No Download Link
Rate this Novel
Episode 5
رات کا دوسرا پہر چل رہا تھا ہر طرف خاموشی طاری تھی. گاؤں میں کم لوگوں کے گھر میں چار دیواری بنائی گئی تھی. اِس لیے لوگ گرمی کی وجہ سے صحن میں چارپایاں بیچھا کر سوئے ہوئے تھے.
وہ دونوں بغیر زرا بھی آواز پیدا کیے اُس حویلی کی طرف بڑھ رہے تھے. جہاں جاگیرداروں کا اصل ڈیرہ موجود تھا. حویلی کی قدرے تاریک گوشے والی سائیڈ کی دیوار سے اُنہوں نے اندر داخل ہونے کا سوچا تھا.
ارتضٰی تو مزے سے دیوار پر چڑھ گیا تھا مگر دیوار کی زیادہ اونچائی کی وجہ سے ماہ روش کو تھوڑی مشکل پیش آرہی تھی.
ارتضٰی نے اُسے مسلسل ناکام کوشش کرتے دیکھ ہاتھ بڑھایا تھا کیونکہ زیادہ دیر یہاں رُکنا خطرے سے خالی نہیں تھا.
ماہ روش نے ہچکچاتے ارتضٰی کے مضبوط ہاتھ کو تھاما ہی تھا کہ اگلے ہی لمحے ایک جھٹکے سے ارتضٰی نے اُسے اپنی طرف کھینچ لیا تھا. ماہ روش سیدھی اُس کے سینے سے جا ٹکرائی تھی. ارتضٰی کی وجود سے اُٹھتی خوشبو اُس کے حواس معطل کر گئی تھی. ارتضٰی مشن کی خاطر مہینوں کھائے پئے بغیر رہ سکتا تھا مگر اپنے فیورٹ پرفیوم لگائے بغیر نہیں. ہمیشہ اُس کے ساتھ کام کرنے والے اِس بات پر کافی حیران بھی تھے مگر یہ بھی سچ تھا کہ میجر ارتضٰی سکندر کافی ٹف بندہ تھا. اُس کو سمجھنا بہت مشکل کام تھا.
ماہ روش نے اُس کے کندھے کو تھام کر خود کو دوبارہ نیچے گرنے سے بچایا تھا. وہ دیوار پر بلکل ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے تھے.
ارتضٰی کی گرم سانسیں ماہ روش کے چہرے سے ٹکرا رہی تھیں. اندھیرے کے باوجود اُس کو اتنے قریب محسوس کرتی ماہ روش فوراً پیچھے ہٹی تھی. اُس کے اِس طرح یکدم پیچھے ہونے کی وجہ سے ارتضٰی کو نجانے کیوں بہت بُرا لگا تھا. جب اُس کا ہاتھ چھوڑتے ارتضٰی نے نیچے کی طرف چھلانگ لگا دی تھی. ماہ روش بھی اُس کے پیچھے بہت ہی پُھرتی سے آواز پیدا کیے بغیر نیچے کودی تھی.
دیواروں پر لگے پائپس اور شیڈز پر پاؤں رکھتے وہ اُوپر چڑھے تھے کیونکہ مین گیٹ سے داخل ہوتے پکڑے جانے کا خطرہ تھا. اُنہوں نے ٹیرس کی دیوار پھلانگتے جیسے ہی اندر قدم رکھا سامنے ہی ڈرائنگ روم میں بیٹھے لوگوں کو دیکھ فوراً نیچے جھکے تھے.
ماہ روش نے اتنی بڑی سیاسی شخصیت کی یہاں موجودگی پر بے یقینی سے دیکھا تھا. پورے ملک میں کتنی معزز شخصیت کے طور پر جانا جاتا تھا اور چند پیسوں کی خاطر اِس طرح کے گھناؤنے جرائم میں ملوث تھا.
ارتضٰی نے ریکارڈنگ آن کرتے ہاتھ میں پکڑے کیمرے سے اُس کی تصاویر لی تھیں. تھوڑی دیر وہاں باتیں کرنے کے بعد وہ اُن وڈیروں کے ساتھ اندر کسی کمرے کی طرف بڑھ گیا تھا.
ابھی اُسے گئے پانچ منٹ بھی نہ گزرے تھے جب اُس طرف سے کسی لڑکی کے چلانے کی آوازیں آنے لگی تھیں. سچویشن کو سمجھتے ایک سیکنڈ کی بھی دیر کیے بغیر وہ دونوں ٹیرس کی دیوار پھلانگتے شیڈز کے سہارے آگے موجود کمرے کے ٹیرس ہر کودے تھے.
مگر سامنے موجود منظر دیکھ ارتضٰی کا خون کھول اُٹھا تھا. ہونٹ زور سے بھینچنے کی وجہ سے اُس کی کنپٹی کی رگ اُبھر آئی تھی. خود پر قابو نہ پاتے ارتضٰی بغیر کسی چیز کی پرواہ کیے کمرے کی طرف بڑھا تھا.
ماہ روش کپکپاتے وجود کے ساتھ دل تھامتی وہیں ساکت ہوئی تھی. اُس نے ارتضٰی کو روکنے کی کوشش بلکل نہیں کی تھی. وہ گھٹیا شخص جو سلوک اس لڑکی کے ساتھ کر رہا تھا. اُس کا خود کا دل چاہ رہا تھا ابھی اُس درندے کو شوٹ کر دے.
ارتضٰی نے گریبان سے پکڑ کر اُسے اُس لڑکی سے دور کیا تھا اور اُس کا چہرا بچا کر ایسی ایسی جگہ ضرب لگائی تھی کہ وہ درد سے بلبلا کر رہ گیا تھا. ارتضٰی نے اُس کے منہ کو اپنے ایک ہاتھ سے دبوچ رکھا تھا کہ وہ چیخ بھی نہیں پارہا تھا.
ماہ روش نے آگے بڑھ کر اُس لڑکی کو دوپٹہ اوڑھایا تھا. اور اُس ڈری سہمی لڑکی کو ساتھ لگاتے حوصلہ دیا تھا.
ارتضٰی نے اُسے اچھی طرح مار مار کر بے حال کرنے کے بعد انجکشن نکال کر اُس کے بازو میں کھونپ دیا تھا. جس کی وجہ سے اِردگرد سے غافل ہوتے وہ وہی ڈھ گیا تھا. وہ ابھی اُس کو مار کر باقی سب لوگوں کو بلکل بھی الرٹ نہیں کرنا چاہتا تھا.
وہ اچھے سے جانتا تھا وہ اکیلا ہی اِن سب پر بھاری تھا مگر اِس طرح اُنکو ختم کرکے اتنی آسان موت دے کر وہ بہت سارے مظلوموں کے ساتھ نا انصافی نہیں کر سکتا تھا.
“آپ نے یہ سب کرکے اپنے لیے بہت بڑی مشکل کھڑی کر دی ہے. یہ لوگ بہت طاقت ور ہیں آپ لوگوں کو نہیں چھوڑیں گے. آج تو آپ نے مجھے بچا لیا. لیکن کل میرے ساتھ اِس سے بھی زیادہ بُرا سلوک ہوگا.”
وہ لڑکی روتے ہوئے ہچکیوں کے درمیان بولی. ماہ روش نے دکھ بھری نظروں سے اُس کی طرف دیکھا تھا.
“اِس شخص کے ساتھ جو میں نے کیا ہے ایک مہینے تک کے لیے تو یہ ہلنے کے قابل بھی نہیں رہا. اِس انجکشن کی وجہ سے اِس کو جب تک ہوش آئے گا درد کے علاوہ کچھ یاد نہیں ہوگا اِسے.
اور آپ کو اب ہم اِن درندوں میں بلکل بھی چھوڑ کر نہیں جائیں گے. آپ بے فکر ہوجائیں اب آپ ہمارے ساتھ بلکل محفوظ ہیں.
ناصرہ نے تشکر بھری نظروں سے اُن دونوں کی طرف دیکھا تھا. جو اُس کے لیے فرشتے سے کم ثابت نہیں ہوئے تھے. نقاب میں ہونے کی وجہ سے وہ اُن کے چہرے تو نہیں دیکھ پائی تھی. مگر رب کے حضور اپنی عزت بچ جانے پر بہت شکر گزار تھی.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
اِس گاؤں کی رہائشی ہونے کی وجہ سے اُنہیں ناصرہ سے بہت ساری معلومات ملی تھی. جو ڈر کی وجہ سے باقی لوگوں نے نہیں بتائی تھی.
ناصرہ ایک ہفتے سے حویلی میں ہونے کی وجہ سے حویلی کے اندر کی بھی کچھ باتوں سے واقف تھی. اُن دونوں نے اُس کے سامنے اپنی اصلی پہچان ظاہر نہیں کی تھی. کیونکہ یہ بات اُن کے رولز کے خلاف تھی.
اُنہوں نے خود کو اُس کے سامنے ایک میاں بیوی کی طرح ہی ظاہر کیا تھا. لیکن اُس کی وجہ سے وہ ایک مشکل میں آگئے تھے. کہ پچھلے پانچ دنوں سے الگ الگ روم میں سوتے اب ناصرہ کی وجہ سے اُنہیں ایک ہی روم میں ہی رہنا تھا. جو دونوں کے لیے ہی ٹینشن کی بات تھی. کیونکہ مضبوط اعصاب رکھنے کے باوجود بھی وہ دونوں اندر ہی اندر ایک دوسرے سے اچھے خاصے ڈسٹرب ہورہے تھے.
“باجی آپ کی اپنے گھر والے سے کوئی ناراضگی چل رہی ہے کیا. “
ماہ روش ناصرہ کو چائے پکڑاتی پاس بیٹھی تھی جب اُس کے سوال پر خاموش نظروں سے اُس کی طرف دیکھا تھا.
“کیوں آپ کو ایسا کیوں لگا. “
ماہ روش نے حیرت سے اُس کی طرف دیکھا تھا.
“وہ جی اُن کی آنکھوں میں آپ کے لیے پسندیدگی تو ہے مگر وہ ظاہر نہیں کرتے ایسا لگتا ہے کسی وجہ سے آپ سے چھپا رہے ہیں یا کسی بات پر ناراض ہیں آپ سے. اور آپ بھی تو اُن سے اتنی کھنچی کھنچی رہتی ہیں. دو دن سے سو بھی آپ میرے ساتھ رہی ہیں. “
“ہاہاہاہا ہو تم چھوٹی سی اور باتیں اتنی بڑی بڑی کررہی ہو ایسی کوئی بات نہیں ہے. اور تم کافی ڈری ہوئی تھی اِس لیے میں تمہارے ساتھ سورہی ہوں. “
ماہ روش نے اُس کی بات مذاق میں لیتے اُسے ٹالنا چاہا تھا.
میجر ارتضٰی اور اُسے پسند کرے گا ماہ روش کو یہ بات سوچ کر ہی ہنسی آرہی تھی.
روم میں داخل ہوتا ارتضٰی بھی اُس کی بات سن چکا تھا. ماہ روش اُسے وہاں دیکھ خواہ مخواہ ہی شرمندہ ہوئی تھی. جب وہ بغیر کچھ کہے ماہ روش کو دوسرے روم میں آنے کا اشارہ کرتے باہر نکل گیا.
“اُن لوگوں کو کسی قسم کا کوئی شک نہیں ہوا. وہ یہ ہی سمجھ رہے ہیں کہ ناصرہ وہاں سے خود بھاگی ہے. وہ اُسے ڈھونڈتے پھر رہے ہیں. مگر اِس بات کی تسلی ہے کہ گھروں کی تلاشیاں نہیں لے رہے اُن کے مطابق گاؤں والوں میں سے کسی میں بھی ہمت نہیں کہ اُن کے خلاف کوئی قدم اُٹھا سکیں.
لیکن پھر بھی ہمیں پوری طرح سے کیئر فل رہنا ہوگا. اور ہاں آج سے آپ کو یہاں اِسی روم میں سونا ہوگا.”
پوری دھیان سے اُس کی بات سنتے آخری بات پر ماہ روش نے گھبرا کر پہلو بدلا تھا.
“کیپٹن ماہ روش میں اتنا گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے. میں میجر ارتضٰی سکندر ہوں اپنے نفس کو کنٹرول کرنا اچھے سے جانتا ہوں.
اور گھبرانے کی وجہ ہونی بھی نہیں چاہئے. میں عزتوں کو محافظ ہو لوٹیرا نہیں. “
ارتضٰی اپنی بات مکمل کرتا وہاں سے نکل گیا تھا. وہ ہمیشہ ایسا ہی کرتا تھا اپنا آرڈر سنا کر بغیر اُس کا جواب سنے نکل جاتا تھا.
ماہ روش گہرا سانس لیتی کرسی پر جابیٹھی تھی. ارتضٰی کتنے مضبوط کردار کا مالک ہے یہ بات تو دو ہفتوں سے اُس کے ساتھ تنہا رہتے ہوئے وہ اچھے سے جان ہی چکی تھی. اور گھبراہٹ اُس کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنی اندرونی کیفیت کی وجہ سے ہورہی تھی. جس کو ارتضٰی کچھ اور ہی معنوں میں لیتا اُسے اتنا کچھ سنا گیا تھا.
ارتضٰی اُس سے بہت کم بات کرتا تھا لیکن ماہ روش کو محسوس ہو رہا تھا وہ آہستہ آہستہ اُس کی سحر انگیز پرسنیلٹی کے حصار میں قید ہو رہی تھی.
اُس کا مغرور انداز ماہ روش کو اپنا دیوانہ بنا رہا تھا. ہمیشہ سکول کالج ہر جگہ ماہ روش لڑکوں سے کافی فاصلے پہ رہی تھی. اپنی ہم عمر لڑکیوں کی طرح وہ اِن رنگینیوں میں نہیں کھوئی تھی بلکہ خود کو ہمیشہ اِن سب سے دور رکھا تھا.
مگر اب نجانے کیوں دل اُس کو دغا دے رہا تھا. بہت چاہنے کے باوجود بھی وہ اپنی کیفیت کو کنٹرول نہیں کرپارہی تھی.
رات کو سونے کے ٹائم پر کمرے میں داخل ہوتے
ماہ روش ارتضٰی کی کی گئی کمرے کی سیٹنگ دیکھ کافی پرسکون ہوئی تھی. ایک ساتھ رکھی گئی چارپائیوں کو ارتضٰی نے الگ کرکے دونوں کو ایک دوسرے کی مخالف سمت میں دیواروں سے لگا دیا تھا. کمرے میں بلب کی مدھم سی روشنی موجود تھی. ابھی وہ آکر چارپائی پر بیٹھی ہی تھی کہ موسم کی خرابی کی وجہ سے اچانک لائٹ چلی گئی تھی.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
حال
“ہیلپ پلیز اینی باڈی ہیلپ.”
ارحم ریسٹورنٹ میں اپنے دوستوں کے ساتھ ڈنر کرنے آیا ہوا تھا. ڈنر سے فارغ ہوکر وہ گاڑی کی طرف بڑھا تھا. جب اُسے ریسٹورنٹ کے بائیں جانب موجود سنسان روڈ پر کسی لڑکی کے چلانے کی آواز آئی تھی.
وہ ملک کا محافظ ہر وقت ملک و قوم کی خدمت کے لیے تیار رہنے والا ایک بھی سیکنڈ کی دیر کیے بغیر اُس طرف بھاگا تھا.
“کون ہے یہاں. “
وہ پکارتا آگے بڑھا تھا. جب سائیڈ سے ایک لڑکی روتے ہوئے بھاگتے اس کے قریب آئی تھی.
“کچھ غنڈے میرے پیچھے پڑے ہیں پلیز مجھے بچا لیں.”
ارحم کی شرٹ کو اپنے ہاتھوں میں جکڑتی وہ بُری طرح سے ڈری ہوئی لگ رہی تھی.
سٹائل سے کٹے گئے بال ماتھے پر بکھرے ہوئے تھے. بڑی سے بلیک چادر بھاگنے کی وجہ سے نیچے لٹک رہی تھی. بڑی بڑی خوبصورت کاجل سے سجی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے جن کی وجہ سے چہرا مکمل طور پر آنسوؤں سے بھیگا ہوا تھا. اندھیرے میں بھی اُس کی دودھیا رنگت چمک رہی تھی.
“دیکھئے آپ اب بلکل سیف ہیں. اور وہاں کوئی غنڈے نہیں ہیں. “
ارحم خود کو اُس کے حصار سے آزاد کرواتا سامنے کی طرف دیکھتے بولا.
“اوکے بہت بہت شکریہ آپ کا. “
وہ اُس طرف دیکھ کر پرسکون ہوتی پلٹی تھی مگر ایک قدم چلنے کے بعد اُسے وہاں رُکنا پڑ گیا تھا. کیونکہ اُس کی کلائی ارحم کی مضبوط گرفت میں تھی.
“مس میرا والٹ تو دیتی جائیں. “
ارحم کی بات پر وہ جھٹکے سے پلٹی تھی.
“نائس ٹرائے. بہت اچھے سے صفایا کرتی ہیں آپ مگر افسوس اِس بار آپ کا پالا مجھ سے پڑ گیا. “
اُس کے ہاتھ سے اپنا والٹ لیتے ارحم نے اُس کے دلکش نقوش سے سجے چہرے کو کڑے تیروں سے گھور کر دیکھا تھا. جو اپنی چوری پکڑے جانے پر حیرت سے منہ کھولے کھڑی تھی. ارحم کو وہ اِس طرح حیران ہوکر دیکھتی کافی کیوٹ لگی تھی.
پہلا بندہ تھا یہ جس کے آگے وہ پکڑی گئی تھی نہیں تو آج تک کسی کے فرشتوں کو بھی پتا نہیں چل پایا تھا.
“دیکھئے پلیز میرا ہاتھ چھوڑیں. آپ جو سمجھ رہے ہیں ویسا کچھ نہیں ہے. “
وہ اُس کے تاثرات دیکھ کر گھبراتے جلدی سے بولی. درخت کے پیچھے چھپ کر ویڈیو ریکارڈ کرتی اُس کی فرینڈز بھی پریشانی سے سامنے کا منظر دیکھ رہی تھیں. اِس سچویشن کو ہینڈل کرنے کا تو انہوں نے کوئی پلین ہی نہیں کیا ہوا تھا. کیونکہ ریحاب کے مطابق جس پُھرتی سے وہ یہ کام کرتی تھی. اُس کا پکڑا جانا ناممکن ہی تھا.
“سمجھنے سمجھانے والی ساری باتیں تو اب پولیس سٹیشن میں جاکر ہوں گی کیونکہ میں ایک پولیس آفیسر ہوں اور آپ کو رنگے ہاتھوں چوری کرتے پکڑا ہے میں نے. “
اُسے ویسے ہی تھامے وہ آگے کی طرف بڑھا تھا.
جب اُس کی دوستیں ہوش میں آتے بھاگتی ہوئی ارحم کے سامنے آئیں تھیں.
“دیکھیں سر یہ صرف ایک پرینک تھا. جیسا آپ سمجھ رہے ہیں ویسا کچھ نہیں ہے. ریحاب کا ویسا کوئی ارادہ نہیں تھا. “
ارحم کے تیور دیکھ وہ لوگ پریشان حال رونی صورتیں لیے اُس کے سامنے تھیں. یہ سوچ ہی جان لیوا تھی کہ گھر والے جیل میں دیکھ کر اُنہیں ویسے ہی اُڑا دیں گے.
ارحم کو اُن کی یہ حالت کافی مزا دے رہی تھی. ایک سیکریٹ ایجنٹ ہونے کی وجہ سے وہ پہلی نظر میں ہی اُنہیں سمجھ چکا تھا.
مگر اُن کی حرکت پر اُنہیں سبق سیکھانے کی غرض سے ایسا کر رہا تھا.
“ظاہر سی بات ہے چور یہ کیسے کہے گا کہ میں نے چوری کی ہے. مگر ہمارے پاس بہت اچھے طریقے ہیں سچ اُگلوانے کے. “
ارحم کی بات پر کب سے خود کو کنٹرول کرتی ریحاب نے تپ کر کچھ کہنا چاہا. مگر کرن نے اُس کو چپ رہنے کا اشارہ کیا تھا.
“سر یہ سچ میں ایک پرینک تھا. آپ یہ ویڈیو چیک کرسکتے ہیں. کوئی بھلا اپنی ہی چوری کی ویڈیو کیوں بنائے گا. “
کرن سے موبائل لیتے ارحم نے ویڈیو دیکھ کر پہلے اپنے موبائل پر فارورڈ کی اور پھر اُس موبائل سے ڈیل کرتے اُن کی طرف بڑھایا تھا.
اُس کی اِس حرکت پر ریحاب نے دل ہی دل میں اُسے نجانے کتنی گالیوں سے نوازا تھا.
“تو میں کونسا سیریس ہوں. “
اُس کی بات پر تینوں نے حیرت سے اُس کی طرف دیکھا.
“میں کوئی پولیس آفیسر نہیں ہوں. آپ لوگوں کو تھوڑی عقل سیکھانے کے لیے یہ سب کیا. یہ جو سنسان جگہ پر آپ لوگ ایسی حرکتیں کر رہی ہیں. آپ کو اِس سے کافی نقصان بھی پہنچ سکتا ہے. ضروری نہیں ہر دفعہ مجھ جیسا کوئی شریف انسان ہی ٹکرائے آپ سے. سو نیکسٹ ٹائم بی کیئر فل.”
ارحم کی نظر اُس کی بات سن کر ایک بار پھر حیرت سے منہ کھولے کھڑی ریحاب پر پڑی تھی.
“اور ہاں مس ریحاب آپ آئندہ اگر آنکھوں میں گلیسرین ڈالنے کا ارادہ ہو تو پلیز کاجل مت ڈالیے گا. کیونکہ اِس طرح آپ کو دیکھ کر ڈر کے مارے کسی کا بھی ہارٹ فیل ہوسکتا ہے. “
ارحم شرارتی لہجے میں اُسے کہتا.
اُنہیں وہی ساکت کھڑا چھوڑ اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گیا تھا.
“تم کتنی بڑی بے وقوف ہو. اُس کو ویڈیو دیکھنے کی کیا ضرورت تھی. اور تم اُس کے سامنے میرا نام بکنے کی کیا ضرورت تھی. ٹھیک کہتے ہیں بے وقوف دوست سے عقل مند دشمن بہتر ہوتا ہے. “
ریحاب سر پر ہاتھ مارتے اُن دونوں کو کوسا تھا.
‘”ہم تو صرف تمہاری ہیلپ کررہی تھیں. اور تم پریشان کیوں ہو رہی ہو اتنا شریف بندہ تھا یار اُس نے کیا کرنا ہے. “
وہ دونوں بُری طرح ارحم کے انداز اور پرسنیلٹی سے متاثر ہوچکی تھی.
“شریف مائی فٹ ایسے ہوتے ہیں شریف. گدا کہیں کا. دوبارہ ملے میں بتاؤ گی اِسے. اِس بے عزتی کا بدلہ تو ضرور لے کر رہوں گی. “
ریحاب غصے سے پیر پٹختی آگے کی طرف بڑھی تھی.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
جاری ہے
