Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 34

امربیل از عمیرہاحمد
۔۔۔۔
قسط نمبر 34
۔۔۔۔۔
باب 35

عمر اس کا چہرہ دیکھنے لگا۔
”آپ کریں گے مجھ سے شادی؟”علیزہ کا انداز اس بار پہلے سے بھی زیادہ اکھڑ تھا۔
عمر یک دم ہنس پڑا۔ ”مذاق کر رہی ہو؟”
”نہیں۔ میں مذاق نہیں کر رہی۔ میں بالکل سنجیدہ ہوں اور آپ نے ایسا سوچا بھی کیوں کہ میں آپ سے اس بارے میں مذاق کروں گی۔”
عمر کی مسکراہٹ غائب ہو گئی۔
”بتائیں۔ آپ کریں گے مجھ سے شادی؟” وہ اسی سنجیدگی کے ساتھ پوچھ رہی تھی۔ ”آپ خاموش کیوں ہیں؟”
”ہر سوال کا جواب ضروری ہوتا ہے کیا؟”
”ہاں ضروری ہوتا ہے، کم از کم اس سوال کا جو میں آپ سے پوچھ رہی ہوں۔”
عمر اس کا چہرہ دیکھتا رہا پھر اس نے مستحکم انداز میں کہا۔”نہیں۔”
علیزہ کی رنگت متغیر ہوئی پھر اس کے چہرے پر ایک مسکراہٹ ابھری۔ ”میں جانتی تھی، آپ کا جواب یہ ہی ہو گا۔ میں اتنے ہفتوں سے یہی جاننے کی کوشش کر رہی ہوں کہ ذوالقرنین نے آخر مجھ سے شادی سے انکار کیوں کیا۔ کوئی تو ایسی خامی ہو گی۔مجھ میں کہ اس نے مجھے صرف ٹائم پاس سمجھا۔ مجھ سے مستقل تعلق نہیں جوڑا اور میں نے خودکشی سوچے سمجھے بغیر نہیں کرنا چاہی۔ میں نے سب کچھ سوچ کر وہ پلز لی تھیں۔ آپ جب سے یہاں آئے ہیں۔ مجھے یہی بتاتے رہتے تھے کہ میں بالکل نارمل ہوں، مجھ میں کوئی کمی نہیں ہے۔ مجھ میں بہت ساری کوالٹیز ہیں۔ آپ کو پتا ہے آپ میں ذوالقرنین میں زیادہ فرق نہیں ہے، وہ بھی مجھ سے یہی سب کہتا رہتا تھا۔ بس آپ نے اس کی طرح مجھ سے اظہار محبت نہیں کیا۔” اس نے کہا۔
”علیزہ !”عمر نے کچھ کہنے کی کوشش کی۔
”آپ مجھے بات کرنے دیں، روکیں نہیں۔ مجھ میں کوئی ایسی خامی تو ہو گی جس کو کور کرنے کے لئے آپ اور ذوالقرنین میری آنکھوں پر سب اچھا ہے کی پٹی باندھتے رہے۔”
”ایسا نہیں ہے۔” عمر نے مدھم آواز میں کہا۔
”ایسا ہے۔ مجھ میں کچھ تو ابنارمل ہے… کوئی کمی تو ہے۔”
”تم میں ٹین ایج Impulsivenessکے علاوہ اور کوئی خامی نہیں ہے۔” عمر نے جیسے اسے یقین دلانا چاہا۔
”لوگوں کو میرے بارے میں بات کرنے کا بہت شوق ہے۔” وہ عمر کی بات سنے بغیر بولتی گئی۔ ”چاہے وہ آپ ہوں یا پھر نانو، نانا… ہر ایک نے زندگی کا مقصد علیزہ پر تبصرہ کرنا بنا لیا ہے۔”
عمر کچھ کہتے کہتے رک گیا۔” میں تنگ آگئی ہوں اس سب سے… ہر چیز کی ایک حد ہوتی ہے۔”
”تمہیں ہم لوگوں سے شکایتیں ہیں؟” عمر نے اسے غور سے دیکھتے ہوئے کہا۔
”پتہ نہیں۔۔۔” وہ حد درجہ بیزار نظر آئی۔
”تم کچھ عرصہ کے لئے اپنے پیرنٹس میں سے کسی کے پاس چلی جاؤ۔”
”کیوں جاؤں؟” وہ یک دم ہتھے سے اکھڑ گئی۔
”تمہارا ڈپریشن دور ہو جائے گا… خود کو بہتر محسوس کروں گی تم۔”
”پیرنٹس کے پاس جا کر خود کو بہتر محسوس کروں گی، میں؟… مجھے ان کی ضرورت نہیں ہے… وہ اگر مجھے اپنی زندگی سے نکال چکے ہیں تو میں نے بھی انہیں اپنی زندگی سے نکال دیا ہے… میں دوبارہ کبھی ان دونوں سے ملنا نہیں چاہتی۔”
”ٹھیک ہے ان کے پاس مت جاؤ… کہیں اور چلی جاؤ گرینی کے ساتھ۔”
”مجھے نانو کے ساتھ بھی کہیں نہیں جانا۔””گرینڈ پا کے ساتھ چلی جاؤ۔”
”ان کے ساتھ بھی نہیں جانا۔”” اکیلے جانا چاہتی ہو؟”
”مجھے نہیں پتا…بار بار ایسے نہ کہیں۔” وہ اب اس سے الجھ رہی تھی۔
”کیا پرابلم ہے علیزہ؟ کیوں اس طرح کر رہی ہو؟”
”آپ میں سے کوئی بھی میرے پرابلمز کا اندازہ نہیں کر سکتا کیونکہ آپ میں سے کوئی علیزہ سکندر نہیں ہے۔”
”ٹھیک ہے ہم میں سے کوئی بھی تمہارے پرابلمز کو نہیں سمجھ سکتا کیونکہ ہم علیزہ سکندر نہیں ہیں مگر تم خود اپنے ساتھ کیا کر رہی ہو؟ تم نے یہ سوچا ہے؟”
”میں جو بھی کر رہی ہوں ٹھیک کر رہی ہوں۔”
”تم ٹھیک نہیں کر رہیں… تم اپنی زندگی اور خود کو ضائع کر رہی ہو۔”
”اگر میں ایسا کر رہی ہوں تو مجھے کرنے دیں۔”
”چار پانچ سال بعد تم کہاں کھڑی ہو گی۔کیا تم نے کبھی یہ سوچا ہے؟” عمر کا لہجہ یک دم نرم ہو گیا۔
۔۔۔
”کیا ضروری ہے کہ میں چار پانچ سال کے بعد بھی زندہ ہوں۔ اتنی زیادہ زندگی مجھے کیا کرنی ہے؟” عمر چند لمحے کچھ بول نہیں سکا۔
”یہ زیادہ زندگی ہے؟”
”زیادہ؟… بہت زیادہ… پچھلے اٹھارہ سال سے میں بالکل اکیلی ہوں کیا میری کسی کو ضرورت ہے… میرے پیرنٹس کو، نہیں۔ وہ اپنی زندگی جی رہے ہیں۔… نانو اور نانا کو، نہیں ان کے لئے اور بہت سے لوگ ہیں… شہلا کے پاس بھی اور بہت سے فرینڈز ہیں… ہر شخص کے پاس میرا نعم البدل ہے… پھر میری کیا ضرورت ہے۔” وہ پھر اسی ذہنی انتشار کا شکار نظر آئی۔
”تمہاری زندگی میں یہ Meaninglessnessاس لئے ہے کیونکہ تم اپنی زندگی کو سوچے سمجھے بغیر گزارنے کی کوشش کر رہی ہو… زندگی کو پازیٹو طریقے سے دیکھو گی تو دنیا کے اسٹیج پر تمہیں اپنی جگہ نظر آجائے گی۔ مگر نیگیٹو طریقے سے دیکھو گی تو تم خود کو کہیں بھی دیکھ نہیں سکو گی۔” عمر نے اسے سمجھانے کی کوشش کی۔
علیزہ پلکیں جھپکے بغیر بے تاثر چہرے کے ساتھ اسے دیکھتی رہی۔
”تمہیں ایک بہت لمبی اور اچھی زندگی گزارنی ہے… پر سکون اور با مقصد زندگی۔” عمر بولتا رہا۔ ”کس کس کے لئے روتی رہو گی… اور کب تک… پھر ایک دن تو تمہیں چپ ہونا ہی ہے… مگر تب تم اتنا وقت ضائع کر چکی ہو گی کہ تم کہیں بھی کھڑی نہیں ہو پاؤ گی۔ ذہنی طور پر تم ایک اندھی گلی کے آخری سرے پر ہو گی۔ تب واپسی کا راستہ تم بھول چکی ہو گی، اور تمہارے آگے کوئی رستہ نہیں ہو گا۔ پھر تم کیا کرو گی…؟”
علیزہ اب بھی بے تاثر چہرے کے ساتھ اسے دیکھ رہی تھی۔ عمر اس کے جواب کا انتظار کر رہا تھا۔
”آپ ایک انتہائی عجیب انسان ہیں۔” وہ علیزہ سے اس جواب کی توقع نہیں کر رہا تھا۔ ” آپ مجھے وہ چیزیں سکھانا چاہتے ہیں جو خود آپ کو نہیں آتیں۔” عمر ساکت رہا۔ ”زندگی کے اسٹیج پر آپ کی جگہ کہاں ہے؟ کیا آپ خود یہ جانتے ہیں؟” عمر کچھ بول نہیں سکا۔
”علیزہ اب جیسے اسے کھوجنے کی کوشش کر رہی تھی۔” آپ کو پتا ہے بعض دفعہ مجھے آپ پر کتنا ترس آتا ہے؟”
عمر کا چہرہ سرخ ہوا۔” کتنی ہمدری محسوس ہوتی ہے آپ کے لئے۔” وہ انتہائی بے رحمی سے اس کی شخصیت کی پرتیں اتار رہی تھی۔ ”آپ اور میں دونوں زندگی میں ایک ہی جگہ کھڑے ہیں۔ بس فرق یہ ہے کہ آپ کو خود کو چھپانا آتا ہے… مجھے نہیں آتا۔” عمر کو وہ یک دم بہت میچیور لگی۔ وہ اس کی بات میں مداخلت کئے بغیر اسے دیکھتا رہا۔
”کیا آپ نے خود ہر چیز کے ساتھ کمپرومائز کر لیا ہے؟” وہ اب اس سے پوچھ رہی تھی۔
”کس چیز کے ساتھ؟”
”اپنے پیرنٹس کی علیحدگی کے ساتھ؟” وہ کچھ نہیں بولا۔ علیزہ کے ہونٹوں پر ایک فاتحانہ مسکراہٹ ابھری۔
”اور آپ چاہتے ہیں میں یہ بھول جاؤں کہ میرے پیرنٹس اپنی الگ دنیا بسا چکے ہیں۔” وہ اب اسے تکلیف پہنچانا چاہتی تھی۔ ”آپ دس سال کے تھے جب آپ کے پیرنٹس میں طلاق ہوئی۔ کیا آپ نے کچھ بھی محسوس نہیں کیا؟ کیا آپ کو کوئی ڈپریشن نہیں ہوا۔” وہ اب اس کو چیلنج کر رہی تھی۔ ”پھر جہانگیر انکل کو ناپسند کیوں کرتے ہیں آپ؟… اپنی ممی کی شکل دیکھنے پر تیار کیوں نہیں؟… اپنے سوتیلے بہن بھائیوں کا کبھی نام تک نہیں لیاآپ نے۔۔۔”
”تم مجھ سے کیا جاننا چاہتی ہوں علیزہ؟” عمر کا لہجہ پر سکون تھا۔ علیزہ چڑ گئی۔
”سچ… صرف سچ… وہ سچ جو آج تک آپ نے مجھے نہیں بتایا۔”
”سچ یہ ہے کہ مجھے اپنے ماں باپ سے نفرت ہے۔ … سچ یہ ہے کہ میں آج تک ان دونوں کو معاف نہیں کر سکا۔ سچ یہ ہے کہ میں ان دونوں میں سے کسی کی بھی عزت نہیں کرتا… سچ یہ ہے کہ میرے سوتیلے بہن بھائی میرے لئے کوئی اہمیت نہیں رکھتے… سچ یہ ہے کہ مجھے ان لوگوں کے ہونے یا نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا… سچ یہ ہے کہ سولہ سال پہلے ان دونوں کے درمیان ہونے والی علیحدگی کی یاد ابھی بھی ایک گرم سلاخ کی طرح میرے وجود میں اتر جاتی ہے۔” وہ اب بولتا جا رہا تھا۔
”سچ یہ ہے کہ تمہاری طرح مجھے بھی دنیا میں اپنے ماں باپ سے زیادہ خودغرض کوئی نہیں لگتا۔ سچ یہ ہے کہ تمہاری طرح میں بھی بہت عرصہ یہ سب کچھ بھلانے کے لئے ایک سائیکالوجسٹ کے زیر علاج رہا… سچ یہ ہے کہ تمہاری طرح میں نے ایک بار سلیپنگ پلز کھا کر خودکشی کی کوشش کی۔ سچ یہ ہے کہ اب بھی تمہاری طرح مجھے بھی اپنی زندگی کا کوئی مقصد نظر نہیں آتا… اور سچ یہ بھی ہے کہ اس سب کے باوجود اب میں زندہ رہنا چاہتا ہوں… کیا اتنا سچ کافی ہے یا تم کچھ اور سچ بھی سننا چاہتی ہو؟” اس کا چہرہ یہ سب بتاتے ہوئے اتنا بے تاثر اور لہجہ اتنا مطمئن تھا کہ علیزہ کو یوں لگا جیسے وہ اپنے بارے میں بات کرنے کے بجائے کسی دوسرے کی بات کر رہا ہو… یا پھر کسی ایکٹ کے ڈائیلاگ اسکرپٹ…… دیکھ کر پڑھنے کی کوشش کر رہا ہو۔
”میں تمہیں صرف تکلیف سے بچانا چاہتا ہوں۔” عمر نے سنجیدگی سے کہا۔ ”میں اس رستے سے پہلے گزر چکا ہوں، جانتا ہوں کہاں گڑھا ہے۔ کہاں پتھر… کہاں پیر زخمی ہوسکتے ہیں ۔ کہاں گھٹنوں کے بل گرنے کا خدشہ ہے اور میں چاہتا ہوں تم اس رستہ سے گزرتے ہوئے وہاں ٹھوکر نہ کھاؤ… جہاں میں کھا چکا ہوں۔” وہ چپ چاپ اسے دیکھتی رہی۔
”ہم Lost generationہیں علیزہ… ہمارے پیچھے کیا تھا ہم بھلانا چاہتے ہیں ہمارے آگے کیا ہے ہمارے لئے ڈھونڈنا مشکل ہے۔ مگر کہیں نہ کہیں کچھ نہ کچھ تو ہمارے لئے ہے۔”
اسے عمر کی آواز میں افسردگی محسوس ہوئی۔
۔۔۔
”ہم بڑے گھروں میں رہتے ہیں۔ زندگی میں ان آسائشات سے محظوظ ہوتے ہیں جو اس ملک کی ٩٨ فیصد آبادی کے پاس نہیں ہے… شاندار لباس سے لے کر بہترین اداروں میں ملنے والی تعلیم تک… کوئی بھی چیز ہماری رسائی سے باہر نہیں ہوئی، لیکن جب سوال رشتوں کا آتا ہے تو ہمارے چاروں طرف ایسی تاریکی چھا جاتی ہے جس میں کچھ بھی ڈھونڈنا مشکل ہوتا ہے… لیکن ہمارے لئے اس زندگی سے باہر بھی کچھ نہیں ہے۔ ہمارا مقدر یہی ہے کہ ہم ان ہی رشتوں کے ساتھ رہیں۔ جو ہمیں مصنوعی لگتے ہیں۔” وہ بول رہا تھا۔
”دنیا کا کوئی دروازہ نہیں ہوتا جسے کھول کر ہم اس سے باہر نکل جائیں۔” اس نے علیزہ کا جملہ دہرایا علیزہ نے سر جھکا لیا۔ ”دنیا کی صرف کھڑکیاں ہوتی ہیں جن سے ہم باہر جھانک سکتے ہیں۔ بعض دفعہ یہ کھڑکیاں دنیا سے باہر کے منظر دکھاتی ہیں۔ بعض دفعہ یہ اپنے اندر کے منظر دکھانے لگتی ہیں۔ مگر رہائی اور فرار میں کبھی مدد نہیں دیتیں۔”
وہ جیسے فلسفہ بول رہا تھا۔ علیزہ کو حیرت ہوئی اس نے عمر کو اس طرح کی باتیں پہلے کبھی کرتے نہیں سنا تھا۔
”زندگی ذوالقرنین سے شروع ہوتی ہے نہ اس پر ختم ہوتی ہے… ذوالقرنین تمہارے لئے وہ تجربہ ہے جس پر کبھی تم بہت ہنسو گی… یہ سوچ کر کہ کیا تم اس شخص کے لئے خودکشی کر رہی تھیں۔”
”زندگی میں انسان کو ایک عادت ضرور سیکھ لینی چاہئے جو چیز ہاتھ سے نکل جائے اسے بھول جانے کی عادت۔ یہ عادت بہت سی تکلیفوں سے بچا دیتی ہے۔” وہ اب لا پروائی سے کہہ رہا تھا۔
”انسان چیزیں نہیں ہوتے آپ نے کسی سے محبت کی ہے یا نہیں… لیکن میں یہ ضرور جانتی ہوں کہ آپ کو کسی نے میری طرح ریجیکٹ نہیں کیا ہو گا… اس طرح کسی نے آپ کے احساسات کا مذاق نہیں اڑایا ہو گا۔ جیسا ذوالقرنین نے میرے ساتھ کیا۔”
عمر اس کی بات پر بے اختیار ہنسا۔ ”یہ غلط فہمی دور کر لو علیزہ… مجھے کس کس طرح اور کتنی دفعہ ریجیکٹ کیا گیا ہے۔ اس کا اندازہ تم نہیں لگا سکتی کیونکہ اس کا اندازہ خود مجھے بھی نہیں ہے۔ ریجیکشن انسان کی زندگی کا ایک اہم حصہ ہوتا ہے۔ کبھی ہم کسی کو ریجیکٹ کرتے ہیں پھر کوئی ہمیں ریجیکیٹ کر دیتا ہے۔ اس چیز کے بارے میں اتنا پریشان ہونے کی کیا ضرورت ہے اسے تو بہت نارمل لینا چاہئے۔ تمہیں کسی دن بتاؤں گا کہ مجھے کتنی دفعہ ریجیکٹ کیا گیا۔” وہ اب بالکل نان سیریس نظر آرہا تھا۔ یوں لگ رہا تھا جیسے اب وہ علیزہ کے ساتھ ہونے والی گفتگو سے محظوظ ہو رہا ہو۔
”تم اتنی خوبصورت ہو کہ آج سے پانچ سال بعد ذوالقرنین اور میرے جیسے بہت سے تمہارے لئے لائن میں لگے ہوں گے، اور تب تم کہو گی، نہیں اس قسم کے لوگ نہیں چاہئیں مجھے۔ ان سے بہتر چیز ہونی چاہئے۔ جیسے دکان پر جوتا پسند کرتے ہیں نابالکل ویسے۔” وہ کس کا مذاق اڑا رہا تھا،علیزہ اندازہ نہیں کر سکی۔
”اور علیزہ سکندر کا شوہر ایک بڑا خوش قسمت شخص ہو گا۔”
اس نے بچوں کی طرح سر اٹھا کر دیکھا۔ عمر کے چہرے پر عجیب سی مسکراہٹ تھی۔
”عمر جہانگیرکی بیوی بھی ایک بہت خوش قسمت لڑکی ہو گی۔” اس نے کچھ جھجکتے ہوئے کہا۔
”نہیں عمر جہانگیر کی کوئی بیوی کبھی بھی نہیں ہوگی کیونکہ مجھے شادی میں سرے سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔” عمر نے لاپروائی سے کہا۔
”کیوں؟”
”بس ویسے ہی… مجھے یہ آزادی اچھی لگتی ہے۔ بیوی سے خاصے مسائل پیدا ہو جاتے ہیں اور میرے پاس مسائل کی پہلے بھی کمی نہیں ہے۔”
”یہ تو بڑی فضول بات ہے۔” علیزہ کو اس کی رائے پر اعتراض ہوا۔
”نہیں فضول بات نہیں ہے، حقیقت ہے… میں کسی کی بھی ذمہ داری اپنے سر نہیں لے سکتا اور بیوی ایک بڑی ذمہ داری ہے… بہرحال اس موضوع پر دوبارہ کبھی بات کریں گے… فی الحال تو میں
تمہیں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ میں واپس امریکہ جا رہا ہوں۔”
اس نے بات کا موضوع بدل دیا۔ علیزہ کو ایک دھچکا لگا۔
”کیوں؟”
”انٹرویو دے چکا ہوں میں اب رزلٹ کا انتظار کرنے کے علاوہ کوئی اور کام نہیں ہے مجھے، اور رزلٹ میں چند ماہ لگ جائیں گے۔ پھر ٹریننگ شروع ہوتے ہوتے سات آٹھ ماہ تو لگ ہی جائیں گے اور اتنا لمبا عرصہ میں یہاں تو نہیں رہ سکتا۔ واپس جا کر سکون سے کچھ وقت گزاروں گا۔ وہاں میرے فرینڈز ہیں۔ ہو سکتا ہے چند ماہ کے لئے اسپین چلا جاؤں یا پھر انگلینڈ لیکن کچھ چینج چاہتا ہوں۔ پاکستان میں اتنے ماہ ایک ہی طرح کی روٹین سے تنگ آگیا ہوں۔” اس نے تفصیل سے اپنا پروگرام بتاتے ہوئے کہا۔
”آپ مت جائیں۔”
”کیوں بھئی، کیوں نہ جاؤں۔ تمہیں یاد ہے جب میں یہاں آتا تھا، تو شروع میں تم مجھے رکھنا نہیں چاہتی تھیں۔”
عمر نے اسے یاد دلایا۔ وہ کچھ خجل سی ہو گئی۔
”تب اور بات تھی۔”
”اب کیا ہے۔”
”اب مجھے آپ کے یہاں رہنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے، بلکہ مجھے اچھا لگے گا آپ کا یہاں رہنا۔”
”مجھے واپس آنا ہی ہے بس کچھ ماہ کی بات ہے پھر یہیں لاہور میں ٹریننگ ہو گی اور میں لاہور میں ہی ہوں گا۔” عمر نے اسے تسلی دی۔
”میں آپ کو بہت مس کروں گی۔”
”میرے لئے بڑے اعزاز کی بات ہے یہ کہ علیزہ سکندر مجھے مس کرے گی۔”
”میں سیریس ہوں۔”
”اگر تم سائیکالوجسٹ سے دوبارہ اپنا علاج شروع کرواؤ تو میں وعدہ کرتا ہوں کہ میں جلدی واپس آجاؤں گا۔”
”میں علاج کرواؤں گی۔”علیزہ نے بلا توقف کہا۔
”ٹھیک ہے پھر میں وعدہ کرتا ہوں کہ میں بہت جلد یہاں واپس آجاؤں گا۔” عمر نے اپنا ہاتھ اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔ علیزہ نے کچھ بے جان انداز میں اس سے ہاتھ ملا یا۔
”تو کل ہم دوبارہ پہلے والی علیزہ سے ملیں گے۔ ٹھیک ہے نا؟” عمر نے اٹھتے ہوئے کہا۔ وہ مسکرا دی۔ ”کرسٹی کو تمہارے کمرے میں چھوڑ دوں؟” عمر نے جاتے جاتے پوچھا۔
”نہیں، میں خود اسے لے آتی ہوں۔” علیزہ اپنی کرسی سے اٹھ کھڑی ہوئی۔

جاری ہے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔