Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 32

” مجھے آپ سے بات کرنی ہے. پلیز ایک دفعہ میری بات تو سن لیں. “
ارحم کو وہاں سے ہٹتے دیکھ ریحاب ہولے سے منمنائی.
” مگر مجھے تم سے کوئی بات نہیں کرنی. اور ویسے بھی اب کہنے سنے کو بچا ہی کیا ہے. “
ارحم شرٹ پہنتا دوبارہ باہر جانے کو تیار ہورہا تھا.
ریحاب نے ہمیشہ اُس کا نرم لہجہ ہی دیکھا تھا. اِس لیے کسی صورت اُس کی بے رُخی برداشت نہیں ہوپارہی تھی.
” میں نے کچھ بھی جان بوجھ کر نہیں کیا. اُس وقت جو حالات پیدا ہوگئے تھے میں کچھ سمجھ ہی نہیں پائی.”
ریحاب کو ارحم کی بے اعتنائی پر پھر سے رونا آرہا تھا. جو اُس کی شکل دیکھنے کا بھی روادار نہیں تھا.
جب ارحم نے اُس کی طرف مڑتے اُس کے بازو کو جھٹکا دیتے نزدیک کیا تھا.
” ریلی جان بوجھ کر نہیں کیا تم نے. مجھے بغیر بتائے گھر سے نکل جانا. اور وہاں پر بھی مجھے کال کرنے کے بجائے تم نے ماہ روش کو جھوٹ بول کر بلوا لیا. کیا تمہیں مجھ پر زرا بھی بھروسہ نہیں تھا.”
ارحم کو پہلے ہی اُس پر بہت غصہ تھا. اور اب ریحاب کی صائمہ بیگم سے کہی بات اُسے مزید تپا گئی تھی.
” نہیں ایسا نہیں ہے. “
ریحاب نے کچھ کہنا چاہا مگر ارحم نے اُسے روک دیا تھا.
” ایسا ہی ہے. کیونکہ تمہارے لیے میں ہمیشہ ایک مہرا ہی رہا ہوں. جسے تم نے صرف اپنے بھائی کی حفاظت اور اپنی مدد کے لیے یوز کیا.
میں جانتا ہوں میری غلطی ہے مجھے تمہیں انیس کے بارے میں بتا دینا چاہئے تھا. مگر میں چاہتا تھا تم ایک بار مجھ پر ٹرسٹ کرکے ساری بات مجھے بتا دو مگر میری اِس خواہش نے تمہاری نظروں میں میری اہمیت کو واضح کردیا ہے. “
ریحاب نے نظریں اُٹھا کر اپنے قریب کھڑے ارحم کی طرف دیکھا تھا. جو بدگمانی کی انتہا پر تھا. اور اُس کی کوئی بات سننے کو تیار ہی نہیں تھا.
” اور اب بھی تو صرف اپنا گلٹ کم کرنے کے لیے معافی چاہئے تمہیں. تاکہ تمہیں سکون مل سکے پرواہ تو تمہیں اب بھی نہ میری ہے نہ کسی اور کی.
مگر جب تک ماہ روش ٹھیک نہیں ہوجاتی تمہیں معاف کرنا میرے بس میں نہیں ہے. “
ارحم سپاٹ چہرے کے ساتھ اُسے دیکھتا روم سے نکل گیا تھا.
ریحاب اپنا سر پکڑ کر وہیں بیٹھ گئی تھی. اُس نے اپنی بےوقوفی اور نادانی میں اپنے آپ کو کتنا غلط بنا لیا تھا سب کی نظروں میں اور خاص کر ارحم کی نظروں میں.
لیکن وہ کیا بتاتی اُسے کہ پوری زندگی اپنے ماں باپ فیملی سے دور ہاسٹل میں رہنے کی وجہ سے آج تک اُسے ایسے رشتوں سے واقفی تھی ہی نہیں.
جن رشتوں میں آنکھیں بند کرکے ایک دوسرے پر یقین کیا جاتا ہے. جن پر آپ کو بھروسہ ہوتا ہے کہ وہ زندگی کے ہر موڑ پر آپ کا ساتھ دیں گے. کبھی کسی بھی سچویشن میں آپ کو تنہا نہیں چھوڑیں گے.
کیونکہ اُس کے ساتھ تو ہوا ہی ایسا تھا. ماں باپ جنہیں دنیا کا سب سے مقدس اور پیارا رشتہ کہا جاتا ہے. اگر اُنہوں نے ہی اُس کا یقین, بھروسہ اعتبار توڑا تھا تو کسی اور پر یقین کرنا اُس کے لیے بہت مشکل تھا. اور اِسی بات کی سزا وہ آج بھگت رہی تھی.
ارحم اُسے اپنی سزا سنا کر چلا گیا تھا. بنا اُس کی سنے کے وہ اُس کے لیے اتنی سیلفش کیوں ہوئی تھی. وہ ارحم کو کسی صورت کھونا نہیں چاہتی تھی.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

جاذل شاور لے کر واپس آیا تو زیمل بنا کروٹ بدلے ویسے ہی لیٹی ہوئی تھی.
جاذل پہلے تو کھڑا سوچتا رہا تھا کہ سوئے کہاں یہی پر یا دوسرے کمرے میں. مگر اِس وقت وہ بہت تھکا ہوا تھا. اور اپنے بیڈ کے علاوہ کہیں اور سوکر وہ ویسی پرسکون نیند نہیں لے سکتا تھا. جس کی ابھی اُسے طلب تھی. اور آج تو ویسے بھی بیڈ پر ایک رعنائیاں بکھیرتا وجود اُس کی توجہ اپنی طرف کھینچ رہا تھا. جس پر پورا حق رکھتا تھا وہ. کچھ سوچتے مسکراتے ہوئے وہ بیڈ کی طرف بڑھا تھا.
جاذل بیڈ پر زیمل سے کچھ فاصلے پر لیٹ گیا تھا. اُسے اپنے نفس پر پورا کنٹرول تھا مگر اتنا بھی نہیں کہ وہ لڑکی جس پر جائز حق رکھنے کے ساتھ ساتھ وہ دل میں اُس کے لیے کچھ خوبصورت جذبات بھی محسوس کرتا ہو. اپنے بہت قریب ہونے پر خود کو بہکنے سے روک سکے.
لائٹ آف کرتے جاذل نے چت لیٹے آنکھوں پر بازو رکھ دیا تھا.
رات کا نجانے کون سا پہر تھا. جب اے سی کی کولنگ کی وجہ سے زیمل کو ٹھنڈ محسوس ہوئی تھی. اور وہ تھوڑا سا سرک کر جاذل کے قریب ہوئی تھی. اور اُس کے کمبل میں گھسنے کی کوشش کی تھی.
جاذل کی آنکھ فوراً کھل گئی تھی. جب اُسے ٹھنڈ کی وجہ سے زیمل اپنے بہت قریب سکڑے سمٹے سوئی نظر آئی تھی. جاذل نے اے سی کی کولنگ کم کرتے زیمل کے اُوپر اچھے سے کمبل اوڑھا تھا.
مدھم سی زیرو پاور کی روشنی میں زیمل کا چاندنی بکھرتا چہرہ جاذل کے بہت قریب تھا. اُس نے جلدی سے رخ موڑ لیا تھا.
زیمل کو یہاں لانے اور اب ایک ہی بیڈ پر سونے کے فیصلے پر اب وہ خود ہی پچھتا رہا تھا. کیونکہ یہ سب اُس کے لیے کسی امتحان سے کم نہیں تھا. وہ زیمل کے ساتھ دل کا کوئی رشتہ نہیں بنانا چاہتا تھا. کیونکہ اُن دونوں کو ہی اپنے رشتے کی اصلیت سے واقف تھے. جو ایک دن اُنہوں نے ختم کر دینا تھا.
مگر میجر جاذل ابراہیم نہیں جانتا تھا کہ یہ اُس کا کوئی مشن نہیں تھا. جس میں وہ اپنی پلاننگ کے مطابق کامیاب ہوکر آخر میں سرخرو ہوجائے بلکہ وہ اب زندگی کے ایک ایسے مشن میں پھنس چکا تھا. جس سے بچ نکلنا اتنا آسان نہیں تھا.
جاذل دل ہی حالت پر گھبراتا بیڈ سے اُٹھتا فوراً کمرے سے نکل گیا تھا. نیند تو اب آنی نہیں تھی. اِس لیے وہ کچن میں جاکر اپنے لیے کافی بنانے لگ گیا تھا.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

دن بارہ بجے کے قریب زیمل کی آنکھ کھلی تھی. جب خود کو کسی انجان جگہ پر دیکھ وہ حیرت ذدہ سی جلدی سے بیڈ سے اُتری تھی.
اُس کا دماغ پوری طرح بیدار ہوچکا تھا. اور وہ سوچ رہی تھی کہ وہ تو ہاسپٹل میں تھی یہاں کیسے پہنچی.
یہی سوچتے وہ ہلکے سے دروازہ کھولتی محتاط سے انداز میں باہر نکلی تھی. اِس وقت اُس کے پاس کوئی اسلحہ بھی نہیں تھا. اِس لیے اُس نے ہتھیار کے طور پر کمرے میں رکھا ایک وزنی سا ڈیکوریشن پیس اُٹھا لیا تھا.
کمرے سے نکل کر سامنے ہی لاؤنج سا بنا ہوا تھا. وہ جیسے ہی آگے بڑھی ساتھ والے روم سے اُسے کوئی نکلتا ہوا محسوس ہوا تھا. اِس سے پہلے کے وہ زیمل پر حملہ کرتا زیمل نے ہاتھ میں پکڑا ڈیکوریشن پیس اُس کے سر پر دے مارا تھا.
مگر جیسے ہی اُس کی نظر جاذل پر پڑی وہ فوراً خجل ہوتی پیچھے ہوئی تھی. جاذل کے ماتھے سے نکلتے خون کو دیکھتے زیمل کو ندامت اور شرمندگی نے آن گھیرا تھا.
” اوہ آئم ریلی سوری. وہ مجھے لگا کسی نے مجھے کڈنیپ کر لیا ہے. اِس لیے میں نے اپنے بچاؤ کے لیے ایسا کیا. آئم ریلی ویری سوری. “
جاذل کے خوشمگی نگاہوں سے گھورنے پر وہ جلدی سے بولی.
” کیپٹن زیمل آپ کوئی عام لڑکی نہیں. ایک آرمی آفیسر ہیں. بنا سوچے سمجھے کسی پر اٹیک کرنا آپ کو بلکل بھی نہیں سیکھایا گیا. “
جاذل نے زیمل کو شرمندہ دیکھ اندر ہی اندر مزہ لیتے اُسے مزید تنگ کرنا چاہا تھا. اور جان بوجھ کر اپنے ماتھے پر ہاتھ رکھتے اُسے ظاہر کروایا تھا جیسے اُسے بہت درد ہورہا ہے. کیونکہ وہ زیمل کا اِس بات سے دھیان ہٹانا چاہتا تھا کہ وہ یہاں آئی کیسے.
اور زیمل اُس وقت جاذل کی باتوں میں آبھی گئی تھی.
” میں مانتی ہوں میں نے غلط کیا مگر آپ کا خون بہہ رہا ہے. آپ پلیز یہاں بیٹھیں میں بینڈیج کر دیتی ہوں. “
زیمل نے جاذل کے ماتھے سے خون کا قطرہ ٹپکتے دیکھ فکرمندی سے کہا.
جس پر جاذل پوری تابعداری کے ساتھ سامنے پڑے صوفے پر جا بیٹھا تھا. اور زیمل اُس کے اشارے پر جلدی سے دراز سے فرسٹ ایڈ باکس نکال لائی تھی.
زیمل جاذل کے قریب تھوڑا سا اُوپر جھکتے روئی سے اُس کا زخم صاف کرنے لگی تھی. جب کے جاذل آنکھیں بند کیے زیمل کی قربت کی خوشبو محسوس کرتا کسی اور ہی دنیا میں پہنچ چکا تھا.
” کیا بہت زیادہ درد ہورہا ہے. “
زیمل کی آواز پر جاذل چونکہ. اور آنکھیں کھول کر اُس کی طرف دیکھا.
جاذل کی خمار آلود نگاہوں کو دیکھتے زیمل فوراً پیچھے ہٹی تھی. اُسے آج جاذل کے انداز بدلے بدلے سے لگ رہے تھے.
جب اچانک اُس کے دماغ میں پھر سے اپنے یہاں ہونے کی وجہ گھوم گئی تھی. اور اُس نے شکی نگاہوں سے جاذل کی طرف دیکھا تھا.
” میں تو ہاسپٹل میں تھی نا. پھر یہاں کیسے پہنچی. “
زیمل کے انداز پر جاذل نے مسکراتے ہوئے کندھے اچکائے تھے.
” آپ کو پتا ہونی چاہیے یہ بات. میں آپ کا باڈی گارڈ تھوڑی نہ ہوں. “
جاذل کا لہجہ اب بھی شریر تھا.
” میجر جاذل ابراہیم زیادہ معصوم بننے کی ضرورت نہیں ہے. جتنا مجھے یاد ہے. میں لاسٹ ٹائم ہاسپٹل میں آپ کے ساتھ ہی بیٹھی تھی. اور ہاں آپ نے مجھے جوس دیا تھا. ایسا کیا ملایا تھا اُس جوس میں کہ مجھے کچھ یاد نہیں. اور میں یہاں پہنچ گئی. “
زیمل ہاتھ سینے پر باندھے اُسے گھور رہی تھی. جو اب مزے سے صوفے کی بیک سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا تھا.
” کیپٹن زیمل جاذل آپ کی کل کی حالت دیکھتے مجھے ایسا کرنا پڑا. ورنہ آپ کی ضد کے آگے کسی کی چلتی کہاں ہے.
بلکل ٹھیک سمجھا آپ نے. میں نے ہی آپ کے جوس میں نیند کی دوا ملائی تھی. تاکہ آپ کچھ آرام کرسکیں. اور جو خود کو تھکا کر بیمار ہونے کا سوچے بیٹھی ہیں. وہ نہ ہوپائے.”
جاذل کی بات اور ڈھٹائی پر زیمل جی بھر کر تپی تھی. جو اپنی حرکت پر شرمندہ ہونے کے بجائے مزید چوڑا ہورہا تھا.
” واہ اور اِس کے علاوہ آپ کے اِس ذہانت سے بھرپور دماغ میں کوئی اور آئیڈیا نہیں آسکا.
مجھے لگا تھا کہ شاید سٹارٹ میں مجھ سے آپ کو پہچاننے میں غلطی ہوگئی تھی. اِس لیے ایک شریف انسان سمجھ کر آپ سے نکاح کے لیے راضی بھی ہوگئی. مگر آپ واقعی ہی ہو تو چھچھورے کے چھچھورے ہی. “
زیمل غصے سے اُسے باتیں سناتی وہاں سے جانے لگی تھی. جب جاذل نے آگے ہوتے اُس کی کلائی کو تھام کر ہلکا سا جھٹکا دیتے اپنی طرف کھینچا تھا. جب اگلے ہی لمحے زیمل اِس اچانک افتاد پر سنبھلنے کی کوشش کے باوجود جاذل کی گود میں جاگری تھی.
” یہ کیا بے ہودگی ہے. آپ کو شرم آنی چاہئے ایسی حرکت کرتے ہوئے. “
زیمل کا غصہ مزید بڑھا تھا. جبکہ جاذل بہت ہی پرسکون انداز میں بیٹھے اُسے اپنی بانہوں میں قید کیے ہوئے تھا.
اُسے زیمل کی کوئی بھی بات بُری نہیں لگ رہی تھی. کیونکہ وہ پہلے سے ہی جانتا تھا کہ زیمل کا یہی ری ایکشن ہوگا. اُس نے یہ سب صرف زیمل کی فکر میں کیا تھا.
مگر اب اُس کا دل غصے سے چڑی زیمل کو تنگ کرنے کا تھا.
زیمل نے پیچھے ہونا چاہا تھا. مگر جاذل کی گرفت میں وہ ہل بھی نہ پائی تھی.
” ہمیشہ آپ نے مجھے چھیچھورا کہا ہے. کیوں نہ آج واقعی تھوڑا سا چھچھورا پن دیکھا دوں. اور اب تو آپ کے ساتھ ساری چھچھوری حرکتیں کرنے کا حق حاصل ہے مجھے.”
جاذل نے زیمل کا چہرہ ٹھوڑی سے پکڑ کر اُوپر کرتے اپنے مزید قریب کیا تھا.
زیمل اُس کی حرکتوں پر دانت پیس کر رہ گئی تھی. وہ اچھے سے سمجھ رہی تھی وہ اُسے جان بوجھ کر تنگ کر رہا ہے.
” اب آپ بھول رہے ہیں کہ میں کوئی عام لڑکی نہیں ہوں. میرے ساتھ آپ اتنی آسانی سے اپنی یہ چھچھوری حرکتیں نہیں کر سکتے. ورنہ میں نے آپ کے ماتھے پر دوسری سائیڈ پر بھی ایسا ہی ڈیزائن بنا دینا ہے. “
زیمل کے دھمکی آمیز انداز پر جاذل کا زور دار قہقہہ برآمد ہوا تھا.
زیمل مسلسل جاذل کی گود سے اٹھنے کی کوشش میں تھی. مگر ہر بار جاذل اُس کی کوشش کو ناکام بنا دیتا تھا.
” اوکے تو خود کو پروو کریں اور میرے حصار سے نکل کر دکھائیں. “
زیمل کا سُرخ پڑتا چہرا دیکھ جاذل کا لہجہ شریر ہوا تھا.
اِس وقت جو اُن دونوں کی پوزیشن تھی. اور جیسے وہ بچوں کی طرح لڑ رہے تھے کوئی بھی اُنہیں دیکھ کر نہیں کہہ سکتا تھا کہ وہ سیکریٹ سروسز کے اعلیٰ عہدوں پر فائز آفیسرز ہیں.
جاذل لیٹنے کے انداز سے صوفے پر بیٹھا ہوا تھا. اور زیمل اُس کے اُوپر گری مکمل طور پر اُس پر جھکی ہوئی تھی. وہ جب بھی اُٹھنے کی کوشش کرتی جاذل اپنی ایک ٹانگ ڈھیلی کر دیتا زیمل دوبارہ پھسل کر اُس کے اُوپر گر جاتی.
زیمل نے ایک بار پھر اُس کے حصار سے نکلنے کی کوشش کی تھی. جب جاذل کی وہی حرکت دوھرانے پر زیمل توازن برقرار نہ رکھتے جاذل کے سینے پر جاگری تھی.
اچانک اتنے قریب آجانے پر دونوں اپنی جگہ ساکت ہوئے تھے. زیمل کا دل جاذل کی گرم سانسیں اپنے چہرے پر محسوس کرتے زور سے دھڑکا تھا.
زیمل کو اپنے اتنے قریب دیکھ جاذل بے خود سا ہوا تھا. اور اُسی کے زیرِ اثر جاذل کے ہونٹوں نے زیمل کی ٹھوڑی کو چھوا تھا. جاذل کے لمس پر زیمل کو اپنی سانس رُکتی ہوئی محسوس ہوئی تھی.
مذاق مذاق میں سین ہی بدل چکا تھا.
جب جاذل کی گرفت ڈھیلی پڑی تھی جس کا فائدہ اٹھاتے زیمل جلدی سے اُس کے حصار سے نکلی تھی. اور واپس روم کی طرف بڑھ گئی تھی.
دروازہ بند کرکے اُس کے ساتھ سر ٹکاتے اُس نے اپنی سانسوں کو اعتدال پر لانا چاہا تھا. اُس کی فیلنگز بہت عجیب ہورہی تھیں. جنہیں وہ سمجھنے سے قاصر تھی.
باہر جاذل مزے سے بیٹھا ابھی تھوڑی دیر پہلے رونما ہونے والے واقعہ انجوائے کر رہا تھا.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

ماہ روش کو ایسے ہی بے سُدہ پڑے دو ہفتے ہوچکے تھے. زینب بیگم اور باقی گھر والے دن بھر اُس کے پاس ہوتے تھے. اور ارتضٰی اپنی اتنی مصروفیات میں سے ٹائم نکال کر دن میں کافی دفعہ چکر لگا لیتا تھا.
اور رات کو سب گھر والوں کو وہ واپس گھر بھیج دیتا تھا. پوری رات وہ ماہ روش کو دیکھتے جاگتے گزار دیتا تھا.