No Download Link
Rate this Novel
Episode 37
ایک تصویر میں وہ جاذل کی بانہوں میں بہت قریب موجود تھی. جبکہ اگلی میں جاذل اُس کا ہاتھ تھامے کھڑا تھا.
زیمل نے شاکی نظروں سے جاذل کی طرف دیکھا تھا. لیکن ارحم ارتضٰی کی مسکراہٹ دیکھ کچھ نہ کچھ اندازہ کر ہی چکا تھا.
” جیسا یہاں نظر آرہا ہے ویسا کچھ نہیں ہے. دو دفعہ ہی ملاقات ہوئی میری اِس لڑکی سے اور میں بلکل نہیں جانتا تھا کہ یہ ذوالفقار کی بیٹی ہے. “
جاذل نے سب کی طرف دیکھتے اِن ڈائریکٹلی زیمل کو کلیئر کیا تھا.
” واؤ امیزنگ. دو ملاقاتوں میں اتنی فرینکنس. “
زیمل نے بھی سامنے کی طرف دیکھتے ہلکا سا طنز کیا تھا. اُسے اِس وقت جاذل پر بہت غصہ آرہا تھا. جسے سمجھنے سے وہ خود بھی قاصر تھی. کیونکہ اُس کے مطابق تو وہ دونوں اپنی زندگی کے کسی بھی فیصلے یا کام میں ایک دوسرے کے پابند نہیں تھے. پھر بھی اُسے جاذل کو اِس طرح کسی اور کے قریب آنا غصہ کیوں دے گیا تھا.
زیمل کے جلے ہوئے انداز پر ارتضٰی اور ارحم نے بہت مشکل سے اپنا قہقہ روکا تھا.
جاذل نے آگے ہوکر ارتضٰی سے ریموٹ لیتے سکرین آف کر دی تھی.
جب اگلے ہی لمحے ارتضٰی نے سنجیدہ ہوتے واپس اپنی بات شروع کی تھی.
” برہان میرے اور کیپٹن ارحم کا ٹارگٹ ہوگا جبکہ سونیا کو میجر جاذل اور کیپٹن زیمل آپ دونوں ٹریپ کریں گے. کیونکہ جاذل تم پہلے ہی اُسے بتا چکے ہو کہ تم ایک بزنس مین ہو تو اب تمہیں وہی گیٹ اپ اختیار کرتے ہوئے سونیا کہ قریب جانا ہوگا.
وہ لڑکی تم میں بہت انٹرسٹ لے رہی ہے. تو اب تمہیں بھی اُس کا رسپانس دینا ہوگا.
زیمل آپ کو میجر جاذل کی پی آئے کے طور پر ہر وقت اُن کے ساتھ رہنا ہے.
آپ لوگ جانتے ہیں کہ آج تک اپنے مقاصد کے حصول کے لیے کسی عورت کو مہرا بنا کر جیت حاصل کرنا ہمارا شیوا بلکل نہیں رہا. سونیا کا انتخاب اِس لیے کیا گیا ہے کیونکہ وہ خود کئی ہزار بے قصور لوگوں کو اپنے ہاتھوں موت کے گھاٹ اُتار چکی ہے. اِس لیے ہمارا ٹارگٹ صرف ذوالفقار کی بیٹی نہیں بلکہ اِس ملک کی دشمن سونیا خان ہے. جس کے لیے ہمارے نزدیک کوئی رعایت نہیں. اگر مقصد صرف ذوالفقار کی بیٹی کو ٹارگٹ کرنا ہوتا تو اُن کی دوسری بیوی کی دونوں اولادوں جو کہ لندن میں مقیم ہیں. اُن تک پہنچنا ہمارے لیے مشکل بلکل نہیں تھا.”
ارتضٰی کی بات سن کر وہ لوگ سمجھ گئے تھے کہ وہ ذی ایس کے کو ہرانے کے لیے اُسی کی جیسی چال چلنے والا تھا. مگر اُس میں بھی اپنے اصولوں کو مد نظر رکھا گیا تھا.
ارتضٰی ارحم کو بھی کچھ ہدایت دیتا وہاں سے اُٹھ گیا تھا.
ارتضٰی کے نکلتے ہی زیمل بھی فوراً نکل گئی تھی. جاذل نے ٹھنڈا سانس بھرتے خاموشی سے اُسے وہاں سے جاتے دیکھا تھا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
ارتضٰی نے جیسے ہی نور پیلس کے اندر قدم رکھا ماہ روش کے کھلکھلانے کی آواز اُس کے کانوں میں پڑی تھی. جو ارتضٰی کی تھکن کو منٹوں میں ختم کرگئی تھی.
اِس سے پہلے اُس کا اتنا اچھا استقبال کبھی نہیں ہوا تھا.
” بس کر دیں آپ لوگ اب تو ہنس ہنس کے میرے پیٹ میں درد سٹارٹ ہوچکا ہے. “
ماہ روش کی زندگی سے بھرپور آواز ارتضٰی کو اندر تک سکون بخش گئی تھی.
آوازوں کا تعاقب کرتے ارتضٰی ڈرائنگ روم کی طرف بڑھا تھا. جہاں ماہ روش سمیت گھر کے تقریباً تمام ممبرز موجود تھے.
” اسلام وعلیکم!”
ارتضٰی کے گھمبیر آواز ڈرائنگ روم میں گونجی تھی. ارتضٰی کی آواز سنتے ماہ روش کی ہنسی کو فوراً بریک لگی تھی. جب ارتضٰی ماہ روش کی دائیں طرف بیٹھی منیزہ کو وہاں سے اٹھنے کا اشارہ کرتے ماہ روش کے قریب آبیٹھا تھا. ارتضٰی کی خوشبو ماہ روش کے حواس معطر کر رہی تھی.
ماہ روش کھانا کھا چکی تھی. اور اب ارتضٰی کے پاس بیٹھنے سے اُس کی باقی کی بھوک تو ویسے بھی اُڑ گئی تھی. اِس لیے وہ اب جلد سے جلد یہاں سے جانے کے پر طول رہی تھی جسے بھانپتے ارتضٰی کے ہونٹ مسکرائے تھے.
ارتضٰی نے ارباز سے بات کرتے نہایت ہی چالاکی کے ساتھ ٹیبل پر پڑا ماہ روش کا ہاتھ اپنی گرفت میں لیا تھا. ماہ روش اُس کی سب کے سامنے ایسی حرکت پر بوکھلا گئی تھی. مگر ارتضٰی نے بڑے ہی نارمل انداز میں ماہ روش کے ہاتھ کی اُنگلیوں میں اپنی اُنگلیاں پھنساتے ارتضٰی نے ہاتھ اپنی گود میں رکھ لیا تھا.
ارتضٰی کی حرکت پر ماہ روش کو پسینے چھوٹ چکے تھے. کیونکہ ارتضٰی بظاہر سب سے بات کرتا بلکل نارمل ہی لگ رہا تھا. مگر نیچے ماہ روش کے ہاتھوں کی نرماہٹ اپنے انگوٹھے سے سہلا کر محسوس کرتے وہ ماہ روش کی جان نکالنے کے در پے تھا.
ماہ روش اب کافی بہتر فیل کررہی تھی. اور اب وہ خود چل پھر بھی سکتی تھی. مگر پھر بھی احتیاط کے طور پر ابھی اُسے اکیلا کسی سہارے کے بغیر چلنے نہیں دیا جارہا تھا.
ماہ روش کو سب گھر والوں نے یہی بتایا تھا. کہ ارتضٰی اپنے ے شادی کے فیصلے پر ابھی بھی قائم ہے. اور دو ہفتوں بعد ارتضٰی کی شادی ہے.
ماہ روش یہ سب سن کر بُری طرح ہرٹ تھی. مگر اُس نے کسی پر ظاہر نہیں کیا تھا. وہ سب کی خاطر خاص کر زینب بیگم کی خاطر مسکراتی رہتی تھی. نہ ہی اُس نے کسی سے پوچھا تھا اور نہ اُسے کسی نے بتایا تھا کہ ارتضٰی کی شادی ہو کس سے رہی ہے. کیونکہ ماہ روش کے خیال میں اُس کی شادی بیلا سے ہی ہورہی تھی.
ماہ روش کا دل چاہا تھا کہ اُس کا گریبان پکڑ کر پوچھے کہ آخر اُس کے ستم اور مظالم کی آخری حد کیا ہے. وہ اتنا سنگدل کیوں ہے. مگر ہمیشہ کی طرح اِس بار بھی وہ ایسا کچھ نہیں کر پائی تھی.
جب گھر والے سب اُس کے اتنے بڑے فیصلے پر خاموش تھے. تو وہ کیا کہہ سکتی تھی.
مگر ارتضٰی کی یہ حرکتیں اُسے مزید اُلجھا دیتی تھیں. وہ سمجھ نہیں پارہی تھی کہ ارتضٰی ایسا کیوں کررہا تھا. کیا وہ یہ سب کرکے اُس کے جذبوں کا مذاق اُڑا رہا تھا.
ماہ روش نے اپنی لامحدود سوچوں پر سر جھٹکتے ارتضٰی سے اپنا ہاتھ چھڑوانے کی کوشش کی تھی. مگر وہ ہنوذ اپنے شغل میں مصروف تھا.
” ماہی کیا ہوا کھانا کھاؤ نا تم رُک کیوں گئی. “
ماہ روش کو ایسے ہی بیٹھے دیکھ ناہید بیگم پیار سے بولیں. جبکہ ماہ روش نے بے چارگی سے اُن کی طرف دیکھا تھا. اب وہ اُنہیں کیا بتاتی کہ اُن کا یہ کھڑوس بیٹا اُس کا ہاتھ چھوڑے گا تب ہی تو وہ کچھ کھا پائے گی.
ماہ روش نے کن اکھیوں سے ارتضٰی کی طرف دیکھا تھا. جو خود مزے سے کھانا کھانے میں مصروف تھا.
” بڑی ماما میں اتنا تو کھا چکی ہوں. میرا پیٹ بھر گیا ہے. “
ماہ روش نے ہلکی سی آواز میں جواب دیا تھا. جبکہ نیچے اُن دونوں کے ہاتھوں کی لڑائی جاری تھی.
” سر پلیز یہ آپ کیا کر رہے ہیں میرا ہاتھ چھوڑیں. “
ماہ روش سرگوشیانہ لہجے میں بولی تھی. تاکہ آواز کسی اور تک نہ پہنچ پائے.
” کیا ہوا ماہ روش تم نے مجھ سے کچھ کہا. “
ارتضٰی کی ایکٹنگ پر ماہ روش کا دل چاہا تھا. سب کے سامنے اپنا ہاتھ چھوڑنے کو بول دے مگر اُس کے بعد کی شرمندگی بھی اُسی کو ہی اُٹھانی تھی. کیونکہ ارتضٰی کو دیکھ کر نہیں لگ رہا تھا کہ اُسے کوئی فرق پڑے گا.
ماہ روش نے ہولے سے نفی میں سر ہلا دیا تھا.
ارتضٰی کی بولتی شوخ نگاہیں ویسے ہی اُس کی سانسوں کو اتھل پتھل کیے ہوئے تھیں. اور اُس کے ہاتھ کی مضبوط مگر نرم گرفت پر ماہ روش کو اپنا ہاتھ پگھلتا محسوس ہورہا تھا.
وہ اُس کی یہی توجہ اور محبت ہی تو چاہتی تھی. جو اُسے مل تو رہی تھی مگر پھر بھی پرائی اور ادھوری سی لگ رہی تھی. اور کسی طرح بھی اُس کے دل کو وہ خوشی نہیں دے پارہی تھی جو وہ چاہتی تھی.
ارتضٰی جس طرح آرام آرام سے کھا رہا تھا. ماہ روش کو لگا تھا. آج کی رات ایسے ہی گزر جانی ہے. اور اگر وہ مزید کچھ ٹائم بھی اسی سچویشن میں رہی تو ضرور رو دے گی.
” ماما میری طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی مجھے اپنے کمرے میں جانا ہے. “
آخر کار ارتضٰی کی ڈھٹائی پر تنگ آکر ماہ روش نے زینب بیگم کو مخاطب کیا تھا. جب ماہ روش کی بات پر ارتضٰی سمیت سب فکرمند ہوتے اُس کی طرف متوجہ ہوئے تھے. مگر ارتضٰی نے ہاتھ ابھی بھی نہیں چھوڑا تھا. ماہ روش کی طرف دیکھتے وہ سمجھ گیا تھا ماہ روش نے ایسا کیوں بولا ہے.
” پھوپھو آپ بیٹھیں میں لے جاتا ہوں ماہ روش کو اُوپر.”
ارتضٰی ماہ روش کی حالت سے حظ اٹھاتے اُس کا ہاتھ چھوڑتے اپنی جگہ سے اُٹھا تھا. جو سب کے سامنے اُس کے اِس طرح کرنے پر شرم سے سُرخ ہوچکی تھی.
” نہیں میں خود چلی جاؤں گی. “
ماہ روش نے ارتضٰی کو اپنی بات پر عمل کرتے دیکھ بے چارگی سے کہا تھا. کیونکہ سب ہونٹوں پر دبی دبی مسکراہٹ لیے اُن دونوں کی طرف متوجہ تھے.
ارتضٰی کی باقی بہت سی کوالٹیز کی طرح ماہ روش کو آج اُس کی ایک اور کوالٹی بھی پتا چلی تھی کہ میجر صاحب انتہا کے بے شرم انسان ہیں.
” ماہی چلی جاؤ. دیور جی پوری احتیاط سے لے کرجائیں گے. “
نیہا نے ماہ روش کی حالت پر اُسے چھیڑا تھا. جبکہ ماہ روش کا دل کررہا تھا شرم سے ڈوب مرے.
وہ نہیں جانتی تھی کہ ہر معاملے میں کسی کی پرواہ نہ کرنے والا ارتضٰی سکندر اِس معاملے میں بھی کسی کی پرواہ نہیں کرے گا.
جب ارتضٰی نے تھوڑا سا جھکتے بہت ہی نرمی سے ماہ روش کو اپنی بانہوں میں اُٹھاتے اندر کی طرف قدم بڑھا دیے تھے.
ماہ روش کا ایک ہاتھ سینے پر جب دوسرے ہاتھ سے اُس نے بے اختیار ارتضٰی کے کالر کو پکڑ لیا تھا. ارتضٰی نے اُس کی حرکت پر مسکراتے اُس کا سُرخی مائل حسین چہرہ دیکھا تھا.
مگر ماہ روش ارتضٰی کو دیکھنے سے مکمل گریزہ تھی. اُس کا بس نہیں چل رہا تھا ابھی ارتضٰی کے بازوؤں سے نکل کر کہیں چھپ جائے مگر ارتضٰی کی مضبوط گرفت میں وہ ایسا صرف سوچ ہی پائی تھی.
” سر پلیز مجھے اُتار دیں میں اب چل لوں گی. “
ماہ روش نے کمرے میں پہنچتے ارتضٰی کی بانہوں سے نکلنے کی کوشش کی تھی.
مگر ارتضٰی ابھی اِس موڈ میں بلکل نہیں تھا.
ارتضٰی ماہ روش کو لیے صوفے پر جا بیٹھا تھا. بیٹھنے کی وجہ سے ماہ روش اب بلکل ارتضٰی کی گود میں آچکی تھی.
” میرے ہوتے آپ کو تکلیف اُٹھانے کی کوئی ضرورت نہیں. “
ارتضٰی نے ماہ روش کے چہرے کو اپنی طرف موڑتے کہا. لیکن اُس کا ہر انداز ماہ روش کو اپنی محبت کا مذاق اڑاتا لگا تھا.
” کیوں کررہے ہیں آپ میرے ساتھ یہ سب. نفرت کرتے ہیں مجھ سے تو یہ منافقت کیوں کررہے ہیں. میں اچھے سے جانتی ہوں آپ کی زندگی میں میری کیا حیثیت ہے. اِس لیے یہ ہمدردیاں دیکھانے کی ضرورت نہیں ہے.
میں بہت سٹرانگ ہوں اِس لیے اپنی زندگی کا ہر دکھ اکیلے سہہ سکتی ہوں.”
ماہ روش ارتضٰی کی بانہوں کا حصار توڑ کر نکلتی اُس سے دور جا کھڑی ہوئی تھی.
” آپ جیسے شخص پر یہ منافقت بلکل سوٹ نہیں کرتی اِس لیے پلیز یہ سب کرنے کی ضرورت نہیں ہے.
اور آپ فکر مت کریں میں جلد ہی اِس نور پیلس سے آپ کے اپنوں سے بہت دور چلی جاؤں گی. میری وجہ سے کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا. کیونکہ میں آج بھی ذوالفقار کی بیٹی ہوں. اور آپ کے اِس حوالے سے اپنی ذات سے متعلق خدشات سے اچھی طرح واقف بھی ہوں.
میں ہر معاملے میں بہت سٹرانگ ہوں. مگر محبت کے معاملے میں چاہنے کے باوجود خود کو مضبوط نہیں کر پائی. اِس لیے آپ کا یہ محبت کا ناٹک میرے زخموں کو مزید چھلنی کر دیتا ہے. میری محبت بہت سچی اور پاکیزہ ہے میں اِس کا مذاق بنتا بلکل برداشت نہیں کر سکتی. “
ماہ روش کی آنکھوں سے آنسو لڑیوں کی طرح جاری تھے. جو اِس بات کے گواہ تھے کہ یہ باتیں کہتے ماہ روش کتنی اذیت میں ہے.
ارتضٰی دم سادھے کھڑا اُس کی باتیں سن رہا تھا.
آج تک کسی میں ہمت نہیں تھی کہ ارتضٰی سکندر کو چپ کروا سکے. مگر آج اِس چھوٹی سی لڑکی نے اُسے بولنے کے قابل ہی نہیں چھوڑا تھا.
ارتضٰی کو شدت سے احساس ہوا تھا کہ اتنے ٹائم سے وہ جو کڑواہٹ اپنی باتوں اور لہجے سے ماہ روش کے اندر بھرتا رہا ہے. وہ ختم کرنا اتنا آسان نہیں تھا.
ماہ روش کے آنسو اُسے اپنے دل پر گرتے محسوس ہوئے تھے. وہ اپنی بات ختم کرتے آنسو بے دردی سے رگڑتے واش روم میں داخل ہوگئی تھی.
” ماہ روش میری بات سنوں. “
ارتضٰی ماہ روش کی طرف بڑھا تھا مگر تب تک ماہ روش خود کو لاک کرچکی تھی.
ارتضٰی بے چینی سے اپنی پیشانی مسلتے وہاں سے نکل آیا تھا. اُس نے تو سوچا تھا اب ماہ روش کے نزدیک کوئی دکھ نہیں آنے دے گا. کبھی اُس کے آنسو نہیں بہے گا. مگر اُس کے سب سے بڑی دکھوں کی وجہ تو وہ خود تھا. تو بھلا وہ باقیوں کو کیا کہتا.
ماہ روش کا بھیگا چہرا اور اُس کی باتیں ارتضٰی کو مزید بے قرار کررہی تھیں.
ماہ روش کو وہ خود سے اِس حد تک بدگمان کرچکا تھا کہ وہ اُس کی محبت کو ہی سرے سے ناٹک کا نام دے گئی تھی.
ارتضٰی ماہ روش کو اِس طرح تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا تھا. اِس لیے وہ اُسے ہر بات کلیئر کرنے کے ارادے سے واپس مڑا تھا. لیکن ابھی وہ دو قدم ہی آگے بڑھا تھا جب موبائل کی آواز نے اُس کے قدم وہیں روک دیے تھے. کال اٹینڈ کرتے آگے سے جو خبر ملی تھی ارتضٰی فوراً باہر کی طرف بھاگا تھا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
جاذل اور زیمل نے ایک ساتھ شہر کے جانے مانے مشہور کلب میں قدم رکھا تھا. جہاں زیادہ تر بزنس مین ہی پائے جاتے تھے.
مگر اُن دونوں کا یہاں آنے کا مقصد کوئی بزنس ڈیل نہیں بلکہ سونیا خان کی یہاں موجودگی تھا.
جاذل اپنے فیملی بزنس کا انوالو کرتے اپنا ایک مصنوعی بزنس سیٹ اپ کھڑا کر چکا تھا. اور اب پلان کے مطابق اُسے سونیا کو بلکل اپنا گرویدہ کرنا تھا.
اُنہیں پتا چلا تھا کہ سونیا آج اسی کلب میں آرہی ہے تو وہ دنوں بھی وہاں پہنچ چکے تھے. پچھلے دو دنوں سے ساتھ کام کرنے کے باوجود اُن دونوں کے درمیان بات نہ ہونے کے برابر تھی. اور ابھی بھی گاڑی میں یہاں تک کا سفر دونوں نے ہی حیرت انگیز طور پر خاموشی سے کیا تھا.
دونوں ہی اپنی اپنی وجوہات کو لے کر ایک دوسرے سے ناراض اور ایک دوسرے کو اگنور کرنے میں لگے تھے.
اُوپر سے جاذل کو جو مشن ملا تھا. اور جس طرح اُسے زیمل کے سامنے یہ سب کرنا تھا. دونوں کے لیے اچھی خاصی آزمائش بننے والی تھی.
جاذل اِس وقت براؤن کلر کے تھری پیس سوٹ میں ملبوس بے حد ڈیشنگ لگ رہاتھا. جبکہ زیمل آف وائٹ کپڑوں میں مہروں کلر کا مفلر اپنی گردن کے گرد لپیٹے سادہ سے حلیے میں بھی بہتر پرکشش لگ رہی تھی.
کوشش کے باوجود بھی جاذل اپنی نظروں کو اُس کی طرف بھٹکنے سے روک نہیں پایا تھا.
ابھی اُنہیں وہاں پہنچے پندرہ منٹ بھی نہیں گزرے تھے جب سونیا کی اچانک جاذل پر نظر پڑی تھی.
جاری ہے
