Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 39

” بابا آئی نو آپ کی وہاں بہت زیادہ مصروفیت ہے. جسے چھوڑ کر آنا آپ کے لیے بلکل پاسبل نہیں ہے. مگر کیا پچھلی پوری زندگی کی طرح اِس اتنے اہم موڑ پر بھی مجھے اپنے پیرنٹس کے بغیر اکیلے ہی آگے بڑھنا ہوگا. “
بات کرتے ریحاب کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے تھے. کیونکہ اُس کے بابا نے اُس کی شادی کی بات سن کر بھی آنے سے انکار کردیا تھا.
ریحاب اپنے روم میں ہی کھڑکی کے پاس کھڑی فون پر بات کرنے میں مصروف تھی. جب ارحم نے دبے پاؤں اندر داخل ہوتے ریحاب کو پیچھے سے جاکر اپنی بانہوں کے حصار میں لیا تھا.
ریحاب جس کا پورا دھیان موبائل کی طرف تھا. اچانک ہونے والے اِس حملے پر بوکھلاتے اُس کی ہلکی سی چیخ نکل گئی تھی.
اور بہت مشکل سے موبائل ہاتھ سے چھوٹتے چھوٹتے بچا تھا.
ارحم نے اُس کے گرد بازو باندھ کر مکمل طور پر اُسے اپنے حصار میں قید کر لیا تھا. اور اپنی ٹھوڑی ریحاب کے کندھے پر ٹکاتے اپنا گال اُس کی گال کے ساتھ مس کیا تھا.
ریحاب نے ارحم کی گرفت سے نکلنے کی بہت کوشش کی تھی. مگر ہمیشہ کی طرح گرفت بہت مضبوط تھی.
” حج جی بابا میں ٹھیک ہوں. جی آواز بھی آرہی ہے. “
ریحاب نے بہت مشکل سے یہ الفاظ ادا کیے تھے. کیونکہ ارحم کا ایک ہاتھ اُسے اپنے پیٹ پر گردش کرتا محسوس ہوا تھا. جبکہ ارحم اُوپر سے کبھی اُس کے کھلے بالوں کی مسحور کن خوشبو محسوس کرتے اُن میں چہرا چھپا رہا تھا. اور کبھی اُس کے چہرے کو چھو رہا تھا.
” جی جی بابا میں آپ کی بات سن رہی ہوں.”
ریحاب سے بولنا دشوار ہورہا تھا. لیکن ارحم کو تو اپنی ہی مستیاں سوجی ہوئی تھیں.اور وہ جان بوجھ کر ریحاب کو تنگ کررہا تھا.
جس پر ہلکا سا چہرہ موڑ کر ریحاب نے ملتجی انداز میں ارحم کی طرف دیکھا تھا. جو نہ تو اُسے چھوڑ رہا تھا اور نہ ہی اپنی حرکتیں بند کررہا تھا.
” بابا ماما آپ سے زیادہ مصروف ہیں اُن کا کہنا ہے کہ اُنہیں آؤٹ آف کنٹری جانا ہے. اُن کے مطابق میں آپ سے کنٹیکٹ کروں اور آپ کا کہنا ہے کہ اُن سے. اِس کا مطلب میں آپ کی طرف سے بھی انکار ہی سمجھوں. “
ریحاب نے بہت مشکل سے اپنی بات مکمل کی تھی کیونکہ اُسے ارحم کی سانسیں اب اپنی گردن پر محسوس ہورہی تھیں.
” اوکے بابا آپ کا جو بھی فیصلہ ہوا مجھے انفارم کردیجئے گا. “
ریحاب نے فون بند کرنا ہی مناسب سمجھا تھا.
” کیپٹن ارحم آصف آپ دن بدن بہت ہی بے شرم ہوتے جارہے ہیں. “
ریحاب نے موبائل سائیڈ ٹیبل پر رکھتے ارحم کو گھورنا چاہا تھا. مگر ارحم کی کی جانے والی اگلی جسارت پر ریحاب کچھ کہہ ہی نہیں پائی تھی.
” جان من ابھی آپ نے ہماری بے شرمی دیکھی ہی کہاں ہے. “
ارحم نے اُس کو رُخ اپنی طرف موڑتے ریحاب کا سُرخی مائل چہرہ دیکھا تھا. جو کچھ ٹائم تو اُس کی حرکت پر کچھ بول ہی نہیں پائی تھی.
” یہ آپ کو آرمی کی ٹریننگ ہی دی گئی ہے نا. یا کہیں غلطی سے آپ کوئی اور ہی ٹریننگ لے کر آگئے ہیں. “
ریحاب نے ایک زور دار تھپڑ اُس کے بازو پر مارا تھا. جو سیدھا کل لگنے والی گولی کے زخم پر جالگا تھا.
” آؤچ.”
تھپڑ عین زخم کے اُوپر لگنے کی وجہ سے وہاں سے خون نکل آیا تھا. اور درد کی وجہ سے ارحم ہلکا سا بلبلا کر رہ گیا تھا.
” کک کیا ہوا یہ. آپ کا خون کیسے آرہا.”
ریحاب ارحم کے چہرے پر درد کے آثار دیکھ کر اور وائٹ شرٹ پر لگا خون دیکھ کر گھبرا گئی تھی. ارحم نے ابھی بھی ریحاب کو اپنے حصار سے آزاد نہیں کیا تھا.
” ڈونٹ وری کچھ نہیں ہوا. ہلکا سا زخم ہے ٹھیک ہوجائے گا. “
ارحم نے ریحاب کی آنکھوں میں نمی دیکھ اُسے تسلی دیتے کہا.
” نہیں ہلکے سے زخم سے اتنا خون نہیں نکلتا. آپ ضرور مجھ سے کچھ چھپا رہے ہیں. اور آپ نے پہلے کیوں نہیں بتایا مجھے کہ یہاں زخم ہے. جانتی ہوں آپ آرمی والے بہت باہمت ہوتے ہر طرح کا درد برداشت کرنے کا حوصلہ رکھتے مگر اتنی لاپرواہی بھی اچھی نہیں ہوتی. بیٹھیں یہاں مجھے دیکھنے دیں اتنا خون کیوں نکل رہا ہے. “
ریحاب کی نظریں تو ارحم کی بازو سے خون آلود شرٹ پر ہی جمی ہوئی تھیں. خود کو اُس کے حصار سے آزاد کرواتے اُس نے ارحم کو صوفے پر بیٹھا دیا تھا.
” یار کچھ بھی نہیں ہے تم ایسے ہی اتنا پریشان ہورہی ہو. اور یہاں میں تم سے بازو کے زخم کا علاج کروانے نہیں آیا بلکہ اِس بچارے کا علاج کروانے آیا ہوں. “
ارحم نے ریحاب کا ہاتھ اپنے دل پر رکھتے ہوئے کہا. درد کے باوجود آنکھوں میں شوخی واضح تھی.
” اِس کا علاج بھی میں کر دیتی ہوں. پہلے آپ اپنی شرٹ اُتاریں. “
ریحاب کو ارحم کا مسلسل نکلتا خون اب فکرمند کررہا تھا. جبکہ ارحم کو اپنی مستیوں میں اِس بات کی پرواہ ہی نہیں تھی.
یہ پہلی دفعہ نہیں ہوا تھا. وہ پہلے بھی بہت بار گولیاں کھا چکا تھا. اور ڈاکٹر کی ہدایت کو فالو نہ کرتے رات بھر کام کرنے اور مسلسل مومنٹ کی وجہ سے اُس کی بینڈیج خراب ہوچکی تھی.
” واؤ اگر میری بیگم کا موڈ اتنا ہی رومینٹک ہورہا ہے تو وہ خود ہی میری شرٹ اُتار دے. “
ارحم نے آرام سے صوفے کی بیک سے سر ٹکاتے ریحاب کو چھیڑا.
ریحاب نے ایک نظر ارحم کے بازو پر ڈالا تھا. اور ایک نظر ارحم کو ویسے ہی بیٹھے دیکھ ناچار اُس کی طرف جھکتے ریحاب نے کانپتے ہاتھوں سے ارحم کی شرٹ کے بٹن کھولنے شروع کیے تھے.
اب ارحم کو ریحاب کا یہ کیئر کرتا فکرمند انداز بہت اچھا لگ رہا تھا. جھکنے کی وجہ سے ریحاب کے بالوں کی چند لٹیں ریحاب کے چہرے پر آگئی تھیں. جنہیں ارحم نے نرمی سے اُس کے چہرے سے ہٹاتے اُس کے کان کے پیچھے اڑاسا تھا.
ارحم کی شوخ نظریں اور حرکتوں سے ریحاب کے ہاتھوں کی کپکپاہٹ میں مزید اضافہ ہوا تھا. بمشکل بٹن کھولتے ریحاب نے ارحم کے بازوؤں سے شرٹ نکالی تھی.
اُس کو شرٹ لیس اتنے قریب دیکھ شرم کے مارے ریحاب بلکل لال ہوچکی تھی. مگر جیسے ہی ریحاب کی نظر ارحم کے بازو پر پڑی. اُسے اپنی جان نکلتی محسوس ہوئی تھی.
ریحاب نے جلدی سے فرسٹ ایڈ باکس لاکر ارحم کے ساتھ صوفے پر بیٹھتے اُس کی پہلی سے کی گئی بینڈیج کو اُتارنا شروع کردیا تھا.
پر جیسے جیسے ارحم کا زخم ریحاب کے سامنے آرہا تھا. ریحاب کے آنسوؤں میں مزید اضافہ ہو رہا تھا.
” ریحاب میری جان رو کیوں رہی ہو. کچھ نہیں ہوا مجھے یہ صرف ایک معمولی سا زخم ہے. “
ارحم کو ریحاب کے آنسو بے چین کر گئے تھے. وہ دوسرے ہاتھ سے ریحاب کے آنسو اپنی پوروں پر چنتے پیار سے بولا.
” آپ جھوٹ بول رہے نا مجھ سے. یہ معمولی زخم نہیں ہے. آپ کو گولی لگی ہے. اتنا بڑا زخم ہے اتنا خون بہہ رہا ہے. آپ کو درد تو بہت ہورہا ہوگا نا. “
ارحم کا درد محسوس کرتے ریحاب سے اپنے آنسو روکنا مشکل ہورہے تھے. جبکہ ارحم کو اپنے زخم سے زیادہ ریحاب کے آنسو تکلیف دے رہے تھے.
ریحاب نے جلدی جلدی ارحم کا خون صاف کرتے دوبارہ سے اچھی طرح بینڈیج کر دی تھی.
بچپن سے اپنا ہر زخم کا مرہم وہ خود ہی کرتی آئی تھی. اِس لیے بینڈیج میں تو وہ اچھی خاصی ایکسپرٹ تھی.
” گولی چھو کر گزر گئی تھی. کچھ ہی دنوں میں یہ زخم ٹھیک ہوجائے گا. اور میں بلکل سچ کہہ رہا ہوں. مجھے اب بلکل بھی درد نہیں ہورہا اور جب مرہم اتنے پیارے ہاتھوں نے رکھا ہو تو درد کیسے ہوگا. “
ارحم نے ریحاب کو اپنے بازو کے حصار میں لیتے قریب کیا تھا.
” پکا نا آپ کو درد نہیں ہورہا. “
ریحاب کو ابھی بھی یقین نہیں آرہا تھا. ارحم نے اثبات میں سر ہلاتے اُسے یقین دلایا تھا.
” میں ابھی ہلدی والا دودھ لے کر آتی ہوں آپ کے لیے. “
ریحاب نے اُس کے پاس سے اُِٹھنا چاہا تھا جب ارحم نے اُس کا ہاتھ تھام کر روک لیا تھا.
” یار چھوڑو اُس سب کو اور یہاں میرے پاس بیٹھو. مجھے ابھی دوبارہ بہت ضروری کام سے جانا ہے. میں یہاں صرف تم سے ملنے آیا تھا تھوڑی دیر. “
ارحم کی بات پر ریحاب نے اُسے آنکھیں نکال کر غصے سے دیکھا.
” بلکل بھی نہیں. آج تو میں کسی صورت نہیں جانے دوں گی آپ کو. زخم دیکھا ہے اپنا. اُٹھیں یہاں سے اور خاموشی سے وہاں بیڈ پر جاکر آرام کریں. “
ریحاب کے غصے پر ارحم ڈرنے کی ایکٹنگ کرتے صوفے سے اُٹھتے بیڈ کی طرف بڑھا تھا.
” ریحاب پلیز میرے اُوپر یہ کمبل تو پھیلا دو. مجھ سے ہو نہیں رہا. “
ارحم نے بیڈ پر لیٹتے بے چارگی سے ریحاب کو آواز دی تھی.
ریحاب نے جلدی سے اُس کے پاس آتے کمبل پھیلایا تھا. مگر وہ جیسے ہی پیچھے ہٹنے لگی. ارحم نے اُس کے بازو کو گرفت میں لیتے زور سے جھٹکا دیتے اپنے اُوپر گرا لیا تھا.
ریحاب کی اِس اچانک افتاد پر زور دار چیخ برآمد ہوئی تھی.
” مجھے دودھ تو لانے دیں. “
ریحاب نے ارحم کے سینے سے اُٹھنا چاہا تھا. مگر ارحم کروٹ بدلتے اُسے اپنی قید میں لے چکا تھا.
” پر مجھے دودھ سے بھی زیادہ اِس وقت تمہاری ضرورت ہے. “
ارحم کی سرگوشی ریحاب کی سانسیں منتشر کر گئی تھی.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

” سب کے سب نکمے مارے گئے. آخر ہوکیا گیا ہے میرے آدمیوں کو. میں ایک ہفتے کے لیے باہر کیا گیا. یہاں تو سب برباد کردیا تم لوگوں نے. برہان لاپتہ ہوگیا ہے. تینوں کے تینوں ٹرک غائب ہوگئے. وہ چار لوگ آکر سب کچھ تباہ کرکے چلے گئے. اور تم لوگ میرے آنے کا انتظار کرتے رہے. ہمایوں اور سونیا کہاں ہے بلاؤ اُنہیں. “
ذی ایس کے ایک ہفتے کے لیے انڈیا گیا ہوا تھا. جب واپس آیا تو پانچ دن پہلے ہونے والے نقصان کا سنتے اُس کا دماغ چکرا گیا تھا.
اُس کا جانشین اُس کا بیٹا دشمنوں کے ہاتھ لگ چکا تھا. یہ بات ذوالفقار کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے کافی تھی.
ذوالفقار کے حکم پر اُس کا آدمی سر ہلاتا وہاں سے نکل گیا تھا. جب اُسی وقت برہان کا خاص آدمی عجلت میں اندر داخل ہوا تھا.
” ہاں جلدی بولو. کچھ پتا چلا کہ اتنے خفیہ رکھے جانے والے کام کی مخبری کس حرام خور نے کی. ایسا کون ہے ہمارے بیچ جسے اپنی زندگی پیاری نہیں ہے. اور جو ہمارے دشمنوں کو ہر خبر پہنچا رہا ہے. “
ذی ایس کے کے زہر خند لہجے پر سامنے کھڑا شخص کوئی قصور نہ ہوتے ہوئے بھی کانپ گیا تھا. کیونکہ جو خبر وہ سنانے والا تھا وہ ذی ایس کے کے غضب میں مزید اضافہ کرنے والی تھی.
” بولو بھی یا یوں ہی بت بنے میرے سامنے کھڑے رہو گے.”
ذوالفقار ایک بار پھر دھاڑا تھا.
” وہ…وہ جو ہماری ہر خبر دشمنوں تک پہنچاتی رہی ہے. جو دشمنوں کے ساتھ مل کر ہمارے خلاف کام کررہی ہے. وہ کوئی اور نہیں الوینہ ہے.
جس دن سمگلنگ کے بارے میں پورا منصوبہ بنایا گیا. اُسی دن سی سی ٹی وی کیمروں میں الوینہ کو وہاں مشکوک حرکتیں کرتے پایا گیا. اور اُس نے چھپ کر تمام باتیں سنی بھی. “
اُس کی بات سنتے ہی ذوالفقار کا رنگ متغیر ہوا تھا.
” ابھی کہ ابھی لے کر آؤ. اُس حرام زادی کو میرے پاس. آج میں اُس کا وہ حال کروں گا. کہ اپنی موت کی بھیک مانگے گی وہ مجھ سے. “
ذوالفقار کی بات سنتے اِس وقت تو سامنے کھڑے شخص نے آج اپنی زندگی بچ جانے کی دعا کی تھی.
” سر وہ ہماری اتنی سیکیورٹی کے باوجود بھی کل رات کو پتا نہیں کیسے فرار ہوگئی. ہم لوگ رات سے ہی اُسے تلاش کرنے کی بہت کوشش کر رہے ہیں. مگر اُس کا اب تک کوئی پتا نہیں چل سکا. “
ابھی اُس نے بات ختم کی ہی تھی. جب ذوالفقار کے بھاری ہاتھ کا پڑنے والے تھپڑ نے اُس دو فٹ دور جا پٹخا تھا.
” اتنے کیمروں کے اتنے گارڈز کے ہوتے وہ زرا سی چھوکڑی یہاں سے فرار ہوگئی. اور تم لوگوں کو پتا بھی نہ چل سکا. تمہارا انعام تو بنتا ہی ہے. “
ذوالفقار نے پستول نکالتے اُس کی دونوں ٹانگوں پر فائر کردیا تھا. جس پر وہ درد سے بلبلاتے کچھ دیر بعد وہیں بے ہوش ہوگیا تھا.
ذوالفقار اُسے پاؤں سے پڑے دھکیلتے وہاں سے نکل گیا تھا.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

ماہ روش اب مکمل طور پر صحت یاب ہوچکی تھی. اُس نے فیصلہ کر لیا تھا کہ اب وہ جلد ہی یہاں سے چلی جائے گی. وہ مزید اُس کھڑوس انسان کے احسان نہیں لینا چاہتی تھی.
مگر گھر والوں کی محبت نے اُسے ابھی کوئی بھی انتہائی قدم اُٹھانے سے روک رکھا تھا. اُس نے پہلی بار اپنے پرخلوص اور سچے رشتے دیکھے تھے. اِس مختصر سے عرصے میں سب لوگوں سے اُسے جو محبت ملی تھی. وہ اُس کی زندگی بھر کا اثاثہ تھی.

اُس کا بس چلتا تو کبھی بھی اِن سب سے خاص کر اپنی ماما سے دور جانے کے بارے میں سوچتی بھی نہیں لیکن ایک سنگدل انسان کی سنگدلی نے اُسے ایسا کرنے پر مجبور کردیا تھا.
ارتضٰی کے بارے میں سوچتے ماہ روش کی آنکھیں نم ہوئی تھیں. وہ خود اُسے نجانے کتنی بار باتیں سنا چکا تھا. اور اُس کی صرف ایک بار کی کہی باتوں پر وہ اتنا اٹیچیوڈ دیکھا رہا تھا کہ اُس کے بعد ایک بار بھی اُسے مخاطب نہیں کیا تھا.
مگر گفٹ دینے اور سوری کرنے کا سلسلہ ابھی بھی جاری تھا. پچھلے پانچ دنوں کے دوران ماہ روش ارتضٰی کی طرف سے اِن ڈائریکٹلی سو سے اُوپر سوری کے کارڈز اور گفٹ وصول کر چکی تھی.
ماہ روش اپنی سوچوں میں اُلجھتی گاڑی کی طرف بڑھ رہی تھی. وہ تھوڑی دیر ایک ضروری کام سے آفس جانا چاہتی تھی. اِس لیے بلیک کپڑوں میں سر اور چہرے کو اچھی طرح بلیک کلر کے خوبصورت سے سکارف سے کور کیے وہ بہت ہی پُرکشش لگ رہی تھی. اُس کی بڑی بڑی دلکش آنکھیں جو کسی کو بھی اپنے ایک وار سے چاروں شانے چت کردینے کی طاقت رکھتی تھیں. نیہا کے زبردستی اُن میں کاجل لگانے کی وجہ سے مزید قاتل لگ رہی تھیں.
ماہ روش کے پاس آنے پر کچھ فاصلے پر سر جھکائے ڈرائیور نے بہت ہی مودبانہ انداز میں ماہ روش کی طرف گاڑی کی کیز بڑھائی تھیں.
ماہ روش نے اُس سے کیز لیتے جیسے ہی گاڑی کا دروازہ کھولا سامنے ہی ڈرائیونگ سیٹ پر ایک اور نئے طرز کا سوری والا کارڈ پڑا تھا. جس کے ساتھ وائٹ پھولوں کا ایک بکے اور سلور کلر کے ریپر میں پیک کوئی گفٹ پڑا تھا. ماہ روش نے چہرا گھما کر ایک نظر پیچھے کھڑے ڈرائیور کی طرف دیکھا مگر وہ ویسے ہی سر جھکائے ہاتھ باندھے کھڑا تھا.
ماہ روش نے گہرا سانس بھرتے گاڑی میں بیٹھتے کارڈ کھولا. مگر سامنے لکھی تحریر پڑھ کر نہ چاہتے ہوئے بھی اُس کے لبوں پر ایک خوبصورت سی مسکراہٹ بکھر گئی تھی.
” سوری میری جان اب تو اپنے اِس کھڑوس پلس بےچارے ہزبینڈ کو معاف کر دو.
پچھلے ایک ہفتے سے جو حرکتیں میں کررہا ہوں.
اب تو میرے تمام ملازمین اور گارڈز بھی مجھے ہمدردی بھری نظروں سے دیکھتے ہیں.”
ماہ روش نے ارتضٰی کی لکھی تحریر پر محبت سے ہاتھ پھیرتے بہت مشکل سے دل پر پتھر رکھتے تمام چیزوں کو اُٹھا کر بیک سیٹ پر رکھ دیا تھا.
اور گاڑی سٹارٹ کرتے نور پیلس سے نکل آئی تھی.
ماہ روش آفس جانے کے راستے پر ہی تھی جب سگنلز پر گاڑی رکی تھی.
گاڑی میں بیٹھے اچانک ماہ روش کی نظر دو گاڑیاں چھوڑ کر تیسری گاڑی پر پڑی تھی. اور سامنے کا منظر دیکھتے ماہ روش کی آنکھیں حیرت اور بے یقینی سے پوری کی پوری کھل گئی تھیں.
اُس گاڑی میں ارتضٰی کے ساتھ کوئی لڑکی موجود تھی. جس نے چہرے پر چادر ایسے پھیلا رکھی تھی کہ اُسے پہچاننا مشکل تھا.
سگنل کھلتے ہی جیسے ہی ارتضٰی نے گاڑی آگے بڑھائی ماہ روش نے بھی گاڑی کی سمت چینج کرتے ارتضٰی کی گاڑی کی طرف موڑ دی تھی.
ارتضٰی کو اِس طرح کسی اور لڑکی کے ساتھ دیکھ ماہ روش کے اندر آگ لگ چکی تھی.
ابھی تو بیلا والا معاملہ ختم نہیں ہوا تھا کہ اب یہ نئی لڑکی کہاں سے ٹپک پڑی تھی. ماہ روش نے گھر میں بیلا کو ایک بار بھی نہیں دیکھا تھا. نہ اُس کا کوئی ذکر سنا تھا اور نہ ہی خود پوچھنا مناسب سمجھا تھا. مگر جس طرح ارتضٰی کی شادی کی تیاریاں ہورہی تھیں اِس کا تو یہی مطلب تھا کہ بیلا پاکستان میں ہی موجود تھی.
ماہ روش نے ارتضٰی کو شک نہ ہوجائے اِس لیے گاڑی کافی فاصلے پر رکھی ہوئی تھی. اور سپیڈ بھی ارتضٰی کی گاڑی کی سپیڈ جتنی ہی رکھی ہوئی تھی.
مگر پہلے میجر ارتضٰی سکندر کی نظر سے کچھ بچ پایا تھا جو اب ایسا ہوتا. اور الوینہ کی حفاظت کی وجہ سے وہ کچھ زیادہ ہی الرٹ تھا.
اُسے کافی دیر سے محسوس ہورہا تھا. جیسے پچھلی گاڑی اُس کا پیچھا کر رہی ہے. ارتضٰی نے سپیڈ کم کرتے بیک ویو مرر سے پچھلی گاڑی کا جائزہ لیا تھا. مگر اپنے ہی گھر کی گاڑی دیکھ اُسے حیرانی ہوئی تھی.
مگر مزید غور کرنے پر جو چیز سامنے آئی تھی. ارتضٰی کے چہرے پر ایک دلکش اور بے ساختہ مسکان چھوڑ گئی تھی.
اُس کی اپنی زوجہ محترمہ اُس کا پیچھا کررہی تھیں. ارتضٰی نقاب میں سے بھی ماہ روش کو بآسانی پہچان گیا تھا.
ارتضٰی کو ماہ روش کی یہ حرکت غصہ دلانے کے بجائے ایک خوشگوار سا تاثر بخش گئی تھی.
ماہ روش کی اُس کے لیے محبت میں زرا بھی کمی نہیں آئی تھی. وہ اب بھی ویسے ہی اُسے چاہتی تھی. اُس کے ساتھ کسی لڑکی کو برداشت نہیں کرپائی تھی.
ارتضٰی نے گاڑی کی سپیڈ مزید بڑھا دی تھی. ماہ روش نے بھی ارتضٰی کو سپیڈ بڑھاتے دیکھ سپیڈ بڑھا دی تھی. جب اگلے ہی لمحے ارتضٰی نے ہونٹوں پر شریر مسکراہٹ سجائے سپیڈ بلکل آہستہ کر دی تھی.
جس کی وجہ سے تیز سپیڈ میں آتی ماہ روش کی گاڑی ارتضٰی کی گاڑی کے بہت قریب آگئی تھی. ماہ روش نے بہت مشکل سے گاڑی کی سپیڈ کو کنٹرول کرتے ارتضٰی کی گاڑی سے دور رکھا تھا.
ماہ روش غصے میں اِس طرف دھیان دینا بھول چکی تھی کہ آخر اچانک ارتضٰی ایسا کیوں کررہا ہے. وہ تو ارتضٰی کی حرکتوں پر مزید تپ چکی تھی.
جبکہ ارتضٰی کو ماہ روش کو تنگ کرکے بہت مزہ آرہا تھا. اُس کے برابر میں بیٹھی الوینہ دلچسپی سے ارتضٰی سکندر کا سنجیدگی اور دوٹوک انداز سے ہٹ کر یہ نیا رُوپ دیکھ رہی تھی.
ارتضٰی کے مسلسل مسکرانے کی وجہ سے اُس کے رخسار پر موجود گڑھے مزید گہرے ہورہے تھے. الوینہ کو اپنا آپ اِس شاندار اور سب سے منفرد حسین مرد کی چاہت میں ڈوبتا ہوا محسوس ہو رہا تھا.
ارتضٰی سے ملاقات کے بعد اُس نے کسی مرد کو بھی اپنے قریب نہیں آنے دیا تھا. وہ جانتی تھی کہ وہ اِس بدکردار مرد کے قابل بلکل بھی نہیں تھی.
مگر اب وہ اپنی آگے کی زندگی اِس شخص کے نام پر گزارنا چاہتی تھی.
ارتضٰی سے ملاقات کے بعد اُس نے بہت عرصے بعد نماز اور قرآن پاک پڑھا تھا. اور دل کی اولین خواہش کے باوجود ارتضٰی کو ایک بار بھی اپنے لیے دعاؤں میں نہیں مانگا تھا. صرف اور صرف اُس کی سلامتی اور کامیابی کی دعا مانگی تھی.
اور ساتھ ہی اُوپر والے سے اُس جہنم سے نکلنے کی دعا بھی کی تھی. جو ارتضٰی کی شکل میں اب پوری کردی گئی تھی.
الوینہ نے ایک بار پھر ارتضٰی کی طرف دیکھا تھا. کل رات سے وہ اُس کے ساتھ تھی مگر ایک بار بھی اُس نے ارتضٰی کے چہرے پر بھولے سے بھی مسکراہٹ نہیں دیکھی تھی. مگر ابھی کچھ دیر پہلے پتا نہیں ایسا کیا ہوا تھا کہ ارتضٰی کے چہرے سے مسکراہٹ ہٹ ہی نہیں رہی تھی.
ارتضٰی ڈیڑھ گھنٹہ مسلسل ڈرائیونگ کرتا رہا تھا. کہ کیا پتا ماہ روش ہار مان کر وہاں سے چلی جائے.
مگر آگے سے بھی کیپٹن ماہ روش تھی جو ارتضٰی سکندر کے معاملے میں پوری دنیا سے غافل ہوکر بے گانہ نہیں پائی تھی. تو اب کیسے ہوتی.
ارتضٰی ابھی ماہ روش کی اپنے لیے دیوانگی سے واقف ہی نہیں تھا.
ارتضٰی نے آخر کار اپنے فلیٹ کے قریب پہنچ کر گاڑی روک دی تھی. کیونکہ اِس طرح باہر رہنا الوینہ کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتا تھا. ورنہ اُن دونوں ضدی میاں بیوی میں سے تو کسی نے ہار نہیں ماننی تھی.
ارتضٰی کے ساتھ اُس لڑکی کو اندر کی طرف بڑھتا دیکھ ماہ روش نے بھی گاڑی سائیڈ پر پارک کی تھی. اُسے پہلے تو ایک بار محسوس ہوا تھا کہ ارتضٰی کو اُس پر شک ہوگیا ہے. مگر اب ارتضٰی کو اُس لڑکی کے ساتھ اندر جاتا دیکھ ماہ روش اُسے اپنی غلط فہمی ہی سمجھی تھی.
اُن کے اندر داخل ہوتے ہی ماہ روش بھی جلدی سے اندر داخل ہوئی تھی.
مکمل ڈھکا ہونے کی وجہ سے ماہ روش کو اِس بات کی ٹینشن نہیں تھی کہ وہاں کوئی بھی اُسے پہچان سکے گا.
ارتضٰی الوینہ کے ساتھ فلیٹ کے اندر داخل ہوا. اور دانستہ ماہ روش کی خاطر دروازہ کھلا ہی چھوڑ دیا تھا.
” مس الوینہ آپ نے ہماری بہت زیادہ مدد کی ہے. جس کا احسان ہم زندگی بھر نہیں چکا سکتے. مگر ہاں اتنا کہہ سکتا ہوں کہ اب آپ بلکل محفوظ ہیں. اب دوبارہ کبھی وہ درندے آپ کی پرچھائی تک بھی نہیں پہنچ پائیں گے. جب تک ذی ایس کے کا دی اینڈ نہیں ہوجاتا. آپ آرمی کے انڈر ہی رہیں گی.
اور اُس کے بعد آپ کو آپ کی خواہش کے مطابق ایک بہترین زندگی فراہم کی جائے گی. “
ارتضٰی کی بات پوری توجہ سے سنتی الوینہ نرمی سے مسکرائی تھی.
” مدد میں نے نہیں آپ نے میری کی. مجھے ہدایت کا راستہ دیکھا کر. مجھے میری زندگی اور آخرت سنوارنے کا موقع دے کر.
آپ کو میرا نہیں بلکہ احسان مند تو مجھے آپ کا ہونا چاہیے کہ اُس دلدل سے نکال کر مجھے عزت اور تحفظ بخشا ہے. جہاں سے میں شاید کبھی نہ نکل پاتی. “
الوینہ نے بھی اپنے دلی جذبات سے آگاہ کیا تھا.
جب ارتضٰی نے مزید ایک دو باتیں کرنے کے بعد اُسے آرام کرنے کے لیے کمرے میں بھیج دیا تھا.
اور اپنی معصوم سی نازک جاسوس کی تلاش میں نظریں دوڑائیں.
ماہ روش اُن دونوں کے داخل ہونے کے دس منٹ کے بعد فلیٹ کا دروازہ کھلا دیکھ اندر داخل ہوئی تھی.
وہ اُن دونوں کی باتیں تو نہیں سن پائی تھی. مگر ماہ روش نے اُس لڑکی کو روم میں جاتے دیکھا تھا.
ارتضٰی نے جان بوجھ کر باہر کی تمام لائٹس آف کردی تھیں.

جاری ہے