No Download Link
Rate this Novel
Episode 34
ماہ روش کا بیڈ بلکل خالی پڑا تھا. اور اُس کے سیکورٹی گارڈز ندامت سے سرجھکائے وہاں موجود تھے.
ماہ روش کو وہاں نہ پاکر ارتضٰی کو ایک پل کے لیے اپنی سانسیں رُکتی ہوئی محسوس ہوئی تھیں. اچانک جو خبر اُسے ملی تھی کہ ماہ روش ہاسپٹل سے غائب ہوگئی ہے. اُس کے حواس چھیننے کے لیے کافی تھی.
” کہاں ہے ماہ روش. “
ارتضٰی زور سے دھاڑا تھا. اُس کی دہشت پر ایک پل کے لیے تو وہ ہٹے کٹے گارڈ بھی کانپ گئے تھے.
جب ارتضٰی نے نوٹ کیا تھا کہ یہاں زیمل, جاذل, ارحم کے سمیت گھر کا کوئی فرد موجود نہیں تھا. اور یہی ایک لمحہ لگا تھا. اُسے سارا معاملہ سمجھنے میں.
اُس نے موبائل نکالتے کنٹرول روم میں کال ملاتے اِس کمرے میں ماہ روش کی سیکیورٹی کے لیے لگوائے اپنے سپیشل کیمرے کی پچھلے دو دنوں کی فوٹیج بھیجنے کو کہا تھا. اُسے اِس وقت کسی پر بھی کوئی ٹرسٹ نہیں تھا. اِس لیے اُس نے یہ کیمرہ سب سے خفیہ طور پر لگوایا تھا. یہاں تک کے جاذل سمیت گھر کے کسی فرد کو اِس بارے میں کوئی علم نہیں تھا.
ڈاکٹرز کو بلوا کر ارتضٰی نے اچھے سے اُن کی خبر لی تھی. جس پر ایک سینئر ڈاکٹر نے ڈرتے ہوئے جو بات اُسے بتائی تھی. ارتضٰی کو لگا تھا اُسے زندگی کی سب سے بڑی خوشی مل گئی ہو. اُس کی ماہ روش ہوش میں آچکی تھی. وہ ٹھیک ہوچکی تھی.
ارتضٰی نے ڈاکٹرز کو واپس بھیجتے اپنے موبائل پر آئی ویڈیو پلے کی تھی. اور جیسے جیسے وہ فوٹیج دیکھتا گیا تھا. اُس کے چہرے پر مسکراہٹ بکھرتی چلی گئی تھی.
ماہ روش کوما سے باہر آچکی تھی. اور سہارے پر اُٹھ کر بیٹھ بھی رہی تھی. ماہ روش کو صحیح سلامت دیکھ ارتضٰی کے اندر تک سکون اُتر گیا تھا.
ماہ روش کو پرسوں ہوش آیا تھا اور ارتضٰی کو کسی نے بتانا گوارا ہی نہیں کیا تھا. آج بھی اُس کے سختی سے پوچھنے پر ایک سیکیورٹی اہلکار نے بتایا تھا.
ارتضٰی کو غصہ تو بہت آرہا تھا. مگر پھر نہ بتانے کی وجہ سوچتے وہ کھل کر ہنسا تھا. اُس کی بیگم صاحبہ اُس سے ناراض تھیں. اُس سے کسی صورت ملنا نہیں چاہتی تھیں. اور تمام گھر والوں کو بھی اپنی ٹیم میں شامل کر لیا تھا.
ارتضٰی کی گالوں پر موجود گڑھے اُس کے مسلسل مسکرانے پر آج بہت دنوں بعد اِس طرح واضح ہورہے تھے. جن کی ماہ روش دیوانی تھی.
ارتضٰی فوراً گھر کے لیے نکلا تھا. جہاں اُس کی زندگی موجود تھی. جسے محسوس کرنے کے لیے وہ بُری طرح تڑپ رہا تھا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
” میری جان تھوڑا سا اور پی لو. اتنے سے بھلا کیا ہوگا. ابھی میڈیسن بھی لینی ہیں. “
زینب بیگم ماہ روش کے پاس بیٹھی اُسے سوپ پلانے میں ہلکان ہورہی تھیں. باقی سب بھی وہیں اُس کے روم میں موجود تھے. زیمل تو اُس کے ہوش میں آنے کے بعد سے اُس کے پاس ہی تھی. ارحم بھی کئی چکر لگا چکا تھا.
ماہ روش اپنے آس پاس اتنی محبتیں دیکھ خود پر رشک کررہی تھی. وہ نہیں جانتی تھی یہ حادثہ اُسے اپنوں کے اتنے قریب لے آئے گا.
زینب اور ناہید بیگم تو اُس کے واری صدقے جارہی تھیں. اُن کا بس نہیں چل رہا تھا کہ اُسے پلکوں پر بیٹھا کر رکھیں.
ماہ روش کے واپس ملنے اور زینب کو خوش دیکھ سب لوگ بہت خوش تھے.
مگر سب لوگ ارتضٰی کا ردعمل سوچ کر اندر سے تھوڑا ڈرے بھی ہوئے تھے. کیونکہ آج تیسرا دن تھا ماہ روش کو ہوش میں آئے. لیکن اُس کی ضد پر کسی نے ارتضٰی کو خبر نہیں کی تھی.
ماہ روش کو سب سے ارتضٰی کی دیوانگی اور پاگل پن کا پتا چلا تھا. مگر وہ کسی صورت بھی اِن سب باتوں پر یقین نہیں کر رہی تھی کہ ارتضٰی سکندر اُسے اتنی شدت سے چاہتا ہے. اُس کے مطابق وہ ارتضٰی کے لیے بلکل بھی اہمیت نہیں رکھتی تھی.
ہاں یہ ضرور ہوسکتا تھا کہ وہ اُس سے ہمدردی کے ناطے اور ماہ روش سے سامنے آنے والے اپنے رشتے کی وجہ سے کچھ بدلہ ہو مگر وہ سب ہرگز محبت اور دیوانگی نہیں ہوسکتی.
کیونکہ ارتضٰی کے مطابق وہ ایک غدار کی بیٹی تھی. جو کبھی بھی کسی بھی وقت اُسے دھوکہ دے سکتی تھی. تو اب کیسے وہ اُسے قبول کرسکتا تھا. ماہ روش کو لگ رہا تھا. یہ سب صرف اپنے گھر والوں کی خوشی کی خاطر کررہا ہے.
” ماما بس. پلیز اگر آپ لوگ اسی طرح مجھے کھلاتے رہے تو بیڈ سے اُٹھنے تک میں نے بہت موٹا ہوجانا ہے.”
ماہ روش کے منہ بسورنے پر زینب بیگم نے محبت پاش نظروں سے دیکھتے آگے ہوکر اُس کا ماتھا چوم لیا تھا. اُن کی نظروں کی پیاس بجھ ہی نہیں رہی تھی.
” بھابھی فکر مت کریں آپ. بھیا پھر بھی آپ سے شادی کرلیں گے. “
منیزہ نے اُسے چھیڑنے کے لیے جان بوجھ کر بھابھی کا لفظ استعمال کیا تھا. جب ماہ روش کا دل اُس دشمنِ جاں کے ذکر پر ہی زور سے دھڑکنے لگا تھا.
اُسے اب سب کی باتیں جھوٹ ہی لگ رہی تھیں. کیونکہ ہوش میں آئے اُسے آج تیسرا دن تھا اور میجر ارتضٰی سکندر نے اُس کی کوئی خیر خبر نہیں لی تھی.
” مجھے نہیں کرنی شادی وادی کسی بھی کھڑوس سے. “
ماہ روش ناہید بیگم کے کندھے پر سر رکھے پیچھے ہوئی تھی.
جب اُس کے کھڑوس کہنے پر وہاں موجود تمام نفوس کے چہروں پر مسکراہٹ بکھر گئی تھی.
” نہیں پھوپھو ہمارے چاچو تو بہت اچھے ہیں. ہاں کبھی کبھی غصہ کرتے ہیں لیکن اگر آپ اُن کو پیاری سی کِسی کرو گی تو وہ بلکل ٹھیک ہوجائیں گے. میں اور ہادی بھی یہی کرتے ہیں. “
طلحہ بہت ہی سمجھداری سے اُسے بتا رہا تھا.
اُس کی بات سن کر جہاں ماہ روش خفت سے سُرخ ہوئی تھی. وہیں باقی سب کا چھت پھاڑ قہقہہ گونجا تھا.
جب اچانک باہر سے ایک ملازمہ بھاگتی ہوئی اندر داخل ہوئی تھی.
” وہ بیگم صاحبہ ابھی مین گیٹ پر موجود گارڈ نے کال کی ہے کہ ارتضٰی سر گھر کے اندر داخل ہوچکے ہیں.
اُس کی بات پر ماہ روش کے ساتھ ساتھ باقی سب کا بھی رنگ اُڑا تھا.
” اوہ نو لگتا ہے ارتضٰی سر کو پتا چل چکا ہے. ورنہ اُنہوں نے تو ابھی دو دن مزید وہاں سٹے کرنا تھا. “
زیمل پرسوچ انداز میں بولی.
” ماما مجھے اُن سے نہ ملنا ہے اور نہ ہی کوئی بات کرنی ہے. آپ پلیز اُنہیں یہاں مت آنے دیں. “
ماہ روش دل میں اُٹھتے شور کو دباتی گھبرائے لہجے میں بولی.
سب لوگ ہی اُٹھ کر باہر جاچکے تھے. سوائے زیمل کے. تاکہ ارتضٰی کو اِس بات پر شک نہ ہو کے ماہ روش اِس گھر میں ہی ہے.
مگر وہ لوگ یہ نہیں جانتے تھے کہ آگے بھی ارتضٰی سکندر تھا جس کو بے وقوف بنانا آسان نہیں تھا.
ماہ روش نے زیمل سے کہتے روم کو اندر سے لاک کروا دیا تھا. تاکہ اگر ارتضٰی وہاں آنا بھی چاہیے تو نہ آسکے.
اُس کی معصوم سی احتیاطی تدابیر پر زیمل مسکرائی تھی.
” ماہی یہ بچکانہ حرکتیں کیوں کررہی ہو. تمہیں کیا لگتا ہے تم میجر ارتضٰی سکندر کو روک پاؤ گی اپنے پاس آنے سے.
یا خود رہ پاؤ گی اُن کے بغیر. “
زیمل کی بات پر دو موٹے آنسو ٹوٹ کر ماہ روش کی گالوں پر جاگرے تھے. اُسے خود پر غصہ آرہا تھا کیوں اُس کا دل اُس ستمگر کے معاملے میں اُس سے بے وفائی کر جاتا تھا. اُس کے اتنے ناروا سلوک کے باوجود دل اُسی کا تمنائی تھا.
کیوں وہ اُس کی طرح سخت دل نہیں ہوسکتی تھی.
” وہ مجھ سے محبت نہیں کرتے زیمل صرف اپنی فیملی کی خوشی کی خاطر مجھے قبول کرنے کی بات کررہے ہیں.
اور پہلے ٹھیک ہی تو کہتے تھے وہ. مجھ جیسی ناجائز اور ایک ملک فروش درندے کی چھاؤں میں پلنے والی لڑکی کو اپنانا کسی بھی شریف انسان کے لیے بہت مشکل ہے. میں چاہتی تھی. وہ پورے دل سے مجھے اپنائیں ایسے مجبوری میں نہیں. “
ماہ روش کی بات پر زیمل گہرا سانس بھر کر رہ گئی تھی. اب اُسے اِس سب پر یقین ارتضٰی کی اپنے لیے چاہت دیکھ کر ہی آنا تھا.
ارتضٰی نے جیسے ہی ڈرائنگ روم میں قدم رکھا وہاں سب لوگ نارمل انداز میں ایک دوسرے سے باتوں میں مصروف تھے.
” ماہ روش کہاں ہے.”
بغیر کوئی اور بات کیے ارتضٰی نے سپاٹ لہجے میں ایک ہی بات پوچھی تھی.
” ہمیں نہیں معلوم. “
زینب نے بھی اُسی کے انداز میں جواب دیا تھا.
” آپ لوگ ابھی تک. ماہ روش کے ہوش میں آنے کی خبر مجھ سے چھپا کر جو غلطی کرچکے ہیں. اُسے مزید مت بڑھائیں. آپ سب کے لیے بہتر ہوگا. “
ارتضٰی مٹھیاں بھینچے سرد لہجے میں بولا.
” اوہ تو لگتا ہے. میجر صاحب ہمیں دھمکیاں دے رہے ہیں. جو کرنا ہیں کر لیں ہم نہیں ڈرتے آپ سے. ماہ روش ہماری بیٹی ہے. اب دوبارہ اُسے آپ کے حوالے کرکے ہم اپنی معصوم بیٹی پر ظلم نہیں کرسکتے. “
ناہید بیگم کو ارتضٰی کی ماہ روش کے لیے اتنی تڑپ اور محبت بہت اچھی لگ رہی تھی. اُن کے بیٹے کو اتنی تکلیفوں کے بعد فائنلی اب سکون ملنے والا تھا. اُس کی محبت ملنے والی تھی.
” اوہ رئیلی تو آپ سب لوگوں کو کیا لگتا ہے. اِس طرح اُسے مجھ سے دور رکھ پائیں گے. آرام سے آپ سب پیچھے ہٹ جائیں ورنہ میں اپنی بیوی کو آپ سب سے چھین کر لے جاؤں گا.”
ارتضٰی نے اُنہیں دوبدو جواب دیا تھا. جو سب اُس کے اور ماہ روش کے درمیان موجود اُس کے صبر کو آزما رہے تھے.
” ہماری بیٹی خود تم سے نہیں ملنا چاہتی. اُس کا سختی سے آرڈر ہے کہ کوئی بھی کھڑوس انسان اُس کے آس پاس بھی نظر نہ آئے. “
چچی کی بات سنتے ارتضٰی اپنا سخت انداز بھولتا دل سے مسکرایا تھا. تو اِس کا مطلب اُس کی معصوم سی زندگی اُس سے ناراض تھی. اور یہ سب اُسی کی مرضی سے ہوا تھا.
ارتضٰی کو ہنستے مسکراتے دیکھ گھر کا ہر فرد خوش ہوا تھا. اُس کے سنجیدہ چہرے کے باوجود اُس کی آنکھوں سے خوشی چھلک رہی تھی.
” تو اِس کا مطلب آپ لوگ میری بیوی کو. میرے حوالے نہیں کریں گے. “
ارتضٰی نے سوالیہ انداز میں اپنے تمام فیملی ممبرز کی طرف دیکھا تھا. جن پر چند دنوں کے اندر ہی ماہ روش کی دل موہ لینے والی شخصیت کا جادو چل چکا تھا. وہ تھی ہی اتنی پیاری اور اچھی کے کیسے نہ قریب ہوتے وہ سب اُس کے.
” جی بلکل. اور ہاں آپ اپنی شادی کو جاری رکھیں کسی پر ترس کھا کر اُسے ختم کرنے کی ضرورت نہیں ہے.”
زینب بیگم کی بات پر ارتضٰی کا قہقہہ بے ساختہ تھا.
وہ اچھے سے سمجھ گیا تھا یہ کس کے الفاظ ہیں.
” اوکے آپ سب نے جو کرنا تھا کر لیا. اب جو میں کروں گا اُس پر آپ میں سے کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہئے.
اور ہاں میری شادی کی تیاریاں جو روک دی گئی تھیں. وہ دوبارہ سے شروع کر دی جائیں. کیونکہ اب میں کسی کی خاطر زیادہ ویٹ نہیں کرسکتا.”
ارتضٰی اُن سب کو مصنوعی دھمکی دیتے آخر میں آنکھوں میں شرارت لیے بولتا اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا تھا.
کیونکہ ناہید بیگم نے اُسے آنکھوں سے اِس وقت ماہ روش سے نہ ملنے کی درخواست کی تھی. اور باقی سب کا انداز بھی کچھ ایسا ہی تھا کیونکہ ماہ روش نے نور پیلس میں آنے کی شرط بھی یہی رکھی تھی کہ وہ لوگ ارتضٰی کو اُس کے سامنے بھی نہیں آنے دیں گے.
جب اُن سب کی ریکویسٹ پر ارتضٰی نے دل پر پتھر رکھتے ابھی ماہ روش کی طرف جانے کا ارادہ ترک کردیا تھا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
” کیا ہوا ارتضٰی سب خیریت ہے نا. “
جاذل نے ارتضٰی کی پانچ مس بیل دیکھ جلدی سے کال بیک کی تھی.
” خیریت تو تمہاری کل نہیں ہوگی. تم نے بھی سب کے ساتھ مل کر جو غداری کی ہے. اُس کی سزا تو بعد میں ملے گی. مگر ابھی فورا یہاں آؤ. اپنی بیوی کو لے کر جاؤ. دن میں اپنے گھروالوں کی وجہ سے نے دل پر جبر کرلیا. مگر اب بلکل بھی نہیں. “
ارتضٰی کی تڑپ پر جاذل مسکرائے بغیر نہیں رہ سکا تھا.
” بہت مزا آرہا. میجر ارتضٰی سکندر کا یہ دیوانوں والا رُوپ دیکھ کر.
اور آ تو میں جاؤ مگر میری بیوی تمہاری بیوی کی طرح معصوم بلکل بھی نہیں ہے. اُس نے جو وہاں سب کے سامنے مجھے بے عزت کرتے میرے ساتھ آنے سے انکار کردیا تو. ویسے ہی مجھ سے ناراض ہے وہ. “
جاذل بے چارگی سے بولا.
” شرم کرو.اور اپنی حرکتیں ٹھیک کرو. اتنے بڑے آفیسر ہوکر بیوی سے بات کرنے سے ڈرتے ہو.”
ارتضٰی نے اُس کا مذاق اڑایا تھا. جس کو انجوائے کرتے جاذل بھی ہنسا تھا. اور کچھ دیر میں وہاں پہنچنے کا کہتے فون بند کردیا تھا.
زیمل ماہ روش کے کمرے کی طرف پانی لے جارہی تھی. جب کوریڈور سے گزرتے کسی نے اُسے بازو سے پکڑتے اپنی جانب کھینچا تھا.
اِس سے پہلے کے زیمل سچویشن سمجھتی .جاذل نے اُسے سنبھلنے کا موقع دیے بغیر اپنی بانہوں میں قید کیا تھا.
” اتنی بے رُخی بھی ٹھیک نہیں ہوتی مائی بیوٹیفل لیڈی.”
جاذل نے اُس کے کان کی لوح کو لبوں سے چھوتے ہلکی سے سرگوشی کی تھی.
جاذل کو محسوس کرتے زیمل کی سانسیں منتشر ہوئی تھیں. اُس دن کے بعد سے وہ جاذل کے سامنے آنے سے مکمل گریزہ تھی. اُسے اپنے دل کی حالت کچھ گڑبڑ ہوتی محسوس ہوئی تھی.
وہ ماہ روش کی حالت دیکھ اِس جان لیوا کام میں پڑنا ہی نہیں چاہتی تھی. مگر وہ اِس بات سے انجان تھی کہ یہ ایک ایسا اَن دیکھا جذبہ ہے جس سے خود کو محفوظ رکھنا بہت مشکل تھا.
” میجر جاذل پلیز. “
زیمل اُس کے حصار سے نکلنے کی تگ و دو کرتی بمشکل بولی تھی. ورنہ اُس کی دھڑکنوں کی آواز اپنے کانوں میں سنتے اُس کا اپنا دل پگھل رہا تھا.
” کیپٹن زیمل کیا میں اتنے دنوں کے آپ کے گریز کی وجہ جان سکتا ہوں. “
جاذل نے زیمل کی کمر پیچھے دیوار کے ساتھ ٹکاتے اُس کے اُوپر جھکتے اُس کی آنکھوں میں جھانکا تھا.
” ایسا کچھ نہیں ہے. میں بہت بزی تھی. اور ماہ روش کی وجہ سے پریشان تھی. اِس کے علاوہ کوئی بات نہیں.”
زیمل نے نظریں چراتے جواب دیا. وہ کسی طرح بھی جاذل کی طلسماتی نگاہوں کے حصار میں نہیں آنا چاہتی تھی.
جاذل اُس کے انداز دیکھ کر مسکرایا تھا.
” رئیلی مطلب میری اُس دن والی حرکت بُری نہیں لگی تھی آپ کو. دوبارہ بھی ایسا کرنے کی اجازت ہے. “
جاذل کا اشارہ جوس میں دوا ملانے کے ساتھ ساتھ زیمل کو کس کرنے کی طرف بھی تھا.
اُس نے زیمل کی ٹھوڑی کو انگلی سے چھوا تھا.
” دیکھیں میجر جاذل آپ زیادہ فری ہورہے ہیں. اور آپ بھول رہے ہیں کہ ہمارے درمیان ایک کنٹریکٹ ہوا تھا.”
زیمل خود کو اُس کے آگے کمزور پڑتا دیکھ جو منہ میں آیا تھا بول گئی تھی. جب اُس کے سنجیدہ انداز پر جاذل چونکا تھا.
اُسے تو لگا تھا کہ زیمل بھی اُس جیسی فیلنگز کا ہی شکار ہے. مگر زیمل کا سپاٹ انداز دیکھ جاذل پیچھے ہٹا تھا.
زیمل نے جاذل کے پیچھے ہونے پر سر اُٹھا کر اُس کی طرف دیکھا تھا.
آنکھوں میں موجود پہلی والی شریر مسکراہٹ اب ختم ہوچکی تھی.
” آئم سوری. مجھے واقعی اپنی حد نہیں بھولنی چاہیے تھی. “
جاذل زیمل کو اپنے حصار سے آزاد کرتا وہاں سے نکل گیا تھا.
زیمل کو اُس کا یوں دور جانا اور اپنا روڈ لہجہ اچانک بہت بُرا لگنے لگا تھا. اُسے ایسے نہیں کرنا چاہیے تھا. وہ پانی کی بوتل پاس پڑے ٹیبل پر رکھتی باہر کی طرف بڑھ گئی تھی.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
ارتضٰی نے نیم تاریکی میں ڈوبے کمرے میں قدم رکھا تھا. جہاں اُس کی عزیز ہستی موجود تھی.
یہاں آنے سے پہلے زینب اور ناہید نے اُسے ماہ روش کے حوالے سے بہت ساری ہدایت کی تھی. وہ اچھے سے جانتی تھیں ارتضٰی کے غصے کو اِس لیے ماہ روش کی ہر بات کو تحمل سے سننے کا کہا گیا تھا اُسے.
کیونکہ ماہ روش نے اُن سب کو منع کیا تھا کہ وہ کسی صورت ارتضٰی کا سامنا نہیں کرنا چاہتی مگر شاید وہ یہ بھول گئی تھی کہ وہ ارتضٰی سکندر ہے جسے روکنا ناممکن تھا.
ارتضٰی کی بے تاب نظروں نے بیڈ پر لیٹے اُس نازک وجود کی طرف دیکھا تھا. جو ہمیشہ اُس کی نفرت برداشت کرتی آئی تھی.
اور وہی نفرت اب شدید محبت میں تبدیل ہوکر پچھلے کئی دنوں سے اُسے سلگائے ہوئے تھی.
کمرے میں مدھم سی چاند کی روشنی پھیلی ہوئی تھی. جس کی وجہ سے ماہ روش کی دودھیا رنگت مزید دھمک رہی تھی.
ماہ روش پوری طرح گردن تک کمبل میں لپٹی ہوئی تھی. اُس کی ایک کلائی کمبل سے باہر تھی. جس پر ابھی بھی پٹی بندھی ہوئی تھی. اور ماتھے پر بھی چوٹ کا نشان تھا.
ارتضٰی کتنی دیر اُس کا ایک ایک نقش آنکھوں میں جذب کرتا رہا تھا. اور بے اختیار ہوتے اُس کی پیشانی پر لب رکھ دیے تھے.
اُس نے ماہ روش کے پاس لیٹتے اُس کا سر اپنے سینے پر رکھ لیا تھا. اور اُس کی کمر کے گرد بازو لپیٹتے اُسے نرمی سے خود میں بھینچا تھا.
ارتضٰی کے انداز میں فکر اور احتیاط کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی. وہ اُسے اتنی نرمی سے چھو رہا تھا جیسے وہ کانچ کی گڑیا کہیں ٹوٹ نہ جائے.
ماہ روش نے کسمساتے ارتضٰی کا کالر اپنی مٹھی میں دبوچا تھا. اور مزید اُس کے قریب ہوتے اُس کی گردن میں اپنا منہ چھپا لیا تھا. جیسے اُسے نیند میں بھی ارتضٰی کا لمس محسوس ہورہا ہو. اور وہ اُس کی قربت میں سکون محسوس کررہی ہو.
ارتضٰی نے ماہ روش کو محبت پاش نظروں سے دیکھا تھا. جو اب بلکل اُس کے ساتھ چپک کر سو چکی تھی.
جاری ہے
