Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 43

امربیل از عمیرہاحمد
۔۔۔۔
قسط نمبر 43
۔۔۔۔۔
”تم مجھے یہ بتاؤ کہ میں اس سارے سلسلے میں تمہاری کیا مدد کر سکتا ہوں؟”
ہمایوں شکیل نے ایاز حیدر کے ساتھ ہونے والی لمبی چوڑی گفتگو کے بعد کہا۔ وہ ایاز حیدر کے فرسٹ کزن تھے اور سی بی آر میں ایک اعلیٰ عہدے پر فائز تھے۔ ایاز حیدر کو کچھ دیر پہلے انہوں نے فون کیا تھا۔
پچھلے چند دنوں میں ایاز حیدر بہت سارے رشتہ داروں ، کو لیگز اور دوستوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں تھے۔ اخبارات میں یہ اسکینڈل سامنے آنے پر اور عباس کی اس میں انوالومنٹ کی خبر پاتے ہی یہ روابط شروع ہو گئے تھے۔ ہر ایک انہیں اپنے تعاون اور مدد کا یقین دلا رہا تھا اور ایاز حیدر اچھی طرح جانتے تھے کہ یہ صرف خالی خولی باتیں نہیں ہیں۔ وہ لوگ واقعی ہر قیمت پر ان کے بیٹے کی مدد کرنا چاہ رہے تھے۔
”میں چاہتا ہوں، قاسم درانی کو ہینڈل کرنے میں تم میری مدد کرو۔” ایاز حیدر نے ان کی پیشکش پر کہا۔
”کس طرح کی مدد؟”
”اس کی فیکٹریز کی ٹیکس فائلز کو ذرا ایک بار پھر کھولو… ٹیکس کے معاملے میں ٹریک ریکارڈ کیسا ہے اس کا؟”
ایاز حیدر نے پوچھا۔
ہمایوں نے ایک ہلکا سا قہقہہ لگایا ”کیسا ہو سکتا ہے؟… بھئی ویسا ہی ہے جیسا چیمبر آف کامرس کے کسی بھی عہدے دار کا ہو سکتا ہے… جو جتنا بڑا ٹیکس چور… وہ اتنا ہی بڑا انڈسٹریلسٹ۔”
”یعنی ہاتھ صاف نہیں ہیں اس کے؟”
”مجھے تفصیل کا تو پتا نہیں… مگر میرا خیال ہے، یہ بھی ان انڈسٹریلٹس میں شامل ہے جو پولیٹیکل فیورز کی وجہ سے بچا ہوا ہے… پرائم منسٹر کی پارٹی کو فنڈ میں خاصی لمبی چوڑی رقوم دیتا رہتا ہے۔”
”تم ذاتی طور پر نہیں جانتے اسے؟”
”نہیں… دو چار پارٹیز میں سلام دعا ضرور ہوئی ہے اور چہرے سے واقف ہوں مگر کوئی لمبے چوڑے روابط نہیں ہیں اس کے ساتھ۔” ہمایوں نے بتایا۔
”تمہارا کیا خیال ہے، اس کے ٹیکس ریکارڈ کی چھان بین شروع ہونے پر ”اوپر” سے مداخلت ہو سکتی ہے؟”
”یہ تو طے شدہ ہے… میں نے تمہیں بتایا نا کہ خاصی بڑی رقوم ڈونیٹ کرتا رہا ہے پرائم منسٹر کی پارٹی کو۔”
ہمایوں نے اپنی رائے دی۔
”دیکھو، میں کوئی اس کے ٹیکس کے معاملات ٹھیک کروانا نہیں چاہتا، نہ ہی میں اس کے خلاف تمہارے ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے کوئی کیس کروانا چاہتا ہوں۔”
”تو پھر؟”
”میں صرف فوری طور پر اسے پریشرائز کرنا چاہتا ہوں اور اس کے ساتھ چیمبر کے جو دو سرے لوگ کھڑے ہیں، انہیں تھوڑا سا خوفزدہ کرنا چاہتا ہوں۔” ایاز حیدرنے ان کے ساتھ اپنا لائحہ عمل ڈسکس کرتے ہوئے کہا۔
”انٹریئرمنسٹر نے مجھے بتایا ہے کہ چیمبر کے ایک وفد نے اسی سارے معاملے پر ان تک اپنا احتجاج پہنچانے کے لئے ان سے اپائنٹمنٹ لی ہے… اور مجھے یہ خدشہ ہے کہ یہ اسلام آباد چیمبر کو بھی اس سلسلے میں پریشرائز نہ کرے… ایس کے علیگی اس کے بڑے بیٹے کا سسر ہے۔ ”
”تم اسلام آباد چیمبر کی فکر مت کرو… سلیمان سے بات کر لوں گا میں … وہ وہاں ایسی کوئی چیز نہیں ہونے دے گا… پھر میں بھی ادھر ہی ہوں… پریشانی والی کوئی بات نہیں ہے۔” ہمایوں نے اپنے ایک دوست کا نام لیا جو اسلام آباد چیمبر آف کامرس کا عہدے دار تھا۔
”خالی وفود کے ملنے سے میں پریشان نہیں ہوتا مگر اگر ان لوگوں نے کوئی اسٹرائیک یا جلوس لانچ کرنے کی کوشش کی تو پھر صورتِ حال خاصی خراب ہو گی… میڈیا پہلے ہی سارے معاملے کو بہت ہائی لائٹ کر رہا ہے، انہیں اور فرنٹ پیج اسٹف مل جائے گا۔”
”ایاز! تم خواہ مخواہ پریشان ہو رہے ہو… قاسم خاصا بااثر آدمی ہے۔ مگر جہاں تک ایسی کسی اسٹرائیک کا تعلق ہے تو مجھے یہ ممکن نظر نہیں آتا چیمبر کے الیکشنز قریب ہیں اور قاسم کا مخالف گروپ خاصا مضبوط ہے… عام خیال یہی ہے کہ آنے والے الیکشن میں مخالف گروپ کلین سویپ کرے گا… قاسم ویسے بھی آئندہ الیکشنز میں حصہ نہیں لے رہا… ایسی صورتِ حال میں چیمبر کی کتنی سپورٹ اس کے پاس ہے۔ یہ تو بہت کلیئر ہے۔” ہمایوں نے صورتِ حال کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا۔
”میں رؤف کو کہوں گا کہ وہ اس سلسلے میں مخالف گروپ سے بات کرے… نیازی کا ایک ہلکا پھلکا بیان تو آج کے اخبار میں بھی تھا جس میں اس نے دبے لفظوں میں کہا ہے کہ چیمبر کو کسی کے ذاتی مفادات کے لئے استعمال نہیں ہونا چاہئے اور اس کا اشارہ قاسم کے بیٹے کی موت کے سلسلے میں جانے والے ان وفود کی طرف ہی تھا۔ ”
”لیکن چیمبر کے بہت سے لوگ جو مذمتی بیانات دے رہے ہیں اورقراردیں پیش ہوئی ہیں ان کے بارے میں کیا کہو گے تم؟” ایاز حیدر نے کہا۔
”اوہ یار! بیانات اور قراردادوں کو چھوڑو… اخباری بیانات کی ویلیو کیا ہوتی ہے… آج ان کے چار بیانات شائع ہو رہے ہیں کل کو ہمارے آٹھ شائع ہو جائیں گے… میں نے نیازی کے بیان کی بات اس لئے کہ تمہیں چیمبرکے نام نہاد اتحاد کے بارے میں بتادوں، جس کے بارے میں تم فکر مند ہو… اچھے خاصے اختلافات ہیں قاسم اور نیازی کے گروپ میں اور… جوں جوں وقت گزرے گا یہ بڑھیں گے۔ اس لئے میں نہیں سمجھتا کہ اسٹرائیک یا جلوس کی نوبت آسکتی ہے۔ ” ہمایوں کے لہجے میں لاپروائی تھی۔
”میں پھر بھی یہ چاہتا ہوں کہ قاسم کے ٹیکس ریٹرنز کو ایک بار پھر دیکھا جائے بلکہ اگر کچھ آفسز پر ریڈز ہو جائیں تو اور بھی بہتر ہے۔”
”دیکھو اس کو نوٹس بھی بھجوا دیتا ہوں… ریڈز بھی کروا دیتا ہوں مگر کیا وہ اس پر اور نہیں بگڑے گا؟”
”مجھے اس کے بگڑنے کی پروا نہیں ہے… میں اسے اس حوالے سے پریشان کرنا چاہتا ہوں… نہ صرف اسے بلکہ اس کے حواریوں کو بھی انہیں اپنے ٹیکس ریٹرنز کی فکر شروع ہو جائے گی۔”
”ٹھیک ہے ، میں کل صبح ہی یہ کام کروا دیتا ہوں لیکن یحییٰ کچھ مسئلہ کھڑا کرے گا۔ قاسم درانی کی Pay roll پر ہے وہ اور قاسم سیدھا اسے ہی پکڑے گا۔” ہمایوں نے اس علاقے کے انکم ٹیکس کمشنر کا نام لیا جہاں قاسم کی فائلز جاتی تھیں۔
”یحییٰ کو سارا مسئلہ بتاؤ… اسے کہو کہ یا تو وہ چند دن کی چھٹی لے کر کہیں چلا جائے… یا پھر قاسم کو بالکل نظر انداز کرے، اس کے رابطہ کرنے پر بھی اس سے بات نہ کرے اور اگر مجبوراً اسے قاسم سے بات کرنی پڑ جائے تو پھر ٹال مٹول کرے… قاسم سے کہے کہ سب کچھ اوپر سے ہو رہا ہے۔ اس کے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں ہے۔ ”
”قاسم اسے کچا چبا جائے گا… وہ ہر ماہ لاکھوں دے رہا ہے اسے… ضرورت پڑنے پر یحییٰ اس کے کام نہ آیا تو وہ تو برداشت نہیں کرے گا… میں یہی کرتا ہوں کہ یحییٰ کو چھٹی لینے پر مجبور کرتا ہوں۔” ہمایوں نے کہا۔
”ٹھیک ہے جو بھی چاہو کرو… مگر جلدی کرو… اور مجھے قاسم درانی کے انکم ٹیکس ریٹرنز کی کچھ کاپیز چاہئیں۔”
”کیوں؟”
”پریس کے لئے۔”
”مگر وہ تو کانفیڈنشل ہوتی ہیں، میں تمہیں دے بھی دوں تو پریس والے اعتراض کریں گے انہیں شک ہو گا اور پھر وہ واقعی سمجھیں گے کہ قاسم کے دعوؤں میں حقیقت ہے اور بیوروکریسی اسے پریشان کر رہی ہے۔ انکم ٹیکس والے جان بوجھ کر اس وقت ٹیکس کے معاملے کے گڑے مردے اکھاڑ کر سامنے لا رہے ہیں۔”
”ہمایوں! وہ سب میں دیکھ لوں گا… پریس میں ہیں کچھ میرے جاننے والے… وہ سب کچھ سنبھال لیں گے۔” ایاز حیدر نے لاپروائی سے کہا۔
”اوکے… میں پھر کل تم سے دوبارہ کانٹیکٹ کرتا ہوں اور تمہیں آگے کی صورت حال بتاتا ہوں، لیکن میں تمہیں بتا دوں کہ اس کے ٹیکس کے معاملات اتنے خراب ہیں کہ اسے بچانے کے لئے بیورو کریسی کے اندر کے بہت سے لوگ سامنے آجائیں گے۔ جن کی مدد سے اس نے پچھلے بیس پچیس سال میں ٹیکس بچایا ہے۔ پھر تمہیں بھی خاصی مخالفت کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ ” ہمایوں نے اپنے خدشے سے آگاہ کیا۔
”مجھے اس کے ٹیکس کے معاملات ٹھیک کروانے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ میں صرف اپنے بیٹے اور عمر کو اس معاملے سے نکالنا چاہتا ہوں… قاسم اس تماشے کو ختم کرے… میں اس کے ٹیکس افیئرز کو بھاڑ میں پھینک دوں گا اور یہ چیز تم ان Big wigs کو اچھی طرح سمجھا سکتے ہو۔ ” ایاز نے کہا۔
”تمہارا کیا خیال ہے؟ یہ سب کتنے دن چلے گا؟” ہمایوں نے کچھ سوچتے ہوئے پوچھا۔
”مجھے کوئی اندازہ نہیں یہ تو قاسم اور جسٹس نیاز کے اسٹیمنا پر منحصر ہے۔ ” ایاز حیدر نے کہا۔
”قاسم کو تو اس طرح قابو کر لو گے… لیکن جسٹس نیاز کے لئے کیا کرو گے؟” ہمایوں نے پوچھا۔
”جسٹس نیاز کے بارے میں خاصی خبریں ہیں میرے پاس… تمہارے کافی کام آئیں گی… انصاف ”بیچنے” میں خاصی شہرت حاصل ہے اس آدمی کو۔۔۔”
”اس کا یہ حوالہ میرے لئے بھی پوشیدہ نہیں ہے۔”
”چیف منسٹر کے ساتھ اگلی میٹنگ کب ہے تمہاری؟”
”اس کے بارے میں مجھے پتا نہیں… وہ کوشش کر رہے ہیں کہ مجھے اور جسٹس نیاز کو آمنے سامنے بٹھا کر معاملات طے کروا دیں۔ فی الحال جسٹس نیاز اس پر رضا مند نہیں ہے… اس کامطالبہ ہے کہ پہلے عباس اور عمر کو معطل کیا جائے… اس کے بعد پھر کچھ طے ہو گا… اور میں ان دونوں کا سروس ریکارڈ خراب نہیں ہونے دوں گا… ” ایاز حیدر نے کہا۔
”ڈونٹ وری، کچھ نہیں ہو گا۔ جسٹس نیاز کو ویسے بھی لائم لائٹ میں رہنے کا شوق ہے، ہر دو چار ماہ کے بعد کوئی نہ کوئی ایشو بنایا ہوتا ہے اس نے… اس بار پریس کو پہلے کی طرح استعمال کرے گا تو خاصا پچھتائے گا۔” ہمایوں شکیل نے فون بند کرنے سے پہلے آخری جملہ ادا کیا۔
٭٭٭

اگلے دن شام کی فلائٹ سے وہ اسلام آباد چلی گئی۔ ایاز حیدر کے ڈرائیور نے ائیر پورٹ پر اسے ریسیو کیا اور گھر پہنچنے پر اس نے ایاز حیدر کی بیوی کو اپنا منتظر پایا۔
رسمی علیک سلیک کے بعد وہ جان چکی تھی کہ ایاز حیدر لاہور میں تھے اور انہیں ابھی چند دن وہیں رہنا تھا۔ ایاز حیدر کی بیوی سے بات کرکے اسے یہ اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ پچھلے کچھ دنوں کے واقعات میں علیزہ کی انوالومنٹ کے بارے میں کچھ نہیں جانتی تھیں۔ انہیں صرف اتنا پتا تھا کہ لاہور والے گھر پر کچھ ڈاکوؤں نے حملہ کیا تھا… اور کچھ عرصہ کے لئے نانو اور علیزہ نے وہ گھر چھوڑ دیا ہے… مرمت وغیرہ ہو جانے کے بعد وہ دونوں واپس وہاں چلی جائیں گے۔
وہ علیزہ سے ہونے والے نقصان کے بارے میں پوچھتی رہیں اور اپنے افسوس کا اظہار کرتی رہیں۔
”لاء اینڈآرڈر کا تو تم پوچھو ہی مت… لاہور کے حالات تو خیر پہلے ہی خاصے خراب ہیں مگر اب اسلام آباد بھی محفوظ نہیں رہا… ہر چوری اب پوش علاقے میں ہو رہی ہے۔” وہ چائے پینے کے دوران اسے اپنے بے لاگ تبصرے سے نوازتی رہیں۔
علیزہ کوشش کے باوجود ان کی باتیں نہ توجہ سے سن سکی اور نہ ہی گفتگو میں کوئی خاطر خواہ اضافہ کر سکی۔ پچھلی رات ابھی بھی پوری طرح اس کے حواس پر اثر انداز ہو رہی تھی اور رہی سہی کسر اس وقت اس کی وہاں موجودگی پوری کر رہی تھی۔ ندامت… شرمندگی… بے بسی… پچھتاوا… وہ اپنی فیلنگز کو پہچان نہیں پا رہی تھی۔ نہ ہی انہیں کوئی نام دے پا رہی تھی۔
سجیلہ ایاز کو بہت جلد ہی اس کی غائب دماغی کا احساس ہو گیا۔ ”تم آرام کرو… یقیناً تھک گئی ہو گی۔”
علیزہ نے بے اختیار خدا کا شکر ادا کیا… تنہائی کے علاوہ اسے اس وقت کسی چیز کی ضرورت نہیں تھی۔
اگلے کئی دن وہ اخبار کھنگالتی رہی۔ عمر اور عباس کی بات بالکل ٹھیک تھی۔ کسی بھی اخبار میں جسٹس نیاز کے ساتھ فون پر کئے جانے والے اس کے انکشاف کے بارے میں کوئی بھی خبر نہیں تھی۔ وہ اندازہ نہیں لگا سکی۔ اسے اس سے خوشی ہوئی تھی یا مایوسی۔
اگلے چند دنوں کے بعد ایاز حیدر اسلام آباد واپس آگئے تھے۔ ان کے رویے سے علیزہ کو احساس نہیں ہوا کہ وہ کچھ بھی جانتے تھے۔ وہ کم از کم اس معاملے میں خدا کا شکر ادا کر رہی تھی۔ عمر اور عباس نے اس معاملے میں اسے بچا لیا تھا۔ کم از کم وہ یہی سمجھ رہی تھی۔
ایاز حیدر کے گھر پر وہ ایک بہت لگی بندھی زندگی گزار رہی تھی۔ ایاز اور سجیلہ کی اپنی مصروفیات تھیں۔ وہ دونوں بہت کم ہی گھر پر ہوتے۔ علیزہ سارے دن گھر پر ٹی وی دیکھتے یا کتابیں پڑھتے ہوئے وقت گزارتی… یا پھر لانگ ڈرائیو پر نکل جاتی۔ رات کے وقت سجیلہ اور ایاز حیدر اسے اکثر ان مختلف ڈنرز میں ساتھ لے جاتے جہاں وہ مدعو ہوتے۔ وہ دونوں بہت سوشل تھے اور بہت کم ہی کوئی رات ہوتی جب وہ کہیں نہ کہیں مدعو نہ ہوتے… علیزہ بعض دفعہ خوشی سے ان کے ساتھ جاتی اور بعض دفعہ ایاز حیدر کے اصرار پر زبردستی، وہ دونوں آہستہ آہستہ اسے بہت ساری فیملیز کے ساتھ متعارف کروا رہے تھے۔
عمر اسے وقتاً فوقتاً فون کر تا رہتا تھا۔
”میں واپس کب آؤں گی؟” وہ ہر بار اس سے ایک ہی سوال کرتی۔
”بس کچھ دن اور” وہ ایک ہی جملہ دہراتا اور پھر کوئی اور بات شروع کر دیتا۔
پھر آہستہ آہستہ اس کی کالز میں آنے والا وقفہ بڑھنے لگا،لیکن ہر بار کال آنے پر اس کی آواز اور لہجے میں اتنی گرم جوشی ہوتی کہ علیزہ شکایت کرنا بھول جاتی یا شاید اگلی بار کے لئے ملتوی کر دیتی۔
وہ نانو اور شہلا سے بھی مسلسل رابطے میں تھی۔ اپنے رزلٹ کا بھی اسے شہلا کے ذریعے ہی پتا چلا تھا۔ لاہور واپس جانے کے لئے اس کی بے تابی میں اضافہ ہو گیا تھا۔
عمر نے اسے مبارک باد دینے کے لئے فون کیا۔ ”ابھی کچھ ہفتے لگیں گے… وہاں کچھ مرمت ہو رہی ہے… اس لئے وہاں تو تم نہیں ٹھہر سکو گی… عباس کے ہاں ہی رکنا پڑے گا تمہیں… یا پھر تم میرے پاس آجاؤ۔” عمر نے ایک بار پھر اس کے سوال پر کہا۔
”نہیں پھر میں یہیں اسلام آباد میں ہی رہتی ہوں لیکن آپ مجھے یہ تو بتا دیں کہ یہ مرمت کب ختم ہو گی؟”
”بہت جلدی… میں جانتا ہوں۔ تم واپس آنا چاہتی ہو… جیسے ہی وہاں کام ختم ہوا میں تمہیں بتا دوں گا… پھر تم آجانا۔” عمر نے ایک بار پھر اسے یقین دہانی کروائی۔
علیزہ نے اسلام آباد آنے کے بعد عمر سے دوبارہ اس سارے معاملے کے بارے میں بات نہیں کی… اسے تجسس تھا اور اخبارات میں لگنے والی مختلف خبروں نے اس تجسس کو اور بڑھا دیا تھا… مگر وہ اپنے اندر اتنی ہمت نہیں پاتی تھی کہ عمر یا عباس سے ا س ساری صورتِ حال کے بارے میں پوچھے۔
پھر یک دم اخباروں میں اس سارے معاملے کے بارے میں خبریں آنا بند ہو گئیں۔ کچھ دنوں کے بعد اسے پتا چلا کہ عباس حیدر ایک سال کی چھٹی لے کر انگلینڈ کرمنالوجی کا کوئی کورس کرنے جا رہا تھا۔ اس کی چھٹی منظور ہونے سے پہلے اس کی پروموشن ہو گئی تھی۔ علیزہ کو اندازہ ہو گیا کہ جسٹس کا کیس ختم ہو چکا ہے۔ عمر بھی اپنے پہلے والے شہر میں ہی پوسٹڈ تھا۔ علیزہ کے احساس جرم میں کچھ اور اضافہ ہو گیا۔
”باتیں یاد عویٰ کرنا بہت آسان ہوتا ہے، یہ کام کوئی بھی کر سکتا ہے… مگرسسٹم کو بدلنا یا بدلنے کے لئے ایک چھوٹا سا قدم اٹھانا بھی آسان نہیں ہوتا۔” بہت عرصہ پہلے عمر کی کہی ہوئی کچھ باتیں اسے بار بار یاد آئیں۔
جو تجزیہ اسے اس وقت اور خود غرضانہ لگا تھا وہ اب کس قدر صحیح لگ رہا تھا… یہ صرف وہی جانتی تھی۔
”چیزوں کو ناپسند کرنا اور بات ہے… اٹھا کر پھینک دینا اور … یہ حقیقت مان لینی چاہئے کہ کم از کم ہماری کلاس اس سسٹم کو بدلنے کی اہلیت ، صلاحیت یا شاید جرات نہیں رکھتی۔ کوئی بھی شخص اس ٹہنی کو نہیں کاٹتا جس پر خود سوار ہو… اور ہماری کلاس کسی دوسرے کو یہ سسٹم بدلنے نہیں دے گی… کوئی شخص کسی دوسرے شخص کو بھی وہ ٹہنے کاٹنے نہیں دیتا جس پر وہ سوار ہو… یہ You miss I hit والی صورتِ حال ہے… ہماری کلاس کی خوش قسمتی ہے، ابھی تک ہم کسی بھی طرح ریسیونگ اینڈ پر نہیں پہنچے۔”
وہ اس وقت بعض دفعہ اس کی باتوں سے اتفاق نہیں کرتی تھی۔ بعض دفعہ بحث کرتی… یا پھر ناپسندیدگی کے اظہار کے لئے خاموش ہو جاتی، وہ اب ان ساری باتوں کے بار ے میں سوچ کر صرف شرمندہ ہوتی تھی۔
اسے شہباز منیر والا واقعہ اچھی طرح یاد تھا۔ اس وقت اسے عمر سے شکایت ہوئی تھی کہ اس نے ایاز انکل سے کمپرومائز کیوں کیا… سب کچھ پریس تک اور کورٹ تک کیوں نہیں لے گیا۔
اب خود ایاز حیدر کے گھر بیٹھے وہ حالات کی ستم ظریفی پر حیران ہوتی۔ وہ عمر سے کسی بھی طرح مختلف ثابت نہیں ہوئی تھی۔ جب اسے اپنی زندگی خطرے میں نظر آنے لگی تو وہ بھی کمپرومائز کرنے پر مجبور ہو گئی تھی۔
”زندگی بڑی شرمندہ کروانے والی چیز ہے… تم … میں … یا کوئی بھی… ہم سب ایک ہی جھولے میں سوار ہیں اور کوئی بھی اس میں سے اترنا نہیں چاہتا… کیونکہ نیچے کھڑے ہو کردوسروں کو آسمان تک پہنچتے دیکھنا بڑا صبر آزما اور تکلیف دہ کام ہوتا ہے۔ کم از کم مجھ میں تویہ حوصلہ نہیں ۔” اسے عمر کی باتیں اب سمجھ میں آرہی تھیں۔
٭٭٭
”میں تم لوگوں کی باتوں پر قطعاً یقین نہیں کر سکتا۔ تم اور تمہارے بیٹے کے پاس جھوٹ کے علاوہ اور کچھ ہے ہی نہیں۔ ” جسٹس نیاز چیف منسٹر کی موجودگی کی پروا کئے بغیر ایاز حیدر اور عباس پر اشتعال کے عالم میں چلا رہے تھے۔
وہ چاروں اس وقت چیف منسٹر کی رہائش گاہ پر موجود تھے۔ ایاز حیدر اور عباس بڑے سکون اور تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے جسٹس نیاز کے الزامات اور چیخ و پکار کو سن رہے تھے ۔ چیف منسٹر بار بار جسٹس نیاز کا اشتعال کم کرنے کی کوشش کررہے تھے۔ وہ یہ نہ کر رہے ہوتے تو شاید جسٹس نیاز یقیناً اب تک ایاز حیدر اور عباس کے ساتھ ہاتھا پائی کر رہے ہوتے۔
”نیاز صاحب! آپ… دیکھیں… میری سنیں… میں آپ کے جذبات سمجھتا ہوں مگر دیکھیں… اس طرح سب کچھ کیسے طے ہو گا… آپ دونوں فریق آرام سے ایک دوسرے کی بات سنیں۔” چیف منسٹر نے ان کا پارہ نیچے لانے کی ایک اور کوشش کی۔
”آپ مجھے کہہ رہے ہیں کہ میں بات سنوں… میں صبر و تحمل کا مظاہرہ کروں۔ ” جسٹس نیاز ان کی بات پر اور مشتعل ہوئے۔ ”میرا جو ان اور معصوم بیٹا اس نے مار دیا ہے اور آپ کہہ رہے ہیں کہ میں چلاؤں بھی نہ ۔ ” جسٹس نیاز نے عباس کو گالی دیتے ہوئے کہا۔ چند لمحوں کے لئے عباس کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔
”سر! گالی نہ دیں… گالی کے بغیر بات کریں، میں آپ کی بہت عزت کرتا ہوں لیکن گالیاں کھانے کے لئے ہم لوگ یہاں نہیں آئے ہیں۔” ایاز حیدر نے یک دم جسٹس نیاز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔
”تم میرے پورے خاندان کو پریس کے ذریعے اسکینڈلائز کر رہے ہو… میرے بیٹے کو گھر سے اٹھا کر تمہارے بیٹے نے جعلی پولیس مقابلے میں مار دیا اور میں تمہارے بیٹے کو گالی تک نہیں دے سکتا۔”
”جو کچھ ہوا مجھے اور عباس کو اس پر افسوس ہے… مگر جو کچھ آپ کے بیٹے نے کیا وہ بھی۔۔۔”
جسٹس نیاز نے غصے کے عالم میں ایاز حیدر کی بات کاٹ دی۔ ”کیا کیا میرے بیٹے نے… بولو کیا کیا تھا میرے بیٹے نے؟”
”میں آپ کو بتا چکا ہوں، آپ کے بیٹے نے کیا کیا تھا۔”
”تم بکواس کرتے ہو… جھوٹ بولتے ہو۔”
”مجھے نہ بکواس کرنے کی ضرورت ہے نہ جھوٹ بولنے کی… جب انسان کے پاس ثبوت اور حقائق ہوں تو اسے یہ دونوں کام نہیں کرنا پڑتے۔”
”تم اور تمہارے ثبوت اور حقائق … میں بے وقوف نہیں ہوں۔”
”آپ کی اس چیخ و پکار سے تو آپ کی کوئی عقلمندی نہیں جھلک رہی۔” ایاز حیدر نے دو بدو کہا۔
”میرے بیٹے نے گھر آنے کے بعد مجھے سب کچھ بتایا تھا۔ اس نے مجھے کہا تھا اس نے ایک لڑکی کا صرف تعاقب کیا تھا اپنے چند دوستوں کے ساتھ… جسٹ فار انجوائے منٹ… اور اس نے اسے کوئی نقصان نہیں پہنچایا۔”
”آپ کے بیٹے نے آپ سے جھوٹ بولا تھا۔” ایاز حیدر نے پر سکون انداز میں کہا۔
”نہیں… اس نے مجھ سے کوئی جھوٹ نہیں بولا۔ مجھے اس کے ایک ایک لفظ پر اعتبار ہے۔” جسٹس نیاز نے اپنی پر زور دیتے ہوئے کہا۔
”بہتر ہے، آپ اس کے لفظوں کے بجائے حقائق پر اعتبار کرنا سیکھیں۔ ” ایاز حیدر نے اسی پر سکون انداز میں کہا۔
”آپ کا بیٹا جس کردار کا مالک تھا… آپ وہ۔۔۔”
جسٹس نیاز نے بلند آواز میں ایاز حیدر کی باٹ کاٹ دی۔ ”میرے بیٹے کے کردار کے بارے میں بکواس کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ میں اسے اچھی طرح جانتا ہوں۔ LUMSمیں پڑھ رہا تھا میرا بیٹا… اپنے Batch کا سب سے آؤٹ اسٹینڈنگ اسٹوڈنٹ تھا اور تم اس پر اس طرح کے تھرڈ کلاس الزامات لگا رہے ہو۔” ان کی آواز غصے سے جیسے پھٹ رہی تھی۔
LUMS “کی ڈگری آپ کے بیٹے کا کریکٹر سر ٹیفکیٹ نہیں ہے۔ وہ اگر ہسٹری شیٹر نہیں بنا تو اس کی وجہ آپ کا عہدہ تھا۔ ورنہ لاہور کی ساری پولیس کو اس کے اور اس کے دوستوں کے بارے میں بہت کچھ پتا ہے۔” اس بار ایاز حیدر کی آواز بھی بلند تھی۔
”آپ کو اپنے بیٹے کی موت کی بہت تکلیف ہے اور مجھے اپنی بھانجی کی بے عزتی کا کوئی دکھ نہیں ہونا چاہئے۔”
”میرے بیٹے نے تمہاری بھانجی کی کوئی بے عزتی نہیں کی اس نے صرف اس کا تعاقب کیا۔”
”Your son raped my niece.” ایاز حیدر نے اس بار سرخ چہرے کے ساتھ کہا۔
٭٭٭
”علیزہ! بھوربن چلو گی میرے ساتھ؟” اس شام سجیلہ آنٹی نے ڈنر ٹیبل پر اچانک اس سے کہا۔
ایاز حیدر کسی ڈنرپر انوائیٹڈ تھے اور کافی دنوں کے بعد خلافِ معمول سجیلہ آنٹی اس کے ساتھ گھر پر ہی ڈنر کر رہی تھیں۔
”بھوربن کس لئے؟” علیزہ کو حیرت ہوئی۔
”دو میوزیکل ایوننگز ہیں وہاں پر… اسد امانت علی خان اور طاہرہ سید کے ساتھ۔”
”کس لیے؟”
”فنڈ ریزنگ کر رہے ہیں ہم ایس او ایس ویلج کے لئے ۔” انہوں نے کباب کے ٹکڑے کرتے ہوئے کہا۔
”تو یہاں اسلام آباد میں ہی کر لیتے۔ وہاں بھوربن جانے کی کیا ضرورت ہے۔” علیزہ نے کہا۔
”جسٹ فار اے چینج… آج کل وہاں کا موسم بہت خوشگوار ہے۔ ویمن کلب کے ممبرز کا اصرار تھا کہ یہ فنکشن وہیں ارینج کیا جائے۔” انہوں نے تفصیل بتاتے ہوئے کہا۔ دو دن کے لئے اچھی آؤٹنگ رہے گی۔ تمہیں تو ویسے بھی میوزک سے خاصی دلچسپی ہے۔” انہوں نے کہا۔
”انکل بھی جا رہے ہیں؟” علیزہ نے پوچھا۔
”ایاز؟ نہیں وہ کہاں جا رہا ہے… ایک دن کی ہوتی تو شاید اس کا موڈ بن بھی جاتا مگر دو دن کے لئے وہاں رکنا تو خاصا مشکل ہو جائے گا، اس کے لئے۔”
”ٹھیک ہے، میں چلوں گی۔” علیزہ نے کچھ سوچتے ہوئے ۔ ” جانا کب ہے؟”
”اگلے ویک اینڈ پر۔” انہوں نے گلاس میں پانی انڈیلتے ہوئے کہا۔
”اگلے ویک اینڈ پر تو میں واپس جانا چاہتی ہوں۔”
”کیوں؟”سجیلہ نے کچھ چونک کر کہا۔ ”ایاز نے تو تمہارے واپس جانے کے بارے میں کوئی بات نہیں کی۔ نہ ہی عباس نے اس سلسلے میں کچھ کہا ہے۔”
”تم بور ہو رہی ہو یہاں پر؟” سجیلہ نے اچانک پوچھا۔
”نہیں، بور تو نہیں ہو رہی… مگر میں اب واپس جا کر کچھ کرنا چاہتی ہوں… رزلٹ کا انتظار تھا مجھے اور اب تو وہ بھی آچکا ہے… ویسے بھی میں نانو کو خاصا مس کر رہی ہوں۔”
”کیا کرنا چاہتی ہو تم واپس جا کر؟” سجیلہ نے دلچسپی لیتے ہوئے پوچھا۔
”کسی نیوز پیپر کو جوائن کروں گی یا پھر… کسی این جی او کو… ان ہی دو چیزوں میں دلچسپی ہے مجھے۔” اس نے مسکراتے ہوئے کہا۔
”ایک تیسری چیز بھی تو ہے۔ اس میں بھی دلچسپی لے سکتی ہو تم۔” انہوں نے اپنی پلیٹ میں چاول نکالتے ہوئے کہا۔
”ایسی کون سی چیز ہے؟” علیزہ کو اچانک دلچسپی محسوس ہونے لگی۔
”شادی!”
علیزہ جواب میں کچھ کہنے کے بجائے ہولے سے مسکرائی اور اپنی پلیٹ میں سویٹ ڈش نکالنے لگی۔
”کیوں تمہیں دلچسپی محسوس نہیں ہوئی؟” سجیلہ نے اس کے چہرے کو غور سے دیکھتے ہوئے کہا۔
”نہیں۔” اس نے یک لفظی جواب دیا۔
”حالانکہ ہونی چاہئے۔” سجیلہ نے دو ٹوک انداز میں کہا۔ علیزہ نے اس بار بھی کچھ نہیں کہا۔ وہ ایک بار پھر صرف مسکرا کر رہ گئی۔
”علیزہ! اگر تم اسے بہت پرسنل نہ سمجھو تو ایک پوچھوں؟” سجیلہ نے اچانک اس سے کہا۔
”ضرور۔۔۔” علیزہ نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا۔
”تم کسی میں انٹرسٹڈ ہو؟”
علیزہ کی سمجھ میں نہیں آیا وہ اس سوال کا کیا جواب دے ، سامنے پڑی ہوئی سویٹ ڈش یک دم اپنی مٹھاس کھونے لگی۔
”میرا مطلب ہے، کسی کے لئے کوئی پسندیدگی … جس کے ساتھ شادی وادی کرنا چاہ رہی ہو تم؟” علیزہ کی آنکھوں کے سامنے ایک ہی چہرہ جھما کے کے ساتھ ابھرا۔ ایک گہرا سانس لے کر اس نے سجیلہ کو دیکھا۔
”نہیں… مجھے کسی میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔” اس نے ہاتھ میں پکڑا ہوا چمچہ آہستگی سے واپس پلیٹ میں رکھ دیا۔
”کیوں؟” سجیلہ کی مسکراہٹ کچھ گہری ہو گئی۔
”پتا نہیں۔” علیزہ اس بار مسکرا نہیں سکی۔

”بڑی حیرت کی بات ہے… مجھے لگتا ہے… ممی نے تمہیں ضرورت سے کچھ زیادہ ہی دباؤ میں رکھا ہوا ہے۔” ان کا اشارہ نانو کی طرف تھا۔
”نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے… نانو نے مجھ پر ایسی کوئی پابندی نہیں لگائی۔ وہ بہت لبرل ہیں۔” علیزہ نے نانو کا دفاع کرنے کی کوشش کی۔
”اسی لئے تو مجھے حیرت ہو رہی ہے… بہرحال تم نے اس بارے میں سوچا کیا ہے۔ تعلیم تو مکمل ہو ہی گئی ہے تمہاری۔” وہ اب سویٹ ڈش نکال رہی تھیں۔ علیزہ سویٹ ڈش کھانا بند کر چکی تھی۔
”نہیں، میں فی الحال شادی نہیں کرنا چاہتی… مجھے کسی نہ کسی فیلڈ میں اپنا کیرئیر بنا نا ہے۔”
”کیریئر کا کیا ہے، وہ تو ساتھ ساتھ چل سکتا ہے… جرنلزم ہو یا سوشل ورک دونوں اتنے Time Consuming (وقت طلب) تو نہیں ہیں کہ بندہ ان کے ساتھ ساتھ شادی کا سوچ ہی نہ سکے۔ تمہارا کیا خیال ہے؟”
”میں کیا کہہ سکتی ہوں۔” وہ بمشکل مسکرائی۔
”یہ تمہاری زندگی کا معاملہ ہے، تمہارے علاوہ کوئی اور اس کے بارے میں کیا کہہ سکتا ہے۔ بہرحال اس مسئلے پر دوبارہ کبھی بات کریں گے… ابھی تو میں تمہیں یہ کہنا چاہ رہی ہوں کہ تم ایک دو ہفتے کے لئے اپنا قیام یہاں بڑھاؤ… اگلے ویک اینڈ پر میرے ساتھ بھوربن چلو… تم یقیناً انجوائے کرو گی۔” وہ اب نیپکن سے اپنا منہ پونچھتے ہوئے کہہ رہی تھی۔
”وہاں پر بہت سی این جی اوز کے لوگ بھی ہوں گے۔ جرنلسٹ بھی ہوں گے۔ تمہارے لئے انٹر ایکشن کا خاصا اچھا موقع ہے۔” وہ کہہ رہی تھیں۔ علیزہ صرف سر ہلا کر رہ گئی۔
سجیلہ ایاز کھانا ختم کرکے ٹیبل سے اٹھ گئیں لیکن علیزہ وہیں بیٹھی رہی… بہت دنوں کے بعد اسے ایک بار پھر عمر یاد آرہا تھا۔ اسے علیزہ سے رابطہ کئے بہت دن ہو گئے تھے۔ وہ جانتی تھی وہ واپس اپنے شہر چلا گیاہو گا اورشاید اپنے کاموں میں بری طرح پھنسا ہو گا… یا پھر شاید اس کے پاس کچھ اور ”مصروفیات ” ہوں گی۔
اس کی چند لمحے پہلے کی بے فکری اچانک ختم ہو گئی۔ وہ بہت عجیب سے احساس سے دوچار ہورہی تھی۔ ڈنر ٹیبل سے اٹھتے ہوئے وہ جانتی تھی کہ وہ آج رات پر سکون نیند نہیں سوئے گی۔
لاؤنج سے نکلتے ہوئے اس کی نظر اچانک فون پر پڑی۔ لاشعوری طور پر وہ اپنے کمرے کی طرف جاتے جاتے واپس پلٹ آئی۔ فون کے پاس آکر ریسیور اٹھاتے ہوئے اس نے میکانکی انداز میں عمر کے موبائل کا نمبرڈائل کیا۔ موبائل خلافِ معمول آف نہیں تھا۔ پہلی بیپ کے ساتھ ہی اسے دوسری طرف عمر کی آواز سنائی دی۔
”ہیلو” اس نے کچھ کہنے کے لئے منہ کھولا لیکن کچھ کہنے سے پہلے ہی اس کی آواز حلق میں دم توڑ گئی۔ اس نے ریسیور میں عمر کی آواز کے علاوہ ایک اور آواز بھی سنی تھی۔ شستہ انگلش میں اس نسوانی آواز نے عمر سے صرف ایک جملہ کہا تھا۔ دوبارہ وہ آواز سنائی نہیں دی… وہ ایک جملے کے بجائے ایک لفظ بھی بولتی تو علیزہ کو اس آواز کو شناخت کرنے میں کوئی دقت نہ ہوتی۔
”ہیلو کون بول رہا ہے؟” عمر اب ایک بار پھر کہہ رہا تھا۔ علیزہ نے کچھ کہے بغیر ریسیور نیچے رکھ دیا۔
اس سے پہلے کہ وہ صوفہ سے اٹھتی، فون کی گھنٹی بجنے لگی، CLIپر موجود نمبر عمر کا تھا۔ علیزہ نے بے اختیار آنکھیں بند کرلیں۔
عمر کی ہر حرکت ریفلیکس ایکشن کی طرح بے اختیار اور تیز تھی… وہ کبھی بھی اس سے چھپ نہیں سکتی تھی۔
”اس نے یقیناً اپنے موبائل پر ایاز حیدر کا نمبر پہچان لیا ہو گا اور اسے توقع ہو گی کہ یہ کال میں نے ہی کی تھی۔”
علیزہ نے ریسیور اٹھا کر کریڈل سے نیچے رکھ دیا۔ وہ اس ذہنی کیفیت کے ساتھ عمر سے بات نہیں کرنا چاہتی تھی۔ چند منٹ وہیں بیٹھے رہنے کے بعد اس نے ریسیور واپس کریڈل پر رکھ دیا۔
لاؤنج سے نکلتے ہوئے اس نے ملازم کو ہدایت دی۔ ”ظہیر ! اگر عمر کا فون ہو تو ان سے کہہ دینا کہ میں بہت دیر پہلے سو گئی تھی… میری ان سے بات مت کروانا۔”
اس نے ملازم کی حیرت کو نظر اندا زکرتے ہوئے کہا۔
اپنے کمرے میں پہنچ کر وہ سیدھا بیڈ کی طرف جانے کے بجائے کھڑکی کی طرف بڑھ گئی۔ کھڑکی کے پردے ہٹا کر وہ باہر لان میں دیکھنے لگی۔ جہاں اکا دکا جلنے والی روشنیاں اسے مکمل تاریکی سے بچا رہی تھیں۔
”Umer! I’ll be back in a minute.”
ریسیور پر سنی جانے والی آواز ایک بار پھر اس کی سماعتوں میں گونج رہی تھی۔ اسے باہر موجود ساری تاریکی اپنے اندر اترتی محسوس ہونے لگی۔
”عمر کے بارے میں میرا ہر اندازہ ہمیشہ غلط کیوں ہوتا ہے؟… کیا میں ہمیشہ اتنی ہی بے وقوف رہوں گی یا پھر شاید۔۔۔” وہ مایوسی سے اپنے ہونٹ کاٹنے لگی۔
”میرا خیال تھا جوڈتھ اس کی زندگی سے نکل چکی ہے… مگر وہ ایک بار پھر آگئی ہے یا پھر وہ شاید کبھی کہیں گئی ہی نہیں۔” اس کی آنکھوں میں نمی اترنے لگی۔
٭٭٭
”میں تمہاری بکواس پر یقین نہیں کر سکتا۔ ” جسٹس نیاز نے بڑے تحقیرانہ انداز میں اپنے ہاتھ کو جھٹکا۔
”حقیقت کو آپ بکواس کہیں یا اس پر یقین نہ کریں، اس سے اس کا وجود ختم ہوتا ہے نا اس کی Authenticity” ایاز حیدر نے ایک بار پھر تحمل سے کہا۔
”تم اور تمہارے حقائق۔” جسٹس نیاز نے ایک بار پھر ایاز حیدر کو گالی دیتے ہوئے کہا۔ اس بارایاز کا چہرہ سرخ ہو گیا، مگر اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتے چیف منسٹر نے مداخلت کی۔
”نیا زصاحب! میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ مہذب زبان استعمال کریں۔ اس گالم گلوچ سے صورت حال اور خراب ہو گی اور فریقین میں سے کسی کو کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا۔”
جسٹس نیاز ، چیف منسٹر کی بات پر ایک بار پھر آگ بگولہ ہو گئے۔ ”میں یہاں انصاف لینے آیا ہوں کوئی فائدہ نہیں۔”
”آپ کے بیٹے کے ساتھ انصاف ہی کیا گیا تھا۔” ایاز حیدر کا لہجہ اس بار بالکل سرد تھا۔
اس سے پہلے کہ ان کی اس بات پر جسٹس نیاز اور مشتعل ہوتے چیف منسٹر نے ایک پھر مداخلت کی۔
”اس فضول بحث کا کوئی فائدہ نہیں ہے کہ کس نے کیا کیا میں نے آپ دونوں کو یہاں معاملات طے کروانے کے لئے بلوایا ہے۔ جو کچھ ہو چکا ہے۔ اس کو تو بدلا نہیں جا سکتا، نہ آپ بدل سکتے ہیں نہ یہ۔”
”ہمیں دوستانہ تصفیہ کرلینا چاہئے۔”
”ہم اس کے لئے تیار ہیں اور ہم یہاں اسی لئے موجود ہیں؟” ایاز حیدر نے ان کی تجویز پر کہا۔
”مگر میں اس کے لئے تیار ہوں نہ اس لئے یہاں آیا ہوں۔” جسٹس نیاز کے لہجے میں کوئی تبدیلی نہیں تھی۔
”نیاز صاحب! آپ معاملے کو طول دینے کی کوشش نہ کریں۔ اس کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔” چیف منسٹرنے اس بار کچھ جھنجھلا کر کہا۔
”اگر آپ کو یہ لگ رہا ہے کہ میں معاملے کو طول دے رہا ہوں تو ایسا ہی سہی۔”
چیف منسٹر نے ان سے کچھ کہنے کی کوشش کی مگر جسٹس نیاز نے ہاتھ اٹھا کر انہیں روک دیا۔
”ہو سکتا ہے آپ اس کے پریشر میں ہوں، مگر میں ایاز حیدر اور اس کے گینگ سے نہیں ڈرتا۔”
ایاز حیدر نے ان کی بات پر ایک لمحہ کے لئے اپنے ہونٹ بھینچ لئے۔
”سر! میرے لئے اس طرح کے الفاظ استعمال نہ کریں۔ میں یہاں کسی تلخی کو بڑھانے نہیں آیا اور میں بہت برداشت کا مظاہرہ کر رہا ہوں۔” ایاز حیدر نے اس بار براہ راست جسٹس نیاز کو مخاطب کیا۔
”کس نے کہا ہے کہ تم برداشت کا مظاہرہ کرو، مت کرو۔” جسٹس نیاز نے تقریباً دھاڑتے ہوئے کہا۔
”میرے بیٹے کو تم نے مار ڈالا اور اب تم اس پر الزام لگا رہے ہو۔ اخبارات کے ذریعے مجھے بدنام کر رہے ہو اور یہ بھی چاہتے ہو کہ میں تم لوگوں کے ساتھ تصفیہ بھی کرلوں۔ تم ایک انتہائی گھٹیا اور کمینے شخص ہو ایاز حیدر۔” وہ ایک ہی سانس میں بولتے گئے۔
”آپ کے بیٹے کو جس وجہ سے مارا گیا، وہ میں آپ کو بتا چکا ہوں… یہ کوئی سوچا سمجھا قتل نہیں تھا۔ عباس اور عمر کی جگہ آپ ہوتے اور میری بھانجی کی جگہ آپ کی بیٹی ہوتی تو آپ بھی یہی کرتے۔” ایاز حیدر نے کرسی پر کچھ آگے جھکتے ہوئے کہا۔ ”اور میں آپ کے بیٹے پر جھوٹا الزام کیوں لگاؤں گا… میں اپنی بھانجی کو خود بدنام کروں گا۔ اپنے خاندان کی عزت کو بازار میں اچھا لوں گا؟”
وہ ایک لحظہ کے لئے رکے۔
”جہاں تک اخبارات کا تعلق ہے تو وہاں شائع ہونے والی خبروں میں بھی میرا کوئی ہاتھ نہیں ہے۔”
”تم۔” جسٹس نیاز نے غصے کے عالم میں ان کی بات کاٹنا چاہی، مگر چیف منسٹر نے انہیں روک دیا۔
”نیاز صاحب!آپ انہیں بات تو کرنے دیں۔ پہلے ان کی سن لیں پھر جو چاہے کہیں۔” ان کا لہجہ اس بار التجائیہ تھا۔ جسٹس نیاز پتا نہیں کیا سوچ کر چپ ہو گئے۔
”اخبارات کا جو دل چاہتا ہے وہ چھاپ دیتے ہیں ۔ وہ میرے حکم سے نہیں چلتے، نہ ہی ان پر مجھے کوئی کنٹرول ہے۔ آج وہ آپ کے بارے میں خبریں شائع کر رہے ہیں تو کل میرے بارے میں بھی چھاپ سکتے ہیں۔”
ایاز حیدر نے ایک بار پھر بڑی سنجیدگی سے اپنی بات شروع کی۔
”ویسے بھی جن لوگوں کے حوالے سے وہ خبریں شائع کر رہے ہیں ان سے میرا کوئی تعلق نہیں ہے، بلکہ آپ کا ہی تعلق ہے آپ مختلف اوقات میں ان مقدمات میں فیصلے دیتے رہے ہیں اور ان لوگوں کو ان فیصلوں کے حوالے سے اعتراضات ہیں۔”

جسٹس نیاز کے ماتھے پر پڑے ہوئے بلوں میں اضافہ ہوتا گیا۔
”اور یہ لوگ صرف اب ہی اخبارات میں بیان نہیں دے رہے، یہ پہلے بھی بہت سے بیانات دیتے رہے ہیں۔ کیا اس وقت بھی انہیں اخبارات تک لانے کا ذمہ دار میں تھا۔”
ایاز حیدر اس بار کچھ غصے کے عالم میں کہتے گئے۔
”آپ کے بیٹے کے ساتھ سب کچھ کس وجہ سے ہوا میں آپ کو بتا چکا ہوں۔ آپ اسے جھوٹ سمجھیں یا جو بھی کہیں اس سے حقیقت تبدیل نہیں ہو گی۔” انہوں نے اچانک اپنی ٹون بدلی۔
”آپ کو اگر اپنے بیٹے کی موت کا دکھ ہے تو مجھے بھی اپنی بھانجی کی بے عزتی کا رنج ہے… اگر آپ کے بیٹے کو زندگی سے محروم ہونا پڑا ہے تو میری بھانجی کی زندگی بھی تباہ ہو گئی ہے۔” اس بار ان کی آواز میں واضح افسردگی موجود تھی۔
”وہ ابھی تک اسلام آباد کے ایک کلینک میں زیر علاج ہے، اس کی ذہنی حالت اتنی خراب ہے کہ ڈاکٹرز اسے علاج کے لئے بیرون ملک لے جانے کا کہہ رہے ہیں۔”
جسٹس نیاز اس بار خاموش نہیں رہ سکے۔”تم دنیا کے سب سے بڑے جھوٹے آدمی ہو… میں نے تمہیں بتایا ہے میرے بیٹے نے تمہاری بھانجی کا صرف تعاقب کیا ہے۔ وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ وہ تمہاری بھانجی تھی اور اس نے مجھے یہ سب کچھ بتا دیا تھا۔”
”آپ جھوٹ بول رہے ہیں۔” ایاز حیدر نے اس بار پہلی دفعہ ان کی بات کاٹی۔
”میں جھوٹ بول رہا ہوں؟”
”ہاں آپ جھوٹ بول رہے ہیں۔ اگر یہ سچ ہوتا تو آپ نے میری مدر کے گھر پر فائرنگ کروا کر میری بھانجی کو اغوا کرنے کی کوشش نہ کی ہوتی۔”
”میں نے کیا کیا؟” جسٹس نیاز جیسے ہکا بکا رہ گئے۔
”آپ نے ہمارے خاندانی گھر پر حملہ کروایا اور میری بھانجی کو اغوا کرنے کی کوشش کی، یہ صرف ایک اتفاق تھا کہ میری بھانجی وہاں نہیں تھی اور پولیس وقت پر وہاں پہنچ گئی۔”
جسٹس نیاز کچھ نہ سمجھتے ہوئے چیف منسٹر کو دیکھنے لگے۔
”یہ کیا کہہ رہاہے، میری سمجھ میں نہیں آرہا… کون سا حملہ؟ کیسا اغوا؟”
”یہ حقیقت ہے نیاز صاحب ! ایاز حیدر غلط نہیں کہہ رہے نہ ہی جھوٹ بول رہے ہیں۔ ان کے گھر پر حملہ ہوا ہے۔” اس بار چیف منسٹر نے سنجیدگی سے کہا۔ “حملہ کرنے والوں نے چوکیدار کو زخمی کرنے کے علاوہ گھر پر زبردست فائرنگ کی… سامان کو توڑ پھوڑ ڈالا… ان کی بھانجی وہاں نہیں تھیں، صرف مسز معاذ حیدر تھیں۔ جو چھپ گئیں… اسی دوران پولیس وہاں پہنچ گئی اور ان کی جان بچ گئی۔ کیونکہ وہ لوگ وہاں سے فرار ہو گئے۔ ایاز حیدر نے مجھے فوری طور پر اسی وقت اس واقعہ کی اطلاع دے دی تھی۔”
چیف منسٹر نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا۔
”ہو سکتا ہے ہوا ہو ایسا ، لیکن اس سے میرا تعلق کیسے بنتا ہے؟” جسٹس نیاز نے اس بار الجھے ہوئے انداز میں کہا۔
”ایاز حیدر نے آپ کا اور قاسم کا نام لیا ہے ان کا خیال ہے کہ یہ کام آپ دونوں کے علاوہ اور کوئی نہیں کر سکتا۔ وہ اس سلسلے میں آپ دونوں کے خلاف ایف آئی آر لکھوانا چاہتے تھے مگر، میں نے انہیں روک دیا… میں اس جھگڑے کو اور طول نہیں دینا چاہتا۔”
”یہ سب بکواس اور فراڈ ہے میں اور میرا خاندان ابھی تک اپنے بیٹے کی موت کے شاک سے باہر نہیں آئے اور آپ کہہ رہے ہیں کہ میں نے اس کے گھر پر حملہ کروایا اور اس کی بھانجی کو اغوا کرنے کی کوشش کی ۔” انہوں نے برہمی سے چیف منسٹر کی بات کے جواب میں کہا۔
”مجھے تو یہ تک پتا نہیں تھا کہ وہ لڑکی اس کی بھانجی تھی پھر میں یہ کیسے کروا سکتا تھا۔” وہ ایک بار پھر مشتعل ہو رہے تھے۔
”ہو سکتا ہے، آپ نے یہ نہ کروایا ہو… قاسم درانی نے کروایا ہو۔” چیف منسٹر نے کچھ نرمی سے کہا۔
ایاز حیدر بالکل خاموشی سے گفتگو سن رہے تھے۔
”اگر قاسم نے یہ کروایا ہے تو پھر آپ کو یہ سب کچھ قاسم کو بتانا چاہئے تھا، مجھے کیوں بتا رہے ہیں۔ ” انہوں نے ترشی سے چیف منسٹر سے کہا۔
”نیاز صاحب آپ اس وقت اس بات کو چھوڑیں میں نے کہا ہے نا کہ گڑے مردے اکھاڑنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ میں نے ایاز حیدر کو بھی سمجھایا ہے میں آپ کو بھی سمجھا رہا ہوں تعلقات مزید کشیدہ کرنے کے بجائے معاملہ ختم کر دیں۔”

”آپ کا بیٹااس طرح مرا ہوتا تو آپ معاملہ اس طرح ختم کر دیتے؟” جسٹس نیاز نے چبھتے ہوئے اندار میں کہا۔
”یہ حالات پر منحصر ہوتا… اگر میرے بیٹے نے وہ سب کچھ کیا ہوتا جو آپ کے بیٹے نے کیا تو میں اس کو خو دگولی مار دیتا۔” چیف منسٹر نے بے دھڑک کہا۔
”میں نے آپ کو کہا ہے میرے بیٹے نے کچھ بھی نہیں کیا۔ وہ بے گناہ تھا۔ ” جسٹس نیاز ان کی بات کے جواب میں چلائے۔
”اگر صرف گلا پھاڑنے سے کسی کا جرم یا بے گناہی ثابت ہوتی ہے تو میں آپ سے زیادہ گلا پھاڑ سکتا ہوں۔ اگر آپ بضد ہیں کہ آپ کے بیٹے نے میری بھانجی کے ساتھ کچھ نہیں کیا تو میں بھی کہتا ہوں کہ میرے بیٹے نے بھی آپ کے بیٹے کے ساتھ کچھ نہیں کیا۔ وہ واقعی پولیس مقابلے میں مارا گیا۔”
ایاز حیدر کے تلخ لہجے میں کہے گئے جملے کے جواب میں جسٹس نیاز اس بار صرف خاموشی سے انہیں گھورتے رہے۔
”نیاز صاحب ! ہو سکتا ہے آپ کے بیٹے نے آپ کو حقیقت نہ بتائی ہو… جس طرح کی حرکت اس نے کی تھی اس کے بعد آپ خود سوچیں۔ وہ کس طرح دیدہ دلیری سے آپ کے سامنے اس کا اعتراف کر سکتا تھا… ہائی کورٹ کے ایک جج کے سامنے۔”
چیف منسٹر نے اس بار نفسیاتی حربہ استعمال کرتے ہوئے کہا۔
”اسے خدشہ ہو گا کہ آپ اسے فوراً پولیس کے حوالے کر دیں گے اور اس کا مستقبل تباہ ہو جائے گا… ہو سکتا ہے اسی خوف سے اس نے آپ کو ساری بات نہ بتائی ہو۔” چیف منسٹر اب جسٹس نیاز پر دوسرا حربہ آزما رہے تھے۔
”چلیں میں آپ کی مان لیتا ہوں، فرض کیا اس نے کسی خدشہ کے تحت مجھ سے حقیقت چھپائی تھی اور واقعی یہ جرم کیا تھا… تو کیا اس جرم کی سزا یہ تھی کہ اسے کسی کیس ، کسی ٹرائل کے بغیر پکڑ کر یوں جانوروں کی طرح مار دیا جاتا۔”
”میں نے آپ کو بتایا ہے ، یہ سب فوری اشتعال کے تحت ہو ا اور اپنی بھانجی کے ساتھ یہ سب ہونے کے باوجود مجھے آپ کے بیٹے کی موت کا افسوس ہے، میں اس کے لئے معذرت کرتا ہوں۔”
ایاز حیدر نے فوری طور پر چیف منسٹر اور جسٹس نیاز کے درمیان ہونے والی گفتگو میں مداخلت کی۔
”تم اور تمہاری معذرت…تمہاری معذرت میرے بیٹے کو واپس لا سکتی ہے؟… مجھے ابھی بھی تمہاری بکواس پر یقین نہیں ہے… میرا بیٹا ایسا نہیں تھا۔” جسٹس نیاز پر ایاز حیدر کی معذرت کا کوئی خاطر خواہ اثر نہیں ہوا۔
”آپ کا بیٹا کیسا تھا… یہ آپ اس فائل کو پڑھ کر جان جائیں گے۔”
عباس حیدر نے تمام گفتگو کے دوران پہلی بار مداخلت کی، اپنے سامنے پڑی ہوئی ایک فائل کو اس نے ٹیبل کے دوسری طرف بیٹھے ہوئے جسٹس نیاز کی طرف کھسکا دیا۔
”پچھلے دو سالوں میں پولیس کو اس کے بارے میں بہت ساری شکایات ملتی رہی ہیں۔ مگر پولیس نے ایک بار بھی اس کے خلاف ایف آئی آر نہیں کاٹی اور صرف آپ کے عہدے کے احترام کی وجہ سے ہر بار اسے بچایا گیا۔”
”تم اپنا منہ اور بکواس بند کرلو۔” جسٹس نیاز اس پر دھاڑنے لگے۔
”سر! میں نے اپنا منہ اور بکواس ابھی تک بند ہی رکھی تھی۔ مگر آپ اپنے بیٹے کی تعریف میں جو زمین و آسمان کے قلابے ملا رہے ہیں۔ وہ اب ناقابل برداشت ہو رہے ہیں۔” عباس کا لہجہ پر سکون اور سرد تھا۔ ”سچ صرف آپ کو کہنا آتا ہے۔ دوسروں کو نہیں۔ دو دفعہ آپ کا بیٹا لبرٹی میں لڑکیوں سے پرس چھینتے ہوئے پکڑا گیا دونوں دفعہ اسے چھوڑ دیا گیا، ایک دفعہ اس نے کسی کی گاڑی چرا کر بیچ دی… آپ نے اس کو پولیس اسٹیشن جا کر ایف آئی آر سے پہلے ہی چھڑوا لیا اور پولیس نے اس آدمی کو آپ کے ساتھ معاملہ طے کر نے پر مجبورکر دیا۔”
”تم اپنی حد سے باہر نکل رہے ہو۔” جسٹس نیاز کا چہرہ اب سرخ ہو رہا تھا۔
”نہیں۔ میں آپ کو ان سب چیزوں کے ثبوت دے سکتا ہوں… آواری میں دو دفعہ اس نے شراب پی کر ہنگامہ کھڑا کیا… وہاں کے منیجرنے پولیس کو بلوایا اور پولیس اسے پولیس اسٹیشن لے جانے کے بجائے صرف آپ کی وجہ سے آپ کے گھر چھوڑ آئی۔”
”میں تمہیں اور تمہاری پولیس کو اچھی طرح سے جانتا ہوں… ڈاکو راج بنایا ہوا ہے تم لوگوں نے۔”
”ہاں پولیس بری ہے۔ پولیس صرف اس وقت اچھی تھی جب پچھلے سال آپ کی گھریلو ملازمہ کے اپنے کوارٹر میں خودکشی کے کیس کو اس نے حادثہ قرار دے کر فائل بند کر دی… اس لڑکی کے بھائی نے آپ کے بیٹے کی شکایت کی تھی… اگر وہ جج کا بیٹا نہ ہوتا تو اس وقت جیل کاٹ رہا ہوتا… ان مہربانیوں کے وقت تو آپ کو پولیس سے کوئی شکایت نہیں ہوئی۔ اب آپ کو پولیس والے گندے اور ڈاکو لگنے لگے ہیں۔”
عباس کی آواز میں طنز تھا۔ ” یہ ابھی چند واقعات ہیں، آپ کی خواہش ہے تو میں آپ کو اور بہت سے واقعات کی تفصیلات سے بھی آگاہ کردیتا ہوں۔” جسٹس نیاز پلکیں جھپکائے بغیر اسے دیکھ رہے تھے۔ وہ یقیناً اس وقت اپنے آپ کو بے بسی کی انتہا پر پہنچا ہوا محسوس کر رہے تھے۔

”میں آپ کی طرح کسی Mud Slinging میں انوالو ہونا نہیں چاہتا تھا، مگر آپ نے مجھے اس کے لئے مجبور کر دیا۔” عباس نے اس سنجیدہ لہجے میں اپنی بات جاری رکھی۔
ایاز حیدر اب بڑے اطمینان اور لا پروائی سے سگار پینے میں مصروف تھے انہوں نے عباس کو کسی بھی اسٹیج پر روکنے کی کوشش نہیں کی۔
”جس علاقے میں آپ کا گھر ہے۔ اس علاقے میں آپ کا بیٹا خاصی شہرت رکھتا تھا اور یہ یقیناً آپ سے پوشیدہ تو نہیں ہو گی۔” عباس کہہ رہا تھا۔ ”لیکن شاید آپ کے نزدیک ایسی باتوں کی اہمیت ہی نہیں تھی، اگر آپ نے شروع میں اپنے بیٹے کو روکا ہوتا تو آج اس کے ساتھ یہ سب کچھ نہ ہوا ہوتا۔”
”مجھے نصیحت کرنے کی ضرورت نہیں ہے… تم اور تمہارا باپ خود کیا نہیں کرتے؟” جسٹس نیاز نے ایک بار پھر اسی طرح چیختے ہوئے کہا۔ ”تم دونوں خود کیا ہو؟”
”میں اور میرا باپ کون ہیں، یہ سارا ملک جانتا ہے۔”
عباس ان کی دھاڑ سے متاثر ہوئے بغیر بولا۔ ”ہم اس ملک اور اس قوم کی خدمت کر رہے ہیں۔ ہم آپ کے بیٹے کی طرح رات کو لڑکیوں کا تعاقب کرتے نہیں پھرتے۔ ”اس کی آواز میں تحقیر اور تنفر تھا۔
”اور تم جو جو کرتے ہو۔” جسٹس نیاز نے مشتعل آواز میں کہنا چاہا۔
”ہم اور جو جو کرتے ہیں، وہ آپ کو ہمیں بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ ان جو جو کے حوالے سے خود کوئی شفاف ٹریک ریکارڈ نہیں رکھتے۔” عباس نے یک دم ہاتھ اٹھا کر ان کی بات کاٹ دی۔
”پریس میں جو کچھ آپ کے بارے میں آرہا ہے وہ ہماری نظروں سے بھی گزرتا ہے اور پولیس والے کم از کم اتنی عقل ضرور رکھتے ہیں کہ سچ اور جھوٹ کو پہچان لیں۔”
”پریس میں جو کچھ آرہا ہے ، وہ تم لوگوں کی سازش ہے۔ تم لوگ اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں میرے خلاف۔”
”ہمیں ایسے کسی اوچھے ہتھکنڈے کی ضرورت نہیں ہے، اگرہم ایسے حربوں میں یقین رکھتے تو پریس کے پاس صرف الزامات نہیں ثبوت بھی پہنچے ہوتے۔”
اس بار چیف منسٹر نے ان دونوں کی گفتگو میں مداخلت کی۔
”اس بحث کا کوئی فائدہ نہیں ہے، اس معاملے کو اب ختم ہو جانا چاہئے۔”
”میں کسی معاملے کو ختم نہیں کروں گا… میں اپنے بیٹے کے قاتلوں کو اس طرح نہیں چھوڑ سکتا۔” جسٹس نیازنے صاف الفاظ میں کہا۔
”ٹھیک ہے آپ کی مرضی… اگر آپ کو کسی تصفیہ کی خواہش نہیں ہے تو ہم بھی کسی Settlement(تصفیہ) کے لئے مجبور نہیں ہیں… ہم بڑا دل کرکے یہاں آئے تھے لیکن آپ معاملہ کو بڑھانا چاہتے ہیں تو ضرور بڑھائیں۔ ہم بھی اینٹ کا جواب پتھر سے دیں گے۔”
”ایاز حیدر! آپ بیٹھ جائیں میں نے آپ لوگوں کو صرف آمنے سامنے کے لئے نہیں ب?