Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 25

اور آگے کی طرف کیے بال پکڑ کر اُس کی کمر پر پھینکتے اُسے ڈھانپنے کی کوشش کی تھی.
” سر آپ ؟ کیا ہوا یہ کیا کر رہے ہیں. “
ماہ روش کو اچانک ارتضٰی کی حرکت سمجھ نہیں آئی تھی.
جب ارتضٰی کچھ بھی بولے بغیر اُس کا بازو اپنی سخت گرفت میں لیتے برائیڈل روم کی طرف بڑھا تھا.
” کیا بے ہودگی پھیلا رکھی ہے تم نے. اگر ایسے لباس کیری کرنے نہیں آتے تو پہنتی ہی کیوں ہو.
ارتضٰی ماہ روش کو روم میں لاکر ایک جھٹکے سے اُس کا بازو چھوڑتے دہاڑا. ماہ روش نے دیوار کا سہارا لیتے خود کو گرنے سے بچایا تھا.
” سر آپ ایسے…”
ماہ روش اِس سے پہلے کے مزید کچھ بولتی ارتضٰی نے اُس کا بازو پکڑتے اُس کو ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑا کر دیا تھا. ماہ روش کی بیک مرر کی طرف تھی. جب اُس نے ناسمجھی سے پلٹ کر مرر کی طرف دیکھا. مگر سامنے کانظارہ دیکھ اُس کا دل چاہا تھا زمین پھٹے اور وہ اُس میں سما جائے.
اُس کے بال سائیڈ پر ہوئے تھے جن کے پیچھے سے اُس کی دودھیا کمر جھانک رہی تھی.
ماہ روش نے سُرخ ہوتے فوراً اپنی بیک پیچھے ہوکر دیوار کے ساتھ ٹکا دی تھی. ارتضٰی وہاں سے ہٹنے کے بجائے مزے سے سینے پر بازو باندھے اُسے اپنا ہاتھ پیچھے لے جاکر زپ سے زور آزمائی کرتے دیکھ رہا تھا.
ماہ روش کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا کرے کیونکہ ارتضٰی کا تو وہاں سے ہٹنے کا کوئی موڈ نہیں لگ رہا تھا.
” مے آئی ہیلپ یو. “
ارتضٰی نے نجانے کس بات کے زیرِ اثر نرمی سے پوچھا تھا.
” نو سر پلیز….”
ماہ روش نے ارتضٰی کو اپنی طرف بڑھتا دیکھ گھبراہٹ میں مزید دیوار کے ساتھ چپکتے اُسے منع کرنا چاہا تھا.
مگر ارتضٰی نے پہلے کبھی اُس کی سننی تھی جو اب سنتا.
” جی وہ تو مسلسل آپ کی ناکام کوششوں سے دیکھ کر لگ رہا ہے کہ رات تک آپ شاید کامیاب ہو ہی جائیں گی. “
ارتضٰی نے طنز کیا
اور ہاتھ میں پکڑا موبائل پاس پڑے ٹیبل پر رکھا تھا. ارتضٰی نے جیسے ہی دو قدم مزید ماہ روش کی طرف بڑھائے پہلے سے دھکتا اُس کا چہرا مزید سُرخ ہوا تھا.
ماہ روش کا توبہ شکن حسین رُوپ ارتضٰی جیسے مضبوط اعصاب کے مالک انسان کو بہکانے کا باعث بن رہا تھا.
ارتضٰی یک ٹک اُس کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا.
وہ چاہے ماہ روش سے کتنا ہی نفرت کا اظہار کر لیتا لیکن یہ بات ماننے سے بھی انکار نہیں کرسکتا تھا کہ جب بھی یہ لڑکی اُس کے قریب ہوتی تھی. اُس کی دھڑکنوں کا انداز بدل ہوجاتا تھا. ایک اَن دیکھی کشش اُسے ماہ روش کی طرف کھینچتی تھی. مگر ارتضٰی ہمیشہ اپنے دل پر جبر کرتے اُسے خاموش کروا دیتا تھا.
مگر ایک بات تو اب شاید وہ اور اُس کا دل بھی اچھے سے سمجھ چکے تھے کہ اگر نفرت کا اتنا بڑا ریزن اُن دونوں کے درمیان نہ ہوتا تو یہ لڑکی اُس کی زندگی میں سب سے پہلے نمبر پر ہوتی. جسے اُس نے اِس وقت اپنی زندگی میں سب سے آخری درجہ دے رکھا تھا.
ارتضٰی نے آگے کو جھکتے ماہ روش کے اردگرد دیوار پر ہاتھ رکھے تھے.
ارتضٰی یہ بات نہیں جانتا تھا مگر ماہ روش اچھے سے جانتی تھی کہ وہ اُس کا شوہر ہے اُس سے بھی زیادہ ارتضٰی اُس پر اور اُس کے وجود پر حق رکھتا ہے. اِس لیے ماہ روش نے اُسے منع کرنے کی یا روکنے کی زرا کوشش نہیں کی تھی.
ارتضٰی نے اُسے دونوں کندھوں سے تھامتے رُخ موڑا تھا. جب اگلے ہی لمحے ماہ روش کی نیٹ کے دوپٹے سے چھپانے کی ناکام کوشش کی گئی رعنائیاں بکھیرتی کمر ارتضٰی کے سامنے تھی.
وہ اچھے سے ماہ روش کا کپکپانا نوٹ کرسکتا تھا.
ماہ روش کے لیے ارتضٰی کی قربت ہمیشہ کسی امتحان سے کم نہیں ہوتی تھی. اِس وقت بھی اُسے لگ رہا تھا جس سپیڈ سے دل دھڑک رہا ہے کسی بھی وقت پسلیاں توڑ کر باہر آجائے گا.
ارتضٰی کے ہاتھوں کا لمس زپ پر محسوس کرتے ماہ روش نے کانپتے ہاتھوں سے فراک کو مٹھیوں میں بھرا تھا.
ارتضٰی جو ماہ روش کے بال سائیڈ پر کیے زپ بند کررہا تھا اور پوری کوشش تھی کہ ماہ روش کی کمر سے ہاتھ ٹچ نہ ہوں اِس وقت دل پر کیا گیا جبر کافی کمزور پڑتا نظر آرہا تھا.
وہ نہیں جانتا تھا ایسا کیوں ہے مگر وہ ماہ روش کو کہیں نہ کہیں اپنی ملکیت سمجھتا تھا. یہی وجہ تھی کہ وہ اُس پر کسی ایرے غیرے یہاں تک کے اُس کے باپ کی موجودگی بھی اُس کے اردگرد برداشت نہیں کرسکتا تھا. اور اِس بات کا اظہار ہمیشہ غصے کی صورت ماہ روش پر نکلتا تھا.
ارتضٰی بہت احتیاط سے اُس کی زپ بند کرتا پیچھے ہٹا تھا. بے اختیار اُس کا دل چاہا تھا ماہ روش کے سیاہ گیسوؤں کی نرماہٹ کو چھونے کا محسوس کرنے کا مگر دل کی اِس بے تکی فرمائش پر اُسے سرزنش کرتا پیچھے ہٹا تھا.
ماہ روش جو ارتضٰی کی جکڑ لینے والی خوشبو کی زیر اثر تھی اُس کے پیچھے ہٹتے ہی پلٹی تھی. اُس کے لیے اپنے ظالم محبوب کی یہ تھوڑی سی قربت بھی جان لیوا تھی.
ابھی وہ اِسی سحر کے حصار میں تھی جب سائیڈ ٹیبل پر پڑا موبائل بجنے لگا تھا.
ماہ روش کی نظر جیسے ہی موبائل سکرین پر پڑی وہاں جگمگاتی تصویر کے ساتھ نام دیکھ اُس کا دماغ گھوم گیا تھا. جہاں تصویر میں ارتضٰی کے چہرے کے بہت قریب چہرا کیے ایک لڑکی مسکرا رہی تھی.
ارتضٰی موبائل کی طرف دیکھتے مسکرایا تھا.
اُسے ابھی تک یہی لگ رہا تھا کہ اگر ارتضٰی کی لائف میں وہ نہیں تھی تو کوئی اور لڑکی بھی نہیں. کیونکہ ماہ روش ارتضٰی کو کسی اور لڑکی کے ساتھ سوچ بھی نہیں سکتی تھی. مگر سامنے کسی لڑکی کو اُس کے اِس قدر قریب اور لو کے نام سے سیو نمبر دیکھ ماہ روش کے اندر آگ بھڑک اُٹھی تھی.
اچانک نجانے ماہ روش میں اتنی ہمت کہاں سے آئی تھی کہ اُس نے ارتضٰی کے فون اُٹھانے سے پہلے ہی جھپٹنے کے انداز میں موبائل اُٹھا کر کال کاٹ دی تھی.
ارتضٰی ششدر سا ماہ روش کو دیکھ رہا تھا جو جذبات میں یہ حرکت کر تو گئی تھی مگر اب ارتضٰی کے متوقع ردِعمل پر ڈرتے نگاہیں جھکا گئی تھی.
” آر یو میڈ کیا حرکت تھی یہ. “
ارتضٰی غصے سے ماہ روش کے ہاتھ سے اپنا موبائل چھینتے بولا. ماہ روش کا بازو دوبارہ ارتضٰی کی سخت گرفت میں آچکا تھا.
مگر اپنے شوہر کی کسی لڑکی سے اتنی سی قربت بھی ماہ روش کو انگاروں ہر لٹا گئی تھی اِس لیے وہ بھی بغیر ڈرے ارتضٰی کی آنکھوں میں دیکھ کر بولی.
” سر آپ مجھے بتا سکتے ہیں کیا یہ بے ہودگی نہیں ہے جیسے وہ لڑکی آپ کے گلے میں بانہیں ڈالے کھڑی تھی. “
ماہ روش کی بات پر ارتضٰی ایک لمحے کو تو ششدر رہ گیا تھا.
پہلے ماہ روش کی حرکت اور اب اُس کی بات اُسے ماہ روش کی دماغی حالت پر شبہ گزرا تھا.
لیکن وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ ماہ روش اُس کے معاملے میں اُس سے بھی زیادہ پوزیسو تھی. اور کسی لڑکی کو اُس کے اتنے قریب برداشت نہیں کر سکتی تھی.
” واہ ماہ روش ذوالفقار لگتا ہے میری تھوڑی دیر کی نوازشات کو تم کچھ اور ہی سمجھ بیٹھی ہو. جو اتنا فضول بول رہی ہو. مگر میری ایک بات یاد رکھو تمہاری میرے نزدیک کوئی اہمیت نہیں ہے. تم میرے لیے صرف ایک بے ضمیر ملک فروش درندے کی بیٹی ہو. اور اُس غدار کا خون سب کچھ ہوسکتا ہے لیکن وفادار کبھی نہیں ہوسکتا. تم پر میں کبھی بھروسہ نہیں کرسکتا اور نہ ہی اِس قابل سمجھتا ہوں. “
ارتضٰی اپنے اندر کی نفرت اذیت کی صورت ماہ روش کے حوالے کرتے وہاں سے نکل گیا تھا. وہ نہیں جانتا تھا عنقریب اُس کے یہی الفاظ اُسے خون کے آنسو رُولانے والے تھے.
جب کے ماہ روش بھیگی آنکھوں سے اپنے ظالم محبوب کو جاتے دیکھ رہی تھی. وہ آرام سے اُس کے دل پر نشتر چلاتا دل کی بھڑاس اُس نازک جان پر نکال گیا تھا.
ماہ روش اُس کی شدید نفرت دیکھ اتنا تو سمجھ گئی تھی کہ اُس کی اصلیت جان کر ارتضٰی اُسے شاید کبھی بھی اپنی بیوی کے رُوپ میں تسلیم نہ کر پائے. اِس سے آگے وہ کچھ سوچ ہی نہ پائی تھی.
اُسے شاید اب رہتی زندگی اِس نفرت کی آگ میں جلنا تھا.
یہ بات اُسے اندر ہی اندر تڑپا رہی تھی کہ ارتضٰی کسی اور لڑکی سے محبت کرتا ہے. اپنی خوش فہمیاں یاد کرتے وہ خود پر ہنسنے کے سوا کچھ نہیں کر سکتی تھی.
جب کہ قسمت اُس کے ساتھ کوئی اور ہی کھیل کھیلنے والی تھی. جس سے شاید اُسے اپنے سارے غموں سے نجات ملنے والی تھی.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

ریحاب کی طبیعت کو دیکھتے ارحم اُسے جلدی ہی ہال سے واپس لے آیا تھا. ریحاب کو ارحم کے فلی ڈیکوریٹڈ روم میں اُس کی سیج پر بیٹھایا گیا تھا.
وہ آنے والے لمحوں کا سوچتے گھبراہٹ سے بےہوش ہونے کے قریب تھی. اُس کو سمجھ نہیں آرہا تھا کیسے ارحم کو خود سے دور رکھے اور اُسے بتائے کہ یہ رشتہ صرف عارضی ہے. لیکن اتنا دماغ لگانے کے بعد بھی وہ ابھی کوئی ترکیب سوچ نہیں پائی تھی.
ابھی وہ اپنے خیالوں میں ہی اُلجھی ہوئی تھی جب دروازہ کھلنے اور بند ہونے کی آواز کے ساتھ اُسے بھی اپنی سانسیں بند ہوتی محسوس ہوئی تھیں. ہاتھ پاؤں بلکل سرد ہوچکے تھے.
سلام کرتے ارحم ریحاب کے قریب بیڈ پر جا بیٹھا تھا. اور محبت پاش نظروں سے اُس حسین مورتی کو دیکھ رہا تھا. جس نے اُس کی بے رنگ زندگی میں قدم رکھ کر اُسے بہت سے خوبصورت جذبات اور احساسات سے روشناس کروایا تھا.
ارحم نجانے کتنے ہی لمحے اُس کے حسین سراپے میں کھویا رہا تھا. جب ریحاب کی چوڑیوں کی کھنک پر ہوش کی دنیا میں لوٹا تھا. اور ریحاب کا چوڑیوں اور مہندی سے سجا نازک ہاتھ نرمی سے اپنی گرفت میں لیا تھا. ریحاب اُس کے لمس پر کسمسائی تھی.
” میری زندگی میں داخل ہوکر مجھے اُسے معتبر کرنے کا شکریہ. میں نہیں جانتا نجانے کب کیسے تم سے اتنی محبت کرنے لگا ہوں. کہ اب ایک سیکنڈ بھی تم سے دور رہنا مشکل ہوگیا ہے. میں محبت کے بہت بڑے بڑے وعدے نہیں کروں گا. کیونکہ آنے والی زندگی میں تم خود دیکھ لو گی اپنے لیے میرے محبت کی شدت. مگر میں بس اتنا کہنا چاہوں گا کہ اپنی آخری سانس تک تمہاری حفاظت کروں گا. کچھ بھی ہوجائے تم پر آنچ بھی نہیں آنے دوں گا. “
ارحم نے ہولے سے اُس کے ہاتھ ہر ہونٹ رکھے تھے. ریحاب نے ارحم کے محبت بھرے لمس اور باتیں سن کر یکدم نظریں اُٹھاتے اُس کی طرف دیکھا. جب نگاہیں ملنے پر اُس کے جذبات کی شدت برداشت نہ کرتے ریحاب جلدی سے نگاہیں چرا گئی تھی.
اُس کے ٹھنڈے پڑتے جذبات میں ہلچل سی پیدا ہوئی تھی. ارحم کا لمس اُس کا محبت بھرا انداز ریحاب کے دل میں کوئی اور ہی داستان رقم کر رہا تھا.
وہ اِس ساحر کے جادو میں نہیں آنا چاہتی تھی مگر اِس وقت اُس کے آگے بے بس ہورہی تھی. ارحم اور بھی بہت کچھ کہہ رہا تھا. مگر ریحاب کا دل تو اُس کی گرفت میں موجود اپنے ہاتھ میں دھڑکنے لگا تھا.
” کیا ہوا تم کچھ نہیں بولو گی آج. میں بھی اظہار سننا چاہتا ہوں. اب تو اِس سب کا حق حاصل ہے مجھے. “
ارحم جو اُس کے قریب بیڈ پر ترچھا لیٹ کر گہری نظروں سے اُس کا جائزہ لے رہا تھا. اُس کو مسلسل خاموش دیکھ ایک جھٹکے سے اپنی جانب کھینچا تھا. جس پر ریحاب سنبھلنے کا موقع ملے بغیر ارحم کے سینے کا حصہ بنی تھی.
” میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے پلیز. “
ریحاب ارحم کی گرم سانسیں اپنے چہرے کے بہت قریب محسوس کرتے جلدی سے بولی.
جب ارحم نے اپنا حق استعمال کرتے ریحاب کی پیشانی پر پہلا استحقاق بھرا لمس چھوڑا تھا. اُس کے ہونٹوں کے شدت پر ریحاب اندر تک کانپ گئی تھی.

جاری ہے.