Aaye Ishq Teri Khatir By Farwa Khalid Readelle50116 Last Episode
No Download Link
Rate this Novel
Last Episode
” رئیلی ایسی کون سی بات ہے. جس سے میں اتنا خوش ہو جاؤں گا.”
جاذل نے چہرے پر مصنوعی مسکراہٹ سجائے اُس کے گرد بازوؤں کا حصار قائم کیا تھا.
سونیا اپنے اتنے سارے گارڈز کی موجودگی میں بھی بے باکی کی انتہاؤں پر تھی.
” وہ بھی بہت جلد پتا چل جائے گی اتنی جلدی بھی کس بات کی ہے. “
سونیا جاذل کے ساتھ صوفے پر بیٹھتے بولی. جب دو تین گارڈز کے ساتھ برہان وہاں داخل ہوا تھا. برہان کے سر اور ہاتھوں پر ابھی بھی پٹی بندھی ہوئی تھی.
جاذل کا دل چاہا تھا ابھی اِس کی گردن دبوچ لے اور اِس سے ارحم کے بارے میں ہر بات اُگلوا لے. مگر برہان کو دیکھ وہ صرف مُٹھیاں بھینچ کر رہ گیا تھا. کیونکہ اِس وقت وہ کچھ نہیں کر سکتا تھا.
برہان کو دیکھ سونیا خوشی سے اپنی جگہ سے اُٹھتی اُس کی طرف بڑھی تھی.
برہان نے بھی گہری نگاہوں سے جاذل کی طرف دیکھا تھا.
” بھیا یہ ہے جاذل. وہ شخص جس سے میں بہت زیادہ پیار کرتی ہوں. یہ اِس دنیا کا وہ واحد شخص ہے جو میرے معیار پر پورا اترتا ہے. “
سونیا برہان کے بازو سے لگی جاذل کی طرف اشارہ کرتے بولی. جس پر برہان نے آگے بڑھتے جاذل کی طرف ہاتھ بڑھایا تھا.
” جاذل یہ میرے بھائی ہیں برہان. “
جاذل نے رسمی سی مسکراہٹ ہونٹوں پر سجائے اپنی جگہ سے کھڑے ہوتے اُس کے ہاتھ کو تھام لیا تھا.
” بہت اچھا لگا آپ سے مل کر مسٹر جاذل ابراہیم. سونیا نے بتایا آپ ایک بزنس مین ہیں. کیا ایسا ہی ہے. “
برہان کے چہرے کے تاثرات جاذل کو کافی حد تک مشکوک کر گئے تھے. پہلے سونیا اور اب برہان جاذل کی چھٹی حس اُسے کچھ غلط ہونے کا الارم دے رہی تھی. جاذل نے غیر محسوس انداز میں کلائی پر بندھی گھڑی کا بٹن پریس کر دیا تھا. جس میں موجود خفیہ سسٹم سے وہ ارتضٰی سے کنٹیکٹ کرسکتا تھا.
ورنہ یہاں داخل ہوتے وقت اُس سے موبائل فون اور باقی چیزیں لے لی گئی تھیں. یہ بظاہر نارمل دکھنے والی گھڑی اور ایک گن ابھی بھی جاذل نے خفیہ طور پر اپنے پاس چھپا رکھی تھی.
” سیم ہیئر. جی میں ایک بزنس مین ہوں. کیوں آپ کو یقین نہیں آرہا اِس بات پر. “
جاذل نے مسکراتے ہوئے استفسار کیا تھا.
” نہیں اب بہن آپ کے حوالے کرنے سے پہلے میں اتنا جاننے کا تو حق رکھتا ہوں نا.”
برہان کی بات پر جاذل نے چونک کر سونیا کی طرف دیکھا تھا. جو محبت لُٹاتی نظروں سے اُس کی طرف دیکھ رہی تھی.
” کیا مطلب میں سمجھا نہیں. “
جاذل نے ناسمجھی سے اُن دونوں بہن بھائیوں کی طرف دیکھا تھا. جس پر وہ دونوں ہی معنی خیزی سے مسکرا دیے تھے.
” ارے سونیا تم نے اِن کو ابھی تک بتایا نہیں کہ آج اور ابھی آپ دونوں کا نکاح ہے. “
برہان نے مسکراتے جو بات کی تھی. وہ جاذل کے لیے کسی خودکش حملے سے کم نہیں تھی.
اتنے شدید جھٹکے کے باوجود بھی جاذل نے اپنے چہرے کے تاثرات نارمل ہی رکھے ہوئے تھے.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
ارتضٰی جنرل یوسف کو کال کرکے تمام صورتحال سے آگاہ کر چکا تھا. اور اُنہیں جلد از جلد فورسز کو تیار کرنے کا کہا تھا. کیونکہ ابھی اور اِسی وقت اُسے ذی ایس کے پلازہ پر ریڈ کرکے ذوالفقار کا کام تمام کرنا تھا. اور ساتھ ہی اپنی ٹیم کو وہاں سے بحفاظت نکالنا تھا.
ارتضٰی مسلسل ماہ روش سے رابطے میں تھا. اُس نے ماہ روش کو مختصراً ساری بات بتا دی تھی. اور اُسے احتیاط سے اُوپر جانے کا آرڈر دے دیا تھا. تاکہ ذوالفقار کے اب تک کے کیے سارے کالے کرتوتوں کے ثبوت اکٹھے کر سکے.
اُن لوگوں کو اتنا تو کنفرم ہوچکا تھا کہ وہ سارے ثبوت اِس وقت ذی ایس کے پلازہ میں ہی موجود ہیں. ماہ روش کے اشارے پر ہی ارتضٰی نے آرمی اور رینجرز اہلکارز کو ذی ایس کے پر حملہ کرنے کا سگنل دینا تھا.
لیکن اپنی ٹیم کو مشکل میں دیکھ ارتضٰی باہر نہیں رہ سکتا تھا. اِس لیے وہ واپس گلزار کا گیٹ اپ اپناتے پلازہ میں داخل ہوچکا تھا. مگر وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ جاذل اِس وقت کس پورشن پر موجود ہے.
ارتضٰی کی فکرمندی میں مزید اضافہ تب ہوا تھا. جب اُسے زیمل کی گمشدگی کی خبر ملی تھی. مگر سوہا کی دی گئی انفارمیشن کے بعد وہ اتنا تو سمجھ چکا تھا کہ یہ کام ذوالفقار کا ہی ہے. اور اُسے کہیں نہ کہیں لگ رہا تھا کہ زیمل بھی یہی پر ہی موجود ہے.
اور پھر اگلے ہی کچھ منٹوں بعد اُسے ایک اہلکار کی طرف سے یہ پتا چلا تھا. کہ زیمل کے ہاتھ میں لگی چِپ اِسی جگہ کی لوکیشن شو کررہی ہے.
” میجر ارتضٰی سکندر تمہیں آج ہر صورت کامیاب لوٹنا ہوگا. مجھے آج ہر حال میں ذوالفقار زندہ سلامت تمام ثبوتوں کے ساتھ چاہئے. اور ہاں تم سمیت میرے باقی پانچ آفیسرز کو کچھ نہیں ہونا چاہئے.
اِس وقت تم پر بہت سے کاموں کی ذمہ داری ہے. اور میں چاہتا ہوں تم ہمیشہ کی طرح اِس مشن میں بھی سُرخرو لوٹو. کیونکہ یہ جنگ تم نے صرف اپنے ملک کی خاطر نہیں بلکہ اپنے خاندان کے اپنے باپ کی خاطر لڑنی ہے. تمہیں کچھ بھی کرکے اِسے جیتنا ہوگا. “
ارتضٰی کے کانوں میں ابھی تھوڑی دیر پہلے کی جنرل یوسف کی کہیں ساری باتیں گونج رہی تھیں. جو اُس کا حوصلہ کئی گنا بڑھا گئی تھیں.
ارتضٰی تک جاذل کی تمام گفتگو پہنچ رہی تھی. جاذل تو نہیں مگر ارتضٰی اب اُن دونوں بہن بھائیوں کی چلائے جانے والی چال اچھے سے سمجھ رہا تھا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
” اتنی جلدی نکاح مگر کیوں میری تو سونیا سے ایسی کوئی بات نہیں ہوئی. “
جاذل نے سونیا کی طرف سوالیہ انداز میں دیکھا تھا.
” جاذل میں تم سے پیار کرتی ہوں. تم مجھ سے کرتے ہو. نکاح تو ہم نے ایک دن کرنا ہی تھا نا تو پھر آج کیوں نہیں. “
سونیا صوفے پر اُٹھ کر جاذل کے قریب آتے بولی. جبکہ دوسری طرف ارتضٰی تک یہ ساری گفتگو بآسانی پہنچ رہی تھی.
” میں مانتا ہوں تمہاری بات ایسا ہی ہے. مگر اتنی جلدی یہ سب کیسے میں ابھی مینٹلی طور پر اِس بات کے لیے تیار نہیں ہوں. تمہیں اتنا بڑا فیصلہ لینے سے پہلے ایک بار مجھ سے ڈسکس تو کر لینا تھا. “
جاذل کا دل چاہا تھا اِس لڑکی کا ابھی اِسی وقت گلا دبا دے. وہ سوچ بھی کیسے سکتی تھی. کہ جاذل ابراہیم اپنی زیمل کے ساتھ اتنی بڑی نا انصافی کرے گا. چاہے مشن میں ہی سہی مگر جاذل کا دل ایسا کچھ ماننے کو تیار ہی نہیں تھا. زیمل کی جگہ وہ کسی کو نہیں دے سکتا تھا.
” جاذل یہی وجہ ہے انکار کی یا کوئی اور بات ہے. “
اچانک سونیا کی آنکھوں کا رنگ بدلہ تھا. اُس کی بات پر برہان نے بھی سوالیہ انداز میں جاذل کی طرف دیکھا تھا.
” کیا مطلب اور کیا ریزن ہوسکتا ہے. “
جاذل کو سونیا کا انداز کسی اور بات کی طرف اشارہ کررہا تھا.
” یہ تو تمہیں پتا ہوگا نا جاذل ابراہیم.”
برہان خاموشی سے جاذل کے ایکسپریشنز نوٹ کرنے میں لگا ہوا تھا.
” سونیا تمہیں اچانک ہو کیا گیا ہے. تم مجھے جانتی ہونا کہ میں کیسا ہوں. “
جاذل نے سونیا کا ہاتھ تھامتے سچویشن کو سنبھالنا چاہا تھا. کیونکہ وہ ابھی شیور نہیں تھا کہ یہ لوگ اُس کی سچائی جان چکے ہیں یا نہیں.
” یہی تو غلط فہمی تھی مجھے کہ میں جانتی ہوں تمہیں. “
سونیا نے معنی خیزی سے کہتے پاس کھڑے اپنے آدمی کو اشارے سے قریب بلایا تھا.
جس نے آگے بڑھتے نکاح کے پیپرز جاذل کے سامنے رکھ دیے تھے.
” سونیا تم اِس طرح زبردستی یہ سب نہیں کرسکتی. میں کسی صورت یہ سب نہیں کروں گا. “
جاذل غصے سے بھڑکا تھا.
سونیا نہیں جانتی تھی وہ کس کو بلیک میل کرنے کی کوشش کر رہی ہے.
” جاذل کول ڈاؤن اپنے جذبات پر قابو رکھو. “
جاذل اِس سے پہلے کے کچھ اور کہتا ارتضٰی کی تنبیہی آواز اُس کے کان میں لگے باریک سے مائیکرو فون میں سنائی دی تھی.
جاذل نے فوراً خود کو نارمل کیا تھا.
” ایسا تو تمہیں کرنا پڑے گا. پیار کرتی ہوں میں تم سے اب تم چاہ کر بھی مجھ سے دور نہیں جاسکتے.
اور تمہارے اِس انکار کا حل بھی موجود ہے میرے پاس. بلکہ ایک ایسا سرپرائز موجود ہے میرے پاس جسے دیکھ تم انکار کر ہی نہیں پاؤ گے. “
سونیا نے جاذل کے چہرے پر ہاتھ پھیرتے بے باکی سے کہا. جاذل کو بس نہیں چل رہا تھا اِس بے شرم لڑکی کی عقل ٹھکانے لگا دے.
جب سونیا کے اشارے پر اُس کے آدمی جس ہستی کو رسیوں میں جکڑے اندر لائے تھے اُسے دیکھ جاذل کے سامنے زمین آسمان گھوم گئے تھے.
” کیسا لگا میرا سرپرائز میجر جاذل ابراہیم. “
سونیا نے جاذل کی پھٹی پھٹی آنکھوں میں جھانکتے کہا.
زیمل کو رسیوں میں پوری طرح سے جکڑا گیا تھا. اور وہ خاموش نظروں سے جاذل کو سونیا کے ساتھ بیٹھے دیکھ رہی تھی.
” آپ کو کیا لگا تھا. میجر جاذل سونیا کو بے وقوف بنانا اتنا آسان ہے. ساری اصلیت جان گئی ہوں میں آپکی. جسے اپنا پی اے بنا کر ساتھ ساتھ رکھا وہ تو آپ کی محبت آپکی بیوی نکلی. بہت اچھا کھیل کھیلا ہے آپ نے میرے ساتھ.
اِس لیے اب میری باری ہے. بے شک آپ نے مجھ سے جھوٹی محبت کی ڈرامہ کیا ہو. مگر میں سچی محبت کرتی ہوں آپ سے. اِس لیے نکاح تو آپ کا مجھ سے ضرور ہوگا. اگر آپ نے انکار کیا تو آپ کی یہ پیاری بیوی جان سے جائے گی. “
جاذل سونیا کی بات سنتا خاموش نظروں سے زیمل کی طرف دیکھ رہا تھا. جو رسیوں میں جکڑے ہونے کے باوجود مسلسل نفی میں سر ہلاتے اُسے ایسا کچھ بھی کرنے سے روک رہی تھی. زیمل کے اُوپر تین تین آدمی گنز تانے کھڑے تھے. مگر اُسے پرواہ کہاں تھی. وہ تو بس جاذل کو اپنی آنکھوں کے سامنے کسی اور کا ہوتے نہیں دیکھ سکتی تھی.
سونیا کو جاذل کے اتنے قریب بیٹھا دیکھ زیمل کا دل چاہا تھا. ابھی اُس لڑکی کو شوٹ کردے.
زیمل آج صبح ریحاب سے ملنے گئی تھی. جب وہاں سے واپسی پر اُس کی گاڑی کو چار گاڑیوں نے گھیر لیا تھا. اور بہت مقابلے کے باوجود بھی زیمل کو اُن گاڑیوں میں سوار تیس لوگوں نے یرغمال بنا لیا تھا.
اور زیمل کو رسیوں میں جکڑ کر اُس کی آنکھوں پر پٹی باندھ کر ذی ایس کے پلازہ لایا گیا تھا.
مگر زیمل کو بلکل بھی آئیڈیا نہیں تھا کہ آگے اُس کو یہ سچویشن فیس کرنی پڑے گی.
جاذل زیمل کو اِس حال میں نہیں دیکھ سکتا تھا. اور ارتضٰی اِس بات سے اچھے سے واقف تھا. اِس لیے اِس سے پہلے کہ جاذل کوئی حرکت کرتا. ارتضٰی جلدی سے بول پڑا.
” جاذل وہ لوگ جو کہتے ہیں چپ کرکے کرتے جاؤ. یوں سمجھو ذیمل بلکل سیف ہے. تمہیں بس اُن کا دھیان بٹا کر ٹائم ضائع کرنا ہے.
مجھ پر بھروسہ رکھو وعدہ ہے میرا تم سے زیمل کو کچھ نہیں ہوگا. زیمل کے ساتھ دائیں طرف کھڑا شخص ارحم ہے. وہ زیمل کو کچھ نہیں ہونے دے گا. اور میں بھی تم لوگوں کے آس پاس ہی موجود ہوں.”
ارتضٰی کی آواز ایک بار پھر مائیکروفون سے اُبھری تھی. جس پر فوراً جاذل نے مختلف گیٹ اپ میں موجود زیمل پر گن تانے کھڑے ارحم کی طرف دیکھا تھا. جس نے آنکھوں کے اشارے سے اُسے اپنے ہونے کا یقین دلایا تھا.
” زیمل بھی ارحم کے بارے میں کچھ نہیں جانتی.”
ارتضٰی کی آواز اب مائیکروفون سے آنا بند ہوچکی تھی.
” جاذل آپ ایسا کچھ نہیں کریں گے. ورنہ میں آپ کو کبھی معاف نہیں کروں گی. “
زیمل جاذل کو پین اُٹھاتے دیکھ چلائی تھی.
مگر جاذل زیمل کو بچانے کی خاطر اپنی جان بھی قربان کر سکتا تھا اور یہ تو پھر بہت پیچھے آتا تھا.
سونیا کو زیمل کا چیخنا چلانا بہت مزا دے رہا تھا.
ارحم خاموش نظروں سے بس یہ منظر ہی دیکھ سکتا تھا. مگر اِس وقت زیمل کو کچھ بھی نہیں بتا سکتا تھا.
ارحم پچھلے تین دن سے ذی ایس کے کے آدمی کے گیٹ اپ میں ہی اِن سب کے درمیان موجود تھا.
اُس رات زیمل سے مل کر جب وہ گھر کے لیے نکل رہا تھا. تب اُس کو اپنے ایک آدمی سے خفیہ ٹھکانے پر جہاں برہان کو رکھا گیا تھا وہاں حملہ ہوجانے کا پتا چلا تھا. جس پر ایک سیکنڈ کی بھی دیر کیے ارحم وہاں پہنچا تھا.
لیکن جیسے ہی ارحم نے وہاں قدم رکھا دشمن اُس جگہ کو اپنے قبضے میں لے چکے تھے. اور پوری شدت سے ارحم پر گولیاں کی بوچھاڑ کر دی گئی تھی. لیکن ارحم نے اُن کی سازش اُنہیں پر ہی اُلٹ دی تھی. بہت ہی پُھرتی سے اپنی گاڑی سے نکل کر ارحم نے اُن کے ایک آدمی کو اپنے قبضے میں لے لیا تھا. اور اُس کے گیٹ اپ میں آتے ارحم نے اُسے مار کر گاڑی میں ڈال دیا تھا. گالی پر اتنی فائرنگ کی گئی تھی کہ آگ لگ جانے کی وجہ سے اندر موجود انسان کی ڈیڈ باڈی کی شناخت کرنا بھی مشکل ہوچکا تھا.
ذی ایس کے نے اپنے آدمیوں سے کہہ کر ارحم کی ڈیڈ باڈی بھی وہاں سے نکال لی تھی. تاکہ ایجنسی والے اُس کو گمشدہ سمجھ کر صرف اُس کی تلاش میں لگے رہیں. اتنا تو اُسے علم تھا کہ اِن لوگوں کے لیے اپنا ایک ایک آدمی کتنا قیمتی تھا. مگر وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ وہ ایک آدمی بھی اُس کو کتنا بڑا بے وقوف بنا گیا تھا.
اپنے ہی دشمن کو وہ اپنا آدمی سمجھ کر ساتھ لے آیا تھا. ارحم اپنی ٹیم سے رابطہ کرکے انہیں اپنی خیریت کا بتانا چاہتا تھا. اور سب سے زیادہ ٹینشن اُسے ریحاب اور اپنے پیرنٹس کی تھی. جن کا اُس کی گمشدگی کا سن کر کتنا بُرا حال ہوا تھا.
بہت کوششوں کے بعد بہت ہی محتاط انداز میں سب لوگوں سے چھپ کر ارحم کل ہی ارتضٰی سے رابطہ کرنے میں کامیاب ہوگیا تھا. اور اُس کے بارے میں جان کا ارتضٰی کو لگا تھا. اُس کی آدھے سے زیادہ ذمہ داری پوری ہوچکی ہے. ارحم کی آواز اور اُس کا کارنامہ سن کر ارتضٰی کا جوش مزید بڑھ چکا تھا.
اُسے ارحم کی ذہانت اور اُن کی چال بہت ہی بہادری سے اُن پر اُلٹنے پر اُس پر بہت زیادہ پراؤڈ فیل ہوا تھا.
بہت ہوشیاری کے ساتھ ارحم یہاں موجود تھا. اور یہاں کی بہت سی خبریں ارتضٰی تک پہنچا رہا تھا. کسی کو اُس پر زرا سا بھی شک نہیں ہو پایا تھا.
ارتضٰی نے ارحم کو جاذل اور زیمل کے حوالے سے الرٹ کردیا تھا. جس پر ارحم بہت مشکلوں سے زیمل تک پہنچنے میں کامیاب ہوا تھا. اور ارتضٰی کو زیمل کو پروٹیکٹ کرنے کی یقین دہانی کروائی تھی.
ارحم نے زیمل کو کوئی اشارہ نہیں دیا تھا. اُسے ابھی صحیح موقع کی تلاش تھی. کیونکہ وہ نہیں چاہتا تھا اُس کی زرا سی بھی غلطی زیمل کے لیے خطرے کا باعث بنے.
” جاذل رک جائیں آپ یہ نکاح نہیں کرسکتے. میں کبھی بات نہیں کروں گی آپ سے. “
زیمل بغیر کسی سے ڈرے اُونچی آواز میں چیخ رہی تھی.وہ کسی طرح بھی اُسے اِس عمل سے باز رکھنا چاہتی تھی. اُسے پرواہ نہیں تھی کہ وہ کتنے لوگوں کی بندوقوں کی ذد میں ہے.
مگر جاذل کو اِس وقت صرف زیمل کی زندگی عزیز تھی. وہ پیپرز کے اُوپر پین رکھ چکا تھا.
” واہ میجر تمہاری بیوی تو بڑی حسین ہے اور کافی بہادر بھی. کیا خیال ہے کچھ دنوں کے لیے میں اِسے اپنے پاس ہی نہ رکھ دوں. “
کب سے خاموشی سے بیٹھ کر ساری صورتحال انجوائے کرتے برہان نے ہوس بھری گندی نظروں سے زیمل کی طرف دیکھا تھا.
اُس گھٹیا شخص کی بات سنتے جہاں ارحم کا دل چاہا تھا. کہ بندوق کا رُخ زیمل سے ہٹا کر برہان پر کردے. وہیں میجر جاذل ابراہیم کا صبر بھی ختم ہوا تھا . وہ بنا سائن کیے پین کو وہیں پھینکتے زیمل کی طرف قدم بڑھاتے برہان پر جھپٹا تھا.
سونیا اچانک جاذل کے طیش میں آکر اُٹھنے پر اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی تھی.
” رک جاؤ جاذل ورنہ میں تمہاری بیوی کو مار دوں گی. “
جاذل برہان کو سنبھلنے کا موقع دیے بغیر اُس کو اپنے چند مکوں سے ہی بے حال کر چکا تھا.
جب سونیا کی پکار پر وہ پلٹا تھا.
سونیا جو زیمل پر بندوق تانے کھڑی تھی. جاذل کو نہ رُکتے دیکھ زیمل پر گولی چلا دی تھی.
مگر اُس سے پہلے ہی اُنہیں کے آدمیوں کے بھیس میں موجود زیمل پر گن تانے کھڑے ارحم نے زیمل کا بازو پکڑ کر دوسری جانب کھینچا تھا. اور زیمل کی رسی کی ڈھیلی سی باندھی گئی گِرا کھول دی تھی.
زیمل جلدی جلدی رسیاں خود پر سے ہٹانے لگی تھی.
سونیا اور برہان کے آدمی اُن پر فائرنگ کھول چکے تھے. مگر وہ وہاں پڑے فرنیچرز کے پیچھے چُھپتے اُن کی فائرنگ کا پورا پورا جواب دے رہے تھے. زیمل بھی خود کو رسیوں سے آزاد کرواتی ارحم کی پھینکی گن اُٹھاتے بہادری سے مقابلہ کر رہی تھی.
سونیا اچانک بدل جانے والے اِس منظر پر ہکا بکا رہ گئی تھی. جاذل برہان کو بُری طرح سے پیٹ کر زمین پر پھینک کر اپنی گن نکالتا سونیا کی طرف بڑھا تھا. جو پیچھے سے آکر زیمل پر نشانہ باندھ چکی تھی.
مگر اُس کے گولی چلانے سے پہلے ہی جاذل سونیا پر گولی چلا چکا تھا. سونیا نے پھٹی پھٹی آنکھوں سے جاذل کی طرف دیکھا تھا. اور اگلے ہی لمحے لڑکھڑا کر زمین بوس ہوئی تھی. گولیوں کی آواز پر باہر سے بہت سے گارڈز اندر داخل ہوئے تھے.
اُسی لمحے ارتضٰی کے اشارے پر فورسز کے اہلکار ذی ایس کے پلازہ میں داخل ہوگئے تھے. جاذل, زیمل اور ارحم کو پوری بہادری کے ساتھ اُن کا مقابلہ کر رہے تھے. وہاں سچویشن انڈر کنٹرول دیکھ ارتضٰی ماہ روش کی طرف بڑھا تھا.
کیونکہ وہ ذوالفقار کو ہڑبڑاہٹ میں اُوپر جاتے دیکھ چکا تھا. جسے اپنی جان اور اپنا ریکارڈ اتنا عزیز تھا کہ وہ حملہ ہوجانے پر اپنی اولاد کو خطرے میں جھونکتا وہاں سے بھاگنے کے چکروں میں تھا.
کیونکہ اُس کے آرڈر پر بلڈنگ کی چھت پر ہیلی کاپٹر تیار ہو چکا تھا.
مگر وہ نہیں جانتا تھا. اِس بار اُس کا پالا ارتضٰی سکندر اور اُس کی ٹیم سے پڑا تھا. جن کے ہاتھوں سے بچ نکلنا اب اُس کے بس کی بات نہیں تھی.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
ماہ روش بہت ہی ہوشیاری سے اپنی ذہانت کا استعمال کرتی اور ارتضٰی کی مسلسل ملتی ہدایات کو فالو کرتے ذوالفقار کی خفیہ لائبریری تک پہنچ چکی تھی.
مگر پچھلے پندرہ منٹ سے بہت ساری فائلز کنگھالنے کے باوجود وہ اب تک ذوالفقار کے خلاف ثبوت نہیں ڈھونڈ پائی تھی.
الماریوں میں سے فائلز باہر پھینکتے اچانک ماہ روش کو محسوس ہوا تھا جیسے الماری کے پیچھے والی دیوار میں کچھ عجیب پن تھا. وہاں موجود باقی فائلز بھی نیچے گراتے ماہ روش نے اُس دیوار پر دباؤ ڈالتے اُسے ہلانا چاہا تھا.
جب اُس کی بہت بار کی کوشش سے کافی دیر بعد جاکر وہ لکڑی کی بنائی گئی دیوار وہاں سے زرا سی کھسکی تھی. جسے دیکھ ماہ روش کے چہرے پر مسکراہٹ بکھری تھی. ماہ روش نے ہمت نہ ہارتے اپنی ساری طاقت صرف کرتے اُسے ویسے ہی پیچھے کی طرف کھسکانا شروع کردیا تھا.
جیسے ہی ماہ روش وہ دیوار ہٹانے میں کامیاب ہوئی. سامنے ایک اور لاکر موجود تھا. جسے دیکھ ایک پل کے لیے ماہ روش پریشان ہوئی تھی.
مگر پھر کچھ سوچتے ماہ روش نے ارتضٰی کی دی گئی جدید طرز سے بنائی گئی چابی کو ﷲ کا نام لیتے اُس میں ڈال دی تھی.
چابی کو گھماتے ہی کلک کی آواز پر وہ لاکر کھلتا چلا گیا تھا. ماہ روش ارتضٰی کا سوچ کر مسکرائی تھی. جو اُس کے ساتھ موجود نہ ہوکر بھی اُس کے ساتھ تھا.
ماہ روش نے ہاتھ بڑھاتے اُس لاکر میں موجود بہت ساری فائلز میں سے ایک اُٹھا کر کھولی تھی. جسے دیکھ ماہ روش کی خوشی کا ٹھکانہ نہیں رہا تھا. وہ ذوالفقار کے خلاف تمام ثبوت حاصل کرنے میں کامیاب ہوچکی تھی.
اِس سے پہلے کہ ماہ روش وہ ساری فائلز وہاں سے نکالتی اپنے پچھے ذوالفقار کی آواز سنتے وہ جھٹکے سے پلٹی تھی.
” تم یہاں؟. تو اِس کا مطلب تم بھی اِن لوگوں کے ساتھ ملی ہوئی ہو. آخر ثابت کر ہی دیا نا کہ تمہارا تعلق اُسی گھٹیا خاندان سے ہے. “
ماہ روش کو سامنے دیکھ ذوالفقار کے چہرے کا رنگ بدلا تھا. مگر اُس کے ہاتھ میں پکڑی فائل دیکھ کر ذوالفقار کی آنکھوں میں نفرت بھر گئی تھی. وہ سمجھ گیا تھا کہ ماہ روش بھی اِن لوگوں کے ساتھ ملی ہوئی ہے. اور اتنے سالوں بعد اچانک اُس کے پاس آنے کا مقصد بھی یہی تھا.
” سب کے منع کرنے کے باوجود اپنے گھر میں ہی آستین کا سانپ پالتا رہا. اپنے باپ کو دھوکہ دے کر ٹھیک نہیں کررہی تم. ابھی بھی وقت ہے میرا ساتھ دو. زندگی بچ سکتی ہے تمہاری.”
ذوالفقار ہاتھ میں پستول تھامے ماہ روش کی طرف بڑھتے بولا.
” گِھن آتی ہے مجھے اب اِس باپ نام کے لفظ سے بھی. نہیں مانتی میں تم جیسے درندے صفت انسان کو اپنا باپ. اور اگر مجھے زندگی پیاری ہوتی تو آج یہاں موجود نہ ہوتی. انسانیت کے ناطے میرا مشورہ ہے تمہیں سرینڈر کر دو. ورنہ تمہارا انجام اِس سے بھی زیادہ درد ناک ہوگا.”
ماہ روش نے ذوالفقار کو خود پر گن تانے دیکھنے کے باوجود بھی بنا ڈرے جواب دیا تھا.
جب اُس کے اتنے نڈر انداز پر ذوالفقار حیران رہ گیا تھا.
” اگر تم یہ سمجھ رہی ہو کہ میں تم پر گولی نہیں چلاؤں گا تو یہ تمہاری بھول ہے. میرے لیے اِن سب سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے. “
ذوالفقار کی بات پر ماہ روش ہنسی تھی.
” مجھے تم سے متعلق ایسی کوئی غلط فہمی نہیں ہے. میں اچھے سے جانتی ہوں تمہارے لیے پیسوں اور طاقت سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے. ہاں مگر نیچے تمہاری باقی کی وہ جائز اولاد اِسی غلط فہمی میں ماری گئی. کہ شاید تم اُنہیں بچانے آؤ گے. “
ماہ روش کے پاس اِس وقت کوئی ہتھیار موجود نہیں تھا. مگر پھر بھی اُس کے چہرے پر خوف شبہ تک موجود نہیں تھا. وہ بس اتنا چاہتی تھی کہ ارتضٰی جلد از جلد یہاں پہنچ کر ذوالفقار کو اُس کے خلاف موجود تمام ریکارڈ کے ساتھ اُسے اریسٹ کرلے.
جبکہ والفقار کی گرفت پسٹل پر سخت تھی. اور وہ کسی بھی وقت گولی چلا سکتا تھا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
ارتضٰی جلدی سے اُوپر والے پورشن میں پہنچا تھا. جب اُسے وہاں ایک طرف سے ہمایوں آتا دکھائی دیا تھا. اور ارتضٰی کے اندر کی آگ کل رات والا واقعہ سوچ پھر سے بھڑک اُٹھی تھی. اگر سوہا والا معاملہ شروع نہ ہوتا تو ارتضٰی آج صبح ہی سب سے پہلے ہمایوں کا کام تمام کرنے کا ارادہ رکھتا تھا. اُس معاملے میں اِس بُری طرح اُلجھا تھا کہ ہمایوں کو سبق نہیں سیکھا پایا تھا.
مگر دیر ابھی بھی نہیں ہوئی تھی.
ہمایوں ارتضٰی کو گلزار سمجھتے اُس کی طرف بڑھا تھا.
” گلزار جلد از جلد میرا اور بابا کا یہاں سے نکلنے کا انتظام کرو. جلدی کرو. وہ لوگ کسی بھی وقت اُوپر پہنچتے ہوں گے. “
ہمایوں کی نادانی پر ارتضٰی مسکرایا تھا. جبکہ اپنی اتنی پریشانی کے جواب میں ایسے ردعمل پر ہمایوں نے اچنبھے سے ارتضٰی کو گھورا تھا.
مگر ارتضٰی کے چہرے پر موجود پراسراریت اُسے کسی اور بات کا پتا دے رہی تھی.
” کک کون ہو تم.”
ارتضٰی کو آنکھوں میں دہشت بھرے اپنی طرف بڑھتے دیکھ ہمایوں کی آواز خوف سے کانپی تھی. کیونکہ ارتضٰی اپنے چہرے پر چڑھایا ماسک اُتار چکا تھا.
” تمہارا باپ میجر ارتضٰی سکندر. “
ارتضٰی نے ایک زور دار پنچ ہمایوں کے منہ پر دے مارا تھا. جس کی شدت اتنی سخت تھی. کہ ہمایوں زمین پر جاگرا تھا اور اُسے اپنے اگلے دانت ٹوٹتے ہوئے محسوس ہوئے تھے.
اُس نے اُٹھ کر کھڑے ہوتے ارتضٰی پر جوابی حملہ کرنا چاہا تھا. مگر ارتضٰی نے اُسے ایسا کوئی بھی موقع دیے بغیر اُس بُری طرح پیٹ ڈالا تھا.
جب ارتضٰی کو لگا کہ اب اُس میں جان تقریباً ختم ہونے والی ہے تو اُسے آدھ موا حالت میں زمین پر پھینکتے ماہ روش کی طرف بڑھا تھا. اُسے اندر سے گولی کی آواز سنائی دی تھی. ارتضٰی وہاں گرے آدمیوں اور چیزوں سے پھلانگتا جلدی سے اندر داخل ہوا تھا.
لیکن سامنے کا منظر دیکھتے ارتضٰی ماہ روش کی طرف بڑھا تھا. ذوالفقار نے ماہ روش پر گولی چلا دی تھی. جو ماہ روش کے یکدم سائیڈ پر ہوجانے کی وجہ سے مِس ہوگئی تھی.
ذوالفقار دوبارہ ماہ روش پر گولی چلانے والا تھا جب ماہ روش نے پھر سے سائیڈ پر ہونا چاہا تھا. ماہ روش ارتضٰی کا انتظار کرتی جان بوجھ کر ٹائم ویسٹ کررہی تھی. مگر ماہ روش کا پاؤں وہاں پڑی ایک رسی میں اُلجھ گیا تھا.
“اب کیسے بچو گی میری پیاری بیٹی.”
اُس کو وہاں بے بس ہوتا دیکھ ذوالفقار نے خوش ہوتے زور دار قہقہہ لگایا اور ماہ روش پر گولی چلا دی تھی. مگر ماہ روش کو لگنے سے پہلے ہی ارتضٰی نے اُس کو اپنے حصار میں لیتے اپنے چوڑے وجود کے پیچھے چھپالیا تھا. جس کی وجہ سے یکے بعد دیگر دو گولیاں ارتضٰی کے کندھے اور بازو میں پیوست ہوئی تھیں.
” ارتضٰی .”
ماہ روش ارتضٰی کا خون نکلتا دیکھ چیخی تھی.
ارتضٰی سکندر کو اپنے سامنے دیکھ ذوالفقار مزید بوکھلا گیا تھا. کیونکہ ارتضٰی گلزار کے گیٹ اپ سے کافی حد تک باہر آچکا تھا. ذوالفقار کی بوکھلاہٹ کا فائدہ اٹھاتے. ارتضٰی نے بنا اپنے زخمی ہونے کی پرواہ کیے. اُس کے دونوں بازوؤں پر فائر کرتے بے بس کیا تھا.
” ارتضٰی آپ کا خون بہت زیادہ بہہ رہا ہے. پلیز آپ اِس بازو کو زیادہ موو مت کریں. “
ارتضٰی کے بازو اور کندھے سے فوارے کی طرح خون نکل رہا تھا. مگر اُس کو اِس وقت اپنے درد کی زرا برابر پرواہ نہیں تھی.
مگر ماہ روش نے ارتضٰی سے زبردستی گن چھین لی تھی تاکہ وہ اپنے دائیں بازو کو زیادہ نہ ہلا سکے. ارتضٰی کو ماہ روش کی طرف متوجہ دیکھ ذوالفقار نے وہاں سے فرار ہونا چاہا تھا.
مگر وہ دونوں ہی اُس کی اِس حرکت سے باخبر تھے.
” وہی رُک جاؤ ذوالفقار ورنہ ٹھیک نہیں ہوگا.”
ماہ روش کی بات پر توجہ دیے بغیر ذوالفقار نے جلدی سے وہاں سے بھاگنا چاہا تھا مگر ماہ روش کی چلائی گئی گولی ٹانگ پر لگنے کی وجہ سے وہ لڑکھڑا کر نیچے جا گرا تھا.
نیچے گرتے ہی اُس کی آنکھوں میں اپنے دردناک انجام کا خوف نمایاں تھا.
” تم لوگ یہ ٹھیک نہیں کر رہے. چھوڑوں گا نہیں میں تم لوگوں کو. ارتضٰی سکندر پہلے تو صرف تمہاری پھوپھو کا حشر بگاڑا تھا. مگر اب تمہارے پورے خاندان کا وہی حال کروں گا. جن کا انجام دیکھ اپنے باپ کی طرح تم بھی موت کو گلے لگانے کو تیار ہوجاؤ گے. “
ذوالفقار جانتا تھا آئی ایس آئی کے ہاتھ لگنے کے بعد اب اُس کا کتنا عبرت ناک انجام ہونے والا ہے. اِس لیے اُس نے ارتضٰی کو غصہ دلانا چاہا تھا. تاکہ طیش میں آکر وہ اُسے مار دے.
لیکن وہ ارتضٰی سکندر کو ٹھیک سے جانتا نہیں تھا ابھی.
” مان گیا میں تمہیں ذوالفقار صمد خان. بہت ہی شاطر اور گھٹیا دماغ پایا ہے تم نے. کاش کے اِس کے انعام کے طور پر میں تمہیں اتنی آسان موت دے سکتا.
مگر نہیں اتنی جلدی تمہیں ختم کرکے جہنم میں نہیں بھیجنا چاہتا. ابھی تو تمہیں اور تمہاری اولاد کو تم لوگوں کے ہر ظلم کا حساب سود سمیت لوٹانا ہے. پھر تمہاری یہ مرنے کی خواہش بھی پوری کر دوں گا. “
ارتضٰی ذوالفقار کے منہ کو سختی سے اپنے ہاتھ میں دبوچے ہوئے تھا. جس سے ذوالفقار کو اپنا جبڑہ ٹوٹتا ہوا محسوس ہوا تھا.
اِس سے پہلے کے ارتضٰی اُس کو مزید اپنے قہر کا نشانہ بناتا رینجرز اور آرمی کے اہلکار وہاں پہنچ چکے تھے.
ارتضٰی کے اشارے پر اُنہوں نے ذوالفقار کے دونوں ہاتھوں میں ہتھکڑیاں پہنا دی تھیں.
” بہت جلد ٹارچر سیل میں ملاقات ہوتی ہے تم سے ذی ایس کے. میرا انتظار کرنا. “
ارتضٰی کی آنکھوں میں موجود انتقام کی آگ میں ذوالفقار کو اپنا عبرت ناک انجام صاف نظر آرہا تھا. اور زندگی میں پہلی بار اُس نے خوف کھاتے اپنی جلد از جلد مر جانے کی دعا مانگی تھی.
” ارتضٰی اب پلیز آپ چلیں ہاسپٹل آپ کا خون بہت زیادہ بہہ گیا ہے. آپ کو خطرہ ہوسکتا ہے پلیز. “
ماہ روش ارتضٰی کی بگڑتی حالت پر روتے ہوئے بولی. مگر ارتضٰی ایک بار اپنی آنکھوں سے اپنی ٹیم کے باقی لوگوں کو بھی صحیح سلامت دیکھنا چاہتا تھا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
میجر ارتضٰی سکندر اور اُس کی ٹیم اپنے سب سے بڑے اور مشکل ترین مشن میں کامیاب ہوچکی تھی.
جنرل یوسف سے کیے گئے عہد کے مطابق ارتضٰی نے ناصرف ذوالفقار اور اُس کے بچوں کو تمام ثبوتوں کے ساتھ زندہ گرفتار کیا تھا.
بلکہ اپنی ٹیم کے کسی بھی ممبر پر زرا سی آنچ بھی نہیں آنے دی تھی. مگر بہت زیادہ خون بہہ جانے کی وجہ سے ارتضٰی کی حالت تشویش ناک تھی.
ٹی وی, سوشل میڈیا ہر طرف ذی ایس کے جیسے ناسور کو جڑ سے مٹا دیئے جانے کی نیوز چل رہی تھیں. مگر ہمیشہ کی طرح اپنی جان پر کھیل کر اتنا خطرناک مشن کرنے والے اُن گمنام ہیروز نے اپنی شناخت گمنام ہی رکھی تھی.
پوری عوام میں اتنی اچھی خبر سن کر خوشی کی لہر دوڑ گئی تھی. نجانے کتنے ہی خاندانوں کو نئی زندگی مل گئی تھی. سب لوگ اپنے اِن گمنام ہیروز کو تو نہیں جانتے تھے. مگر اُن کے دل سے اُن سب کی سلامتی اور خوشیوں کی دعائیں نکل رہی تھیں.
ارتضٰی کی وجہ سے وہ سب لوگ سیدھا ہاسپٹل میں آئے تھے. ماہ روش کا رو رو کر بُرا حال تھا. ارتضٰی نے اُسے بچانے کے لیے خود کو قربان کیا تھا. ارتضٰی اپنے کیے گئے وعدے پر پورا اُترا تھا. مگر ماہ روش کو لگ رہا تھا کہ اگر تھوڑی دیر مزید ارتضٰی کے ہوش میں آنے کا پتا نہ چلا تو اُس کی سانس بند ہوجائے گی.
ارحم کو ابھی تھوڑی دیر پہلے جاذل نے گھر بھیج دیا تھا. کیونکہ اُس کے گھر والے بھی اُس کی وجہ سے بہت پریشان تھے. ارحم ارتضٰی کو اِس حالت میں چھوڑ کر نہیں جانا چاہتا تھا. مگر پھر گھر والوں کا خیال آتے جاذل کو ارتضٰی کے حوالے سے اپڈیٹ دینے کا کہتے وہاں سے نکل آیا تھا.
ارحم کو بھیج کر جاذل نے کن اکھیوں سے زیمل کی طرف دیکھا تھا. جس نے اُس سے ایک بار بھی بات نہیں کی تھی. اور مسلسل اُسے اگنور کیے ہوئے تھی.
زیمل ماہ روش کے پاس بیٹھی تھی. اِس لیے جاذل نے اُسے مخاطب نہیں کیا تھا. کیونکہ وہ جانتا تھا مشن میں جو حرکت میں کرنے جارہا تھا. وہاں سے تو جان بچ گئی تھی مگر اب زیمل سے بچنا کافی مشکل تھا. وہ جاذل کو ایسے اگنور کیے ہوئے تھی جیسے وہ وہاں پر موجود ہی نہ ہو.
جاذل اُس سے آرام سے بات کرنے کے موڈ میں تھا. لیکن اِس وقت جاذل کا دل صرف اور صرف ارتضٰی کی فکر میں بے چین ہورہا تھا. جس کا آپریشن جاری تھا.
ارتضٰی نے آج ایک ٹیم لیڈر ہونے کا پورا حق ادا کیا تھا. وہ اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر پہلے اُن سب کے پاس موجود رہا تھا. اور اُنہیں ہر لحاظ سے گائیڈ کرتا رہا تھا. جب وہاں سے تمام حالات انڈر کنٹرول ہوئے تو وہ ماہ روش کو خطرے میں دیکھ اُوپر کی طرف بڑھ گیا تھا.
ارتضٰی کے بغیر وہ لوگ شاید اتنی کامیابی سے یہ مشن کبھی نا پورا کر پاتے.
نور پیلس میں اِس بارے میں سب کو لاعلم ہی رکھا گیا تھا. کیونکہ اُن کے مطابق ارتضٰی اور ماہ روش اِس وقت فارم ہاؤس پر ہی موجود تھے.
ارتضٰی نہیں چاہتا تھا کہ وہ لوگ کسی طرح کی بھی بُری خبر سن کر پریشان ہوں. اِسب لیے اُس کا ارادہ گھر جاکر ہی سب کو سچ بتانے کا تھا. حواس کھوتے وقت بھی ارتضٰی نے ماہ روش کو کسی کو بھی بتانے سے منع کیا تھا.
ماہ روش کو لگتا تھا کہ اُس کا عشق ارتضٰی سکندر کے لیے لمحہ بہ لمحہ بڑھتا جا رہا تھا. جس شخص کو اپنی اتنی تکلیف میں بھی اپنے گھر والوں اپنی ٹیم کا خیال تھا.
اُس کا کھڑوس مگر بہت پیارا دل رکھنے والا میجر ہر معاملے میں ہمیشہ پرفیکٹ ہی تھا. اِسی وجہ سے تو اُوپر والا بھی ہمیشہ ہر کام میں اُسے سُرخرو کرتا تھا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
صائمہ بیگم اور آصف صاحب سے مل کر ارحم جلدی سے ریحاب کی طرف بڑھا تھا. کیونکہ اُن کی طرف سے ریحاب کی خراب طبیعت کا سن ارحم بہت زیادہ پریشان اور فکرمند ہوا تھا.
ارحم نے روم میں داخل ہوتے بیڈ پر لیٹی ریحاب کی طرف بڑھا تھا. ریحاب پر نظر پڑتے ہی ارحم کو لگا تھا جیسے کسی نے اُس کا دل مُٹھی میں جکڑ کر مسل دیا ہو.
ریحاب تین دنوں میں ہی اُسے صدیوں کی بیمار لگی تھی. ارحم کو زرا اندازہ نہیں تھا کہ اُس کی گمشدگی کا ریحاب پر اتنا بُرا اثر پڑے گا. ارحم نے ریحاب کے پاس بیٹھتے اُس کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں لیتے اُس کی پیشانی چوم لی تھی. اور باری باری اُس کی دونوں آنکھوں پر ہونٹ رکھے تھے. ریحاب جو دوائیوں کے زیرِ اثر گہری نیند میں تھی. ارحم کا پرشدت لمس اپنے چہرے پر محسوس کرتے اُس کا ذہن بیدار ہوا تھا.
جب بہت کوششوں کے بعد ریحاب اپنی بوجھل پلکوں کو کھولنے میں کامیاب ہوگئی تھی.
ارحم کو سامنے دیکھ ریحاب کی آنکھوں میں ایک پل کے لیے چمک اُبھری تھی. مگر اگلے ہی لمحے وہاں اُداسی پھیل گئی تھی. ریحاب نے اپنی نم آنکھیں واپس بند کردی تھیں.
ارحم نے حیرانی سے ریحاب کی یہ کیفیت نوٹ کی تھی. وہ ریحاب کی ذہنی حالت کچھ کچھ سمجھ رہا تھا. شاید ریحاب اُس کی وہاں موجودگی اپنا وہم سمجھ رہی تھی.
” ارحم پلیز واپس آجائیں. میں اب بھول چکی ہوں آپ کے بغیر جینا. مر جاؤں گی میں. “
ریحاب کی بڑبڑاہٹ بہت مشکل سے ارحم کے کانوں تک پہنچ پائی تھی. ریحاب کی بند آنکھوں سے آنسو ٹوٹ کر گرے تھے. جنہیں ارحم نے فوراً ہاتھ بڑھاتے اپنی پوروں پر چن لیا تھا.
” ریحاب میری جان میں بلکل ٹھیک ہوں. اور زندہ سلامت تمہارے سامنے موجود ہوں. کہیں نہیں جاؤ گا اب. تم ایک بار آنکھیں تو کھولو. “
ارحم کی محبت بھری پکار پر ریحاب نے فوراً سے آنکھیں کھولی تھیں. اور ارحم کو مسکراتا دیکھ جھٹکے سے اُٹھ کر بیٹھتی اُس کے چہرے کی طرف ہاتھ بڑھایا تھا.
جیسے یقین کرنا چاہتی ہو وہ واقعی میں اُس کے پاس موجود ہے یا یہ پھر اُس کا کوئی وہم ہے.
مگر اِس بار تو اُس کے چھونے پر بھی ارحم وہاں سے غائب نہیں ہوا تھا. ریحاب دیوانوں کی طرح ارحم کے چہرے کے ایک ایک نقوش کو چھوتی اُس کے ہونے کا یقین کررہی تھی.
جیسے ہی اُسے اِس بات کا یقین ہوا کہ یہ اُس کا وہم نہیں ارحم سچ میں اُس کے پاس موجود ہے. تو ریحاب روتی آنکھوں کے ساتھ مسکراتی ارحم کے سینے سے جالگی تھی.
ریحاب کو لگا تھا جیسے اُسے واپس سانسیں مل گئی ہوں. اُس کا مردہ دل ایک بار پھر جی اُٹھا تھا. اُس کا دل خوشی سے جھوم اٹھا تھا.
اُس کی دعائیں سن لی گئی تھیں. ارحم لوٹ آیا تھا.
ارحم جو حیرت سے ریحاب کی اپنے لیے بے پناہ محبت اور اُس کا پاگل پن دیکھ رہا تھا. اُس کے سینے سے لگنے پر ارحم نے بھی اُس کے گرد بازو پھیلاتے اُسے خود میں بھینچ لیا تھا. اور اُس کے کھلے بالوں میں اُنگلیاں چلاتے اُس کو دل سے محسوس کرنے لگا تھا.
ریحاب کافی دیر تک ارحم کے سینے سے لگی آنسو بہاتی رہی تھی. جب کافی دیر بعد خیال آنے پر اُس سے الگ ہونا چاہا تھا. مگر ارحم نے ایسا نہیں کرنے دیا تھا.
” اوہہم یار مجھے تو پتا ہی نہیں تھا کہ میرے بیوی مجھ سے اتنا پیار کرتی ہے. “
ارحم نے ریحاب کے بال گردن سے ہٹاتے اپنے لب رکھے تھے.
ریحاب اُس کے لمس پر کسمسائی تھی.
” آپ کہاں تھے تین دن. ایک بار بھی مجھے کال نہیں کی. ایک بار تو بات کرکے بتا دیتے. آپ نہیں جانتے میں نے یہ تین دن کتنی اذیت میں گزارے ہیں. “
ریحاب نے ارحم کی ڈھیلی پڑتی گرفت سے نکلتے شکوہ کناں انداز میں اُس کی طرف دیکھا تھا.
” سویٹ ہارٹ. کل رات آیا تو تھا. مگر تمہیں اپنی نیند اتنی پیاری تھی. کہ مجھے کوئی لفٹ ہی نہیں کروائی. تو میں مایوس ہوکر واپس لوٹ گیا. “
ارحم نے آنکھوں میں شرارت بھرے بےچارہ سا منہ بناتے کہا تھا. جب اُس کی بات سنتے ریحاب نے غصے اور بے یقینی سے آنکھیں پھاڑے اُسے دیکھا تھا.
” مطلب کل رات میرا وہم نہیں تھا. آپ سچ میں میرے پاس آئے تھے. ارحم آپ کتنے بڑے چیٹر ہیں. مجھے جگائے بغیر مجھ سے بات کیے بغیر خاموشی سے آئے اور چلے بھی گئے. “
ریحاب کو اُس کی مسکراہٹ پر مزید تپا گئی تھی. جس پر اُس نے ارحم کے بال اپنی دونوں مٹھیوں میں نوچ لیے تھے.
ارحم اُس کے انداز پر ہنستے اپنا بچاؤ کرتا رہ گیا تھا. اور اگلے ہی لمحے ریحاب کو بازو سے تھام کر بہت ہی نرمی سے بیڈ پر لٹاتے اُس پر جھک گیا تھا.
” اُس دن تو میں اپنا گفٹ نہیں لے پایا مگر آج اپنی پسند کا گفٹ ہر حال میں وصول کرکے ہی رہوں گا. “
ارحم ریحاب کی کان کی لوح چومتے سرگوشیانہ لہجے میں بولا تھا.
جب اُس کا بہکا انداز ریحاب کی دھڑکنیں منتشر کر گیا تھا.
” میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے. “
ریحاب نے گھبراتے ہلکا سا احتجاج کیا تھا. ورنہ دل تو آج اِس شخص کی قربت کا خواہاں تھا.
” وہیں تو ٹھیک کرنا چاہ رہا ہوں. “
ارحم نے ریحاب کے بال گردن سے ہٹاتے وہاں لب رکھ دیے تھے.
جب اُس کے شدت بھرے انداز پر ریحاب نے زور سے آنکھیں میچ لی تھیں.
” ابھی تھوڑی دیر پہلے تو بڑا پیار جتایا جارہا تھا. اب کیا ہوا. “
ارحم ریحاب کے سُرخ پڑتے چہرے کی طرف دیکھتا شوخی سے بولا تھا.
جس پر ریحاب نے شرماتے اُس کے سینے میں منہ چھپا لیا تھا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
ماہ روش کو تھوڑی دیر پہلے ڈاکٹرز نے ارتضٰی کا آپریشن کامیاب ہونے کی خبر دیتے جیسے زندگی کی نوید سنا دی تھی.
ڈاکٹرز کے مطابق کچھ دیر تک ارتضٰی کو ہوش آجانا تھا. جس کا ماہ روش کو شدت سے انتظار تھا. ماہ روش زیمل کو بتاتی شکرانے کے نوافل پڑھنے چلی گئی.
جب وہ نوافل ادا کرکے لوٹی تو زیمل کو کوریڈور میں اپنا انتظار کرتا پایا.
” ماہی جلدی سے اندر جاؤ. ورنہ ارتضٰی سر نے بیڈ سے اُٹھ کر تمہیں ڈھونڈنے نکل پڑنا ہے.”
زیمل نے ماہ روش کو دیکھ چھیڑا تھا. کیونکہ ارتضٰی کو ہوش میں آئے پندرہ منٹ ہوچکے تھے. اور وہ کوئی پچاس بار ماہ روش کا پوچھ چکا تھا.
زیمل کی بات پر ماہ روش نے اُسے مصنوعی گھوری سے نوازتے قدم اندر کی طرف بڑھا دیے تھے.
ماہ روش دبے قدموں آنکھیں موندے لیٹے ارتضٰی کے بیڈ کی طرف بڑھی تھی. ماہ روش کی نظر ارتضٰی کے خوبرو چہرے پر تھی. اور ہمیشہ کی طرح اُس کے دل میں ایک خیال گزرا تھا کہ کوئی مرد اتنا خوبصورت اور پرفیکٹ کیسے ہوسکتا ہے.
ارتضٰی کے گھنے سیاہ بال اُس کی پیشانی پر بکھرے ہوئے تھے. ماہ روش کو اپنا اسیر بنانے والی اُس کی سحر ذدہ آنکھیں اِس وقت بند تھیں. مغرور کھڑی ناک, عنابی مضبوط ہونٹ ایک دوسرے میں پیوست اِس وقت بلکل ساکت تھے.
ماہ روش نے ہاتھ بڑھاتے اُس کے گڑھوں والی جگہ کو چھوا تھا. جب ارتضٰی کے چہرے پر اچانک اُبھرتی مسکراہٹ دیکھ ماہ روش نے جلدی سے ہاتھ پیچھے کھینچا تھا. مگر اُس سے پہلے ہی ارتضٰی اُس کا ہاتھ اپنی گرفت میں قید کرچکا تھا.
” یار یہ کیا دور دور سے پیار کررہی ہو. زرا قریب آکر طبیعت پوچھو میری. “
ارتضٰی ماہ روش کو وارفتگی سے دیکھتا بولا.
آج اُس کی زندگی کا سب سے بڑا مقصد پورا ہوچکا تھا. بغیر کسی نقصان اور مزید کسی قربانی کے وہ ذی ایس کے کو اُس کے انجام تک پہنچا چکے تھے. ارتضٰی آج بہت خوش تھا. دنیا کی ساری خوشیاں اُس کے پاس تھیں جن میں سب سے بڑی خوشی اُس کی ماہ روش تھی.
” آپ جیسے خطرناک لوگوں کی دور سے ہی پوچھنی ٹھیک ہے. “
ماہ روش نے ارتضٰی کی قید سے اپنا ہاتھ چھڑانے کی کوشش تھی. مگر ہمیشہ کی طرح ناکام رہی تھی. کیونکہ وہ خود بھی ارتضٰی سے فرار ہونے میں کامیاب ہونا بھی نہیں چاہتی تھی.
” اچھا جی تو پھر رکو. میں بتاتا ہوں. تمہیں کتنا خطرناک ہوں میں. “
ارتضٰی نے ماہ روش کا ہاتھ کھینچتے اُسے اپنے سینے پر گرایا تھا.
جبکہ ارتضٰی کی چوٹ کے خیال سے ماہ روش کی چیخ نکل گئی تھی.
” ارتضٰی یہ کیا کر رہے ہیں. آپ کو ہرٹ ہوگا. “
ماہ روش نے ارتضٰی کے اُوپر سے ہٹنا چاہا تھا. مگر ایسا نہیں کرپائی تھی.
” تمہارا قریب آنا مجھے کبھی ہرٹ نہیں کرسکتا. بلکہ تمہاری قربت سے زیادہ سکون کا باعث اِس دنیا میں کوئی چیز نہیں ہے میرے لیے. “
ارتضٰی نے ماہ روش کے چہرے پر آئی بالوں کی لٹوں کو اپنی اُنگلی پر لپیٹتے کہا.
” آپ جانتے ہیں ہر انسان اپنی زندگی میں بہت بڑے بڑے خواب دیکھتا ہے. مگر میرا ہمیشہ ایک ہی خواب رہا ہے ارتضٰی سکندر کی زندگی میں میں سب سے اہم ہونے کا. میں چاہتی تھی کبھی میجر ارتضٰی سکندر مجھ سے بھی اُسی طرح نرم لہجے میں بات کرے جیسے اپنے قریبی لوگوں سے کرتے ہیں. ایک ٹائم پر تو ایسا لگا تھا کہ شاید میرا یہ خواب کبھی پورا نہیں ہوپائے گا. “
آج پہلی بار ایسا ہوا تھا کہ اپنے ماضی کے بارے میں بات کرتے ماہ روش کی آنکھیں نہیں بھیگی تھیں.
کیونکہ ارتضٰی اُسے چند دنوں میں ہی جتنا پیار جتنی عزت دے چکا تھا. وہ ماہ روش کی پچھلی ساری زندگی کو پیچھے چھوڑ گیا تھا.
” میری جان ایسا کبھی نہیں ہوا کہ میں نے کبھی تم سے نفرت کی ہو. تم ہمیشہ سے میرے لیے اہم رہی ہو. تمہاری تکلیف پر تم سے بھی زیادہ میں تڑپا ہوں. “
ارتضٰی نے ماہ روش کی چھوٹی سی ناک کو دانتوں میں لیتے ہلکا سا بائٹ کیا تھا.
ماہ روش اپنی ناک سہلاتی ارتضٰی کو گھور کر رہ گئی تھی.
” یار اب میں کیا کروں. کہا تو ہے تم سے اتنی میٹھی اور نرم ہو کسی دن کھا ہی نہ جاؤں میں تمہیں.”
ارتضٰی کی بے باکی پر ماہ روش کانوں تک سُرخ ہوئی تھی. جو اِس حالت میں بھی باز نہیں آرہا تھا.
” ارتضٰی آپ بہت بے شرم ہیں. “
ماہ روش اِس سے زیادہ کچھ بول ہی نہیں پائی تھی.
” ابھی کہاں ابھی تو میری بے شرمی دیکھانا باقی ہے. “
ارتضٰی نے ماہ روش کے ہونٹوں پر اپنی اُنگلی پھیری تھی.
” ارتضٰی آپ کیا کررہے ہیں یہ ہاسپٹل ہے. کوئی بھی اندر آسکتا ہے. “
ماہ روش ارتضٰی کی بڑھتی جسارتوں پر گھبراتے دور ہوئی تھی. مگر ارتضٰی اُسے واپس اپنے قریب کر گیا تھا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
زیمل ارتضٰی کے ہوش میں آنے کے بعد ماہ روش کو بتا کر گھر واپس آگئی. پچھلے تین دنوں کی ذہنی ٹینشن اور مسلسل کام کرنے کی وجہ سے وہ بہت زیادہ تھکن کا شکار تھی. اور اُوپر سے آج دن میں جو کچھ ہوا تھا. وہ بات زیمل کو اندر تک ہلا کر رکھ گئی تھی.
جاذل اگر وہ پیپر سائن کر دیتا تو یہ بات دماغ میں آتے ہی زیمل کو لگتا تھا کہ وہ ساری دنیا کو آگ لگا دے. جاذل ایسا کیسے کرسکتا تھا.
زیمل کو جاذل کا آرام سے سونیا کے ساتھ نکاح کے پیپر پر سائن کرنا کسی صورت ہضم نہیں ہورہا تھا. کیونکہ زیمل کے مطابق تو جاذل ارحم کی موجودگی اور ارتضٰی کی پلاننگ سے لاعلم تھا.
زیمل اپنی ہی سوچوں میں اُلجھی دل میں پکا عہد کر چکی تھی کہ جاذل سے کسی صورت بات نہیں کریں گی. کیونکہ جاذل کے نزدیک اگر اِس رشتے کی زرا بھی اہمیت ہوتی تو وہ کبھی سونیا سے نکاح پر حامی نہ بھرتا.
زیمل اپنے ہی خیالوں میں گیلے بالوں سے ٹاول نکالتے پاس رکھی چیئر پر ڈالتے اپنے بال سہلانے لگی تھی. جب اُسے اچانک کسی کی گہری نگاہوں کی تپیش اپنے وجود پر محسوس ہوئی تھی.
زیمل جیسے ہی پلٹی اُس کا دل دھک سے رہ گیا تھا.
جاذل بڑے ہی ریلیکس انداز میں اُس کے بیڈ پر لیٹا پوری توجہ سے زیمل کو گھور رہا تھا.
زیمل اِس وقت سُرخ لباس میں بنا ڈوپٹے کے کھلے بالوں کے ساتھ اُس کو اچھا خاصہ بہکا گئی تھی.
زیمل نے جلدی سے ڈوپٹے کی تلاش میں نظریں دوڑائی تھیں. مگر دوپٹہ وہاں ہوتا تو ملتا.
” آپ یہاں کیا کررہے ہیں. آپ میں زرا مینرز نہیں ہیں کہ کسی کہ کمرے میں بنا اجازت داخل ہونا غیر اخلاقی حرکت ہے. “
زیمل کو جاذل پر جس قدر غصہ تھا. اُس کا بس نہیں چل رہا تھا اِس وقت نجانے کیا کر گزرے.
” بلکل کسی کے روم میں بنا اجازت داخل ہونا غیر اخلاقی حرکت ہے. مگر میں تو اپنی بیوی کے روم میں آیا ہوں. “
جاذل نے چہرے پر خوبصورت سی مسکراہٹ سجائے زیمل کی طرف قدم بڑھائے تھے.
” کچھ نہیں لگتی میں آپکی. جس سے آج بہت شوق ہورہا تھا نا نکاح کرنے کا جائیں اُسی کے پاس. اور وہیں رُک جائیں میرے قریب آنے کی ضرورت نہیں ہے. “
زیمل جاذل کو اپنے قریب آتا دیکھ غصے سے بولی.
مگر جاذل اُسی طرح دل جلانے والی مسکراہٹ لیے اُس کی طرف بڑھ رہا تھا.
“مطلب تم چاہتی ہو. میں سونیا کے پاس چلا جاؤ. “
جاذل کو رُکتے نہ دیکھ ماہ روش نے بھی اپنے قدم پیچھے کی طرف لے جانا شروع کردیئے تھے.
” ہاں تو اُسی سے نکاح کرنے کے لیے ہی تو آج بہت بےچین ہورہے تھے آپ. “
زیمل کو اچانک رُک جانا پڑا تھا. کیونکہ پیچھے اُس کا رائٹنگ ٹیبل پڑا تھا. زیمل نے وہاں سے نکلنا چاہا تھا. مگر جاذل اُس کے اردگرد ہاتھ رکھتے اُس کی راہیں مسدود کر گیا تھا.
” بھاگ کہاں رہی ہیں ڈئیر وائف. اگر لڑنا چاہتی ہیں تو ڈٹ کر لڑو. ڈر کس بات کا ہے.”
جاذل نے اُس کے گیلے بالوں میں چہرہ چھپاتے اُن کی مسحور کن خوشبو اپنی سانسوں میں اُتاری تھی.
” دیکھئے مسٹر جاذل میرے ساتھ زیادہ فری ہونے کی ضرورت نہیں ہے. اور مجھے کوئی شوق نہیں ہے آپ سے لڑنے کا. “
زیمل نے جاذل کے سینے پر دونوں ہاتھ رکھتے اُسے دور ہٹانا چاہا تھا. مگر نتیجہ میں جاذل اُس کے مزید قریب ہوا تھا.
” زیمل آپ سوچ بھی کیسے سکتی ہیں کہ میں آپکی جگہ کسی اور کو دے سکتا ہوں. آج جو کچھ بھی ہوا. وہ صرف اُن لوگوں کا سوچا سمجھا پلان تھا.
میں صرف ارتضٰی کے کہنے پر ٹائم ویسٹ کررہا تھا. تاکہ اُوپر ماہ روش کو ٹائم مل سکے. “
جاذل زیمل کا چہرہ اپنے ہاتھوں کے پیالے میں بھرے اُس کو پیار سے سمجھاتے بولا.
جب اُس کی بات پر زیمل نے سوالیہ نظروں سے دیکھا.
” ہاں میں سب جانتا تھا. ارتضٰی مجھ سے کنٹیکٹ میں تھا. ارحم اور ارتضٰی کی وہاں موجودگی سے میں اچھے سے واقف تھا. اور ہمارا یہ ڈرامہ تھوڑی دیر ہی مزید چلنا تھا. مگر اُس گھٹیا شخص کی بات کی وجہ سے طیش میں آتے میں نے پہلے ہی ڈراپ سین کر دیا تھا.
آپ جیسا سوچ رہی ہو. ویسا کچھ نہیں ہے. سونیا تو کیا اِس دنیا کی کوئی لڑکی بھی ہمارے درمیان کب
