Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 38

” واؤ دعائیں اتنی جلدی بھی قبول ہوجاتی ہیں مجھے آج پتا چلا. “
سونیا چہکتی ہوئی جاذل کی طرف بڑھی تھی. اور مصافحہ کے لیے اپنا ہاتھ جاذل کی طرف بڑھایا تھا.
مگر ہمیشہ کی طرح اِس بار جاذل کے چہرے پر بےزاری کے تاثرات بلکل نہیں تھے. اُس نے ہلکی سی مسکراہٹ سجائے سونیا کا بڑھا ہوا ہاتھ تھام لیا تھا.
” رئیلی مس سونیا کیا آپ مجھ سے ملنے کی دعا کر رہی تھیں. یقین نہیں آرہا مجھے. “
جاذل نے حیرت کا اظہار کرتے کہا.
دونوں نے پاس کھڑی زیمل کو بلکل اگنور کردیا تھا. جس کی نظریں سونیا کے ہاتھ میں موجود جاذل کے ہاتھ پر تھیں. جو اُس نے ابھی تک نہیں چھوڑا تھا.
” سونیا کے دل تک رسائی حاصل کرنا اتنا آسان کام نہیں ہے. اور اگر جو یہاں تک پہنچ جائے تو وہ دنیا کا سب سے خوش قسمت انسان ہے. اور آپ اُنہیں میں سے ایک ہیں.”
سونیا وارفتگی سے جاذل کو دیکھتے بولی.
جبکہ جاذل کے ایکسپریشن ایسے تھے کہ وہ اُس کی بات سے بہت زیادہ امپریس ہوا ہو.
” امیزنگ آج سے پہلے مجھے کبھی نہیں لگا تھا کہ میں اتنا خوش قسمت انسان ہوں. “
جاذل نے بھی اُس کی طرف ایک دلکش مسکراہٹ اُچھالی تھی.
” فضول تھرڈ کلاس ڈائیلاگز مار کر ایسے دانت نکال رہے دونوں جیسے بہت بڑا تیر مار لیا ہو دونوں نے. “
زیمل اُن کی باتوں پر اندر ہی اندر دانت پیس کر رہ گئی تھی.
جبکہ سونیا آج جاذل کا اتنا خوشگوار موڈ دیکھ کر بہت خوش ہوئی تھی. اُسے اپنا جادو جاذل پر چڑھتا محسوس ہورہا تھا.
” یہ کون ہے. کہیں آپ کی گرل فرینڈ تو نہیں. “
زیمل پر نظر پڑتے ہی فوراً سونیا کا موڈ خراب ہوا تھا. کیونکہ زیمل کا سادگی میں بھی چھپا بے پناہ حسن اور اُوپر سے جاذل کے ساتھ کھڑا ہونا اُس کا دماغ گھما گیا تھا.
” ہاہاہاہا کیسی باتیں کررہی ہیں آپ. میرا سٹینڈرڈ اب اتنا گیا گزرا بھی نہیں ہے. یہ میری پی آئے ہے. “
جاذل کی بات سنتے جہاں سونیا کے چہرے کی رونق لوٹی تھی وہیں زیمل کا دل چاہا تھا. ایک ہی زور دار گھونسا مارتے جاذل کے دانت توڑ دے جو آج کسی صورت اندر جانے کو تیار ہی نہیں تھے.
جب کہ جاذل کن اکھیوں سے زیمل کے ایکسپریشنز نوٹ کرتے بہت محظوظ ہوا تھا. جو اپنا غصہ کنٹرول کرتی پوری لال ہوچکی تھی.
” کیا آپ میرے ساتھ ڈانس کرنا پسند کریں گے. پلیز انکار مت کیجئے گا. پلیز. “
سونیا ابھی بھی جاذل کا ہاتھ تھامے کھڑی بہت ہی لجاجت سے بولی.
جب ارتضٰی ایک دو بار منع کرنے کے بعد اُس کی بات مانتے آگے کی طرف بڑھ گیا تھا.
” واہ کیا کپل بنا ہے نا. اچھا ہوا اِس چھچھورے انسان کو اُس کی چھیچھوری پارٹنر مل گئی.
بڑا شریف بننے کی کوشش کرتا ہے. اب ساری اصلیت سامنے آرہی ہے. ارتضٰی سر نے صرف تھوڑی بہت فرینکنس کا بولا تھا. مگر خوبصورت لڑکی دیکھ یہ شخص اپنی حد بھول چکا ہے.
پر مجھے کیا جو مرضی کرنا ہے کرے. مجھے اتنا بُرا کیوں لگ رہا ہے میری طرف سے بھاڑ میں جائیں دونوں. “
زیمل اُن دونوں کو ڈانس کرتے دیکھ غصے سے حل بھن رہی تھی.
” استغفراللہ کتنے بے شرم ہیں یہ دونوں. زرا شرم نہیں آرہی اِس لڑکی کو کہ وہ اِس کا نامحرم ہے. کیسے چپک رہی ہے.”
سونیا ڈانس کرتے اچانک جاذل کے بہت کلوز آگئی تھی. اور اُس کا ایک ہاتھ پکڑ کر اپنی کمر پر رکھا تھا. جبکہ جاذل نے پھر بھی درمیان میں فاصلہ قائم رکھنے کی پوری کوشش کی تھی. اور نامحسوس انداز میں سونیا کی کمر سے اپنا ہاتھ ہٹا لیا تھا.
زیمل کا بس نہیں چل رہا تھا کہ جاکر سونیا کو جاذل سے دور پھینک دے یا پھر جاذل کو ہی کھینچ کر اپنے ساتھ لے جائے.
مگر ساتھ ہی خود پر بھی غصہ تھی کہ اُسے کوئی فرق نہیں پڑنا چاہئے. جاذل جو مرضی کرے اُن دونوں کا رشتہ صرف کاغذی ہی ہے. اِس سے زیادہ کچھ نہیں.
زیمل ابھی خود سے ہی اُلجھ رہی تھی. جب ایک شخص ہاتھ میں دو جوس کے گلاس لیے اُس کے قریب آیا تھا. اور بہت ہی بے باک نظروں سے زیمل کو گھورنے لگا تھا.
” جی فرمائیں کوئی مسئلہ ہے کیا. “
زیمل پہلے ہی سڑی بیٹھی تھی. اِس لیے اُس بندے کو تیز نظروں سے گھورتی چبا چبا کر بولی.
” جی بہت بڑا مسئلہ ہورہا. اتنی حسین لڑکی اِس طرح اکیلی اُداس کھڑی بلکل اچھی نہیں لگ رہی. اِس لیے سوچا اِس پیاری سی لڑکی کو کمپنی دی جائے. “
وہ شخص زیمل کو دیکھتے بڑے انداز سے بولا تھا.
جب زیمل کا دل چاہا تھا کہ اُس کے ہاتھ میں پکڑے گلاس اُس کے سر پر دے مارے اور اُسے بتائے کہ ایسی ہے اُس کی کمپنی.
مگر وہ یہاں ایسا صرف سوچ کر ہی رہ گئی تھی.
جاذل جو زیمل کے دھیان سے تھوڑی دیر بعد ایک نظر اُس پر ڈال دیتا تھا کہ وہ وہاں ٹھیک کھڑی ہے یا نہیں. اُس کے ساتھ کسی مرد کو کھڑے دیکھ وہ سونیا سے اپنا دھیان ہٹاتا پوری طرح زیمل کی طرف متوجہ ہوا تھا.
” دیکھئے مسٹر میرے بار میں اتنا سوچنے اور فکرمند ہونے کا بہت بہت شکریہ. مگر مجھے یہاں آپ کی یا کسی کی بھی کمپنی میں کوئی انٹرسٹ نہیں ہے. “
زیمل اُس کو ٹکا سا جواب دیتی دوسری طرف جاکر کھڑی ہوگئی تھی.
جبکہ جاذل دور سے ہی اُس شخص کی اُترتی شکل اور اپنی شیرنی کے دیے جانے والے جواب کو سمجھ کر مسکرایا تھا.
” مسٹر جاذل ابراہیم کیا آپ کا آج کی پوری رات ڈانس کرنے کا ارادہ ہے. “
دو تین گھنٹے گزر چکے تھے مگر سونیا کا دل بھر ہی نہیں رہا تھا. جب آخر کار تنگ آکر زیمل کو ہی اُنہیں ہوش دلانا پڑا تھا.
کان میں لگی بلوٹتھ ڈیوائس پر زیمل کی طنز سے بھرپور آواز سنتے جاذل مسکرائے بنا نہ رہ سکا تھا.
جب وہ سونیا سے مزید ایک دو باتیں کرکے زیمل کی طرف آیا تھا. اور اُسے اپنے ساتھ باہر آنے کا اشارہ کرتے وہاں سے نکل گیا تھا.
جاذل نے خاموشی سے زیمل کے انتہائی بگڑے موڈ کو دیکھا تھا.
” ویسے سر ارتضٰی بھی کتنے جینئس ہیں نا. وہ اچھے سے جانتے ہیں کہ کس بندے کو کس ٹائپ کا کام سونپنا ہے. “
جاذل نے گاڑی سٹارٹ کرکے آگے بڑھائی ہی تھی جب زیمل نے جاذل کو مخاطب کیا تھا.
” کیا مطلب میں سمجھا نہیں. “
جاذل جان بوجھ کر انجان بنا تھا.
جبکہ زیمل اُس کے اِس ناسمجھ انداز پر اُسے گھورا تھا.
” جس طرح اتنے گھنٹے آپ دونوں ڈانس کرتے رہے ہیں. مجھے نہیں لگتا کہ یہ ہمارے مشن کے لیے زرا بھی فائدہ مند تھا. میرے خیال میں تو مشن کی آڑ میں پچھلے کوئی ارمان پورے کیے گئے ہیں. “
زیمل جس بات کو لے کر کب سے خود سے ہی اُلجھ رہی تھی. آخر کار وہ زبان پر آہی گئی تھی.
جبکہ زیمل کی بات سنتے جاذل نے بہت مشکل سے قہقہ روکا تھا.
اور اچانک گاڑی ایک طرف روک دی تھی.
” یہ یہاں سے سمیل آرہی ہے کیا. “
جاذل اک دم سنجیدہ ہوتے زیمل کے قریب جھکا تھا. جبکہ زیمل جاذل کے اچانک اِس طرح قریب آجانے پر گھبرا سی گئی تھی.
” کیسی سمیل. “
زیمل مختصر ہی بول پائی تھی. کیونکہ جاذل اب مزید آگے ہوتے اُس کی دوسری طرف جھکا تھا. جس وجہ سے جاذل کی گرم سانسیں ایک پل کے لیے زیمل کے چہرے سے ٹکرائی تھیں. اُس کی دھڑکنیں ایک پل کے لیے مدھم ہوئی تھیں.
” جلنے کی سمیل کیونکہ مجھے فیل ہورہا ہے جیسے کوئی انسان بُری طرح جیلس ہوا ہے. “
جاذل زیمل کی کان میں سرگوشی کرتے واپس سیدھا ہوا تھا. اور گاڑی دوبارہ سٹارٹ کردی تھی.
اُس کی بات کا مطلب سمجھتے زیمل نے خونخوار نظروں سے اُسے گھورا تھا. جو بڑے ہی محظوظ کن مسکراہٹ کے ساتھ ڈرائیونگ کی طرف متوجہ ہوچکا تھا.
” میجر جاذل ابراہیم لگتا ہے آپ کو کچھ زیادہ ہی خوش فہمی آئی مین غلط فہمی ہورہی ہے.
میری طرف سے آپ دونوں پوری زندگی اسی طرح ایک دوسرے کی بانہوں میں بانہیں ڈال کر ڈانس کرتے رہیں. آئی ڈونٹ کیئر.
مگر نیکسٹ ٹائم اگر ایسا کوئی فضول پروگرام ہو تو مجھے ساتھ لانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے.
اور تھینک گارڈ آپ کا سٹینڈرڈ میں نہیں. وہ سونیا ہی ہے. بہت سوٹ کرتے آپ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ پرفیکٹ کپل. “
زیمل جاذل کے مذاق اڑاتے انداز پر مزید تپ کر غصے میں آتے اپنی اندر کی تمام بھڑاس نکالنے لگی تھی. جو تمام باتیں جاذل کے یقین پر سچ کی مہر لگا گئی تھیں.
زیمل اُسے سونیا کے ساتھ دیکھ اچھی خاصی ڈسٹرب ہوئی تھی.
اپنی بات کہہ کر مزید جاذل کی کوئی بھی بات سنے بغیر زیمل اُس کی طرف سے بلکل رُخ موڑ گئی تھی.
زیمل کا کچھ اُلجھا کچھ کہتا انداز جاذل کے دل کو بھا رہا تھا.
اُس کا ایک بار پھر زیمل کو چھیڑنے کا دل چاہا تھا. مگر اُس کو پہلے ہی شعلہ جوالہ بنا دیکھ جاذل اپنا ارادہ ترک کرتے روڈ پر نظریں مرکوز کر گیا تھا.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

الوینہ نے ارتضٰی کو ذی ایس کے کے ایک اور بہت اہم منصوبے کی مخبری کر دی تھی.
جس کے مطابق دو سو سے اُوپر لڑکیوں کو بارڈر کے راستے افغانستان سمگل کیا جانا تھا. ارتضٰی نے یہ مشن ارحم کو سونپا تھا.
ارحم پچھلے دو دنوں سے اِس پر کام کر رہا تھا. اور اپنی بہادری اور ذہانت کی وجہ سے وہ اپنی پاک سرزمین کی بیٹیوں کی عزت اور جان بچانے دشمنوں کے سر پر پہنچ چکا تھا.
مختلف علاقوں سے اغوا کی گئی لڑکیوں کو جس جگہ اکھٹا کیا گیا تھا وہاں کا اتنے کم وقت میں پتا لگانا بہت مشکل تھا. مگر ارحم نے اُس کام میں اپنے دن رات ایک کر دیے تھے. وہ کسی صورت بھی ذی ایس کے کو اُس کے ناپاک ارادوں میں کامیاب نہیں ہونے دینا چاہتا تھا.
جس وجہ سے ارحم اپنے تین اہلکاروں کے ساتھ دو گھنٹے پہلے ہی اُس اڈے پر پہنچ چکا تھا.
جہاں پر سمگل کی جانے والی لڑکیوں کو کڑے پہرے میں رکھا گیا تھا. اور کچھ ہی دیر میں اُنہیں ٹرکوں میں بیٹھا کر یہاں سے نکالا جانا تھا. ارحم جو پہلے ہی اُن پر ٹارگٹ سیٹ کیے ہوئے تھا. بس اسی لمحے کا انتظار تھا. اور اگلے ہی پل وہ لمحہ اُسے مل بھی گیا تھا.
نجانے کتنے ہی گھروں کی بیٹیوں اُن کی عزتوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح ٹرکوں میں شفٹ کیا جارہا تھا. جیسے ہی ٹرک وہاں سے نکلنے کے لیے تیار ہوئے ارحم کے اشارے پر اُس کے تینوں آدمیوں نے اپنی جگہ پر ہی کھڑے سیلینسر لگے پستول سے ٹرک پر سوار ڈرائیورز پر فائر کھول دیے تھے. اُن پر پہلے ہی نشانے باندھے گئے تھے. اِس لیے اُنہیں ڈھیر کرنے میں زیادہ دیر نہیں لگی تھی. اُن کے ہلاک ہوتے ہی تینوں اہلکار اندھیرے میں بہت ہی ہوشیاری سے اندر موجود آدمیوں سے نظر بچاتے ٹرکوں کی طرف بڑھ گئے تھے. جبکہ ارحم اُس بلڈنگ کی طرف بڑھ گیا تھا تاکہ اندر موجود لوگوں کے باہر نکل کر حالات جاننے سے پہلے ہی اُن کو ختم کردے.
باقی تینوں لوگ ڈرائیورز کو ٹرکوں سے نیچے پھینکتے ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر ٹرک سٹارٹ کرچکے تھے. جب اچانک بنا سگنل دیے ٹرک کو نکلتے دیکھ اندر بیٹھے لوگ الرٹ ہوئے تھے.
جلدی سے باہر بھاگتے اُنہوں نے ٹرک کو روکنے کے لیے پیچھے سے اُن کے ٹائروں پر فائرنگ کرنی چاہی تھی. مگر ارحم نے سامنے آتے اُن پر حملہ کر دیا تھا.
وہ سات افراد تھے جبکہ ارحم اکیلا ہی اُن پر بھاری پڑ رہا تھا.
لیکن شاید قسمت اُس وقت ارحم کے حق میں بلکل نہیں تھی. اُن میں سے ایک آدمی کی اطلاع پر برہان اپنے ساتھ دس پندرہ بندوں کو لیے وہاں پہنچ چکا تھا. اور اتنے ہی لوگوں کو ٹرکوں کے پیچھے بھیج دیا تھا. جو بات ارحم کو فکر مند کر گئی تھی. اُسے اپنے آدمیوں پر پورا بھروسہ تھا مگر پھر بھی وہ کسی صورت نہیں چاہتا تھا کہ زرا سی بھی کوئی گڑبڑ ہو. اِس لیے اُن سب سے مقابلہ کرتے اُس نے ارتضٰی کو کال کرتے ساری صورتحال سے آگاہ کیا تھا. اور ٹرکوں کی ڈائریکشن بتاتے جلدی سے وہاں پہنچنے کو کہا تھا.
جسے سنتے ارتضٰی فوراً وہاں جانے کے لیے نکل آیا تھا.
ارحم پر ہر طرف سے گولیوں کی بوچھاڑ کی جارہی تھی. جس کا وہ بہت ہی ڈٹ کر مقابلہ کررہا تھا. ارحم وہاں موجود کنٹینرز کے پیچھے چھپے اُن کے بہت سے آدمیوں کو ہلاک کر چکا تھا.
جب اچانک ایک سنسناتی ہوئی گولی ارحم کے بازو میں آکر پیوست ہوئی تھی. اور وہاں سے خون کے فوارے پھوٹ نکلے تھے. مگر درد کی پرواہ کیے بغیر ارحم اُسی طرح اُن پر گولیاں برسانے میں مصروف رہا تھا.
برہان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ کنٹینر کے پیچھے موجود اُس شخص کی بوٹی بوٹی کرکے رکھ دے جو اُس کے اتنے آدمیوں کو ختم کرچکا تھا مگر پھر بھی قابو میں نہیں آرہا تھا.
برہان کو معلوم تھا کہ وہ زخمی ہو چکا ہے. مگر پھر بھی اُس کے ہمت نہ ہارنے پر اب اُس کی خود کی ہمت جواب دے رہی تھی. وہ اپنے آدمیوں میں سب سے آخر پر موجود تھا. کیونکہ وہ اِس سب کے پیچھے اپنے باپ کی طرح اتنا پاگل نہیں تھا. کہ اپنی جان کی پرواہ نہ کرتا. اُسے اپنی زندگی بہت عزیز تھی. اِس لیے وہ کبھی خود کو زیادہ خطرے میں نہیں ڈالتا تھا.
برہان نے تلملا کر اپنے آدمیوں کو آگے بڑھنے کا حکم دیا ہی تھا. جب اچانک سے دائیں طرف سے اُن پر گولیوں کی بوچھاڑ شروع ہوگئی تھی.
ارحم ارتضٰی کو وہاں دیکھ مطمئن ہوا تھا. کیونکہ ارتضٰی کا یہاں ہونا اِس بات کا ثبوت تھا کہ ٹرک سیفلی یہاں سے نکل چکے ہیں.
ارتضٰی اور ارحم نے مل کر اگلے پانچ منٹوں میں برہان کے تمام آدمیوں کو مار گرایا تھا. برہان نے یہ سب دیکھتے جلدی سے وہاں سے فرار ہونا چاہا تھا. مگر تب تک وہ دونوں اُس کے گرد گھیرا تنگ کر چکے تھے.
” ہمارا ٹارگٹ تو خود چل کر ہمارے پاس آگیا. ہمیں زیادہ محنت ہی نہیں کرنی پڑی. “
ارتضٰی بندوق تانے برہان کی طرف بڑھتے زہر خند لہجے میں بولا. جبکہ برہان اچانک کایہ پلٹ جانے پر گھبراتے پیچھے ہٹا تھا.
” کک کون ہو تم لوگ. خبردار جو میرے قریب آنے یا مجھے نقصان پہنچانے کی کوشش کی تو. میرے باپ کو جانتے نہیں ہو تم لوگ. تمہاری نسلیں برباد کردے گا وہ.”
برہان پیچھے ہٹتے گھگھیائے لہجے میں بولا.
جب اُس کی دھمکی پر ارتضٰی اور ارحم کا ایک جاندار قہقہ برآمد ہوا تھا.
” نسلیں تو اب برباد ہوں گی تمہارے اُس گھٹیا باپ کی. “
ارتضٰی کا دل تو چاہا تھا ابھی ہی اُس کی اچھی طرح طبیعت صاف کردے مگر جگہ اور وقت کی نزاکت کو دیکھتے وہ لوگ اُس کو بےہوش کرکے گاڑی میں ڈالتے اڈے کو تباہ کرتے وہاں سے نکل آئے تھے.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

ماہ روش جیسے ہی سوکر اُٹھی ایک بہت ہی زبردست سی خوشبو کمرے میں بکھری ہوئی تھی. جسے محسوس کرتے ماہ روش نے اردگرد نظریں دوڑائی تھیں.
جب اُس کی نظر بیڈ سائیڈ ٹیبل پر پڑے انتہائی دلکش سے ریڈ اور وائٹ کلر کے گلابوں سے سجے بکے پر پڑی تھی. ماہ روش کے چہرے پر ایک خوش کن سی مسکراہٹ بکھر گئی تھی. اُس نے ہاتھ بڑھا کر اُنہیں اُٹھاتے اُن کی خوشبو اپنی سانسوں میں اُتاری تھی. جب اچانک اُس کی نظر اُسی جگہ پر موجود ایک خوبصورت سے کارڈ پر پڑی تھی.
” بیوٹی فل روزیز فار مائی بیوٹیفل وائف.
سوری فار ایوری تھنگ. “
کارڈ پر لکھی تحریر پڑھ کر ماہ روش کا دل زور سے دھڑکا تھا. کارڈ کی پوری شیپ ہی سوری کی شکل میں بنی ہوئی تھی.
جب ماہ روش کے غور کرنے پر اُسے پتا چلا تھا. کہ بکے میں بھی فلاورز کی ڈیزائننگ میں سوری لکھا ہوا تھا.
ماہ روش کے چہرے کے تاثرات فوراً بدلے تھے. وہ ارتضٰی کے یہ سب کرنے کا مقصد سمجھنے سے قاصر تھی. کیونکہ اُس کے مطابق ارتضٰی کو اُس سے محبت نہیں تھی.
ماہ روش بکے واپس وہی پر رکھتے بیڈ سے اُٹھ گئی تھی.
شاور لے کر فریش ہوتے وہ جیسے ہی باہر نکلی روم کے باہر ہی کچھ فاصلے پر پڑے ٹیبل پر اُسے ایک ریڈ فلاور کے ساتھ ایک خوبصورت سا کارڈ اور وائٹ کلر کا کیس رکھا نظر آیا تھا. جسے کوشش کے باوجود ماہ روش اگنور کرکے آگے نہ بڑھ سکی تھی.
ماہ روش نے کارڈ کھول کر دیکھا جہاں بھی سوری کے ساتھ لکھی لائن ماہ روش کی دھڑکنیں تیز کر گئی تھی. کارڈ پر ارتضٰی کی خوبصورت سی ہینڈ رائٹنگ میں لکھا تھا.
” آئم سوری.
آئم نیور لیو ود آؤٹ یو مائی لولی وائف.
یو آر مائی لائف لائن. “
ماہ روش کو یقین کرنا بہت مشکل ہورہا تھا کہ یہ سب ارتضٰی نے ہی لکھا ہے اور وہ بھی اُس کے لیے. مگر ارتضٰی کی ہینڈ رائٹنگ اِس بات کا ثبوت تھا کہ یہ اُسی نے ہی لکھا ہے.
ماہ روش نے پاس پڑا کیس کھولا تھا. جس میں ایک نازک سی پائل تھی. جس میں چھوٹے چھوٹے بیٹس کی شکل میں سوری لکھا گیا تھا.
میجر ارتضٰی سکندر اور اتنے رومینٹک انداز. ایک پل کے لیے تو تمام باتیں بھلاتے ماہ روش کے ہونٹوں پر ایک خوبصورت سی مسکراہٹ بکھر گئی تھی. وہ شخص اتنا بھی کھڑوس اور خشک مزاج بلکل نہیں تھا. جتنا وہ اُسے سمجھتی تھی. مگر یہ خیال کچھ پل کے لیے ہی تھا اگلے ہی لمحے ماہ روش وہ ساری چیزیں واپس ٹیبل پر رکھتی وہاں سے آگے بڑھ گئی تھی.
” اسلام وعلیکم!”
ماہ روش نے لاؤنج میں قدم رکھتے سب کو سلام کیا تھا. جبکہ نگاہوں نے بے اختیار اُس دشمنِ جاں کو ڈھونڈہ تھا. مگر وہ وہاں موجود نہیں تھا.
” وعلیکم اسلام!. کیسی طبیعت ہے اب میری بیٹی کی.”
ناہید بیگم نے ہاتھ پکڑ کر ماہ روش کو اپنے قریب بیٹھایا تھا.
” بڑی ماما اب کافی بہتر ہے. ماما کہاں ہیں نظر نہیں آرہیں.”
ماہ روش نے زینب بیگم کی کمی محسوس کرتے فوراً پوچھا تھا.
” وہ اُوپر ہیں ارتضٰی کے روم میں. دونوں پھوپھو بھتیجے کی کوئی بہت امپیورٹنٹ میٹنگ چل رہی ہے شاید. “
نیہا کے جواب پر ماہ روش کے کان کھڑے ہوئے تھے. اور ساتھ ہی ارتضٰی کی گھر میں موجودگی کا سوچ کر اُس نے پہلو بدلہ تھا.
” آپ کو بھی تجسس ہورہا ہوگا نا. ایسا کیا ڈسکس کررہے ہیں وہ دونوں. آپ اُوپر جاکر پتا کر لیں نا. ہم تو ارتضٰی بھائی کے کمرے میں نہیں جاسکتے مگر آپ کو تو ہر طرح کی پرمیشن حاصل ہے. “
منیزہ نے بےچارہ سا منہ بناتے کہا. جب کہ اُس کی بات پر ماہ روش کو حیرت ہوئی تھی.
” کیوں آپ کیوں نہیں جاسکتی.”
ماہ روش نے ملازمہ کے ہاتھ سے چائے کا مگ تھامتے پوچھا.
” آپ کو نہیں پتا کیا. ارتضٰی بھائی کو بلکل پسند نہیں کہ اُن کے روم میں کوئی بھی قدم رکھے تو. بڑوں کو تو کچھ نہیں کہتے مگر ہم سب کی خیر نہیں ہوتی. “
منیزہ کی بات سنتے ماہ روش نے افسوس سے نفی میں سر ہلایا تھا.
سڑیل کھڑوس کہیں کے.
ماہ روش دل ہی دل میں بڑبڑائی.
مگر جیسے ہی اُس کی نظر چائے کی سطح پر پڑی اُس کا دل دھک سے رہ گیا تھا.
جس کے اُوپر کریم سے ہارٹ کے ساتھ سوری لکھا ہوا تھا.
ماہ روش نے اردگرد دیکھا کوئی بھی اُس کی طرف متوجہ نہیں تھا. ماہ روش نے اُسے ختم کرنے کے لیے جلدی سے چائے کا گھونٹ بھر لیا تھا.
تبھی سیڑھیوں سے زینب اور ارتضٰی نیچے آتے نظر آئے تھے. ماہ روش فوراً سے نظریں پھیر گئی تھی. جبکہ اُسے ارتضٰی کی پرتپیش نظریں اپنے چہرے پر جمی محسوس ہورہی تھیں.
لیکن ماہ روش نے ایک بار بھی نگاہیں اُٹھا کر ارتضٰی کی طرف نہیں دیکھا تھا. ارتضٰی اُس کو یہ ناراض ناراض سا بے رُخی جتاتا رُوپ مزید دیوانہ کررہا تھا.
ماہ روش اِس وقت ییلو اور وائٹ کلر کے ڈریس میں بہت ہی فریش اور نکھری نکھری سی لگ رہی تھی. اور ارتضٰی کو اگنور کرنے کی کوشش کرتی وہ اُسے بہت پیاری لگی تھی. ارتضٰی کو بے اختیار اُس پر ٹوٹ کر پیار آیا تھا.
مگر اِس وقت وہ کوئی ایسی ویسی حرکت کرکے اُسے مزید خفا نہیں کرنا چاہتا تھا.
آج تک اُس نے کبھی کسی کو منانا تو دور سوری تک نہیں کہا تھا کسی سے بھی. کیونکہ آج تک اُسے کبھی کسی کی ناراضگی سے فرق ہی نہیں پڑا تھا. اور نہ ہی اُسے یہ سب کرنا آتا تھا.
مگر اب اپنی زندگی کے سب سے اہم انسان کو منانے کے لیے اُسے وہ سب کرنا پڑ رہا تھا. جسے کرنے کے بارے میں کچھ وقت پہلے وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا.
ماہ روش کو وہ اب بہت ہی نرمی اور احتیاط سے ہینڈل کرنا چاہتا تھا. وہ اُسے پہلے ہی بہت بار توڑ چکا تھا. اب مزید ہرٹ کرنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا.
ماہ روش دل میں دعائیں کررہی تھی کہ ارتضٰی اُسے کسی صورت مخاطب نہ کرے اور ایسا ہی ہوا تھا. اُس کی اٹکی سانسیں تب بحال ہوئی تھیں جب ارتضٰی اُس پر ایک گہری بھرپور نظر ڈالتے سب کو خدا حافظ کرتا وہاں سے نکل گیا تھا.
ماہ روش کی نگاہوں نے اُس کی چوڑی پشت کا دور تعاقب کیا تھا.
وہ جتنا بھی انکار کرتی مگر یہ شخص اُس کی سانسوں میں بستا تھا. دل کی دہائیوں کے باوجود وہ اُسے معاف کرنے اُس کے پاس جانے کے حق میں نہیں تھی. پہلے ہی اِسی دل کے ہاتھوں مجبور اپنی عزتِ نفس کو سائیڈ پر رکھ کر کئی بار وہ اُس سے اپنی محبت کی بھیک مانگ چکی تھی. مگر اب وہ ایسا بلکل نہیں کرنا چاہتی تھی.
وہ محبت میں انا کو بیچ میں لانے کی قائل بلکل نہیں تھی. مگر اُس کی بس اتنی سی خواہش تھی کہ اگر ارتضٰی سکندر واقعی اُس سے محبت کرتا ہے. اور اُسے اپنی زندگی میں شامل کرنا چاہتا ہے تو اُس کی زندگی کی تمام تلخ حقیقتوں کو قبول کرکے اُسے اپنائے. اُسے سب کے سامنے پوری عزت اور مان سے قبول کرتے اپنا نام دے.
وہ ہمیشہ سے جس تحفظ جس مان کو اپنے باپ میں تلاشتی آئی تھی.اور ہمیشہ جس سے محروم رہی تھی. وہ سب ارتضٰی سے ملنے کے بعد اُسے لگا تھا پورا ہوجائے گا. مگر ارتضٰی کے رویے نے اُسے واپس اُنہیں محرومیوں میں دھکیل دیا تھا.
لیکن اب ارتضٰی کا واپس پہلے والا انداز دیکھ اِس خواہش نے دوبارہ سر اٹھایا تھا. اور وہ یہ سب دوبارہ ارتضٰی سے پانے کی خواہش مند تھی.
مگر اُس نے خود سے عہد کیا تھا کہ چاہے کچھ بھی ہوجائے یہ اب باتیں کسی سے نہیں کہے گی. یہ ارتضٰی کا امتحان تھا اگر وہ واقعی اُس سے پیار کرتا ہے تو اُس کی ہر خواہش بن کہے جاننی ہوگی. اُس کی آنکھوں کی محرومیوں کو پہچاننا ہوگا.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

جاری ہے