Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 2

“کون ہے وہاں.”
تھوڑی دیر پہلے ہی اُس کی پیاس کی شدت سے آنکھ کھلی تھی. پانی پی کر وہ دوبارہ بیڈ کی طرف بڑھ رہا جب اُسے کھڑی کے پاس ایک ہیولا سا نظر آیا تھا.
وہ جلدی سے کمرے کی لائٹ آن کرتا باہر کی طرف بڑھا تھا.
ڈرائنگ روم کی لائٹ آن کرتے اُس کی نظر صوفے پر بیٹھے وجود پر پڑی تھی. جو بلیک سوٹ میں ملبوس نقاب سے اپنا چہرا چھپائے ہوئے تھا.
“کون ہو تم اور اِس وقت میرے گھر میں ایسے داخل ہونے کا مطلب….”
وہ اپنی گھبراہٹ پر قابو پاتے آگے بڑھا تھا. وہ جو کوئی بھی تھا بڑے ہی آرام دہ انداز میں صوفے پر بیٹھا تھا.
“یہ کیا پروفیسر صاحب بُری بات آپ مہمانوں کا اِس طرح استقبال کرتے ہیں کیا.”
نسوانی آواز پر اکمل نے حیرت سے اُس کی طرف دیکھا تھا. ڈریسنگ سے وہ جسے مرد تصور کر رہا تھا. وہ تو کوئی لڑکی تھی. لیکن ایک اکیلی لڑکی اِس وقت اُس کے گھر میں کیا کررہی تھی.

“لگتا ہے آپ کا ایسا کوئی ارادہ نہیں چلیں میں ہی اپنا مہمان والا فرض پورا کر دیتی ہوں.”
اُسے اپنی جگہ جمے دیکھ وہ دوبارہ بولتی اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی تھی.
اکمل نے ایک نظر اُس کی طرف دیکھا تھا اور دل ہی دل میں خود پر ہنسا تھا کہ وہ اِس دھان پان سی لڑکی سے گھبرا رہا ہے جو صرف اُس کے ایک تھپڑ کی مار تھی.
اکمل اُس کو سامنے لگی تصویروں کی طرف متوجہ دیکھ اُس پر وار کرنے آگے بڑھا تھا. لیکن اگلے ہی لمحے اُس کی اپنی چیخ نکل گئی تھی.
ماہ روش نے اپنی طرف اُٹھتا اُس کا ہاتھ گرفت میں لیتے مڑور کر پیچھے کی جانب گھمایا تھا. اکمل کو درد سے اپنا بازو ٹوٹتا محسوس ہوا تھا. جس مہارت سے اُس نے یہ سب کیا تھا اکمل سمجھ چکا تھا یہ کوئی عام لڑکی نہیں ہے. وہ اپنا ہاتھ چھوڑوانے کی کوشش کررہا تھا جب سر پر لگنے والی زوردار ضرب پر اُسے آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھاتا محسوس ہوا تھا.
“جامعہ کے سٹوڈنس کہاں غائب کرتے ہو تم.”
جیسے اُس کی آنکھ کھلی اُس نے خود کو رسیوں میں جکڑا کرسی پر بندھا پایا تھا. اُس کا سر درد سے پھٹ رہا تھا.
جب اُس کے پتھریلے لہجے سے بھی زیادہ الفاظ پر ساکت ہوا تھا.
“کک کون سے سٹوڈنس..کون ہو تم اور کیا فضول بکواس ہے یہ…میں اپنے ہی جامعہ کے بچے کیوں غائب کروں گا. “
اکمل گھبراہٹ پر قابو پاتے فوراً بولا. معاملے کو کسی حد تک وہ سمجھ چکا تھا اور یہ بھی کہ وہ اب پھنس چکا ہے.
“کافی کیوٹ ہے تمہارا بیٹا. سنا ہے تمہاری بیوی تمہارے پانچ سال کے بیٹے اور تین سال کی بیٹی کو لے کر اسلام آباد شمشاد کالونی بلاک نمبر6 میں واقع اپنے میکے گئی ہوئی ہے. یاد تو آرہی ہوگی نا تمہیں.”
ماہ روش نے ہاتھ میں پکڑی اُس کی فیملی فوٹو آنکھوں کے سامنے لہرائی تھی.
“چلو کیا یاد کرو گے بات کروا دیتی ہوں اُن سے. پھر بعد میں پتا نہیں موقع ملے نہ ملے. میرے آدمی تمہارے سسرال کے باہر ہی موجود ہیں چاہو تو ویڈیو کال بھی کرو دیتی ہوں.”
اکمل اُس کے لفظوں میں چھپی دھمکی سمجھتا پسینے میں شرابور ہوا تھا.
“نہیں میں بتاتا ہوں سب بتاتا ہوں. پلیز اُن کو کوئی نقصان نہ پہنچانا وہ بے قصور ہیں.”
“مجھے ایک ایک سٹوڈنٹ کی ڈیٹیل چاہئے. اگر زرا بھی غلط بیانی کی کوشش کی تو نتائج کے ذمہ دار تم خود ہوگے.”
سپاٹ انداز میں کہتے ماہ روش نے ریکارڈنگ ڈیوائس آن کی تھی.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

“اوچ میری کمر.”
زیمل ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی لان میں آکر بیٹھی تھی. جب برابر والے بنگلے سے آتی بال اُس کی کمر کو سلامی دیتی نیچے جاگری تھی.
“حد ہی ہوگئی ہے. کتنے بدتمیز لوگ ہیں یہ. مینرز نام کی چیز نہیں. بجائے نئے ہمسائیوں کا اچھے سے ویلکم کرنے کے اُلٹا قاتلانہ حملے کیے جارہے ہیں. امیر ہونگے تو اپنے گھر. آج تو چھوڑوں گی نہیں میں اِنہیں.”
زیمل غصے سے ساتھ والے عالی شان بنگلے کو گھورتی اپنی کمر سہلاتی اُٹھی تھی.
اُنہیں ایک ہفتہ ہوچکا تھا اپنے نئے گھر میں شفٹ ہوئے لیکن ساتھ والے بے حد خوبصورت طرز کے بنے بنگلے جس کی مغرور سی کھڑی عمارت کو دیکھ اُس کے مکین بھی ویسے ہی معلوم ہوتے تھے. وہاں سے کوئی ایک فرد بھی اُن کی طرف نہیں آیا تھا. لیکن روز شام کے وقت ہوا میں اُڑتی ایک بال ضرور پہنچ جاتی تھی.
“زیمل رُک جاؤ بیٹا. کسی بچے نے غلطی سے اِدھر پھینک دی ہوگی.”
اُسے اُٹھتا دیکھ پاس بیٹھی سلمہ بیگم نے روکنا چاہا تھا. جانتی تھیں وہ غصے کی بہت تیز ہے کچھ اُلٹا سیدھا ہی کر آئے گی.
“ماما کوئی بچہ اتنی اونچی دیوار سے بال کیسے پھینک سکتا ہے. ضرور یہ اِس گھر کے بگڑے امیر زادوں کا کام ہی ہوگا. آج تو میں اِن کی طبیعت سیٹ کرکے ہی آؤں گی.”
زیمل دانت پیستے اُن کی مزید کوئی بھی بات سنے بغیر گیٹ کی طرف بڑھ گئی تھی.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤