No Download Link
Rate this Novel
Episode 23
” میں واقعی میں ہی بہت بہادر ہوں. لیکن کسی کا اِس طرح خون نکلتا دیکھنا میں برداشت نہیں کرسکتی.”
زیمل کہاں چپ رہنے والی تھی. سنبھل کر بیٹھتے فوراً اُسے جواب لوٹایا تھا.
جس پر جاذل مسکرائے بنا نہ رہ سکا.
” میں ڈرائیو کرتا ہوں. یہاں کا راستہ ٹھیک نہیں ہے آپ تھک جائیں گی. “
زیمل کو گاڑی سٹارٹ کرتا دیکھ جاذل سیدھا ہوتا بولا.
” بلکل بھی نہیں میں ڈرائیو کر لوں گی. آپ آرام سے پیچھے ہوکر بیٹھیں. “
زیمل نے اُسے سختی سے منع کرتے گاڑی آگے بڑھا دی تھی. اُسے اب جاذل کی فکر ہورہی تھی کیونکہ خون بہت زیادہ بہہ جانے کی وجہ سے اُس کا رنگ زرد ہورہا تھا. جبکہ جاذل بلکل ریلکیکس تھا اُس کے لیے بلکل نارمل بات تھی. انڈیا میں مشن کے لیے جانے سے پہلے اُسے اور ارتضٰی کو جتنی سخت ٹریننگ دی گئی تھی یہ درد تو اُس کے آگے کچھ بھی نہیں تھا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
” کیا چرانے آئی ہو میرے روم سے. “
ارحم کی آواز اتنی مدھم تھی کہ ریحاب بھی بمشکل سن پائی تھی. ریحاب کو ارحم کی آواز سن کر ایک سکون سا بھی ملا تھا.
ارحم اندھیرے میں بھی ریحاب کا ڈر اور خوف اچھے سے محسوس کرسکتا تھا.
” کک کیا مطلب. “
ارحم کے ہاتھ ہٹاتے ہی ریحاب منمنائی
اپنے پکڑے جانے کا خوف دوبارہ جاگا تھا.
” ایک دل ہی تو تھا مجھ غریب کے پاس وہ تو چرا ہی لیا ہے. اب اِس وقت میرے کمرے میں آکر جان بھی لینے کا ارادہ ہے کیا. “
ارحم ہونٹوں پر ہنسی سجائے بولا. جب اُس کی بات سن کر ریحاب نے تشکر بھرا سانس خارج کیا.
” وہ میں پانی لینے آئی تھی کچن سے. راستہ بھول کر اِدھر آگئی. پلیز میرا ہاتھ چھوڑیں مجھے جانے دیں.”
ریحاب کی بات سنتے ارحم نے اُس کے بازو آذاد کرتے ہاتھ بڑھا کر لائٹ آن کردی تھی. اور ایک نظر اپنے سامنے کھڑی لڑکی پر ڈالی جو اُس کی وجہ سے مصیبت میں پھنسی ہوئی تھی. اور اپنی تمام بے وقوفیوں اور نادانیوں سمیت اُس کے دل میں بھی بہت گہری جگہ بنا چکی تھی.
ریحاب ارحم کے انداز سے آج بہت زیادہ کنفیوز ہورہی تھی.
” پلیز مجھے جانے دیں. “
ریحاب اُس کی خاموشی اور وارفتہ نگاہوں سے گھبرا کر پھر بولی. جو اُس کے اردگرد بازو رکھے اُسے قید کیے ہوئے تھا.
” اوکے چلی جاؤ سویٹ ہارٹ ویسے بھی چار دن بعد تو یہیں آنا ہے پھر تم مجھ سے بلکل نہیں بچ سکوگی. صرف دو دن اور پھر تم صرف اور صرف میری ہوگی. “
ارحم نے ریحاب کی آنکھوں میں جھانکا تھا. اور پہلی بار اُس کے دل نے خواہش کی تھی کہ ریحاب بھی اُسے ویسے ہی چاہے جیسے وہ اُسے چاہنے لگا ہے. لیکن اِس وقت اُسے ریحاب کی آنکھوں میں ایسا کوئی جذبہ نہیں دکھا تھا.
اُس کے پیچھے ہٹتے ہی ریحاب دروازہ کھولتی فوراً باہر بھاگی تھی.
ریحاب کے نکلتے ہی ارحم کے تاثرات سخت ہوئے تھے وہ اچھے سے جانتا تھا ریحاب کا اِس روم میں آنے کا مقصد. ریحاب کو جس طرح بلیک میل کیا جارہا تھا ارحم کے لیے یہ برداشت کرنا بہت مشکل تھا لیکن ابھی کچھ ٹائم خاموش رہنا اُس کی مجبوری تھی.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
” ماہی بات تو سنو نا یار میں بتا تو رہی ہوں نا تمہیں . “
زیمل مسکین سا منہ بنائے شعلہ جوالہ بنی ماہ روش کی طرف دیکھا. جو اِس وقت اُسے کسی صورت بخشنے کے موڈ میں نہیں تھی.
” ابھی بھی کیا ضرورت تھی بتانے کی. آرام سے شادی کرکے بتانا تھا. پہلے یہ ارحم صاحب اور اب تم. مجھے بات ہی نہیں کرنی تم دونوں سے. “
ماہ روش نے زیمل کے ساتھ ساتھ ارحم کو بھی لپیٹ میں لیا.
زیمل اور ارحم اِس وقت ماہ روش کے گھر پر موجود تھے.
پہلے ارحم نے سب کچھ طے کرکے اُنہیں اچانک شادی کی نیوز دی تھی اور اب زیمل نے بھی اُسے جاذل کے ساتھ اپنی بات طے ہونے کا بتایا تھا.
ماہ روش اِس وقت بہت غصے میں تھی دونوں پر.
” زیمل کی بچی تمہارا قصور ہے سارا میری شادی تو ہونے دیتی پہلے. تمہیں کس بات کی جلدی تھی اتنی. “
ارحم نے بھی زیمل کو گھورا. جو ایسے مجرموں کی طرح کھڑی تھی جیسے بہت بڑا قصور کردیا ہو.
جاذل نے جیسے ہی اپنے گھر والوں کو زیمل کا بتایا وہ بغیر کسی تاخیر کیے کہ کہیں جاذل کا پلان پھر نہ بدل جائے ہتھیلی پر سرسوں جماتے اگلے ہی دن زیمل کے گھر رشتہ لیے پہنچ گئے تھے.
سلمہ بیگم کو تو پہلی نظر میں ہی جاذل بہت پسند آیا تھا اِس لیے اُنہیں تو اِس رشتے پر کوئی اعتراض نہیں تھا. اور اُوپر سے زیمل کے اتنے آرام سے اقرار کرنے پر اُن کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ ہی نہیں رہا تھا.
جاذل اور زیمل نے پلین کے مطابق اپنے گھر والوں سے رخصتی مشن کے کمپلیٹ ہونے تک ملتوی کرنے کا وعدہ لیا تھا. جس پر نہ چاہتے ہوئے بھی بڑوں کو اُن کی بات ماننی پڑی تھی. لیکن اپنی بھی ایک بات منوا کر ہی رہے تھے جس کے مطابق نکاح ایک ہفتے کے اندر اندر کرنے کا کہاں تھا.
ارتضٰی کو بھی جاذل سب کچھ بتا چکا تھا. اِس لیے وہ بھی وہاں موجود تھا. اور اپنی ٹیم ممبرز کے اچانک اِس شادیوں کا سیزن شروع کرنے پر کافی جھنجھلاہٹ کا شکار بھی تھا. اُسی کے مشورے کے مطابق ارحم کے نکاح کے ساتھ ساتھ زیمل اور جاذل کا نکاح ایک ہی جگہ پر ہونا طے پایا تھا.
یہ سب اتنی جلدی دو دنوں کے اندر ہوا تھا کہ زیمل ماہ روش کو کچھ بتا ہی نہ پائی تھی اور آج تیسرے دن ماہ روش کے آگے اُس کی پیشی لگی ہوئی تھی. جس میں ارحم کو بھی اُس نے ساتھ گھسیٹ لیا تھا.
” ارحم تمہیں یہاں معاملہ سنوانے بلایا ہے مزید خراب کرنے نہیں.”
زیمل نے ارحم کو تنبیہہ کرتے آنکھیں نکالیں.
” تم دونوں کو میرا گھر ہی ملا ہے لڑائی کرنے کا. اُٹھو اور نکلو یہاں سے. مجھے کوئی بات نہیں کرنی تم دونوں سے. “
ماہ روش اُن کے نان سیریس ایٹیچیوڈ سے مزید تپی.
” ماہی سوری نا یار معاف کردو. تمہاری ہر سزا ماننے کو تیار ہوں پر پلیز ناراض تو مت ہونا. پرسوں میرا نکاح ہے پلیز. “
زیمل کان پکڑے معصوم سی صورت بنائے رُخ موڑے کھڑی ماہ روش کے سامنے آئی تھی.
” اور ماہ روش میرا اتنی جلدی شادی کرنے کا ریزن تو پتا ہے نا تمہیں. یہ بھی مشن کا ہی ایک حصہ ہے. “
ارحم نے بھی ماہ روش کے سامنے آتے کان پکڑے کیونکہ غلطی تو واقعی اُن دونوں نے کی تھی.
” ماہی تم بھی بے شک ہمارے ساتھ ایسا ہی کرنا. بلکہ تم تو نکاح کرنے کے بعد بتانا ہمیں. ہم کچھ نہیں بولیں گے. پلیز نا راضی ہوجاؤ.”
زیمل اُسے منانے کے چکر میں جو دماغ میں آرہا تھا بولی جارہی تھی.
جب اُس کی بات سنتے ماہ روش ایک پل کے لیے سٹپٹائی تھی. اُس کا نکاح تو ہو بھی چکا تھا. اور اُس نے زیمل اور ارحم کو ابھی تک اِس بارے میں کچھ نہیں بتایا تھا. اِس لیے اب وہ کچھ نرم پڑی تھی.
” بس کرو تم لوگ اپنے ڈرامے. معاف کیا میں نے دونوں کو جاؤ کیا یاد کرو گے. “
ماہ روش کی بات سنتے ہی زیمل نے خوشی سے اُس کا گال چومتے اُسے کس کر جپھی ڈالی تھی.
” ویسے ایک بات مجھے ابھی بھی کھٹک رہی ہے. زیمل کل تک تو تم میجر جاذل کی شکل دیکھنے کو بھی تیار نہیں تھی. یہ اچانک ہوا کیا تمہیں. ایک رات کے اندر محبت کیسے ہوگئی تمہیں. “
ماہ روش اپنی دوست کی رگ رگ سے واقف تھی اِسی لیے اُس کی من گھڑت کہانی پر کسی صورت یقین نہیں کرپارہی تھی.
” ماہی محبت تو ایک بے اختیاری عمل ہے اس کے لیے تو ایک لمحہ چاہئے ہوتا ہے کبھی بھی کسی بھی وقت ہوسکتی ہے. مجھے بھی ہوگئی. “
زیمل نے بہت مشکل سے لفظوں کا چناؤ کرتے ماہ روش کو یقین دلانا چاہا تھا.
” بس بس زیادہ فلاسفر بننے کی ضرورت نہیں ہے. “
ماہ روش کو اُس کی بات پر یقین تو ابھی بھی نہیں آیا تھا لیکن کچھ سوچتے خاموش ہوگئی تھی کیونکہ زیمل جس بھی وجہ سے راضی ہوئی تھی مگر جاذل جیسے سُلجھے ہوئے انسان کے ساتھ اپنی دوست کا نصیب جُڑنے پر وہ دل سے بہت خوش تھی.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
” ماشاءﷲ ماشاءﷲ تم دونوں کتنی خوبصورت لگ رہی ہو. آج تو میجر جاذل اور کیپٹن ارحم گئے کام سے. “
ماہ روش نے محبت سے اپنے سامنے دلہن کے رُوپ میں موجود زیمل اور ریحاب کی طرف دیکھا. جو نکاح کی دلہنیں بنی غضب ڈھا رہی تھیں.
گولڈن لہنگے میں ریڈ ڈارک میک اپ نے ریحاب کے دلکش نقوش کی تراش میں مزید اضافہ کر دیا تھا. پور پور سجی وہ آنے والے لمحات کا سوچ پاگل ہورہی تھی. اتنا بھاری لباس اور زیورات اُس نے پہلی بار پہنے تھے اِس لیے وہ بہت زیادہ اُن کمفرٹیبل فیل کر رہی تھی. اور مسلسل سوچوں اور ٹینشن کی وجہ سے اُسے ہلکا ہلکا فیور بھی محسوس ہورہا تھا.
اپنی لائف کے اتنے اہم موقع پر اپنے پیارے بھائی کی کمی اُسے شدت سے محسوس ہورہی تھی. چاہے اِس رشتے کی بنیاد کیسی بھی تھی لیکن صبح سے نجانے کتنی بار وہ اپنے پیرنٹس اور انیس کو یاد کرکے رو چکی تھی جو اِس دنیا میں ہوتے ہوئے بھی اُس کے ساتھ نہیں تھے اِس وقت.
اُداسی اور سوگواریت نے اُس کے حُسن کی رعنائیوں کو مزید بڑھا دیا تھا. ارحم نے پہلی نظر میں ہی چاروں شانے چت ہو جانا تھا آج.
” ماہی یار یہ کیا لاد دیا ہے تم لوگوں نے میرے اُوپر. میرا دم گھٹ رہا ہے اِس سب میں. پتا نہیں یہ مولوی صاحب کہاں رہ گئے ہیں. “
زیمل کی اُکتائی ہوئی آواز پر ماہ روش اُس کی بات کو انجوائے کرتے کھلکھلائی تھی.
زیمل ڈارک پرپل میکسی اور لائٹ سے میک اپ میں آج معمول سے ہٹ کر ہونے کی وجہ سے پہچانی ہی نہیں جارہی تھی. جیولری بہت انکار کے باوجود بھی سلمہ بیگم نے اُسے اچھی خاصی پہنا دی تھی.
ہمیشہ لاپرواہ سے حلیے میں رہنے والی زیمل اِس وقت سجی سنوری پریوں کے حُسن کو بھی مات دے رہی تھی. زیمل کے سہانے روپ کو دیکھ کر یہی لگ رہا تھا کہ آج میجر جاذل کے تمام دعوے دھرے کے دھرے رہنے والے ہیں. وہ آج کسی صورت زیمل کے قاتلانہ حُسن کے وار برداشت نہیں کرپائے گا.
” میری بے صبری دلہن حوصلہ رکھو. اور ساتھ تھوڑی شرم بھی کر لو. تمہاری نندیں باہر ہی موجود ہیں کیا کہیں گی کہ کتنی بے شرم بھابھی ملی ہے انہیں ایسے ہی منہ پھاڑے مولوی صاحب کا پوچھ رہی ہے. “
ماہ روش نے اُسے فوراً ٹوکا. جب غزالہ کو اندر داخل ہوتا دیکھ کچھ کہنے کے لیے منہ کھولتی زیمل وہی رکی تھی.
ماہ روش اُسے ہاتھ ہلا کر انجوائے کرنے کا اشارہ کرتی اُس کی بہت گھوریوں کے بعد بھی روم سے نکل گئی تھی.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
” اسلام و علیکم بیٹا کیسی ہیں آپ. “
ماہ روش سلمہ بیگم سے بات کرکے پلٹی ہی تھی جب اُس کا سامنا ناہید بیگم سے ہوا تھا.
ماہ روش اُنہیں اِس طرح سامنے دیکھ بہت خوش ہوئی تھی. اور بہت ہی عقیدت سے اُن کا بڑھا ہوا ہاتھ تھام لیا تھا. اور اُنہیں دیکھ کہیں نہ کہیں ایک امید جاگی تھی کہ شاید اُس کی ماما بھی یہاں آئی ہوں.
” آنٹی میں بلکل ٹھیک ہوں آپ کیسی ہیں. “
ماہ روش نے بھرپور گرم جوشی سے جواب دیا تھا.
” ﷲ کا کرم ہے بیٹا. مجھے آپ سے اُس دن ارتضٰی کے رویے کے لیے معذرت کرنی تھی. وہ دراصل کچھ غلط فہمی کی وجہ سے اُس نے آپ کو ہرٹ کر دیا. “
ماہ روش جو بہت ہی محبت سے اُن کی طرف دیکھ رہی تھی. اُن کی بات سن کر ارتضٰی کا خیال آتے ہی فوراً دور ہوئی تھی. وہ کھڑوس بھی تو یہی کہیں ہوگا اگر اُس نے اُسے اپنی ماں کے ساتھ کھڑا دیکھ لیا تو اُس سے کوئی بعید نہیں تھی سب کے سامنے ہی اُسے جھاڑ کے رکھ دے.
” اٹس اوکے آنٹی. آپ پلیز ایسے مت کہیں اور مجھے اُس دن کسی بھی بات کا بُرا نہیں لگا تھا. “
ماہ روش اُن کی بات کا جواب دے کر نرمی سے معذرت کرتی وہاں سے ہٹ گئی تھی.
دنوں جوڑیوں کے نکاح کا بندوبست ایک ہی ہال میں کیا گیا تھا. ارحم اور جاذل کی فیملیز کے ساتھ ساتھ تمام مہمان بھی وہاں پہنچ چکے تھے کچھ ہی دیر میں نکاح ہونا تھا.
جاذل کے نکاح میں ارتضٰی کی پوری فیملی شریک تھی.
” جاذل تم جیسے میچیور انسان سے مجھے اِس بات کی امید بلکل نہیں تھی. “
ارتضٰی کو شک تو جاذل پر اِس رشتے کے بارے میں سنتے ہی ہوگیا تھا کہ یقیناً کوئی گڑبڑ ہے اور اِسی وجہ اب بہت جلد اُس نے جاذل سے سب سچائی اگلوا بھی لی تھی.
” یار اور کیا کرتا میں. گھر میں سب ہاتھ دھو کر میری شادی کے پیچھے پڑ گئے تھے. ہر بار گھر جانے پر پتا نہیں کون کون سی لڑکیوں کی تصویریں دکھائی جاتیں. اِس لیے یہ فیصلہ سب سے مناسب لگا مجھے. اور ویسے بھی ہر کوئی ارتضٰی سکندر تو ہوتا نہیں ہے. جو اپنے سامنے کسی کو اپنی شادی کے بارے میں نام بھی نہ لینے دے. “
جاذل کی بات پر ارتضٰی نے اُسے سخت گھوری سے نوازا.
” کرو یہ اُوٹ پٹانگ حرکتیں لیکن بعد جب کچھ گڑبڑ ہوئی تو مجھ سے کسی قسم کی اُمید نہ رکھنا. “
ارتضٰی اُس کے اِس طرح شادی کرنے کے حق میں بلکل نہیں تھا.
” آج تو بخش دو یار نکاح ہے آج میرا. “
جاذل نے آخر کار اُس کے آگے ہاتھ جوڑ دیے تھے. جس پر ارتضٰی نفی میں سرہلاتا مسکرایا تھا. وہ دونوں اِس وقت سٹیج سے کچھ فاصلے پر کھڑے تھے.
فل بلیک تھری پیس سوٹ میں ایک ساتھ کھڑے مسکراتے وہ وہاں موجود تمام دوشیزائیوں کو اپنا اسیر کر رہے تھے.
ماہ روش جو کسی کام سے وہاں آئی تھی. ارتضٰی کو دیکھ ایک پل کے لیے اُس کے قدم وہیں جم گئے تھے. آج کتنے ٹائم بعد اُس دشمنِ جاں کو مسکراتے دیکھا تھا. مسکرانے پر اُس کے گالوں پر اُبھرنے والے ڈمپلز کی دیوانی وہ اُنہیں پورے حق سے دیکھتی بے خود ہوئی تھی.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
” ماہ روش حمیرا بیٹا جاؤ. آپ لوگ زیمل اور ریحاب کو نیچے لے آؤ. “
صائمہ بیگم کے اشارے پر ماہ روش بھی حمیرا کے پیچھے برائیڈل روم کی طرف بڑھی تھی. تھوڑی دیر پہلے نکاح بخیر و آفیت ہوچکا تھا. اِس لیے اب زیمل اور ریحاب کو سٹیج پر جاذل اور ارحم کے ساتھ بیٹھایا جانا تھا.
ماہ روش اپنے نیچے گرتے ڈوپٹے کو سیٹ کرتے چل رہی تھی جب ایک طرف مڑتے سائیڈ سے آتے ارتضٰی کو نہ دیکھ پائی تھی. اور سیدھی اُس کے چوڑے وجود سے جا ٹکرائی تھی.
ارتضٰی جو اپنے ہی دھیان میں فون پر بات کرتا وہاں ٹہل رہا تھا. اِس اچانک تصادم پر ماہ روش کی آواز سنتے ہاتھ بڑھا کر فوراً اُسے پکڑا تھا.
” کیپٹن ماہ روش آنکھوں کا استعمال.. “
ارتضٰی جو ماہ روش کو اچھی خاصی سنانے کے موڈ میں تھا. مگر اُس کا ہوش رُبا حُسن دیکھ اپنے الفاظ ہی بھول چکا تھا.
ماہ روش مہرون کلر کے بھاری کامدار شارٹ فراک کے ساتھ فل امبرائیڈڈ شرارہ پہنے کالے گھنے سیاہ بالوں کا خوبصورت سا ہیئر سٹائل بنا کر آگے سے ایک سائیڈ پر کرکے اُن میں بیٹس لگائے ہوئے تھے.
نفیس سے جھمکے اور صراحی دار گردن میں نازک سا لاکٹ پہنے وہ پہلی والی سادہ سی ماہ روش تو بلکل نہیں لگ رہی تھی.
ماہ روش کو پکڑنے کے لیے بڑھایا گیا ارتضٰی کا ہاتھ ابھی بھی اُس کی کمر کے گرد لپٹا ہوا تھا. جس کی وجہ سے ماہ روش پیچھے بھی نہیں ہٹ پارہی تھی. ماہ روش کا اپنا ہاتھ بھی گرنے سے بچنے کے لیے ارتضٰی کے سینے کے اُوپر دھرا تھا.
اور ارتضٰی کے اِس طرح اچانک چپ ہوجانے پر دھڑکتے دل کے ساتھ حیرت سے نگاہیں اُٹھا کر اُس کی طرف دیکھا تھا. اور یہی لمحہ تھا جب اُس کی ترسی نگاہیں ارتضٰی کی سرد نگاہوں سے ٹکرائی تھیں. مگر یہ کیا آج اُن آنکھوں میں نفرت غصے نہیں بلکہ کچھ اور ہی نظر آرہا تھا. جو اِس وقت ماہ روش کو صرف آنکھوں کا دھوکہ ہی لگ رہا تھا. بھلا اِس ستمگر کی نظروں میں اُس کے لیے چاہت اور دیوانگی کیونکر ہوسکتی تھی.
ماہ روش کا دماغ اِس کو خوش فہمی سے زیادہ کچھ بھی ماننے کو تیار نہیں تھا.
کتنے ہی پل ایسے ہی ایک دوسرے میں کھوئے گزر گئے تھے. دونوں کو اِس بات کا ہوش نہیں تھا کہ وہ لوگ اِس وقت پبلک پلیس پر ہیں.
ارتضٰی چاہنے کے باوجود بھی اپنے حواسوں پر قابو نہیں پا رہا تھا. یہ لڑکی اُسے ہپنوٹائز کر رہی تھی. ہمیشہ اپنے احساسات جذبات کو کنٹرول کرنے والا میجر ارتضٰی سکندر اِس وقت اِیک لڑکی کے حصول اور قربت کی خواہش میں قطرہ قطرہ پگھل رہا تھا.
ارتضٰی نجانے اور بھی کتنے لمحے ماہ روش میں کھویا رہتا جب اُس کی نظر کوریڈور سے اِس طرف آتے شخص پر پڑی تھی. اگر وہ اُن دونوں کو ایک ساتھ کھڑا دیکھ لیتا تو بہت بڑی گڑبڑ ہوجانی تھی.
ارتضٰی نے اگلے ہی لمحے ماہ روش کی کمر پر دباؤ ڈالتے اُسے اپنے سینے میں بھینچا تھا. اور اُس کے بالوں میں لگے کیچڑ کو نکالتے اُن میں اپنا چہرا گھسا دیا تھا.
” ڈونٹ مو. “
ماہ روش کی مزاحمت کرنے پر ارتضٰی ہلکی آواز میں غرایا تھا.
ماہ روش جس کی جان پہلے ہی مشکل میں تھی ارتضٰی کی اِس بے انتہا قربت اور دھکتے لمس پر حواس بھی سات چھوڑتے محسوس ہوئے تھے.
ارتضٰی کی سانسوں سے اُسے اپنی گردن جھلستی محسوس ہورہی تھی. وہ سمجھنے سے قاصر تھی آخر اُسے اچانک ہوا کیا ہے.
جاری ہے
