No Download Link
Rate this Novel
Episode 19
ارتضٰی نے جیسے ہی ماہ روش کو بلڈنگ کی طرف جاتے دیکھا وہ بھی ٹائم کی پرواہ کیے بغیر اُس کے پیچھے بھاگا تھا.
بلڈنگ میں دھواں اتنا زیادہ پھیل چکا تھا کہ کچھ بھی دکھائی نہیں دے رہا تھا. ارتضٰی بہت مشکل سے دھویں کو چیڑتا آگے بڑھا. ٹائم بہت کم رہ گیا تھا مگر ارتضٰی ماہ روش کو چھوڑ کر باہر نکلنے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا. دھویں سے اُس کی آنکھیں لال ہوچکی تھیں اور کھانس کھانس کر بُرا حال ہورہا تھا. مگر اُس کی نگاہیں بے قراری سے ماہ روش کو تلاش کررہی تھیں. جب اچانک اُسے ایک طرف ماہ روش بے ہوش پڑی نظر آئی.
ارتضٰی نے ماہ روش کے قریب پہنچتے اُسے اُٹھا کر اپنے کندھے پر ڈالا تھا. ایک منٹ رہ گیا تھا اور بہت زیادہ دھویں کی وجہ سے چھت کے راستے واپس جانے پر بہت ٹائم لگنا تھا.
ارتضٰی جلدی سے بالکنی کی طرف بڑھا تھا. جہاں ماہ روش کی پھینکی گئی رسی ابھی موجود تھی. جس سے ارتضٰی نے ماہ روش کو اپنے ساتھ باندھ لیا تھا اور بالکنی سے آگے شیڈ پر آتے قدموں کو پیچھے لے جاکر ایک لانگ جمپ لیا تھا. اگلے ہی سیکنڈ وہ دوسری بلڈنگ کے شیڈ تک پہنچ چکا تھا. شیڈ سے بالکنی پر آتے وہ تیزی سے اندر کی طرف بھاگا تھا. ماہ روش کی سانسیں بہت دھیمی چل رہی تھیں کیونکہ بہت سارا دھواں اُس کے اندر جاچکا تھا.
ارتضٰی نے سیف ایریا میں داخل ہوتے وہاں روم میں ایک طرف رکھے صوفے پر ماہ روش کو لیٹا دیا تھا. ماہ روش کی نبض چیک کرتے ارتضٰی کی فکرمندی میں اضافہ ہوا تھا. وہ بہت مدھم چل رہی تھی.
ارتضٰی نے اُس کے ہاتھوں کو پکڑ کر اپنے ہاتھوں سے مسلا مگر ماہ روش ایسے ہی بے سُد لیٹی ہوئی تھی. جب ارتضٰی نے اپنا آخری ہربہ آزماتے ہوئے. ماہ روش کی مدھم سے مدھم ہوتی سانسوں کو نارمل کرنے کے لیے اُس کے چہرے کے قریب ہوا.
ماہ روش کے دونوں ہونٹوں کو نرمی سے تھام کر جدا کرتے ارتضٰی اُن کے اُوپر جھک گیا تھا اور اپنی سانسیں ماہ روش کے اندر اُتار دی تھیں. تھوڑی دیر اِسی پوزیشن میں رہتے ارتضٰی کو ماہ روش کے وجود میں کچھ ہلچل پیدا ہوتی محسوس ہوئی تھی. ارتضٰی اُس کے نرم ہونٹوں کو آزاد کرتا پیچھے ہٹا تھا. بے ہوشی میں بھی ارتضٰی کے لمس پر ماہ روش کے چہرے پر ایک سُرخی سی پھیلی ہوئی تھی.
ماہ روش نے کھانستے ہوئے ہوش میں آتے آنکھیں کھولی اور اپنے اُوپر تقریباً جھکے ارتضٰی سکندر کو دیکھا تھا. ماہ روش کو نارمل ہوتا دیکھ ارتضٰی کی کب سے اٹکی سانسیں معمول پر آئی تھیں.
ارتضٰی ماہ روش کو ٹھیک ہوتا دیکھ وہاں سے اُٹھ گیا تھا.
ماہ روش کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ ابھی تھوڑی دیر پہلے ارتضٰی واقعی اُس کے اتنے قریب تھا یا یہ صرف اُس کا وہم تھا. مگر ہونٹوں پر کسی کا دہکتا پرشدت لمس ابھی بھی وہ محسوس کر سکتی تھی.
اُسے یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ وہ زندہ بچ گئی ہے. اُس نے خود سے رُخ موڑ کر کچھ فاصلے پر کھڑے اپنے ستمگر کی طرف دیکھا تھا. جو اپنی جان خطرے میں ڈال کر اُسے وہاں سے نکال لایا تھا.
ارتضٰی نے زیمل کو کال کردی تھی کہ آکر اپنی دوست کو سنبھالو. زیمل کے روم میں قدم رکھتے ہی ارتضٰی بنا ماہ روش کو دیکھے کمرے سے نکل آیا تھا کہ پلٹ کر دیکھنے سے جیسے پتھر کے ہوجانے کا خطرہ تھا. ارتضٰی کی بے رُخی پر ایک بےمول آنسو ماہ روش کی آنکھ سے ٹوٹ کر گرا تھا مگر وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ ارتضٰی اُس کی جان بچانے کے لیے اُس کو جو تھوڑی دیر کا اپنا قرب بخشا تھا اُس پر اب اندر ہی اندر خود سے جنگ لڑ رہا تھا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
“کیوں پاگل ہوجاتا ہوں میں اُسے تکلیف میں دیکھ کر. کیوں بھول جاتا ہوں دشمن ہے وہ میری. نفرت ہے مجھے اُس سے شدید نفرت. “
ارتضٰی بُری طرح پنچنگ بیگ کو ہٹ کرتا غصے سے کھولتے دماغ کو نارمل کرنے کی کوشش کر رہا تھا.
” اگر اُس کی جگہ کوئی اور لڑکی ہوتی تو کیا میں اُس کے اتنے قریب جاتا. نہیں کبھی بھی نہیں. ایسی کونسی کشش ہے جو مجھے اُس کی طرف کھینچتی ہے اور میں ہر بات بھلائے اُس کے قریب چلا جاتا ہوں. نہیں ارتضٰی سکندر تم اتنے کمزور نہیں ہوسکتے کہ اُس لڑکی کے دھوکے میں آکر اپنے اور اپنے خاندان پر ہوئے ظلم کو بھول جاؤ نہیں ماہ روش ذوالفقار تم میری محبت کے نہیں صرف اور صرف نفرت کے قابل ہو. “
ارتضٰی کے مکوں کی سپیڈ بیگ پر تیز سے تیز ہوتی جا رہی تھی. وہ اپنے اندر کا سارا غصہ سارا غبار اِس پر نکال کر پرسکون ہوجانا چاہتا تھا. مگر شاید ابھی سکون اُسے میسر نہیں تھا. کیونکہ جس ہستی سے اُسے سب زیادہ سکون ملنا تھا ارتضٰی اُس کو اپنے سامنے بھی نہیں دیکھنا چاہتا تھا.
کتنے ہی گھنٹے اِسی کام میں مصروف آخر کار تھک ہار کر وہ وہاں سے ہٹ گیا تھا.
ارتضٰی نے کل کے مشن کے بارے میں بات کرنے کے لیے سب کو میٹنگ کے لیے بلایا تھا. ماہ روش اچھے سے جانتی تھی کل کی اُس سے سرذد ہوئی لاپرواہی پر آج اُس کی خیر نہیں تھی.
ارتضٰی نے میٹنگ روم میں قدم رکھا تو وہاں پہلے ہی سب لوگ موجود تھے. ارتضٰی کی ایک بے اختیار نظر ماہ روش کی طرف اُٹھی تھی. جو زیمل کے ساتھ خاموشی سے سر جھکائے کھڑی تھی.
” کل پوری ٹیم نے مل کر جس طرح کام کیا اور اتنی بڑی تباہی کو روک لیا وہ قابلے تحسین ہے. اگر ہم آگے بھی اِسی طرح مل کر پوری بہادری اور لگن سے کام کریں تو انشاءﷲ بہت جلد ذی ایس کے ہمارے شکنجے میں ہوگا.”
ارتضٰی کی بات پر سب نے اثبات میں سر ہلایا تھا.
” مگر آگے بڑھنے سے پہلے میں ایک بات ضرور کہنا چاہوں گا کہ مجھے اپنی ٹیم میں ایسے لوگ بلکل بھی نہیں چاہئیں جو انسانی جانوں کے ساتھ لاپرواہی کریں. جو کہ ہماری ایک ٹیم ممبر نے کل کے مشن میں کی ہے. “
ارتضٰی نے ایک سرد نگاہ ماہ روش پر ڈالی تھی.
” لیکن میجر ارتضٰی اِنہوں نے اپنی جان پر کھیل کر بچایا بھی تو ہے نا اُس بچے کو. “
جاذل نے ماہ روش کی سائیڈ لینی چاہی تھی مگر یہ بات ارتضٰی کو مزید تپا گئی تھی.
جنرل یوسف سمیت ہر ایک اُس کی وکالت کیوں کرتا تھا. جبکہ ارتضٰی کو ماہ روش کی معصومیت صرف ایک دھوکہ لگتی تھی.
” میجر جاذل اُس بچے پر اگر کیپٹن سوہا کی نظر نہ پڑتی تو تم جانتے ہو کیا ہوسکتا تھا. بچے کو بچانے تو جانا تھا غلطی جو تھی. “
ارتضٰی کے اتنے سخت انداز پر زیمل نے پہلو بدلہ تھا. اُسے اِس وقت میجر ارتضٰی کی باتوں پر بہت غصہ آرہا تھا. بجائے ماہ روش کی بہادری پر اُس کی حوصلہ افزائی کرنے کے وہ اُسے بُری طرح ڈانٹ رہے تھے.
“کیپٹن ماہ روش تمہیں زرا بھی اندازہ ہے تمہاری اِس ایک بے وقوفی کی وجہ سے ہمارے مشن کو کتنا بڑا خطرہ ہوسکتا تھا.”
میجر ارتضٰی کی آنکھوں سے اُس کے لیے نفرت کے شرارے پھوٹ رہے تھے. اگر چند اہم وجوہات نہ ہوتیں تو وہ اِس لڑکی کو اپنی ٹیم سے نکال باہر کرتا جس کی وہ شکل دیکھنا بھی پسند نہیں کرتا تھا.
“سر مجھے اُس وقت جو ٹھیک لگا میں نے کیا. لیکن پھر بھی آپ میرے اُس عمل پر جو سزا دینا چاہیں مجھے قبول ہے.”
ماہ روش سر جھکائے بولی کیونکہ اُس میں ہمت نہیں تھی. اُس شخص کی آنکھوں میں اپنے لیے نفرت دیکھنے کی جسے اُس نے زندگی میں سب سے زیادہ چاہا تھا.
“تم جیسی نا اہل انسان کی اتنی امپورٹنٹ فیلڈ میں کوئی جگہ نہیں ہے اور میری ٹیم میں تو بلکل بھی نہیں. “
میجر ارتضٰی کی بات پر ماہ روش نے اپنی سرخ آنکھیں اُوپر اُٹھائی تھیں. اور نفی میں سر ہلاتے ملتجی انداز میں سامنے موجود سنگدل شخص کی طرف دیکھا تھا. جو اُسے اُن ناکردہ گناہوں کی سزا دے رہا تھا جن کے بارے میں ابھی وہ ٹھیک سے جانتی بھی نہیں تھی.
وہاں موجود باقی ٹیم ممبرز خاموشی سے ارتضٰی کا وہی جنونی رُوپ دیکھ رہے تھے جو صرف کیپٹن ماہ روش کے لیے مختص تھا. وہ نہیں جانتے تھے اِن دونوں کے درمیان ایسی کیا وجہ ہے کہ میجر ارتضٰی ماہ روش کی چھوٹی سے چھوٹی غلطی پر اُسے ایسے ہی ذلیل کرکے رکھ دیتا تھا. لیکن اُن میں ایک ایسی فرد بھی تھی جسے یہ سب دیکھ کر بہت خوشی محسوس ہورہی تھی.
سوہا کل اِن دونوں کو زندہ دیکھ اور اپنے پلان کے فیل ہونے پر بہت زیادہ غصے میں تھی. مگر اِس وقت کیپٹن ماہ روش کی انسلٹ پر اُسے بہت سکون مل رہا تھا.
ماہ روش نے ارتضٰی کو کچھ کہنا چاہا تھا مگر ارتضٰی اُس کی مزید کوئی بھی بات سنے بغیر ایک امپورٹنٹ کال آنے پر وہاں سے اُٹھ گیا تھا.
ماہ روش بھی بنا کسی سے بات کیے وہاں سے اُٹھ آئی تھی. اُس کا دل آج بہت اُداس تھا اور دادو کی بہت یاد آرہی تھی. ماہ روش کا شدت سے دل چاہا تھا کہ کاش اُسے اپنی ماں کا پتہ چل جائے تو وہ اُن کی گود میں سر رکھ کر اپنے اندر کے تمام غم اور دکھ بھلا دے.
لیکن وہ نہیں جانتی تھی ابھی اُس کے لیے بہت سی آزمائشیں باقی تھیں.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
” جاذل دیکھو شہر میں کتنی پیاری پیاری لڑکیاں ہیں. کوئی تو پسند کر لو.”
غزالہ اور حمیرا ڈرائیور کے ساتھ شہر شاپنگ کے لیے آئی تھیں. جب اُن کے بے حد اسرار پر جاذل اُن کے ساتھ آگیا تھا. لیکن مال میں موجود ہر خوبصورت لڑکی کو دیکھ اُسے بھابھی بنانے کی خواہش اُن کے دل میں جاگ اٹھتی تھی.
” آپ لوگ چپ کرکے شاپنگ کرو ورنہ میں نے یہیں سے واپس لے جانا ہے. “
جاذل کی دھمکی پر وہ منہ بسور کر رہ گئی.
” آؤچ. دکھائی نہیں دیتا کیا. “
جاذل اُن دونوں کی طرف دیکھ کر بات کرتے سامنے سے آتی زیمل کو نہ دیکھ پایا تھا جس کے نتیجے میں ایک زور دار ٹکر ہوئی تھی. جاذل نے زیمل کا بازو تھام کر اُسے گرنے سے بچایا تھا. زیمل جاذل کو دیکھے بغیر غصے سے بولی.
” آئم سوری زیمل میں نے دیکھا نہیں آپ کو. “
جاذل نے فوراً اپنی غلطی کا اعتراف کیا تھا.
” اٹس اوکے. غلطی میری بھی تھی. “
جاذل کو سامنے دیکھ زیمل ہولے سے بولی
زیمل کے انداز پر جاذل نے حیرت سے اُس کی طرف دیکھا تھا. جیسے یقین نہ آیا ہو کہ یہ بات زیمل نے ہی کہی ہو.
غزالہ اور حمیرا کے ساتھ ساتھ سلمٰہ بیگم نے بھی بہت غور سے آمنے سامنے کھڑے جاذل اور زیمل کو دیکھا تھا. جو ایک ساتھ کھڑے بہت اچھے لگ رہے تھے.
” بیٹا آپ لوگ جانتے ہو ایک دوسرے کو. “
سلمہ بیگم کو یہ روشن پیشانی اور چوڑے سینے والا نوجوان بہت پسند آیا تھا.
” جی آنٹی ہم کولیگز ہیں. “
جاذل نے نرم مسکراہٹ کے ساتھ اُنہیں جواب دیا.
” کیسی ہیں آپ زیمل. میں جاذل کی بڑی سسٹر ہوں. جاذل سے بہت سنا تھا آپ کے بارے میں آج مل کر بہت اچھا لگا.”
غزالہ کو بھی زیمل بہت اچھی لگی تھی اور سب سے اچھی بات جو اُس نے نوٹ کی تھی وہ جاذل کو مسکرا کر زیمل کو دیکھنا تھا. آج تک اُنہوں نے جاذل کو کبھی کسی لڑکی کے ساتھ اِس طرح بات کرتے نہیں دیکھا تھا.
غزالہ کی بات پر جہاں زیمل کو حیرت ہوئی وہیں جاذل نے اپنی بہنوں کو اچھی خاصی گھوری سے بھی نوازا تھا.
” تھینکیو مجھے بھی بہت اچھا لگا.”
زیمل رسماً مسکرائی
” بیٹا آپ لوگ آؤ نا کبھی ہمارے گھر. مجھے بہت اچھا لگےگا.”
” جی جی آنٹی ہم ضرور آئیں گے. “
جاذل سے پہلے ہی غزالہ جلدی سے بول پڑی. جیسے اُسے یقین ہو کہ جاذل نے منع کردینا ہے.
جبکہ جاذل اور زیمل حیران پریشان سے اُن لوگوں کی پھرتیاں چیک کررہے تھے.
” ماما اب چلیں ہم دیر ہورہی تھی ہمیں. “
زیمل نے اُنہیں اُن کی تھوڑی پہلے مچائی جلدی کی طرف دھیان دلایا. کیونکہ جس طرح وہ جاذل کو دیکھ رہی تھیں اُسے لگ رہا تھا ابھی پکڑ کر اُس سے نکاح پڑھوا دیں گی.
سلمہ بیگم اور غزالہ ایک دوسرے کا نمبر ایکسچینج کرتیں گھر آنے کی یادہانی کرواتیں وہاں سے ہٹ گئی تھیں.
“آپا یہ کیا حرکت تھی.”
جاذل کڑے تیور لیے اُن کی طرف مڑا.
” کونسی حرکت نمبر ہی تو لیا ہے میں نے. “
جاذل کا اشارہ سمجھتے ہوئے بھی وہ انجان بنی.
” آپ نے زیمل سے جھوٹ کیوں بولا کہ میں اُس کی باتیں کرتا ہوں. میں نے تو آج تک نام بھی کبھی نہیں لیا اُس کا. “
” یہی تو غلط کیا تم نے اتنی پیاری سی کولیگ ہے تمہیں پسند بھی ہے. ہم ایسے ہی پاگلوں کی طرح لڑکیاں ڈھونڈتی پھررہی ہیں. یہ لڑکی تمہارے فیلڈ کی ہونے کے ساتھ ساتھ تمہارے ٹکر کی بھی ہے. “
غزالہ نے جاذل کی جھنجھلاہٹ کو کسی خاطر میں نہیں لایا تھا.
” واٹ پسند کرتا ہوں میں زیمل کو. خدا کا خوف کریں آپا کچھ بھی بول رہی ہیں. وہ صرف میری کولیگ ہے بس. مگر آپ سے بات کرنے کا فائدہ نہیں آپ نے کونسا سمجھنی ہے میری بات. چلیں جلدی کریں آپ لوگ ایک گھنٹے کا وقت ہے آپ کے پاس. “
جاذل افسوس سے سر ہلاتے بولا اور ہمیشہ کی طرح اُنہیں فکس ٹائم دیتا آگے بڑھ گیا. جانتا تھا اگر تھوڑی دیر یہی ٹاپک رہا تو اُس کی بہنوں نے شادی تک پہنچ جانا تھا.
” ویسے آپا بھابھی پسند بڑی آئی ہیں مجھے. جس طرح بھائی اُنہیں دیکھ رہے تھے دال میں کچھ تو کالا ضرور لگتا ہے. “
حمیرا کافی دیر سے ساری باتیں نوٹ کرتی بولی.
” آہستہ بولو. پسند تو مجھے بھی بہت آئی ہے. لیکن اگر ہمارے اُس بگڑے نواب ذادے نے بھابھی کا لفظ سن لیا تو دونوں کی خیر نہیں ہوگی. “
وہ دونوں مسکراتیں جلدی سے آگے چلتے جاذل کے پیچھے بڑھیں.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
ماہ روش اپنے گھر جانے کے بجائے دادو کے گھر آگئی تھی. اور سیدھا دادو کے کمرے میں آتے اُن کے بیڈ پر آکر لیٹ گئی تھی. تکیے پر سر رکھے وہ اُن کی آغوش محسوس کرنا چاہتی تھی جنہوں نے اپنے ہوتے اُسے ہر غم سے بچا کر رکھا ہوا تھا. نجانے کتنے ہی پل ایسے ہی گزر گئے تھے جب ماہ روش کا فون بجا تھا.
کال اٹینڈ کرکے مقابل کی بات سنتے ماہ روش کے چہرے پر مسکراہٹ بکھری تھی.
” جی انکل میں وہیں پر موجود. آپ کا ویٹ کر رہی ہوں آپ پلیز جلدی سے آجائیں. “
ماہ روش کی بے صبری پر جنرل یوسف مسکرائے تھے.
ٹھیک پندرہ منٹ بعد جنرل یوسف ماہ روش کے سامنے تھے.
” اِس وقت اپنی پیاری سی بیٹی کے ہاتھ کی بنی چائے پینے کا بہت دل کررہا ہے. مگر لگتا ہے ہماری بیٹی آج چائے پلانے کے موڈ میں نہیں ہے. “
ماہ روش کی بے تاب نظریں اپنے ہاتھ میں پکڑی فائل پر نوٹ کرتے وہ مسکراتے ہوئے بولے.
” او آئم سوری انکل میں ابھی بنا کر لاتی ہوں. “
ماہ روش شرمندہ سی ہوتی جلدی سے اُٹھی تھی.
کچھ دیر بعد چائے بنا کر اُن کے آگے ٹیبل پر رکھتی سامنے پڑے صوفے پر آبیٹھی تھی.
” انکل آپ آج مجھے سب کچھ بتائیں گے نا. پلیز مجھے اپنی ماما کے بارے میں جاننا ہے. “
ماہ روش کے ہر ہر انداز سے بے چینی اور بے قراری ٹپک رہی تھی. اُس کا بس نہیں چل رہا تھا. جنرل یوسف کے ہاتھ سے فائل لے کر چند سیکنڈز کے اندر سب کچھ جان لے.
” جی بیٹا آج میں آپکی زندگی کی تمام حقیقت آپ کے سامنے رکھ دوں گا مگر اُس سے پہلے آپ کو مجھ سے ایک وعدہ کرنا ہوگا. “
جنرل یوسف کی بات پر ماہ روش نے ناسمجھی سے اُن کی طرف دیکھا.
” کیسا وعدہ میں سمجھی نہیں انکل. “
” تم حقیقت جاننے کے بعد میجر ارتضٰی سکندر کو کچھ نہیں بتاؤ گی. چاہے آگے جیسے بھی حالات پیدا ہوجائیں. جب تک میں نہ کہوں تم اُس سے کچھ نہیں کہو گی. “
ماہ روش نے اُلجھن بھرے انداز میں اُن کی طرف دیکھا.
” مگر انکل میرے ماضی سے میجر ارتضٰی کا کیا تعلق ہے. “
ماہ روش کی بات پر جنرل یوسف مسکرائے.
” بہت گہرا تعلق ہے.”
اُن کی باتوں سے ماہ روش کی حیرانگی میں مزید اضافہ ہوا تھا. اور ساتھ میں گھبراہٹ بھی بڑھی تھی.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
” لگتا ہے بھول رہی ہو تم ہمیں. ایک ملاقات تو کرنی پڑے گی تم سے. “
ریحاب کے کافی دیر بعد کال اُٹھانے پر غفور دھمکی آمیز انداز میں بولا.
” نن نہیں ایسا کچھ نہیں ہے. میں تھوڑی مصروف تھی اِس لیے کال نہیں دیکھ سکی. “
ریحاب نے فوراً بہانہ گھڑا تھا. ورنہ دل تو کررہا تھا موبائل اُٹھا کر دیوار سے دے مارے.
” دیکھو لڑکی یہ بہانے تم اُس کیپٹن کے آگے بناؤ تو زیادہ اچھا ہوگا. اور تمہیں میری بات آرام سے سمجھ نہیں آتی کیا. میں نے تم سے کہا تھا جلد از جلد نکاح ہوجانا چاہئے. مگر تم ابھی تک کچھ نہیں کرسکی.”
غفور غصے سے بھڑکا تھا.
