Amarbail By Umerah Ahmed Readelle50103 Episode 7
Rate this Novel
Episode 7
امربیل از عمیرہاحمد
۔۔۔۔
قسط نمبر 7
۔۔۔۔۔
اگلے دن یونیورسٹی میں اس کا دل نہیں لگا تھا۔ گھر واپس آتے ہی وہ سیدھا کچن میں گئی۔
”نانو رات کے لئے کیا پکوا رہی ہیں!”
” کوئی خاص چیز کھا نے کو دل چاہ رہا ہے؟”
نانو نے مسکراتے ہوئے پوچھاتھا۔
”نہیں ! میں اپنے لئے نہیں عمر کے لئے پوچھ رہی ہوں۔ اس کے لئے کیا بنوا رہی ہیں۔”
نانو کرسی پر بیٹھی ملازم سے فریزر صاف کروا رہی تھیں۔ انہوں نے کچھ حیرانی سے دیکھاتھا۔
”عمر کے لئے تو کچھ بھی نہیں بنوارہی۔”
”کیوں نانو ؟”
وہ کچھ حیران رہ گئی۔
”آپ کو یاد ہے نا کہ وہ رات کو آ رہا ہے؟”
”ہاں ، مجھے یاد ہے ، وہ دو بجے کی فلائٹ سے یہاں آئے گا۔ پہنچتے پہنچتے اسے تین بج جائیں گے ظاہر ہے کہ اس وقت تو وہ کھانا نہیں کھائے گا، سیدھا سونے کے لئے چلا جائے گا۔”
”پھر بھی نانو! فرض کریں اس نے کھانا نہ کھا یا ہوا تو؟”
”یہ فرض کرنے والی بات ہے ہی نہیں ، وہ رات کا کھانا یقیناً فلائیٹ میں ہی کھائے گا۔ تم جانتی ہو کہ کھانے کے معاملہ میں وہ کتنا باقاعدہ ہے۔”
”پھر بھی نانو! بھوک کا کیا ہے۔ وہ تو کسی بھی وقت لگ سکتی ہے، اگر اس نے کچھ کھا نے کے لئے مانگ لیا؟”
”بعض دفعہ تم حماقت کی حد کر دیتی ہوعلیزہ! اس طرح بات کر رہی ہو جیسے گھر میں کھانے کے لئے کچھ ہو ہی نا۔ تمہیں پتہ ہے ہر وقت فریج میں دو، تین ڈشز ضرور ہوتی ہیں۔ بھوکا نہیں سو ئے گاوہ۔”
علیزہ کچھ شرمندہ سی ہو گئی تھی۔
”البتہ کل کے لئے میں کافی ڈشز بنوا رہی ہوں، تم دیکھ لینا بلکہ خود بھی خانساماں سے کہہ دینا ، اگر کوئی خاص چیز وہ بھو ل جائے تو۔”
وہ اب دوبارہ ملازم کی طرف متوجہ ہو چکی تھیں۔
۔۔۔۔۔۔۔
”میں دیکھ لوں گی ، آپ فکر نہ کریں۔”
وہ کچن سے باہر آگئی تھی، لاؤنج کی گھڑی تین بجا رہی تھی۔
”اور وہ رات کے تین بجے گھر پہنچے گا۔ ابھی پورے بارہ گھنٹے باقی ہیں اور مجھے ان بارہ گھنٹوں میں کیا کرنا چاہئے ؟”
اس نے سوچنے کی کوشش کی تھی۔
اپنے کمرے میں جاکر رات کو پہننے کے لئے کپڑے دیکھنے شروع کر دئیے تھے۔ پھر ایک لباس اس نے منتخب کر ہی لیاتھا ایک خیال آنے پر وہ واپس کچن میں آگئی تھی۔
”نانو ! عمر ڈرائیور کو پہچانے گاکیسے ؟ یہ ڈرائیور تو نیا ہے اور ڈرائیور بھی عمر کو نہیں پہچانتا!”
”میں نے ڈرائیور کو عمر کی تصویر دکھا دی تھی۔ مزید احتیاط کے طور پر میں نے اسے کارڈ پر عمر کا نام لکھ دیا ہے۔ عمر کارڈ اس کے پاس دیکھ کر خود ہی آ جائے گا۔”
”ہاں ! یہ ٹھیک ہے۔”
وہ مطمئن ہو کر واپس اپنے کمرے میں آگئی تھی۔
۔۔۔۔۔۔
رات کا کھانا اس نے نانو کے ساتھ آٹھ بجے کھالیا۔ پہلی بار کلاک کو بار بار دیکھتے ہوئے اسے احساس ہوا کہ وقت کو پر نہیں لگتے بلکہ بعض دفعہ وقت بالکل رک بھی جاتا ہے۔ اس کی تیز رفتاری ہی صبر آزما نہیں ہوتی ۔بعض دفعہ اس کی سست رفتاری بھی تکلیف دہ ہوتی ہے۔
”نانو، آپ ڈرائیور کو کتنے بجے بھیجیں گی ؟”
کھانے سے فارغ ہو کر علیزہ نے پوچھاتھا۔
”ایک بجے۔”
”آپ عمر کا انتظار کریں گی؟”
”ظاہر ہے ،مجھے تو ویسے بھی رات کو نیند نہیں آتی مگر تم چاہو تو جا کر سو جاؤ۔”
”نہیں نانو ! میں بھی انتظار کروں گی۔”
”تمہیں صبح یونیورسٹی جانا ہے۔”
نانو نے اسے یاد دلایا۔
”ہاں ! مجھے پتہ ہے لیکن کچھ نہیں ہوگا۔”
اس نے ان کی یاد دہانی کو سنی ان سنی کرتے ہوئے کہاتھا۔
کھانے سے فارغ ہو کر وہ نانو کے ساتھ لاؤنج میں بیٹھ گئی۔ ٹی وی پر پروگرام دیکھتے ہوئے وہ ساتھ ساتھ عمر کے بارے میں بھی باتیں کر تی جا رہی تھیں۔
ایک بجے انہوں نے باہر گاڑی کے اسٹارٹ ہو کر جانے کی آ واز سنی تھی۔ گھڑی کی سوئیاں بہت سست رفتاری سے آگے بڑھ رہی تھیں۔
ڈیڑھ……دو……ڈھائی……تین……
سوا تین بجے انہوں نے گیٹ پر ہارن کی آواز سنی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔
”عمر آگیا ہے۔”
بے اختیار علیزہ کے منہ سے نکلا تھا۔ وہ نانو کے ساتھ لاؤنج کا دروازہ کھول کر باہر آگئی تھی۔ گاڑی پورچ میں داخل ہو رہی تھی۔
علیزہ کو ایک جھٹکا لگاتھا۔ گاڑی میں کوئی بھی نہیں تھا۔ اس نے حیرا نی سے دیکھا۔
”نانو! گاڑی میں عمرنہیں ہے۔”
”پتہ نہیں کیا بات ہے؟”
نانو بڑ بڑائی تھیں۔ ڈرائیور گاڑی کا دروازہ کھول کر باہر آگیاتھا۔
”کیا ہوا اعظم؟ عمر کہاں ہے؟ نانو نے اس سے پوچھا۔
”وہ جی فلائیٹ کینسل ہو گئی موسم کی وجہ سے۔”
”کیا ، فلائیٹ کیسے کینسل ہو گئی؟ مجھے تو عمر نے کوئی اطلاع نہیں دی ، اگر ایسا کچھ ہو تا تو وہ مجھے بتا تو دیتا ۔ تمہیں کوئی غلط فہمی ہو گئی ہے۔”
نانو نے فکر مندی سے کہا تھا۔
”نہیں جی، میں نے تو انکوائری کاؤنٹر سے پتہ کروایا تھا۔ آپ بے شک خود ہی فون کر کے پتہ کر لیں، میں نے تو کچھ لوگوں سے بھی پوچھا تھا، انہوں نے بھی یہی کہا تھا۔”
نانو ابھی بھی بے یقینی تھی۔
” سمجھ میں نہیں آرہا، کہ اس نے مجھے بتایا کیوں نہیں۔”
”ہو سکتا ہے عمر بھول گیا ہو!”
علیزہ نے کچھ مایوسی سے کہاتھا۔
”نہیں ! عمر اتنا لا پرواہ تو نہیں ہو سکتا۔”
”بیگم صاحبہ! اب میں کیا کروں؟”
ڈرائیور نے پوچھا تھا۔
”ٹھیک ہے تم بھی جا کر سو جاؤ!”
علیزہ نے نانو کے ساتھ اندر جاتے ہوئے کہا۔
۔۔۔۔۔۔۔
”عمر کو اطلاع دینی چاہئے تھی۔”
نانو اب بھی فکر مند تھیں۔
”ہو سکتا ہے ابھی کچھ دیر تک اس کا فون آ جائے ، یا صبح فون کردے۔”
علیزہ نے نانو کو تسلی دی تھی ۔
”ہاں ، ہو سکتا ہے۔”
”اب آپ سو جائیں نانو!”
”ہاں، میں تو سو جاؤں گی۔ تم بھی جاکر سو جاؤ!”
وہ سر ہلا کر وہاں سے ہٹ گئی۔ وہ بے دلی کے ساتھ اپنے کمرے میں آئی تھی اس کی آنکھوں سے نیند مکمل طور پر غائب ہو چکی تھی۔ وہ اب جھنجھلا رہی تھی۔
”کیا فائدہ ہوا اس طر ح احمقوں کی طرح انتظار کرنے کا۔ نانو ٹھیک کہتی ہیں، بعض دفعہ کہ میں واقعی حد کر دیتی ہوں حماقت کی۔”
اس کی آنکھوں میں ہلکی سی نمی آگئی تھی۔
۔۔۔۔۔
”عمر کو نہ آنے پر اطلاع تو دینی چاہئے تھی۔ اسے سوچنا چاہئے تھا،یہاں سب لوگ اس کا انتظار کر رہے ہوں گے۔”
وہ اپنے کمرے سے باہر نکل آئی تھی۔ بے اختیار اس کے قدم عمر کے کمرے کی طرف اٹھ گئے تھے۔ کمرے کی لائٹ جلا کر اس نے چاروں طرف نظر دوڑائی تھی ۔ اسے کمرہ یکدم بہت اداس لگنے لگا تھا۔کچھ دیر پہلے مکمل نظر آنے والی ہر چیز یک دم نامکمل نظر آنے لگی تھی۔ وہ کچھ اور دل گرفتہ ہو گئی۔ کمرے میں رکھی تازہ پھولوں کی ارینج مینٹس کو لے کر وہ بیڈ پر بیٹھ گئی اور اس نے انہیں دوبارہ ترتیب دینا شروع کردیا چند منٹوں میں یہ مصروفیت بھی ختم ہو گئی تھی۔ اس نے انہیں نئی جگہوں پر رکھا تھا۔ مدھم آواز میں سٹیریو آن کر دیا تھا۔ کل کمرے کی صفائی کرواتے ہوئے بھی وہ یہی کیسٹ سن رہی تھی۔
” Every thing I do I do it for you!”
برائن ایڈمز کی خو بصورت آواز کمرے میں لہرانے لگی تھی۔
”اگر وہ آ جاتا تو اس وقت یہ کمرہ اتنا اداس اوراکیلا نہ ہوتا۔”
وہ لاشعوری طور سے ایک بار پھر اس کے بارے میں سوچ رہی تھی۔ ریک میں پڑا ہو ا ایک ناول اٹھا کر وہ بیڈ پر بیٹھ گئی تھی، وہ جیسے کمرے کی تنہائی اور اداسی کو دور کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔جیسے عمر کی کمی کو پورا کرنا چاہ رہی ہو۔
ناول پڑھتے ہوئے اس نے سوچنے کی کوشش کی تھی کہ وہ اس وقت کہاں ہو گا اور کیا کر رہا ہو گا۔
”وہ جہاں بھی ہو گا ، سو رہا ہو گا۔”
فوراً اس کے ذہن میں ابھراتھا۔
”اور یہاں پر لوگ اس کے انتظار میں جا گ رہے ہیں۔”
۔۔۔۔۔۔
اس کی خفگی میں کچھ اور اضافہ ہو گیا تھا۔ ناول پڑ ھتے ہوئے اسے اپنی آنکھیں بوجھل ہوتی ہوئی محسوس ہوئیں۔ آنکھوں کو بند کر کے اس نے آنکھوں کو کچھ آ رام پہنچانے کی کوشش کی تھی۔ دوبارہ آنکھیں کھولنے کی اسے کوشش ہی نہیں کرنی پڑی تھی۔ وہ سو چکی تھی۔
جس وقت دوبارہ اس کی آنکھ کھلی تھی تو کمرے میں سورج کی روشنی پھیل چکی تھی۔ آنکھیں کھول کر وہ کچھ دیر تک وہ یہ سمجھنے کی کوشش کرتی رہی کہ وہ ہے کہاں ؟ پھر یک دم وہ جان گئی تھی کہ وہ کہاں ہے۔ اسے حیرانی ہوئی تھی کہ وہ وہاں کیسے سو گئی تھی۔ اس نے یاد کرنے کی کوشش کی تھی کہ وہ سونے سے پہلے کیا کر رہی تھی، اسے یاد آ گیا وہ ناول پڑھ رہی تھی۔
”اور پھر مجھے نیند آگئی ہو گی۔”
اس کی نظر سامنے دیوار پر لگے ہوئے وال کلاک پر پڑی تھی، ساڑھے دس بجنے والے تھے اور وہ ہکا بکا رہگئی تھی۔
”میں اتنی دیر تک سوتی رہی۔”
وہ اٹھ کر بیٹھ گئی۔
” نانو نے یہ سوچ کر مجھے اٹھانے کی کوشش نہیں کی ہو گی کہ میں رات کو دیر سے سوئی تھی، اب اپنی نیند پوری کر لوں۔”
اس نے سوچا تھا ، بائیں ہاتھ سے جماہی روکتے ہوئے اس نے اپنی ٹانگوں سے کمبل ہٹانا چاہا ، اور ایک بار پھر رک گئی تھی۔ اس نے یاد کرنے کی کوشش کی کہ کیا رات کو اس نے اپنے اوپر کمبل لیا تھا۔ اسے یاد تھا کہ جس وقت وہ ناول پڑھ رہی تھی اس وقت اس نے کمبل نہیں اوڑھا تھا۔
۔۔۔۔۔۔
”ہو سکتا ہے نیند میں لے لیا ہو۔”
اس نے سوچاتھا۔ کمبل ہٹانے کے بعد اس نے بیڈ پر ناول دیکھنے کی کوشش کی تھی، ناول بیڈ پر نہیں نظر آیا تھا۔ اس نے نیچے کارپٹ پر دیکھا۔ ناول وہاں بھی گرا نہیں تھا۔ وہ کچھ الجھ گئی تھی۔ ناول کو وہیں ہونا چاہئے تھا۔ اس نے گردن موڑ کر سائیڈ ٹیبل پر دیکھا ، اور کچھ دیر تک وہ اسے دیکھتی ہی رہ گئی۔ ناول کو وہاں ہونا چاہئے تھا۔ اسے یاد ہی نہیں تھا کہ اس نے ناول وہاں رکھا تھا۔ ، ہو سکتا ہے کہ میرے سونے کے بعد نانو وہاں آئی ہوں اور ناول اٹھا کر یہاں رکھ دیا ہو۔ اسے بالآخر خیال آیا اور وہ کچھ شرمندہ سی ہو گئی۔
”پتہ نہیں میرے یہاں ہونے پر نانو نے کیا سوچا ہو گا؟اور اب مجھے کیا بہانہ کر نا چاہئے ؟”
کمبل تہہ کرتے ہوئے وہ سوچ رہی تھی۔ کمبل تہہ کرنے کے بعد اس نے سوئچ پینل کو دیکھا۔ سارے سوئچز آف تھے ، سٹیریو بھی آف کر دیا گیا تھا اور اب تو اس بات میں کوئی شک ہی نہیں رہ گیا تھا کہ ، نانو وہاں آئی تھیں اس نے بیڈ کی چادر ٹھیک کی اور اپنا دوپٹہ اٹھا کر کمرے سے نکلنے لگی تھی کہ جب اس کی نظر ڈریسنگ ٹیبل پر پڑی تھی وہ ساکت ہو گئی تھی، وہاں ایک والٹ اور رسٹ واچ پڑی تھی۔ وہ بے یقینی سے ان چیزوں کو دیکھتی رہی تھی پھر اس نے کمرے کا تفصیلی جائزہ لیا کمرے میں اور کچھ بھی نہیں تھا۔ پھر خیال آنے پر وہ لپک کر ڈریسنگ روم کی طرف گئی اور دروازہ کھولتے ہی اس کے لبوں پر ایک مسکراہٹ نمودار ہو گئی۔ وہاں دو بھاری بھرکم سوٹ کیس پڑے ہوئے تھے۔
وہ تقریباً بھا گتی ہوئی کمرے سے باہر آئی تھی، نانو کو آوازیں دیتے ہوئے لاؤنج میں آ گئی۔
۔۔۔۔۔
”ادھر کچن میں ہوں علیزہ! کیا ہو گیا ہے؟”
نانو کی آواز اسے سنائی دی، وہ کچن کی طرف چلی گئی۔
نانو سلاد بنا رہی تھیں۔
”نانو ! عمر آ گیا ہے؟”
نانو نے اپنی مسکراہٹ چھپا لی تھی۔
”نہیں تم سے کس نے کہا ؟”
انہوں نے انجان بنتے ہوئے کہا۔
علیزہ نے ان کی مسکراہٹ دیکھ لی تھی۔۔۔
”نانو ! پلیز ،جھوٹ نہ بولیں عمر آگیا ہے۔ مجھے پتہ ہے۔”
وہ کرسی کھینچ کر ان کے پاس بیٹھ گئی۔
”ہاں آ گیا ہے صبح ساڑھے چار بجے آیا ہے!”
”مگر اس کی تو فلائیٹ تو کینسل ہو گئی تھی۔”
”ہاں ! مگر وہ اس فلائیٹ سے نہیں آیا۔ اور تم نے یہ کیا بے وقوفی کی۔ سارا دن کمرہ تیار کرنے کے بعد خود وہاں جا کر سو گئیں۔”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نانو نے اسے ڈانٹنا شروع کر دیا۔
”وہ بے چارہ تھکا ہوا تھا۔ اپنے کمرے میں گیا تو وہاں تم سوئی ہوئی تھیں۔ وہ واپس آگیا، میں تمہیں جگانا چاہتی تھی مگر اس نے منع کر دیا اندر جانے سے۔ اس نے کہا کہ وہ کہیں اور سو جائے گا۔ میں نے اسے ایک کمرہ کھول دیا مگر کمبل وغیرہ سارے اسٹور میں تھے پھر میں نے اسے اپنا کمبل دے دیا اور خود تمہارے کمرے سے کمبل لے آئی۔”
نانو سلاد بناتے ہوئے اسے بتا رہی تھیں۔
۔۔۔۔۔
”میں ویسے ہی اس کے کمرے میں گئی تھی پھر پتہ نہیں، کب مجھے نیند آگئی۔ مجھے کیا پتہ تھا وہ آج ہی آجائے گا، لیکن وہ آیا کیسے ؟”
“ٹیکسی پر آیا ہے!”
”اب کہاں ہے؟”
”ابھی سویا ہوا ہے!”
”کہاں؟”
”میرے کمرے کے ساتھ والے کمرے میں ، اب تم اس کو جگا نے مت پہنچ جانا۔”
”نہیں نانو! میں کیوں اسے جگاؤں گی؟”
وہ کچھ شرمندہ ہو ئی تھی۔
”ویسے وہ کب اٹھے گا؟”
کچھ دیر بعد اس نے پوچھا تھا۔
”پتہ نہیں لیکن میرا خیال ہے لنچ تک اٹھ ہی جائے گا۔ اسی لئے میں لنچ پر اس کے لئے خاص طور پر ڈشز تیار کر وا رہی ہوں۔”
نانو نے اسے بتایاتھا۔
۔۔۔۔۔۔
”یونیورسٹی کا ٹائم تو نکل گیا ہے، اب تم منہ ہاتھ دھو لو ، کپڑے چینج کرو اور آکر کچھ کھالو۔”
نانو نے اس سے کہاتھا۔ وہ سر ہلاتی ہوئی کچھ مسرور سی اپنے کمرے میں آگئی تھی۔
پندرہ منٹ میں وہ نہا دھو کر وہ دوبارہ کچن میں گئی تھی۔
”نانو! میں اب لنچ ہی کروں گی ، ابھی کچھ کھالیا تو پھربھوک نہیں رہے گی۔”
اس نے آتے ہی اعلان کیا تھا۔
”ٹھیک ہے مت کھاؤ۔”
نانو نے اصرار نہیں کیاتھا۔
”آپ نے عمر کے ساتھ باتیں کی تھیں؟”
اس نے بڑی دلچسپی سے پوچھاتھا۔
”نہیں!”
”کیوں؟”
”بھئی کیا باتیں کرتی ، ساڑھے چار بجے تو وہ بے چارہ آیا تھا اور میں اس وقت اس سے کیا باتیں لے کر بیٹھ جاتی۔”
نانو کسٹرڈ کی گارنشنگ کرتے ہوئے کہہ رہی تھیں۔
”کیسا لگ رہا تھا؟”
علیزہ نے اشتیاق سے پوچھاتھا۔
” He has always been handsome!”(وہ ہمیشہ سے ہینڈسم ہے ۔)
نانو نے فخریہ انداز میں کہاتھا۔
”نانو میں اس لئے پوچھ رہی تھی کہ وہ پہلے سے کچھ بدلا ہوا ہے یا نہیں۔”
”علیزہ !ابھی اٹھ جائے گا تو دیکھ لینا کہ بدلا ہے یا نہیں!”
نانو نے مسکراتے ہوئے کہاتھا۔
۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔
