Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 46

امربیل از عمیرہاحمد
۔۔۔۔
قسط نمبر 46
۔۔۔۔۔
باب 46

وہ اس دن فیروز سنز سے کچھ کتابیں لینے گئی تھی۔ شہلا اس کے ساتھ تھی۔ کتابیں دیکھتے ہوئے وہ دونوں مختلف حصوں کی طرف بڑھ گئیں۔
وہ ایک کتاب کا فلیپ پڑھنے میں مصروف تھی جب اس نے اپنی پشت پر ایک آواز سنی۔کسی نے اس کا نام لیا تھا۔ بے اختیار اس نے پلٹ کر دیکھا اور چند لمحوں کے لئے ساکت رہ گئی۔ وہ جنید ابراہیم تھا۔ فوری طور پر اس کی سمجھ میں نہیں ایا کہ وہ اسے کیا رسپانس دے۔
وہ اب مسکراتا ہوا اس کی طرف آرہا تھا۔ وہ کوشش کے باوجود مسکرا نہیں سکی۔ گردن موڑ کر اس نے ہاتھ میں پکڑی کتاب کو بند کیا اور واپس رکھ دیا۔
جنید تب تک اس کے قریب پہنچ چکا تھا۔ رسمی سی سلام دعا کے بعد اس نے علیزہ سے کہا۔
”مجھے توقع نہیں تھی کہ آج آپ سے یہاں ملاقات ہو گی۔”
وہ سپاٹ چہرے کے ساتھ اسے دیکھتی رہی۔ چند ہفتے پہلے بھوربن میں اس کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی گرم جوشی یک دم ہی کہیں غائب ہو گئی تھی۔ جنید نے اس تبدیلی کو فوراً محسوس کر لیا تھا۔ اس کے انداز و اطوار میں خاصی سرد مہری تھی۔ وہ قدرے خفیف ہو گیا۔
”ہاں مجھے اپنا وقت ضائع کرنے کا خاصا شوق ہو رہا ہے آج کل… میں جگہ جگہ اس طرح کی سرگرمیوں میں ضائع کرتی پھر رہی ہوں۔”
جنید سمجھ نہیں سکا، وہ کس سرگرمی کا ذکر کر رہی ہے۔
اس نے ایک کتاب کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے کہا۔
”اچھی کتابوں کی تلاش کرنا کوئی غیر مناسب سرگرمی نہیں ہے، نہ ہی ایسی سرگرمی ہے جس پر کوئی وقت ضائع کرنے کا لیبل لگا سکے۔”
اس نے لا محالہ یہی اندازہ لگایا کہ وہ اپنے وہاں آنے کے بارے میں بات کر رہی تھی۔ علیزہ نے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔ جنید کے چہرے پر اتنی سنجیدگی تھی کہ اسے بے اختیار عجیب سی شرمندگی ہوئی۔
”شاید میں واقعی ہر قسم کے ادب آداب بھولتی جا رہی ہوں۔” اس نے دل میں سوچا۔
”آپ بھوربن سے کب آئے؟” وہ بمشکل اپنے چہرے پر ایک نمائشی مسکراہٹ لائی۔
”کافی دن ہو گئے۔” جنید کو اس کے چہرے پر مسکراہٹ ابھرتی دیکھ کر عجیب سی تسلی ہوئی۔
”آپ کا کام ختم ہو گیا؟”
”نہیں، مکمل طور پر تو نہیں… مگر بڑی حد تک۔”
”دوبارہ کب جا رہے ہیں؟”
”ابھی فوری طور پر تو نہیں جاؤں گا… کچھ عرصہ کے بعد چکر لگاؤں گا۔”
وہ خاموش ہو گئی… اور کیا سوال کیا جائے، کسی ایسے شخص سے جس کے لئے آپ کے پاس کوئی حقیقی سوال نہ ہو۔ وہ سوچ میں گم تھی۔
اس کا اندازہ تھا کہ جنید اب اس سے اپنے پرپوزل کے بارے میں بات ضرور کرے گا۔… اس کا اندازہ درست ثابت نہیں ہوا۔ وہ بھی اب خاموش تھا۔ شاید وہ خود بھی سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ وہ علیزہ سے کیا بات کرے یا پھر علیزہ کے تاثرات نے اسے کچھ محتاط کر دیا تھا۔
”آپ اکیلی آئی ہیں؟” چند لمحوں کے بعد جنید نے پھر خاموشی کو توڑا۔
”نہیں۔ میری فرینڈ میرے ساتھ ہے۔” علیزہ نے شہلا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
جنید نے گردن موڑ کر اس طرف دیکھا، جہاں وہ اشارہ کر رہی تھی پھر اس نے مسکراتے ہوئے روانی میں کہا۔
”شہلا!”
وہ منہ کھولے جنید کو دیکھنے لگی… پلکیں جھپکے بغیر… کسی بت کی طرح…
جنید نے گردن موڑ کر اسے دیکھا اور پھر بے اختیار اسے اپنی غلطی کا احساس ہوا۔
”میری بہن بھی میرے ساتھ آئی ہوئی ہے۔” اس نے بہت تیزی سے بات کا موضوع بدلتے ہوئے کہا۔
”وہ… وہاں ” اس نے کچھ فاصلے پر کھڑی ایک لڑکی کی طرف اشارہ کیا جس کے ساتھ پانچ چھ سال کا ایک چھوٹاسا بچہ بھی کھڑا تھا۔
علیزہ نے اس لڑکی کی طرف دیکھنے کی کوشش نہیں کی۔ وہ اب بھی پلکیں جھپکائے بغیر جنید کو گھور رہی تھی۔
جنید اس کے تاثرات سے کچھ گڑ بڑا گیا۔
”آپ میری فرینڈ کا نام کیسے جانتے ہیں؟” اس نے جنید کے چہرے پر نظریں جماتے پوچھا۔
”میں… میں نے کچھ دیر پہلے آپ کو اس کا نام پکارتے سنا تھا۔”
وہ الجھی ہوئی نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔ اس کے چہرے پر اب کچھ دیر پہلے کی گھبراہٹ کی بجائے اطمینان تھا۔
علیزہ نے ایک بار پھر گردن موڑ کر شہلا کو دیکھاپھر اس نے کندھے اچکا دیے۔
”آپ پریشان کیوں ہو گئی ہیں؟” جنید نے اب اس سے پوچھا۔
”نہیں میں پریشان تو نہیں ہوئی۔”
”تو پھر آپ کی فرینڈ کا نام لینے پر آپ کو اتنی حیرت کیوں ہوئی؟” جنید نے دلچسپی سے کہا۔
”کیا یہ حیرت کی بات نہیں ہے کہ کوئی مجھے ٹھیک سے جانتا بھی نہ ہو اور میری فرینڈز کو پہچانتا ہو۔”
”میں نے آپ کو بتایا…میں آپ کی فرینڈ کو نہیں پہچانتا… صرف آپ کے منہ سے میں نے ان کا نام سنا تھا… وہی دہرا دیا۔” جنید نے معذرت خواہانہ مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔

”لیکن جہاں تک آپ کو جاننے کا تعلق ہے تو۔۔۔” وہ بات کرتے کرتے رکا۔ ”تو آپ کا یہ اندازہ غلط ہے کہ میں آپ کو جانتا نہیں ہوں… ہم بھوربن میں اچھا خاصا وقت اکٹھے گزار چکے ہیں۔” اس نے جیسے علیزہ کو یاد دہانی کروائی۔ ”اور… مجھے لگتا ہے ، میں آپ کے بارے میں بہت کچھ جاننے لگا ہوں۔”
علیزہ کا دل چاہا وہ اس سے کہے۔ ”آپ مجھے اتنا بھی نہیں جاننے لگے کہ مجھے پرپوز کرنے لگیں۔” مگر کچھ کہنے کے بجائے اس نے صرف مسکرانے پر اکتفا کیا۔
”میں آپ کو اپنی بہن کے بارے میں بتا رہا تھا۔” جنید نے ایک بار پھر بات شروع کرتے ہوئے کہا۔ ”آئیں، میں آپ کو ان سے ملواؤں۔” جنید نے ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے کہا۔
”نہیں١ میں پھر کبھی ان سے مل لوں گی۔” علیزہ نے اپنی جگہ سے ہلے بغیر کہا۔ ” اس وقت مجھے کچھ جلدی ہے۔”
جنید نے اسے غور سے دیکھا۔ اس کے چہرے پر انکار صاف تحریر تھا۔
”چند منٹوں کی بات ہے۔ زیادہ وقت نہیں لگے گا۔”
”میری فرینڈ کو بھی بہت جلدی ہے، ہمیں گھر سے نکلے خاصی دیر ہو گئی ہے۔”
”آپ کی فرینڈ اس وقت کتابیں دیکھنے میں مصروف ہے… جب تک وہ کچھ خریدیں اور بل بنوائیں تب تک آپ رابعہ سے مل سکتی ہیں۔”
جنید نے ایک بار پھر کہا۔ علیزہ شش و پنج کا شکار تھی۔
”لیکن میں اصرار نہیں کروں گا… اگر آپ کو پسند نہیں ہے تو ٹھیک ہے۔ ” جنید نے نرمی سے کہا۔
”میں مل لیتی ہوں۔” اس نے ایک گہری سانس لے کر قدم آگے بڑھا دیا۔
”رابعہ! یہ علیزہ سکندر ہیں۔” رابعہ کے قریب جاتے ہی جنید نے تعارف کروایا مگر رابعہ کے چہرے پر پہلے سے موجود شناسا مسکراہٹ نے علیزہ کو بتا دیا تھاکہ یہ تعارف رسمی ہے… وہ اس کے بغیر بھی علیزہ کو جانتی… اور شاید پہچانتی بھی تھی… کیسے؟ اسے حیرانی تھی۔
رابعہ نے چند قدم آگے بڑھ کر اس کے گالوں کو خیر مقدمی انداز میں چوما۔
”اور یہ میری بڑی بہن ہیں رابعہ… یہ ان کا بیٹا ہے صالح۔”
”جنید نے کافی ذکر کیا تھا تمہارا؟” رابعہ اب بڑی بے تکلفی سے کہہ رہی تھی۔ ”مجھے بہت خواہش تھی تم سے ملنے کی۔” وہ مسکراتے ہوئے کہہ رہی تھی۔
”جنید نے آپ کا ذکر بھی کیا تھا… کچھ ہفتے پہلے… جب ہم بھوربن میں ملے تھے۔ ”علیزہ نے کہا۔
”میں نے تو جنید سے جب بھی کہا تھا کہ تمہیں میرے گھر کھانے پر لائے… تم اسلام آباد میں ٹھہری تھیں نا!… میری رہائش وہیں پر ہے۔”
علیزہ اسے دیکھتے ہوئے سوچ رہی تھی۔ وہ جنید سے بہت زیادہ مشابہت رکھتی ہے۔ ”میں تمہیں بہت اچھی کمپنی دے سکتی تھی… تمہاری بوریت خاصی کم ہو جاتی… خود میرا بھی کچھ وقت اچھا گزرجاتا۔”
”میں بھوربن سے آنے کے بعد زیادہ دن اسلام آباد میں نہیں ٹھہری۔ تیسرے دن ہی واپس آگئی تھی اس لئے یہ ہو نہیں سکتا تھا۔” علیزہ نے مسکراتے ہوئے کہا۔
”نہیں بھئی! میں بھوربن جانے سے پہلے کی بات کر رہی ہوں… تم دوتین ماہ رہی ہو وہاں۔” علیزہ مسکرائی۔
”پہلے آپ سے ملاقات کیسے ہوسکتی تھی۔ میں تو جنید کو جانتی بھی نہیں تھی۔”
علیزہ نے جنید اور رابعہ کو ایک لمحے کیلئے ایک دوسرے کی طرف دیکھتے پایا پھر اگلے ہی لمحے جنید نے کہا۔
”ہم لوگ صالح کی فرمائش پر اب آئس کریم کھانے کے لئے جائیں گے… ہمیں بہت خوشی ہو گی اگر آپ اور آپ کی فرینڈ بھی ہمیں جوائن کریں۔”
بات کا موضوع ایک بار پھر بدل گیا تھا… یہ دانستہ طور پر ہوا تھا یا نادانستہ طور پر… علیزہ اندازہ نہیں کر سکی۔
”مجھے اور شہلا کو واپس جانا ہے… میں نے آپ سے پہلے بھی کہا تھا کہ ہمیں جلدی ہے… کافی دیر سے نکلے ہوئے ہیں گھر سے۔” علیزہ نے معذرت خواہانہ انداز میں کہا۔
”اگر تھوڑا سا وقت تم میرے ساتھ گزار دو تو مجھے بہت اچھا لگے گا۔” اس بار رابعہ نے کہا۔
”میں ضرور گزارتی… اور مجھے انکار کرتے ہوئے شرمندگی بھی ہو رہی ہے مگر یہ ممکن نہیں ہے۔”
”کوئی بات نہیں… آپ کے پاس واقعی جینوئن ایکسکیوز ہے۔” جنید نے اس کی معذرت قبول کرتے ہوئے کہا۔
وہ انہیں خدا حافظ کہہ کر جب واپس شہلا کی طرف آئی تو وہ پہلے ہی اس کی طرف متوجہ تھی۔
”یہ کون تھے؟” اس نے علیزہ کے قریب آتے ہی پوچھا۔
”تم یہاں سے چلو… پھر بتاتی ہوں۔” علیزہ نے اس کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا۔
”مگر مجھے تو ابھی کچھ اور کتابیں دیکھنی ہیں۔”
”وہ تم دوبارہ کسی دن دیکھ لینا…فی الحال یہاں سے چلو۔” علیزہ نے اس کا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا۔
جنید اور رابعہ ابھی وہیں تھے اور وہ نہیں چاہتی تھی کہ ان سے جھوٹ بولنے کے بعد اب وہ شہلا کے ساتھ زیادہ دیر ان کے سامنے ٹھہرے۔
”تمہیں جلدی کس بات کی ہے؟” شہلا نے قدر حیرانی سے کہا۔
”تم باہر چلو، میں تمہیں بتا دیتی ہوں۔” اس نے شہلا کے ساتھ باہر نکلتے ہوئے کہا۔
بل ادا کرنے کے بعد شہلا نے اپنی کتابیں لیں اور دونوں باہر نکل آئیں۔ ڈرائیونگ سیٹ سنبھالتے ہی شہلا نے علیزہ سے پوچھا۔
”اب بتاؤ… کیا ہوا ہے… اتنی افراتفری میں مجھے کیوں لائی ہو؟”
”میں ان لوگوں کو Avoidکرنا چاہتی تھی اس لئے۔” علیزہ نے اطمینان سے کہا۔
”کیوں؟ ” شہلا نے گاڑی اسٹارٹ کرتے ہوئے حیرت سے کہا۔
”وہ آئس کریم کھانے کے لئے ساتھ چلنے کی آفر کر رہے تھے، اس لئے۔”
”تھے کون یہ؟” وہ گاڑی کو پارکنگ سے نکالتے ہوئے بولی۔
”اس لڑکے کا نام جنید ابراہیم ہے۔” علیزہ نے کچھ سوچتے ہوئے کہنا شروع کیا۔ ”چند ہفتے پہلے بھوربن میں ملاقات ہوئی تھی میری اس کے ساتھ۔ آنٹی سجیلہ کے کسی جاننے والوں کا بیٹا ہے۔”
”پھر؟”
علیزہ چند لمحوں کے لئے خاموش رہی۔
”میرے لاہور واپس آنے سے پہلے اس کے گھر والے نانو کے پاس آئے تھے… پرپوزل لے کر۔”
”پھر نانو نے کیا کہا… زیجیکٹ کر دیا؟” شہلا نے قیاس آرائی کی۔
”نہیں… انہوں نے سوچنے کے لئے کچھ وقت مانگا ہے۔”
وہ اب ونڈ اسکرین سے باہر سڑک پر نظریں جمائے ہوئے تھی۔ شہلا نے غور سے اس کا چہرہ دیکھا۔
”نانو نے تم سے بات کی ہو گی۔”
”ہاں۔”
”اور تم نے حسب معمول انکار کر دیا ہو گا۔” علیزہ خاموش رہی۔
شہلا نے ایک گہرا سانس لیا۔ ”کیا کرتا ہے یہ؟”اس کا اشارہ جنید کی طرف تھا۔
”آرکیٹکٹ ہے۔”
”اس کے ساتھ کون تھا؟”
”اس کی بڑی بہن اور بھانجا۔”
”مجھے دیکھنے میں اچھا لگا ہے۔ سوبر اور ڈیسنٹ ۔” شہلا نے رائے دی۔ ”تمہیں کیسا لگا؟”
اس بار علیزہ نے گردن موڑ کر کچھ ترشی سے پوچھا۔
”کس حوالے سے…؟” ”تمہارا کیا اندازہ ہے۔ میں کس حوالے سے پوچھ رہی ہوں۔”
”جس حوالے سے تم پوچھ رہی ہو۔ میں نے وہ حوالہ ذہن میں رکھ کر اس پر غور نہیں کیا۔ ویسے وہ اچھا ہے۔ بہت سے دوسرے لوگوں کی طرح۔” اس نے دو ٹوک انداز میں کہا اور ایک بار پھر ونڈ اسکرین سے باہر دیکھنے لگی۔
گاڑی میں کچھ دیر خاموشی رہی پھر شہلا نے اس سے کہا۔
”تمہیں آخر پریشانی کس بات کی ہے… تم کو یہ پرپوزل قبول نہیں ہے، انکار تم کر چکی ہو۔ نانو یہ انکار ان تک پہنچا دیں گی۔ بات ختم ہوئی۔”
”میں نے انکار نہیں کیا۔” شہلا نے بے اختیار گردن موڑ کر اسے دیکھا۔ وہ اب بھی باہر سڑک پر نظریں جمائے تھی۔
”انکار نہیں کیا… تمہیں یہ پرپوزل قبول ہے؟”
”میں نے یہ تو نہیں کہا۔”
”یہ کیا بات ہوئی… تم نے انکار نہیں کیا تو اس کا واضح مطلب تو یہی ہے کہ وہ تمہیں پسند ہے یا کم از کم تمہیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے مگر اب تم کہہ رہی ہو کہ تم نے اقرار بھی نہیں کیا۔” شہلا کچھ الجھ گئی۔
”میں نے نانو کو عمر سے بات کرنے کے لئے کہا ہے۔”
” کیا بات کرنے کے لئے؟”
علیزہ نے گردن موڑ کر شہلا کی طرف دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ ”It’s very humiliating. لیکن میں نے ان سے کہا ہے کہ وہ عمر سے میرے پرپوزل کے بارے میں بات کریں۔۔۔” وہ ایک لمحہ کے لئے رکی۔ ”یہ بہت تکلیف دہ ہے مگر میرے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے… میں آخر کب تک عمر کے لئے ہر پرپوزل کو ریجیکٹ کرتی رہوں گی۔”
وہ ہونٹ بھینچتے آنسوؤں کو روکنے کی کوشش کر رہی تھی۔
”نانو نے عمر کو لاہور بلوایا ہے…وہ ابھی کچھ مصروف تھا۔ اس لئے نہیں آسکا… چند دن تک آجائے گا… تب نانو اس سے بات کریں گی۔” اس نے شہلا کو بتایا۔
”تمہیں پتا ہے جوڈتھ پاکستان آئی ہوئی ہے…؟”
پانچ چھ سال پہلے جب جوڈتھ ایک دو بار پاکستان آئی تھی، تب نانو کے گھر پر شہلا سے بھی اس کی چند ملاقاتیں ہوئی تھیں۔ بعد میں بھی علیزہ، جوڈتھ کے بارے میں اسے خاصی تفصیلات بتاتی رہی مگر اب اچانک اس کے منہ سے جوڈتھ کا نام سن کر اسے حیرت ہوئی تھی۔
”تمہیں کیسے پتا ہے؟” علیزہ نے بے اختیار کہا۔
”اس کا مطلب ہے ، تم اس کی یہاں موجودگی سے بے خبر نہیں ہو۔”
وہ شہلا کی بات پر چپ سی ہو گئی۔ ”دونوں پچھلے کئی دنوں سے لاہور میں ہیں۔ میں تمہیں بتانا نہیں چاہتی تھی۔ میرا خیال تھا۔ تم پریشان ہو گی۔” وہ چند لمحوں کے لئے خاموش ہوئی۔ ”ایک فائیو اسٹار ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے ہیں دونوں ایک ہی روم میں … مسٹر اینڈ مسز عمر جہانگیر کے طور پر۔”
علیزہ نے فق ہوتے چہرے کے ساتھ اسے دیکھا۔ وہ گاڑی ڈرائیو کرتے ہوئے ونڈ اسکرین سے باہر دیکھ رہی تھی۔
”فاروق کچھ دن پہلے اپنے ایک غیر ملکی کسٹمر کو ٹھہرانے گیا تھا وہاں۔” اس نے اپنے بھائی کا نام لیتے ہوئے کہا۔

”اس وقت عمر بھی وہاں ریسیپشن پر چیک اِن کر رہا تھا۔ فاروق سے ملا اور جوڈتھ کا تعارف بھی کروایا… فرینڈ کے طور پر… مگر وہاں چیک ان مسٹر اور مسز عمر جہانگیر کے طور پر کیا۔”
وہ دم بخود اس کا چہرہ دیکھ رہی تھی۔ ”فاروق نے گھر آکر مجھ سے پوچھا تھا عمر کی شادی کے بارے میں … ظاہر ہے، میں نے تو یہی کہنا تھا کہ نہیں ہوئی… پھر اس نے مجھے یہ سب بتایا… پھر پرسوں میں نے ان دونوں کو خود فورٹریس میں دیکھا… اس کا مطلب ہے ابھی تک وہ دونوں یہیں ہیں… اور تم نانو سے کہہ رہی ہو کہ وہ عمر سے تمہارے پرپوزل کے بارے میں بات کریں۔” شہلا نے کچھ استہزائیہ انداز میں اپنی بات ختم کی۔
”عمر نے جوڈتھ سے شادی نہیں کی۔” علیزہ نے بے اختیار کہا۔
”یہ تم کیسے کہہ سکتی ہو؟”
”وہ اگرشادی کرتا تو اس طرح چھپ کر نہ کرتا۔ کھلم کھلا کرتا… اور اگر چوری سے کرتا تو بھی کم از کم نانو کو ضرور بتا دیتا۔”
”ہو سکتا ہے اس نے کسی وجہ سے اپنی شادی کو خفیہ رکھا ہو۔”شہلا نے خیال ظاہر کیا۔
”میں نہیں سمجھتی کہ ایسی کوئی بات ہے… وہ اس طرح چھپ کر شادی کر ہی نہیں سکتا۔”
”ٹھیک ہے اس نے شادی نہیں کی ہو گی… مگر شادی کے بغیر جوڈتھ کے ساتھ اس کا ایک ہی روم میں قیام زیادہ قابل اعتراض بات ہے۔ خاص طور پر اس صورت میں جب تم اس سے شادی کرنا چاہتی ہو۔”
”یہ اس کا ذاتی مسئلہ ہے۔” علیزہ نے کمزور سے لہجے میں کہا۔
”کم آن… ذاتی مسئلہ… تم اس کی زندگی کا ایک حصہ بننا چاہتی ہو اور تم کہہ رہی ہو کہ اتنا بڑا ایشو اس کا ذاتی مسئلہ ہے۔” علیزہ اس بار خاموش رہی۔
”تم نے کبھی ان دونوں کے تعلق کے بارے میں غیر جانب داری سے سوچنے کی کوشش کی ہے؟”
علیزہ نے کوئی جواب نہیں دیا۔
”وہ خود تمہارے بقول وہ دونوں ہائی اسکول میں اکٹھے ہیں… بیس سال تو ہو ہی گئے ہیں ان دونوں کی دوستی کو … اور ایک زمانے میں تمہیں یہ شک بھی تھا کہ عمر اس سے محبت کرتا ہے اور شاید اسی سے شادی کرے گا۔”
”مگر وہ صرف شک تھا… عمر نے اس سے شادی نہیں کی۔” علیزہ نے مداخلت کی۔
”اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ عمر نے ابھی تک کسی سے بھی شادی نہیں کی… اگر وہ شادی کرنے کا فیصلہ کرتا ہے… تو وہ کس کا انتخاب کرے گا… کیا تم بتا سکتی ہو؟”شہلا اسے آڑے ہاتھوں لے رہی تھی۔
”تم عمر پر آج اتنی تنقید کیوں کر رہی ہو ، اس کے لئے میری پسند یدگی تم سے کبھی بھی چھپی نہیں رہی… پہلے تو کبھی تم نے جوڈتھ کو ایشو بنانے کی کوشش نہیں کی۔” علیزہ نے کچھ حیرانی سے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔
”ہاں۔ میں عمر کے لئے تمہاری پسندیدگی سے ہمیشہ سے ہی واقف تھی مگر جوڈتھ اور عمر کی ایک دوسرے کے لئے فیلنگز یا ان کے تعلق کے بارے میں زیادہ نہیں جانتی تھی… مگر اب یہ جاننے کے بعد کہ عمر کے اس کے ساتھ تعلقات صرف دوستی اور محبت کی حد تک نہیں ہیں۔ میں تمہیں یہی مشورہ دوں گی کہ تم پیچھے ہٹ جاؤ۔ عمر تمہارے ساتھ وفادار نہیں ہو سکتا۔”
”میں عمر کے بغیر نہیں رہ سکتی… تم اس کے لئے میری فیلنگز سے اچھی طرح واقف ہو۔” اس نے شہلا سے احتجاج کیا۔
”زندگی صرف فیلنگز کے ساتھ نہیں گزاری جا سکتی۔ فرض کرو۔ تمہاری شادی اس کے ساتھ ہو جاتی ہے اور جوڈتھ مسلسل اس کے ساتھ اس طرح کی دوستی رکھتی ہے تو پھر آپ کیا کریں گی محترمہ…؟ ” شہلا نے استہزائیہ انداز میں کہا۔”
”ایسا نہیں ہو گا۔”
”کیوں تم پر کوئی وحی نازل ہوئی ہے کہ ایسا نہیں ہو گا… اتنے یقین سے کیسے کہہ سکتی ہو تم؟” شہلا نے مذاق اڑایا۔
”عمر ایک دیانت دار شخص ہے… دھوکا نہیں دے گا مجھے۔” اسے اپنی آواز خود کھوکھلی لگی۔
”اور فرض کرو اگر اس نے دیا تو۔۔۔”
”میں ایسی کوئی نا ممکنات فرض نہیں کر سکتی۔” اس نے خفگی سے کہا۔
”زندگی میں بعض دفعہ ناممکنات ہی ڈراؤ نے خواب بن کر سامنے آجاتی ہیں۔”
”شہلا! ہمیں ٹاپک چینج کر دینا چاہئے۔”
”کیونکہ تم عمر کے بارے میں سچ سننے کو تیار نہیں ہو۔ ہے نا؟” اس نے ایک بار پھر اس کا مذاق اڑایا۔
”ضروری تو نہیں ہے کہ عمر کو جوڈتھ سے ہی محبت ہو؟”
علیزہ خاموش ہو گئی۔

”اس کو تم سے محبت نہیں ہے علیزہ… یہ بات تم تسلیم کیوں نہیں کر لیتیں۔” اس بار شہلا کا لہجہ بہت نرم تھا۔
”اسے تم سے محبت ہوتی تو وہ تمہیں اتنے سالوں میں کبھی تو پرپوز کرتا… کبھی تو تم سے اظہارِ محبت کرتا… کبھی تو تمہیں کوئی آس دلاتا… اس نے کبھی ایسا کچھ نہیں کیا۔”
”میں نے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ اسے مجھ سے محبت ہے۔ کیا میں نے آج تک تم سے کبھی یہ کہا ہے؟” وہ شہلا کی بات کاٹ کر بولی۔ ”میں نے تو یہ خواہش کی بھی نہیں کہ اسے مجھ سے محبت ہو… میں تو صرف شادی کی بات کر رہی ہوں… کیونکہ مجھے اس سے محبت ہے۔”
”ون سائیڈ ڈ افیئر”(یک طرفہ محبت)
”ہاں تم اس کو ون سائیڈ کہہ لو… مگر کیا برائی ہے۔ اگر اس چیز کو حاصل کرنے کی کوشش کی جائے جو اچھی لگتی ہے۔ ”
”چیزوں میں اور انسانوں میں بہت فرق ہو تا ہے۔ علیزہ … انسانوں کو کوئی زبردستی اپنے ساتھ نہیں رکھ سکتا۔”
”میں بھی اس سے کوئی زبردستی نہیں کروں گی… پرپوزل کے بارے میں بات کرنا تو کوئی بری بات نہیں ہے۔” اس نے وضاحت کرتے ہوئے کہا۔
”اور اگر اس نے تم سے شادی سے انکارکر دیا تو؟ ”
”تو… پتا نہیں… پھر نانو کسی سے بھی میری شادی کر دیں… میں کچھ نہیں کہوں گی۔”
”اور وہ ”کسی” یقیناً جنید ابراہیم ہو گا۔”
”ہاں… وہ بھی ہو سکتا ہے۔”
”کیا یہ بہتر نہیں ہے کہ تم جنید ابراہیم کو ہی اپنا پہلا انتخاب رکھو۔ کم از کم اس کی زندگی میں کوئی جوڈتھ نہیں ہے۔”
”عمر کے علاوہ کسی دوسرے شخص کے بارے میں سوچنے کے لئے بڑے حوصلے کی ضرورت ہے اور میرے پاس یہ حوصلہ نہیں ہے۔” اس نے بجھی ہوئی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔
”مجھے حیرت ہے علیزہ… چند ماہ پہلے یہ تم ہی تھیں جو عباس اور عمر کے خلاف اتنی باتیں کر رہی تھیں اور اب… تم خود اس کی زندگی کا ایک حصہ بننا چاہتی ہو… اس کی ساری برائیوں کو جانتے ہوئے بھی۔۔۔” شہلا عجیب سے انداز میں ہنسی۔”حالانکہ میرا خیال تھا کہ ان حالیہ واقعات نے عمر کے بارے میں تمہاری فیلنگز کو خاصا بدل دیا ہو گا… لیکن میں غلط تھی۔ ” شہلا کی آواز میں افسوس جھلک رہا تھا۔ ” عمر پر اتنی تنقید کرنے کے بعد بھی تم ابھی تک اس کی محبت میں اسی طرح گرفتار ہو جس طرح پانچ سال پہلے تھیں۔ ایسا نہیں ہونا چاہئے تھا۔”
وہ اندازہ نہیں کر سکی۔ وہ اسے ڈانٹ رہی تھی یا نصیحت کر رہی تھی۔ جو کچھ بھی تھا، اس وقت اسے ناگوار لگ رہا تھا۔
”میری اس کے ساتھ جو جذباتی انوالومنٹ ہے۔ وہ کسی اور کے ساتھ نہیں ہے… میرے لئے اس سے نفرت کرنا ممکن نہیں ہے۔ کم از کم تم تو یہ بات سمجھو۔” اس کے لہجے میں بے بسی تھی۔
”میں نے تمہیں اس سے نفرت کرنے کے لئے نہیں کہا… میں جانتی ہوں۔ تم ایسا نہیں کر سکتیں۔ میں تو صرف یہ کہہ رہی ہوں کہ تم اس کے بارے میں سوچتے ہوئے وقتی طور پر جذبات کو ایک طرف رکھ دو۔ جس آدمی کے ساتھ شادی کرکے زندگی گزارنی ہو۔ اس کے بارے میں صرف جذبات سے کام نہیں لیا جاسکتا۔ بہت سی باتوں کو مدنظر رکھنا پڑتا ہے۔” وہ اب قدرے مدھم آواز میں اسے سمجھا رہی تھی خاص طور پر اس صورت میں جب یہ صرف ون سائیڈڈ لو افیئر ہو۔”
”شہلا ! یہ افیئر نہیں ہے۔” علیزہ نے اس کی بات کاٹ دی۔ ”ہم میں سے کوئی بھی ایک دوسرے کے ساتھ افیئر نہیں چلا رہا… میری اس کے لئے کچھ خاص فیلنگز ہیں… یا تم یہ کہہ لو کہ مجھے اس سے محبت ہے… مگر یہ کسی افیئر کی کیٹگری میں نہیں آتی۔”
”ٹھیک ہے۔ تم جو کہہ رہی ہو۔ میں مان لیتی ہوں… یہ افیئر نہیں ہے… محبت ہے… مگر تم اس کے ساتھ انوالوڈ ہو… اور وہ کسی اور کے ساتھ انوالوڈ ہے… کتنا پر سکون رہ سکتی ہو تم اس طرح کے آدمی کے ساتھ۔”
”شہلا! اس ٹاپک پر بات نہ کرو… تم اس طرح بات کرو گی تو مجھے بہت تکلیف ہو گی۔”
”ہو سکتا ہے ایسا ہی ہو رہا ہو مگر کبھی نہ کبھی تو تمہیں اس تکلیف سے گزرنا ہی ہے۔ میں نہیں کہوں گی… کوئی اور کہے گا… پانی میں نظر آنے والے عکس کو چادر ڈال کر چھپایا نہیں جا سکتا۔” شہلا نے صاف گوئی سے کہا۔ ”تم اپنے لئے فیصلے کرنے میں آزاد ہو۔ میں یا کوئی دوسرا تمہارا ہاتھ پکڑ سکتا ہے نہ ہی تمہاری آنکھوں پر پٹی باندھ سکتا ہے… عمر کے حوالے سے تم نے جو ٹھیک سمجھا وہ کیا… میری صرف اتنی خواہش ہے کہ تم اس کے بارے میں ذرا جذبات سے کام لئے بغیر سوچو۔”
”تم اگر میری جگہ ہوتیں تو کیا کرتیں؟” اس نے گردن موڑ کر شہلا کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔ ” کیا تم بھی وہی نہیں کرتیں جو میں نے کیا ہے… کیا تم بھی اس شخص سے شادی کرنے کی خواہش نہ رکھتیں جسے تم پسند کرتی ہوتیں۔”
”ہاں یقیناً اگر اس کی زندگی میں کوئی جوڈتھ نہ ہوتی تو۔” وہ شہلاکی بات کے جواب میں چند لمحوں کے لئے کچھ نہیں کہہ سکی۔
کچھ کہنے کے بجائے اس نے شہلا کے چہرے سے نظریں ہٹاتے ہوئے سیٹ کی پشت سے سر ٹکا کر آنکھیں بند کرلیں۔
”عمر کے علاوہ دوسروں کے بارے میں بھی غور کرو… عمر سے بہتر لوگ موجود ہیں… ہر لحاظ سے … مجھے جنید بھی اچھا لگا ہے۔”
علیزہ نے آنکھیں نہیں کھولیں۔
”عمرکا کیا پتا… ہو سکتا ہے اس نے واقعی جوڈتھ کے ساتھ شادی کرلی ہو… ہو سکتا ہے، وہ کہہ دے…ہمیشہ کی طرح کہ وہ شادی کرنا ہی نہیں چاہتا۔ ہو سکتا ہے… وہ اگر کچھ عرصہ کے بعد شادی کرے بھی تو جوڈتھ سے ہی… وہ ناقابل یقین شخصیت ہے۔ میں مانتی ہوں تمہاری اس کے ساتھ بہت انڈر اسٹینڈنگ ہے۔ مگر وہ تو کسی کے ساتھ بھی ہو سکتی ہے… یہی حال ایموشنل اٹیچمنٹ کا ہوتا ہے۔ وہ بھی ڈیو لپ کی جا سکتی ہے… یہ ضروری تو نہیں ہے کہ عمر کے علاوہ تم کسی دوسرے کے لئے یہ سب محسوس ہی نہ کر سکو۔” وہ اسی مدھم آواز میں بول رہی تھی۔

”تم سے ایک بات پوچھوں؟” علیزہ نے یک دم آنکھیں کھول کر شہلا سے کہا۔
”ہاں۔”
”تم سے نانو نے کہا ہے کہ مجھ سے یہ سب کہو۔”
شہلا کچھ بول نہیں سکی۔ اسے علیزہ سے ایسے سوال کی توقع نہیں تھی۔ اسے اس طرح چپ ہوتے ہوئے دیکھ کر علیزہ عجیب سے انداز میں مسکرائی۔
”مجھے پہلے ہی اندازہ ہو رہا تھا… آج فیروز سنز بھی تم مجھے جان بوجھ کر لے گئی تھیں… یہ بھی یقیناً تم سے نانو نے کہا ہو گا۔”
”تمہیں کیسے پتا چلا…؟” شہلا نے کچھ خفت سے کہا۔
”شہلا! میں بے وقوف نہیں ہوں… میں اب بچی بھی نہیں رہی… اور تم لوگوں کو بھی یہ بات جان لینی چاہئے۔۔۔” اس کی آواز میں خفگی تھی۔ ”میں بھی حیران تھی کہ جنید کو تمہارا نام کیسے پتا ہے… وہ بھی جھوٹ بول رہا تھا مجھ سے کہ اس نے مجھے تمہارا نام لیتے سنا ہے… جبکہ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میں نے فیروز سنز پر ایک بار بھی تمہارا نام نہیں لیا۔”
”علیزہ! میں۔۔۔” علیزہ نے شہلا کی بات کاٹ دی۔
”کبھی سجیلہ آنٹی مجھے ٹریپ کرکے اس سے ملوا رہی ہیں… کبھی نانو… اور اب تم… میں اس قدر احمق اور امیچور نہیں ہوں جتنا تم لوگ مجھے سمجھ رہے ہو۔” اس کا غصہ اب بڑھتا جا رہا تھا۔
”نانو اگر عمر سے بات کرنا نہیں چاہتی تو نہ کریں مگر تمہارے ذریعے اس کے خلاف میری برین واشنگ کرنے کی کوشش بھی نہ کریں۔”
”علیزہ ایسی بات نہیں ہے میں تمہاری برین واشنگ کرنے کی کوشش نہیں کر رہی ہوں نہ ہی انہوں نے مجھ سے ایسا کچھ کرنے کے لئے کہا ہے۔” شہلا اب کچھ پریشان ہو گئی تھی۔
”اگر ایسی بات نہیں ہے، تو وہ یہ سب کچھ خود مجھ سے کہہ سکتی تھیں۔ تمہارے ذریعے کیوں کہلوایا ہے انہوں نے یہ سب ؟ ”
”ان کا خیال تھا ، میں تمہیں یہ سب کچھ زیادہ بہتر طریقے سے بتا سکتی ہوں۔”
”ہاں عمر کے خلاف باتیں کرکے… جھوٹ بول کر تم مجھے ہر چیز زیادہ بہتر طریقے سے سمجھا سکتی ہوں۔”
وہ مکمل طور پر شہلا سے برگشتہ ہو چکی تھی۔ ”انہوں نے مجھے خود صاف صاف یہ کیوں نہیں بتا دیا کہ وہ عمر سے بات نہیں کریں گی… ایسی من گھڑت کہانیاں سنانے کی کیا ضرورت ہے… عمر اور جوڈتھ کی شادی… نان سینس”
”یہ کوئی من گھڑت کہانی نہیں ہے۔ عمر واقعی جوڈتھ کے ساتھ اس ہوٹل۔۔۔”
علیزہ نے خفگی سے شہلا کی بات کاٹ دی۔” ”Enough is enough… کم از کم میرے سامنے ان دونوں کے حوالے سے کچھ بھی مت کہنا۔”
”تمہیں اگر یقین نہیں آتا تو تم خود وہاں جا کر اس بات کو کنفرم کر لو۔”
”میں اتنی تھرڈ کلاس حرکت کبھی نہیں کر سکتی کہ اس کی جاسوسی کرتی پھروں، تمہیں مجھ سے ایسی باتوں کی توقع تو نہیں کرنی چاہئے۔ ” اس نے سرخ چہرے کے ساتھ شہلا سے کہا۔
”تم میری بات ماننے کو تیار نہیں ہو… میری ہر بات تمہیں جھوٹ لگ رہی ہے۔ پھر میں اس کے علاوہ اور کیا کر سکتی ہوں کہ تمہیں خود تمہاری آنکھوں سے سب کچھ دکھا دوں۔”
علیزہ ناراضی سے کھڑکی سے باہر دیکھتی رہی۔
”اب کم از کم مجھ سے ناراضی تو ختم کر دو۔” شہلا نے اس کا موڈ ٹھیک کرنے کی کوشش کی۔
”تمہیں نانو کا ماؤتھ پیس بننے کے لئے کس نے کہا تھا۔” اس نے ایک بار پھر گردن موڑ کر اکھڑے ہوئے انداز میں اس سے کہا۔
”مجھے تمہاری فکر تھی… اس لئے ۔۔۔”
”کم آن شہلا ! یہ پروا اور فکر جیسے لفظ استعمال مت کرو۔ دوستوں کو کبھی فکر اور پروا کے نام پر حقائق چھپانے اور جھوٹ بولنے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے۔ اس سے دوستی جیسا رشتہ کتنی بری طرح متاثر ہوتا ہے۔ اس کا اندازہ تمہیں نہیں ہے۔۔۔” وہ اس بار سنجیدگی سے کہہ رہی تھی۔ ”تم اب مجھ سے عمر اور جوڈتھ کے علاوہ اور کسی کے بارے میں کچھ بھی کہہ لینا… مگر ان کے بارے میں کچھ نہیں۔ میں اس سارے معاملے سے خود نپٹنا چاہتی ہوں اور اگر میں نانو کو عمر سے بات کرنے کے لئے کہہ سکتی ہوں تو پھر نانو کے سامنے بیٹھ کر یہ سب باتیں بھی ڈسکس کرسکتی ہوں۔” وہ رکی پھر قدرے توقف سے بولی..
”نانو کو مجھے اب واقعی میچور سمجھ لینا چاہئے کہ میں ہر ایموشنل کرائسس کا سامنا کر سکتی ہوں… کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرنے والے فیز سے گزر چکی ہوں میں… بلکہ اسے بہت پیچھے چھوڑ آئی ہوں۔”
”مجھے نانو اور تمہارے خلوص اور میرے لئے اپنی محبت پر شبہ نہیں ہے… مگر تم لوگوں کو عمر کے لئے میری فیلنگز کو بھی تو سمجھنا چاہئے۔ میں اسے صرف کسی سنی سنائی بات کی بنا پر نہیں چھوڑ سکتی۔ یہ میرے لئے ممکن ہی نہیں ہے۔” اس کے لہجے میں اس بار نمایاں بے بسی تھی۔
”جہاں تک جوڈتھ کا تعلق ہے تو وہ تو ہمیشہ سے اس کی زندگی میں رہی ہے… تب بھی جب وہ کئی سال پہلے یہاں ہمارے گھر میں ہمارے ساتھ رہا تھا… اور اگر اسے مجھ میں کوئی دلچسپی نہ ہوتی تو وہ … میرے لئے وہ سب کچھ کیوں کرتا رہتا جو وہ آج تک کرتا آیا ہے… ہر ایک کے لئے تو نہیں کرتا وہ …کچھ تو ہو گا اس کے دل میں میرے لئے… اور مجھ سے یہ نہ کہو کہ یہ محبت نہیں ہے… ہمدردی ہے… یا مروت … یہ کم از کم ان دونوں چیزوں میں سے کچھ بھی نہیں ہے۔” اس نے اپنے ہونٹوں کی لرزش چھپانے کے لئے ہونٹ بھینچ لئے۔ اس کی آنکھیں آنسوؤں سے بھری ہوئی تھیں اور وہ انہیں چھلکنے سے روکنے کی کوشش میں مصروف تھی۔
شہلا نے ہمدردی سے اسے دیکھا پھر اس نے نرمی سے اس کے کندھے پر اپنا بازو پھیلا دیا۔ ”میں تمہاری فیلنگز سمجھ سکتی ہوں… تم اگر واقعی یہ سمجھتی ہو کہ عمر کے علاوہ… تو ٹھیک ہے تم نانو کو کہو۔ ایک بار پھر… کہ وہ اس سے بات کریں… ہو سکتا ہے وہ … واقعی تمہارے لئے کچھ خاص فیلیگز رکھتا ہو… اور اگر ایسا ہوا تو مجھ سے زیادہ تمہارے لئے اور کوئی خوش نہیں ہو گا… بلکہ اگر تم چاہو تو میں خود عمر سے۔۔۔” وہ اب تلافی کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔
٭٭٭
”میں نے آج شام عمر کو بلوایا ہے۔” نانو نے صبح ناشتے کی میز پر علیزہ کو بتایا۔ وہ سلائس پر جام لگاتے ہوئے رک گئی۔ اسے اپنے خون کی گردش اور دھڑکن تیز ہوتی ہوئی محسوس ہوئی۔
وہ شام کے بجائے رات کو آیا تھا۔ علیزہ اس وقت اپنے کمرے میں تھی۔ نانو نے اس کیلئے رات کا کھانا تیار کروایا ہوا تھا اور اس کے آنے کے تھوڑی دیر بعد ہی نانو نے علیزہ کو کھانے کے لئے پیغام بھجوایا۔
”مجھے بھوک نہیں ہے۔” اس نے ملازم سے کہلوایا تھا۔
وہ اس وقت عمر کا سامنا نہیں کرنا چاہتی تھی… نہ ہی وہ کر سکتی تھی۔ اس کے اسلام آباد کے قیام کے بعد وہ آج پہلی بار یہاں آیا تھا۔اس کے آنے کے کچھ دیر بعد اپنے کمرے کی لائٹ بند کرکے وہ اپنے بیڈ پر آکر لیٹ گئی۔ اس کی آنکھوں سے نیند مکمل طور پر غائب تھی۔ نائٹ بلب کی روشنی میں وہ چھت کو گھورتی رہی۔
عمر بارہ بجے کے قریب واپس گیا تھا۔ اس نے اس کی گاڑی کے اسٹارٹ ہونے کی آواز سنی تھی۔ بے اختیار اس کا دل چاہا، وہ اٹھ کر باہر جائے اور نانو سے پوچھے کہ اس نے کیا کہا ہے۔ کیا ہمیشہ کی طرح وہی رٹا رٹایا جملہ۔
”میں شادی کرنا ہی نہیں چاہتا نہ ہی کبھی کروں گا… میں آزاد ہوں اور مجھے اپنی یہ آزادی پسند ہے۔” یا پھر یہ کہ ”میں ابھی شادی کرنا نہیں چاہتا… کچھ سال کے بعد اس کے بارے میں غور کروں گا اور جب شادی کے بارے میں سوچوں گا تو علیزہ کے بارے میں بھی غور کروں گا۔”
اسے کئی سال پہلے نانو کے ساتھ ہونے والی اس کی گفتگو یاد آئی جو اس نے اتفاقاً سن لی تھی اور تب پہلی بار اس نے عمر کے بارے میں بڑی حیرت سے سوچا تھا۔ ”عمر سے شادی…؟ کیا وہ مجھ سے شادی کرنا چاہتا ہے…؟ کیا میں اس سے شادی کر لوں گی۔” ایک ٹین ایجر کے طور پر اسے اس بات پر ہنسی آئی تھی مگر وہ بات اس کے ذہن سے کبھی محو نہیں ہوئی… وہ اس کے لاشعور کا ایک حصہ بن گئی تھی اور وقتاً فوقتاً اس کے ذہن میں ابھرتی رہتی تھی۔
وہ اٹھ کر باہر نانو کے پاس نہیں گئی۔ ”نانو یقیناً اب سونے کے لئے جا چکی ہوں گی۔ اگر وہ سونے کے لئے نہ بھی گئیں تب بھی ہو سکتا ہے، وہ اس موضوع پر مجھ سے اس وقت بات نہ کریں۔ بہتر ہے میں ان سے صبح ہی بات کروں۔”
اس نے آنکھیں بند کرتے ہوئے سونے کی کوشش شروع کر دی۔ یہ کام خاصا مشکل تھا مگر وہ رات کے کسی پہر سونے میں کامیاب ہو ہی گئی تھی۔
٭٭٭

وہ صبح جس وقت بیدار ہوئی نو بج رہے تھے۔ آنکھیں کھولتے ہی جو پہلا خیال اس کے ذہن میں آیا، وہ رات کو عمر کی نانو کے ساتھ ہونے والی ملاقات کے بارے میں تھا۔ ہر روز صبح بیدار ہونے کے بعد کی معمول کی بے فکری یک دم کہیں غائب ہو گئی تھی۔ رات والی بے چینی اور اضطراب نے یک دم اسے اپنی گرفت میں لے لیا تھا۔
ناشتہ کرنے کے لئے وہ جس وقت ڈائننگ ٹیبل پر آئی، اس وقت نانو پہلے ہی وہاں موجود تھیں۔ علیزہ نے ان کے چہرے کو پڑھنے کی کوشش کی، اسے ناکامی ہوئی۔ نانو سنجیدہ نظر آرہی تھیں۔ وہ عام طور پر سنجیدہ ہی رہتی تھیں۔ انہوں نے ہمیشہ کی طرح علیزہ کو ناشتہ پیش کرنا شروع کر دیا تھا۔ وہ اس وقت ان کے منہ سے یہ نہیں سننا چاہتی تھی۔
”آج میں نے تمہارے لئے فرنچ ٹوسٹ بنوائے ہیں۔ تم کھاؤ ، تمہیں پسند آئیں گے۔”
”یا پھرآملیٹ لو گی یا بوائلڈ ایگ یا فرائیڈ ؟”
وہ کم از کم آج صبح ان سے ایسی کوئی بات سننا نہیں چاہتی تھی اور وہ اس سے وہی باتیں کر رہی تھیں۔
وہ اپنے اعصاب پر قابو رکھے ان کی باتیں سنتے ہوئے ناشتہ کرتی رہی۔ وہ منتظر تھی، وہ ابھی خود بات شروع کریں گی۔ نانو نے ایسا نہیں کیا جب اس کا صبر جواب دے گیا تو اس نے سلائس کو سامنے پڑی پلیٹ میں رکھتے ہوئے نانو سے کہا۔
”آپ نے عمر سے بات کی۔”
نانو نے چائے پیتے ہوئے سر اٹھا کر اسے دیکھا پھر کپ پرچ میں رکھ دیا۔ وہ سانس روکے، پلکیں جھپکائے بغیر ان کا چہرہ دیکھتے ہوئے ان کے منہ سے نکلنے والے لفظوں کی منتظر رہی۔
”وہ تم سے شادی نہیں کرنا چاہتا۔”
اس نے تصور بھی نہیں کیا تھا کہ عمر اتنا دو ٹوک انکار کرے گا نہ ہی یہ توقع تھی کہ نانو اس دوٹوک انکار کو اسی طرح کسی لگی لپٹی کے بغیر اس کے سامنے پیش کردیں گی۔
”کیوں؟” زندگی میں کبھی ایک لفظ بولنے کے لئے اسے اتنی جدوجہد نہیں کرنی پڑی تھی جتنی اس وقت کرنی پڑی۔
نانو نے ایک گہرا سانس لیا۔ اب اس کا میں کیا جواب دوں؟”
”کیا عمر سے آپ نے یہ نہیں پوچھا؟”
”پوچھا تھا۔”
”پھر؟”
”اس کے پاس بہت سی وجوہات ہیں۔”
”مثلاً؟”
”وہ خاندان میں شادی نہیں کرنا چاہتا۔”
”یہ تو کوئی وجہ نہیں۔” اس نے بے یقینی سے نانو کو دیکھا۔ ”کیا صرف اس بنا پر وہ مجھے رد کر رہا ہے کہ میں اس کی کزن ہوں۔ میں صرف اس کی کزن ہی تو نہیں ہوں۔”
”میں نے اس سے کہا تھا یہ مگر اس نے کہا کہ اگر اس بات کو نظر انداز کر بھی دیا جائے تب بھی تم سے شادی نہ کرنے کے لئے اس کے پاس بہت سی وجوہات ہیں۔” نانو نے سنجیدگی سے کہا۔
”کیا کہا ہو گا اس نے یہی کہ وہ ابھی شادی نہیں کرنا چاہتا۔” علیزہ نے رنجیدگی سے نانو کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔ ”یا یہ کہا ہو گا کہ و ہ شادی کرنا ہی نہیں چاہتا۔”
وہ ایک لمحہ کے لئے رکی۔
”نانو! میں اس کا انتظار کر سکتی ہوں، دس سال بیس ، تیس سال، ساری زندگی۔”
نانو خاموشی سے اسے دیکھتی رہیں۔
”اور میں یہ ماننے کو تیار نہیں ہوں کہ وہ کبھی شادی نہیں کرے گا کبھی نہ کبھی تو اسے شادی کرنا ہی پڑے گی۔ وہ ساری زندگی اکیلا تو نہیں رہ سکتا پھر اس طرح کی بات کیوں کرتا ہے وہ؟” اس کے لہجے میں اب بے چارگی تھی ۔
”آپ بتائیں یہی سب کہا ہے نا اس نے؟”
”نہیں۔” اس نے حیرانی سے نانو کے چہرے کو دیکھتے ہوئے ان کے منہ سے نکلنے والا لفظ دہرایا۔
”اس نے یہ سب نہیں کہا؟”
”تو پھر اس نے یہ کہا ہو گا کہ میں اس کو ناپسند کرتی ہوں اور اس کی ہر بات پر اعتراض کرتی ہوں اس لئے اسے لگا ہو گا کہ ایسا کوئی رشتہ دیرپا ثابت نہیں ہوسکتا اس نے یہی سب کہا ہے نا آپ سے؟”
نانو نے ایک لمحہ کے لئے اس کا چہرہ دیکھا۔ علیزہ کو محسوس ہوا، وہ بات کرتے ہوئے کچھ متامل تھیں۔
”اس نے مجھ سے ایسا کچھ نہیں کہا کہ وہ ابھی شادی کرنا نہیں چاہتا۔” نانو نے چند لمحوں کے بعد بات شروع کی ”یا پھر کبھی شادی کرنا ہی نہیں چاہتا۔” وہ رکیں ”وہ خود بھی شادی کے بارے میں سوچ رہا ہے اور وہ کہہ رہا تھااکہ ایک دو سال تک وہ شادی کر لے گا۔”
علیزہ نے ٹیبل پر رکھے اپنے ہاتھ کو ہٹا لیا۔ وہ نہیں چاہتی تھی، نانو اس کے ہاتھ کی لرزش دیکھیں مگر اس وقت اس کے چہرے پر کتنے رنگ بدل رہے ہوں گے، یہ وہ جانتی تھی۔
”اس نے مجھ سے کہا کہ اسے تم میں کبھی بھی کوئی دلچسپی نہیں رہی، تم اس کے لئے ایک کزن یا دوست سے زیادہ کچھ بھی نہیں رہی۔” وہ دم سادھے ان کا چہرہ دیکھتی رہی۔ ” اس نے یہ بھی کہا کہ تم اس سے آٹھ سال چھوٹی ہو اور تم اس کے ٹمپرامنٹ کو سمجھ نہیں سکتیں۔”
وہ پلکیں جھپکائے بغیر ان کا چہرہ دیکھ رہی تھی۔

”اس کا خیال ہے کہ اس کے اور تمہارے درمیان کوئی انڈر اسٹینڈنگ نہیں ہے۔ تم امیچور ہو اور خوابوں میں رہنے والی بھی، اس کو اپنی بیوی میں زیادہ Pragmatic (عملی) اپروچ چاہئے جو تم میں نہیں۔”
نانو چند لمحوں کے لئے رکیں اور پھر انہوں نے علیزہ سے نظریں چراتے ہوئے کہا۔
”اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ وہ جوڈتھ میں انٹرسٹڈ ہے۔ اس کی جوڈتھ کے ساتھ انڈر سٹینڈنگ ہے اور اس کا خیال ہے کہ ایک دو سال میں جب وہ شادی کرے گا، تو جوڈتھ سے ہی کرے گا وہ اس بات پر حیران ہو رہا تھا، کہ میں تمہارے پرپوزل کے بارے میں اس سے بات کر رہی تھی۔ اسے تو ایسی کوئی توقع ہی نہیں تھی کہ میں تمہارے لئے اس کے بارے میں سوچوں گی۔ میں نے اسے یہ نہیں بتایا کہ میں تمہارے کہنے پر اس سے بات کر رہی ہوں۔”
نانو خاموش ہو گئی تھیں، شاید اب ان کے پاس کہنے کے لئے کچھ نہیں رہا تھا، بالکل ویسے ہی جیسے علیزہ کے پاس پوچھنے کے لئے کچھ نہیں رہا تھا۔
”میں نے تمہیں پہلے ہی ان سب باتوں کے بارے میں خبردار کیا تھا۔” نانو کا لہجہ بہت نرم تھا۔ شاید وہ علیزہ کی جذباتی کیفیت سمجھ رہی تھیں۔”مگر اب ان سب باتوں کو بھول جاؤ جو ہو گیا اسے جانے دو عمر میں ایسے کون سے سر خاب کے پر لگے ہوئے ہیں اور پھر تمہار ے لئے میرے پاس عمر سے بہتر پرپوزلز ہیں۔” انہوں نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا۔ اس نے رونا شروع نہیں کیا تھا حالانکہ انہیں توقع تھی کہ وہ ان کی باتیں سننے کے بعد… لیکن وہ خاموش تھی نانو کو یوں لگا جیسے وہ شاکڈ تھی۔
وہ شاکڈ نہیں تھی، اسے صرف یقین نہیں آرہا تھا کہ عمر کے بارے میں اس سے اندازے کی اتنی بڑی غلطی ہو سکتی ہے… یا وہ ضرورت سے زیادہ بیوقوف تھی یا پھر خوش گمانی کی حدوں کو چھو رہی تھی جو بھی تھا، اس وقت اسے یونہی محسوس ہو رہا تھا، جیسے شدید سردی کے موسم میں کسی نے اسے گرم کمرے سے نکال کر یخ پانی میں پھینک دیا ہو۔
”Pragmatism (عملی) اور Realism(حقیقت پسند)” اس نے اپنے کانوں سے عمر کی آواز کی جھٹکنے کی کوشش کی، بے یقینی ختم ہونے میں نہیں آرہی تھی۔
”بس کزن اور دوست کیا میں یہ بات مان سکتی ہوں کہ اس کے علاوہ عمر نے مجھے کبھی کچھ اور سمجھا ہی نہ ہو۔”
وہ ماؤف ذہن کے ساتھ ٹیبل پر پڑی ہوئی اپنی پلیٹ کو بے دھیانی کے عالم میں دیکھتی رہی۔
”علیزہ کے ساتھ میری کوئی انڈر سٹینڈنگ نہیں ہے۔”
انڈر سٹینڈنگ کے علاوہ اور تھا ہی کیا جو مجھے تمہاری طرف کھینچ رہا تھا۔” اس کی رنجیدگی بڑھتی جا رہی تھی۔
”ٹمپرامنٹ اور ایج ڈفرنس….! کیا مذاق ہے۔ پچھلے دس سالوں میں تو ان دونوں چیزوں میں سے کسی نے ہمارے تعلق کو متاثر نہیں کیا پھر اب یہ دونوں چیزیں درمیان میں کہاں سے آگئیں؟”
وہ ہونٹ بھینچے ٹیبل کو دیکھتی جا رہی تھی۔
”یا پھر… یا پھر یہ بس جوڈتھ ہے جو کسی خلیج کی طرح تمہار ے اور میرے درمیان حائل ہے اور میری حماقت یہ تھی کہ میں نے اتنے سالوں میں بھی تم دونوں کے تعلق کے بارے میں سنجیدگی سے سوچا بھی نہیں ورنہ شاید بہت سال پہلے… تم میری زندگی سے نکل چکے ہوتے۔ Pragmatism تم ٹھیک کہتے ہو، میں نے کبھی اپنے تصورات کی دنیا سے باہر نکل کر اپنے اور تمہارے تعلق کے بارے میں غور ہی نہیں کیا تھا۔”
”علیزہ !” نانو نے اس کی غائب دماغی کو محسوس کر لیا تھا۔
”مجھے چائے بنا دیں۔” اس نے انہیں دیکھے بغیر کہا۔ نانو کچھ کہتے کہتے خاموش ہو گئیں۔ وہ سلائس کو ایک بار پھر کھانے کی کوشش کر رہی تھی۔ سلائس کے ٹکڑوں کو حلق سے نیچے اتارنے کے لئے بھی اس قدر جدوجہد کی ضرورت ہو سکتی ہے۔ ا س کا اندازہ اسے پہلی بار ہوا تھا۔
نانو نے چائے بنا کر اس کے سامنے رکھ دی۔ سر جھکائے کسی مشین کی طرح اس نے سلائس ختم کیا، چائے پی اور پھر اٹھ کھڑی ہوئی۔
نانو نے اسے روکا نہیں۔ وہ لاؤنج سے نکل گئی۔ نانو نے اس کے جانے کے بعد شہلا کو فون کیا۔ انہوں نے مختصراً اسے فون پر اس کے ساتھ ہونے والی گفتگو بتانے کے بعد آنے کے لئے کہا۔
آدھے گھنٹہ کے بعد جب شہلا اس کے کمرے میں داخل ہوئی تو وہ کارپٹ پر بیٹھی اپنے سامنے ایزل پر رکھی ایک پینٹنگ کو مکمل کرنے میں مصروف تھی۔
اس نے شہلا سے رسمی سی ہیلو ہائے کرنے کے بعد ایک بار پھر کینوس اسٹروک لگانے شروع کر دیئے، شہلا اس سے کچھ فاصلے پر فلور کشن پر بیٹھ گئی۔ علیزہ خاموشی سے کینوس پر اسٹروک لگاتی رہی۔ اس نے شہلا سے کوئی بات کرنے کی کوشش نہیں کی وہ واقعی مصروف تھی۔ مصروف نظر آنے کی کوشش کر رہی تھی یا پھر شہلا کو نظر انداز کرنا چاہتی تھی۔شہلا اندازہ نہیں کر سکی۔ مگر اس کا چہرہ اتنا بے تاثر تھا کہ شہلا کو اس سے بات شروع کرنے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی۔
اسے ویسے بھی اپنے اندازے کے غلط ہونے پر حیرت ہو رہی تھی۔نانو سے بات کرنے کے بعد اس کا خیال تھا کہ جب وہ علیزہ کے پاس آئے گی تو وہ اسے روتا ہوا پائے گی اور وہ سارا راستہ یہی سوچتی ہوئی آئی تھی کہ اسے علیزہ سے
کیا کیا کہنا ہے۔ اسے کس طرح تسلی دینی ہے۔

مگر اب اسے اس طرح دیکھ کر اس کے سارے لفظ ، ساری تسلیاں غائب ہو گئی تھیں۔
”پینٹنگ کیسی لگ رہی ہے؟” اس نے بہت دیر بعد کینوس پر اسٹروک لگاتے لگاتے یک دم ہاتھ روک کر شہلا سے پوچھا۔
”پتہ نہیں۔”
”کیوں تم پینٹنگ کو دیکھ نہیں رہیں؟”
”نہیں۔ میں یہاں پینٹنگ کو دیکھنے نہیں آئی۔” علیزہ اسٹروک لگاتے لگاتے مسکرائی۔
”تم یقیناً یہاں مجھے دیکھنے کے لئے آئی ہو، پھر کیا مجھے یہ پوچھنا چاہئے کہ میں کیسی لگ رہی ہوں؟” وہ جیسے مذاق اڑاتے ہوئے بولی۔
اس کی مسکراہٹ اب غائب ہو گئی تھی مگر وہ اب بھی کینوس کی طرف ہی متوجہ تھی۔ شہلا نے ایک گہرا سانس لیا کم از کم اس کی خاموشی ختم ہو گئی تھی۔
”میں تم کو دیکھنے نہیں آئی، تم سے باتیں کرنے آئی ہوں۔”
”کس چیز کے بارے میں؟” اس کے لہجے میں سرد مہری تھی۔ شہلا کچھ بول نہیں سکی۔
”اوہ! یاد آیا۔ عمر کے انکار پر کچھ تبصرہ کرنا چاہتی ہو۔” وہ اسی طرح کینوس پر اسٹروک لگاتے ہوئے بولی۔
”یا پھر شاید تم یہ جاننا چاہتی ہو کہ ریجیکشن کے بعد میں کیا محسوس کر رہی ہوں۔ بہت اچھا محسوس کر رہی ہوں۔ اپنی اوقات کا پتا چل جانے کے بعد بندہ جتنا ہلکا پھلکا محسوس کر سکتا ہے۔ میں بھی ایسا ہی محسوس کر رہی ہوں۔”
وہ ہاتھ روک کر شہلا کی طرف دیکھتے ہوئے مسکرائی۔ ”وہ کسی نے کہا ہے نا۔ ” وہ رک کر کچھ یاد کرنے لگی۔ ” ہاں یاد آیا۔
Since i gave up hope i feel much better.
تو میں بھی کچھ ایسا ہی محسوس کر رہی ہوں۔”
وہ پلیٹ پر کچھ اور رنگ بنانے لگی۔
”میں نے پہلے ہی تمہیں یہ سب کچھ بتا دیا تھا ، اس تکلیف سے بچانا چاہتی تھی تمہیں۔” شہلا نے نرم آواز میں کہا۔
علیزہ بے اختیار ہنسی۔ ”دنیا میں لڑکیوں سے زیادہ احمق اور کوئی نہیں ہوتا۔ خوش فہمی کا آغاز اور اختتام ہم پر ہی ہوتا ہے۔ ساری عمر ہم محبت کی بیساکھیوں کا انتظار کرتی رہتی ہیں تاکہ زندگی کی ریس شروع کر سکیں۔ ہمیں ہر مرد کے بارے میں خوش فہمیاں رہتی ہیں کہ وہ آئے گا، ہمیں دیکھے گا اور ہمارا ہو جائے گا۔ کوئی ہم سے ہمدردی کرے تو ہمیں خوش فہمی ہونے لگتی ہے۔ کوئی ہمیں سرا ہے تو ہمیں وہ اپنی مٹھی میں قید نظر آنے لگتا ہے۔ کوئی ہمارے ساتھ وقت گزارے تو ہمارے ہوش و حواس اپنے ٹھکانے پر نہیں رہتے۔ ” وہ رکی۔ ”عمر کا خیال ہے مجھ میں میچورٹی نہیں ہے، یہ تو کسی لڑکی میں بھی نہیں ہوتی کبھی لڑکیاں بھی میچور ہو سکتی ہیں؟”
وہ ایک بار پھر ہنسی۔
”ہم میں میچورٹی صرف تب آتی ہے جب ہمیں اس طرح ریجیکٹ کیا جاتا ہے۔ جیسے اب میں میچور ہو گئی ہوں۔” اس نے مسکراتے ہوئے پیلٹ نیچے رکھ دی۔
”اگر دنیا میں بیوقوفی اور حماقت کا کوئی سب سے بڑا ایوارڈ یا میڈل ہوتا تو میں اس کے لئے علیزہ سکندر کا نام ضرور بھجواتی۔” وہ بڑبڑائی ”اور اس سال کم از کم میرے علاوہ کوئی اور اس ایوارڈ کا حقدار ہو ہی نہیں سکتا تھا۔ a die-hard، فول ۔” شہلا خاموشی سے اسے بولتا دیکھتی رہی۔
”عمر کا خیال ہے کہ میری اور اس کی انڈر اسٹینڈنگ ہی نہیں ہے .