No Download Link
Rate this Novel
Episode 43
” وہ دراصل مجھے اپنے غلط رویے کے لیے معافی مانگنی تھی. “
زیمل جو کب سے دماغ میں جملے ترتیب دیے بیٹھی تھی کہ جاذل کے سامنے یہ بولے گی. اِس وقت سارا کچھ اُلٹ پلٹ ہوچکا تھا.
” مگر آپ نے تو ایسا کچھ نہیں کیا جس پر سوری کی جائے. آپ کو جو مناسب لگا وہ بولا. آپ کو میرا ساتھ منظور نہیں ہے تو اٹس اوکے. “
جاذل زیمل کو اپنی دلی حالت بیان کرنے پر اُکساتے ہوئے بولا.
” نہیں ایسی بات نہیں ہے. “
زیمل کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ جاذل کو اپنی بات کیسے سمجھائے.
ہر بات دھرلے سے کہنے والی زیمل اپنے جذبات کا اظہار کرتے بُری طرح اُلجھن کا شکار تھی.
” کیپٹن زیمل مجھے نہیں لگتا آپ کو واقعی مجھ سے کوئی بات کرنی ہے. آپ یہاں کھڑے ہوکر میرا اور اپنا دونوں کا ٹائم ویسٹ کررہی ہیں. میرے خیال میں ہم یہاں جس مقصد کے لیے آئے ہیں وہی کرلینا چاہئے. “
جاذل اپنے متعلق زیمل کے جذبات سے اچھے سے واقف تھا. اور اگر نہ بھی ہوتے تو جاذل اب اپنے نکاح کے رشتے کو دل سے مان چکا تھا. وہ کسی صورت بھی زیمل کو خود سے جدا نہیں کرنے والا تھا. اور کسی بھی قیمت پر زیمل کو خود سے محبت پر مجبور کرہی لینا تھا.
مگر یہ جان کر کہ زیمل بھی اُس سے محبت کرتی ہے. جاذل کی اب ایک ہی ضد تھی کہ زیمل اُس سے اب خود محبت کا اظہار کرے گی.
کیونکہ وہ تو کتنی دفعہ اپنا ہاتھ زیمل کی طرف بڑھا چکا تھا.
مگر زیمل ہر بار اپنی نادانی میں اُسے خراب کر بیٹھی تھی.
جاذل زیمل کو ٹکا سا جواب دیتا وہاں سے نکل گیا تھا. جبکہ زیمل وہیں سر پکڑے بیٹھتے خود کو کوسنے لگی تھی.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
” سر یہ سب کیا مذاق ہے. اِس جگہ پر بیلا کو ہونا چاہئے تھا. اُسے مہندی لگنی چاہیئے تھی. کیونکہ اُسی کی مہندی ہے آج. “
ماہ روش کو باقی سب نظر انداز کرتے نیچے ہی مصروف رہے. کوئی اُس کے قریب آنے پر تیار ہی نہیں تھا. اور ارتضٰی نہ تو اُسے وہاں سے ہلنے دے رہا تھا اور نہ ہی اُسے کچھ بتا رہا تھا.
” اِس جگہ پر جس کو ہونا تھا. وہی موجود ہے. “
ارتضٰی ماہ روش کے مہندی اور جیولری سے سجے خوبصورت ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں قید کرتے محبت سے بولا.
ماہ روش کو اُس کی بات پر حیرت کا جھٹکا لگا تھا. اُس نے ناسمجھی سے ارتضٰی کی طرف دیکھا.
اِس سے پہلے کے وہ کچھ پوچھتی میوزک فل والیم میں آن ہوچکا تھا.
گھر کا ہر فرد آج بہت خوش تھا. ارتضٰی اور ماہ روش کو خوش اور ایک ساتھ دیکھ کر نور پیلس کی ساری خوشیاں واپس لوٹ آئی تھیں.
سب لوگ اپنی خوشی کا اظہار کرتے سٹیج کے سامنے بنائے گئے ڈانس ریمپ پر آگئے تھے. کوئی ڈانس کوئی بھنگڑا ڈالتے اپنی خوشی کا اظہار کررہے تھے.
ارباز اور نعمان نے مل کر بھنگڑا شروع کردیا تھا. جب اچانک ارباز مسکراتا ارتضٰی کی طرف بڑھا تھا اور اُس کا ہاتھ کھینچتا نیچے کی طرف بڑھ گیا تھا.
نعمان بھی ارحم اور جاذل کو وہاں کھینچ لایا تھا. جب اُن سب نے مل کر بھنگڑا سٹارٹ کیا تب وہاں موجود افراد میں سے کوئی بھی خود کو اِس دل موہ لینے والے منظر میں کھونے سے نہ روک پایا تھا. وہ تینوں ایک ساتھ ہاتھ اُوپر لے جاکر نیچے لے جاتے. اپنے لمبے لمبے بازو پھیلاتے اتنے ہینڈسم لگ رہے تھے. کہ وہاں موجود اُن کی اپنی بیویوں کے ساتھ ساتھ باقی لڑکیاں بھی اُن کی دیوانی ہوئی تھیں.
ریحاب کے لیے یہ سب کچھ بلکل نیا تھا. اُسے فیملی کیا ہوتی ہے ایک ساتھ خوشیاں کیسے منائی جاتی ہیں. آج پتا چلا تھا.
ارحم نے اُس کو اپنی طرف محبت بھری نظروں سے دیکھتا پاکر شوخی سے ایک آنکھ دباتے اُس کی طرف ایک فلائنگ کس اُچھالی تھی. جبکہ ریحاب سرعام ارحم کی حرکت پر گڑبڑاتے ادھر اُدھر دیکھنے لگ گئی تھی.
جبکہ دوسری طرف اتنی ٹینشن کے باوجود ارتضٰی کا یہ نیا اور دلفریب رُوپ دیکھ ماہ روش کے ہونٹوں پر ایک خوبصورت سی مسکراہٹ بکھر گئی تھی.
ارتضٰی کا ہر نیا رُوپ ہر بار اُس کے عشق کی شدت کو مزید بڑھا دیتا تھا.
ارتضٰی نے نظر اُٹھا کر ماہ روش کی طرف دیکھا تھا. جب دونوں کی مسکراتی نظریں ایک دوسرے سے ملی تھیں. ارتضٰی کی آنکھوں میں موجود جذبات کی شدت پر گھبرا کر ماہ روش نے فوراً نظریں پھیر لی تھیں.
زیمل جاذل کی طرف دیکھ رہی تھی. مگر وہ زیمل کی طرف متوجہ بلکل نہیں تھا.
جب سلمہ بیگم کے بلانے پر اُن کی طرف بڑھی. جیسے ہی وہ جاذل کے پاس سے گزری کچھ فاصلے پر کھڑی نیہا نے شرارتاً زیمل کو ہلکا سے جاذل کی طرف پُش کردیا تھا. زیمل جو پہلے ہی اتنے بھاری لہنگے کو سنبھالتی مشکل سے چل رہی تھی. اِس اچانک حملے پر سیدھی جاذل کے اُوپر گئی تھی. جاذل جو مسکراتے پیچھے کی طرف پلٹا تھا. زیمل کو اپنے اتنے قریب دیکھ وہیں جاذل وہی رکا تھا.
” کیا ہوا. “
جاذل کو حیرت ہوئی.
” جاذل بھائی زیمل بھی آپ کے ساتھ ڈانس کرنا چاہتی ہے. “
نیہا نے زیمل کو مزید چھیڑا تھا. مگر آگے سے بھی زیمل تھی. اُس نے فوراً ارباز کو ہانک لگائی تھی.
” ارباز بھائی نیہا بھابھی آپ کے ساتھ ڈانس کرنا چاہتی ہیں. مگر میرے کندھے پر بندوق رکھ کر چلا رہی ہیں. “
نیہا اچانک ماحول بدل جانے پر سٹپٹائی تھی.
جاذل زیمل کی شرارت پر مسکرایا تھا.
” ہاں دل تو میرا چاہ رہا ہے. مگر اب اکیلا کپل ڈانس کرتا اچھا نہیں لگتا نا. تو تم لوگ بھی ہمارے ساتھ کرو گے. “
نیہا بھی کہاں پیچھے رہنے والی تھی.
” اوکے بھئی نیکی اور پوچھ پوچھ. ہمیں بھلا کیا اعتراض ہوسکتا ہے. کیوں جاذل. “
ارباز نے ہنستے ہوئے بیوی کی ہاں میں ہاں ملائی تھی. نیہا جاذل اور زیمل کے درمیان ایک کھینچاؤ سا محسوس کررہی تھی. اِس لیے اُن دونوں کو ایک ساتھ لانے کی کوشش کرنی چاہی تھی.
ارباز اور نیہا کے مجبور کرنے پر وہ دونوں ناچار آگے بڑھے تھے.
” زیمل کیا ہوا ہے. آپ کمفرٹیبل فیل نہیں کررہی کیا. “
جاذل نے زیمل کو سٹل ایک ہی جگہ کھڑا دیکھ ہاتھ آگے بڑھایا تھا.
” جی کیونکہ مجھے ڈانس نہیں آتا. آپ کی طرح گھنٹوں کبھی کسی کے ساتھ ڈانس نہیں کیا نا. اِس لیے عادت نہیں ہے. “
زیمل کے انداز پر جاذل نے قہقہ لگایا تھا.
زیمل ابھی تھوڑی دیر پہلے کے جاذل کے روڈ انداز پر اچھی خاصی تپی ہوئی تھی.
” تو کیا خیال ہے آج رات پھر آپ کا شوق پورا نہ کردیا جائے.”
جاذل نے زیمل کے لال ہوتے گالوں کو دیکھ اُس کا ہاتھ پکڑ کر قریب کرتے پوچھا تھا.
” میجر جاذل یہ آپ کیا کررہے ہیں سب ادھر ہی دیکھ رہے ہیں. آپ پاگل تو نہیں ہوگئے.”
زیمل جاذل کے اچانک بدلتے انداز پر جلدی سے اُس سے اپنا بازو چھڑواتے پیچھے ہٹی تھی.
جبکہ زیمل کا گھبرانا جاذل کو بہت مزا دے گیا تھا.
اِس سے پہلے کے ارتضٰی واپس اُس کے پاس آتا ماہ روش جلدی سے سٹیج سے نیچے اُتر آئی تھی.
ارتضٰی اُس کی جلد بازیاں دیکھتا مسکرائے بنا نہ رہ سکا تھا.
” بھابھی میں بہت تھک گئی ہوں اتنا بھاری ڈریس پہن کر. میں اپنے روم میں جارہی ہوں. پلیز آپ ماما کو بتا دیجئے گا. “
ماہ روش نیہا کو بتاتی جلدی سے وہاں سے نکل آئی تھی.
اُس کا دماغ بلکل بھٹک چکا تھا. ارتضٰی کا رویہ اور انداز اُسے کچھ اور بات سوچنے پر مجبور کررہا تھا.
مگر وہ اب مزید کوئی خوش فہمی نہیں پالنا چاہتی تھی. اِس لیے اُس نے چینج کرکے سونا ہی مناسب سمجھا تھا. آج کا دن اُس کے لیے بہت ہیکٹک ثابت ہوا تھا. اِس لیے وہ اب تمام اذیت بھری سوچوں سے چھٹکارا چاہتی تھی.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
” سر آپ جانتے بھی ہیں کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں. آپ ایسا سوچ بھی کیسے سکتے ہیں. “
جنرل یوسف کی بات سنتے ارتضٰی کا دماغ گھوم چکا تھا. وہ آج کے دن کسی بھی بات پر کوئی غصہ نہیں کرنا چاہتا تھا. مگر جنرل یوسف نے جو نئی بات اُس کے سامنے رکھی تھی. ارتضٰی نے پتا نہیں کیسے اُن کا لحاظ کیا تھا. ورنہ اُن کی جگہ کوئی اور ہوتا تو ضرور اِس بات کی سزا پاچکا ہوتا.
جاذل, زیمل اور ارحم ارتضٰی کا جنونی انداز دیکھ بلکل چپ تھے. دونوں ہی اپنی جگہ ٹھیک تھے. مگر جنرل یوسف اپنی بات پر ڈٹے ہوئے تھے. اور ارتضٰی اُن کی بات سننے کو بھی تیار نہیں تھا.
” ارتضٰی ماہ روش صرف تمہاری بیوی نہیں اِس ایجنسی کی ایک بہت اہم آفیسر ہے. تم اُس کے متعلق اِس طرح کوئی بھی فیصلہ کرنے کا حق نہیں رکھتے. اُسے ہر حال میں ذوالفقار کے پاس جانا ہوگا.
کیونکہ اِس مشن کی کامیابی تب ہی ممکن ہے. اگر ہم میں سے کوئی انسان اُس کے بہت قریب رہے اور ایسا صرف ماہ روش کے تھرو ہی ممکن ہے. وہ اپنے باپ کے پاس اُس کے گھر میں رہ کر ہی اُس کے خلاف ساری انفارمیشن اکٹھی کرسکتی ہے.”
جنرل یوسف جانتے تھے ارتضٰی کسی بنیاد پر بھی اِس بات پر ایگری نہیں ہوگا. اِس لیے وہ بھی اُسی کے جیسا سخت لہجے اپناتے ہوئے بولے.
” تو کیا آپ ماہ روش کو وہاں ایک آفیسر کی حیثیت سے بھیج رہے ہیں. اگر یہی وجہ ہے تو آپ کسی اور فی میل آفیسر کو بھیج دیں نا.
مگر نہیں آپ ماہ روش کو اُس کے اذیت ناک رشتے میں منسلک کرکے وہاں بھیجنا چاہتے ہیں جو اُس کے لیے سب سے زیادہ تکلیف دہ ہے. آپ سیلفیش ہورہے ہیں. یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہاں ماہ روش کو کتنا خطرہ ہوسکتا ہے. وہ اُس کا باپ نہیں ہے. باپ کے رُوپ میں بھیڑیا ہے. جو پہلے ہی اُس پر قاتلانہ حملہ کروا چکا ہے.
مگر جو بھی ہو آپ اِسے رولز کی خلاف ورزی سمجھیں یا جو بھی میں کسی صورت ماہ روش کو وہاں نہیں جانے دوں گا.
میں اور جاذل پوری کوشش کر تو رہے ہیں. اور بہت حد تک اُس کے قریب پہنچ بھی چکے ہیں. ارحم بھی برہان کے تھرو انفارمیشن حاصل کرنے کی پوری کوشش کررہا تھا. لیکن لگتا ہے آپ کو ہماری صلاحیتوں پر بھروسہ نہیں ہے. “
ارتضٰی اِس وقت اتنے غصے میں تھا. کہ اُس کا دل چاہا تھا ہر چیز کو تہس نہس کر دے.
اِس لیے اپنے غصے پر قابو پانے کی ناکام کوشش کرتا وہ جنرل یوسف کی مزید کوئی بھی بات سنے بغیر وہاں سے نکل گیا تھا.
اُسے جاتا دیکھ جنرل یوسف نے بے بسی سے باقی سب کی طرف دیکھا تھا.
” سر ارتضٰی کبھی نہیں مانے گا. ماہ روش کو اب کسی قسم کی بھی تکلیف میں دیکھنا ارتضٰی کے بس میں نہیں ہے.
کیا اِس کا کوئی اور حل نہیں نکل سکتا. “
جاذل ارتضٰی کا انداز دیکھ کر سمجھ گیا تھا کہ وہ اِس بارے میں کبھی نہیں مانے گا. اِس لیے مزید اِس بارے میں ڈسکس کرنے کا کوئی فائدہ نہیں تھا.
مگر جنرل یوسف کے دماغ میں تو کچھ اور ہی چل رہا تھا. اُنہیں ارتضٰی اور اُس کی ٹیم کی صلاحیتوں پر پورا بھروسہ تھا. مگر وہ ارتضٰی سے زیادہ ذی ایس کے کے گھٹیا اور شاطر پن سے واقف تھے. اِس لیے وہ اُس کو ہرانے کے لئے ماہ روش کو بیچ میں انوالو کرنا چاہتے تھے. جس سے ماہ روش کو خطرہ تو بہت تھا. مگر وہ اِس سے مشن میں کامیابی کے بہت نزدیک پہنچ سکتے تھے.
ارتضٰی کا اُنہیں یقین ہوچکا تھا کہ وہ کبھی نہیں مانے گا. مگر وہ جو سوچے بیٹھے تھے اُسے پورا کرنے کے لیے وہ کسی بھی حد تک جانے کو تیار تھے.
لیکن اُنہوں نے سوچ لیا تھا کہ اب کیا کرنا ہے اُنہیں.
آج ماہ روش اور ارتضٰی کی بارات تھی اِس لیے اُنہوں نے آج ہی یہ بات کرنا مناسب سمجھا تھا. اور ارتضٰی سمیت اُس کی پوری ٹیم کو صبح کے چھ بجے بلوا لیا تھا. ارتضٰی کو کچھ حد تک تو جنرل یوسف کے ارادے کا علم ہوچکا تھا. اِس لیے وہ ماہ روش کو نہیں لایا تھا اور نہ ہی اُس نے باقی کسی کو ماہ روش کو ڈسٹرب کرنے دیا تھا. کیونکہ وہ آج کہ بعد ماہ روش کی آگے آنے والی ساری زندگی کو خوشیوں سے بھرنا چاہتا تھا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
ماہ روش کی جیسے ہی آنکھ کھلی اُسے کمرے میں بھینی بھینی سی خوشبو محسوس ہوئی تھی. ماہ روش نے بیڈ پر اُٹھ کر بیٹھتے بال سمیٹتے جیسے ہی اردگرد کا جائزہ لیا اُس کے ہاتھ اپنی جگہ پر ساکت ہوئے تھے.
پورے کمرے کو گلاب کے پھولوں سے سجایا گیا تھا. کوئی چیز ایسی نہیں تھی.جس پر گلاب کے پھول موجود نہ ہوں. اور فرش پر بھی پھولوں کی چادر بچھی ہوئی تھی.
اُٹھتے ہی اتنا خوبصورت نظارہ دیکھ کر ماہ روش کا موڈ ایک دم فریش ہوا تھا.
مگر وہیں اُسے یہ اُلجھن بھی ہوئی تھی کہ یہ سب کیا کس نے ہے. دماغ میں فوراً ارتضٰی کا خیال آیا تھا. لیکن ساتھ ہی اُس کی شادی کا خیال آتے ہی ماہ روش کا دل بجھ سا گیا تھا.
ماہ روش کی نظر جیسے ہی سامنے وال پر لگی گھڑی پر گئی وہ ایک دم ہڑبڑا کر بیڈ سے اُٹھی تھی.
” اُف میرے خدا میں اتنی دیر تک کیسے سوتی رہی. آج تو بارات کا فنکشن ہے اور ماما میرے اتنی دیر سے باہر نہ نکلے پر پھر ناراض نہ ہوجائیں. “
ماہ روش کمر پر بکھری بالوں کی آبشار سمیٹتی جلدی سے واش روم کی طرف بڑھی تھی.
فریش ہو کر ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے آتے وہ ایک پل کے لیے رکی تھی. اپنی آنکھوں کا ادھورا پن اُسے شدت سے محسوس ہوا تھا. اور شاید اب شاید یہ ہمیشہ ایسے ہی رہنی تھی.
کیا مجھ میں اتنی ہمت ہے کہ آج میں اپنے سامنے ارتضٰی سکندر کو کسی اور کا ہوتا دیکھ پاؤں گی. وہ شخص جسے میں نے اپنا سب کچھ مانا ہے. جس کے بغیر میری زندگی ویرانیوں اور اُداسیوں کے بغیر کچھ بھی نہیں ہے. کیا میں اُس کے بغیر رہ پاؤں گی.
نہیں کبھی بھی نہیں.
آنسو ٹوٹ کر ماہ روش کے رخساروں پر بکھرے تھے. جب دروازے پر دستک ہوئی تھی.
ماہ روش نے جلدی سے آنسو صاف کرتے دروازہ کھولا تھا. مگر سامنے کھڑے ارتضٰی سکندر کو دیکھ وہ حیرت سے پیچھے ہٹی تھی.
” گڈ مارننگ مائی بیوٹیفل لائف.”
ارتضٰی نے اُسے پیچھے ہٹتے دیکھ محبت سے اُس کی کمر میں بازو حمائل کرتے اُسے اپنے قریب کیا. اور اُس کے ماتھے پر ہونٹ رکھ دیے تھے.
ماہ روش نے اُس کے لمس پر کسمساتے پیچھے ہونا چاہا تھا. مگر ارتضٰی نے اُسے ایسا کوئی بھی موقع دیے بغیر اپنی بانہوں میں اُٹھایا اور باہر کی طرف بڑھ گیا تھا.
” سر یہ آپ کیا کررہے ہیں. نیچے اُتاریں مجھے پلیز کہا لے کر جارہے ہیں. “
ماہ روش نے مزاحمت کرتے نیچے اُترنا چاہا تھا.
جب اُسی لمحے اُن دونوں پر سُرخ گلاب کی پتیوں کی برسات شروع ہوچکی تھی. ارتضٰی اُسے لے کر جہاں سے بھی گزر رہا تھا. وہاں پر پھولوں کی برسات جاری تھی.
ماہ روش حیرت سے یہ سب دیکھ رہی تھی. وہاں اردگرد کوئی بھی موجود نہیں تھا. پتا نہیں سب لوگ کہاں چلے گئے تھے.
ارتضٰی بنا کچھ بولے اُسے اپنی مضبوط بانہوں میں لئے ڈرائنگ روم کی طرف بڑھا تھا.
ہر طرف ملگجا سا اندھیرا پھیلا ہوا تھا. ماہ روش کو بس اتنا سمجھ آیا تھا کہ ماحول کی سیٹنگ بلکل بدلی ہوئی تھی. ہر طرف چھوٹے چھوٹے جلتے دیے ہلکی ہلکی سی روشنی پیدا کررہے تھے. پورا گھر اِسی طرح سجا ہوا تھا. اور پھولوں کی خوشبو ہر طرف پھیلی ہوئی تھی.
ڈرائنگ روم میں داخل ہوتے ہی پھولوں کی برسات مزید تیز ہوئی تھی.
ماہ روش نے چہرے پر دونوں ہاتھ رکھتے ارتضٰی کے سینے میں چہرہ چھپایا تھا. ارتضٰی ماہ روش کی اِس معصوم ادا پر دلوں جان سے فدا ہوا تھا.
ارتضٰی نے آگے آتے ماہ روش کو ڈرائنگ روم کے بلکل سینٹر میں بنائی گئی پھولوں کی خوبصورت سی سیٹنگ کے اندر کھڑا کیا تھا.
ماہ روش نے بت بنے حیرت سے ارتضٰی کی طرف دیکھا تھا.
جب ارتضٰی نے بلکل ماہ روش کے مقابل آتے اپنی بات کہنا شروع کی تھی.
” ماہ روش وہ لڑکی جس کا نام ہوش سنبھالتے ہی میں نے ہمیشہ اپنے نام کے ساتھ سنا. ہمیشہ میں نے ایک معصوم سی گڑیا کو اپنے اردگرد پایا. جس کے بارے میں مجھے بتایا گیا تھا کہ وہ صرف میری ہے. جس پر سب سے زیادہ حق مجھے حاصل ہے.
مگر بہت جلد ایک بھیانک حادثے نے اُسے مجھ سے چھین لیا. اُسی دن ایک نرم خو اور زندہ دل زندگی کو جینے والے ارتضٰی سکندر کی موت ہوئی تھی. اور تب جنم لیا تھا ایک بے حس اور پتھر دل ارتضٰی سکندر کا.
جو صرف نفرت کرنا جانتا تھا جو اپنی زندگی میں محبت لفظ کو بھی داخل نہیں کرنا چاہتا تھا. جس کی زندگی کا ایک ہی مقصد تھا. ذوالفقار صمد خان اور اُس سے منسلک ہر شخص کا خاتمہ.
وہ اپنی نفرت اور انتقام میں اتنا آگے چلا گیا تھا. کہ ماہ روش جو اُس کی زندگی میں سب سے اُونچا مقام رکھتی تھی. اُسے ہی نہیں پہچان پایا تھا.
اپنے دل میں موجود اُس لڑکی کے لیے پیار اور محبت کے اُٹھتے ڈھیروں جذبات کو کچھ غلط فہمیوں کی بنیاد پر دل میں دباتے اُسے اپنی شدید نفرت کی بھٹی میں جلانے لگ گیا تھا. “
ارتضٰی کی نظریں ماہ روش کے آنسوؤں سے تر چہرے پر جمی ہوئی تھیں. جسے ہاتھ بڑھا کر ارتضٰی نے اپنی پوروں سے صاف کیا تھا.
” میں نہیں جانتا تھا کہ تم ہی میری منکوحہ اور زینب پھوپھو کی بیٹی ماہ روش ہو.
میری آنکھوں پر ذوالفقار سے بدلہ لینے کی ایسی پٹی بندھ چکی تھی کہ میں تمہاری معصومیت تمہاری پاکیزگی دیکھ ہی نہیں پایا. اور تمہیں ذوالفقار کی بیٹی کی حیثیت سے دکھ پر دکھ دیتا گیا. جس پر شاید میں زندگی بھر بھی پچھتاؤں تو کم ہوگا میرے لیے.
میرا دل اندر ہی اندر تمہاری محبت میں پگھل چکا تھا. مگر میری انا یہ سوچ کر کہ تم ذوالفقار کی بیٹی ہو مجھے تمہاری طرف بڑھنے سے روکتی رہی.
مگر اُس دن تمہیں گولی لگتے اور بے جان ہوتے دیکھ پہلی بار مجھے لگا تھا کہ زندگی ختم ہونا اور جسم سے روح پرواز کرنا کیسا ہوتا ہے. تمہیں دنیا سے غافل دیکھ مجھے زندگی بے معنی سی لگی تھی. میں سانسیں تو لے رہا تھا. مگر اندر سے آہستہ آہستہ ختم ہورہا تھا.
ٹوٹ رہا تھا بکھر رہا تھا.
مجھے اُن دنوں احساس ہوا تھا کہ تمہارا میری زندگی میں کیا مقام ہے. اگر تم مجھے واپس نہ ملتی تو میں شاید مر جاتا. “
وہ درد اور اذیت بھرے دن یاد کرتے ارتضٰی کی آنکھیں سرخ ہوئی تھیں.اور اُن میں موجود ہلکی ہلکی تیرتی نمی دیکھ ماہ روش کو بھی اپنا دل ڈوبتا محسوس ہوا تھا.
اُس نے کچھ بولنا چاہا تھا مگر ارتضٰی نے اُس کے ہونٹوں پر ہاتھ رکھتے اُسے روک دیا تھا.
” ماہ روش میں قسم کھا کر کہتا ہوں اگر تم زینب پھوپھو کی بیٹی نہ بھی ہوتی تو میں تب بھی تمہیں کبھی خود سے جدا نہ کرتا.
میرے لیے صرف تم امپورٹنٹ ہو تم سے منسلک کوئی حوالہ نہیں. اِس کے علاوہ بھی اگر تمہارے دل میں کوئی بھی محرومی باقی ہے تو اُسے ختم کردو.
کیونکہ میرے نزدیک تم سے زیادہ پاکیزہ اور وفادار لڑکی اِس دنیا میں کوئی نہیں ہے. “
ارتضٰی کی بات پر ماہ روش روتی آنکھوں کے ساتھ چہرے پر مسکراہٹ لیے اُسے دیکھ رہی تھی.
ماہ روش کی نظر اچانک سامنے کھڑی زینب بیگم پر پڑی تھی. اُس نے جیسے ہی گردن گھمائی وہاں زیمل جاذل ریحاب اور ارحم سمیت گھر کا ہر فرد موجود تھا.
ماہ روش نے محبت پاش نظروں سے ارتضٰی کی طرف دیکھا تھا جو آج اُسے سب کے سامنے معتبر کر گیا تھا اُس کے اندر کا احساس کمتری مٹ چکا تھا. اُسے اِس وقت اپنا آپ ہواؤں میں اُڑتا محسوس ہوا تھا کہ وہ ارتضٰی سکندر کے لیے اتنی خاص تھی. جسے اُس نے زندگی سے بڑھ کر چاہا تھا. آج شاید زندگی میں پہلی بار وہ دل سے مسکرائی تھی.
” میں جانتا ہوں میں نے آج تک تمہارے ساتھ جو بھی سلوک روا رکھا وہ کسی صورت بھی معاف کرنے کے قابل نہیں ہے. لیکن پھر بھی تم سے اپنی پچھلی ہر غلطی ہر خطا پر معافی مانگتا ہوں. اور میں تمہاری ہر سزا ماننے کو تیار ہوں. میں چاہتا ہوں تم بھی مجھے سزا دو. وہ سزا مجھ سے دور جانے کے علاوہ چاہے جو بھی ہو مجھے دل و جان سے منظور ہے. مگر کبھی بھی مجھ سے دور جانے کا سوچا بھی تو میں تمہاری اور اپنی جان ایک کردوں گا. “
ارتضٰی نے بات کرتے ایک دم گھٹنوں کے بل ماہ روش کے سامنے بیٹھتے اُس کے سامنے اپنے دونوں ہاتھ جوڑ دیے تھے.
سب لوگ ارتضٰی کو زندگی میں پہلی دفعہ اِس طرح کسی کے سامنے جھکتا ہوا دیکھ رہے تھے. مگر ارتضٰی سکندر کی معافی بھی اُس کی طرح منفرد اور ہٹ کر تھی.
سب لوگ اُس کی معافی میں بھی موجود دھمکی سنتے اپنی مسکراہٹ نہ روک پائے تھے. زینب بیگم اپنی بیٹی کی اتنی اچھی قسمت دیکھ دل ہی دل میں ﷲ کے حضور شکر بجا لائی تھیں.
ماہ روش نے ارتضٰی کو اِس طرح اپنے سامنے ہاتھ جوڑتا دیکھ تڑپ کر نفی میں سر ہلاتے آگے ہوتے اُس کے دونوں ہاتھ تھام لیے تھے. مگر اُس کی دھمکی اور معنی خیز نگاہوں پر گھبرا کر فوراً پیچھے ہٹنا چاہا تھا. مگر اُس کا ہاتھ ارتضٰی کی گرفت میں قید ہوچکا تھا.
” کیا تم مجھ جیسے اکڑو , خود سر, ضدی, غصیلے اور کھڑوس انسان کو زندگی بھر جھیلنے کے لیے تیار ہو. ویسے مہندی تو رات کو ہماری ہوچکی ہے. انکار کی کوئی گنجائش نہیں بچتی اب.”
ماہ روش کے ہاتھ پر ہونٹ رکھتے ارتضٰی نے محبت لُٹاتی نظروں سے اُس کی طرف دیکھا تھا.
جبکہ ماہ روش نے ارتضٰی کی حرکت اور اُوپر سے اُس کے الفاظ پر سٹپٹاتے سب کی طرف دیکھا تھا. جو چہرے پر دبی دبی مسکراہٹ سجائے اُسے ہی دیکھ رہے تھے.
” دیورانی جی کیسا لگا ہمارا سرپرائز.”
نیہا کی چہکتی آواز پر ماہ روش نے سب کو گھور کر دیکھا تھا.
ارتضٰی نے پاکٹ سے ایک بہت ہی نازک سی بیش قیمت ڈائمنڈ رنگ ماہ روش کی اُنگلی میں پہنا دی تھی. جس پر سب نے کلیپنگ کرتے دونوں کو وش کیا تھا.
” مگر مجھے آپ سے شادی نہیں کرنی. “
ماہ روش ارتضٰی کے دوبارہ مقابل آجانے پر اپنا ہاتھ اُس کی گرفت سے چھڑوانے کی کوشش کرتی ناراضگی سے بولی تھی.
” یعنی تم مجھے انکار کررہی ہو. یہ تو اور بھی زیادہ انٹرسٹنگ ہے. اِس کا مطلب اپنے طریقے سے معافی مانگنی ہی پڑے گی تب تم مانو گی. یہ تو سب کے سامنے ہونے کی وجہ سے میں نے بہت شرافت کا مظاہرہ کیا ہے. اگر تمہیں پسند نہیں آیا تو کوئی بات نہیں.
میں اپنے طریقے سے منانے کو تیار ہوں. “
ارتضٰی ماہ روش کے قریب ہلکی سی سرگوشی کرتے بولا.
جبکہ ماہ روش ارتضٰی کے اچانک بدلتے انداز اور الفاظ پر گھبراتے فوراً پیچھے ہٹی تھی.
” دیور جی بس کردیں اب باقی کا پیار رات کے لیے بچا کر رکھیں. “
نیہا کے چھیڑنے پر جہاں ارتضٰی نے مسکراتے ماہ روش کی طرف دیکھا وہیں ماہ روش سب کے ہنسنے پر جھینپتے ناہید بیگم کی آغوش میں چھپ گئی تھی.
ماہ روش سب کو مصنوعی غصہ تو دیکھا رہی تھی. مگر اندر ہی اندر وہ اس وقت جتنی خوش تھی وہ بیان کرنے سے باہر تھا.
واقعی ارتضٰی اُس سے سچا پیار کرتا تھا جس کی وجہ سے اُس کے اندر کا ہر درد ہر دکھ سمجھتے آج اُس کے دل کی ہر محرومی اور کمتری کے احساس کو ختم کر گیا تھا. اور اعلیٰ ضرفی کا مظاہرہ کرتے سب کے سامنے اُس کے آگے جھک گیا تھا.
جن لوگوں کے سامنے اُسے پہلے بے عزت کیا تھا. آج اُنہیں کے سامنے اُس کے آگے ہاتھ جوڑ کر اپنی خطاؤں کی معافی مانگتے اُسے معتبر کر گیا تھا.
اُس کے اندر کا تمام خوف اور ڈر آج ختم ہوچکا تھا. ارتضٰی سکندر اپنے بے شمار محبتوں اور چاہتوں کے ساتھ صرف اور صرف اُس کا تھا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
بارات کے لیے ہائی سیکیورٹی آرمی ہال بک کروایا گیا تھا. جہاں خاندان کے بہت اہم لوگ اور کچھ خاص دوست احباب ہی مدعو کیے گئے تھے.
ارتضٰی سمیت سب لوگ ہال میں پہنچ چکے تھے. اب شدت سے سب کو دلہن کی آمد کا انتظار تھا. ریحاب اور زیمل ماہ روش کے ساتھ پارلر گئی ہوئی تھیں. اُن کو پک کرکے بحفاظت ہال تک پہنچانے کی ڈیوٹی جاذل اور ارحم کی تھی. ارتضٰی نجانے کتنی بار کال کر کے پتا کروا چکا تھا.
وہ جلد از جلد ماہ روش کو اپنی دلہن کے رُوپ میں اپنے سامنے دیکھنا چاہتا تھا. اُس کا بس نہیں چل رہا تھا خود ہی ماہ روش کو لینے پہنچ جائے.
” جاذل یہ پارلر یہاں لاہور کی حدود میں ہی موجود ہے نا. یا دنیا کے آخری کونے پر واقعہ ہے جو تم لوگ اب تک اُن کو لے کر نہیں پہنچے. “
ارتضٰی نے ایک بار پھر کال ملائی تھی
جب اُس کی غصے بھری بے چین آواز سنتے جاذل کا قہقہ برآمد ہوا تھا.
” یار ہم لوگ کیا کریں پچھلے ایک گھنٹے سے یہاں موجود ہیں. مگر وہ تینوں لیڈیز نکلنے کا نام ہی نہیں لے رہیں. اُن کے پانچ منٹ ختم ہی نہیں ہورہے. “
جاذل بھی اچھا خاصہ اُکتایا ہوا تھا. جب ریحاب اور زیمل کو پارلر سے نکلتا دیکھ ارتضٰی کو جلد ہی پہنچنے کا کہتے فون بند کردیا تھا.
ارحم کی نظریں تو ریحاب پر جم سی گئی تھیں. ڈارک گرے کلر کی میکسی میں جس پر گرے کلر کی ہی فل ایمبرائیڈری کی گئی تھی. اُس کا نفیس کام سے سجا دوپٹہ کمر سے لاتے آگے کی طرف دونوں کلائیوں پر رکھے وہ ماہ روش کا ہاتھ تھامے سہج سہج چلتی ارحم کو اردگرد کا ہوش بھلا گئی تھی.
اُس نے دونوں کلائیوں میں گولڈ کے خاندانی کنگھن پہن رکھے تھے. جبکہ کانوں اور گلے میں ڈائمنڈ کا نازک سا سیٹ پہنے بالوں کو جوڑے کی شکل میں لپیٹ رکھا تھا. جس سے کچھ لٹے نکل کر اُس کے منموہنے چہرے کے گرد بکھری ہوئی تھیں.
” کیپٹن صاحب آپ کی ہی ہیں. جتنا دل چاہے بعد میں دیکھتے رہیے گا. مگر ابھی جلدی کریں ورنہ اُس سر پھرے میجر نے ہم دونوں کا نہیں چھوڑنا.”
جاذل ارحم کی آنکھوں کے سامنے ہاتھ ہلاتے اُسے چھیڑتے ہوئے مسکرایا. جب اُس کی بات پر ارحم بھی ہوش میں آتے ریحاب کے سحر سے باہر آیا تھا.
” وہ زیمل کو ابھی پانچ منٹ مزید لگے گے. اِس لیے اُس کا کہنا ہے کہ آپ لوگ چلے جاؤ. میں خود آجاؤ گی.”
ریحاب ماہ روش کو گاڑی میں بیٹھاتے اُن دونوں سے مخاطب ہوئی.
” پاگل ہے وہ اِس طرح اکیلی کیسے آئے گی. ارحم تم ریحاب اور ماہ روش کو لے کر پہنچو. میں زیمل کو لے کر آتا ہوں. “
جاذل کو زیمل کے لاپرواہ انداز پر غصہ آیا تھا. وہ اُن کو جانے کا کہتا اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گیا تھا.
پانچ منٹ تو کیا پندرہ منٹ سے اُوپر ہوچکے تھے. مگر زیمل کا ابھی تک کوئی نام و نشان نہیں تھا. آخر کار زچ ہوتے جاذل نے پارلر کے اندر جانے کا فیصلہ کیا تھا.
جاذل ابھی اندر داخل ہونے ہی والا تھا جب باہر نکلتا کوئی خوشبوئیں بکھیرتا وجود اُس سے آکر ٹکرایا تھا.
” اُف میرا ناک. “
زیمل کا ناک جاذل کے کندھے سے بُری طرح ٹکرایا تھا. زیمل درد سے بلبلاتی پیچھے ہوئی تھی. مگر سامنے کھڑے جاذل کو دیکھ وہ اپنا درد بھول چکی تھی.
” اوہ نو کیا ہوا تم ٹھیک ہو. “
جاذل زیمل کو ابھی اتنا ہی بولا تھا جب زیمل کے سہانے روپ پر نظر پڑتے بہت کوشش کے باوجود جاذل آج بھی زیمل کو اگنور نہیں کر پایا تھا. وہ لگ ہی اتنی حسین رہی تھی. کہ ابھی تھوڑی دیر پہلے ارحم کو ٹوکنے والا جاذل مبہوت سا اُسے دیکھے گیا تھا.
زیمل پیچ کلر کی خوبصورت سی میکسی زیب تن کیے لائٹ سے میک اپ اور ہلکی پھلکی جیولری میں جاذل کے دل کی دنیا تہس نہس کرگئی تھی. بالوں کو ہلکے سے جوڑے کی شکل میں باندھ کر اُس نے ایک طرف گردن پر ڈال رکھا رکھا تھا.
زیمل کے میکسی کے فل بازو بلکل فٹنگ میں تھے. اور تصادم کی وجہ سے جاذل کا ہاتھ ابھی بھی زیمل کے بازو کو تھامے ہوئے تھا. جس کی نرماہٹیں محسوس کرتے جاذل کے دل میں ایک ہلچل سی مچ گئی تھی.
” ایکسکیوزمی.”
وہ دونوں نجانے کتنے ہی پل ایسے ہی ایک دوسرے میں کھوئے رہتے جب راستے میں کھڑے ہونے کی وجہ سے پیچھے کھڑی لڑکیوں کے مخاطب کرنے پر وہ دونوں ہوش میں آئے تھے.
جاذل زیمل کو ساتھ آنے کا کہتا گاڑی کی طرف بڑھ گیا تھا.
“میجر جاذل اتنا ایٹیٹوڈ کس بات کا دیکھا رہے ہیں آپ. “
زیمل گاڑی میں مسلسل جاذل کو خاموش بیٹھا دیکھ آخر کار تنگ آکر بول پڑی.
” ریئلی کیپٹن زیمل میں ایٹیٹوڈ دیکھا رہا ہوں. “
جاذل حیرانی سے زیمل کی بات پر اُس کی طرف دیکھتے بولا
جاری ہے
