Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 31

مگر اُس کی یہی محبت دیکھنے کی خواہش کرنے والی وہ لڑکی اِس وقت ہر چیز سے بے گانہ تھی.
ارتضٰی آج تک کبھی اتنا نہیں ٹوٹا تھا جتنا اِس وقت خود کو مجبور محسوس کررہا تھا. ہر گزرتے دن اور واقعہ کے ساتھ اُس کے اندر ذوالفقار کے لیے نفرت اور انتقام کے جذبے مزید شدت پکڑ رہے تھے. ارتضٰی کے ہاتھوں اُس کا انجام بہت بُرا ہونے والا تھا.
مگر اِس وقت ماہ روش کا سب سے بڑا مجرم تو وہ خود تھا. جو سب سے زیادہ اُس کی تکلیف کا باعث بنا تھا.
اُسے کتنا ہرٹ کیا تھا.
مگر بہت سی دکھی اور تکلیف دہ باتوں میں ایک بات جو ارتضٰی کو اندر ہی اندر سکون بخش رہی تھی کہ ماہ روش صرف اُس کی تھی. وہ اُس کے نکاح میں تھی. اِس دنیا میں سب سے زیادہ وہی حق رکھتا تھا اُس پہ.
ذوالفقار تو کیا اب دنیا کی کوئی طاقت اُسے ماہ روش سے دور نہیں کرسکتی تھی.
وہ جانتا تھا اُس کے ناروا سلوک کی وجہ سے ماہ روش اُس سے ناراض ہوگی. کیونکہ آخری ملاقات میں جس طرح ارتضٰی نے اُسے اپنے الفاظ سے چھلنی کیا تھا. وہ اُس پر خفا ہونے کا حق رکھتی تھی.
اور ارتضٰی خود بھی تو یہی چاہتا تھا وہ اُسے لڑے جھگڑے مگر اِس طرح اُس سے غافل ہوکر نہ رہے. وہ اُس کی نفرت بھی سہنے کو تیار تھا. لیکن اب اُس کو تکلیف میں اِس طرح نہیں دیکھ سکتا تھا.
ارتضٰی کتنے ہی لمحے اُس کے حسین چہرے کو بنا پلک جھپکے دیکھتا رہا تھا.
وہ مزید نجانے کتنے گھنٹے وہاں ایسے ہی بیٹھا رہتا جب موبائل کی وائبریشن پر ماہ روش کا ہاتھ احتیاط سے واپس بیڈ پر رکھتا ہلکے سے اُس کے رخسار کی نرماہٹوں کو محسوس کرتا وہاں سے اُٹھ گیا تھا.
ارتضٰی نے ماہ روش کے لیے سیکیورٹی کا بہت سخت انتظام کروا رکھا تھا. اور اُس نے ذوالفقار کو بھی زیمل کے تھرو ماہ روش کے نمبر سے میسج بھیج دیا تھا کہ وہ کسی یونیورسٹی ایونٹ کے سلسلے میں کراچی جارہی ہے. تاکہ گھر میں اُس کی غیر موجودگی کو نوٹ کرکے ذوالفقار کو کوئی شک نہ ہو.
یہ سب اُس نے صرف جنرل یوسف کی ریکویسٹ پر کیا تھا. ورنہ اب مزید وہ ماہ روش کو ذوالفقار کے پاس بھیجنا تو دور ماہ روش پر اُس کا سایہ بھی برداشت نہیں کرنا چاہتا تھا.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

ریحاب نے ہلکے سے دروازہ ناک کیا. جب اجازت ملنے پر وہ اندر داخل ہوئی تھی.
جنرل آصف اور صائمہ بیگم نے نظریں جھکائے کھڑی ریحاب کی طرف دیکھا تھا.
” ماما بابا میں جانتی ہوں. آپ لوگ بھی مجھ سے بہت ناراض ہیں. اور ہونا بھی چاہئے میں نے آپ سب کے ساتھ کیا ہی ایسا ہے.
آپ لوگوں کو دھوکہ دیا. آپ کی فیلنگز ہرٹ کی. مگر میں نے یہ سب جان بوجھ کر نہیں کیا میں بہت مجبور تھی. بہت ڈر گئی تھی. “
ریحاب کے آنسو قطار در قطار اُس کے گالوں پر بکھر رہے تھے. اِس وقت وہ بھی کم اذیت میں نہیں تھی.
” اگر میں اُن لوگوں کی بات نہ مانتی تو وہ میرے بھائی کو مار دیتے. بچپن سے اپنے قریب صرف یہی ایک رشتہ دیکھا ہے میں نے. میں کسی صورت کھونا نہیں چاہتی تھی اُسے. میرے سگے ماں باپ تو اپنی لائف میں سیٹ ہیں اُنہیں کوئی پرواہ نہیں ہم جیئے یا مریں. انیس ہی میرا اکلوتا رشتہ تھا. جسے کھونے کے ڈر سے مجھے سیلفش ہونا پڑا.
میں جانتی ہوں جو میں نے آپ سب کے ساتھ کیا اور خاص کر ماہ روش کے ساتھ کیا وہ کسی صورت قابلے معافی نہیں ہے. مگر پھر بھی اگر ہوسکے تو مجھے معاف کردیجئے گا. “
ریحاب کی حالت دیکھتے صائمہ بیگم کا دل پسیج گیا تھا. وہ اچھے سے اُس کی کنڈیشن سمجھ رہی تھیں. اُس کی جگہ کوئی بھی انسان ہوتا تو یہی کرتا.
اُنہوں نے ریحاب کو پکڑ کر اپنے پاس بیٹھاتے اُس کے آنسو صاف کیے تھے.
” بیٹا جیسے وقت اور حالات تھے. آپ کی جگہ اگر کوئی بھی ہوتا تو یہی کرتا. مگر ایک بہت بڑی غلطی کی آپ نے ارحم پر ٹرسٹ نہ کرکے.
اگر آپ ارحم کو ساری بات بتا دیتیں. گھر سے اِس طرح نہ جاتیں تو شاید یہ سب نہ ہوا ہوتا. ارحم آپ کی ساری سچائی جانتا تھا. آپ کو بس ایک بار ارحم پر بھروسہ کرکے اُسے اپنی پریشانی بتانی چاہئے تھی.
لیکن اب جو ہونا تھا ہوگیا. بس اب ﷲ سے یہی دعا ہے کہ ماہ روش جلد سے جلد صحت یاب ہوجائے بہت دکھ دیکھیں ہیں اُس بچی نے. اب اُوپر والا اُس کی ساری آزمائشیں دور کردے. “
صائمہ بیگم کی بات پر ریحاب نے حیرت سے اُنکی طرف دیکھا تھا.
آصف صاحب نے بھی اُس کے سر پر ہاتھ رکھے اُسے اپنی اِس غلطی سے سبق سیکھنے اور خوش رہنے کی دعا دی تھی. اور ضروری کام کا کہتے وہاں سے نکل گئے تھے.
کتنے اعلٰی ظرف تھے وہ اور اُس نے کتنا غلط کیا تھا اُن کے ساتھ. ریحاب کے گلٹ میں مزید اضافہ ہوا تھا.
” ماما میں ارحم سے بھی آخری بار مل کر اُن سے معافی مانگنا چاہتی تھی. مگر وہ تو میری شکل دیکھنے کو تیار نہیں ہیں. اور نہ ہی کل سے گھر آئیں ہیں. “
ارحم کا ذکر کرتے ریحاب کے آنسو ایک بار پھر بہہ نکلے تھے.
جبکہ صائمہ بیگم نے تو اُس کے آخری بار کہنے پر حیرت اُس کی طرف دیکھا تھا.
” بیٹا میں سمجھی نہیں آخری بار کا کیا مطلب. “
صائمہ بیگم نے سوالیہ انداز میں اُس کی طرف دیکھا تھا.
” ماما ارحم شادی سے پہلے ساری سچائی جانتے تھے. اور اُنہوں نے یہ شادی بھی صرف میری مدد کرنے کے لیے کی تھی. اور میں نے بھی تو اِس لیے ہی کی تھی نا. تو اب جب سب ٹھیک ہوگیا ہے تو.
یہ بات ہی تو اُسے سب سے زیادہ پریشان کی ہوئی تھی. کہ اب اُسے ارحم سے علیحدہ ہونا پڑے گا. جس کے نام وہ اپنا سب کچھ کر بیٹھی تھی. عزت اور محبت دینے والا وہ پیارا انسان اُس کے لیے بہت اہم ہوچکا تھا. مگر اپنی بے وقوفیوں کی وجہ سے اُس نے اُسے خود سے بہت دور کر دیا تھا.
ریحاب کے رونے کے درمیان ادھوری چھوڑی جانے والی بات پر اُن کا دل چاہا تھا اپنا سر پیٹ لیں.
جبکہ تھوڑی دیر پہلے آکر کمرے کے دروازے پر کھڑا ارحم غصے سے واپس پلٹ گیا تھا.
” کیا واقعی یہی ریزن تھا. اِس کے علاوہ آپ کی اِس رشتے میں کوئی دلی رضامندی شامل نہیں تھی. یا اِس رشتے میں بندھ کر بھی آپ کے دل میں ارحم کے لیے کوئی جذبات پیدا نہ ہوسکے. “
صائمہ بیگم اُس کی حالت سے اچھے سے سمجھ تو گئی تھیں. مگر پھر بھی ایک بار اُس کے منہ سے سننا چاہتی تھیں.
” ماما میں بہت پیار کرنے لگی ہوں ارحم سے. ایسے لگتا ہے اگر اُن سے الگ ہوئی تو مر جاؤں گی.
میں نہیں رہ پاؤں گی اُن سے علیحدہ ہوکر مگر وہ مجھ سے بہت نفرت کرتے ہیں اب. اور مجھے کبھی معاف نہیں کریں گے. “
ریحاب کے معصوم سے اظہار پر اُن کے لب مسکرائے تھے.
یہ پاگل سی لڑکی چند دنوں میں ہی اُنہیں بہت عزیز ہوگئی تھی.
جو اُن کے بیٹے کو بہت چاہتی تھی. اور یہ نہیں جانتی تھی کہ ارحم بھی اُس سے کتنی محبت کرتا ہے. جتنا بھی ناراض ہو اُسے خود سے علیحدہ کبھی نہیں کرے گا.
” اگر محبت کرتی ہو. تو بغیر اُس سے بات کیے. اُسے منائے آرام سے اُس کی زندگی سے نکل جاؤ گی. محبت کرنے والے ایسا تو بلکل نہیں کرتے.
اگر واقعی ہی محبت کرتی ہوں اُس سے. تو معافی مانگ کر مناؤ اُسے. دوبارہ سے اُس کا دل جیتنے کی کوشش کرو. اتنا سخت دل بلکل بھی نہیں ہے معاف کردے گا تمہیں.
اور یہ کبھی مت سمجھنا کہ وہ نفرت کرتا ہے تم سے. اگر تم جاننے کی کوشش کرو گی تو تمہیں پتا چلے گا کتنی محبت کرتا ہے وہ تم سے.
اِس وقت اپنی بہنوں جیسی دوست کو اِس حال میں دیکھ کر دکھی ہے. غصہ میں ہے. مگر اگر تم پیار سے مناؤ گی تو ضرور مان جائے گا. “
صائمہ بیگم نے اُسے بلکل سگی بیٹی کی طرح سمجھایا تھا.
” کیا آپ سچ کہہ رہی ہیں وہ مجھے معاف کر دیں گے نا.”
صائمہ بیگم کی بات پر ریحاب کی آنکھیں جگمگائی تھیں. اُسے تو لگا تھا سب ختم ہوگیا ہے. مگر امید کی ایک نئی کرن روشن ہوئی تھی اُس کے لیے.
اُن کی باتیں سنتے اُس نے خود سے عہد کیا تھا. کہ وہ کسی بھی طرح ارحم کو منا کر رہے گی. اُس کی محبت واپس حاصل کرکے رہے گی.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

زیمل ماہ روش کے کمرے کے باہر بینچ پر افسردہ سی سر جھکائے بیٹھی تھی. جب کندھے پر کسی کا لمس محسوس کرتے اُس نے چہرا موڑ کر اُوپر دیکھا تھا. جاذل کو ایک نظر دیکھ وہ واپس چہرا جھکا گئی تھی.
کیونکہ اُس کے آنسو پھر سے گالوں پر لڑھک آئے تھے.
” وہ بہت معصوم ہے اُس نے کبھی کسی کا بُرا نہیں چاہا. تو ہمیشہ اُس کے ساتھ ہی بُرا کیوں ہوتا ہے. کیوں ہر دکھ اُسی کے لیے لکھا ہے.
ساری زندگی اُس نے پیار کو ترستے محرومیوں میں گزاری ہے. اور اب جب اُس کے سب اپنے اُس کے قریب ہیں تو وہ یہ سب دیکھنے کے قابل نہیں رہی. “
زیمل نے بے دردی سے اپنے آنسو صاف کیے تھے. اور آنکھوں میں شکوہ بھرے کہتی وہ اِس وقت ہر ایک سے ناراض لگی تھی اُسے.
جاذل سے ہر وقت ہنستی مسکراتی زیمل کی یہ حالت دیکھی نہیں جارہی تھی. آج تیسرا دن تھا. اور وہ بغیر کچھ کھائے پئے پچھلی تین راتوں سے جاگتی ارتضٰی اور اُس کے باقی گھر والوں کی طرح یہاں ماہ روش کے پاس موجود تھی.
جاذل اُسے کتنی بار کہہ چکا تھا. مگر وہ وہاں سے ہلنے کو تیار نہیں تھی. بہت مشکل سے اُس نے صرف تھوڑا سا جوس پیا تھا.
” آزمائشیں بھی ہمیشہ اچھے لوگوں کی زندگی میں آتی ہیں. اور اُوپر بیٹھا رب کبھی کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں کریں گا.
ماہ روش کے لیے تو اتنے لوگ دعائیں کر رہے ہیں. دیکھنا انشاءﷲ وہ بہت جلد ٹھیک ہوجائے گی. “
جاذل زیمل کی طرف دیکھتے پر یقین لہجے میں بولا تھا.
” مگر اِس طرح کرکے آپ اپنی طبیعت خراب کر لیں گی. اِس لیے چلیں میں آپ کو گھر ڈراپ کر دیتا ہوں. کچھ دیر آرام کر لیں پھر بے شک دوبارہ آجائیں گا. “
جاذل نے ایک بار پھر اُسے جانے کو کہا تھا. مگر زیمل ابھی بھی اپنی ضد پر قائم تھی. جب بہت دفعہ اُسے اسرار کرنے پر بھی وہ نہ مانی تو جاذل کو ناچار ہاتھ میں پکڑا جوس کا گلاس اُس کی طرف بڑھانا پڑا تھا.
” اوکے گھر نہیں چلنا تو یہ پی لیں تھوڑا سا. صبح سے کچھ نہیں کھایا. اب اتنی تو بات مان سکتی ہیں نا میری.”
جاذل کے اتنے اسرار پر زیمل کو مزید انکار کرنا اچھا نہیں لگا تھا. اور اُس کے ہاتھ سے گلاس تھامتے زیمل نے ہونٹوں سے لگا لیا تھا.
جوس پیئے ابھی زیمل کو چند منٹ ہی گزرے تھے. جب اُسے اپنا سر چکراتا محسوس ہوا تھا.اور اُس پر غنودگی سی چھا رہی تھی. جاذل جو اُس کے پاس ہی بیٹھا تھا. جوس میں ملائی دوا کا اُس پر اثر ہوتا دیکھ جاذل نے اُس کے گرد اپنا بازو پھیلایا تھا.
جب اگلے ہی لمحے زیمل اُس کے کندھے پر سر ٹکاتی اُس کے بازوؤں میں جھول گئی تھی.
جاذل بہت ہی احتیاط اور نرمی سے اُسے اپنی بانہوں میں بھرتا باہر کی طرف بڑھ گیا تھا.
زیمل کی ضدی طبیعت سے تو وہ واقف ہو ہی چکا تھا. اور جانتا تھا وہ اُس کی بات بلکل نہیں مانے گی. اِس لیے اُس کی حالت کے پیش نظر جاذل کو یہ طریقہ مناسب لگا تھا.
رات کے گیارہ بجے کا وقت تھا. جاذل کو اِس وقت سلمٰہ بیگم کو ڈسٹرب کرنا مناسب نہیں لگا تھا. اِس لیے وہ زیمل کو اُس کے گھر لے کر جانے کے بجائے اپنے فلیٹ پر لے آیا تھا.
اندر داخل ہوکر دروازہ پاؤں مار کر بند کرتے جاذل زیمل کو اُسی طرح بانہوں میں اُٹھائے اپنے بیڈ روم کی طرف بڑھا تھا. اور بہت ہی نرمی سے زیمل کو بیڈ پر لٹا دیا تھا. زیمل اِس وقت لائٹ اورنج کلر کے پرنٹڈ سوٹ میں رف سے حلیے میں بھی اُسے اچھا خاصہ اپنی طرف متوجہ کر گئی تھی.
بالوں کو جوڑے کی شکل میں باندھا گیا تھا. جس سے بال نکل کر اُس کے چہرے کے اردگرد پھیلے ہوئے تھے. وہ سوتے ہوئے اُسے کوئی کیوٹ سی بچی لگی تھی. زیمل کے چہرے پر پہلی جیسی شادابی نہیں تھی. مسلسل ٹینشن اور تھکن کی وجہ سے اُس کا ہر وقت کھلکھلاتا خوبصورت چہرا مرجھایا ہوا تھا.
جاذل کتنے ہی پل اُس حسین پیکر کو دیکھتا رہا تھا.
زیمل اُس کی زندگی کی وہ پہلی واحد لڑکی تھی. جسے دیکھ جاذل کو اپنے دل میں کچھ ہلچل سی محسوس ہوتی تھی. محبت نہیں کہہ سکتا تھا مگر ہاں وہ اُسے پہلی نظر میں ہی بہت اچھی لگی تھی.
جاذل اُس کے صبح اٹھنے کے بعد والے ردعمل کے بارے میں سوچ کر مسکرایا تھا. جب اِس جنگلی بلی نے پنجے جھاڑ کر اُس پر چڑھ جانا تھا.
کافی دیر اُسے دیکھتے رہنے کے بعد ہوش میں آتے اُس پر کمبل پھیلا کر واش روم کی طرف بڑھ گیا تھا.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

ریحاب کو ملازمہ سے پتا چل گیا تھا کہ ارحم گھر آگیا ہے. اور اپنے کمرے میں ہے پہلے تو اُس کی ہمت ہی نہیں ہوئی تھی کمرے میں جانے کی مگر پھر کافی دیر بعد ہمت جمع کرتے وہ اُٹھی تھی.
کمرے میں قدم رکھتے اُسے وہ خالی ملا تھا. مگر واش روم کے بند دروازے کو دیکھتے وہ دھڑکتے دل کے ساتھ صوفے کی طرف بڑھ گئی تھی.
پانچ منٹ بعد ارحم واش روم سے باہر نکلا تھا. اِس وقت وہ صرف ٹراؤزر میں ہی موجود تھا. ریحاب نے سُرخ ہوتے فوراً نگاہیں جھکا لی تھیں. ارحم نے ایک سخت نگاہ ڈالنے کے بعد دوبارہ ریحاب کی طرف دیکھنے کی زحمت نہیں کی تھی.
ریحاب کو پہلی بار ارحم سے خوف محسوس ہوا تھا. اُسے سمجھ نہیں آرہا تھا بات کا آغاز کیسے کرے.
ارحم ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑا بال بنا رہا تھا. اور ساتھ ہی مرر سے ایک غصے بھری نظر ریحاب پر بھی ڈالی تھی. جو ہاتھ کی اُنگلیوں کو بُری طرح مڑورتی صوفے سے اُٹھ کر اُس کے قریب آرہی تھی.

جاری ہے