Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 33

آج بھی ایسا ہی تھا. ارتضٰی ماہ روش کے بیڈ کے قریب چیئر رکھ کر بیٹھ گیا تھا. جبکہ ماہ روش ویسے ہی ہر ایک سے غافل تھی.
ارتضٰی کا بس نہیں چل رہا تھا. کسی بھی طرح کرکے ماہ روش کو ٹھیک کردے. ڈاکٹرز نے ابھی تک اُس کی حالت میں کوئی بہتری نہیں بتائی تھی. جو ارتضٰی سمیت سب گھر والوں کے لیے بہت تکلیف کا باعث تھا.
زینب بیگم جو پہلے صرف گھر والوں کی خاطر اپنی زندگی کے دن گن گن کے گزار رہی تھیں. ماہ روش کی حقیقت جان کر ایک پل کے لیے لگا تھا کہ جیسے اُن کی زندگی کی تمام بہاریں واپس آگئی ہوں. مگر ماہ روش کی حالت دیکھ وہ ایک بار پھر ٹوٹ چکی تھیں.
اپنی جوان بیٹی کو اِس طرح بے جان بیڈ پر پڑا دیکھنا اُن کو بہت اذیت دے رہا تھا.
ارتضٰی جنرل یوسف سے بہت ناراض تھا. اور اُن سے ماہ روش کے متعلق تمام ثبوت مانگے تھے کیونکہ اب وہ اُن سمیت کسی پر بھی بھروسہ کرنے کا روادار بلکل نہیں تھا. اِس لیے ایک بار تمام ثبوت اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے بعد اُس نے یقین کیا تھا.
ماہ روش کو تو اب وہ کسی صورت خود سے جدا کرنے کے حق میں نہیں تھا. چاہے ثبوت میں یہ ثابت نہ بھی ہوتا تب بھی.
ارتضٰی نے اپنی سوچوں سے نکلتے محبت سے ماہ روش کی طرف دیکھا تھا.
اِن دو ہفتوں میں ہی ماہ روش کی اپنی زندگی میں اہمیت سے ارتضٰی اچھے سے آگاہ ہوچکا تھا. وہ اُس کے لیے بہت ضروری ہو گئی تھی. اب صبح سب سے پہلے ماہ روش کا چہرہ دیکھے بغیر دن گزارنا اُس کے لیے بہت مشکل ہوجاتا تھا.
اُسے اپنی حالت پر بہت حیرت ہوتی تھی کیونکہ اُسے نہیں لگا تھا کہ کبھی وہ بھی کسی کو اتنا چاہے گا. مگر جو بھی تھا یہ احساس اُس کے لیے بہت ہی خوبصورت تھا.
ارتضٰی نے ماہ روش کا ہاتھ پکڑ کر ہونٹوں سے لگایا ہوا تھا. اور اُس کے چہرے کے بہت قریب جھکے اُس کے ایک ایک نقوش کو ازبر کررہا تھا.
اُسے اچانک فیل ہوا تھا جیسے ماہ روش کا چہرہ سرخ ہوا ہے. اُسے اپنے قریب ہونے پر ماہ روش کی طرف سے ایک ری ایکشن سا ملا تھا. ارتضٰی سمجھ نہیں پایا تھا کہ ایسا ہوا ہے یا صرف اُس کا وہم ہے مگر جو بھی تھا. اُس کے لیے بہت خوشی کا باعث تھا.
ارتضٰی نے فوراً بیڈ پر اُس کے قریب بیٹھتے اُس پر جھک کر اُس کے گال پر اپنے پر شدت لب رکھ دیے تھے.
اب کی بار ماہ روش کے چہرے کی سُرخی میں مزید اضافہ ہوا تھا.
ارتضٰی کے چہرے پر زندگی سے بھرپور دلکش مسکراہٹ کھیل گئی تھی.
ماہ روش اُسے اتنی شدت سے چاہتی تھی کہ اِس حالت میں بھی اُس کی اپنی قریب موجودگی محسوس کر پا رہی تھی.
کیونکہ ارتضٰی سکندر نہیں جانتا تھا کہ ماہ روش نے اُس سے محبت نہیں عشق کیا تھا. اُس کی نفرت کے باوجود اُسے چاہا تھا اُس کے لیے تڑپی تھی.
ارتضٰی نے اُسی وقت ڈاکٹر کو بلاوایا تھا.
اُسے اپنی قسمت پر رشک آیا تھا کہ یہ لڑکی اُسے اتنا چاہتی ہے. بے ہوشی میں بھی اُسے ارتضٰی کا خیال تھا.
ڈاکٹر نے ماہ روش کے چیک اپ کے بعد اُس کی طبیعت میں بہتری کا بتایا تھا.
ارتضٰی کو لگا تھا ماہ روش اب اُس سے نفرت کرتی ہوگی. مگر وہ پاگل لڑکی تو اب بھی اُسے چاہتی تھی. اور وہ بھی اتنی شدت سے. اِس پل ارتضٰی کا دل چاہا تھا. ماہ روش کو اپنی بانہوں میں لے کر بھینچ لے. اُسے اتنا پیار دے کے پچھلے اُس کے رواں رکھے گئے سلوک کو وہ بھول جائے.
ارتضٰی جب بھی اپنے بدترین رویے کے بارے میں سوچتا. ماہ روش کا آنسو سے بھیگا چہرا اُس کو مزید درد سے دوچار کر دیتا تھا.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

” رابطہ کیوں نہیں کررہی وہ سوہا. اگر اُن لوگوں کی باتوں میں آکر اُس نے مجھے دھوکہ دینے کے بارے میں سوچا بھی تو مجھ سے بُرا کچھ نہیں ہوگا. “
ذوالفقار غصے سے دھاڑا تھا. سب لوگ اُس کے سامنے سر جھکائے کھڑے تھے.
کیونکہ پچھلے اتنے سالوں سے اُسے کبھی کسی کام میں شکست سے دوچار نہیں ہونا پڑا تھا. مگر اب تو ہر کام اُس کو ہی ناکامی کا منہ دیکھنا پڑ رہا تھا.
” سر ہم کوشش کر رہے ہیں پتا لگانے کی. “
اُن میں سے ایک آدمی ہلکی آواز میں بولا.
” کوشش کوشش اِس کے علاوہ تم لوگوں کو کوئی اور بات آتی بھی ہے یا نہیں. ابھی تک اُس ٹیم کے نام تو لا نہیں سکے میرے پاس.
سمجھ نہیں آرہی مجھے وہ لوگ بہت شاطر ہو گئے ہیں. یا میرے آدمی نکمے ہوگئے ہیں. “
ذی ایس کے کسی طرح بھی اپنے خلاف تیار کی گئی نئی ٹیم تک پہنچنا چاہتا تھا. جو اندر ہی اندر سرگرم اُس کی جڑیں کاٹنا شروع ہوچکی تھی.
اِس بار تو وہاں بھیجے گئے اُس کے جاسوس بھی فیل ہوچکے تھے. سوہا جس کی ذہانت پر اُسے پورا اعتماد تھا وہ ہی اُس کے ہاتھ نہیں آرہی تھی. وہ اندر ہی اندر خوفزدہ ہوچکا تھا.
کیونکہ اُسے لگ رہا تھا اِس بار اُس کے خلاف کوئی بہت بڑی سازش تیار کی جا رہی ہے.
ذوالفقار ابھی اُن کو مزید ہدایت دے رہا تھا. جب ہمایوں اندر داخل ہوا تھا.
ذوالفقار اپنے آدمیوں کو جانے کا اشارہ کرتے اُس کی طرف متوجہ ہوا تھا.
ہمایوں اُس کی بیوی کے پہلے شوہر کی طرف سے سوتیلا بیٹا تھا. اور شروع سے ساتھ ہونے کی وجہ سے اُس سے انسیت اور اُس کی ذہانت کو دیکھتے ذوالفقار نے اُسے بھی اپنے ساتھ اِس کام ملا لیا تھا. جس کے بعد ہمایوں اُس کے لیے بہت فائدہ مند بھی ثابت ہوا تھا.
” ہمایوں کچھ پتا چلا. کہاں ہے سوہا اُس کے باپ سے بھی پتا کرواچکا ہوں مگر کچھ نہیں جانتا وہ بھی اُس کے بارے میں.
اگر وہ اُن لوگوں کے ہاتھ لگ گئی تو ہمارے لیے بہت بڑی مشکل کھڑی ہوسکتی ہے. “
ذوالفقار کے فکرمند انداز پر ہمایوں نے نفی میں سرہلایا تھا.
” سوہا ٹھیک ہے اُن کے ہاتھ نہیں لگی. اور وہ سب ٹیم ممبرز کے بارے میں انفارمیشن اکٹھی کر چکی ہے. اور سب سے اچھی بات کہ وہ بھی اُسی ٹیم کا حصہ ہے. اُن لوگوں پر ایجنسی کی طرف سے بہت سخت نظر رکھی جا رہی ہے. اِس لیے اتنے دن وہ ہم سے رابطہ نہیں کرسکی. مگر اُس کا کہنا ہے کہ موقع دیکھ کر وہ ہم سے مل کر ہمیں ساری انفارمیشن دے دے گی. “
ہمایوں کی پوری بات سنتے ذی ایس کے کے تنے اعصاب ڈھیلے پڑے تھے. اور اُس نے فخریہ انداز سے ہمایوں کی طرف دیکھا تھا. جو کام اُس کے آدمی اتنے دنوں سے نہیں کرپارہے تھے. وہ ہمایوں نے محض ایک ہفتے میں کردیا تھا.
” ہممہ ایک بار اِن لوگوں کا پتا لگ جائے پھر اِن کا جو حشر کروں گا میں. دوبارہ ایجنسی والے کوئی ٹیم بناتے ہوئے بھی ڈریں گے. “
ذوالفقار بے ہنگم انداز میں قہقہ لگاتے ہنسا تھا.
جب اُسے خوش دیکھ ہمایوں نے اپنے مطلب کی بات کرنی چاہئے تھی.
” ماہ روش کو اِس سب میں شامل کرنے کا کیا ارادہ ہے آپ کا. اُس کی معصومیت اور اُس کے چہرے کا بھولپن آپ کے لیے بہت فائدہ مند ہوسکتا ہے بابا. “
ہمایوں یہ سب کہہ کر صرف ذوالفقار کی رائے لینا چاہتا تھا.کہ وہ ماہ روش کے بارے میں کیا خیالات رکھتا ہے. ورنہ وہ خود بھی کسی صورت نہیں چاہتا تھا کہ ماہ روش اِن گھناؤنے کاموں میں شامل ہو.
ماہ روش کے ذکر پر ذوالفقار کے چہرے کا رنگ بدلہ تھا. کیونکہ ایک ماہ روش کے ساتھ اُسے اور بھی بہت سی باتیں اور لوگ یاد آگئے تھے.
” نہیں میں ماہ روش کو اِس سب میں نہیں ڈالنا چاہتا. اُس کی معصومیت اگر فائدہ دے سکتی ہے. تو اُس کی پاکیزگی اور نیک سیرت طبیعت ہمیں بہت بڑا نقصان بھی دے سکتی ہے. بیٹی ہے وہ میری چاہے اُس سے دور رہا ہوں مگر اُس کے بارے میں اتنا تو جانتا ہی ہوں.”
ذوالفقار ماہ روش کے ذکر پر نرم پڑا تھا. وہ اچھے سے سمجھ رہا تھا ہمایوں ماہ روش میں انٹرسٹ لے رہا ہے. کیونکہ ہمایوں پہلے بھی اُس سے ماہ روش کے بارے میں بات کرچکا تھا.
ہمایوں اُس کے خیالات جان کر خوش ہوا تھا. اب وہ آسانی سے ماہ روش کو حاصل کر سکتا تھا.
” جو بھی تمہارے مائینڈ میں چل رہا ہے. تم کہہ سکتے ہو مجھ سے. “
ذوالفقار نے جانچتی نگاہوں سے اُس کی طرف دیکھا تھا.
” وہ ماہ روش مجھے بہت پسند ہے… “
ہمایوں کی بات ختم ہونے سے پہلے ہی ذوالفقار زور سے ہنسا تھا.
” اِس کا مطلب جو میں سوچ رہا تھا ویسا ہی ہے. مل جائے گی ماہ روش تمہیں مگر اُس سے پہلے تمہیں میرا ایک کام کرنا ہوگا. اگر تم اُس میں کامیاب ہوئے تو ماہ روش ہمیشہ ہمیشہ کے لیے تمہاری. “
ذوالفقار جس گھٹیا انداز میں ماہ روش کے بارے میں بات کررہا تھا. کہیں سے بھی نہیں لگ رہا تھا. وہ اپنی بیٹی کے بارے میں بات کررہا تھا.
ہمایوں ذوالفقار کی بات سنتے خوشی سے پاگل ہوا تھا.
” کیا کرنا ہوگا مجھے. میں کچھ بھی کرنے کو تیار ہوں. “
ہمایوں کا بس نہیں چل رہا تھا. ابھی اُس کی شرط پوری کرکے ماہ روش کو حاصل کرلے.
” ابھی نہیں. وقت آنے پر بتاؤں گا. کچھ دیر انتظار کرنا ہوگا تمہیں. “
ذوالفقار کی اگلی بات نے اُس کی خوشیوں پر اوس پھیر دی تھی.
وہ دونوں ماہ روش کا سودہ کرتے یہ بھول گئے تھے کہ ماہ روش اب میجر ارتضٰی سکندر کے مضبوط حصار میں ہے. وہ لوگ اب اُس کا بال بھی بیکا نہیں کرسکتے تھے.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

کمرہ بلکل تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا. وہ مضبوط رسیوں میں جکڑی کرسی پر بندھی ہوئی تھی.
جب دروازہ کھلنے پر ہلکی سی پیدا ہونے والی روشنی اُسے اپنی آنکھوں میں چبتی ہوئی محسوس ہوئی تھی. اُس نے فوراً منہ پیچھے موڑ لیا تھا.
” تو کیا سوچا اب آپ نے کیپٹن سوہا. اپنے لیڈر سے غداری کرکے اِس پاک سرزمین کا قرض چکانا ہے. یا اُن درندوں کا ساتھ دیتے اپنی آخرت خراب کرنا چاہتی ہو.”
ارتضٰی کی گھمبیر آواز کمرے میں گونجی تھی.
جس پر سوہا نے اپنا جھکا کر اُٹھا کر ارتضٰی کی طرف دیکھا تھا.
اُسے ابھی تک یقین نہیں آرہا تھا کہ اپنی اصلیت سامنے آجانے کے باوجود بھی اِن لوگوں نے اب تک اُسے زندہ رکھا ہوا تھا. اور سب سے بڑی بات اُس کی عزت ابھی بھی محفوظ تھی.
اتنا اچھا سلوک تو اُن کے ہاں اپنے ساتھیوں سے نہیں کیا جاتا تھا. جتنا یہاں مجرموں سے کیا جارہا تھا. اُس کے دل میں ارتضٰی سکندر کے لیے عزت اور جذبات بڑھ گئے تھے. جو اُس کے پاس کتنی بار آچکا تھا. مگر ایک بار بھی اُس نے سوہا کی طرف غلط نگاہ سے نہیں دیکھا تھا.
” آپ کا ساتھ دینے کے بعد مجھے کیا ملے گا. اِس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ آپ لوگ مجھے زندہ رکھیں گے. یا میری عزت محفوظ رہے گی. “
سوہا جس جگہ سے آئی تھی. یہاں کے اُن سب کے اتنے اچھے رویے کے باوجود اُن پر یقین کرنا سوہا کے لیے کافی مشکل تھا.
ارتضٰی نے اُس کی بات پر طنزیا انداز میں اُس کی طرف دیکھا تھا.
” سب سے بڑی گارنٹی تمہارا ابھی بھی یہاں سہی سلامت ہونا ہے. اور آگے بھی ہر طرح کا خیال رکھنے کی گارنٹی دیتا ہوں میں تمہیں. اِس کے علاوہ اور کیا چاہئے تمہیں. “
ارتضٰی کی بات پر سوہا نے فوراً اُس کی طرف دیکھا تھا.
” میجر ارتضٰی سکندر چاہئے مجھے. مل سکتا ہے کیا. “
ارتضٰی کو اُس سے ایسی ہی کسی بات کی امید تھی اِس لیے اُس کی بات پر ایک استہزاء مسکراہٹ اُس کے چہرے پر اُبھر کر فوراً معدوم ہوئی تھی.
” ڈونٹ وری میجر صاحب جانتی ہوں میری یہ خواہش لاحاصل ہی رہے گی. کیونکہ آپ پہلے ہی کسی بہت ہی خوش قسمت انسان کو اپنا سب کچھ دے چکے ہیں.”
سوہا کی بات پر ارتضٰی کے سامنے ماہ روش کا چہرہ جگمگایا تھا. اور ایک خوبصورت سی نرم مسکراہٹ نے اُس کے ہونٹوں کا احاطہ کیا تھا.
” سوہا دو دنوں کا وقت ہے تمہارے پاس ایک بار پھر اچھے سے سوچ لو. کیونکہ اگر تم نے زرا بھی ہوشیاری کرنے یا مجھے دھوکہ دینے کی کوشش کی تو بہت عبرت ناک انجام ہوگا تمہارا. “
ارتضٰی ایک بار پھر سرد انداز میں اُسے وارن کرتا باہر نکل گیا تھا. اور سوہا نے حسرت بھری نظروں سے اُس کی چوڑی پشت کو دیکھا تھا.
ایک منتھ پہلے ارتضٰی نے اُسے یہاں قید کردیا تھا. کیونکہ جیسے ہی اُس بلڈنگ والے واقعے کی تحقیقات مکمل ہوئی تھیں. اور ارتضٰی کے سامنے سوہا کا وہ کارنامہ آگیا تھا.
جس کے بعد سوہا کا اِس طرح سب کے درمیان رہنا ارتضٰی کو کسی خطرے سے خالی نہیں لگا تھا. اُس نے سوہا کا کنٹیکٹ تو پہلے ہی اُس کے آدمیوں سے ختم کیا ہوا تھا. اب سوہا کو مکمل طور پر اپنے قبضے میں لے لیا تھا.
سوہا جو پہلے ہی ارتضٰی سکندر سے کافی مرعوب تھی. اب تو مکمل طور پر اُس کی دیوانی ہوچکی تھی.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

ماہ روش کو کوما میں گئے ڈھائی مہینے ہوچکے تھے. جن میں ایک دن بھی ایسا نہیں گزرا تھا کہ ارتضٰی اُس کے پاس نہ رہا ہو. مگر اب وہ پچھلے دو دنوں سے ماہ روش سے ملنے ہاسپٹل نہیں جا پایا تھا. کیونکہ وہ کسی بہت ضروری کام کے سلسلے میں شہر سے باہر آیا ہوا تھا. مگر وہ اندر سے بُری طرح بے چین تھا.
اُس کے دل کو ماہ روش کے بغیر کسی طرح سکون نہیں مل رہا تھا.
مگر ابھی کچھ دیر پہلے جو خبر اُسے ملی تھی. پوری طرح سے اُس کے ہوش اُڑا چکی تھی. وہ پانچ گھنٹوں کا فاصلہ تین گھنٹوں میں طے کرتا وہ بھاگتا ہوا ہاسپٹل کے اندر داخل ہوا تھا.
جیسے ہی اُس نے کمرے کے اندر قدم رکھا سامنے کے منظر نے اُس کے پیروں تلے سے زمین کھینچ لی تھی.

جاری ہے