Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 42

ماہ روش غصے بھری نظروں سے سامنے پڑے ڈریس کو گھورے جارہی تھی. جو آج رات کی مہندی میں پہننے کے لیے اُس کی طرف بھجوایا گیا تھا.
ماہ روش کا دل چاہ رہا تھا اِس ڈریس کو آگ لگا دے. کسی کو اس کی اور اُس کے جذبات کی پرواہ ہی نہیں تھی. شام سے رات ہوچکی تھی مگر نہ ہی وہ باہر نکلی تھی اور نہ ہی باہر سے کوئی اندر اُس کے کمرے میں آیا تھا. بس ایک بار ملازمہ نے ہی آکر ڈریس اور جیولری اُسے دی تھی.
ماہ روش کو اپنی بے وقعتی پر رونا آرہا تھا. اُس پر جان چھڑکنے والی اُس کی ماما اور بڑی ماما بھی آج اُسے بھولی ہوئی تھیں. اِس لیے آج اُسے ارتضٰی سے تو کوئی گلہ تھا ہی نہیں کیونکہ وہ تو تھا ہی سدا کا ظالم اور سنگدل انسان اُسے تو پہلے بھی کبھی ماہ روش کے جذبات کی پرواہ رہی ہی نہیں تھی. جو آج کرتا. آج تو ویسے بھی وہ ہواؤں میں اُڑ رہا ہوگا.
ارتضٰی سمیت گھر والوں کی بے حسی کے بارے میں سوچتے ماہ روش کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے تھے. اُس کی بیسٹ فرینڈ زیمل جو اچھے سے ارتضٰی کے لیے اُس کی بے انتہا محبت اور تڑپ سے آگاہ تھی. شام میں آچکی تھی مگر اُسے بھی ایک بار توفیق نہیں ہوئی کہ آکر اُس کا حال پوچھ جائے.
مگر ماہ روش یہ نہیں جانتی تھی کہ اُن سب کے آج دور دور رہنے کی وجہ ماہ روش کو اگنور کرنا یا بھولنا نہیں بلکہ اُس کے سامنے پول نہ کھل جائے یہ ریزن تھا.
ماہ روش اپنی سوچوں میں بُری طرح غرق تھی جب اُسی وقت دروازہ ناک کرتے زینب بیگم اندر داخل ہوئی تھیں.
ہلکے گولڈن کلر کے خوبصورت سے شیفون کے سوٹ میں ڈوپٹے کو نفاست سے سر پر سجائے وہ بہت ہی پروقار سی لگ رہی تھیں.
اُن کو دیکھ ماہ روش کو اندازہ ہو چکا تھا کہ باہر اب سب لوگ ریڈی ہوچکے ہیں.
” بیٹا آپ ابھی تک تیار کیوں نہیں ہوئی. بس تھوڑی ہی دیر میں مہندی کا فنکشن سٹارٹ ہونے والا ہے. “
زینب بیگم ماہ روش کے پاس آتے بولیں.
” ماما میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے. پلیز مجھے فنکشن میں نہیں جانا. “
ماہ روش نے پلکیں جھپکتے بہت مشکل سے اپنے آنسو روکے تھے.
” ماہ روش میں آپ کے اِس رویے کی وجہ سمجھ نہیں پارہی .آپ ایسا بی ہیو کیوں کررہی ہیں. نیچے سب مہمان آچکے ہیں بار بار آپ کا پوچھ رہیے ہیں. اور آپ کب سے روم میں بند ہوکر بیٹھی ہیں.
کیا اِس سب کا ریزن ارتضٰی کی شادی ہی ہے.”
زینب بیگم نے کھوجتی نظروں سے ماہ روش کی طرف دیکھا تھا.
” نہیں ماما ایسی بات نہیں ہے. “
ماہ روش کے نفی کرنے پر بھی ایک آنسو پلکوں کی باڑ توڑتا باہر نکل گیا تھا.
ماہ روش کی کیفیت دیکھتے زینب کو اپنے سوال کا جواب مل گیا تھا. وہ یہاں صرف اپنی تسلی کرنے ہی آئی تھیں. کہ ماہ روش ارتضٰی سے انکاری سچ میں تھی یا صرف کچھ غلط فہمیوں کی بنا پر ایسا کررہی تھی. کیونکہ ہر حال میں اُنہیں اپنی بیٹی کی خوشی ہی عزیز تھی.
” اچھی بات ہے. ایسا ہونا بھی نہیں چاہئے. بیٹا یہ آپ کا اپنا فیصلہ ہے. آپ نے ہی جب ارتضٰی سے ملنے تک سے انکار کردیا ہے. تو ارتضٰی کو اپنی لائف کے بارے میں کوئی فیصلہ تو کرنا ہی تھا نا.
اِس لیے اب میری پیاری بیٹی فوراً اُٹھے اور اچھا سا تیار ہوکر باہر آجائے سب لوگ تم سے ملنا چاہتے ہیں. میں زیمل اور ریحاب کو بھیجتی ہوں وہ آپ کے جلدی تیاری میں مدد کروا دیں گی. “
زینب محبت سے ماہ روش کو پچکارتے وہاں سے نکل گئی تھیں.
ماہ روش نے غصیلی نظروں سے سامنے پڑے لہنگے کی طرف دیکھا تھا. پنک اور لائٹ گرین کنٹراس کا وہ بہت ہی خوبصورت کامدار بھاری لہنگا تھا.
ماہ روش کا ایک پرسنٹ بھی دل نہیں تھا. تیار ہونے پر اور باہر جانے پر. مگر مجبوراً اُسے اُٹھنا پڑا تھا.
جب زیمل اور ریحاب سجی سنوری روم میں داخل ہوئی تھیں.
اُن دونوں کو دیکھتے ماہ روش کے غصے میں مزید اضافہ ہوا تھا. جس کا بھرپور اظہار کرتے ماہ روش نے بیڈ پر پڑے کشن اُٹھا کر اُن پر اُچھال دیے تھے.
” ابھی بھی کیا ضرورت تھی آنے کی. جاؤ جاکر باہر انجوائے کرو نا. “
ماہ روش کے دانت پیسنے پر وہ دونوں بے ساختہ اُمڈ آنے والی ہنسی چھپاتی اُس کے حملوں سے بچتی آگے بڑھی تھیں.
” ماہی نیچے بہت کام تھا. وہیں مصروف تھے. اور ہم نے سوچا تم آرام کررہی ہو اِس لیے تمہیں ڈسٹرب نہ کریں. “
زیمل نے صلحہ جو انداز میں آگے بڑھتے ماہ روش کا غصہ کم کرنا چاہا تھا.
” ماہ روش جلدی سے تیار ہوجاؤ. نیچے فنکشن شروع ہونے ہی والا ہے. “
ریحاب کو ڈر تھا کہ زیمل ماہ روش کی حالت دیکھ کچھ بول ہی نہ دے اِس لیے وہ جلدی سے بیچ میں بول پڑی.
” ہاں جا رہی ہوں. “
ماہ روش بے دلی سے ڈریس اُٹھاتے واش روم کی طرف بڑھ گئی تھی.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

مہندی کے فنکشن کا انتظام نور پیلس کے بڑے سے لان میں کیا گیا تھا. اور سیکیورٹی ریزنز کی وجہ سے انوائیٹ بھی صرف کچھ خاص اور قریبی لوگوں کو ہی کیا گیا تھا.
خوبصورت سے لان کا نظارہ آج دیکھنے لائق تھا. وہاں موجود ہر چیز کو برقی قمقموں سے سجایا گیا تھا. ہر طرف رنگ اور خوشبو پھیلی ہوئی تھی.
سٹیج کو بہت ہی دلکش انداز میں گلاب کے پھولوں سے سجایا گیا تھا. جن میں زیادہ استعمال اورنج اور ییلو فلاورز کا کیا گیا تھا.
سٹیج پر رکھے لکڑی کے جھولے کو بھی بہت ہی شاندار اور منفرد انداز میں سجایا گیا تھا. جس پر دلہا دلہن نے بیٹھنا تھا.
” ریحاب زیمل بیٹا ماہ روش کہاں ہے وہ آئی نہیں آپ لوگوں کے ساتھ. “
ناہید بیگم اُن دونوں کو وہاں آتے دیکھ اُن کے قریب آئی تھی.
” آنٹی آپ فکر مت کریں. ماہی تیار ہوچکی ہے بس آتی ہی ہوگی. “
زیمل کی بات پر ناہید بیگم مطمئن ہوتے باقی مہمانوں کی طرف بڑھ گئی.
اُسی اثنا دلہا کی آمد کا شور اُٹھا تھا.
سب کی نظریں انٹرس کی طرف گئی تھیں. جہاں سے ارتضٰی , جاذل اور ارحم تینوں بلیک کرتے شلوار میں ملبوس بڑی شان سے چلتے وہاں داخل ہوئے تھے.
وہ تینوں وہاں موجود تمام لڑکیوں کے دل کی دنیا ہلا گئے تھے.
جبکہ ارتضٰی سکندر کی تو آج چھب ہی نرالی تھی. ہمیشہ سنجیدہ اور سخت مزاج رکھنے والے ارتضٰی کے چہرے سے آج مسکراہٹ غائب ہی نہیں ہورہی تھی.
ناہید اور زینب بیگم نے آگے بڑھتے اُن تینوں کی نظر اُتاری تھی.
ناہید بیگم آج اتنے سالوں بعد اپنے بیٹے کو اتنا خوش اور مطمئن دیکھ اندر تک سرشار ہوگئی تھیں. اُن کی نظریں ارتضٰی کے خوش و خرم چہرے سے ہٹائے نہیں ہٹ رہی تھیں.
ارتضٰی کی متلاشی نظروں نے اردگرد ماہ روش کو ڈھونڈا تھا. مگر اُسے وہاں نہ پاکر مایوسی سے لوٹ آئی تھیں.
” حوصلہ کریں میجر صاحب کیپٹن ماہ روش نے ادھر ہی آنا ہے. “
ارتضٰی کی بے چینی نوٹ کرتے ارحم نے اُسے چھیڑا.
” ماما کہاں ہے ماہ روش مجھے دیکھنا ہے اُسے اب لے بھی آئیں. مجھ سے مزید ویٹ نہیں ہورہا. “
وہ بھی آگے سے ارتضٰی سکندر تھا ارحم کی بات کا اثر لیے بغیر بڑی ہی ڈھٹائی سے اُس نے ناہید بیگم کو کہا تھا.
” ہاں جی اچھے سے دیکھ رہی ہوں. تم سب کی نظروں کو تینوں جو بے چینی سے ادھر اُدھر گھما رہے ہو. تھوڑا سا صبر کر لو ابھی آتی ہیں تینوں. “
ناہید بیگم نے ہنستے اُن سب کا مذاق بنایا تھا. وہ اچھے سے اُن تینوں کی بھٹکتی نظریں نوٹ کر رہی تھیں.
اُن کی بات کو انجوائے کرتے تینوں کا مشترکہ قہقہ گونجا تھا.
جب اچانک کال آجانے پر جاذل معذرت کرتا سائیڈ پر چلا گیا تھا.
ارتضٰی کے ساتھ باتیں کرتے ارحم کی نظر اچانک زیمل کے ساتھ اُس کی کسی بات پر کھلکھلا کر ہنستی اندر آتی ریحاب پر پڑی تھی.
ریحاب پر نظر پڑتے ہی ارحم اپنی بات بھول چکا تھا.
اورنج اور گولڈن کنٹراس کے لانگ فراک کے نیچے گولڈن لہنگا پہنے بڑے سے کامدار ڈوپٹے کو آگے سے سینے اور شانوں پر پھیلائے کھلے بالوں کے ساتھ وہ ارحم کے حواس معطل کر گئی تھی.
ریحاب نے دونوں ہاتھوں میں چھوڑیاں اور گجرے پہن رکھے تھے. جبکہ گلے اور کانوں میں بھاری سیٹ زیب تن کر رکھا تھا.
” آہم آہم کیپٹن ارحم ہوش میں آجائیں. “
ارتضٰی نے ارحم کی حالت پر محظوظ ہوتے اُسے چھیڑا کیونکہ کچھ دیر پہلے وہ اُسے بھی ایسے ہی تنگ کررہا تھا.
ریحاب نے خود پر کسی کی پرتپیش نظریں محسوس کرتے جیسے ہی سامنے دیکھا. ارحم کو وہاں دیکھ ریحاب کا دل زور سے دھڑکا تھا. وہ کب سے اُسی کی تو منتظر تھی.
زیمل کی نظروں نے بھی ارتضٰی اور ارحم کو وہاں دیکھ فوراً جاذل کو ڈھونڈنا چاہا تھا. مگر اُسے وہ کہیں نظر نہیں آیا تھا. جس پر زیمل کا دل فوراً بُجھ سا گیا تھا. اُسے اپنی ساری تیاری بیکار جاتی محسوس ہوئی تھی. اُسے پوری اُمید تھی کہ آج جاذل ضرور آئے گا اور وہ اُس سے اپنے بُرے سلوک کی معافی مانگ لے گی مگر جاذل کو شاید اِس بار اُس نے زیادہ ناراض کردیا تھا.
زیمل خراب موڈ کے ساتھ ریحاب کو ماہ روش کا پتا کرنے اندر جانے کا کہتی وہاں سے پلٹی تھی. اپنی ہی سوچوں میں اُلجھی وہ آگے چل رہی تھی. جب اچانک اُس کا پیر لہنگے میں اُلجھا تھا. اِس سے پہلے کے وہ لڑکھڑا کر گرتی دو مضبوط بازوؤں نے فوراً اُسے اپنے حصار میں لیتے گرنے سے بچایا تھا.
جاذل کو اپنے سامنے دیکھ زیمل کا چہرہ کِھل اُٹھا تھا. دونوں ایک دوسرے کی آنکھوں میں اتنا گم ہوچکے تھے کہ اردگرد کا ہوش ہی بھول گئے تھے. بنا اُس کے بازوؤں سے نکلنے کی کوشش کیے زیمل اُسی پوزیشن میں جاذل کی بانہوں میں سمٹی رہی تھی.
جبکہ جاذل زیمل کا سہانا رُوپ دیکھ کر مبہوت رہ گیا تھا. پرپل اور گولڈن لہنگا فراک میں بھاری گوٹے سے مزین ڈوپٹے کو دائیں کندھے پر ڈالے وہ گولڈن کلر کی ہی بھاری جیولری میں نظر لگ جانے کی حد تک حسین لگ رہی تھی.
ہمیشہ رف اور ٹف حلیے میں رہنے والی زیمل اِس وقت تمام ہتھیاروں سے لیس جاذل کو چاروں شانے چت کرگئی تھی. زیمل نے بالوں کو کھلا چھوڑ کر ایک طرف کرکے کے آگے کی طرف کر رکھا تھا. جب کہ دوسری طرف اُس نے نفیس سا خوبصورت جھومر لگا کر بالوں کو سیٹ کر رکھا تھا. جو اُس کے چہرے کے پیارے سے فیس کٹ کو مزید دلکشی بخش رہا تھا.
جاذل اور زیمل ایک دوسرے میں اِس بُری طرح سے کھوئے ہوئے تھے. کہ ماہ روش کے قریب آجانے کا بھی نوٹس نہیں لیا تھا.
ماہ روش کے ہلکا سا کھنکھارنے پر وہ دونوں ہوش میں آتے ایک دوسرے سے جدا ہوئے تھے.
” آئم سوری ڈسٹرب کرنے کے لیے مگر وہ دراصل آپ لوگ راستہ بلاک کرکے کھڑے تھے تو مجبوراً مجھے ایسا کرنا پڑا. “
ماہ روش نے اُن دونوں کو جھینپ کر پیچھے ہٹتا دیکھ شرارتی مسکراہٹ سے بتایا.
مگر جاذل زیمل پر ایک سپاٹ نظر ڈالتے بنا کوئی بات کیے وہاں سے ہٹ گیا تھا.
جاذل کے اِس طرح جانے پر ماہ روش نے سوالیہ نظروں سے زیمل کی طرف دیکھا.
” تم دونوں کی صُلحہ نہیں ہوئی کیا اب تک. “
ماہ روش کی بات پر زیمل نے بے چارہ سا منہ بناتے نفی میں سر ہلایا.
” زیمل کوئی حال نہیں تمہارا. جاذل جیسے اچھے بندے کو تم بلاوجہ ہرٹ کررہی ہو. “
زیمل ماہ روش کو اپنی حرکت بتا چکی تھی.
” اچھا نا آج کوشش کرتی ہوں نا سب کلیئر کرنے کی. “
زیمل منہ بناتے منمنائی.
” کلیئر ہی کرنا منانے کی کوشش مت کرنا.”
ماہ روش پہلے ہی اچھی خاصی تپی ہوئی تھی. اِس لیے زیمل کے انداز پر مزید چڑتے کہا. اور اندر کی طرف بڑھ گئی.
وہاں داخل ہوتے ہی ماہ روش کی نظر سیدھی سٹیج کی طرف گئی تھی. جہاں مہندی کا فنکشن سٹارٹ ہوچکا تھا.
ارتضٰی سکندر بڑے ہی شہانہ انداز میں جھولے پر براجمان تھا. جبکہ گھر کی تمام بڑی عورتیں اُسے مہندی لگانے میں مصروف تھیں.
سب لوگ آج ارتضٰی کے انداز دیکھ حیران تھے. جو رسمیں ہمیشہ سے ارتضٰی کو ٹائم ویسٹنگ اور بکواس لگتی تھیں. آج وہ مزے سے وہ سب انجوائے کر رہا تھا. سب لوگ سٹیج پر ہونے والی اُن کی نوک جھونک انجوائے کررہے تھے.
ڈی جے نے ماحول کے مطابق میوزک آن کردیا تھا. جس نے ماحول کو مزید رونق بخشی تھی.
ماہ روش کونے پر موجود کرسی کا انتخاب کرتی وہاں جا بیٹھی تھی.
جب اچانک ارتضٰی کی نظر ماہ روش پر پڑی تھی. اور واپس پلٹنا بھول گئی تھیں.
حسین تو وہ پہلے ہی بہت تھی مگر آج تو وہ مکمل حُسن اور نزاکت کا پیکر بنے حوروں کے حُسن کو بھی مات دے رہی تھی.
ماہ روش نے پنک کلر کے فراک جو گرین اور سلور کلر کی فل ایمبرائیڈری سے مزین تھا کہ نیچے ڈارک پنک کلر کا ہی لہنگا زیب تن کررکھا تھا. جو مکمل گوٹے کے کام سے بھرا ہوا تھا.
لائٹ گرین کلر کے بھاری کامدار ڈوپٹے جس کے کناروں پر پنک کلر کی خوبصورت سی لیس لگی ہوئی تھی ماہ روش نے ڈوپٹے کا ایک پلو سر پر لیتے دوسرے کو کندھے کے پیچھے لے جاکر بازو پر رکھا ہوا تھا.
اُس کے لمبے گھنے بال آج ہر قید سے آزاد کچھ کمر پر اور کچھ آگے کندھے پر بکھرے ہوئے تھے. جیولری کے نام پر زینب بیگم نے ماہ روش کو اچھا خاصہ بھر دیا تھا. ماہ روش کے انکار کے باوجود اُس کی ایک نہیں سنی گئی تھی.
بھاری جھمکے اور ہار سیٹ تو اُسے پہنایا ہی گیا تھا. مگر ارتضٰی کی فرمائش پر نتھ اور ماتھا پٹی بھی پہنائی گئی تھی. گاؤں میں مشن کے دوران ارتضٰی نے ماہ روش کو نتھ پہنے دیکھا تھا. تب سے اُسے دوبارہ اُسی رُوپ
میں دیکھنے کی خواہش تھی جسے آج بے دھڑک سب کو بتاتے اُس نے پوری کروا لی تھی.
ماہ روش کو یہ سب بہت اوور لگ رہا تھا مگر بار بار سب کے اصرار کرنے پر ناچاہتے ہوئے بھی اُس نے پہن لیا تھا.
ارتضٰی کو کسی اور کا ہوتا دیکھ ماہ روش کو اپنی بدقسمتی پر رونا آئی جارہا تھا.
بلیک کرتے کے بازو کہنیوں تک فولڈ کیے وہ ہاتھ پر رکھے نوٹ پر مہندی لگوا رہا تھا. جب زینب نے اُس کے بالوں میں تیل لگاتے اُس کے نفاست سے سیٹ کیے بالوں کو بگاڑا تھا.
جس پر ارتضٰی ناراض سا منہ بناتا ماہ روش کو بہت پیارا لگا تھا. وہ ارتضٰی کا اپنے لیے یہی رُوپ ہی تو دیکھنے کی خواہش مند تھی. اور آج دیکھ بھی لیا تھا مگر تب جب وہ کسی اور کا ہورہا تھا.
ماہ روش کو ایک بات کی حیرانی تھی کہ یہاں بیلا اور اس کے گھر والے کوئی بھی موجود نہیں تھے مگر نیہا سے پوچھنے پر اُسے پتا چلا تھا کہ مہندی کا فنکشن سیپریٹ ہی رکھا گیا ہے.
ماہ روش کو الگ تھلگ بیٹھا دیکھ ارتضٰی نے ناہید بیگم کو اشارہ کرتے ماہ روش کو سٹیج پر لانے کا کہا تھا.
” ماہی بیٹا آپ یہاں کیوں بیٹھی ہو. آؤ نا ارتضٰی کو مہندی لگاؤ. “
ناہید بیگم کے کہنے پر ماہ روش کا دل چاہا تھا یہاں سے کہیں دور بھاگ جائے. کیوں ہر کوئی اُس کے صبر کو آزمانے پر تُلا ہوا تھا. ایک امتحان ختم ہوتا تھا تو دوسرا شروع ہوجاتا تھا.
ماہ روش کو کوئی انکار نہ بن پاتے ناچار اُن کے ساتھ جانا پڑا تھا.
” بڑی ماما آپ بھی آئیں نا میرے ساتھ پلیز. “
سٹیج پر ایک دو لوگ ہی موجود تھے. اُن کو بھی نیچے آتا دیکھ ماہ روش نے گھبراتے ہوئے ناہید بیگم کو سٹیج سے کے نیچے ہی رُکتے دیکھ لیا.
” بیٹا آپ چلو میں آتی ہوں. “
کسی گیسٹ کے بلانے پر اُس کی طرف بڑھتے اُنہوں نے ماہ روش کو ایک بار پھر ہدایت کی تھی.
ماہ روش نے اپنا لہنگا دونوں ہاتھوں سے سنبھالتی سٹیج پر قدم رکھا.
سب لوگ جھولے پر ارتضٰی کے پاس بیٹھ کر ہی مہندی لگا رہے تھے. یہ دیکھ ماہ روش کے پسینے چھوٹ گئے تھے. اُس نے سوچ لیا تھا کھڑے کھڑے مہندی لگا کر جلدی سے اُتر جائے گی. اور اِسی پر عمل کرتے ماہ روش نے ارتضٰی کے قریب جاتے ٹیبل پر رکھی مہندی اٹھاتے ارتضٰی کے ہاتھ پر لگانی چاہیے تھی. مگر اُس سے پہلے ہی ارتضٰی ماہ روش کی نازک کلائی اپنی گرفت میں لے چکا تھا.
یوں سر عام ارتضٰی کی حرکت پر ماہ روش کی دھڑکنے میں وبال مچ چکا تھا. اُس نے سُرخ ہوتے کلائی آزاد کروانی چاہیے تھی. جب ارتضٰی نے اُس کو ہلکا سا جھٹکا دیتے اپنے قریب جھولے پر کھینچا تھا. ماہ روش اگلے ہی لمحے پوری کی پوری ارتضٰی کے پہلو میں جاگری تھی.
ماہ روش کے بال ارتضٰی کے کندھے اور چہرے پر بکھر گئے تھے. جن کی مسحور کن خوشبو کو محسوس کرتے ارتضٰی نے اپنی سانسوں میں اُتارا تھا.
” سر یہ آپ کیا کررہے ہیں. میرا ہاتھ چھوڑیں. “
ماہ روش سب کی نظریں خود پر محسوس کرتی اُس سے اپنی کلائی آزاد کرواتے بے بسی سے بولی.
” اوکے چھوڑ دوں گا. مگر پہلے مجھے مہندی تو لگاؤ. “
ماہ روش کے حسین رُوپ کو قریب سے دیکھتے ارتضٰی کو خود پر اک خمار سا چھاتا محسوس ہوا تھا.
ماہ روش نے بڑی مشکل سے کپکپاتے ہاتھ سے ارتضٰی کو مہندی لگائی تھی.
” ماہی یہ کیا صرف مہندی نہیں لگانی رسم پوری کرو. “
نیہا نے اُسے صرف مہندی لگا کر پیچھے ہوتا دیکھ نیچے سے ہی ہانک لگائی تھی.
اُس کی طرف دیکھ کر ہنستی نیہا ماہ روش کو اِس وقت سب سے زیادہ بُری لگی تھی.
وہ پہلے ہی بُری طرح اپنے حواس قائم رکھے ہوئے تھی.
اُوپر سے ارتضٰی کی بے باک نظروں اُسے مزید کنفیوز کررہی تھیں.
ماہ روش نے آگے کو ہوتے گلاب جامن اُٹھاتے ارتضٰی کی طرف بڑھایا تھا. جسے ارتضٰی نے ایک ہی بار منہ میں لیتے ماہ روش کے تو دو اُنگلیوں کو بھی اپنے ہونٹوں میں دبا لیا.
ارتضٰی کی شرارت پر ماہ روش کی چیخ نکلتے نکلتے بچی تھی. جلدی سے ہاتھ واپس کھینچتے شرم سے سُرخ ہوتے ماہ روش نے اُس کے پاس سے اُٹھنا چاہا تھا. مگر اُس سے پہلے ہی ارتضٰی نے اُس کا دوپٹا اپنے ہاتھ پر لپیٹتے اُس کی کوشش کو پھر سے ناکام بنایا تھا.
ارتضٰی نے اپنی پاکٹ سے نوٹ نکالتے ماہ روش کی ہتھیلی پر رکھتے مہندی کا ایک ٹکرا اُس پر رکھ دیا تھا. ماہ روش نے حیرت سے اُس کا عمل دیکھا.
” سر یہ آپ کیا کررہے ہیں. مہندی میری نہیں آپکی ہے. “
ماہ روش نے اُس کے ہاتھ سے اپنی کلائی چھڑوانی چاہی تھی.
” کیا فرق پڑتا ہے بات تو ایک ہی ہے. “
ارتضٰی لاپرواہی سے کاندھے اُچکاتے بولا.
جبکہ ماہ روش کو اُس کی دماغی حالت پر شبہ ہوا تھا.
ارتضٰی کے اشارے پر سب لوگ ایک ایک کرکے آتے ارتضٰی کے ساتھ ساتھ ماہ روش کو بھی مہندی لگانا شروع ہوچکے تھے. جبکہ ماہ روش حیران پریشان سی سب کے زومعنی چہروں کی طرف دیکھنے لگی.
وہ پہلے ہی نجانے کیا کیا سوچ کر اپنا دماغ اتنا خراب کرچکی تھی. کہ یہ سب معاملہ سمجھنا اُس کی سمجھ سے باہر ہورہا تھا.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

ریحاب کی ارحم سے سہی بات نہیں ہوسکی تھی. اور نہ ہی وہ اُسے کہیں نظر آرہا تھا.
ریحاب متلاشی نظروں سے اردگرد ارحم کو ڈھونڈتی لان کی انٹرنس کی طرف بڑھ رہی تھی جب سائیڈ پر موجود درخت کی اُوٹ میں سے کسی نے بازو سے پکڑ کر اُسے اپنی جانب کھینچا تھا.
اِس اچانک حملے پر ریحاب کی زور دار چیخ نکلتی مگر اُس سے پہلے ہی مقابل نے اُس کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا تھا.
” لکنگ بیوٹیفل مائی لولی لیڈی. “
ارحم نے ریحاب کو اپنے قریب کرتے جھک کر اُس کے کان میں سرگوشی کی تھی. جب ارحم کی آواز سنتے ریحاب کا اٹکی سانسیں بحال ہوئی تھیں.
” ارحم آپ نے تو میری جان ہی نکال دی تھی. “
ریحاب نے ارحم کے سینے پر ہاتھ رکھ کر سر اُوپر اُٹھاتے اُسے گھورا.
” سویٹ ہارٹ جان تو میں اب نکالوں گا. “
ارحم اُس کے ریڈ لپسٹک سے سجے ہونٹوں کی طرف دیکھتا اُس پر جھکا تھا.
” ارحم کیا کر رہے ہیں کوئی آجائے گا. “
ریحاب نفی میں سر ہلاتے فوراً پیچھے ہٹی تھی.
” کوئی نہیں آتا ادھر اور ویسے بھی ہمیں بھلا کسی کی کیا کروا. “
ارحم اِس وقت ٹلنے کے موڈ میں بلکل نہیں تھا. جبکہ ریحاب اپنی تیاری خراب ہوجانے کے ڈر سے اُس کو قریب آنے دینے پر تیار نہیں تھی.
ارحم نے ریحاب کے دونوں ہاتھوں کو پکڑ کر کمر پر لے جاتے اُسے اپنے قریب کیا تھا.
” ناہید آنٹی آپ. “
ارحم جیسے ہی ریحاب کے قریب ہوا. ریحاب کی بات سنتے ارحم فوراً پیچھے ہٹا تھا. مگر وہاں ناہید بیگم تو کیا کوئی بھی موجود نہیں تھا.
” ہاہاہاہا کیا ہوا کیپٹن صاحب ابھی تو بڑی بڑی باتیں کررہے تھے. اب اچانک کیا ہوا. “
ریحاب ارحم کے بے وقوف بن جانے پر کھلکھلا کر ہنستی اُس سے دور ہوتے وہاں سے کھسکی تھی.
” ریحاب کی بچی اب تو نہیں بچ سکتی تم مجھ سے. “
ارحم ریحاب کی شرارت سمجھتا چہرے پر غصے کے مصنوعی تاثرات سجائے ریحاب کی طرف بڑھا تھا.
اِس سے پہلے کے ریحاب وہاں سے نکلتی وہ ایک بار پھر ارحم کی مضبوط گرفت میں قید ہوئی تھی.
ریحاب کا حسین رُوپ تو پہلے ہی ارحم کو دنیا بھلائے ہوئے تھا اور اُوپر سے ریحاب کا پہلے والا شرارتی انداز دیکھ ارحم مزید اُس کا دیوانہ ہوا تھا.
ارحم نے ریحاب کی گردن سے بال ہٹاتے وہاں ہونٹ رکھ دیے تھے.
جب کہ ریحاب اُس کے لمس کی شدت پر کسمساتی اُس کے مضبوط حصار میں سمٹی تھی.
ریحاب کو کبھی نہیں لگا تھا کہ اُس کی لائف میں کبھی کوئی اتنی محبت اور چاہت دینے والا آئے گا. جس کے لیے وہ بہت اہم ہوگی. جو اُسے دیوانگی کی حد تک چاہے گا. جو اُس کی بڑی سے بڑی خطا بن کہے معاف کردے گا. اِس وقت ریحاب خود کو دنیا کی خوش قسمت ترین لڑکی شمار کررہی تھی. کہ جس کا لائف پارٹنر ارحم جیسا شخص تھا.
وہ آگے آنے والے قسمت کے کھیل سے بے خبر ارحم کے مضبوط حصار میں سکون سے آنکھیں موندے اُس کے چوڑے سینے پر اپنا سر ٹکا گئی تھی.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

زیمل منیزہ کے ساتھ باتیں کرتے ایک چور نظر دور کھڑے جاذل پر بھی ڈال لیتی تھی. جس نے ایک بار بھی نگاہ اُٹھا کر اُس کی طرف نہیں دیکھا تھا.
زیمل کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیسے اُس سے بات کا آغاز کرے. اور جتنے خراب موڈ کے ساتھ جاذل وہاں کھڑا تھا. زیمل کو ڈر تھا کہ کہیں اُس کے بلانے پر جاذل ڈانٹ ہی نہ دے. اِس لیے کچھ سوچتے زیمل طلحہ اور ہادی کی طرف بڑھی.
” ہائے کیوٹ بوائز کیا ہورہا ہے. “
طلحہ اور ہادی جو اپنی ہی مستیوں میں مصروف تھے. زیمل کو دیکھ مسکرائے تھے.
” لگتا ہے آپ کو کوئی کام ہے ہم سے. مگر اب ہمارے چارجز بڑھ گئے ہیں. پہلے بتارہے ہیں.”
زیمل کے اتنے پیار سے بات کرنے پر وہ دونوں اپنا شاطر دماغ چلاتے مشکوک نظروں سے اُس کی طرف دیکھتے بولے.
ارتضٰی سر کے بھتیجے اور جاذل کے بیسٹ فرینڈز ہیں اتنے منہ پھٹ تو ضرور ہوں گے.
زیمل اُن کا جواب سنتے دل میں سوچ کررہ گئی تھی. مگر پھر ہونٹوں پر مسکراہٹ سجاتے اُن کی تمام شرائط مانتے زیمل نے اپنا کام کرنے پر آخر کار اُنہیں منا ہی لیا تھا.
زیمل کو روم میں ٹہلتے جاذل کا انتظار کرتے دس منٹ ہوچکے تھے. مگر ابھی تک اُس کے آنے کے کوئی آثار نہیں لگ رہے تھے.
اُس طلحہ اور ہادی کو کسی بھی بہانے جاذل کو اندر لانے کا کہا تھا. مگر اب تک تو وہ لوگ اپنے مقصد میں کامیاب ہوتے نظر نہیں آرہے تھے.
کافی دیر انتظار کرنے کے بعد آخر کار زیمل باہر جانے کا فیصلہ کرتے روم سے نکلی تھی.
” طلحہ ہادی بچے ایسا کیا ہے اندر جو تم لوگ ابھی مجھے اتنا ارجنٹ گھسیٹ لائے ہو یہاں. “
ابھی وہ دروازے پر ہی تھی جب اُسے جاذل کی جھنجھلائی آواز سنائی دی تھی.
جاذل دروازے کے قریب آیا تھا. جب اُسے پاس آتا دیکھ زیمل اُلٹے قدموں پیچھے ہٹی تھی. مگر اُس کے بھاری گھیرے دار لہنگے میں پاؤں الجھنے کی وجہ سے وہ بُری طرح پھسلی تھی. اور گرنے سے بچنے کے لیے اندر داخل ہوتے جاذل کو پکڑا تھا.
جاذل اچانک اِس سب کے لیے بلکل تیار نہیں تھا. خود سنبھلنے یا زیمل کو سنبھالنے سے پہلے ہی جاذل بھی زیمل کے ساتھ پھسلتے پیچھے کی طرف گرا تھا.
مگر گرنے سے پہلے جاذل نے زیمل کے نازک وجود کے گرد اپنے بازو پھیلاتے اُسے اپنے اُوپر لیا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اگر اُس کا بھاری وجود زیمل کے اُوپر آتا تو اُس کی ہڈیاں ٹوٹنا لازم تھا.
زیمل نے جیسے ہی آنکھیں کھولیں خود جاذل کے سینے پر اُس کی بانہوں کے حصار میں پایا تھا. جاذل نے بھی سر اُٹھاتے زیمل کی طرف دیکھا تھا. کہ کہیں گرنے کی وجہ سے اُسے کوئی چوٹ تو نہیں آئی.
زیمل کو جیسے ہی اپنی پوزیشن کا خیال آیا اُس نے جاذل کے سینے سے سر اُٹھاتے اُٹھنا چاہا تھا.

مگر اگلے ہی پل گردن کھنچنے کی وجہ سے وہ فوراً واپس ہوئی تھی.
اُس کا گلوبند جاذل کے گریبان کے بٹن سے بُری طرح اٹک گیا تھا. جس کی وجہ سے وہ گردن بھی اُوپر نہیں اُٹھا پارہی تھی.
اُس نے ایک ہاتھ جاذل کے سینے پر رکھ کر درمیان میں فاصلہ پیدا کرنے کی کوشش کرتے دوسرے ہاتھ سے اُس کو چھڑانا چاہا تھا.
جاذل خاموشی سے بازو موڑ کر سر کے نیچے رکھتے زیمل کو زور آزمائی کرتے دیکھ رہا تھا.
زیمل آج اتنی حسین لگ رہی تھی کہ اُس سے ناراضگی کے باوجود بھی جاذل کا دل چاہا تھا کہ وہ ایسے ہی اُس کے قریب رہے اور وہ اُسے گھنٹوں بیٹھ کر دیکھتا رہے.
” میجر جاذل اگر آپ ہیلپ کردیں گئے تو آپ کا کوئی نقصان ہوگا. “
زیمل جاذل کے انداز پر چڑہتے ہوئے بولی.
جو اُس کی مدد کرنے کے بجائے ایسے مزے سے لیٹا ہوا تھا. جیسے فرش پر نہیں. کسی عالیشان تحت پر لیٹا ہو.
زیمل کے پاس سے اُٹھتی مہندی اور موتیے کی خوشبو جاذل کے حواسوں پر بُری طرح اثر انداز ہورہی تھی.
” جس کی وجہ سے یہ اب ہوا ہے وہی بھگتے.”
جاذل ویسے ہی لاپرواہی سے بولا.
جب کہ زیمل مسلسل جدوجہد کرتے اب تنگ آچکی تھی.مگر وہ ہار چھوٹنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا. نہ وہ پیچھے ہوسکتی تھی اور نہ ہار اُتار سکتی تھی. اگر ایسا کرتی تو وہ جاذل کے قریب ترین ہوجاتی. جس کے بارے میں سوچتے ہی اُس کے پسینے چھوٹ رہے تھے.
آخر کار اُس کی حالت کو دیکھتے جاذل کو اُس پر رحم آہی گیا تھا.
جاذل نے اُس کی کمر کے گرد اپنا بازو پھیلاتے اُسے اپنے حصار میں لیا تھا.
جبکہ جاذل کے ہاتھ کا لمس اپنی کمر پر محسوس کرتے زیمل کی سانسیں رُکی تھیں.
جاذل اُسی پوزیشن میں ہی اُوپر اُٹھا تھا. اُس نے پورا دھیان رکھا تھا کہ زیمل کی گردن ہرٹ نہ ہو.
جاذل کے اُٹھ کر بیٹھنے کی وجہ سے زیمل بلکل اُس کی گود میں آگئی تھی.
اتنا اکورڈ اُس نے پہلے زندگی میں کبھی فیل نہیں کیا تھا جتنا اِس وقت کررہی تھی.
جاذل نے جھک کر اپنے بٹن سے زیمل کو ہار خدا کیا تھا. آزادی ملتے ہی زیمل فوراً جاذل کے اُوپر سے اُٹھی تھی.
” مجھے یہاں بلانے کا مقصد. “
زیمل کے باہر جاتے قدموں کو جاذل کی آواز نے روک لیا تھا.

جاری ہے