Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 21

ماہ روش نے جیسے ہی پارک میں قدم رکھا اردگرد کے ماحول نے اُس کی طبیعت پر اچھا اثر ڈالا تھا. گھر میں تو اُسے اپنا دم گھٹتا ہوا محسوس ہورہا تھا.
دو دن گزر چکے تھے ماہ روش کو اپنی زندگی کی بھیانک سچائی جانے. نور پیلس پر اپنے باپ کے ڈھائے گئے ظلم کا سوچ کر اُس کا دل خون کے آنسو رو رہا تھا.
اُسے ہمیشہ یہی لگا تھا کہ اُس کے ساتھ غلط ہورہا ہے لیکن جو اُس کی ماں کے ساتھ ہوا تھا اُس کے مقابلے میں تو یہ کچھ بھی نہیں تھا. اُس کا باپ اتنا ظالم کیسے ہوسکتا تھا.
ذی ایس کے جو نجانے کتنے لوگوں کو مار چکا تھا. کتنی ہی لڑکیوں کی عزت لوٹ چکا تھا. اور مزید کتنی ہی تباہی پھیلانے کی پلاننگ کیے بیٹھا تھا. وہ اُس کا سگا باپ تھا.
اپنے باپ کے نام پر جہاں بیٹیاں فخر محسوس کرتی ہیں وہیں اپنے باپ کے بارے میں سوچتے اُس کا ڈوب مرنے کو دل چاہ رہا تھا.
ارتضٰی کے درد کا سوچتے ماہ روش کو اپنا دل درد سے پھٹتا محسوس ہورہا تھا.
اِس جان لیوا سچائی میں ایک خوبصورت سچ جو اُس کے سامنے آیا تھا وہ ماہ روش کے دل کو اندر تک سکون بخش گیا تھا. یہ احساس ہی کتنا خوش کن تھا کہ وہ ارتضٰی سکندر پر پورا حق رکھتی تھی. اُس اکڑو مگر پیارے سے انسان کو سوچنے اور چاہنے کا اختیار صرف اُسی کے پاس تھا.
لیکن ارتضٰی کی بے پناہ نفرت بہت تکلیف دے تھی اُس کے لیے. ارتضٰی اُسے غدار اُس کے باپ کی وجہ سے کہتا تھا. ماہ روش کو اِس وقت اپنے باپ سے شدید نفرت محسوس ہورہی تھی. لیکن اُس نے خود سے عہد کیا تھا. وہ ارتضٰی سمیت باقی سب پر بھی ثابت کردے گی کہ وہ ایک ملک فروش ظالم درندے کی بیٹی ہونے کے باوجود اِس ملک کی مخافظ تھی. چاہے اِس کے لیے اُسے اپنی جان بھی کیوں نہ قربان کرنی پڑ جائے وہ کرے گی.
میجر ارتضٰی کے مطابق ذی ایس کے کی ایک بیٹی اور دو بیٹے بھی اُس کے ساتھ شامل ہوچکے ہیں. اُسے اِس بات کا پورا یقین تھا کہ وہ آسیہ ماما کے دونوں بچوں میں سے تو کوئی نہیں ہوسکتا تو مطلب وہ اُن کی دوسری وائف کی اولاد میں سے تھے.
ماہ روش اپنی ہی سوچوں میں گم چلتی جارہی تھی جب بے دھیانی میں سامنے پڑے پتھر کو نہ دیکھ پائی تھی. اِس سے پہلے کے لگنے والی ٹھوکر پر وہ لڑکھڑا کر گرتی کسی نے اُس کا ہاتھ تھام کر گرنے سے بچایا تھا. جلدی سے سنبھلتے ماہ روش نے جیسے ہی نظریں اُوپر اُٹھائیں ہمایوں مسکراتی نظروں سے اُسے ہی دیکھ رہا تھا.
اور یہی لمحہ تھا جب وہاں داخل ہوتے ارتضٰی کی نظر اُن دونوں پر پڑی تھی.
ماہ روش کا ہاتھ ہمایوں خان کی گرفت میں دیکھ ارتضٰی نے غصے سے اپنی مٹھیاں بھینچی تھیں. اُس کا دماغ غصے سے کھول اُٹھا تھا.
ماہ روش نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا تھا لیکن ارتضٰی کی آنکھوں میں اُسے ہمایوں خان کے ساتھ کھڑے دیکھ شعلے نکل رہے تھے. وہ ہمایوں کی نگاہوں میں ماہ روش کے لیے پسندیدگی کے جذبات دور سے ہی دیکھ پارہا تھا. جب خود پر کنٹرول کھوتے وہ طیش کے عالم میں اُن دونوں کی طرف بڑھا تھا.
” ارتضٰی کیا ہوگیا ہے اتنے غصے میں کہاں جارہے ہو. “
جاذل نے ارتضٰی کو بازو سے پکڑ کر روکا. اور اُس کی نظروں کے تعاقب میں سامنے کا منظر دیکھا تھا.
” کیپٹن ماہ روش اُس ہمایوں کے ساتھ کیا کررہی ہے یہاں. ذوالفقار تو چلو مان لیتے ہیں اُس کا باپ ہے. مگر اُس کے اِس پالتو کتے کے ساتھ کیوں کھڑی ہے. کتنی گھٹیا نظروں سے دیکھ رہا ہے وہ خبیث اُسے. “
ارتضٰی اپنے الفاظ پر غور کیے بغیر چلایا. جاذل ارتضٰی کا ماہ روش کے لیے یہ رُوپ دیکھ کر حیرت ذدہ تھا.
” تمہیں اپنی ٹیم ممبر کیپٹن ماہ روش کا اپنے دشمن کے ساتھ کھڑا ہونا اچھا نہیں لگ رہا یا کسی کی اُس لڑکی پر پڑتی نظریں برداشت نہیں ہورہیں.”
جاذل نے کھوجتی نظریں ارتضٰی کے ضبط کرتے چہرے پر گاڑھیں.
” فضول بات مت کرو. وہ لڑکی میرے لیے اتنی امپورٹنٹ نہیں ہے. میں صرف اپنے مشن کی وجہ سے کہہ رہا ہوں.”
ارتضٰی جاذل کی بات کا مطلب سمجھ کر سنبھلتے ہوئے بولا. نظریں ابھی بھی ہمایوں کے سامنے کھڑی ماہ روش پر تھیں.
وائٹ ڈریس پر بلیک شال سے خود کو کور کیے پُرکشش نقوش کے ساتھ وہ لڑکی کسی کو بھی اپنے پیار میں پاگل کرنے کی صلاحیت رکھتی تھی.
جاذل اُس کی بات پر مسکرایا تھا. ارتضٰی اک پل میں ہی اپنی دلی حالت اُس پر عیاں کر گیا تھا. جاذل ارتضٰی کی آنکھوں میں ماہ روش کے لیے محبت کی شدت دیکھ سکتا تھا. اور یہی بات اُسے سب سے زیادہ حیران کررہی تھی کہ اتنی محبت کے باوجود وہ ماہ روش سے بظاہر اتنی نفرت کا اظہار کیوں کرتا تھا.
جاذل ارتضٰی کی زندگی کی تقریباً ساری باتوں سے واقف تھا. مگر سوائے ماہ روش والے چیپٹر کے.
وہ دونوں یہاں کسی شخص کے بارے میں کچھ معلومات اکٹھی کرنے آئے تھے. لیکن ارتضٰی کا موڈ دیکھ جاذل کو اب ایسا ہوتا نظر نہیں آرہا تھا.
ارتضٰی کو واپس مڑتا دیکھ جاذل نے بھی قدم باہر کی طرف بڑھا دیے تھے.

” آپ ٹھیک ہیں. آپ کو لگی تو نہیں. “
ماہ روش کے فوراً ہاتھ کھینچنے پر ہمایوں کے لبوں پر مسکراہٹ بکھری.
” نہیں میں ٹھیک ہوں. تھینکس. “
ماہ روش سنبھل کر اپنی شال ٹھیک کرتے بولی.
” میں اتنا بُرا بھی نہیں ہوں کہ آپ دو منٹ کھڑے ہوکر مجھ سے بات کرنا بھی پسند نہ کریں. “
ماہ روش کو وہاں سے ہٹتا دیکھ ہمایوں اُس کے حُسن کی تابناکی میں کھوتے بولا.
” دیکھیے مسٹر مجھے یوں انجان لوگوں سے فری ہونے کا بلکل بھی کوئی شوق نہیں ہے. اور آپ جیسے بزدل مردوں سے تو بلکل بھی نہیں. جن کو اکیلا باہر نکلنے سے ڈر لگتا ہے دس دس گارڈز لیے پھرتے ہیں ساتھ. “
ماہ روش اُس دن کی طرح آج بھی ہمایوں کے پیچھے کھڑے گارڈز کو دیکھ طنزیہ لہجے میں بولتی وہاں سے نکل آئی تھی. اُسے اِس شخص کی نظریں کچھ ٹھیک نہیں لگی تھیں.
ہمایوں نے گہری نظروں سے اُس موم کی گڑیا کی طرف دیکھا. جو دوسری بار ٹکا سا جواب اُس کے منہ پر مار کر جاچکی تھی. اور سب سے زیادہ حیرت کی بات یہ تھی کہ اُسے اِس لڑکی کی باتیں زرا بھی بُری نہیں لگتی تھیں.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

” آنٹی آپ فکر مت کریں. میں اور ماہ روش ہیں نا ریحاب کو ایک دن کے اندر اندر ہی ساری شاپنگ کروا دیں گی. ویسے بھی آج کے دن ہم بلکل فری ہیں. “
زیمل صائمہ بیگم کو تسلی دیتے بولیں. جو ارحم کی اتنی جلدی مچانے پر اچھی خاصی ٹینشن میں آچکی تھیں. ارحم کی ضد پر شادی سادگی سے ہی ہورہی تھی لیکن پھر بھی اپنے اکلوتے بیٹے کی شادی پر صائمہ بیگم اپنے سارے ارمان پورے کرنا چاہتی تھیں.
” جی آنٹی اور تو نہیں مگر ہماری زیمل شاپنگ میں بہت ایکسپرٹ ہیں. اِس لیے اِس طرف سے آپ بلکل ٹینشن فری ہوجائیں. “
ماہ روش کی بات پر صائمہ بیگم مسکرائیں جبکہ زیمل نے اُسے گھوری سے نوازا.

” آنٹی ویسے یہ ہماری ہونے والی بھابھی کہاں ہیں. اور آپ نے اُسے ارحم سے پردے میں ہی رکھا ہوا ہے نا. “
زیمل نے روایتی نندوں والا انداز اپنایا تھا.
” بلکل فل پردے میں رکھا ہوا ہے. ریحاب اُوپر ہے جہاں ارحم کو جانے کی بلکل اجازت نہیں ہے جاؤ آپ لوگ مل لو جاکر. “
صائمہ بیگم کے کہنے پر وہ دونوں ریحاب کو ملنے اُٹھی تھیں. ارحم کے ساتھ اُن کا بہت پیارا رشتہ تھا. کافی ٹائم سے وہ لوگ ایک ساتھ کام کررہے تھے. اِس لیے ایک دوسرے کے گھروں میں آنا جانا تھا.
ماہ روش ارحم کی ایک کال پر اپنا دکھ اندر چھپائے اُس کی خوشی میں شریک ہونے پہنچ گئی تھی. ارحم کی کوئی بہن نہیں تھی اِس لیے صائمہ بیگم نے تمام ذمہ داری اُن دونوں کو سونپی تھی.
وہ دونوں ریحاب کے روم میں داخل ہونے لگی لیکن اندر سے آتی آواز پر حیرت سے ایک دوسرے کی طرف دیکھتیں وہیں رُک گئیں.
” میری بات سمجھنے کی کوشش کریں آپ لوگ. ابھی میں اِس گھر کے صرف ایک کمرے تک محدود ہوں. جنرل آصف تو دور ارحم کے روم تک بھی نہیں جاسکتی. پھر کیسے لاکر دوں آپ کو وہ فائل.”
ریحاب کی گھبرائی آواز سن کر وہ دونوں خاموش نظروں سے ایک دوسرے کی طرف دیکھتےجیسے سارا معاملہ سمجھ گئی تھیں.
ارحم کے اِس طرح اچانک شادی کا شوشہ چھوڑنے کی وجہ اور وہ بھی اُس لڑکی سے جسے وہ کچھ ٹائم پہلے ہی ملا تھا.
دونوں نے اپنے فیس ایکسپریشن نارمل کرتے دروازے پر ہلکا سا ناک کیا تھا. ریحاب نے جلدی سے فون بند کرتے اندر آنے کی اجازت دی
” واؤ آپ تو ہماری سوچ سے بھی کہیں زیادہ خوبصورت ہیں. “
ریحاب سے مل کر اُس کے پاس بیٹھتے ماہ روش ستائشی انداز میں بولی.
اُنہیں ریحاب بہت ہی پیاری اور معصوم سی لگی تھی. ریحاب کو دیکھ کر ابھی تھوڑی دیر پہلے سنی باتوں پر یقین نہیں آرہا تھا.
” تھینکیو. مگر آپ سے زیادہ خوبصورت نہیں ہوں.”
ریحاب نے مسکرا کر جواب دیا.
” یہ دونوں پیاری پیاری لیڈیز ایک دوسرے کی تعریف ہی کرتی رہیں گی یا شاپنگ پر بھی چلیں گی. ٹائم بہت کم ہے ہمارے پاس.”
زیمل کی بات پر وہ دونوں مسکرائیں.
” جی بلکل چلیں گی ورنہ اِس تیسری حسین لیڈی نے چھوڑنا ہے ہمیں. “
ماہ روش ریحاب کو تیار ہونے کا اشارہ کرتی زیمل کے ساتھ باہر آگئی تھی.
” ماہی تمہیں کیا لگتا ہے ارحم ریحاب کی اصلیت سے واقف ہوگا. “
زیمل کی آواز میں اب پہلے جیسا جوش مفقود تھا. ارحم اُسے بلکل سگے بھائی کی طرح عزیز تھا. ارحم اگر واقعی ریحاب سے پیار کرتا ہے اور وہ اُسے صرف دھوکہ دے رہی ہے تو یہ بات بہت پریشان کن تھی.
” میرا جہاں تک خیال ہے. ارحم سب جانتا ہوگا. کیونکہ ریحاب مجھے ایک بہت ہی سادہ سی لڑکی لگی ہے. ارحم جیسا شخص اُس سے اتنی آسانی سے بے وقوف نہیں بن سکتا. “
ماہ روش کے لہجے میں بھی فکرمندی صاف ظاہر تھی.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

نور پیلس میں اِس وقت بلکل خاموشی چھائی ہوئی تھی. سب لوگ اپنے اپنے کمروں میں جاکر سوچکے تھے. لیکن ایک وجود ایسا بھی تھا جو پچھلی تمام راتوں کی طرح آج بھی سب سے چھپ کر اپنی عزیز ہستی کی یاد میں تڑپ رہا تھا.
زینب بیگم ہاتھ میں پکڑے فوٹو کو تکی جارہی تھیں. جس میں اُن کی چھ سال کی ننھی پری کھلکھلا رہی تھی. اُن کی ہمیشہ کوشش رہتی تھی کہ گھر والوں کے سامنے اپنے اندر کا دکھ عیاں کرکے اُن کی پریشانی کا باعث نہ بنیں. اِس لیے رات کے وقت وہ اپنی گڑیا کے ساتھ ٹائم گزارتی تھیں. اپنے دل کی ہر بات اُس سے کہتی تھیں.
کتنا ہی وقت ایسے ہی بیٹھے بیٹھے گزر گیا تھا. جب گھڑی پر ٹائم دیکھتے اپنے آنسو صاف کرتے اُنہوں نے فوٹو فریم دراز میں رکھ دیا تھا. رات کا 1 بج چکا تھا ارتضٰی کے آنے کا وقت تھا اور وہ جانتی تھیں ارتضٰی نے سب سے پہلے اُنہیں کے کمرے میں آنا تھا.
سلیپنگ پلز لے کر زینب کمفرٹر اوڑھتی لیٹ گئی تھیں. جب کچھ ہی دیر بعد وہ نیند کی آغوش میں تھیں. کب سے انتظار کرتی ماہ روش کھڑکی کے راستے اُن کے کمرے میں داخل ہوئی تھی. دھیرے دھیرے قدم اُٹھاتی ماہ روش بیڈ کی طرف بڑھی تھی.
زینب پر نظر پڑتے ماہ روش کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوئے تھے. اُس کا شدت سے دل چاہا تھا کہ جاکر اپنی ماں کے سینے میں سما جائے. ماں کی گود کی گرمی محسوس کرتے دنیا کا ہر غم بھلا دے. مگر چاہنے کے باوجود وہ ایسا نہیں کر پائی تھی.
ماہ روش کتنی ہی دیر اُن کے ایک ایک نقش کو اپنی آنکھوں سے حفظ کرتی رہی تھی. اور اپنے جذبات پر قابو نہ پاتےجھک کر نرمی سے اُن کی پیشانی چوم لی تھی.
ماہ روش نے ٹائم دیکھا تو جلدی سے واپس کی طرف پلٹی لیکن کھڑکی سے باہر کا نظارہ دیکھ کر ایک پل کے لیے اُس کا دل زور سے دھڑکا تھا. اور ساتھ ہی پریشانی بھی بڑھی تھی کیونکہ میجر ارتضٰی سکندر فون کان سے لگائے سامنے ہی موجود تھا. اگر وہ یہاں سے اُترتی تو فوراً پکڑا جانا تھا.
ماہ روش جلدی سے روم کے دروازے کی طرف بڑھی تھی. مگر باہر نکل کر اُس کا دماغ چکرا گیا تھا. نور پیلس جتنا بڑا تھا وہاں انجان بندہ دن کے ٹائم بھٹک جاتا تھا اور وہ تو پھر رات کی تاریکی میں یہاں گھسی تھی. جنرل یوسف کی مدد سے وہ نور پیلس میں داخل تو آرام سے ہوگئی تھی لیکن اب نکلنا عذاب ہورہا تھا.
ماہ روش کو دس منٹ تو سیڑھیاں ڈھونڈنے میں لگ گئے تھے. مگر وہ ابھی تک ناکام رہی تھی.
” کیا مصیبت ہے کہاں پھنس گئی میں. “
ماہ روش اچھا خاصہ جھنجھلا چکی تھی. جب اچانک اُسے ایک سائیڈ سے قدموں کی آہٹ سنائی دی تھی.
” اوہ نو. “
خاموشی میں مضبوط بھاری قدموں کی دھمک قریب سے قریب تر ہوتی جارہی تھی. ماہ روش ارتضٰی کے خوف سے بنا سوچے سمجھے دو قدموں کے فاصلے پر موجود روم کا دروازہ کھول کر اندر گھس گئی تھی.
روم میں بلکل اندھیرا تھا. کھڑکی کے راستے باہر سے آتی ہلکی سی روشنی میں ماہ روش سنبھل سنبھل کر چلتی سامنے گرے دبیز پردوں کی طرف بڑھی جن کے پیچھے اُسے ٹیرس کا گمان ہو رہا تھا.
ابھی ماہ روش پردوں تک پہنچی ہی تھی جب اُسے دروازہ کھلنے کی آواز آئی تھی. وہ جلدی سے پردوں کے پیچھے چھپ کر بلکل ساکت ہوئی. مگر اندر داخل ہونے والے کو دیکھ ماہ روش کا اُوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا تھا.
” اُف میرے خدا ماہ روش تمہیں کھڑوس کا ہی روم ملا تھا چھپنے کے لیے. اگر سر کی نظر پر گئی مجھ پر تو اُنہوں نے کچھ بھی پوچھے بغیر گولی مار دینی ہے مجھے. “
ماہ روش نے ارتضٰی کو اندر داخل ہوکر دروازہ لاک کرتے دیکھ دل میں سوچا.
ارتضٰی لائٹ آن کرکے بیڈ کی طرف بڑھا. وہ اِس وقت بلیک ٹراؤزر شرٹ میں دراز قد کے ساتھ اُلجھا بکھرا ماہ روش کے دل کی دنیا ہلا گیا تھا. عنابی ہونٹ ہمیشہ کی طرح بھینچے ہوئے تھے. مغرور کھڑی ناک اُس کی شخصیت کے رعب میں مزید اضافہ کر رہی تھی. ماہ روش اپنی سچویشن بھلائے بے خود سی اُسے دیکھے گئی تھی. لیکن اگلے ہی لمحے سُرخ ہوتے پردہ آگے کردیا تھا کیونکہ ارتضٰی اپنی شرٹ کے بعد اب نیچے پہنی بلیک بنیان بھی اُتار چکا تھا. اُس کا کسرتی جسم بغیر شرٹ کے دیکھ ماہ روش پسینہ پسینہ ہوتی پیچھے ہوگئی تھی.
” یا ﷲ جی یہ مجھے کیا ہورہا ہے. “
ماہ روش کا دل تو پہلے ہی اِس ستمگر کا دیوانہ تھا. مگر یہ جاننے کے بعد کے وہ اُس کا محرم ہے دل مزید اُس کی طرف ہمک رہا تھا. جس کی دھڑکنوں کو کنٹرول کرتی ماہ روش ہلکان ہوئی جارہی تھی. لیکن مقابل کو پرواہ بھی نہیں تھی کہ کوئی نازک وجود اُس کی چاہت میں دیوانگی کی حدود کو چھو رہا ہے.
ارتضٰی کو واش روم کی طرف بڑھتا دیکھ ماہ روش نے سکھ کا سانس لیا تھا. لیکن فون بجنے پر وہ پھر واپس پلٹا تھا.
” جی کیپٹن ارحم کام ہوگیا. “
ارتضٰی موبائل کان سے لگائے ماہ روش کی طرف آیا تھا. ارتضٰی کا روم بہت ہی بڑا اور شاندار تھا. جس میں گرے کلر کی انٹیریر ڈیزائینگ کی گئی تھی. کمرہ نفاست سے سجا اپنی عمدہ مثال پیش کررہا تھا. لیکن ماہ روش نے کمرے میں موجود ہر چیز میں یوز گرے کلر کو دیکھ کر منہ بنایا تھا کیونکہ یہ اُس کا سب سے ناپسندیدہ کلر تھا. لیکن اگلے ہی لمحے یہ بات سوچ کر اُسے خود پر ہی ہنسی آئی تھی کہ اِس کمرے کے مالک کو تو اُس سے ہی سخت نفرت تھی اُس کی پسند اور ناپسند تو بہت دور کی بات تھی.
ماہ روش اپنی سوچوں سے باہر تب نکلی جب ارتضٰی کی جان لیوا خوشبو ماہ روش کے بہت نزدیک پہنچ چکی تھی.
” اِس ارحم کے بچے نے آج تک کوئی سیدھا کام کیا ہے کیا. اِس وقت کال کرنے کی کیا ضرورت تھی. “
ماہ روش اِس وقت ارحم کو کوسنے کے سوا کچھ نہیں کر سکتی تھی. ماہ روش کے بہت قریب آکر ارتضٰی واپس پلٹا اور فون بند کرکے بیڈ پر پھینکتے جلدی سے واش روم میں چلا گیا تھا.
واش روم کا دروازہ بند ہوتے دیکھ ماہ روش نے سکھ کا سانس لیا تھا. اُس نے زرا بھی ٹائم ضائع کیے ٹیرس کی طرف کا دروازہ کھولا اور ٹیرس کے راستے نیچے اُتر گئی تھی.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

” ماما میں نے آپ سے کہا نا مجھے شادی نہیں کرنی. آپ کیوں نہیں سمجھ رہیں میری بات. پلیز ماما میں اپنی اِس لائف میں بہت خوش ہوں. “
زیمل اچھی خاصی جھنجھلائی ہوئی تھی.
” زیمل بس بہت ہوگئی تمہاری یہ فضول کی ضد اب اور نہیں. تمہارے پاس صرف پندرہ دنوں کا ٹائم ہے. اگر کوئی لڑکا پسند ہے تو ملواؤ مجھے ورنہ میری مرضی کے مطابق شادی کرنی ہوگی تمہیں. “
سلمہ بیگم آج زیمل کی کوئی بھی بات سننے کے موڈ میں نہیں تھیں.
” مگر ماما ایسے کیسے میری بات تو سنیں. “
اُن کے اتنے سخت لہجے پر زیمل ہولے سے منمنائی
” مجھے اِس ٹاپک پر مزید کوئی بات نہیں کرنی. “
سلمہ بیگم دو ٹوک انداز میں کہتے اپنے روم کی طرف بڑھ گئی تھیں.
” اب جب مجھے کوئی پسند ہی نہیں ہے. تو کہاں سے ڈھونڈ کر لاؤں میں لڑکا. کیا کروں اب میں. “
زیمل سر ہاتھوں میں گرائے پریشانی سے بڑبڑائی.
وہ نجانے کتنا ہی ٹائم انہیں سوچوں میں گزار دیتی جب بجتے فون نے اُس کی توجہ اپنی جانب مبذول کی.
” میجر جاذل سپیکنگ. کیپٹن زیمل میں آپ کے گھر کے باہر موجود ہوں. ابھی اور اِسی وقت باہر آئیں. “
جاذل کے نئے آرڈر پر وہ جھٹکے سے سیدھی ہوئی.
” کیا ہوا. سب ٹھیک تو ہے نا. “
زیمل جلدی سے روم کی طرف بڑھی.
” آپ سے جتنا کہا گیا ہے اُتنا ہی کریں. ہمارے پاس زیادہ وقت نہیں ہے. “
زیمل کو کافی حیرانی ہوئی تھی. آج تک ہر ارجنٹ مشن کے لیے ارتضٰی ہی کال کرتا تھا. اور آج جاذل اور وہ بھی ایسے اچانک.

جاری ہے