ علیزہ باہر لان میں بیٹھی ہے اسے ساتھ لے جاؤ۔ ایک ڈیڑھ گھنٹہ واک کرے گی تو ٹھیک ہوجائے گی۔”
”یہ انہوں نے کہا؟” اس نے بے یقینی سے پوچھا۔
”ہاں، انہوں نے ہی کہا مگر اب تم جانا نہیں چاہتیں تو میں ان سے جاکر کہہ دیتا ہوں۔” وہ اٹھ کر کھڑا ہوگیا۔
”نہیں، ٹھیک ہے۔ میں چلتی ہوں۔”
وہ ایک لمحے کی ہچکچاہٹ کے بعد یک دم اٹھ کر کھڑی ہوگئی۔” that’s great وہ بے اختیار مسکرایا۔
ساتھ چلتے چلتے دونوں گیٹ سے باہر آگئے۔ فٹ پاتھ پر آتے ہی اس نے علیزہ کو مخاطب کیا۔
”تم روتی رہی ہو؟” وہ ٹھٹھکی اسے عمر سے ایسے کسی سوال کی توقع نہیں تھی۔
”نہیں۔” چند لمحوں بعد اس نے کہا۔
عمر نے ایک نظر خاموشی سے اسے دیکھا۔ وہ سامنے سڑک پر دیکھ رہی تھی۔ اس نے علیزہ کے جواب پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
چند لمحے اسی طرح خاموشی سے چلتے رہنے کے بعد اس نے علیزہ سے پوچھا۔
”کبھی واک کیلئے آتی ہو؟”
”نہیں۔”
”کیوں؟”
”مجھے اچھا نہیں لگتا۔”
”تم پہلی لڑکی ہو جس کے منہ سے میں یہ سن رہا ہوں۔” اس نے خاصی بے تکلفی سے کہا۔ اس بار علیزہ خاموش رہی۔
”تھوڑی بہت ایکسرسائز تو ضروری ہوتی ہے۔ بندہ فٹ رہتا ہے۔”
اس نے ایک بار پھر بات کا سلسلہ جوڑنے کی کوشش کی۔ وہ ایک بار پھر خاموش رہی۔
”ایکسرسائز تو کسی کو بری نہیں لگتی۔” عمر نے ہمت نہیں ہاری۔ اس کی خاموشی ہنوز قائم تھی۔
”مجھے تو اچھا لگتا ہے جو گنگ کرنا، واک کیلئے جانا… ہفتے میں دو تین بار جم جانا۔”
علیزہ نے اس بات پر بھی کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ وہ کچھ دیر اس کے جواب کا منتظر رہا پھر جیسے تنگ آگیا۔
”کیا صرف میں ہی بولتا رہوں گا تم کچھ نہیں کہو گی؟”
علیزہ نے صرف گردن موڑ کر اسے دیکھا۔
”آپ خود باتیں کر رہے ہیں۔ میں نے تو نہیں کہا۔” اس نے کچھ خفگی سے عمر کو جواب دیا۔
”میں اس لیے باتیں کر رہا ہوں کیونکہ یار میرا دل چاہ رہا تھا آپ سے باتیں کرنے کو۔”
”میں اس لیے باتیں نہیں کر رہی کیونکہ میرا دل نہیں چاہ رہا آپ سے باتیں کرنے کو۔” عمر اس کے جواب پر بے اختیار ہنس پڑا۔
”میں نے یہ واقعی نہیں سوچا تھا کہ تمہارے بات نہ کرنے کی وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے۔”
عمر نے ٹکٹس لیں اور وہ دونوں ریس کورس میں داخل ہوگئے۔ شام ہوچکی تھی اور پارک کی لائٹس آن تھیں۔ جوگنگ ٹریک پر آنے کے بجائے وہ واکنگ ٹریک پر آگئے۔ عمر اب خاموش تھا۔ کافی دیر وہ خاموشی سے چلتے رہے۔ پھر عمر ایک بینچ کی طرف بڑھ گیا۔
۔۔۔۔۔۔

”آؤ کچھ دیر وہاں بیٹھتے ہیں۔” اس نے کہا۔ علیزہ نے خاموشی سے اس کی تقلید کی۔ بینچ پر بیٹھنے کے بعد دونوں کچھ دیر تک پارک میں پھرنے والے لوگوں کو دیکھتے رہے۔
”کراچی میں کیا ہوا تھا علیزہ؟”
بہت نرم اور مدھم آواز میں ایک جملہ اس کے قریب گونجا اس کی ساری حسیات یک دم بیدار ہوگئیں۔ گردن موڑ کر اس نے عمر کو دیکھا وہ اس پر نظریں جمائے ہوئے تھا۔
”تمہیں کونسی چیز پریشان کر رہی ہے؟” اس بار سوال ذرا مختلف انداز میں دہرایا گیا۔
”کراچی میں کچھ نہیں ہوا… اور مجھے… مجھے کوئی چیز پریشان نہیں کررہی… اور … اگر آپ مجھ سے دوبارہ اس طرح کی کوئی بات پوچھیں گے تو میں یہاں سے چلی جاؤں گی۔” عمر نے اس کے چہرے پر بے تحاشا خوف دیکھا مگر وہ اسی طرح پرسکون تھا۔
”ٹھیک ہے، میں مان لیتا ہوں کہ کراچی میں کچھ نہیں ہوا اور تم پریشان بھی نہیں ہوا۔ پھر پیپرز میں کیا ہوا؟” اس کا لہجہ ابھی بھی نرم تھا۔
”کچھ نہیں ہوا۔ بس میں… میں ڈفر ہوں، ڈل ہوں، مجھے کچھ نہیں آتا، مجھے کچھ آہی نہیں سکتا۔”
”یہ سب تمہیں کس نے بتایا؟” وہ اب بھی اطمینان سے پوچھ رہا تھا۔
”میں نے خود سے سوچا ہے۔”
”غلط سوچا ہے۔”
”نہیں بالکل ٹھیک سوچا ہے۔”
”ایک ٹیسٹ میں ہونے والی ناکامی تمہارے لیے اتنی بڑی چیز بن گئی ہے۔”
وہ جواب میں کچھ بول نہیں سکی۔ عمر کو اچانک احساس ہوا کہ وہ رو رہی تھی۔ پارک میں اندھیرا اتنا بڑھ چکا تھا کہ وہ اس کے چہرے پر پھیلنے والی نمی کو دیکھ نہیں سکتا تھا اور وہ شاید اسی بات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بے آواز رو رہی تھی۔
”آنسو بہانے کے بجائے تم اپنے پرابلمز کو حل کرنے کی کوشش کیوں نہیں کرتیں۔”
”میں نہیں کرسکتی۔ میں کچھ بھی نہیں کرسکتی۔ میرا کوئی فائدہ نہیں۔ نہ خود کو نہ کسی دوسرے کو… نانو ٹھیک کہتی ہیں میں ہمیشہ دوسروں کے سامنے ان کی بے عزتی کا باعث بنتی ہوں۔ میں نے سوچ لیا ہے اب میں کچھ نہیں کروں گی۔ میں کالج بھی نہیں جاؤں گی۔”
وہ اب بچوں کی طرح بلکتے ہوئے کہہ رہی تھی۔
”اسٹڈیز چھوڑ دو گی پھر گھر میں رہ کر کیا کرو گی؟”
”کچھ بھی نہیں کروں گی۔ میں اپنی ساری پینٹنگز کو جلاؤں گی پھر کرسٹی کو مار دوں گی اور پھر خود بھی مرجاؤں گی۔”
”بکواس مت کرو علیزہ۔” اسے جیسے کرنٹ لگا تھا۔
”آپ دیکھنا میں ایسا ہی کروں گی۔ میں ایسا ہی کروں گی… میرے ہونے یا نہ ہونے سے کسی کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کسی کو میری ضرورت ہی نہیں ہے۔ میں Unwanted ہوں۔” اس کے دل کو بے اختیار کچھ ہوا۔ وہ اب چہرہ دونوں ہاتھوں سے ڈھانپ کر رو رہی تھی۔
”علیزہ! میں تمہاری پروا کرتا ہوں، مجھے ضرورت ہے تمہاری۔” وہ اب اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہہ رہا تھا۔
”مگر تم میرے باپ نہیں ہو… تم میری ماں بھی نہیں ہو۔ مجھے ان دونوں کی ضرورت ہے۔ میں چاہتی ہوں وہ پروا کریں میری۔ مگر… مگر ان کی زندگی میں میرے لیے کوئی جگہ ہی نہیں ہے۔”
وہ چہرے سے ہاتھ ہٹا کر اس کا بازو پکڑے بچوں کی طرح کہہ رہی تھی۔
”مجھے ان کے روپے کی ضرورت نہیں ہے۔ مجھے ان دونوں کی ضرورت ہے۔ مجھے اپنے گھر کی ضرورت ہے جہاں مجھے آزادی ہو جہاں میری اہمیت ہو۔ مگر ان کے گھروں میں میرے لیے جگہ نہیں ہے۔ ایک کمرہ تک نہیں ہے۔”
وہ بہتے آنسوؤں کے ساتھ اب بے اختیار اسے سب کچھ بتاتی جارہی تھی۔
”پتا ہے پاپا نے کیا کیا میرے ساتھ؟… وہ کراچی میں گھر بنوا رہے ہیں گھر میں سب کیلئے کمرے ہیں بس میرے لیے نہیں ہے۔ میں یاد بھی نہیں آتی۔ وہ سب مری جارہے تھے سیر کیلئے مجھے کسی نے کہا تک نہیں۔”
وہ خاموشی سے اس کے آنسو دیکھتا اور شکوے سنتا رہا۔
”ممی مجھے ہر سال اپنے پاس بلاتی ہیں مگر وہ بھی اپنے پاس رکھنے کو تیار نہیں۔ انہیں صرف اپنے بچوں کی پروا ہوتی ہے۔ اپنے شوہر کی فکر ہوتی ہے۔ میری نہیں۔ میں سوچتی ہوں پھر میری زندگی کا کیا فائدہ۔ جب میں اپنے پیرنٹس پر ہی بوجھ بن چکی ہوں۔”
وہ ایک بارپھر پھوٹ پھوٹ کررونے لگی۔
”بس یا، ابھی تم کو کچھ اور کہنا ہے؟”
اس کے کندھے پر بازو پھیلا کر اس نے بڑے نرم لہجے میں پوچھا۔ وہ خاموشی سے روتی رہی۔
۔۔۔۔۔۔۔

خاصی دیر رونے کے بعد اس کی سسکیاں اور ہچکیاں آہستہ آہستہ دم توڑنے لگیں۔ پھر وہ جیسے نڈھال ہوکر خاموش ہوگئی۔
“علیزہ ! اب میری کچھ باتیں غور سے سنو۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ تم جتنا چاہو رو لو لیکن تمہارے پیرنٹس اس طرح کبھی تمہیں نہیں مل سکتے جس طرح تم چاہتی ہو۔ ان دونوں کی اپنی اپنی زندگی ہے۔ اپنا گھر ہے۔ ان کی ترجیحات بدل چکی ہیں اور یہ سب کچھ نیچرل ہے۔ علیحدگی کے بعد ایسا ہی ہوتا ہے جو جگہ تم ان کی زندگی میں چاہتی ہو وہ نہیں مل سکتی۔ نہ آج نہ ہی آئندہ کبھی اور تمہیں اس جگہ کو تلاش کرنے کی کوشش بھی نہیں کرنی چاہیے۔”
وہ بہت سنجیدگی مگر بڑی نرمی سے اسے سمجھا رہا تھا۔
”مگر اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ایسا کوئی نہیں ہے جسے تمہاری ضرورت نہ ہو۔ ایسے بہت سے لوگ ہیں جو تمہاری پروا کرتے ہیں۔ تمہارے بارے میں فکر مند رہتے ہیں۔ ان کے نزدیک تم اہم بھی ہو۔ گرینی تم سے جلد ناراض ہوجاتی ہیں مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ انہیں تم سے محبت نہیں ہے۔ انہوں نے تمہیں پالا ہے۔ وہ تم سے محبت بھی کرتی ہیں بس ان کے اظہار کا طریقہ مختلف ہے۔ پھر گرینڈ پاہیں۔ کیا تم یہ کہو گی کہ انہیں بھی تم سے محبت نہیں ہے۔ تمہاری فرینڈز ہیں۔ کرسٹی ہے اور میں بھی تو ہوں۔ ہم سب کو علیزہ سکندر کی بہت بہت ضرورت ہے۔” وہ بے یقینی کے ساتھ سر اٹھائے اس کا چہرہ دیکھ رہی تھی۔ ”تم میں اتنی ہی خوبیاں اور خامیاں ہیں جتنی مجھ میں یا کسی بھی دوسرے نارمل بندے میں۔ جو چیز میں کرسکتا ہوں وہ تم بھی کرسکتی ہو۔ نہ تم ڈفر ہو نہ ہی ڈل ہو۔ تم ایک بہت ہی creative اور ذہین لڑکی ہو۔ واحد مسئلہ یہ ہے کہ تم بہت زیادہ حساس ہو۔”
اس کے آنسو مکمل طور پر خشک ہوچکے تھے۔
”زندگی میں ایک چیز ہوتی ہے جسے کمپرومائز کہتے ہیں۔ پرسکون زندگی گزارنے کیلئے اس کی ضرورت پڑتی ہے۔ جس چیز کو تم بدل نہ سکو اس کے ساتھ کمپرومائز کرلیا کرو مگر اپنی کسی خواہش کو کبھی بھی جنون مت بنایا کرو۔ زندگی میں کچھ چیزیں ایسی ہیں جو ہمیں نہیں مل سکتیں۔ چاہے ہم روئیں چلائیں یا بچوں کی طرح ایڑیاں رگڑیں کیونکہ وہ کسی دوسرے کیلئے ہوتی ہیں جیسے تمہارے پیرنٹس اب کسی اور کے پیرنٹس ہیں۔ تمہارا گھر کسی اور کا گھر ہے مگر اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ زندگی میں ہمارے لیے کچھ ہوتا ہی نہیں۔ کچھ نہ کچھ ہمارے لیے بھی ہوتا ہے۔” وہ جیسے کسی ماہر استاد کی طرح اسے گر سکھا رہا تھا۔
”تمہارے سامنے ابھی پوری زندگی پڑی ہے۔ تمہاری شادی ہوگی، اپنا گھر ہوگا، ایک اچھا شوہر ہوگا اور بھی بہت کچھ مل جائے گا مگر ابھی اس عمر میں خود کواس طرح ضائع مت کرو۔ مانا یہ سب کچھ تمہارے لیے تکلیف دہ ہے مگر تم خود کو اتنا مضبوط بناؤ کہ ایسی تکلیفوں کو برداشت کرسکو۔”
وہ بات کرتے کرتے رک گیا۔
”تم سوچ رہی ہو میں کیا کہہ رہا ہوں؟” علیزہ نے بے اختیار سرہلا دیا۔
”یہ سب کچھ جو تم محسوس کر رہی ہو میں بھی کرچکا ہوں۔”
اس کی آواز ایک دم دھیمی ہوگئی۔
”میں جانتا ہوں بہت تکلیف ہوتی ہے لیکن کچھ وقت گزرنے کے بعد سب کچھ ٹھیک ہوجاتا ہے۔ صبر آجاتا ہے، سکون مل جاتا ہے۔ تمہارے ساتھ بھی یہی ہوگا۔ صرف یہ مشکل وقت ہے اسے کسی نہ کسی طرح گزار لو۔ اپنے ذہن میں سے اپنے پیرنٹس کو نکال دو، ان کے گھروں، زندگیوں اور بچوں کے بارے میں مت سوچو۔ صرف یہ سوچو کہ تمہیں اپنے لیے کیا کرنا ہے۔”
”آپ بتائیں مجھے زندگی میں کیا کرنا ہے؟ میں کیا کرسکتی ہوں؟”
”تم بتاؤ! تم یہ طے کرو کہ تمہیں اپنی زندگی میں کیا کرنا ہے؟ اور کیسے کرنا ہے۔”
”مگر میں کچھ طے نہیں کرسکتی۔” اس نے بے بسی سے کہا۔
”کیوں طے نہیں کرسکتیں۔ کیا یہاں دماغ نہیں ہے؟” عمر نے اس کے سر کو چھوتے ہوئے کہا۔
”میرا کسی چیز میں دل نہیں لگتا۔ کوئی چیز سمجھ میں نہیں آتی۔ آپ کو یقین نہیں آئے گا لیکن میں نے پیپرز کیلئے بہت محنت کی تھی مگر کتابیں پڑھتے ہوئے میری کچھ بھی سمجھ میں نہیں آتا تھا۔ میرا دل چاہتا تھا میں سب کچھ پھینک دوں۔ کچھ بھی نہ کروں… یا میرا دل چاہتا ہے کہ میں کہیں چلی جاؤں۔”
”کوئی بات نہیں ایسا ہوتا ہے بعض دفعہ، تم پچھلے کچھ عرصے سے پریشان تھیں اس لیے مینٹلی کسی چیز پر بھی توجہ مرکوز نہیں کرپائیں مگر اب سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا۔ اسٹڈیز میں کوئی پرابلم ہو تو مجھے بتاؤ، تھوڑی بہت ہیلپ تو میں کر ہی سکتا ہوں۔ اپنے ٹیچرز سے پوچھو، فرینڈز سے بات کرو۔ زیادہ پرابلم ہو تو گرینی سے کہو۔ وہ تمہیں ٹیوٹر رکھوا دیں گی۔ مگر اپنی اسٹڈیز پر توجہ دو۔ اپنا کیریئر بنانے کے بارے میں سوچو۔”
وہ اس سے وہ باتیں کر رہا تھا جو پہلے کبھی کسی نے نہیں کی تھیں۔ وہ اب سنجیدگی سے اس کا چہرہ دیکھ رہی تھی۔
”آپ کا کبھی دل نہیں چاہا کہ آپ کے پیرنٹس میں ڈائیوورس نہ ہوئی ہوتی؟” وہ پتا نہیں کیا جاننا چاہتی تھی۔ وہ چند لمحے کچھ نہیں کہہ سکا۔
”پتا نہیں۔ میں نے کبھی سوچا نہیں اس بارے میں۔”
۔۔۔۔۔۔۔۔

”کبھی بھی نہیں؟” اسے یقین نہیں آیا۔
”چلو مان لیتے ہیں کہ میں نے کبھی ایسا سوچا تو بھی کیا فائدہ کیا میرے سوچنے سے کچھ ہوسکتا ہے۔ صرف یہ ہوسکتا ہے کہ میرا وقت ضائع ہو اور میں وہ نہیں کرتا۔”
”آپ کو کبھی اپنی ممی یاد نہیں آتیں؟” اس بار خاموشی کا وقفہ قدرے طویل تھا۔
”آتی ہیں۔” جواب مختصر تھا۔
”آپ ملتے ہیں ان سے؟”
”میں نہیں ملتا، وہ ملتی ہیں۔” وہ جواب پر کچھ حیران ہوئی۔
”آپ کیوں نہیں ملتے؟”
”پتا نہیں۔”
”آپ ان سے محبت نہیں کرتے؟”
”پتا نہیں۔”
”کیوں؟”
”علیزہ! اب اتنا وقت ہوچکا ہے ان سے الگ ہوئے کہ بس مجھے ان کے بارے میں سوچنا بھی عجیب لگتا ہے۔”
”آپ کو وہ اس لیے یاد نہیں آتیں کیونکہ آپ کے پاس سب کچھ ہے۔”
اس نے جیسے ایک نتیجہ اخذ کیا۔
”اچھا… سب کچھ ہے میرے پاس؟… مثلاً کیا؟” وہ بہت عجیب انداز میں ہنسا۔
”آپ کے پاس گھر ہے۔” اس نے کچھ رشک سے کہا۔
”یہ تم سے کس نے کہا؟”
”کیا مطلب؟ کیا آپ کے پاس گھر نہیں ہے؟” وہ کچھ حیران ہوئی۔
”نہیں میرے پاس کوئی گھر نہیں ہے۔” اس نے صاف گوئی سے کہا۔ علیزہ نے بے یقینی سے اسے دیکھا۔
”سچ کہہ رہا ہوں علیزہ میرے پاس کوئی گھر نہیں ہے۔” وہ اس کی حیرت پر بھانپ گیا۔
‘یہ کیسے ہوسکتا ہے؟”
”کیوں! یہ کیوں نہیں ہوسکتا؟”
”انکل جہانگیر کے پاس تو اپنا گھر ہے اور آپ ہمیشہ ان کے ساتھ ہی رہے ہیں۔”
”ہاں، پاپا کے پاس گھر ہے اور میں ہمیشہ ان کے پاس رہا ہوں لیکن ان کے ساتھ نہیں رہا۔”
وہ اندھیرے میں اس کے چہرے پر موجود تاثرات کو دیکھنے کی کوشش میں ناکام رہی۔ وہ کہہ رہا تھا۔
”پاس رہنے اور ساتھ رہنے میں فرق ہوتا ہے۔”
”کیا فرق ہوتا ہے؟”
”پاپا کی پہلی پوسٹنگ جب لندن میں ہوئی تو ان ہی دنوں میرے پیرنٹس میں ڈائی وورس ہوگئی۔ پاپا نے مجھے بورڈنگ میں بھیج دیا۔ چند سالوں کے بعد وہ امریکہ گئے تو مجھے بھی ساتھ لے گئے۔ وہاں بھی میں بورڈنگ میں رہا۔ ویک اینڈز میں ان کے پاس آجایا کرتا تھا مگر صرف ویک اینڈز پر۔” وہ گم صم اسے دیکھتی رہی۔
”پھر پاپا کی پوسٹنگز اور جگہوں پر بھی ہوئی لیکن میں وہیں رہا۔ بعد میں پاپا ایک بار پھر امریکہ آگئے تب میں یونیورسٹی میں تھا اور ہاسٹل میں ہی رہتا تھا۔”
کیوں؟ آپ ان کے ساتھ کیوں نہیں رہے؟”
”اب وجہ تو مجھے نہیں پتا لیکن… بس پاپا نے کبھی ساتھ رہنے کیلئے کہا نہیں اور میں نے بھی کبھی چاہا نہیں۔ ہوسکتا ہے ایک وجہ ان کی دوسری شادی بھی ہو۔”
”کیا آنٹی ثمرین کے ساتھ آپ کے اچھے ٹرمز نہیں تھے؟”
”نہیں۔ ایسا نہیں ہے مگر شاید پاپا سوچتے ہوں گے کہ میری وجہ سے ان کی پرسنل لائف Suffer نہ کرے یا ان کی پرائیویسی متاثر نہ ہو۔”
”صرف اس لیے؟”
”نہیں شاید یہ بھی تھا کہ مجھے پاپا کے پاس ایک ایسی زندگی گزارنی پڑتی جو بہت نارمل سی ہوتی۔ آزادی نہ ہوتی میرے پاس۔”
”آپ نے کبھی اپنے گھر کو مس نہیں کیا؟”
”کسی حد تک… مگر تمہاری طرح نہیں۔ شاید اس لیے کہ میرے پاس کرنے کو بہت کچھ تھا مگر کچھ سوچنے کیلئے وقت نہیں تھا۔” اس کے لہجے میں لاپروائی تھی۔
”آپ کا دل نہیں چاہا کہ آپ کا اپنا گھر ہو۔ پیرنٹس ہوں۔۔۔” عمر نے اس کی بات کاٹ دی۔
”اچھا فرض کرو دل چاہتا ہے پھر کیا کروں؟ مجھے پتا ہے گھر نہیں مل سکتا۔ پیرنٹس نہیں مل سکتے۔ اب میں یہ تو نہیں کرسکتا کہ ماؤنٹ ایورسٹ پر چڑھ کر کود جاؤں… یار! نہیں ملتیں بہت سی چیزیں نہیں ملتیں پھر کیا کیا جائے؟”
علیزہ کو اس کے اطمینان پر رشک آیا۔
۔۔۔۔۔۔۔

”جب آپ جاب کررہے تھے تو آپ نے کبھی اپنا گھر بنانے کی کوشش نہیں کی؟”
”لندن میں جاب کرتا تھا علیزہ!اتنی بڑی جاب نہیں تھی کہ گھر خرید لیتا۔ ایک کرائے کا فلیٹ… تھا کمپنی کی طرف سے۔ چھوٹا سا تھا۔ صبح ساڑھے چھ نکلتا تھا رات کو ساڑھے نو واپس آتا تھا، صرف سونے کیلئے ہی اسے استعمال کرتا تھا۔ لندن اتنا مہنگا شہر ہے کہ وہاں گھر وغیرہ بنانے کا بندہ نہیں سوچ سکتا۔ پھر میں نے تو ویسے بھی بہت زیادہ عرصے کیلئے جاب نہیں کی۔ پاپا مسلسل مجبور کر رہے تھے فارن سروس کیلئے بس اسی طرح وقت گزر گیا۔”
علیزہ کو کچھ شرمندگی ہوئی اس کا عمر کے بارے میں ہمیشہ سے یہ خیال تھا کہ وہ اپنے گھر میں انکل جہانگیر کے ساتھ بہت اچھی زندگی گزار رہا ہے۔ اسی لیے نانو کے پاس آنے پر وہ اس طرح برہم ہوگئی تھی مگر وہ اسے کچھ اور ہی بتا رہا تھا۔
”مگر انکل جہانگیر تو آپ سے بہت محبت کرتے ہیں۔۔۔” وہ پتا نہیں کیا جاننا چاہ رہی تھی۔ جواب میں ایک طویل خاموشی چھپائی رہی۔
”انکل جہانگیر تو آپ سے محبت کرتے ہیں؟” علیزہ نے اس بار قدرے بلند آواز میں اپنا سوال دہرایا۔
”کیا…! ہاں…! محبت… ہوسکتا ہے کرتے ہوں۔”
”یہ کیا بات ہوئی؟” اس کے غیر متوقع جواب نے علیزہ کو حیران کیا۔ ”آپ کو نہیں پتا کہ وہ آپ سے محبت کرتے ہیں یا نہیں؟”
”نہیں میں نے کبھی اس ٹاپک کو ڈسکس نہیں کیا… ہمارے درمیان اور ٹاپکس پر بات ہوتی ہے۔”
”مگر وہ آپ سے محبت کرتے ہیں۔” اس نے اپنے الفاظ پر زور دیتے ہوئے کہا۔
”اچھا!” عمر نے یوں کہا جیسے علیزہ نے اسے کوئی نئی بات بتائی ہو۔
”کتنی فرینڈز ہیں تمہاری؟” عمر نے یک دم بات کا موضوع بدل دیا۔
”بس ایک… میں نے آپ کو پہلے بھی ایک بار بتایا تھا۔” علیزہ نے جواب دیا۔
”ہاں… شہلا… یہی نام ہے نا؟” علیزہ کو حیرت ہوئی اسے نام تک یاد تھا۔
”ہاں آپ کو پتا ہے تو پھر کیوں پوچھ رہے ہیں؟”
”بس ایسے ہی… تمہاری بہت زیادہ دوستی ہے اس کے ساتھ؟”
”ہاں۔”
”بہت اچھی ہوگی؟”
”ہاں۔” اسے اب عمر سے بات کرتے ہوئے کوئی گھبراہٹ یا الجھن نہیں ہو رہی تھی۔ وہ بے اختیار اس کی باتوں کے جواب دے رہی تھی۔
”اور کوئی فرینڈ نہیں ہے۔”
”نہیں۔”
”میں بھی نہیں؟” وہ جواب دیتے ہوئے کچھ الجھی۔
”آپ بھی ہیں۔۔۔”
”شہلا جتنا کلوز فرینڈ ہوں؟” اس بار پوچھا گیا۔
”نہیں اتنا تو نہیں۔” علیزہ نے کچھ سوچ کر کہا۔
”اچھا چلو فرینڈ تو ہوں نا؟”
”ہاں۔”
”بس ٹھیک ہے۔ اسی خوشی میں، میں تمہیں کچھ کھلاتا ہوں۔ بلکہ تم بتاؤ تمہیں کیا کھاناہے؟”
”کچھ بھی نہیں۔”
”کم آن یار… آج آوارہ گردی کرتے ہیں… کہیں سے کچھ کھاتے ہیں… چلو برگر لیتے ہیں پھر آئس کریم کھائیں گے۔ آج رونے میں تم نے خاصی انرجی ویسٹ کی ہے۔ اب ضروری ہے یہ سب کچھ۔”
عمر نے اٹھتے ہوئے اپنا ہاتھ اس کی طرف بڑھا دیا۔ اس نے عمر کا ہاتھ تھام لیا۔
ریس کورس کے دوسرے گیٹ سے وہ جیل روڈ پر نکل آئے۔ عمر اب اسے لطیفے سنا رہا تھا۔ وہ ایک چھوٹے سے بچے کی طرح اس کا ہاتھ تھامے اس کے تیز قدموں کا تعاقب کرتی اس کی باتوں پر کھکھلانے لگی تھی۔
ایک لمبا چکر کاٹ کر وہ شادمان کی طرف نکل آئے۔ فٹ پاتھ پر لگے ہوئے برگر کے ایک اسٹال سے انہوں نے برگر خریدے اور پھر بے مقصد مارکیٹ میں ونڈو شاپنگ کرتے ہوئے برگر کھاتے رہے۔
علیزہ کو اچانک احساس ہونے لگا عمر اتنا برا نہیں تھا جتنا سمجھ رہی تھی۔ اسے اس کے ساتھ اس طرح پھرنا اچھا لگ رہا تھا۔ عجیب سی آزادی اور اعتماد کا احساس ہو رہا تھا۔
برگر ختم ہونے کے بعد عمر اسے آئس کریم کھلانے کیلئے اسی طرح ایک اور اسپاٹ پر لے گیا۔
”چار کون دے دیں۔” اس نے آئس کریم مشین کو آپریٹ کرنے والے سے کہا۔ علیزہ نے اسے حیرانی سے دیکھا۔
”چار کیوں؟”
”یار دو، دو کھائیں گے۔” اس نے اطمینان سے روپے نکالتے ہوئے کہا۔
”مگر میں تو ایک کھاؤں گی۔”
”نہیں یار آئس کریم کون ایک کھاتا ہے؟ ہمیشہ دو کھاتے ہیں۔ اگر اپنے روپے خرچ کر رہے ہوں… اور اگر کوئی دوسرا کھلا رہا ہو تو پھر تین اور چار بھی کھائی جاسکتی ہیں۔” اس نے جیسے علیزہ کو پتے کی بات بتائی تھی۔
”مگر ایک وقت میں دو کیسے کھاؤں گی؟” اس نے عمر کے ہاتھ سے کون پکڑتے ہوئے کہا۔
”یہ تمہیں میں سکھاؤں گا۔ تم آؤ تو سہی۔”
اس نے خود بھی اپنی دونوں کونز پکڑتے ہوئے کہا پھر وہ بڑی برق رفتاری سے بیک وقت دونوں کونز کھانے لگا۔ اس کی مہارت یہ ظاہر کر رہی تھی کہ وہ کام کرنے کا عادی تھا۔
علیزہ اس کے ساتھ چلتے ہوئے خود بھی اسی کی طرح آئس کریم کھانے کی کوشش کر رہی تھی مگر آئس کریم پگھلنے لگی تھی۔ مین روڈ پر آتے آتے آئس کریم اس کے دونوں ہاتھ اور کلائیوں پر پگھل کر بہنے لگی تھی۔ عمر اس وقت تک دونوں کونز تقریباً ختم کرچکا تھا۔ ساتھ چلتے ہوئے اس نے علیزہ کو کچھ افسوس بھرے انداز میں دیکھتے ہوئے کہا۔
”کیا کرو گی یار! تم زندگی میں… یہ اس قدر ضروری کام تمہیں نہیں آتا۔ مجھے کم از کم تم سے یہ توقع نہیں تھی۔”
واپس جیل روڈ پر آتے ہوئے اس کی آئس کریم ختم ہوچکی تھی مگر دونوں ہاتھ پگھلی ہوئی آئس کریم سے لتھڑے ہوئے تھے۔
”اب یہ دیکھیں، میرے ہاتھ گندے ہوگئے ہیں۔ انہیں کیسے صاف کروں؟” علیزہ نے اسے ہاتھ دکھاتے ہوئے کہا۔
”اپنی شرٹ سے صاف کرو، جیسے تم روتے ہوئے اپنے آنسو صاف کرتی ہو۔” عمر نے کچھ شرارتی انداز میں کہا۔ وہ کچھ جھینپ گئی۔
۔۔۔۔۔۔

”ٹراؤزر کی پاکٹ میں کوئی ٹشو نہیں ہے؟” عمر نے چلتے ہوئے اس سے کہا۔
”نہیں ہے… پانی ہو تو۔۔۔” وہ ادھر ادھر دیکھنے لگی۔
”یہاں مین روڈ پر پانی کہاں سے مل سکتا ہے۔ تم شرٹ سے صاف کرلو۔ گھر جا کر کپڑے تو چینج کرنے ہی ہیں۔” عمر نے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔
”نہیں یہ اتنی چپچپی ہے۔ مجھے گھن آرہی ہے۔” اس نے مٹھیاں کھولتے اور بند کرتے ہوئے کہا۔
”لاؤ، میں صاف کردوں۔” عمر چلتے چلتے رکا اور بڑے اطمینان سے اپنی شرٹ سے اس کے ہاتھ صاف کرنے لگا۔ علیزہ کو جیسے ایک جھٹکا لگا۔ اس نے ہاتھ کھینچنے کی کوشش کی۔
”آپ کیا کر رہے ہیں؟ آپ کی شرٹ گندی ہو جائے گی۔”
عمر نے کچھ کہنے کے بجائے اچھی طرح اس کے دونوں ہاتھ اپنی شرٹ سے صاف کردیئے۔
”کوئی بات نہیں یار! میری ہی شرٹ گندی ہوگی نا تمہارے ہاتھ تو صاف ہوجائیں گے۔”
اس نے بڑی لاپروائی سے کہا۔ وہ اس کے ساتھ چلتے ہوئے خاموشی سے اس کا چہرہ دیکھنے لگی جو اس کا ہاتھ پکڑے سڑک کراس کرنے کیلئے ٹریفک کو دیکھ رہا تھا۔
واپسی کے راستے پر وہ باتیں کرتی رہی تھی اور عمر سنتا رہا تھا۔ علیزہ کو یاد نہیں کہ اس نے آخری بار زندگی میں کب کسی کے ساتھ اتنی باتیں کی تھیں۔ شاید کسی کے ساتھ نہیں۔ شہلا کے ساتھ بھی نہیں۔
گھر کا گیٹ نظر آنے لگا تو وہ یک دم چونکا۔
”ہاں یاد آیا علیزہ! تم سے ایک بات کہنی تھی۔”
”ہاں کہیں۔”
”مگر پہلے تم پرامس کرو کہ ناراض نہیں ہوگی۔”
وہ حیران ہوئی۔ ”ایسی کون سی بات ہے؟”
”نہیں! پہلے تم پرامس کرو۔” اس نے اصرار کیا۔
”ٹھیک ہے میں پرامس کرتی ہوں میں ناراض نہیں ہوں گی۔”
”ویری گڈ!” عمر نے کلائی پر باندھی ہوئی گھڑی پر نظر دوڑاتے ہوئے کہا۔
”وہ دراصل بات یہ ہے کہ میں تمہیں گرینی کو بتائے بغیر لے کر آیا ہوں۔”
خاصے اطمینان سے کہے گئے جملے نے اس کے قدموں تلے سے زمین نکال دی۔ علیزہ کا منہ کھلا رہ گیا۔
”مگر آپ نے تو کہا تھا کہ۔۔۔” عمر نے اس کی بات کاٹ دی۔ ”میں نے جھوٹ بولا تھا اگر یہ کہتا کہ میں تمہیں ساتھ لے کر جانا چاہتا ہوں تو تم کبھی نہ آتیں۔” اس کا اطمینان ابھی بھی برقرار تھا مگر اب علیزہ کی جان پر بنی ہوئی تھی۔
”آپ کو اندازہ ہے، کتنی دیر ہوگئی ہے۔ نانو بہت ہی ناراض ہوں گی۔” وہ روہانسی ہوگئی۔
”نہیں ہوتیں یار! اور اگر ہونگی بھی تو میں کہہ دوں گا کہ میں زبردستی تمہیں ساتھ لے کر گیا تھا۔” عمر نے ساتھ چلتے ہوئے اسے تسلی دی۔
”آپ نانو کو نہیں جانتے۔ اس لیے کہہ رہے ہیں۔ میں کبھی بھی ان کی اجازت کے بغیر کہیں نہیں جاتی اور نہ ہی وہ یہ بات پسند کرتی ہیں۔”
”تم فکر مت کرو۔ میں بات کرلوں گا ان سے۔” اس نے ایک بار پھر اسے تسلی دی۔
وہ گھر کے گیٹ پر پہنچ چکے تھے بیل بجانے کے بجائے عمر نے گیٹ پر ہاتھ مار کر چوکیدار سے گیٹ کھلوایا۔ علیزہ کا تھوڑی دیر پہلے والا جوش و خروش ختم ہوچکا تھا۔ اب اس کے ہاتھوں کے طوطے اڑے ہوئے تھے جبکہ عمر اب بھی پہلے کی طرح مطمئن اور بے فکر نظر آرہا تھا۔
پورچ کراس کرنے کے بعد لاؤنج کا دروازہ عمر نے ہی آگے بڑھ کر کھولا۔ علیزہ اس سے چند قدم پیچھے تھی۔ بہت محتاط انداز میں دھڑکتے دل کے ساتھ جب وہ عمر کے پیچھے لاؤنج میں داخل ہوئی تو لاؤنج میں ایک عجیب سی خاموشی نے اس کا استقبال کیا۔
عمر اس سے کچھ آگے بالکل ساکت کھڑا تھا۔ اس کے چہرے پر کچھ دیر پہلے والی شگفتگی اور مسکراہٹ غائب ہوچکی تھی۔ علیزہ نے کچھ حیرانی کے ساتھ لاؤنج میں اس چیز کو تلاش کرنے کی کوشش کی جسے دیکھ کر عمر کی یہ حالت ہوئی تھی اور وہ چیز اس کے سامنے ہی تھی۔
لاؤنج کے ایک صوفے پر نانو کے ساتھ ایک عورت بیٹھی ہوئی تھی۔ رائل بلوسلک کی ساڑھی اپنے وجود کے گرد لپیٹے۔ کندھوں تک تراشیدہ بالوں اور تیکھے نقوش والی اس عورت کو علیزہ نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ وہ دونوں اتنی خاموشی کے ساتھ اندر آئے تھے کہ نانو اور اس عورت کو پتا نہیں چلاوہ دونوں چائے پینے کے ساتھ بہت مدھم آواز میں کوئی بات کر رہی تھیں اور ایک دوسرے کی طرف متوجہ تھیں۔
نانو بہت سوشل نہیں تھیں مگر پھر بھی ان کا ایک خاص حلقہ احباب تھا جن سے ان کا میل ملاپ تھا اور وہ لوگ گھر آتے رہتے تھے۔ اس وقت علیزہ بھی اس عورت کو نانو کی ایسی ہی کوئی واقف سمجھی تھی۔ مگر آخر عمر اس عورت کو دیکھ کر اس طرح ری ایکٹ کیوں کر رہا ہے؟ کیا وہ اسے جانتا ہے؟ علیزہ نے کچھ حیران ہو کر سوچا تھا مگر عمر کی واقفیت تو بہت محدود سی ہے پھر یہ عورت… اس نے کچھ الجھتے ہوئے سوچا۔
تب ہی عمر نے پلٹ کر اس کی طرف دیکھا۔ علیزہ چہرے پڑھنے میں ماہر نہیں تھی نہ ہی وہ ٹیلی پیتھی جانتی تھی پھر بھی اس وقت عمر کے چہرے کو دیکھ کر اسے یوں لگا تھا جیسے وہ وہاں سے بھاگ جانا چاہتا تھا۔ وہ کچھ اور بھی الجھی تھی۔ عمر کی آنکھوں میں اسے ایک عجیب سی وحشت نظر آئی تھی۔
اور اسی وقت علیزہ نے اس عورت کو عمر کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے دیکھا۔ وہ ایک دم نانو سے باتیں کرتے کرتے رک گئی پھر علیزہ نے اسے چائے کا کپ میز پر رکھتے ہوئے دیکھا۔ اس نے عمر کو دیکھا وہ بھی اب اسی عورت کودیکھ رہا تھا۔ پھر علیزہ نے اسے کہتے سنا۔
”ہیلو، ہاؤ آر یو؟”
جواب میں اس عورت نے جو حرکت کی، اس نے علیزہ کو ششدر کردیا تھا۔


جاری ہے۔۔۔