No Download Link
Rate this Novel
Episode 22
” سب خیریت ہے نا. ارتضٰی سر نے تو کچھ بتایا ہی نہیں. “
زیمل کے بیٹھتے ہی جاذل نے گاڑی آگے بڑھا دی تھی.
” آپ کے ارتضٰی سر کا دماغ فلحال جگہ پر نہیں ہے. اِس لیے مجھے بھیج دیا. “
جاذل روڈ پر نگاہیں جمائے بولا.
گاڑی کی سپیڈ بہت زیادہ تھی. جیسے اُنہیں بہت جلدی کہیں پہنچنا ہو.
” ویسے ہم جا کہاں رہے ہیں. “
جاذل کی مسلسل خاموشی پر زیمل کا تجسس بڑھ رہا تھا.
” تھوڑی دیر تک آپ خود ہی دیکھ لیجئے گا. “
جاذل کے جواب پر زیمل کو مزید تپ چڑی.
” اور اگر آپ بتا دیں گے تو مجھے نہیں لگتا آپ کا کوئی نقصان ہوجائے گا. “
وہ کہاں چپ بیٹھنے والی تھی.
” کڈنیپ کرکے لے جارہا ہوں آپ کو کیپٹن زیمل. وہاں جہاں آپ کے اور میرے سوا کوئی نہیں ہوگا. “
جاذل زیمل کی جانب جھکتے اُس کی آنکھوں میں دیکھ کر بولا.
زیمل اُس کی بات سے زیادہ اُس کے انداز پر جذبز ہوتی پیچھے ہٹی.
” بدتمیز میجر سیدھی طرح جواب نہیں دے سکتا کسی بات کا. “
زیمل نے دل میں کوسا. اور خاموشی سے باہر کی طرف دیکھنے لگی تاکہ راستے کا تعین کرسکے.
جاذل نے چپ سادھ کر بیٹھی زیمل کو مسکراتی نظروں سے دیکھا.
” جس روڈ پر ہم ہیں یہاں سے ایک طرف راستہ گھنے جنگلوں کی طرف نکلتا ہے. اطلاع ملی ہے کہ وہاں ذی ایس کے کا منشیات کا بہت بڑا اڈا موجود ہے. وہیں جارہے ہیں. “
جاذل کے تفصیل بتانے پر بھی زیمل نے کوئی بات نہیں کی.
” پہلے اگر یہی بات بتا دیتے تو کیا ہوجانا تھا. “
زیمل نے کھڑکی کے باہر اندھیرے پر نظریں جمائے سوچا.
جاذل نے جنگل کے ایک سرے پر جھاڑیوں میں جاکر گاڑی روک دی. گاڑی ایسی جگہ کھڑی کی تھی جہاں اردگرد درختوں کا جھنڈ تھا. کسی کا بھی آرام سے گاڑی کو دیکھ پانا ممکن نہیں تھا.
وہ دونوں سنبھل کر قدم اُٹھاتے آگے بڑھ رہے تھے. اطلاع کے مطابق اڈا جنگل کے بلکل وسط میں تھا.
چلتے چلتے اُنہیں تقریباً ایک گھنٹہ ہونے والا تھا. مگر ابھی تک صحیح لوکیشن تک نہیں پہنچے تھے.
” کیپٹن زیمل اگر آپ تھک گئی ہیں تو بتا دیں تھوڑا ریسٹ کر لیتے ہیں. “
اندھیرے میں چاند کی ہلکی ہلکی روشنی میں جھاڑیوں کے بیچ میں سے چلنا کافی کٹھن تھا. لیکن اِس جگہ پر ٹارچ کا استعمال نقصان دہ ثابت ہوسکتا تھا. زیمل کی ٹانگوں کو ایک دو ٹوٹی ہوئی ٹہنیاں لگ کر زخمی کرچکی تھیں. اِس لیے جاذل کو اُس کی فکر ہوئی تھی.
” نہیں میں بلکل ٹھیک ہوں. آپ کو کچھ آئیڈیا ہے مزید کتنا ٹائم لگ سکتا ہے. “
زیمل کو تھکن اور تکلیف کی زرا پرواہ نہیں تھی.
اُس کی بات سنتے جب اچانک جاذل کی نظر آگے موجود دلدل پر پڑی تھی اِس سے پہلے کے زیمل وہاں پاؤں رکھتی جاذل نے ہاتھ بڑھا کر زیمل کو اپنی طرف کھینچا تھا زیمل نے سینے سے جاذل کے شرٹ دبوچتے خود کو گرنے سے بچایا تھا. زیمل نے گھور کر جاذل کی طرف دیکھا لیکن اُس کی نظروں کا تعاقب کرنے پر معاملہ سمجھتے تشکر بھری سانس خارج کی. اگر اِس دلدل میں پھنس جاتی تو آج کی رات یہیں گزر جانی تھی.
زیمل سنبھلتے فوراً پیچھے ہٹی.
” لوکیشن کے تو قریب پہنچ چکے ہیں ہم مگر ٹائم کافی لگ سکتا ہے ابھی. کیونکہ یہ اڈا زمین کے اندر موجود ہے جس میں ہم اُن کے ہی کسی آدمی کے تھرو داخل ہوسکتے ہیں. اُس کے بغیر داخل ہونا ناممکن ہے. “
جاذل زیمل کے آگے آگے چل رہا تھا.
” اُن کا آدمی ہمیں اندر داخل ہونے میں مدد کیوں کرے گا. “
زیمل کو جاذل کی بات سمجھ نہیں آئی.
” کیونکہ وہ اُن کے بھیس میں ہمارا آدمی ہے. “
وہ دونوں اِس وقت بلیک ڈریسز میں ملبوس رات کا ہی حصہ لگ رہے تھے.
تھوڑا آگے جاکر جاذل نے رُکتے ہوئے اردگرد کا جائزہ لیا. جگہ کے سیف ہونے کا یقین کرتے جاذل نے سائیڈ پر رکھے دو بڑے بڑے پتھروں کو اُٹھا کر کچھ فاصلے پر رکھا ایک پر بیٹھتے پاس کھڑی زیمل کو دوسرے پر بیٹھنے کا اشارہ کیا.
یہاں بیٹھ کر اُنہیں اپنے آدمی کے سنگل کا انتظار کرنا تھا.
جاذل نے گہری نظروں سے بلیک قمیض شلوار میں ملبوس اور بلیک کلر کے دوپٹے سے ہی خود کو کور کیے زیمل کی طرف دیکھا. اُس کا چاندنی چھلکاتا چہرا چاند کی روشنی کو مات دے رہا تھا.
جاذل کو وہ ہر وقت چہکنے والی چڑیا اِس وقت بہت خاموش اور اُداس سی لگی تھی.
” زیمل آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے نا. “
جاذل کی بات پر اپنے خیالوں سے نکلتے زیمل نے سوالیہ انداز میں اُس کی طرف دیکھا.
” جی میں بلکل ٹھیک ہوں. “
جاذل کو زیمل کا اتنا فارمل انداز ہضم نہیں ہوا تھا.
” تو کیا آپ نے میری گاڑی میں کہی بات مائینڈ کی ہے. “
جاذل اُس کی اُداسی کی وجہ اُگلوانا چاہتا تھا.
” نہیں ایسا کچھ نہیں ہے. “
اب تو جاذل کو یقین ہوچکا تھا کہ ضرور کوئی بات ہے ورنہ زیمل اور اتنے سیدھے جواب دے اُسے ممکن نہیں تھا. “
” تو کیا آپ اپنی اُداسی اور پریشانی کی وجہ شیئر کرسکتی ہیں مجھ سے. “
جاذل کے ڈائریکٹ پوچھنے پر زیمل نے حیرت سے اُس کی طرف دیکھا.
” ایسی کوئی بات نہیں ہے. میں کیوں اُداس اور پریشان ہوں گی. آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے شاید. “
زیمل نے سنبھل کر جواب دیا.
اب وہ اُسے کیا بتاتی اپنی پریشانی کا. کہ اُس کی ماما گن پوائنٹ پر اُس کی شادی کروانا چاہتی ہیں اور پندرہ دن کے اندر اُسے لڑکا ڈھونڈ کر اُن کے سامنے پیش کرنا ہے. ورنہ وہ اپنی پسند کے کسی بھی انجان بندے سے اُس کی شادی کروا دیں گی.
” پرابلمز شیئر کرنے سے کم ہوتے ہیں. اگر کوئی پرابلم ہے تو آپ مجھ سے ڈسکس کرسکتی ہیں. کیا پتا کوئی حل نکل ہی آئے یا میں آپ کی کوئی مدد کرسکوں.”
جاذل کو یہ پیاری سی لڑکی یوں اُداس بیٹھی بلکل اچھی نہیں لگ رہی تھی. وہ ہر ٹائم مسکراتی اور لڑتی جھگڑتی ہی اچھی لگتی تھی.
” سوچ لیں آپ کر سکیں گے میری مدد. “
زیمل نے جاذل کی بات کو مذاق میں اُڑایا.
” بلکل آپ اپنی پرابلم بتائیں. بندہ حاضر ہے. “
یہ اُن کی تمام ملاقاتوں میں پہلی دفعہ تھا کہ وہ بغیر لڑے اتنے آرام سے ایک دوسرے سے بات کررہے تھے.
” شادی کریں گے مجھ سے. “
اُس نے ایسے پوچھا تھا جیسے نارملی بندہ کسی سے کھانے پینے کا پوچھتا ہے.
زیمل کی اِس غیر متوقع بات پر جاذل نے حیرت سے آنکھیں پھاڑے اُس کی طرف دیکھا جو اُس کے فیس ایکسپریشن پر ہنس رہی تھی.
” کیا ہوا میجر جاذل ابراہیم ابھی تھوڑی دیر پہلے تو بڑی بڑی باتیں کررہے تھے. اب کیا ہوا. “
زیمل نے ہنستے ہوئے اُس کا مذاق بنایا.
” کیپٹن زیمل آپ سیریس ہیں یہی پرابلم تھی آپ کی. “
جاذل کو یقین کرنا کافی مشکل ہورہا تھا.
” جی یہی پرابلم ہے. میری ماما کی طرف سے دھمکی ملی ہے مجھے. پندرہ دن کے اندر لڑکا اُن کے سامنے حاضر کروں یا اُن کی پسند پر رضامندی دے دوں ورنہ انجام کی ذمہ داری میں خود ہوں گی.
لیکن آپ پریشان نہ ہوں میجر صاحب مذاق کررہی تھی میں آپ سے. “
زیمل نے اُس کی مشکل آسان کی.
” لیکن اب میں سیریس ہوں. “
جاذل کچھ سوچتے ہوئے بولا.
” کیا مطلب. “
زیمل نے سوالیہ نظروں سے دیکھا.
” میں آپ کی مدد کرسکتا ہوں کیونکہ آپ کی مدد کرنے سے میری بھی پرابلم سالو ہوسکتی ہے. “
جاذل نے اپنے دماغ میں آنے والے آئیڈیے پر خود کو ہی داد دی.
” میجر جاذل آپ کیا پہیلیاں بجھوا رہے ہیں. مجھے سمجھ نہیں آرہی آپ کی بات. “
زیمل اُلجھن کا شکار ہوئی.
” آپ بھی شادی نہیں کرنا چاہتیں اور میں بھی. لیکن ہم دونوں کے گھر والے کچھ سننے کو تیار ہی نہیں ہیں تو کیوں نا ہم دونوں ایک ڈیل کر لیں. “
جاذل کی بات ابھی بھی زیمل کے اُوپر سے ہی گزری.
” کیسی ڈیل. “
” ہم دونوں گھر والوں کو کہیں گے کہ ہم ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں.اور نکاح کرنا چاہتے ہیں. مگر رخصتی اپنے اِس مشن کے کمپلیٹ ہونے کے بعد کریں گے. اِس طرح گھر والوں کے ارمان بھی پورے ہوجائیں گے. اور ہماری بھی ٹینشن ختم ہوجائے گی.
اور جہاں تک بات ہے رخصتی کی تو مشن کے پورا ہونے تک ہم رخصتی سے پہلے ہی کسی نہ کسی طرح یہ نکاح والا ایگریمنٹ ختم کردیں گے. “
جاذل کو شادی دنیا کا سب سے مشکل کام لگتا تھا. اُس کے مطابق وہ جس فیلڈ میں تھا وہاں کسی بھی وقت کوئی اندھی گولی اُن کا خاتمہ کرسکتی تھی. تو وہ خود سے کسی کومنسلک کرکے اُس کی زندگی خراب نہیں کرنا چاہتا تھا.
لیکن اپنی ماں اور بہنوں کی خواہش کی خاطر وہ اتنا تو کرہی سکتا تھا.
زیمل کو اِس بات کا تو زرا اندازہ نہیں تھا کہ جاذل بھی اُس جیسی پریشانی کا شکار ہے. جاذل کا دیا آئیڈیا اُس کی پریشانی تو ختم کرسکتا تھا. لیکن کیا اُس پر اتنا ٹرسٹ کرنا چاہئے. اور کیا یہ غلط نہیں ہوگا کیونکہ اِس رشتے میں دو لوگ نہیں دو فیملیز جڑیں گی.
” کیا ہوا کیپٹن زیمل پسند نہیں آیا میرا آئیڈیا آپ کو. “
جاذل زیمل کو بلکل خاموش دیکھ بولا.
” نہیں ایسا نہیں ہے. مگر مجھے سمجھ نہیں آرہا کیا یہ سب ٹھیک رہے گا. ہم اِس طرح اپنے اور ایک دوسرے کے گھر والوں کو دھوکہ نہیں دیں گے. بعد میں جب یہ رشتہ ختم ہوگا تو اُن کی فیلنگز ہرٹ نہیں ہوں گی.”
زیمل بہت کنفیوژن کا شکار تھی.
” آئی نو یہ بہت بڑا فیصلہ ہے. اور اپنوں کی فیلنگز بھی ہرٹ ہوسکتی ہیں لیکن کسی کو خود سے وابستہ کرکے اُس کی زندگی خراب کرنے سے یہ سب زیادہ بہتر ہے.
ابھی ہم لوگ اپنی لائف کے سب سے اہم اور خطرناک مشن میں قدم رکھ چکے ہیں. جس میں آگے چل کر کچھ بھی ہوسکتا ہے. ہمارے پیرنٹس صرف اور صرف ہماری خوشی چاہتے ہیں. وہ لوگ یہ نہیں جانتے کہ ہم کس فیلڈ کا حصہ ہیں. اِس لیے صرف اُن کی خوشی کی خاطر کسی تیسرے کو اپنی زندگی میں شامل کرکے خوشیوں سے محروم کرنا بھی غلط ہے. “
جاذل نے بات ختم کرکے زیمل کیطرف دیکھا. جو اُسے ہی دیکھ رہی تھی.
جاذل کی بات اُس کے دل کو لگی تھی. اُس کی ماما نہیں جانتی تھیں کہ وہ ایک ایجنٹ ہے اُس کی زندگی اُس سے بھی زیادہ اِس وقت ملک کی امانت تھی. جسے اُسے اپنی ٹیم کے ساتھ مل کر ذی ایس کے جیسی آفریت سے نجات دلانی تھی.
ماما صرف یہی تو چاہتی تھیں کہ اپنے ہوتے اُسے مضبوط رشتے میں باندھ دیں ایسے شخص کے ساتھ جو ہر پل اُن کی بیٹی کا خیال رکھے ہر مشکل میں اُس کا ساتھ دے. اور جاذل کے آئیڈیے کے مطابق اُس کی ساری پرابلم سالو ہوسکتی تھی.
” صحیح کہا آپ نے میجر جاذل لیکن آپ اگر بعد میں اپنے وعدے سے مکر گئے تو اِس مشن سے بچ بھی نکلے مگر میری گولی سےبچ نہیں پائیں گے آپ.”
زیمل کے دھمکی آمیز لہجے پر جاذل نے بہت مشکل سے اپنا قہقہ روکا.
اِس سے پہلے کے وہ کچھ بولتا. اُسے کسی کے قدموں کی آہٹ سنائی دی تھی. سوکے پتوں پر پیر رکھنے کی وجہ سے ہلکی سی چڑچڑاہٹ پیدا ہوئی تھی.
جاذل اور زیمل فوراً اُٹھ کر درخت کی اوٹ میں ہوئے تھے. جاذل کے سامنے آجانے کی وجہ سے زیمل بلکل چھپ گئی تھی.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
ریحاب کو دھمکی پر دھمکی دی جارہی تھی کہ کسی بھی طرح ارحم کے کمرے میں جاکر ایک بہت امپورٹنٹ فائل کا ڈیٹا اُن تک پہنچائے. ریحاب کے کسی بھی انکار کو وہ لوگ خاطر میں نہیں لا رہے تھے جس پر ناچار ریحاب کو یہ رسکی قدم اُٹھانا پڑا تھا.
ریحاب اردگرد دیکھتے بہت احتیاط سے سیڑھیاں اُتر رہی تھی. اُس کا پورا وجود بُری طرح کپکپا رہا تھا. لائٹس آف ہونے کی وجہ سے وہ زیادہ ڈر رہی تھی.
اُسے صائمہ بیگم سے پتا چلا تھا کہ ارحم آج رات گھر نہیں آئے گا. اِس لیے وہ اِس طرف سے کچھ مطمئن تھی. ارحم کے روم میں داخل ہونے سے پہلے ریحاب نے محتاط نظروں سے آس پاس کا جائزہ لیا. ہر طرف خاموشی اور اندھیرا پھیلا دیکھ وہ جلدی سے اندر داخل ہوئی تھی. اور دروازہ اندر سے لاک کرتے وہی کھڑے ہوکر دروازے سے سر ٹکاتے گہرے گہرے سانس لیتے خود کو نارمل کیا تھا.
روم میں بلکل اندھیرا تھا ریحاب نے آنکھیں بند کی ہوئی تھیں. اور اپنی گھبراہٹ پر قابو پانے کی کوشش کررہی تھی. جب اچانک ایک احساس پر اُس کی دھڑکنے تھمی تھیں.
اپنے چہرے پر کسی کی سانسوں کی تپش محسوس کرتے ریحاب نے پٹ سے آنکھیں کھولیں. کسی کو اپنے اُوپر اتنے قریب جھکا دیکھ اِس سے پہلے کے ڈر کے مارے ریحاب کی چیخ برآمد ہوتی جب سامنے والے نے اُس کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا تھا. اور اُس کے مزاحمت کرتے دونوں بازو ایک ہاتھ کی گرفت میں لیتے اُس کے سر کے اُوپر لے جاکر دروازے کے ساتھ لگا دیے تھے. ریحاب کی آنکھیں خوف کے مارے باہر آرہی تھیں. وہ اندھیرے میں مقابل کو پہچان نہیں پارہی تھی. اور اِس طرح انجان گھر میں رات کے اِس پہر کسی مرد کے قبضے میں ہونے کا سوچ اُس کی جان نکل رہی تھی.
اِس وقت اُس کے دل نے شدت سے دعا کی تھی کہ یہ شخص ارحم ہی ہو کیوں کہ پکڑے جانے سے بھی زیادہ اپنی عزت جانے کا خوف اُسے زیادہ ستا رہا تھا.
وہ جانتی تھی ارحم اُس کے لیے نامحرم ہے مگر اتنا ٹائم اُس سے بات کرنے کے بعد ریحاب اُس کے مضبوط کردار کی گواہی دے سکتی تھی.
وہ گھبراہٹ اور ڈر کے مارے بے ہوش ہی ہونے والی تھی جب مقابل نے اُس کے کان کے اُوپر جھکتے گھمبیر سرگوشی کی تھی. اُس کی بات سنتے اور اُسے کے ہلتے لب اپنی کان کی لوح پر محسوس کرتے ریحاب کی جان ہوا ہوئی تھی.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
” سر میں ایجنٹ 24. لوکیشن پر پہنچ چکا ہوں. راستہ بلکل کلیئر ہے. آپ لوگ اندر داخل ہوسکتے ہیں. “
جاذل کے آئیر پیس سے آواز گونجی تھی.
” اوکے تم نکلو یہاں سے اِس سے پہلے کے کسی کو کوئی شک ہو تم پر. “
جاذل زیمل کو اپنے ساتھ آنے کا اشارہ کرتے کچھ فاصلے پر موجود ٹوٹی پھوٹی جھونپڑی کی طرف بڑھا. جہاں اُن کا آدمی موجود تھا جو بظاہر ذی ایس کے لیے کام کرتا تھا. اُن دونوں کو قریب آتا دیکھ وہ وہاں سے ہٹ گیا تھا. جاذل اور زیمل کھڑکی کے راستے جھونپڑی میں داخل ہوئے. جس کے اندر موجود بڑے بڑے پتھروں کو سائیڈ پر کرتے گھاس کی بنائی گئی مصنوعی تہہ کو بھی اُٹھا کر سائیڈ پر کیا تھا
وہاں کا حصہ باقی زمین سے تھوڑا مختلف لگ رہا تھا. جاذل نے زور لگا کر اُسے دبایا تو وہ پیچھے ہوتا چلا گیا. جس کے ہٹنے سے اُنہیں زمین کے اندر جانے کے لیے ایک چھوٹی سی سرنگ نظر آرہی تھی.
مزید دیر نہ کرتے جاذل زیمل کو اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کرتے سرنگ میں اُتر گیا تھا. زیمل بھی جاذل کے پیچھے اندر داخل ہوئی. وہ سرنگ اتنی تنگ اور تاریک تھی کہ زیمل کو اپنا سانس گھٹتا ہوا محسوس ہورہا تھا.
” زیمل آپ ٹھیک ہو. “
جاذل نے گہری گہری سانس لیتی زیمل سے پوچھا.
” یس میں ٹھیک ہوں. “
جاذل کو زیمل کی گھٹی گھٹی آواز سنائی دی تھی. جس میں آگے بڑھنے کا جوش صاف ظاہر ہورہا تھا.
پتھروں اور مٹی کے سہارے کافی نیچے آکر اُنہیں روشنی دیکھائی دی.
سنبھل کر قدم رکھتے وہ دونوں آگے بڑھے سرنگ کے ختم ہوتے ہی زمین کے اندر ہی آگے تھوڑے فاصلے پر بہت مضبوط سے دو ہال نما کمرے بنائے گئے تھے. جن کے باہر چار سے پانچ لوگ پہرے پر موجود تھے. اندھیرے کا فائدہ اُٹھاتے دونوں نے ایک ساتھ اٹیک کرتے دو پہرے داروں کی گردن اُڑا دی تھی.
” گلزار کیا ہوا آواز کیسی ہے وہاں. “
دور کھڑے ایک پہرا دار نے کچھ ہلچل محسوس کرتے آواز لگائی جواب نہ ملنے پر جیسے ہی وہ اُس طرف بڑھا زیمل نے ایک ہی جست میں اُس پر جھپٹتے اُس کا بھی کام تمام کردیا تھا.
دو لوگوں کو اپنی طرف بڑھتا دیکھ ہال کے بلکل سامنے موجود باقی دو پہرا دار ہوشیار ہوئے لیکن اُن کے کچھ بھی سمجھنے سے پہلے جاذل سلنسر لگے پسٹل سے اُن کی گردنیں اُڑا چکا تھا. جب اچانک جاذل نے کچھ محسوس ہونے پر پیچھے مڑ کر دیکھا اور جلدی سے زیمل کو اپنی طرف کھینچتے پیچھے سے کیے جانے والے خنجر کے وار سے بچایا. زیمل اچانک رونما ہونے والی افتاد پر جاذل کے سینے سے جا ٹکرائی تھی. جاذل کے فولادی جسم سے ٹکرانے پر زیمل کے سر سے ٹیسیں اُٹھی تھیں.
زیمل پر اُٹھا خنجر جاذل کے کندھے میں گھب چکا تھا. اُس کے سینے سے سر اُٹھاتے زیمل نے جاذل کے چہرے پر موجود تکلیف کے آثار دیکھے تھے.
یہ اندھیرے میں ایک طرف چھپ کر بیٹھے اُن کے ایک اور ساتھی کی حرکت تھی جو ایک بار پھر حملہ آور ہوا
مگر جاذل جیسے باڈی بلڈر کو قابو کرنا اتنا آسان کام نہیں تھا. اور یہی ہوا تھا اگلے چند سیکنڈز بعد وہ شخص جاذل کے رحموں کرم پر تھا.
زیمل جاذل کو اُس پر قابض ہوتا دیکھ پہلے ہی ہال کے قریب پہنچ چکی تھی. جس کمرے میں اُس نے قدم رکھا وہاں منشیات کا نام و نشان نہیں تھا . لیکن ایک طرف چار لوگ شراب کے نشے میں دھت تاش کھیلنے میں مصروف اِدھر اُدھر جھول رہے تھے. زیمل نے حقارت بھری نظروں سے دیکھتے اُن سب کو گولیاں سے بھونتے زمین کو اُن کے ناپاک وجود سے چھٹکارا دلایا تھا.
جاذل جو باہر موجود اردگرد کا جائزہ لے رہا تھا زیمل کو وہاں سے نکلتا دیکھ دوسرے ہال کمرے میں داخل ہوا لیکن اندر داخل ہوتے ہی سامنے کا منظر دیکھ وہ دھنگ رہ گئے تھے. اطلاع کے مطابق وہاں بھاری مقدار میں منشیات کا ذخیرہ موجود تھا. جس سے اِس ملک کے روشن مستقبل کے ضامن نوجوان کو عادی بناکر اُنہیں ختم کیا جارہا تھا.
جاذل نے آگے بڑھتے وہاں بم اٹیچ کیا اور ٹائم سیٹ کرتے وہ دونوں بھاگتے ہوئے باہر نکل کر واپس سرنگ میں داخل ہوئے تھے.
جاذل زیمل کا ہاتھ تھامے جلدی جلدی اُوپر کی طرف چڑھ رہا تھا. کندھے میں لگے خنجر کی وجہ سے خون کافی زیادہ بہہ رہا تھا. لیکن جاذل نے بہادری سے اپنے درد پر قابو پاتے اپنا کام جاری رکھا تھا.
سرنگ سے نکل کر وہ جنگل میں اُس جھونپڑی سے کافی دور آگے تھے. جب اُنہیں ایک زور دار دھماکے کے ساتھ زمین پھٹتی محسوس ہوئی تھی. اُس جگہ سے نکلنے والے آگ کے شعلوں سے جنگل میں رات کی جگہ دن کا گمان ہونے لگ گیا تھا.
وہ لوگ بنا رکے اپنی گاڑی تک پہنچے تھے. جب گاڑی کی روشنی میں زیمل کی نظر جاذل کے آگے کی طرف کندھے پر پڑی تھی. وہ پورا خون سے لال ہوچکا تھا. لیکن خنجر ابھی اندر موجود ہونے کی وجہ سے خون کے بہاؤ میں کمی واقعہ ہورہی تھی.
” میجر جاذل میں گاڑی ڈرائیو کرتی ہوں. آپ کو مزید درد ہوگا. “
زیمل نے جاذل کو زبردستی ڈرائیونگ سیٹ سے ہٹایا تھا. اور سپیڈ میں گاڑی وہاں سے نکال لی تھی. آدھے گھنٹے کی ڈرائیو کے بعد جب زیمل کو یقین ہوگیا کہ اب وہ لوگ اُس علاقے سے نکل آئے ہیں تو وہ روڈ کے ایک سائیڈ پر گاڑی روکتے جاذل کی طرف مڑی. جو ہونٹ بھینچے ضبط کیے ہوئے تھا.
زیمل نے گاڑی کی بیک سیٹ سے فرسٹ ایڈ باکس نکالا اور جلدی سے اُس کو کھولتے جاذل پر جھکی.
” میں خنجر نکالنے لگی ہوں. زیادہ دیر اِس کا اندر رہنا ٹھیک نہیں ہے. آپ کو درد ہوگا پر پلیز چیخنا مت ورنہ میں نے بھی چلانا شروع کر دینا ہے. “
جاذل نے اپنے اُوپر بہت قریب جھکی زیمل کو ضبط سے سُرخ ہوتی آنکھوں سے دیکھا. جو اُس کا درد محسوس کرتی رونی صورت بنائے ہوئے تھی.
اُس کی معصومانہ دھمکی پر درد کے باوجود جاذل کا قہقہ برآمد ہوا تھا.
” شکر ہے آپ ڈاکٹر نہیں کیپٹن ہیں ورنہ پیشنٹ نے تو آپکی دھمکی سے ہی گھبرا کر اُوپر پہنچ جانا تھا. “
جاذل اپنے بے حد قریب موجود زیمل کے دلکش نقوش کا جائزہ لینے میں مصروف تھا.
” اور شکر ہے آپ وکیل نہیں میجر ہیں ورنہ آپ نے تو کسی اور کو بولنے کا موقع بھی نہیں دینا تھا ہر بات کا جواب موجود ہوتا ہے آپ کے پاس.
زیمل نے جاذل کو اپنی اُوٹ پٹانگ باتوں میں مصروف کرتے خنجر پر گرفت مضبوط کرتے باہر کھینچا تھا. اور ساتھ ہی خون کا فوارہ پھوٹ پڑا تھا.
زیمل کی دھمکی کے مطابق جاذل نے تو اپنی چیخ کو کنٹرول کر لیا تھا. لیکن زیمل اپنی چیخ پر قابو نہ پاسکی تھی. اور ساتھ ہی کئی آنسو بھی لڑھک کر اُس کے رُخسار پر بکھرے تھے.
” وآئے آر یو کرائنگ. “
جاذل اپنا درد بھلائے سنجیدہ نظروں سے اُس کی طرف دیکھ رہا تھا. زیمل کی آنکھوں میں موجود آنسو جاذل کو بے چین کر گئے تھے.
زیمل بغیر جاذل کی بات کا جواب دیے اُس کے زخم سے نکلنے والا خون روکنے میں ہلکان ہورہی تھی.
اور ساتھ ساتھ آنسو بھی بہائے جارہی تھی. وہ بظاہر جتنا بھی مضبوط اور سخت بننے کی کوشش کرتی لیکن اندر سے وہ ایک حساس اور نرم دل کی مالک تھی. کسی کا اِس طرح خون بہتا دیکھنا اور اُس کی وجہ بھی اگر وہ خود ہو تو یہ اُس کے لیے بہت تکلیف دہ عمل تھا.
جاذل نے خود پر ضبط کھوتے دوسرے ہاتھ سے زیمل کے آنسو ہاتھ کی پوروں سے چنتے اُس کو اپنے قریب ترین کیا تھا.
زیمل اُس کی پہلی حرکت پر ہی ساکت ہوئی تھی جب اُس کے سینے کے اُوپر خود کو بلکل گرا دیکھ وہ کچھ بول ہی نہیں پائی تھی. اِس وقت وہ خود بھی اپنی کیفیت سمجھنے سے قاصر تھی. اُسے اچانک سے کیا ہو رہا تھا اِس شخص کا درد اُسے اتنی تکلیف کیوں دے رہا تھا.
” میں تو آپ کو بہت بہادر آفیسر سمجھتا تھا. لیکن یہ کیا زرا سا خون دیکھ کر آپ تو سہمی ہوئی ہرنی لگ رہی ہیں. “
جاذل کے بظاہر سنجیدہ لہجے مگر آنکھوں سے جھانکتی شرارت دیکھ زیمل نے خود کو دیے جانے والے نام پر اُسے غصے سے گھورا.
لیکن جاذل کی دھڑکنے اپنے بہت قریب محسوس کرتے اپنی پوزیشن کا خیال آتے وہ شرمندہ سی ہوتی فوراً اُس کے سینے سے پیچھے ہٹی تھی. جو بہت ہی پرشوق نظروں سے اُسے دیکھ رہا تھا.
آج جاذل کو زیمل کے بہت ہی منفرد اور پیارے رُوپ دیکھنے کو مل رہے تھے جنہیں وہ اپنا درد بھلائے انجوائے کرنے میں مصروف تھا.
زیمل اُس کی پل پل بدلتی نظروں سے کنفیوز ہوتے جلدی جلدی زخم پر دوا لگا کر سرجیکل ٹیپ سے پٹی کو کور کرتی فوراً سے پہلے پیچھے ہٹی.
جاری ہے
