No Download Link
Rate this Novel
Episode 35
ارتضٰی کو ایسا لگا تھا جیسے اُسے ہمیشہ سے رُوٹھا اپنا سکون واپس مل گیا ہو. ماہ روش کا نرم گرم وجود اُسے زندگی کا خوشگوار احساس بخش رہا تھا.
اُسے خود پر جی بھر کر غصہ آرہا تھا. اُس نے کتنی بار دھتکارا تھا ماہ روش کو. جو صرف پیار اور محبت کے قابل تھی. جس کا کبھی کہیں کسی بات میں کوئی قصور رہا ہی نہیں تھا.
ارتضٰی نے جھک کر اُس کے بالوں پر ہونٹ رکھے تھے. جو دوائیوں کے زیرِ اثر نیند میں تھی. اور نہیں جانتی تھی جس کھڑوس کے سامنے بھی نہیں آنا چاہتی تھی. اِس وقت اُس کی بانہوں میں سمٹی ہوئی تھی.
ماہ روش کی سانسیں ارتضٰی کو اپنی گردن پر محسوس ہورہی تھیں. اور اُس کے نازک سے ہاتھ کی گرفت ابھی بھی ارتضٰی کے کالر پر تھی.
ایک لمحے کے لیے بہت دلکش مسکراہٹ نے ارتضٰی کے لبوں کا احاطہ کیا تھا. ارتضٰی سکندر کے گریبان تک پہنچنا ناممکن تھا. اور اُس کی لاڈلی بیگم صاحبہ نیند میں بھی اُسے دبوچے ہوئے تھیں.
ارتضٰی نے اُس کے ہاتھ کو ہلکے سے چوما تھا. اور چہرا اُس کی سیاہ نرم زلفوں میں چھپاتے پر سکون سا آنکھیں موند گیا تھا.
جس سکون کے لیے وہ سالوں سے تڑپ رہا تھا. آج آخر کار وہ اُسے نصیب ہو ہی گیا تھا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
” کیا کروں میں کیسے بتاؤں ارحم کو اپنی فیلنگز. اِس سے پہلے کے ارحم مجھے خود سے دور کرنے کے لیے کوئی انتہائی قدم اُٹھائیں. مجھے اُنہیں بتانا ہوگا کہ میں اُن سے بہت پیار کرتی ہوں. اور کسی صورت علیحدہ نہیں ہونا چاہتی. “
ریحاب کمرے میں کب سے چکر کاٹتی ہلکان ہورہی تھی. مگر کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا.
جب ارحم سے پیار کا ناٹک کرنا تھا تو اُس نے کتنے آرام سے ارحم کو ہر بات کہہ دی تھی. مگر اب جب سچ میں وہ اُس کے لیے فیل کرنے لگ گئی تھی تو کچھ بھی بولنا اُس کے لیے جان لیوا ثابت ہورہا تھا.
وہ ماہ روش سے مل کر اُس سے معافی بھی مانگ چکی تھی. مگر ارحم کی طرف سے ابھی بھی اُس کی سزا ختم نہیں ہوئی تھی. وہ گھر بہت کم آتا تھا اور اگر آتا بھی تو اُس سے کوئی بات نہیں کرتا تھا. ریحاب اب تنگ آچکی تھی اِس سب سے.
صائمہ بیگم کے کہنے پر اُس نے یونیورسٹی دوبارہ سے جوائن تو کر لی تھی. مگر اُس کا دماغ بار بار بھٹک کر ارحم کی طرف ہی چلا جاتا تھا.
اُس نے سوچ لیا تھا کہ ارحم کے سامنے اپنے جذبات کا اظہار کریں گی. اگر ارحم نے اُسے انکار کیا تو وہ ہمیشہ کے لیے ارحم کو چھوڑ کر اپنی دنیا میں واپس چلی جائے گی. یہ فیصلہ اُس کے لیے بہت مشکل تھا مگر وہ اُس پر زبردستی مصلت نہیں ہونا چاہتی تھی.
لیکن سب سے بڑی مشکل اُس کے لیے تھی کہ وہ ارحم کے سامنے اپنے جذبات کا اظہار کیسے کرے. ارحم کا روڈ بی ہیوئیر دیکھ کر اُس کی ہمت ہی نہیں ہو رہی تھی.
جب کچھ سوچتے اُس نے اپنی ڈائری کا پیج پھاڑتے اپنی خوبصورت سی رائٹنگ میں اپنے جذبات لکھنے شروع کردیئے تھے.
اُس نے وہ تمام فیلنگز لکھ دی تھیں جو وہ ارحم کے لیے اپنے دل میں رکھتی تھی. اور شاید وہ زبان سے اُسے کبھی نہ کہہ پاتی.
وہ ابھی پیج فولڈ ہی کر رہی تھی جب اُسے ارحم کی گاڑی کا ہارن سنائی دیا تھا. وہ ایکسائیٹڈ ہوتی فوراً ٹیرس کی طرف بڑھی تھی. مگر ارحم کے ساتھ اُس کی کسی بات پر ہنستی کوئی لڑکی گاڑی سے نکل رہی تھی. ریحاب اُسے ارحم کی کوئی کولیگ سمجھ کر اگنور کر دیتی مگر جس طرح وہ لڑکی ارحم کو دیکھ رہی تھی وہ انداز ریحاب کو عام بلکل نہیں لگا تھا. اور رات کے اِس پہر کسی غیر لڑکی کو گھر لانا بھی عام بات نہیں تھی. ریحاب کے اندر آگ سی لگ چکی تھی.
اچانک ارحم کی غیر ارادی نظر ریحاب پر پڑی تھی. جس پر شرارتاً ارحم نے اُس لڑکی کا ہاتھ تھام لیا تھا. اور بس یہ منظر دیکھتے نجانے کتنے ہی آنسو ریحاب کے چہرے پر بہہ نکلے تھے. جنہیں کافی فاصلے پر ہونے کی وجہ سے ارحم دیکھ نہیں پایا تھا.
ریحاب کمرے میں بے چینی سے چکر لگاتے ارحم کا انتظار کر رہی تھی. مگر ایک گھنٹہ گزرنے کے بعد بھی ارحم روم میں نہیں آیا تھا. جب ریحاب صبر کا دامن چھوڑتی کمرے سے نکل آئی تھی.
صائمہ بیگم اور آصف صاحب دو دنوں کے لیے کسی رشتہ دار کی شادی میں کراچی گئے ہوئے تھے. اِس لیے گھر میں ملازموں کے ساتھ ریحاب ہی تھی.
وہ جیسے ہی باہر نکلی ڈرائنگ روم میں بلکل سناٹا چھایا ہوا تھا. ارحم یا اُس لڑکی کا کوئی نام و نشان نہیں تھا.
ملازمہ سے پوچھنے پر جو خبر اُسے ملی تھی. اُس کے اندر لگی آگ پر مزید تیل چھڑکنے کا کام کر گئی تھی.
پچھلے ایک گھنٹے سے وہ لڑکی ارحم کے ساتھ ایک ہی کمرے میں موجود تھی. اور ارحم نے کسی کو بھی وہاں آنے یا ڈسٹرب کرنے سے منع کیا تھا.
ریحاب واپس کمرے میں آتے سب سے پہلے کندھے پر ڈالے ڈوپٹے کو دور صوفے پر اُچھالا تھا. پھر ہاتھ میں صائمہ بیگم کے کہنے پر پہنی چوڑیاں اُتار پھینکی تھیں.
اُسے تو لگا تھا ارحم بھی اُس کے لیے فیلنگز رکھتا ہے. مگر اُسے کسی اور لڑکی کے ساتھ اِس طرح دیکھ ریحاب کا دل چیخ چیخ کر رونے پر کررہا تھا.
شروع سے اُس کے ساتھ ایسا ہی ہوتا آیا تھا. کہ وہ جس سے پیار کرنا چاہتی تھی. وہ انسان اُس سے سب سے دور ہوجاتا تھا. پہلے ماں باپ اور اب ارحم. اُس نے انیس کو بھی اِسی لیے ہمیشہ خود سے دور رکھا تھا.
اور اگر اپنے پیار کو بچانے کی کوشش کی تھی تو اُس پر خود غرضی کا ٹیگ لگا دیا گیا تھا.
ریحاب پچھلے ایک گھنٹے سے مسلسل روئے جارہی تھی. اُس کا دل چاہا تھا ابھی وہاں جاکر ارحم کو اُس لڑکی سے دور کر دے. مگر ابھی اُسے اتنا حق ہی کہاں حاصل تھا. کہ ایسا کچھ کرسکے.
دو گھنٹے ہوچکےتھے اُسے ویسے ہی انگاروں پر لوٹتے. جب اچانک دروازہ کھلنے کی آواز پر ریحاب نے جلدی سے رُخ موڑتے اپنے آنسو صاف کیے تھے.
ارحم نے ایک نظر بیڈ پر رُخ موڑ کر بیٹھی ریحاب کی طرف دیکھا تھا. مگر اُس کا چہرہ نہیں دیکھ پایا تھا.
ارحم نے اُسے مخاطب کرتے سلام کیا تھا. مگر جواب ندارد تھا.
” کیا ہوا سب ٹھیک ہے.”
ارحم ریحاب کی طرف قدم بڑھاتے بولا.
جب اُس کی آواز سنتے ریحاب کو دوبارہ رونا آیا تھا. مگر وہ بہت مشکل سے ضبط کر گئی تھی.
” ریحاب میں تم سے بات کررہا ہوں. “
ارحم کا لہجہ کچھ تیز ہوا تھا.
” مگر مجھے آپ سے کوئی بات نہیں کرنی.”
ریحاب اُس کے قریب آنے پر بیڈ سے اُٹھتے بولی. شدید غصے میں وہ یہ بھول چکی تھی کہ اِس وقت وہ بغیر ڈوپٹے کے موجود ہے.
ارحم نے بلیک کپڑوں میں اُس کے دلکش سراپے کو گہری نظروں سے دیکھا تھا. جو اِس وقت غصے اور ناراضگی سے سُرخ ہوتے چہرے کے ساتھ مزید حسین لگ رہی تھی.
ارحم نے پاس سے جاتی ریحاب کا ہاتھ پکڑ لیا تھا.
اُس کی نگاہیں ریحاب کی سُرخ آنکھوں کا جائزہ لے رہی تھیں.
” تم شاید بھول رہی ہو. ناراض میں تم سے ہوں. تم مجھ سے نہیں. “
ریحاب نے اُس کی بات پر ایک شکوہ بھری نظر اُس پر ڈالتے اپنی کلائی چھڑوانی چاہی تھی.
جب ارحم کی نظر بیڈ سائیڈ ٹیبل پر پڑے پنک کلر کے پیج پر پڑی تھی. اِس سے پہلے کے وہ آگے بڑھ کر وہ اُٹھاتا. ریحاب نے جھپٹنے کے انداز میں اُسے سے پہلے آگے ہوتے اُس پیج کو اپنی مٹھی میں دبا لیا تھا.
” کیا ہے اِس میں. “
ارحم نے اُس کے ہاتھ سے وہ لینا چاہا تھا. مگر ریحاب ہاتھ کو کمر کے پیچھے لے جاتے دو قدم دور ہوئی تھی.
” کک کچھ نہیں ہے.”
ریحاب کو اُس پر اِس وقت بہت غصہ تھا. اِس لیے وہ اب اُسے یہ دینے کا ارادہ نہیں رکھتی تھی.
” اگر کچھ نہیں ہے تو اتنا چھپانے کی کیا بات ہے. “
ارحم سنجیدہ لہجے میں کہتے ریحاب کی طرف بڑھا تھا. جو مسلسل پیچھے کی طرف جارہی تھی. اُس نے ہاتھ ابھی بھی پیچھے کی طرف موڑے ہوئے تھے.
جب اُس کے نفی میں سر ہلانے پر ارحم نے دونوں ہاتھ اُس کی کمر کے پیچھے لے جاکر اُسے اپنے حصار میں لیتے اُس کے دونوں ہاتھوں کو اپنی گرفت میں لیا تھا.
ارحم کے اچانک اتنے قریب آجانے پر ریحاب کی سانسیں منتشر ہوئی تھیں.
” پلیز چھوڑیں مجھے. “
ریحاب نے ارحم کی گرم سانسیں اپنی گردن پر محسوس کرتے کانپتی آواز میں کہا تھا.
” پہلے مجھے دیکھاؤ. اِس میں ایسا کیا لکھا ہے جو تم مجھے دیکھانے سے اتنا گھبرا رہی ہو. کیا ابھی بھی بھروسہ نہیں ہے مجھ پر. “
ارحم کے بولنے پر اُس کے ہونٹ ریحاب کی گردن سے ٹچ ہوئے تھے. اُس کی بات کے ساتھ ساتھ لمس پر بھی ریحاب نے تڑپ کر اُس سے دور ہونا چاہا تھا.
” کچھ نہیں ہے اِس میں. اور آپ کیوں یہاں اپنا ٹائم ویسٹ کرنے آگئے ہیں جائیں. وہاں آپ کی خاص دوست انتظار کر رہی ہوگی آپ کا. “
ریحاب جو پہلے ہی دل برداشتہ ہوئی پڑی تھی. اُس کے طنز پر دوبارہ رونے والی ہوگئی تھی. وہ شاید زندگی میں اتنا کبھی نہیں روئی تھی. جتنا اب اِس شخص کے لیے رو رہی تھی.
” ہمم بات تو ٹھیک ہے تمہاری. مگر پہلے بتاؤ اِس میں کیا ہے. پھر میں چلا جاؤں گا. “
ارحم کو اُس کی جیلسی پر ہنسی تو بہت آئی تھی. مگر وہ ہونٹ دانتوں میں دباتے چھپا گیا تھا. اور اُس کی ہلکی ہلکی سوجی آنکھوں میں دیکھتے بولا.
اُس کی بات سنتے ریحاب نے غصے میں آتے جھٹکے سے خود کو ارحم سے آزاد کروایا تھا. ارحم کے اچانک گرفت ڈھیلی کرنے پر ریحاب لڑکھڑا کر پیچھے گرنے لگی تھی. جب گرنے سے بچنے کے لیے اُس نے ارحم کی شرٹ کو سینے سے پکڑا تھا. مگر اگلے ہی لمحے دھڑام کی آواز کے ساتھ وہ دونوں اُوپر نیچے بیڈ پر گرے تھے.
ریحاب کو چند منٹ لگے تھے اپنے حواس بحال کرتے مگر جیسے ہی وہ خود کو نارمل کرتے سیدھی ہوئی.
ارحم کو بلکل کو اپنے اُوپر دیکھ ریحاب کی سانسیں ایک بار پھر رکی تھیں.
جو بڑے ہی بے باک انداز میں اُسے گھور رہا تھا.
ریحاب نے اب نوٹ کیا تھا کہ باقی دنوں کی نسبت ارحم کا موڈ آج کافی بہتر تھا.
ریحاب نے اُس کے سینے پر دونوں ہاتھ رکھتے اُسے پیچھے کرکےاُٹھنا چاہا تھا. مگر ارحم نے اُس کی دونوں کلائیوں کو اپنے ہاتھوں میں قید کرتے اُس کے سر کے اردگرد بیڈ سے لگا دیا تھا.
وہ اُس کے اچانک بدلتے انداز پر گھبرائی تھی. جب ایک نظر اپنے حلیے پر ڈالتی وہ شرم سے سُرخ پڑی تھی.
وہ بغیر ڈوپٹے کے فٹنگ والے ڈریس میں اپنی تمام تر رعنائیوں سمیت اُس کی قید میں تھی.
ارحم نے غور سے ریحاب کی طرف دیکھا تھا. جس سے دور رہ کر پیچھلے دنوں وہ اُس کے ساتھ ساتھ خود کو بھی سزا دے رہا تھا.
ماہ روش کے ہوش میں آنے کے بعد بہت حد تک اُس کا غصہ ختم ہوچکا تھا. مگر وہ اِس بات پر شیور نہیں تھا کہ ریحاب بھی اُسے چاہتی ہے یا ساتھ رہنے کی وجہ سے یہ صرف وقتی جذبہ ہے مگر آج اُس کی جیلسی اور اپنے لیے اتنی شدت پسندی اُس کو بہت سکون دے گئی تھی. صرف وہی نہیں ریحاب بھی اُسے چاہتی تھی.
ارحم نے بے اختیار ہوتے جھک کر اُس کی دونوں آنکھوں کو چوما تھا. جو مسلسل رونے کی وجہ سے بلکل لال ہوچکی تھیں.
” وہ لڑکی کون ہے جس کے ساتھ آپ پورے تین گھنٹے ایک ہی روم میں رہے. “
ریحاب نے چھوٹتے ہی پہلا سوال ہی یہی کیا تھا.
جس پر ارحم اب کی بار اپنا قہقہ نہ روک پایا تھا.
” قسم سے کولیگ ہے وہ میری اِس سے زیادہ کچھ نہیں. “
ارحم نے اُس کی کیفیت کو دیکھتے نرمی سے جواب دیا تھا.
مگر ریحاب اب بھی شکی نظروں سے اُسے ہی دیکھ رہی تھی. اور ایک بار پھر اُس سے اپنے بازو چھڑوانے چاہے تھے. ارحم اُس کی حرکت پر کوئی ردعمل دیتا جب اچانک ٹائم دیکھتے وہ سیدھا ہوا تھا.
” ابھی بہت ارجنٹ کام ہے کچھ ہی دیر میں واپس آرہا ہوں. مگر میرے آنے تک جاگتی رہنا آکر تمہاری ساری غلط فہمی دور کرتا ہوں. اگر میرے واپس آنے پر سوتی ملی تو مجھ سے بُرا کوئی نہیں ہوگا. “
ارحم جلدی جلدی اپنا موبائل اور کیز پاکٹ میں چیک کرتا بولا.
اور ریحاب کو بیڈ سے اُٹھتا دیکھ ایک بار پھر اُس کے ہاتھ پکڑ کر بیڈ سے لگاتے جھک کر اُس کے کھلے گلے سے جھانکتی دودھیا گردن پر پوری شدت سے اپنے ہونٹوں کا لمس چھوڑتے وہاں سے نکل گیا تھا.
جب کے ریحاب کو جاتے جاتے کی جانے والی اُس کی بے باک حرکت پر اپنی جان حلق میں اٹکتی محسوس ہوئی تھی.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
صبح آٹھ بجے کے قریب ماہ روش کی آنکھ کھلی تھی. آنکھیں کھلتے ہی اُس کے نتھنوں سے جو خوشبو ٹکرائی تھی اُس کے حواس جھنجھوڑنے کے لیے کافی تھی.
اُس نے جلدی سے اپنا چہرا پیچھے کیا تھا. جب اپنی پوزیشن سمجھتے اُس کا دل بُری طرح سے دھڑکا تھا. ارتضٰی کی بانہوں میں اپنے قریب اُس کی گرم سانسوں کی تپش اپنے چہرے پر محسوس کرتے ماہ روش کی سانسیں رُکی تھیں.
وہ ضدی اکڑو شخص اپنی منوا کر ہی رہا تھا. اور اُس تک پہنچ چکا تھا.
اُس نے فوراً اپنا ہاتھ پیچھے کھینچا تھا. اُسے سمجھ نہیں آرہا تھا کیا کرے. وہ بلکل ارتضٰی کے ساتھ چپکی ہوئی تھی. اپنے زخموں کی وجہ سے وہ زیادہ مومنٹ نہیں کرسکتی تھی. اور اگر زرا سا ہلتی بھی تو ارتضٰی کی آنکھ کھل جانی تھی. جس سے آگے وہ کچھ سوچ ہی نہیں پائی تھی.
کیونکہ ابھی وہ نیند میں تھا تو اُس کا یہ حال تھا. اگر جاگ جاتا تو اُس کے سامنے اپنی پوزیشن پر خفت کے مارے اُس نے اُوپر ہی پہنچ جانا تھا.
ماہ روش نے دل ہی دل میں زیمل کو اچھی خاصی گالیوں سے بھی نوازا تھا. جو اُس کے ساتھ رہنے کا وعدہ کرکے اچانک غائب ہوگئی تھی.
ماہ روش نے ایک بار بھی سر اُٹھا کر ارتضٰی کے چہرے کی طرف نہیں دیکھا تھا. کیونکہ وہ اب دوبارہ اُس ساحر کے سامنے کمزور نہیں پڑنا چاہتی تھی. مگر دل کی دہایا مسلسل جاری تھیں. جو اتنے دنوں بعد اُسے دیکھ کر آنکھوں کی پیاس بجھانے پر مجبور کررہا تھا.
مگر ماہ روش نے اپنے دل کو سنبھالتے ارتضٰی کے حصار سے نکلنے کی کوشش کی تھی.
اُس نے اپنی کمر کے گرد لپٹے ارتضٰی کے بازو کو ہٹانا چاہا تھا. مگر یہ کیا ہٹنے کے بجائے گرفت اور مضبوط ہوئی تھی. ماہ روش نے جھٹکے سے گردن گھما کر ارتضٰی کی طرف دیکھا تھا. جو اب آنکھیں کھولے مسکراتی نظروں سے اُسے دیکھ رہا تھا.
اور جس بات کا اُسے ڈر تھا وہی ہوا تھا. ماہ روش اُس کے مسکرانے پر اُس کے رخساروں پر بننے والے ڈمپل دیکھ کر بے خود ہوئی تھی. کتنی حسرت تھی نا اُسے یہ قریب سے دیکھنے کی محسوس کرنے کی.
ماہ روش کے دیکھنے پر ارتضٰی کے لب کھل کر مسکرائے تھے
” گڈ مارننگ زندگی. “
ارتضٰی نے سر کو ہلکا سے آگے کرتے ماہ روش کی دونوں آنکھوں کو باری باری چوما تھا.
اُس کی آواز اور ہونٹوں کے نرم لمس پر ماہ روش جیسے ہوش میں آئی تھی.
اُس نے فوراً اپنا چہرا جھکا لیا تھا.
اُس کا چہرا لال ٹماٹر ہوچکا تھا. ارتضٰی اُس کے منہ پھیرنے پر ہولے سے مسکرایا تھا.
” کیسی طبیعت ہے اب. “
ارتضٰی جان بوجھ کر فارمل ہوا تھا. مگر ماہ روش اُس کو مکمل اگنور کرنے کی کوشش کرتے دھڑکتے دل کے ساتھ اُس کے حصار سے نکلنے کی کوشش کر رہی تھی.
ارتضٰی اُس کی ناراضگی اچھے سے سمجھ رہا تھا. لیکن اُسے ماہ روش کا یہ انداز بھی دیوانہ کررہا تھا.
” میرے کان آواز سننا چاہتے ہیں تمہاری کچھ تو بولو. “
ارتضٰی نے ماہ روش کا مزاحمت کرتا ہاتھ اپنی گرفت میں لیتے کہا. مگر ماہ روش نے اُس کا تب بھی کوئی جواب نہیں دیا تھا.
” رئیلی تو مطلب میری بات نہیں مانو گی تم. ڈونٹ وری میں خود منوا لیتا ہوں. “
ارتضٰی نے اُس کا ہاتھ چھوڑتے ٹھوڑی سے تھام کر اُس کا چہرہ اپنی طرف کیا تھا. اور فوراً ماہ روش کے ہونٹوں پر جھکا تھا.اُس کے انداز پر گھبراتے اِس سے پہلے کے وہ اُس کے ہونٹوں کو قید کرتا ماہ روش نے جلدی سے اُس کے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ دیا تھا.
” سر پلیز یہ آپ کیا کررہے ہیں. “
ارتضٰی کروٹ کے بل اُس کے اُوپر جھک گیا تھا. ارتضٰی کی شوخ نظریں اپنے ہونٹوں پر محسوس کرتے ماہ روش کے پسینے چھوٹ رہے تھے. اُس نے پہلے کب دیکھا تھا ارتضٰی کا ایسا رُوپ.
” پیار کررہا ہوں. اور پلیز مجھے ڈسٹرب مت کرو. “
ارتضٰی نے اپنے ہونٹوں پر رکھے ماہ روش کے ہاتھ کی ایک ایک اُنگلی کو لبوں سے چھوا تھا. ماہ روش کو اُس کے انداز پر اپنی روح فنا ہوتی محسوس ہوئی تھی.
ارتضٰی سکندر کی اِن شدتوں سے تو وہ لاعلم تھی.
اُس کے ہر انداز کی طرح پیار جتانا بھی دھونس جماتا ہی لگا تھا.
نہ اپنے پچھلے رویے پر ندامت کا اظہار کیا تھا اور نہ ہی اپنی شادی والی بات کلیئر کی تھی.
اور اب بھی میجر صاحب اُسے آرڈر ہی دے رہے تھے.
کھڑوس کہیں کا.
ماہ روش دل میں بڑبڑانے کے علاوہ کچھ نہیں کر سکی تھی.
” میجر ارتضٰی سکندر میں اب بھی ایک غدار کی بیٹی ہی ہوں. جس سے آپ کو شدید نفرت ہے جو کبھی بھی آپ کو دھوکہ دے سکتی ہے. “
ماہ روش اپنے دل میں اُٹھتے احتجاج کو دبا نہیں پائی تھی. اور نم آنکھوں میں شکوہ لیے اُس کی طرف دیکھا تھا.
جو آنکھوں میں جذبوں کا جہاں آباد کیے اُسے دیکھ رہا تھا. ماہ روش کو لگا تھا ارتضٰی کو اُس کی بات سن کر غصہ آجائے گا اور وہ اُس سے دور ہوجائے گا مگر اُس کی بات سنتے ارتضٰی نے نرم مسکراہٹ سے اُس کی طرف دیکھا تھا. ماہ روش کو حیرت نے گھیرا تھا.
” میری جان بہت جلد اِس بات کا جواب بھی دے دوں گا میں تمہیں. بس اب تک کے لیے صرف ایک بات یاد رکھنا کہ ارتضٰی سکندر کی زندگی میں اِس وقت جو سب سے زیادہ اہم ہے وہ اُس کی بیوی ہے. جس پر صرف اُسی کا حق ہے. اور اِس دنیا میں ابھی تک کوئی ایسا پیدا ہی نہیں ہوا کہ جو مجھ سے اُسے یا اُس سے پیار کرنے کا حق چھین سکے. وہ خود بھی نہیں. “
ارتضٰی نے گھمبیر لہجے میں اُسے باور کرواتے اُس کے ہونٹوں کو ہلکے چوما تھا. اور پیچھے ہٹا تھا. ماہ روش نے خفا نظروں سے اُس کی طرف دیکھا تھا. جس سے وہ بہت لڑنا چاہتی تھی. بہت شکوے کرنا چاہتی تھی. مگر اُسے تو جیسے پرواہ ہی نہیں تھی کسی بھی بات کی.
ارتضٰی نے ایک نظر ماہ روش کے رُوٹھے انداز کی طرف دیکھا تھا. اُس کے پھولے چہرے پر اُسے بے اختیار ٹوٹ کر پیار آیا تھا.
مگر تھوڑا سا انتظار مزید کرنا تھا پھر وہ اُس کے سارے گلے شکوے دور کرنے والا تھا. اُس کی ہر محرومی ہر ادھوری خواہش کو اپنی بے پناہ چاہت سے پوری کرنے والا تھا.
وہ اُس کے تمام شکوے ناراضگی اور غلط فہمیوں کو اپنی محبت سے مٹانے والا تھا.
مگر اُسے کچھ دنوں کا ویٹ تھا. جب اُس کی ماہ روش بلکل ٹھیک ہوکر اُس کی تمام تر شدتیں سہنے کے لیے تیار ہوگی.
” مجھے آپ کے ساتھ نہیں رہنا. میں اپنے فیصلوں میں خود مختار ہوں. اور اپنی زندگی کا ہر فیصلہ اپنی مرضی سے کرنے کا حق رکھتی ہوں. “
ارتضٰی ابھی اُٹھا ہی تھا. جب ماہ روش کی آواز پر پلٹ کر اُس کی طرف دیکھا تھا.
” تم مجھے غصہ دلانے کی کوشش کررہی ہو. “
ارتضٰی ہنسا تھا. جب ایک بار پھر اُس کے ڈمپلز واضح ہوئے تھے. ماہ روش نے فوراً نظروں کا زاویہ بدلہ تھا.
” میں ایسا کچھ نہیں چاہتی اور نہ ہی میں اب آپ کے غصے سے ڈرتی ہوں. “
ماہ روش اُٹھ کر بیٹھتے بولی. اُس کا ارتضٰی پر غصہ مزید بڑھ گیا تھا. جسے باہر نکالنے کا موقع نہ ملنے پر وہ عجیب چڑچڑی سی ہوگئی تھی.
” رئیلی نہیں ڈرتی تم. ویسے اب ایسا ہوگا بھی نہیں. اب تم میرے غصے سے نہیں بلکہ میرے بے پناہ پیار سے ڈرو گی. “
ارتضٰی واپس اُس کے قریب ہوا تھا. اور اُس کی چھوٹی سی ناک پر ہلکے سے بائٹ کرتا وہاں سے نکل گیا تھا.
اُس کا دل ماہ روش کو اِس طرح ناراض چھوڑ کر جانے پر بلکل نہیں تھا. مگر آج اُسے بہت امپورٹنٹ کام کے لیے نکلنا تھا. کیونکہ وہ ذی ایس کے کو اُس کی زندگی کی پہلی سب سے بڑی ہار دینے والا تھا.
جس کے بعد وہ کچھ ٹائم صرف اور صرف ماہ روش کے ساتھ گزارنا چاہتا تھا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
جاری ہے
